☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) خصوصی رپورٹ(انجنیئررحمیٰ فیصل) دین و دنیا(طاہر منصور فاروقی) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) رپورٹ(سید وقاص انجم جعفری) کچن خواتین فیشن(طیبہ بخاری ) تاریخ(عذرا جبین) کیرئر پلاننگ(پرفیسر ضیا ء زرناب) ادب(الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان) متفرق(اسد اسلم شیخ)
کامیاب کیریئر کے انتخاب کیلئے 7 اصول

کامیاب کیریئر کے انتخاب کیلئے 7 اصول

تحریر : پرفیسر ضیا ء زرناب

04-28-2019

دنیا میں کوئی ذی شعور انسان ایسا نہیں ہے کہ جس کو خالقِ کائنات نے اس دنیا میں بھیجا ہو اور کوئی ایسی صلاحیت نہ دی ہو کہ جس کی مدد سے وُہ اس دنیا میں اپنے قیام کے لئے رزق کا سامان نہ کر سکے۔ ہر انسان کو اللہ کریم نے کچھ خاص صلاحیتیں، ہنر، قابلیت ، شخصیت اور ذاتی سانچہ عطا کیا ہے کہ وُہ جس میںنہ صرف اپنی ذات کی تکمیل کر سکتا ہے بلکہ دنیا کو کچھ فائدہ بہم پہنچا کر اپنے لئے رزق روزی کا بھی بہترین اہتمام کر سکتا ہے۔

انسان کے لئے لازم ہے کہ وُہ اپنی قابلیت اور صلاحیت کو جان کر ایسے میدانِ عمل کا چنائو کرے کہ جس میں وُہ ان کا بھرپور استعمال کر سکے جس سے فرد کونہ صرف نفسیاتی اور ذہنی تسکین ملتی ہے بلکہ اُسے معاشرے میں اعلیٰ مقام کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام بھی نصیب ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں کامیاب ترین لوگوں نے اپنے کیریئر کا انتخاب کرتے ہوئے حد درجہ احتیاط اور بالغ نظری کامظاہرہ کیا تھا ۔

انہوں نے اپنے خاندانی پسِ منظر ، قابلیت، لیاقت، دلچسپیوں، ذہانت، شخصیت اورذہنی رجحانات کو بھی اولین فوقیت دی ہے تاکہ وُہ ایسے شعبے میں کام کریں جہاں ان کاعلم و فن ان کا جنون ہو،ان کا پیشہ ان کا ذوق ہو، اور ان کاکیریئر ان کی لگن ہو ۔اسی لئے تو وُہ جس میدان میں بھی ہوتے ہیں ان کو اُس میں کامیابی کی بڑی مثال بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔کامیاب لوگوں کی زندگی کے سائنسی مطالعہ سے مندرجہ ذیل سات اصول اخذ کئے گئے ہیں۔ اگر آپ اپنی زندگی میں کیریئر یا مستقبل کے پیشے کا انتخاب کرتے ہوئے ان سات(7) اصولوں کی پیروی کریں گے تو آپ کی اعلیٰ کامیابی کی ضمانت دی جا سکتی ہے مگر شرط یہ ہے کہ آپ اپنے سفر کو خلوصِ نیت، محنت اور ایمانداری سے جاری رکھیں۔

اپنی شخصیت کا بے رحم تجزیہ کریں : ماہرین ِ سماجیات اور نفسیات کے مطابق دنیا میں وہی لوگ بڑی کامیابی حاصل کرتے ہیں جو اپنی ذات اور شخصیت کا اعلیٰ ترین ادراک اور شناسائی حاصل کر تے ہیںکیونکہ اپنی ذات کو بہتر بنانے کے عمل کا آغاز اپنی ذات کا گہرائی اور وسعت کے ساتھ علم حاصل کرنے سے ہوتا ہے۔ بڑی کامیابی کا نکتہ آغاز یہ ہے کہ آپ نہ صرف اپنی خوبیوں کو جان لیں بلکہ آپ کو اپنی خامیوں کا بھی واضح اور ٹھوس علم ہونا ضروری ہے۔

