☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) خصوصی رپورٹ(انجنیئررحمیٰ فیصل) دین و دنیا(طاہر منصور فاروقی) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) رپورٹ(سید وقاص انجم جعفری) کچن خواتین فیشن(طیبہ بخاری ) تاریخ(عذرا جبین) کیرئر پلاننگ(پرفیسر ضیا ء زرناب) ادب(الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان) متفرق(اسد اسلم شیخ)
اساس

اساس

تحریر : الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان

04-28-2019

جارج نے منہ کا نوالہ چبائے بغیر نگل لیا۔ اب یہ دونوں کیا مصیبت کھڑی کرنے والی ہیں؟ کزی دستک دے کر اندرآئی۔ مٹلڈا سے گلے ملی، تینوں بچوں کو ساتھ لپٹا کر پیار کیا اور چوما پھر اپنے بیٹے کی طرف دیکھا۔’’ کیسے ہو؟ کئی دن سے نظر نہیں آئے۔‘‘

’’امی آپ کیسی ہیں؟‘‘ اس نے غصے پر قابو پاتے ہوئے بظاہر خوش مزاجی سے کہا۔کرسی پر بیٹھ کر اس نے مٹلڈا سے پوتے کو گود میں لے کر نرمی سے کہا’’جارج تمہارے بچے تم سے کچھ پوچھنا چاہ رہے ہیں۔ ہیں ناں ورجل؟۔‘‘ چکن جارج نے پیچھے کھڑے ورجل کو دیکھا۔ کیا پٹی پڑھائی ہے انہوں نے اسے؟ ’’پاپی‘‘ اس نے اپنی باریک آواز میں کہا’’آپ ہمیں ہمارے پڑنانا کے بارے میں بتائیں ناں!‘‘ مٹلڈا نے اس کی طرف دیکھا۔

’’جارج! تم اچھے آدمی ہو۔‘‘ کزی نے آہستگی سے کہا’’یہ کبھی سوچنا بھی مت کہ ہم تم سے محبت نہیں کرتے۔ مجھے یوں لگتا ہے جیسے تم ہم میں اور خود میں فرق سمجھتے ہو۔ ہم تمہارا خون ہیں۔ ان بچوں کے پڑنانا کی طرح۔‘‘ ’جذبات سے مغلوب ہو کر چکن جارج نے اپنی کرسی آتش دان کے پاس کھسکا لی۔ تینوں لڑکے اس کے سامنے زمین پر بیٹھ گئے اور متوقع نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگے۔

مٹلڈا نے چھوٹا بچہ بھی اسے پکڑا دیا۔ گلا صاف کرکے وہ اپنے چاروں بیٹوں کو ان کی دادی سے سنی، ان کے پڑنانا کی کہانی سنانے لگا۔ ’’پاپی! یہ کہانی تو مجھے آتی ہے۔‘‘ ورجل بیچ میں بول پڑا اور آگے بڑھ کر اس نے ساری کہانی چھوٹے بھائیوں کو سنا دی۔ حتیٰ کہ اسے افریقی الفاظ بھی یاد تھے۔ ’’اس نے یہ کہانی تین بار تم سے سنی ہے اور دادی تو جب آتی ہیں یہ ہی کہانی سناتی ہیں۔‘اس سے ہمیں علم رہتا ہے کہ ہم کون ہیں۔‘

‘ مٹلڈا نے ہنس کر بتایا۔ ’’شاباش، بالکل ٹھیک!‘‘ دادی کزی نے خوش ہو کر کہا۔ یہ سال ان کے لیے کافی منافع بخش رہا تھا۔ لیکن سال کے آخر پر جارج کو اپنے پانچویں بیٹے کی پیدائش کے سلسلہ میں گھر لوٹنا پڑا۔ مٹلڈا اس کا نام جیمز رکھنا چاہتی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ ‘‘جیمز ہمیشہ سے حضرت عیسٰی ؑ کے حواریوں میں میرا سب سے پسندیدہ رہا ہے۔‘‘ چکن جارج بادلِ نخواستہ مان گیا۔ 1836

