☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن(طیبہ بخاری ) خصوصی رپورٹ(ڈاکٹر مختار احمد عزمی) متفرق( حامد اشرف) غور و طلب(خالد نجیب خان) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دین و دنیا(ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی) متفرق(حکیم نیازاحمد ڈیال) کلچر(ایم آر ملک) خصوصی رپورٹ(عابد حسین) افسانہ(وقار احمد ملک) دین و دنیا(مفتی محمد وقاص رفیع) کچن کی دنیا دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) کھیل(منصور علی بیگ) متفرق(ڈاکٹرمحمد رمضان عاصی) خواتین(نجف زہرا تقوی)
عطیات کی فراہمی انسانیت سے ہمدردی

عطیات کی فراہمی انسانیت سے ہمدردی

تحریر : مفتی محمد وقاص رفیع

04-19-2020

شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
بنی آدم اعضائے یک دیگرند
کہ در آفرینش زیک جوہرند
چو عضوے بدر آورد روزگار
دگر عضوہا را نماند قرار
تو کز محنت دیگراں بے غمی
نشاید کہ نامت نہند آدمی
 

 

یعنی بنی آدم کا آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ اعضاء کا سا تعلق ہے، کیوں کہ اُن کی پیدائش ایک ہی جو ہر(حضرت آدم علیہ السلام) سے ہے،جب زمانہ اُس کے کسی ایک عضو کو تکلیف میں مبتلا کردیتا ہے تو اُس کے دوسرے اعضا بھی بے چین ہوجاتے ہیں، اگر تو دوسرے لوگوں کی تکلیف سے بے غم ہے تو تو انسان کہلانے کے لائق نہیں ہے۔(گلستانِ سعدیؒ)
اِس وقت تمام عالم انسانیت ’’کورونا وائرس‘‘ جیسی جس عالمگیر وبا ء اور جس ہمہ گیر آزمائش سے نبرد آزما ہے وہ کسی سے مخفی نہیں، اِس قسم کی بلائیں اوروبائیں امتدادِ زمانہ کے ساتھ ساتھ تقریباً ہر دور میں آتی جاتی رہتی ہیں، یہ وبائیں قدرت کی طرف سے انسانوں کو جھنجھوڑنے اور اُنہیں اپنی طرف متوجہ کرنے کی ایک غیبی آواز ہوا کرتی ہیں، دُنیا میں جب قتل و قتال، ظلم و ستم، جبر و استبداد، فحاشی و عریانی، اور دیگر مختلف قسم کے معاصی و جرائم حد سے بڑھنے لگتے ہیں ، تو اُس وقت قدرت کا نظام حرکت میں آتا ہے، زمین کانپتی ہے، آسمان روتا ہے، بادل گرجتے ہیں، طوفان اُٹھتے ہیں،سیلاب اُمنڈتے ہیں ، شمس و قمر کو گرہن لگتا ہے، اور قدرتی آفات و حوادثات، مصائب و بلیات اور مختلف قسم کی وبائیں ، متعدی قسم کے امراض اور طرح طرح کی بیماریاں جنم لیتی ہیں، جن سے جہان بھر کی تمام رونقیں ختم ہوجاتی ہیں، ہستی بستی آبادیاں کھنڈرات میں تبدیل ہو جاتی ہیں، معیشت اور روزگار تباہ ہوجاتے ہیں، اشیائے خورد و نوش کی کمیابی ہوجاتی ہے،علاج معالجے کی سہولیات کم پڑجاتی ہیں اور انسانیت وباؤں اور امراض،غربت و اِفلاس ، فقر و فاقہ، اوربھوک و پیاس کی شدت سے سسکیاں لینے لگتی ہے ۔
قدرتی وباؤں اور آفات کے اِن کٹھن مراحل اور اِن مشکل حالات میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ کر اُس کو دل سے راضی کرنا اور پھر انسانیت کے ساتھ جذبہ ہمدردی سے سرشار ہوکر اُس کی سسکتی مخلوق کی خدمت کرنا، اُن سے جانی ومالی تعاون کرنا، اُن کیلئے اشیائے خوردو نوش کا بندوسبت کرنا، اُن میں مختلف قسم کے راشن تقسیم کرنا، حسبِ استطاعت روپیہ پیسہ سے اُن کی مدد کرنا، اُن کے لئے علاج معالجہ کی سہولیات کو یقینی بنانا، اُن کے لئے خون کے عطیات کا بندوبست کرنا غرضیکہ اُن کی حتیٰ المقدور جملہ ضروریاتِ زندگی پوری کرنا سب سے بڑی،سب سے اہم، سب سے ضروری، اور سب سے بڑھ کر عبادت ہے۔
چناں چہ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ترجمہ:اور جو مال بھی تم خرچ کرتے ہووہ خود تمہارے فائدے کے لئے ہوتا ہے، جب کہ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے سوا کسی اور غرض سے خرچ نہیں کرتے، اور جو مال بھی تم خرچ کروگے تمہیں پورا پورا دیا جائے گااور تم پر ذرا بھی ظلم نہیں ہوگا…اور تم جو مال بھی خرچ کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔‘‘ (سورۃالبقرہ:2/ 273,272) ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں: ’’ترجمہ: اور تم جو چیز بھی خرچ کرتے ہو، وہ اُس کی جگہ اور چیز دے دیتا ہے۔‘‘ (سورۃ السبأ:34/39)ایک اور جگہ فرماتے ہیں:’’ترجمہ: اور اللہ کے راستے میں مال خرچ کرو، اور اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو، اور نیکی اختیار کرو، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘ (سورۃ البقرہ: 2/195) ایک جگہ فرماتے ہیں: ’’ترجمہ: اور ہم نے اُنہیں جو رزق دیا ہے ، اُس میں سے وہ (نیک کاموں میں) خفیہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں، وہ ایسی تجارت کے اُمید وار ہیں جو کبھی نقصان نہیں اُٹھائے گی۔‘‘ (سورۃ الفاطر:35/29)