اگر آپ کو لوگوں سے ملنا جلنا پسند نہیں تو آپ کسی ایسے کیریئر کا انتخاب کر کے کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں کہ جس میں ہر وقت لوگوں کی بھیڑ بھاڑ میں رہنا پڑے۔ اسی طرح آپ لوگوں کے ساتھ فطری طور پر گھل مل جانے والے فرد ہیں تو پھر کسی لیبارٹری میں اچھے ریسرچر بننا مشکل ہو گا۔ اس لئے لازم ہے کہ آپ اپنی شخصیت کو جانیں تاکہ آپ ایسے پیشے اور کیریئر میں جا سکیں جو آپ کی شخصیت کی بنیادی صفات سے ہم آہنگ ہو۔ آج ہی اپنے آپ سے صرف ایک سوال کرکے اپنی شخصیت کو بہترین کیریئر کے انتخاب کی طرف سفر شروع کیا جا سکتا ہے ۔

وُہ اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا مجھے لوگوں کے ساتھ ملنا جلنا پسند ہے یا پھر میں بنیادی طور پر اکیلا رہنے کو ترجیح دیتا ہوں اور تنہائی پسند ہوں؟اگر آپ کو لوگوں میں رہنا، گھلنا ملنا، تقریبات میں شرکت کرنا اور دوسروں کا سامنا کرنے میںکوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی تو بنیادی طور پر آپ کو ایسے پیشوں میں جانا چاہیے کہ جن میں لوگوں سے میل جول بہت زیادہ ہو ۔

ایسے لوگوں کے لئے مارکیٹنگ، منجمنٹ، لیڈر شپ، ایڈمنسٹریشن،ٹیچنگ، ٹریننگ اور ایجوکیشنسٹ سے منسلک پروفیشنز اور کیریئرز بہت اچھے ثابت ہوتے ہیں کہ ان میں ان لوگوں کو اپنی صلاحیتوں کے بھرپور اظہار کا موقع ملتا ہے۔ان کے لئے موزوں ترین پیشوں میںوکیل، جج، استاد، مینجرز، ایونٹ پلانرز، ہومن ریسورس مینجرز، پبلک ریسورس آفیسرز، لائف کوچ، مارکیٹرز، سیلز مینجرز، ڈاکٹرز، ٹور گائیڈز؍آپریٹرز، اداکار اور ماڈل،آگنائزیشن ایڈ منسٹریٹر، انٹرپرینیور یعنی اپنا ذاتی کاروبار کامیابی سے کرنیوالے، میڈیا ایکسپرٹس (سوشل و ٹی وی میڈیا)اورلیڈر شپ ( پولیٹیکل ، آرگنائزیشنل و سماجی) وغیرہ اہم ہیں۔

دوسری طرف اگر آپ کو لوگوں کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا کچھ خاص پسند نہیں اور آپ زیادہ وقت اکیلے گذارنا پسند کرتے ہیں تو آپ کے لئے تحقیق کار یعنی لیبارٹری ریسرچرز(خواہ وُہ کسی بھی قسم کی ہی کیوں نہ ہوں)، تخلیق کار (مثلاً رائٹر یعنی مصنف، شاعر، ادیب اور نقادوغیرہ) ،کمپیوٹر سائنٹسٹ (مثلاًکمپیوٹر گیمزز ڈویلپرز، کمپیوٹر کوڈ رائٹرز، نیٹ ورک ایکسپرٹ، ڈیٹا بیس ایڈ منسٹریٹر،ویب ڈیزائنر؍ڈویلپر)، مالیاتی امور(فنانس ایکسپرٹس، اکائونٹٹینٹ، ماہرِ اقتصادیات، شماریات و ریاضیات، آڈیٹرز،)، ڈیزائنرز (فیشن ڈیزائنر، انٹریئر ڈیزائنر، گرافک ڈیزائنر)،ہیوی میشین ریپئررز، انجن مکینکس،ایئروسپیس سائنٹیسٹ، ماہرین ِ طبیعات و کیمیاء، خلاباز، بائیو کیمسٹ، بائیو فزیسٹ، مائیکرو بائیولو جسٹ، مینجمنٹ اینالسٹ، آرکیا لو جسٹ، مجسمہ ساز، اور آرکیٹیکچر وغیرہ بہت اہم ہیں۔ یہ پیشے لوگوں میں جلد گھل مل نہ سکنے والوں کے لئے بہت سازگار رہیں گے کیونکہ ان میں لوگوں سے میل ملاقات بھی زیادہ نہیں مگر آپ کی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال ہوتا ہے اور آمدنی بھی دوسرے پیشوں سے کم نہیں ہے۔