ء کا مرغ بازی کا موسم ختم ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا کہ چکن جارج نے سنا کہ ’’دی الامو‘‘ نامی جگہ میں میکسیکنز نے سفید فام ٹیکسنز کا پورا گیریژن قتل کر دیا ہے۔ جس میں ڈیوی کراکٹ آدمی بھی تھا جو انڈینز کا دوست اور وکیل تھا۔ بعد میں اس نے سنا کہ جنرل سانٹا انّا کی کمان میں میکسیکنز کو کافی نقصان سہنا پڑا۔ یہ جنرل خود کو سب سے اعلیٰ مرغ باز کہتا تھا۔ اگلے سال بہار میں جارج نے سفر سے لوٹ کر غلام احاطے والوں کو ایک اور حیرت انگیز خبر سنائی۔’’میں نے یہ خبر کائونٹی سیٹ کی عدالت کے دربان سے سنی ہے۔

نئے صدر وان بیوان نے فوج کو حکم دیا ہے کہ تمام انڈینز کو دریائے میسی سیپی کے مغرب میں نکال دیا جائے۔‘‘ ’’لگتا ہے یہ دریا انڈینز کا دریائے عمان (jordan) بن جائے گا!‘‘ مٹلڈا نے کہا۔ ’’یہ انڈینز کو، اِن گورے لوگوں کو، اپنے ملک میں داخل ہونے دینے کی سزا ہے۔‘‘ انکل پامپی نے کہا ’’بے شمار لوگوں کو، بشمول میرے، بڑے ہونے تک علم ہی نہیں تھا کہ یہ ملک دراصل انڈینز کا تھا۔ جو ماہی گیری، شکار میں مصروف رہتے تھے اور اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔

پھر ایک چھوٹی سی کشتی میں ہاتھ ہلاتے، مسکراتے ہوئے گورے آئے اور بولے ’ارے سرخ بھائیو! کیا خیال ہے اگر ہم بھی تھوڑا سا شکار کر لیں اور تمہارے پاس ذرا دیر کو سستا لیں اور دوست بن جائیں!، ہا! میرا جی چاہتا ہے کہ کاش اس وقت وہ انڈینز اس کشتی کو اپنے تیروں کی برسات سے سیھ بنا دیتے!‘‘اگلی بار جب مالک کاس ویل کائونٹی سے مالکوں کی میٹنگ میں شرکت سے لوٹے تو جارج انڈینز کی مزید خبریں لایا۔’’سنا ہے کہ جنرل ونفیلڈ سکاٹ نے تنبیہ کی ہے کہ کسی انڈین پر ذرا سا بھی شبہ ہو کہ وہ لڑنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اسے موقع پر گولی مار دی جائے۔

پھر فوج نے ہزاروں انڈینز کو اوکلا ہوما نامی جگہ کی طرف دھکیلنا شروع کر دیا۔ لاتعداد لوگ اس ہجرت میں مارے گئے یا بیمار ہو کر مر گئے۔۔۔۔‘‘ ’’شیطانیت، صرف شیطانیت!۔‘‘ مٹلڈا نے کہا۔1837ء میں جارج سفر سے لوٹا تو ایک اچھی خبر بھی اس کی منتظر تھی۔ اس کے ہاں چھٹا بیٹا پیدا ہوا تھا۔ مٹلڈا نے اس کا نام لوئیس رکھا۔پچھلے بچوں کی پیدائش کی نسبت ذرا کم خوش کزی نے کہا۔

’’لگتا ہے تمہارے ہاں لڑکوں کے علاوہ کچھ پیدا نہیں ہوگا!‘‘ ’’امی! میں کتنی تکلیف میں ہوں اور آپ مایوسی کی باتیں کر رہی ہیں۔‘‘ مٹلڈا نے لیٹے لیٹے کہا۔ ’’یہ بات نہیں ہے، تمہیں پتہ ہے کہ مجھے اپنے پوتوں سے کتنی محبت ہے۔ لیکن دل کرتا ہے کہ تمہاری ایک بیٹی تو ہوتی!‘‘ چکن جارج ہنسا۔’’اچھا جی ۔‘‘ ’’میں کہتی ہوں، نکل جائو یہاں سے۔‘‘ مٹلڈا نے مصنوعی غصے سے کہا۔ لیکن چند مہینے بعد ہی مٹلڈا کے چہرے سے پتہ چلنے لگا کہ جارج اپنے قول کا پکا تھا۔جب اسے دردِزہ شروع ہوا تو چکن جارج باہر کھڑا مٹلڈا تھا۔

