☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دنیا اسپیشل( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() صحت(حکیم محمد سعید شہید) عالمی امور(محمد سمیع گوہر) رپورٹ(سید مبشر حسین ) تاریخ(مقصود احمد چغتائی) کھیل(ڈاکٹر زاہد اعوان) افسانہ(راجندر سنگھ بیدی)
پلیگ اور کوارنٹین (پہلی قسط)

پلیگ اور کوارنٹین (پہلی قسط)

تحریر : راجندر سنگھ بیدی

05-17-2020

 1915ء میں گائوں’’ڈلے کی ‘‘تحصیل ڈسکہ ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہونیوالے معروف ڈرامہ نگار ، فلمی ہدایتکار ، منظر نویس اور مصنف راجندر سنگھ بیدی کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔

ادب و تعلیم میں کئی اعزازات اپنے نام کرنیوالے راجندر سنگھ بیدی 69سال کی عمر میں 11نومبر 1984ء کو اس دنیا سے رخصت ہوئے لیکن ادب کی دنیا کیلئے وہ قیمتی خزانہ چھوڑ گئے جو آج بھی اپنی مثال آپ ہے ۔ آج اسی خزانے میں سے ایک تحریر ہم قارئین کی نذر کر رہے ہیں جو آجکل کے حالات کی بھی بھرپور عکاسی کرتی ہے ۔