اپنے خاندانی پسِ منظر کو مدِنظر رکھیں : آج کل نوجوانوں میں ایک بڑا ذہنی مغالطہ پایا جاتا ہے کہ بس انہیں کچھ نیا کرنا ہے اور دوسروں سے ہٹ کر چلنا ہے۔اس لئے وُہ اکثر اپنے والدین کے پیشے کو اپنانا پسند نہیں کرتے اور ہر قیمت پر اس خاندانی پیشے سے جان چھڑانے کو ہی کامیابی کی طرف اپنا پہلا قدم قرار دیتے ہیں۔کیونکہ اِس خاندانی پیشے کو اپنانے میں اُنہیں اپنی انفرادیت کی موت نظر آتی ہے۔ دوسر ی طرف ایک اور شدید رویہ والدین کی طرف سے دیکھنے میں آتا ہے۔یعنی بہت سے والدین یہ غلطی کر جاتے ہیں کہ وُہ ہر قیمت پر اپنے بچوں کو اپنے ہی پیشے اور شعبے میں لانا چاہتے ہیں۔ اور اس کے لئے ہر قسم کی زور زبردستی سے بھی نہیں باز آتے۔

اس بات کی صداقت میں کوئی شک نہیں ہے کہ بڑی کامیابی کے لئے عام ڈگر سے ہٹ کر چلنا لازم ہے مگر یہ یاد رکھیں کسی بھی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے میں عام طور پر 15سے20سال لگ جاتے ہیں۔ اگر آپ کے والدین نے زندگی بھر کی محنت کے بعد کوئی اعلیٰ مقام حاصل کر لیا ہے تو اس میں کوئی امر مانع نہیں کہ آپ اُن کے پیشے یاکیریئر کو ہی اپنا کر اپنا مقام بنانے کی کوشش کریں اور مزید بڑی کامیابیاں اپنے دامن میں سمیٹ کر نہ صرف بڑا سماجی مقام حاصل کریں بلکہ معاشی استحکام کو بھی یقینی بنائیں۔مثلاًاگر آپ کے والدکاروبار، صحافت یا ٹیچنگ کے شعبے سے ساری عمر وابستہ رہے ہوں تو آپ کو ایک دن بھی محنت کئے بغیر اُن لوگوں سے ملنا اور نیٹ ورکنگ کرنا مشکل نہیں ہو گا کہ جن سے ملنے کیلئے وقت لینے کیلئے بھی ایک عرصہ درکار ہوا کرتا ہے ۔

آپ کو اگرکامیابی کا بنا بنایا سٹیج مل رہا ہو تو ناشکری نہیں کرنی چاہیئے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کے والد نے ایک اچھا کاروبار سیٹ کر رکھا ہے تو جناب آپ کو دوبارہ پہیہ ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں بس اِسی کاروبار میں اپنی تمام صلاحیتوں کو لگا کر اپنے منفرد انداز میں آگے بڑھیئے اور مزید کامیابیوں کو اپنا خاندانی ورثہ بنائیے جسے لیکر آگے چلنا آپ کی آنے والی نسل کے لئے فخر کا باعث ہو۔ اس سلسلے میں ایک شاندار اور جمہوری رویہ یہ ہے کہ والدین بھی اپنی پسند بچوں پر نہ ٹھونسیں اور بچے بھی غیر جانبداری اور تنقیدی انداز میں اپنا جائزہ لیں۔تاکہ اگر والدین کا پیشہ بچوں کی شخصیت ، دلچسپیوں ، قابلیت اور ذہانت سے ہم آہنگ ہوں تو وُہ اسے اپنا لیں مگر دوسری صورت میں والدین بچوں کی اجازت دیں کہ اگر ان کا پیشہ بچوں کی پسند اور رجحانات سے میل نہ کھاتا ہو تو وُہ اُسے بہ آسانی خداحافظ کہہ کہ نئی منزلوں کی جانب اپنا سفر شروع کر سکیں۔