جب اس نے اپنی ماں کو’’شکریہ ۔۔شکریہ!‘‘ کہتے سنا تو اسے تصدیق کی ضرورت نہ رہی کہ وہ ایک بیٹی کا باپ بن چکا ہے۔بچی کے نہلائے جانے سے بھی پہلے مٹلڈا نے اپنی ساس کو بتا دیا کہ اس نے اور جارج نے سالوں پہلے طے کر لیا تھا کہ اگر بیٹی ہوئی تو اس کا نام ’’کزی‘‘ رکھیں گے۔’’میں بے کار میں نہیں جیتی رہی!‘‘ کزی نے دن بھر میں کئی بار دل میں دہرایا۔ تقریباً دو ماہ بعد، ایک رات جب سب بچے سو چکے تھے، چکن جارج نے مٹلڈا سے کہا۔’’مٹلڈا! ہم نے کتنے ایک پیسے جوڑ لیے ہیں؟‘‘ اس نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا۔

’’سو ڈالر سے کچھ زیادہ۔‘‘ ’’بس اتنے؟‘‘ ’’بس اتنے ہی اور اتنے پیسے بچنا بھی حیرانی کی بات ہے۔ میں اتنے برسوں سے مسلسل کہہ رہی ہوں کہ تم اپنے اخراجات کم کرو ورنہ بچت کا ذکر بھی نہ کرنا۔‘‘ ’’ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔‘‘ اس نے شرمندگی سے کہا۔لیکن مٹلڈا لمحہ بھر کور کی’’میں ان پیسوں کی بات نہیں کر رہی جو تم نے جیتے اور اڑا دیے، اور میں نے جن کی شکل بھی نہیں دیکھی۔

شاید تم پوچھنا چاہتے ہو کہ شادی کے بعد سے آج تک تم نے مجھے کتنے پیسے جمع کرنے کے لیے دیئے ہیں۔‘‘ ’’ہاں! تو کتنے ہیں؟۔‘‘ مٹلڈا نے تاثر بڑھانے کے لیے خاموشی کو ذرا طول دیا۔’’تقریباً تین چار ہزار ڈالر۔‘‘ ’’ارے!!!‘‘ اس نے سیٹی بجائی۔’’ایسا ہے؟‘‘اس کا چہرہ دیکھ کر مٹلڈا نے اندازہ لگایا کہ وہ شادی کے بارہ برسوں میں کبھی اتنا سنجیدہ نہیں ہوا تھا۔ ’’میں سوچتا ہوں کہ اگر ہم اگلے چند برسوں میں مزید کچھ رقم جوڑ لیں تو شاید ہم آزادی خرید سکیں۔‘

‘ مٹلڈا حیرت کی زیادتی سے گنگ ہوگئی۔جارج نے بے صبری سے کہا۔’’میرا خیال ہے کہ تم پنسل لے کر ذرا حساب لگائو اور میری طرف احمقوں کی طرح مت دیکھو۔‘‘ حیران پریشان مٹلڈا کاغذ پنسل لے کر میز پر بیٹھ گئی۔’’مسئلہ یہ ہے کہ شروع کہاں سے کیا جائے؟‘‘ جارج نے کہا ’’ہمیں اندازہ ہی لگانا پڑے گا کہ مالک ہم سب کی کتنی قیمت مانگیں گے۔

میں تم اور بچے چلو تم سے شروع کرتے ہیں۔ کائونٹی سیٹ کے علاقے میں کھیتوں میں کام کرنے والا آدمی ایک ہزار ڈالر میں آتا ہے۔ عورتوں کی قیمت کم ہے۔ فرض کیا تمہاری قیمت آٹھ سو ڈالر ہوئی۔‘‘اس نے اٹھ کر مٹلڈا کی متحرک پنسل کا جائزہ لیا اور پھر بیٹھ گیا۔ ’’اگر مالک ہمارے آٹھوں بچوں کی قیمت فی بچہ تین سو ڈالر لیں تو۔۔۔۔‘‘ ’’آٹھ نہیں۔ سات!۔‘‘ مٹلڈا نے کہا۔’’اور وہ بچہ جو تمہارے بقول اس وقت دنیا میں نہیں آیا، آٹھواں ہی ہواناں؟‘‘ ’’اوہ!‘‘ مٹلڈا مسکرائی پھر حساب لگایا۔’’یہ ہوئے چوبیس سو ڈالر۔‘‘ ’’صرف بچوں کے؟‘‘ اس کے لہجے میں شک اور غصہ گھلا ہوا تھا۔ مٹلڈا نے پھر حساب لگایا۔’’آٹھ تیئے چوبیس۔ جمع آٹھ سو ڈالر میرے۔ یہ ہوگئے پورے بتیس سو۔۔۔ جو شاید تین ہزار کے برابر ہوں گے۔ابھی خوش مت ہو۔