 ہمالہ کے پاؤں میں لیٹے ہوئے میدانوں پر پھیل کر ہر ایک چیز کو دھندلا بنا دینے والی کہرے کے مانند پلیگ کے خوف نے چاروں طرف اپنا تسلط جما لیا تھا۔ شہر کا بچہ بچہ اس کا نام سن کر کانپ جاتا تھا۔
پلیگ تو خوف ناک تھی ہی، مگر کوارنٹین اس سے بھی زیادہ خوف ناک تھی۔ لوگ پلیگ سے اتنے ہراساں نہیں تھے جتنے کوارنٹین سے، اور یہی وجہ تھی کہ محکمہ حفظانِ صحت نے شہریوں کو چوہوں سے بچنے کی تلقین کرنے کیلئے جو قد آدم اشتہار چھپوا کر دروازوں، گزر گاہوں اور شاہراہوں پر لگایا تھا، اس پر ’’نہ چوہا نہ پلیگ‘‘ کے عنوان میں اضافہ کرتے ہوئے ’’نہ چوہا نہ پلیگ، نہ کوارنٹین‘‘ لکھا تھا۔
کوارنٹین کے متعلق لوگوں کا خوف بجا تھا۔ بحیثیت ایک ڈاکٹر کے میری رائے نہایت مستند ہے اور میں دعوے سے کہتا ہوں کہ جتنی اموات شہر میں کوارنٹین سے ہوئیں، اتنی پلیگ سے نہ ہوئیں، حالانکہ کہ کوارنٹین کوئی بیماری نہیں، بلکہ وہ اس وسیع رقبہ کا نام ہے جس میں متعدی وباء کے ایّام میں بیمار لوگوں کو تندرست انسانوں سے ازروئے قانون علیٰحدہ کر کے لا ڈالتے ہیں تاکہ بیماری بڑھنے نہ پائے۔ اگرچہ کوارنٹین میں ڈاکٹروں اور نرسوں کا کافی انتظام تھا، پھر بھی مریضوں کی کثرت سے وہاں آ جانے پر ان کی طرف فرداً فرداً توجہ نہ دی جا سکتی تھی۔ خویش و اقارب کے قریب نہ ہونے سے میں نے بہت سے مریضوں کو بے حوصلہ ہوتے دیکھا۔ کئی تو اپنے نواح میں لوگوں کو پے در پے مرتے دیکھ کر مرنے سے پہلے ہی مرگئے۔ بعض اوقات تو ایسا ہوا کہ کوئی معمولی طور پر بیمار آدمی وہاں کی وبائی فضا ہی کے جراثیم سے ہلاک ہو گیا اور کثرت اموات کی وجہ سے آخری رسوم بھی کوارنٹین کے مخصوص طریقہ پر ادا ہوتیں ،یعنی سینکڑوں لاشوں کو مردہ کتوں کی نعشوں کی طرح گھسیٹ کر ایک بڑے ڈھیر کی صورت میں جمع کیا جاتا اور بغیر کسی کی مذہبی رسوم کا احترام کیے، پٹرول ڈال کر سب کو نذرِ آتش کر دیا جاتا اور شام کے وقت جب ڈوبتے ہوئے سورج کی آتشیں شفق کے ساتھ بڑے بڑے شعلے یک رنگ وہم آہنگ ہوتے تو دوسرے مریض یہی سمجھتے کہ تمام دنیا کو آگ لگ رہی ہے۔ کوارنٹین اس لیے بھی زیادہ اموات کا باعث ہوئی کہ بیماری کے آثار نمودار ہوتے تو بیمار کے متعلقین اسے چھپانے لگتے، تاکہ کہیں مریض کو جبراً کوارنٹین میں نہ لے جائیں۔ چوں کہ ہر ایک ڈاکٹر کو تنبیہ کی گئی تھی کہ مریض کی خبر پاتے ہی فوراً مطلع کرے، اس لیے لوگ ڈاکٹروں سے علاج بھی نہ کراتے اور کسی گھر کے وبائی ہونے کا صرف اسی وقت پتہ چلتا، جب کہ جگر دوز آہ و بکا کے درمیان ایک لاش اس گھر سے نکلتی۔
ان دنوں میں کوارنٹین میں بطور ایک ڈاکٹر کے کام کر رہا تھا۔ پلیگ کا خوف میرے دل و دماغ پر بھی مسلّط تھا۔ شام کو گھر آنے پر میں ایک عرصہ تک کار بالک صابن سے ہاتھ دھوتا رہتا اور جراثیم کش مرکب سے غرارے کرتا، یا پیٹ کو جلا دینے والی گرم کافی یا برانڈی پی لیتا۔ اگرچہ اس سے مجھے بے خوابی اور آنکھوں کے چندھے پن کی شکایت پیدا ہو گئی۔ کئی دفعہ بیماری کے خوف سے میں نے قے آور دوائیں کھا کر اپنی طبیعت کو صاف کیا۔ جب نہایت گرم کافی یا برانڈی پینے سے پیٹ میں تخمیر ہوتی اور بخارات اٹھ اٹھ کر دماغ کو جاتے، تو میں اکثر ایک حواس باختہ شخص کے مانند طرح طرح کی قیاس آرائیاں کرتا۔ گلے میں ذرا بھی خراش محسوس ہوتی تو میں سمجھتا کہ پلیگ کے نشانات نمودار ہونے والے ہیں۔۔۔ اْف! میں بھی اس موذی بیماری کا شکار ہو جاؤں گا۔۔۔ پلیگ! اور پھر۔۔۔ کوارنٹین!
انہی دنوں میں نوعیسائی ولیم بھاگو خاکروب، جو میری گلی میں صفائی کیا کرتا تھا، میرے پاس آیا اور بولا، ’’بابوجی۔۔۔ غضب ہو گیا۔ آج ایمبو اسی محلہ کے قریب سے بیس اور ایک بیمار لے گئی ہے۔‘‘
’’اکیس؟ ایمبولینس میں۔۔۔؟ ‘‘ میں نے متعجب ہوتے ہوئے یہ الفاظ کہے۔
’’جی ہاں۔۔۔ پورے بیس اور ایک۔۔۔ اُنہیں بھی کونٹن (کوارنٹین) لے جائیں گے۔۔۔ آہ! وہ بے چارے کبھی واپس نہ آئیں گے؟‘‘
دریافت کرنے پر مجھے علم ہوا کہ بھاگو رات کے3 بجے اُٹھتا ہے۔ آدھ پاؤ شراب چڑھا لیتا ہے۔ اور پھر حسب ہدایت کمیٹی کی گلیوں میں اور نالیوں میں چونا بکھیرنا شروع کر دیتا ہے، تاکہ جراثیم پھیلنے نہ پائیں۔ بھاگو نے مجھے مطلع کیا کہ اس کے 3 بجے اٹھنے کا یہ بھی مطلب ہے کہ بازار میں پڑی ہوئی لاشوں کو اکٹھا کرے اور اس محلہ میں جہاں وہ کام کرتا ہے، ان لوگوں کے چھوٹے موٹے کام کاج کرے جو بیماری کے خوف سے باہر نہیں نکلتے۔ بھاگو تو بیماری سے ذرا بھی نہیں ڈرتا تھا۔ اس کا خیال تھا اگر موت آئی ہو تو خواہ وہ کہیں بھی چلا جائے، بچ نہیں سکتا۔
ان دنوں جب کوئی کسی کے پاس نہیں پھٹکتا تھا، بھاگو سر اور منہ پر منڈاسا باندھے نہایت انہماک سے بنی نوع انسان کی خدمت گزاری کر رہا تھا۔ اگرچہ اس کا علم نہایت محدود تھا، تاہم اپنے تجربوں کی بنا ء پر وہ ایک مقرر کی طرح لوگوں کو بیماری سے بچنے کی تراکیب بتاتا۔ عام صفائی، چونا بکھیرنے اور گھر سے باہر نہ نکلنے کی تلقین کرتا۔ ایک دن میں نے اسے لوگوں کو شراب کثرت سے پینے کی تلقین کرتے ہوئے بھی دیکھا۔ اس دن جب وہ میرے پاس آیا تو میں نے پوچھا، ’’بھاگو تمہیں پلیگ سے ڈر بھی نہیں لگتا؟‘‘
’’نہیں بابوجی۔۔۔ بن آئی بال بھی بیکا نہیں ہو گا۔ آپ اِتے بڑے حکیم ٹھہرے، ہزاروں نے آپ کے ہاتھ سے شفا پائی۔ مگر جب میری آئی ہو گی تو آپ کا دارو درمن بھی کچھ اثر نہ کرے گا۔۔۔ ہاں بابوجی۔۔۔ آپ بُرا نہ مانیں۔ میں ٹھیک اور صاف صاف کہہ رہا ہوں۔‘‘ اور پھر گفتگو کا رخ بدلتے ہوئے بولا، ’’کچھ کونٹین کی کہیے بابوجی۔۔۔ کونٹین کی۔‘‘
’’وہاں کوارنٹین میں ہزاروں مریض آ گئے ہیں۔ ہم حتّی الوسع ان کا علاج کرتے ہیں۔ مگر کہاں تک، نیز میرے ساتھ کام کرنے والے خود بھی زیادہ دیر اُن کے درمیان رہنے سے گھبراتے ہیں۔ خوف سے ان کے گلے اور لب سوکھے رہتے ہیں۔ پھر تمہاری طرح کوئی مریض کے منہ کے ساتھ منہ نہیں جا لگاتا۔ نہ کوئی تمہاری طرح اتنی جان مارتا ہے۔۔۔ بھاگو ! خدا تمہارا بھلا کرے۔ جو تم بنی نوع انسان کی اس قدر خدمت کرتے ہو۔‘‘
بھاگو نے گردن جھکا دی اور منڈاسے کے ایک پلّو کو منہ پر سے ہٹا کر شراب کے اثر سے سرخ چہرے کو دکھاتے ہوئے بولا، ’’بابوجی، میں کس لائق ہوں۔ مجھ سے کسی کا بھلا ہو جائے، میرا یہ نکمّا تن کسی کے کام آ جائے، اس سے زیادہ خوش قسمتی اور کیا ہو سکتی ہے۔ بابوجی بڑے پادری لابے (ریورینڈ مونت ل، آبے) جو ہمارے محلوں میں اکثر پرچار کے لیے آیا کرتے ہیں، کہتے ہیں، خداوند یسوع مسیح یہی سکھاتا ہے کہ بیمار کی مدد میں اپنی جان تک لڑا دو۔۔۔ میں سمجھتا ہوں۔۔۔‘‘
میں نے بھاگو کی ہمّت کو سراہنا چاہا، مگر کثرتِ جذبات سے میں رُک گیا۔ اس کی خوش اعتقادی اور عملی زندگی کو دیکھ کر میرے دل میں ایک جذبہ رشک پیدا ہوا۔ میں نے دل میں فیصلہ کیا کہ آج کوارنٹین میں پوری تن دہی سے کام کر کے بہت سے مریضوں کو بقیدِ حیات رکھنے کی کوشش کروں گا۔ ان کو آرام پہنچانے میں اپنی جان تک لڑا دوں گا۔ مگر کہنے اور کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ کوارنٹین میں پہنچ کر جب میں نے مریضوں کی خوفناک حالت دیکھی اور انکے منہ سے پیدا شدہ تعفّن میرے نتھنوں میں پہنچا، تو میری روح لرز گئی اور بھاگو کی تقلید کرنے کی ہمت نہ پڑی۔