اپنے ذہنی رجحانات اور دلچسپیوں کا خیال رکھیں : کچھ لوگوںمیں اچھے لیڈر بننے کی صفت ہے تو دوسروں میںدنیا کو نئی نئی اختراعات اور تخلیقات دینے کی صلاحیت اعلیٰ درجے پر موجود ہے، کوئی بچپن سے ہی اُستاد بننے کی طرف زیادہ مائل ہے تو کسی کو گانا بجانا بہت پسند ہے۔ کسی کو زندگی میں مہم جوئی پسند ہے تو کسی کی چیلنجز سے جان جاتی ہے اور وُہ محفوظ رہ کر ہی کام کرنے کو پسند کرتا ہے، کسی کو لکھنا بہت پسند ہے تو کوئی تقریر کے فن میں اپنی مہارت کے جو ہر دکھانا چاہتا ہے، کوئی اچھا منتظم بننا چاہتا ہے تو کسی کو اداروں میں اپنی قائدانہ صلاحیت دکھانے کا شوق ہے، کوئی میکانکی طور پر چیزوں کو کھولنے بند کرنے میں فطری صلاحیت اور رجحان کاحامل ہے تو کسی کو مظاہر کی وضاحت میں نظریات کو سمجھنا اور نئی تفاہیم کو دنیا کے سامنے لانا محبوب ہے۔

اپنے ہیروز اور آئیڈیلز کے بارے میں علم حاصل کریں: دنیا میں موجود ہر فرد اپنی زندگی میں کسی نہ کسی فرد سے اس قدر ضرور متاثرہوتا ہے کہ وُہ اس جیسا بننے کی خواہش کرتا ہے۔بعض اوقات آئیڈل ازم کی یہ دنیا فردسے حقیقی زندگی میں ایک دن بڑا فیصلہ کروا ڈالتی ہے کہ وُہ اس فرد کے پیشے اورکیریئر کو بھی اپنانے سے نہیں چونکتا۔سادہ لفظوں میں ہر فردکوچاہے علم ہو یا نہ ہو اُس کا ایک کیریئر ہیرو بھی ہوتا ہے کہ وُہ جس جیسا بننا اپنی زندگی کا اعلیٰ ترین مقصد سمجھتا ہے۔ اس کیریئر ہیرو کے بارے میںفرد شعوری یا لاشعوری طور پر پسندیدیگی کا بڑا درجہ رکھتا ہے۔

تب ہی تو وُہ زندگی اُس فرد کی ڈھب پر گذارنے پر آمادہ ہوتا ہے۔ اس لئے آپ آج اور اِسی وقت اپنے ذہن میں اس بات کو طے کر لیں کہ آپ کا ماڈل کیریئر ہیرو کون ہے؟۔آپ کاکیریئر ہیرو جیتا جاگتا انسان ہونا چاہئے تاکہ آپ اُس سے مل سکیں مگر اس سے پہلے آپ اُس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کریں۔اُس کے پیشے اور مستقبل میں اس کے پروفیشن کی طلب اور رسد کو بھی جان لیں ۔اِس فردسے اِس پیشے میںاعلیٰ ترقی کی راہ میں درپیش مشکلوں اور چیلنجز کے بار ے میں بھی جانیںتاکہ آپ کیریئر کے انتخاب کا شعوری اور مبنی بر دانش و منطق فیصلہ کر سکیں۔ دوسروں کو دیکھ کر نقل کئے گئے جذباتی فیصلے عموماً شرمندگی اور خُجالت کے سوا کچھ نہیں لاتے۔