تم نے اپنا حساب تو لگایا ہی نہیں۔‘‘ اس نے جارج کی طرف دیکھا’’تمہاری قیمت کیا ہو سکتی ہے؟۔‘‘ یہ ایک سنجیدہ سوال تھا۔ وہ پوچھے بغیر نہ رہ سکا۔’’تمہارے خیال میں میری کتنی قیمت ہو سکتی ہے؟‘‘ ’’اگر مجھے پتہ ہوتا تو شاید میں مالک سے تمہیں خود لے لیتی۔‘‘ دونوں ہنسنے لگے۔’’میں نے تو سوچا بھی نہیں تھا کہ ہم کبھی ایسی بات بھی کریں گے۔ تمہیں پتہ ہے کہ کچھ بھی ہو جائے مالک تمہیں نہیں بیچیں گے۔‘‘ وہ کچھ دیر سوچتا رہا۔ ’’مٹلڈا! میں نے تم سے کبھی ذکر نہیں کیا کیوں کہ تم مالک کا نام سننا بھی پسند نہیں کرتیں۔ لیکن میں نے درجنوں دفعہ مالک کو کہتے سنا ہے کہ وہ مرغ بازی چھوڑ دیں گے اور صرف فصلوں کی آمدنی پر گزارہ کریں گے۔ انہیں احساس ہے کہ وہ بوڑھے ہو رہے ہیں اور یہ ساری فکریں نہیں سہار سکتے۔‘‘ ’’مجھے تو اس پر یقین نہیں آتا جارج کہ تم اور وہ کبھی مرغوں سے جان چھڑوا سکو گے۔‘‘

’’جو انہوں نے کہا میں تمہیں وہ بتا رہا ہوں۔ اگر تم سننا چاہو۔ دیکھو، انکل پامپی بتا رہا تھا کہ اب مالک تقریباً تریسٹھ سال کے ہیں۔ پانچ چھے سال بعد وہ اس قابل نہیں رہیں گے کہ مرغ بازی کے لیے ادھر ادھر بھاگے پھریں۔ مجھے اس کی اتنی پرواہ نہیں ہے۔ مجھے تو صرف اس سے غرض ہے کہ وہ ہمیں اپنی آزادی خریدنے کا موقع دے دیں اور خاص طور پر اس صورت میں کہ ہم انہیں اتنی رقم دے دیں جس سے وہ نیا گھر بنا سکیں۔‘‘ ’’ہوں۔

‘‘ مٹلڈا نے ایک عزم سے کہا۔’’ٹھیک ہے۔ تو بتائو تمہارے خیال میں وہ تمہارے بدلے کیا مانگیں گے؟‘‘ ’’اچھا جی۔۔۔‘‘ اس کے لہجے میں غرور اور رنج دونوں جھلک رہے تھے’’مالک جیوٹ کا نیگر بگھی ڈرائیور ایک دن مجھ سے کہہ رہا تھا کہ اس نے اپنے مالک کو کسی سے کہتے سنا ہے کہ انہوں نے مالک لی کو میرے لیے ایک ہزار ڈالر کی پیشکش کی تھی۔۔۔۔‘‘ ’’واہ۔۔۔!‘‘ مٹلڈا نے خوشی سے کہا۔اس نے رک کر مٹلڈا کی منتظر پنسل کی طرف دیکھا۔۔’’تم تین ہزار لکھ لو۔۔۔۔‘‘

وہ پھر رکا۔’’یہ کتنے ہوئے؟۔‘‘ مٹلڈا نے حساب لگایا اور جمع کرکے بتایا کہ ان کے گھرانے کو آزاد ہونے کے لیے لگ بھگ باسٹھ سو ڈالروں کی ضرورت ہوگی۔ ’’اور امی کزی کا کیا ہوگا؟‘‘ اس نے پوچھا۔ ’’ہاں امی بھی میرے ذہن میں ہے۔‘‘ جارج نے بے چینی سے کہا’’امی کافی بوڑھی ہوگئی ہے۔ جس سے اس کی قیمت کم ہو جائے گی۔۔۔۔‘‘ ’’اس سال وہ پچاس کی ہو جائے گی۔‘‘

