☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(علامہ ارشد حسین ثاقب) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن() خواتین(نجف زہرا تقوی) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) خصوصی رپورٹ(انجنیئررحمیٰ فیصل)
Dunya Magazine
Loading...
Loading...
Loading...

دیگر خصوصی مضامین اور مستقل سلسلے

ہرانسان کا کوئی نصب العین ہونا چاہیے اگر کسی کا نصب العین نہ ہو تو پھر نیک آدمی کو کس طرح نیکی پر آمادہ کیا جا سکے گا؟ برے شخص کو برائی سے کس طرح روکا جا سکے گا؟ اس لیے کہ نیک کام کی خواہش اور برے کام سے پرہیز جب ہی ممکن ہے جب کوئی نصب العین ہو۔ اگر بے مقصد زندگی گزاری جائے تو پھر یہ انسان، انسانیت کے دائرے سے باہر نکل جاتا ہے جبکہ ایک بے شعور بچہ بھی ماں کی گود میں بے مقصد نہیں روتا۔ یا اسے بھوک لگتی ہے یا کوئی تکلیف ہوتی ہے تو پھر ایک عقلمند انسان بے مقصد زندگی گزارنے کا تصور ہی نہیں کر سکتا۔

مزید پڑھیں

کئی افراد نے چینیوں کو محبت بھرے پیغامات بھیجے ہیں ،وہ چینی زبان سیکھنا چاہتے ہیں بھارتی عوام اب چین کی وجہ سے بھی کشمیریوں کا قتل عام کریں گے  

مزید پڑھیں

  کورونا کی مہلک وبا ء نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ، کسی ملک میں لاک ڈائون ختم ہو چکا ہے تو کہیں پھر سے لاک ڈائون کی تیاریاں کی جا رہی ہیں کیو نکہ وبا ءکے باعث مریضوں اور اموات کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا کی 22 فیصد آبادی کے کوروناکے شدید مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے جان لیوا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ اور اثرات کی تجزیاتی رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا کہ دنیا کے1 ارب 70 کروڑ افراد ذیابیطس، دل اور پھیپھڑوں کو متاثر کرنے والے امراض میں مبتلا ہیں، اور ایسے امراض میں مبتلا افراد میں کورونا کی علامات انتہائی سنگین شدت کی ہونگی ۔

مزید پڑھیں

  احمد فراز نے کیا خوب کہا تھا کہ رت جگے ہوں کہ بھرپور نیند یں مسلسل اُسے دیکھنا وہ جو آنکھوں میں ہے اور آنکھوں سے اوجھل اُسے دیکھنا اِس کڑی دھوپ میں دل تپکتے ہیں اور بام پر وہ نہیں کل نئے موسموں میں جب آئیں گے بادل اُسے دیکھنا وہ جو خوشبو بھی ہے اور جگنو بھی ہے اور آنسو بھی ہے جب ہَوا گنگنائے گی ناچے گا جنگل اُسے دیکھنا