اپنی ذات کی خوابیدہ صلاحیتوں کو بھی جانیں: خدا نے جہاں اپنی ذات کو پوشیدہ رکھ کے ہمیں دعوتِ تلاش و تحقیق دی ہے کہ اُسے تلاش کیا جائے اور اُس کی نشانیوں سے اُس کا ادراک حاصل کیا جائے ۔وہیںاُس ذات نے انسان کی اپنی ذات میں بھی اُس کی صلاحیتوں کو چھپا دیا ہے کہ وُہ خود ہی اُن کو نہ صرف تلاش کرے بلکہ ان کو ترقی دے کر اعلیٰ انسان بن سکے۔

یہ پوشیدہ قوتیں اور خوابیدہ صلاحیتیں ایک جیتے جاگتے انسان میں اُس ایٹم کی توانائی کی طرح ہیں جو منظم طور پر باہر لائی جائیں توایٹمی بجلی کی طرح دنیا جگمگادیتی ہے مگر اگر کسی بُرے طریقے میں ظاہر ہو تو ہر طرف تباہی پھیلا دیتی ہے۔ نفسیات دانوں کا مانا ہے کہ انسانی ذات اور شخصیت میں موجود ممکنات لا محدود ہیں ۔انسان کی حیثیت سے ہمارا کام ہے کہ ہم اپنی ذات میں چُھپے خزانوں کو جو قابلیتوں، صلاحیت اور لیاقت کی صورت میں ہوتے ہیں کو دنیا کے سامنے لائیں۔تاکہ نہ صرف ہماری صحیح پہچان اور شناخت بن سکے بلکہ ہم سکون و عرفان کی منازل بھی طے کرسکیں جوہر عہد میں انسان صرف اپنی ذات کے علم و عرفان سے ہی پا سکتاہے۔

معاشی اور سماجی مستقبل پر بھرپور تحقیق کریں: اگر آپ آج کسی پیشے میں جانے کی منصوبہ بندی کر رہے اور آپ سکول یا کالج کے طالب علم ہیں تو آپ کو اُس پیشے میں بطورسیکھنے والے یعنی Apprentice کے طور پر شروع کرنے میں 8سے10سال لگتے ہیں اور اِس میدان میں ماہر یعنی Expertبن کر اپنی صلاحیتوں اور قابلیت کا لوہا منوانے میں 15سے20سال لگ جاتے ہیں۔

یہ ایک لمبا عرصہ ہے جس میں مستقل مزاجی، استقامت اور لگاتار محنت ہی آپ کی کامیابی کی منازل طے کر سکتی ہے۔آج کے کمپیوٹر اور انفارمیشن کے دور میں اب معاشی اور معاشرتی حالات بہت تیزی سے بدل جاتے ہیں۔بہت سے پیشے جن کی آج بہت ڈیمانڈ ہے صرف دس سال میں ان کا نام و نشان بھی دنیا سے مٹ جائے گا۔تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا اوراس کی معاشی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ آپ جب بھی اپنے کیریئر کی منصوبہ بندی کریں تو آج میں جینے کی بجائے کم از کم دس سے پندرہ سال آگے کا سوچیں۔ان پیشوں میں جانے سے گریز کریں کہ جن کی مستقبل قریب میںہی ڈیمانڈیعنی طلب کم ہونے کا اندیشہ ہے۔ اور ایسے پیشوں میں جانے کو ترجیح دیں جن کی مستقبل میں طلب سے رسد کم رہے گی کیونکہ اس صورت میں ایسے پیشوں میں آمدنیاں اور مشاہرے بہت زیادہ ہوں گے۔