’’چھے سو ڈالر ان کے جمع کر لو۔‘‘ وہ اسے لکھتے دیکھتا رہا۔’’ اب کتنے ہوئے؟‘‘ مٹلڈا کا چہرہ کھنچائو سے تن گیا۔ ’’اب ہوگئے اڑسٹھ سو ڈالر۔‘‘ جارج نے آہستگی سے کہا’’لیکن میں تمہیں بتا رہا ہوں کہ میں گھٹیا مرغ لڑائیوں سے سارے پیسے جمع کر لوں گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں کافی عرصے تک بچت کرنا ہوگی۔ اس نے مٹلڈا کی بے چینی محسوس کی۔’’مجھے پتہ ہے تم کیا سوچ رہی ہو۔‘‘

اس نے کہا’’مس مالیزی، بہن سارہ اور انکل پامپی۔‘‘ مٹلڈا نے اس کی طرف تشکر سے دیکھا۔ جارج نے کہا ’’وہ میرے لیے بھی گھر کے لوگوں جیسے ہی ہیں۔۔۔۔‘‘ ’’میرے خدایا جارج!‘‘ اس نے کہا ’’مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ ایک آدمی اتنے لوگوں کی قیمت کیسے ادا کرے گا۔ لیکن پھر بھی میں انہیں یوں پیچھے چھوڑ کر جانا نہیں چاہتی!‘‘’’ابھی بڑا وقت پڑا ہے۔ مٹلڈا۔ وہ وقت آ تو لے جس کا انتظار ہے۔

‘‘ جارج نے کہا۔ مٹلڈا بہت خوش تھی لیکن اس نے اپنے جذبات پر قابو پالیا۔’’جب میں اور مالک دوسرے شہروں میں جاتے ہیں تو میں آزاد نیگروئوں سے باتیں کرتا ہوں۔‘‘ جارج کہتا رہا۔ ’’ان کا کہنا ہے کہ شمال میں آزاد نیگروئوں کو بڑی سہولتیں حاصل ہیں۔ سنا ہے وہ اپنے ذاتی گھروں میں رہتے ہیں اور اچھی نوکریاں کرتے ہیں۔ مجھے تو یوں نوکری مل جائے گی۔ وہاں مرغ بازی بھی بہت ہوتی ہے۔ کئی مشہور مرغ باز نیگر نیویارک میں بھی رہتے ہیں۔ ایک انکل بلی راجر ہے۔ ایک انکل پِیٹ ہے۔ اس کے پاس مرغوں کا بڑا ذخیرہ ہے اور جواء خانہ بھی ہے۔

ایک اورہے جسے نیگر جیکسن کہتے ہیں۔ کہتے ہیں آج تک اس کے مرغ کو شاید ہی کسی نے ہرایا ہو!۔‘‘ مٹلڈا اس کی باتیں حیرانی سے سن رہی تھی۔‘‘ اور ایک اور بات۔۔۔ میں اپنے بچوں کو تمہاری طرح لکھتا پڑھتا دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘ ’’خدا نے چاہا تو مجھ سے بھی بہتر ہوں گے۔‘‘ مٹلڈا نے چمکتی آنکھوں کے ساتھ کہا۔ ’’اور میں چاہتا ہوں کہ وہ کاروبار کریں۔‘‘ وہ ایک دم مسکرایا۔ ایک پل کور کا پھر بولا۔

’’تمہیں اپنے ذاتی گھر میں رہنا، اعلیٰ فرنیچر پر بیٹھنا اور یہ سب کیسا لگے گا کہ مس ٹلڈا دوسری آزاد نیگر عورتوں کو چائے پر بلائے۔ تم سب بیٹھ کر باتیں کرو، پھول دانوں میں پھولوں کو ترتیب سے لگائو۔۔۔ اور ایسا سب کچھ؟‘‘ اپنا ڈربی ایک ہاتھ سے اتار کر دوسرے ہاتھ سے چکن جارج نے ایک چھوٹی سے صراحی مالک لی کی طرف بڑھائی جو دھات کی موٹی تار سے بنی ہوئی لگتی تھی۔