مزید پڑھیں

  دن کے آغاز کا بہترین طریقہ

مزید پڑھیں

حق کاجلوہ

 مولانا رومیؒ ایک دن ایک مچھر نے حضرت سلیمان ؑ کے دربار میں فریاد کی ’’اے خدا کے نبی حضرت سلیمان ؑ ، میری عرض سنئے۔ میں نے سنا ہے کہ آپؑ اِنس و جن سب کے جھگڑوں کا فیصلہ فرماتے ہیں۔ ہوا میں اڑنے والے پرندے اور دریا میں تیرنے والی مچھلیاں سب آپؑ کے انصاف کے گن گاتی ہیں۔ اس کرۂ ارض پر وہ کون بدبخت ہے جس نے اپنی مشکل میں آپؑ سے فریاد نہ کی اور انصاف نہ مانگا۔ اب ہماری مشکل بھی آسان کیجئے۔ ہم بہت تکلیف میں ہیں اور انصاف سے محروم ہیں۔‘‘ مچھر کی یہ درد بھری فریاد سن کر حضرت سلیمان ؑنے کہا ’’اے انصاف طلب کرنے والے جلد اپنی شکایت بیان کر۔ وہ کون ظالم ہے جس نے ازراہِ غرور تجھے ستایا اور تنگ کیا؟ بھلا ہماری حکومت میں یہ جرأت کس کی ہے کہ مخلوقِ خدا پر ظلم کرنے میں اسے کوئی روک ٹوک نہ ہو؟‘‘ مچھر نے عرض کیا ’’اے حضرت سلیمان !ؑ ہم ہوا کے ہاتھوں بڑی مصیبت میں ہیں۔ اب حد درجہ پریشان ہو کر تیری خدمت میں حاضر ہوئے ہیں۔ ہمارے ساتھ عدل کر۔‘‘ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جواب دیا ’’اے سریلی آواز والے مچھر، خدا کا فرمان میرے لیے یہ ہے کہ مدعی کی فریاد پر اس وقت تک کان نہ دھروں جب تک مدعا علیہ کی بات نہ سن لوں۔ مدعی خواہ ہزار غل غپاڑا کرے ، لیکن دوسرے کا جواب سنے بغیر کوئی فیصلہ نہ کروں۔ہوا کو میرے دربار میں پیش ہونے کا حکم دو‘‘ مچھر نے خوفزدہ ہو کہ کہا ’’حضور ،میری کیا مجال کہ میں ہوا کو حکم دوں اور اسے آپؑ کے دربار میں پیش کروں‘‘۔ یہ سنتے ہی حضرت سلیمان علیہ السلام نے آواز دی ’’اے ہوا ! مچھر نے تیرے خلاف ہماری عدالت میں دعویٰ دائر کیا ہے۔ تاریکی سے باہر نکل، اپنے مدعی کے برابر آ اور اپنی صفائی میں جو کہنا ہو، کہہ دے۔‘‘حضرت سلیمان ؑ کا حکم ہوتے ہی ہوا فراٹے بھرتی ہوئی آئی۔ اس کا آناتھا کہ مچھر کا دم ہوا ہُوا۔ ٹھہرنے کی تاب ہی کہاں تھی، فوراً بھاگ نکلا۔ حضرت سلیمان ؑنے کہا ’’ارے مچھر،جاتا کہاں ہے؟ ذرا رک کہ تیرے مخالف فریق کی بات بھی سن لوں۔‘‘ مچھر نے جاتے جاتے پلٹ کر جواب دیا ’’اے جلیل القدر بادشاہ،ہوا کا وجود میرے لیے موت ہے۔ جہاں یہ آجائے، وہاں میں کیوں کر ٹھہر سکتا ہوں؟ اسے دیکھتے ہی میری آدھی جان نکل جاتی ہے۔‘‘ یہ کہا اور وہاں سے غائب ہوگیا۔ اے عزیز، یہی کیفیت حق تعالیٰ کو ڈھونڈنے والے کی ہوتی ہے۔ جہاں حق نے جلوہ کیا، وہیں ڈھونڈنے والا بے دم ہوا۔ بے شک یہ ہمیشہ باقی رہنے والا جمال ہے لیکن اس میں نکتہ یہ ہے کہ اس بقا کا آغازہی اپنی فنا سے ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں

  جب خواتین کی کرکٹ ٹیمیں ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوئیں تو عام خیال یہی تھا کہ یہ تجربہ کامیاب نہیں ہوگا کیونکہ کرکٹ ایک مشکل کھیل ہے اور اس میں فنی مہارت کے علاوہ جسمانی اور ذہنی طور پر بھی فٹ رہنا پڑتا ہے۔ یعنی یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ صنف نازک کیلئے اس میدان میں کامیابی ہرگز آسان نہیں ہوگا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ خواتین نے ثابت کیا کہ وہ ہر میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ سکتی ہیں۔

مزید پڑھیں

اردو اور تامل زبان میں اس کی نعت رسول مقبول’’یا نبی ؐ‘‘ نے دنیا میں دھوم مچا دی ہے ’’میں نے دنیاکے زہریلے ترین کیڑوں مکوڑوں، سانپوں اور بچھوئوں سمیت ہر ایک کے خلاف اللہ تعالیٰ کو اپنا ساتھی بنا لیا ہے،اب مجھے کسی کا کوئی ڈر نہیں ‘‘:راجہ شنکر وہ ہر وقت سوچتا تھا کہ انسان کا بنایا ہوا بت اس کا خالق کیسے ہو سکتا ہے ،کوئی نہ کوئی سپر طاقت ہے جس نے دنیا بنائی!  

مزید پڑھیں

آنکھوں سے اوجھل اُسے دیکھنا ۔۔۔

دنیا فیشن

ماڈل : حنا ملک
فوٹو گرافی : عامر چشتی
میک اپ : K R CREW