اسی طرح حدیث پاک میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: ’’اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ہیں جن کو اُس نے اپنی خاص نعمتوں سے سرفراز فرمایا ہے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو نفع پہنچائیں، جب تک یہ بندے اپنے مال سے یا اپنے اثر سے دوسروں کو نفع پہنچاتے رہیں گے، اللہ تعالیٰ بھی اِن کو اپنی نعمتوں سے مالا مال کرتا رہے گا، اگر اِن میں سے کوئی شخص اپنی نعمت کو اللہ تعالیٰ کے بندوں سے روک لیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ بھی اُس سے اپنی نعمت سلب کرلیتا ہے اور کسی دوسرے اہل کو وہ نعمت عطا کردیتا ہے۔‘‘ (ابن ابی الدنیا)ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ: ’’جو شخص کسی مسلمان کے کام میں کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس کے کام میں سعی کرتا ہے، جو شخص کسی مسلمان کی تکلیف کو دُور کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس کی تکلیف کو دُور کرتا ہے۔ (بخاری، مسلم)ایک اور حدیث میں آتاہے کہ: ’’اگر کسی بندے کو اللہ تعالیٰ نے کوئی نعمت عطا کی، اور اُس کی طرف دوسرے بندوں کی حاجتوں کو لگادیا، لیکن اُس بندے نے دوسروں کو نفع پہنچانے سے اپنا ہاتھ رُوک لیا تو گویا اپنی نعمت کے زائل ہونے کا سامان اُس نے اپنے لئے مہیا کرلیا۔‘‘ (معجم طبرانی) ایک حدیث میں آتا ہے کہ: ’’کسی مسلمان کی حاجت کو پورا کرنا مسجد نبوی ؐمیں بیس سال کے اعتکاف کرنے سے بھی زیادہ موجب اجر ہے۔‘‘ (دُرِّ منثور)ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ: ’’ایک روٹی کے نوالے کی وجہ سے تین آدمی جنت میں بھیج دیئے جاتے ہیں ، ایک حکم دینے والا، دوسرا کھانا پکانے والا، تیسرا خادم کو روٹی کا نوالہ غریب کو جاکر دے۔‘‘ (مستدرک حاکم، معجم طبرانی)
مؤرخین نے لکھا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مبارکؒ ایک مرتبہ حج کو جارہے تھے ۔ راستہ میں ایک مقام پر ایک لڑکی کو دیکھا کہ کوڑے پر سے کچھ اٹھا رہی ہے ، ذرا اور قریب آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ لڑکی ایک مری ہوئی چڑیا کو جلدی جلدی ایک چیتھڑے میں لپیٹ رہی ہے ۔ عبد اللہ بن مبارکؒ وہیں رُک گئے اور حیرت و محبت بھرے لہجے میں اس لڑکی سے پوچھنے لگے : ’’بیٹی! اس مردار چڑیا کو کیا کروگی؟‘‘ اپنے پھٹے پرانے اور میلے کچیلے کپڑوں کو سنبھالتے ہوئے لڑکی کی آنکھوں میں آنسو اُمنڈ آئے ۔ رندھی ہوئی آواز میں بولی: ’’چچا جان! میرے والد ماجد کو چند ظالموں نے قتل کردیا ہے ۔ ہمارا تمام مال و اسباب ہم سے چھین لیا ہے ۔ اور ہماری ساری جائیداد ہتھیا لی ہے ۔ اب ایک میں ہوں اور ایک میرا بھائی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا ہمارا کوئی سہارا نہیں ہے ۔ اب ہمارے پاس نہ کھانے پینے کے لئے کچھ ہے اور نہ ہی پہننے کے لئے ۔ کئی کئی وقت ہم پر اسی طرح فاقے کے گزر جاتے ہیں ۔ چنانچہ اب بھی ہم دونوں بھائی بہن مسلسل تین دن سے بھوکے ہیں ۔ بھائی گھر میں بھوک سے نڈھال پڑا ہوا ہے ۔ میں باہر نکلی کہ شاید کھانے کو کچھ مل جائے ۔یہاں آئی تو یہ مردار چڑیا پڑی ہوئی ملی ، جو ہمارے لئے کسی بھی نعمت سے کم نہیں ہے ۔‘‘ یہ کہتے ہوئے کئی دنوں سے فاقہ کی ماری ہوئی ننھی پری پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔عبد اللہ بن مبارکؒ کا دل بھر آیا ، بچی کے سر پر ہاتھ رکھا اور خود بھی رونے لگ گئے ۔ اپنے خزانچی سے پوچھا : ’’ اس وقت تمہارے پاس کتنی رقم ہے؟‘‘ خزانچی نے کہا : ’’ حضرت! ایک ہزار اشرفیاں ہیں ۔‘‘ عبد اللہ بن مبارک نے فرمایا: ’’میرے خیال میں ’’مرو‘‘ پہنچنے کے لئے بیس اشرفیاں کافی ہوں گی۔‘‘ خزانچی نے جواب دیا: ’’ جی ہاں! گھر تک پہنچنے کے لئے بیس اشرفیاں کافی ہیں۔‘‘ عبد اللہ بن مبارکؒ نے فرمایا: ’’ بیس اشرفیاں اپنے پاس رکھ لو ، اس کے علاوہ باقی تمام اشرفیاں اس لڑکی کو دے دو ، ہم اس سال حج کو نہیں جائیں گے ، یہ حج کعبہ شریف کے حج سے بڑا حج ہے۔
یقینا اِس وقت جب کہ تمام عالم انسانیت ’’کورونا وائرس‘‘ جیسی بڑی اور عالمگیر وبائی آفت میں مبتلا ہے، ایسے میں خلق خدا کی جان و مال سے خدمت کرنا ، اُن کی حفاظتی دیکھ بھال کرنا، اُن کیلئے علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنا، اُن کیلئے اشیائے خورد و نوش کا بندوبست کرنا اور اُن کا جانی ومالی زکوٰۃ و صدقات اور ہدایا وخیرات کی مد میں ہر ممکن تعاون کرنا ایک بہت بڑی عبادت ، ایک اہم ترین دینی فریضہ ، اور ایک بہترین اور عمدہ مثالی اقدام ہے۔
کسی نے سچ کہا ہے: دل بدست آور کہ حج اکبر است!
یعنی کسی کا مالی و جانی تعاون کرکے اُس کا دل جیتنا حج اکبر جیسا ثواب رکھتا ہے۔
 