اپنی ذات کو برانڈ بنانے کی فکر کریں: آج کے دور میں کامیابی کا صرف ایک ہی بڑا اصول ہے کہ عام سی چیز کی بھی اگر قدروقیمت یعنیValue بڑھا دی جائے تو اُسے منہ مانگے داموں بیچا جا سکتا ہے۔ ہم سب انسان بنیادی طور پر ایک سے ہیں یعنی سب انسانوں کی دو آنکھیں ، دو کان، ایک ناک ،دو بازو اور ٹانگیں وغیرہ ہیں یعنی ہم سب انسانوں کا Hardwareایک ہی ہوتا ہے ۔فرق صرف ذہن اور سوچ یعنی ہمارے سافٹ ویئر کا ہے۔

اِس سوفٹ وئیر کو آپ جتنا بہتر بناتے جائیں گے اُسی قدر آپ کی قدر و قیمت بھی بڑھتی جائے گی۔جب بھی کوئی شخص اپنی ذات میں برینڈ بن جاتا ہے تو اس کے لئے منزلیں حاصل کرنا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ فرد کی ساری مہارتیں، صلاحیتیں، لیاقتیں، ذہانتیں اور قوتیں اُس کی اِسی سوفٹ وئیر میں جا کر اُسے ایک کامیاب برینڈ بناتی ہیں۔ اپنی ذات کو اپنی متعلقہ میدان ِ مہارت اورشعبے میں دوسروں سے الگ اور ممتاز بنائیے جس کیلئے آپ کو دوسروں سے منفرد اور الگ محنت بھی کرنا پڑے گی مگر کامیابی تو وُہ ملے گی کہ لوگ مثال دینا پسند کریں گے۔ اللہ کریم سے دعا ہے کہ وُہ آپ کواپنی ذات اور شخصیت کو جان کر اپنی صلاحیت میں اضافے کی توفیق سے مالا مال فرمائے تاکہ آپ اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو بہتر بناسکیں( آمین ثم آمین) ٭٭٭

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

دنیامیں کوئی کروڑ پتی ہے تو کوئی چندروپوں کو ترس رہا ہے۔ کوئی خزانوں کا مالک ہے تو کسی کے گھر میں فاقوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ کوئی دنوں میں لاکھوں کماتا ہے تو کسی کو سالوں میں ہزاروں سے گذارہ کرنا پڑتا ہے۔

مزید پڑھیں

لوگ صرف دولت کما لینے کو ہی ترقی تصور کرتے ہیں۔ مگر دنیا بھر کا دھن اکٹھا کر لینے اور مال وزر جمع کر لینے کے بعد اگر روح پُرسکون نہیں ہے اور اضطراب کا شکار ہے تو آپ نے زندگی سے کیا پایا؟سکون کی دولت پانے کے لئے لازم ہے کہ آپ کی روح پیاسی اور بے تاب نہ ہو۔ روح کی پاکیزگی کے لئے ضروری ہے کہ آپ رزائلِ اخلاق مثلاًجھوٹ، لالچ، حسد، منافقت،غصہ، چوری،نفرت وغیرہ سے اپنی ذات اور شخصیت کو آہستہ آہستہ پاک کریں ۔ جسم مادے سے بنا ہے اور ہمیں زمین کی طرف کھینچتا ہے جب کہ روح ایسا امرِربی ہے جو نور سے تشکیل پائی ہے وُہ ہمیں کائنات کی وسعتوں کی طرف لے جانے کی کوشش کرتی ہے۔

 

مزید پڑھیں

زمانہ قدیم سے ہی دنیا بھر میں کہانیاں سُننا اور سنانا پسندیدہ ترین شغل رہا ہے۔ کہانیوں سے ہم نہ صرف اخلاقی قدریں سیکھتے ہیں بلکہ ان سے سیکھی باتیں ہماری زندگیوں پر انمٹ اور دیرپا نقوش چھوڑتی ہیں۔ ذیل میں چھ کہانیاں بیان کی جارہی ہیں جو ہمارے ذہنوں کو تفکر پر آمادہ کرتی ہیں اور کامیابی کی بنیاد بنتی ہیں۔

مزید پڑھیں
`