’’میرا بیٹا ٹام، جس کا نام آپ کے نام پر رکھا تھا مالک، اس نے یہ اپنی دادی کے لیے بنائی تھی۔ میں آپ کو دکھانے لے آیا ہوں۔‘‘ مالک نے بغیر متاثر ہوئے اس صراحی کا جائزہ لیا۔ جارج نے محسوس کیا کہ اسے زیادہ زور لگانا پڑے گا۔’’جی مالک اس نے یہ سب پرانی زنگ آلود خار دارتار سے بنایا ہے۔ خوب آگ دہکا کر اس نے تار کو پگھلا کر ایک دوسرے سے ملایا اور کوٹ کوٹ کر اس کی شکل درست کی۔

ٹام کے اندر ایک ہنر مند چھپا ہوا ہے۔ مالک۔۔۔۔‘‘ وہ مالک کا ردعمل جاننے کے لیے رکا لیکن کوئی ردعمل نہیں آیا۔جارج نے سوچا کہ گھما پھرا کر بات کرنے کے بجائے بہتر ہے کہ سیدھی بات کی جائے۔’’جی مالک، یہ لڑکا آپ کا نام دیے جانے پر بہت فخر محسوس کرتا ہے۔ ہمارا خیال ہے مالک کہ وہ آپ کے لیے بہترین لوہار بن سکتا ہے۔

‘‘ مالک کے چہرے پر ناپسندیدگی کا تاثر ابھرا لیکن جارج بھی مٹلڈا اور کزی سے کیے ہوئے وعدے کے باعث ٹام کی مدد کے لیے کمر بستہ تھا۔ اب اس نے فیصلہ کیا کہ مالک کے سامنے وہ پہلو لایا جائے جو ان کے فائدے کا ہو، یعنی مالیاتی پہلو۔’’مالک! ہر سال آپ کی کتنی رقم، جو بچ سکتی ہے، لوہار کی نذر ہو جاتی ہے۔ ہم نے پہلے آپ کو نہیں بتایا کہ ٹام پہلے ہی ہل، درانتیوں اور دوسرے آلات کی دھار تیز کرکے آپ کی کافی بچت کر رہا ہے اور بہت سی ٹوٹی ہوئی چیزوں کی مرمت بھی کر دیتا ہے۔

جب آپ نے ویگن کا پہیہ ٹھیک کروانے کے لیے مجھے ایسا یاہ لوہار کے پاس بھیجا تھا تو اس نے کہا تھا کہ اسے ایک مدد گار کی ضرورت ہے جس کے لیے مالک کئی سالوں سے وعدہ کر رہے ہیں۔ وہ کہہ رہا تھا کہ اگر کوئی اچھا لڑکا مل جائے تو وہ اسے لوہار بنا سکتا ہے۔ اسی سے مجھے ٹام کا خیال آیا۔ اگر وہ کام سیکھ لے تو وہ نہ صرف ہمارے کام کر سکتا ہے بل کہ آپ کے لیے کافی رقم بھی کما سکتا ہے ۔‘‘ جارج کو اندازہ تھا کہ چوٹ صحیح جگہ لگی ہے۔ لیکن مالک کی لاتعلقی نے اسے گڑبڑا دیا۔ ’’مجھے لگتا ہے کہ تمہارا یہ لڑکا کام کرنے کے بجائے اس طرح کی چیزوں پر زیادہ وقت صرف کر رہا ہے۔‘

‘ مالک لی نے صراحی جارج کو لوٹاتے ہوئے کہا۔ ’’نہیں مالک! ٹام نے آج تک کھیتوں میں کام کا ایک دن بھی ضائع نہیں کیا۔ یہ کام تو وہ صرف چھٹی والے دن کرتا ہے۔ لگتا ہے یہ کام اس کی فطرت میں ہے۔ ہر اتوار وہ کباڑ خانے میں جا کر ٹھونکا پیٹی میں جُٹ جاتا ہے۔ ہم تو ڈرتے ہی رہتے ہیں کہ کہیں وہ آپ کو یا بیگم صاحبہ کو بے آرام نہ کرے۔‘‘ ’’ٹھیک ہے میں اس بارے میں سوچوں گا۔‘‘ مالک یہ کہہ کر یک لخت مڑے اور چکن جارج کو وہیں حیران پریشان چھوڑ کر چلے گئے۔ اگلے روز انہوں نے سنجیدگی سے کہا’بتایا کہ ’’میں نے تمہارے لڑکے ٹام کو آ سکیو کے زرعی رقبے پر بھجوانے کا انتظام کر دیا ہے۔