مزید پڑھیں

ماہ رمضان کی آمدکے ساتھ ہی عموماََ استقبالِ رمضان کے کلمات سن کر جو ذہن میں ایک خاکہ تیار ہوتا ہے وہ اشیائے خورد ونوش کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے ہوتا ہے۔
 

 

مزید پڑھیں

رمضان المبارک گناہوں کی دلدل میں موسلا دھار بارش‘  بیکراں رحمت کے ظہور‘ گناہوں کی گرد دُھلنے کا نام‘ گناہوں کی جلتی دھوپ میں مغفرتِ الٰہی کا سائبان‘  جلتے ٹیلوں اور تپتے دشت میں موسمِ گل اور مغفرتِ یزداں کے جوش مارتے سمندر کا نام ہے۔
 

 

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  اسلام ایک جامع اور مکمل مذہب ہے، جو انسانی زندگی کے ہر گوشے کا احاطہ کرتا ہے،اور ہر موقع پر انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس میں خوشی اور غم کے مواقع پر شرعی حدود متعین ہیں۔

مزید پڑھیں

جب رمضان ختم ہوتا اور یکم شوال ہوتا تو روز عید نبی اکرم ﷺصاف اور اجلا لباس زیب تن فرماتے۔ روز عیدالفطر عیدگاہ روانگی سے قبل چند کھجوریں تناول فرماتے، جن کی تعداد طاق ہوتی۔ آپ ﷺ عیدگاہ تک پیدل تشریف لے جاتے۔

عیدگاہ جس راستے سے تشریف لے جاتے واپسی پر راستہ تبدیل فرماتے۔ عیدوں پر کثرت سے تکبیروں کا حکم فرماتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نماز عیدالفطر سے قبل فطرانہ کی رقم ادا کرنے کا حکم صادر فرماتے۔

مزید پڑھیں

  عید الفطر اور عید الاضحی کے دن بھی مسلمانوں پر لازم ہے کہ طلوع آفتاب کے بعد اور زوال سے پہلے وہ جمعہ ہی کی طرح ایک اجتماعی نماز کا اہتمام کریں۔ اِس کا طریقہ درج ذیل ہے:
یہ نماز دو رکعت پڑھی جائے گی،
دونوں رکعتوں میں قرأت جہری ہو گی،
قیام کی حالت میں نمازی چند زائد تکبیریں کہیں گے،

مزید پڑھیں
`