(جاری ہے)

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  1915ء میں گائوں’’ڈلے کی ‘‘تحصیل ڈسکہ ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہونیوالے معروف ڈرامہ نگار ، فلمی ہدایتکار ، منظر نویس اور مصنف راجندر سنگھ بیدی کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔

ادب و تعلیم میں کئی اعزازات اپنے نام کرنیوالے راجندر سنگھ بیدی 69سال کی عمر میں 11نومبر 1984ء کو اس دنیا سے رخصت ہوئے لیکن ادب کی دنیا کیلئے وہ قیمتی خزانہ چھوڑ گئے جو آج بھی اپنی مثال آپ ہے ۔ آج اسی خزانے میں سے ایک تحریر ہم قارئین کی نذر کر رہے ہیں جو آجکل کے حالات کی بھی بھرپور عکاسی کرتی ہے ۔

مزید پڑھیں

 ’’شیرو مجھے تنہائی سے بہت ڈر لگتا ہے۔‘‘

’’ کیوں؟ تنہائی تو یادوں کو سنبھالنے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔ یہی تو وہ لمحات ہوتے ہیں جن کو بندہ اپنا کہہ سکتا ہے۔‘‘
 

 

مزید پڑھیں

 کورونا وائرس کومذاق نہیں سمجھنا چاہئے۔۔۔!!!

دوسروں پہ انگلیاں اٹھانے والے ذرا اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی زحمت کرلیں۔
 

 

مزید پڑھیں
`