‘‘ جارج اتنا خوش ہوا کہ اس نے مالک کو اٹھا کر چکر دینے سے خود کو بہ مشکل روکا۔ اس کی ہنسی ایک کان سے دوسرے کان تک پھیلی ہوئی تھی۔’’ذرا سوچ سمجھ لینا جارج، صرف تمہارے کہنے پر میں نے آسکیو صاحب کو لڑکے کے متعلق یقین دہانی کروائی ہے۔ اگر اس نے کوئی گڑبڑ کی یا میرے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی تو میں اس کے ساتھ ساتھ تمہاری کھال بھی اتار لوں گا۔ سمجھے تم؟‘‘ ’’وہ کبھی آپ کو شرمندہ نہیں ہونے دے گا۔ یہ میرا وعدہ ہے۔ وہ مجھ پر ہی گیا ہے۔‘‘ ’’اسی کا مجھے ڈر ہے۔

اس کا سامان باندھ کر صبح اسے روانہ کر دو۔‘‘ ’’جی مالک۔ بہت مہربانی مالک۔ آپ کو اس فیصلے پر کبھی افسوس نہیں ہوگا۔‘‘مالک کے جاتے ہی چکن جارج نے غلام احاطے کی طرف دوڑ لگا دی تاکہ مٹلڈا اور کزی کو یہ خوش خبری سنائے کیوں کہ ان دونوں نے ہی اسے مالک سے یہ بات کہنے پر مجبور کیا تھا۔ دروازے پر پہنچ کر اس نے اونچی آواز میں پکارا۔’’ٹام! ٹام! ٹام کہاں ہو؟۔‘‘ ’’جی پاپی!‘‘ کھلیان کی طرف سے اس کی آواز آئی۔

’’ادھر آئو !‘‘لمحہ بھر بعد ٹام کا منہ بھی اس کی آنکھوں کی طرح پورا کھلا ہوا تھا۔ یہ ناقابل یقین خبر اس کے لیے غیر متوقع تھی۔ سب کی پرجوش مبارک باد سے سٹ پٹا کر ٹام باہر نکل گیا۔ اس کا مطلب تھا کہ اس کا خواب پورا ہونے جا رہا ہے۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس دوران اس کی چھوٹی بہنوں کزی اور میری نے یہ خبر سب بھائیوں کو پہنچا دی ہے۔ دس سالہ کزی اور آٹھ سالہ میری خبر پھیلانے کے بعد سائے کی طرح اس کے ساتھ لگی پھرتی تھیں۔ دادی کزی نے کہا ’’کوئی ہمیں اس طرح روتے اور بُس بُس کرتے دیکھے تو سمجھے کہ شاید ہم نے اس بچے کو ہمیشہ کے لیے رخصت کر دیا ہے۔‘‘ ’’افوہ! اب اسے بچہ مت کہو!‘‘ بہن سارہ نے کہا’’اب ہمارا ٹام ایک مرد بن گیا ہے۔‘‘

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 آنسو ویسے تو بنیادی طور پہ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ پہلی قسم غم کے آنسو تو دوسری قسم خوشی کے آنسو۔ آنسو خوشی کے ہیں یا غم کے یہ پہچان بھی ایک حساس طبیعت کا مالک شخص ہی کر سکتا ہے۔ خیر پانی کی طرح دِکھائی دینے والے چند قطرے جو کسی آنکھ سے بہتے ہیں جو کہ مختلف جذبات و احساسات کے ترجمان ہوتے ہیں۔ انہی کو ہم آنسو کہتے ہیں۔

مزید پڑھیں

یہ سب سوچ کر میرا دماغ گھومنے لگا۔ اتنے میں ہم ایک نسبتاً بڑے گائوں میں پہنچ گئے۔مجھے اندازہ ہوا کہ جو کچھ جفورے میں ہوا تھا اس کی خبر یہاں پہنچ چکی تھی۔ گائوں کے لوگ باہر سڑک پر جمع تھے۔

مزید پڑھیں

انہوں نے مجھے ایسی بات بتائی جو میرے سان گمان میں بھی نہیں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اندرون ملک کے قدیم دیہاتوں میں اب بھی ایسے بوڑھے ہوتے ہیں جو ’’میراثی‘‘ کہلاتے ہیں اور جو مقامی تاریخ کا چلتا پھرتا خزانہ ہیں۔ استاد میراثی ساٹھ سے ستر سال کی عمر کا ہوتا ہے۔ اس سے کم عمر چھوٹے میراثی ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں
`