☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) دنیا اسپیشل( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) متفرق(احمد صمد خان ) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) رپورٹ(ایم ابراہیم خان ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() کھیل(طیب رضا عابدی ) خصوصی رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) صحت(حکیم قاضی ایم اے خالد) غور و طلب(امتیازعلی شاکر) شوبز(مرزا افتخاربیگ) خواتین(نجف زہرا تقوی) دنیا کی رائے(ظہور خان بزدار)
مچھر سے حقیر وائرس ۔۔۔انسانیت کیلئے نشان ِ عبرت

مچھر سے حقیر وائرس ۔۔۔انسانیت کیلئے نشان ِ عبرت

تحریر : ظہور خان بزدار

04-26-2020

 ویسے تو انسان خاک ہے مگر لفظوں میں آگ لیے پھرتا ہے،نمرود کی پوری بادشاہت کا ایک مچھر کے سامنے بے بس ہونا اور دنیا کی تمام ایٹمی طاقتوں کا ایک کورونا وائرس کے سامنے بے بس ہونا رب کی قدرت کی نشانیاں ہیں،دنیا نمرود کو عبرت کا نشان بنانے والے مچھر پر حیران تھی آج اس مچھر سے حقیر وائر س نے پوری انسانیت کو نشان عبرت بنا دیا ہے۔
 

 

4 ماہ قبل چین کے شہر ووہان کے علاقہ میں جنم لینے والا وائرس دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے،اس مہلک وبا ء سے 215سے زائد ممالک متاثر ہیں،پاکستان میں اس وباء سے متاثرہ پہلا کیس کراچی میں 26فروی 2020کو سامنے آیا۔اس مہلک وباء کے پھیلائو کو روکنے کیلئے حکومت وقت نے کوششیں تیز کر رکھی ہیں۔ چین نے کورونا کو دشمن سمجھا اور اسے متحد ہو کر شکست دے دی مگر ہماری عوام ابھی تک یہ طے نہ کر سکی کہ کورونا پنجابی ہے،سندھی ہے، بلوچستانی ہے یا گلگت بلتستانی ہے،کعبہ کا طواف رک گیا،پروازیں منسوخ ہو گئیں،بارڈرز بند کر دیے گئے،تعلیمی اداروں کو چھٹیاں دی گئیں،کانفرنسیں،مذہبی اجتماعات،میچز،حتیٰ کہ مساجد میں پانچ افراد سے زائد نمازیوں پر پابندی عائد کر دی گئی،پہلے سندھ،پھر پنجاب کے بعد لاک ڈائون کا دائرہ کار پورے ملک میں نافذ کر دیا گیا،اس وقت کورونا وباء سے متاثرہ افراد کی تعداد میں پنجاب سر فہرست ہے،آئے روز دن بدن متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور جزوی لاک ڈائون کے باجود پنجاب میں کیسز کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے،شاید آنے والے دنوں میں تعداد اسی طرح بڑھتی رہی تو حکمرانوں کو اسکے پیش نظر کرفیو تک فیصلے اٹھانا ہو نگے،قابل امر بات یہ ہے کہ پاکستان میں کورونا کی ٹیسٹ کٹس کے رزلٹ پر سوالیہ نشان ہیں،سندھ کے وزیر تعلیم میں کورونا کا ٹیسٹ مثبت آیا اور ٹھیک پانچ روز بعد رزلٹ منفی آگیا اور بھکر میں قرنطینہ سنٹر سے لوٹنے والے زائرین کے ٹیسٹ پہلے منفی آئے اور چند روز بعد ٹیسٹ پھر پازیٹیو آگئے،ان ٹیسٹ کٹس کے معیاری یا غیر معیاری ہونے پر لوگوں میں بھی کافی وسوسہ جنم لے چکا ہے،چند روز قبل عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں حکومت نے اپنا جواب جمع کراتے ہوئے کہا کہ رواں ماہ اپریل کے آخر تک ملک میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 50ہزار سے زائد جا سکتی ہے تو دوسری جانب پھیلائو کو روکنے کے اقدامات بھی ناکافی سامنے آئے ہیں،احساس کفالت پروگرام میں عورتوں کی بھیڑ نے انتظامیہ کے سر چکر ا دئیے،دیہی علاقوں سے آئی خواتین کو اس وباء سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر اپنانے کا کہا گیا تو خواتین نے کہا کہ اصل بیماری کورونا وائر س نہیں بلکہ پیٹ کی بھوک ہے اس بھوک کے خاتمے کے لیے حکومت اقدامات اٹھائے،خیر اب،میں، میں،کا وقت نہیں ہے سب کو ایک ہو کر کورونا سے لڑنا ہے،چین کا مقابلہ صرف کورونا سے تھا ہم پاکستانیوں کو کورونا کے علاوہ جہالت،ناپ تول میں کمی،منافع خوری،کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ،غربت اور ذخیرہ اندوزی سے لڑنا ہے مگر اب تک کے لاک ڈائون کے حکومتی فیصلے پر منتخب عوامی نمائندوں نے بھرپور عمل درآمد کیا اور اس مشکل وقت میں عوام کی مشکلات ختم کرنے کی بجائے اپنے آپ کو بند کمروں تک محدود کیا،اس امر سے غریب طبقہ سیخ پا ہے،لاک ڈائون میں مزید توسیع کی خبریں گردش کر رہی ہیں،اگر لاک ڈاون کا دورانیہ بڑھایا گیا تو شاید سفید پوش طبقہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو سکتا ہے اور وہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر آسکتے ہیں،جن محنت کشوں کا خون سرمایہ دار،جاگیر دار اور حکمران صدیوں سے نچوڑ رہے ہیں انہیں ایک ماہ کے لیے بٹھا کر کھانا نہیں کھلا سکتے،اگر اسطرح ہو جاتا تو شاید اب حالات اس کے برعکس ہوتے اور کورونا کا نام و نشان مٹ چکا ہوتا،تازہ ترین  اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سماجی طور پر ہم اپنے آپ کو اس بات کا پابند نہیں کر سکے کہ ہم اس بیماری کے آگے پل باندھ سکیں،موت برحق ہے مگر اپنی بے احتیاطی کی وجہ سے 10لوگوں کی جان خطرے میں مت ڈالیں،کورونا سے نجات کا واحد حل توبہ و استغفار اور صرف احتیاط ہے،چائنہ کی حکومت نے عوام سے کہا کہ ماسک پہنیں،اٹلی نے کہا گھر پر رہیں،امریکا نے کہا سینیٹائزر کاا ستعمال کریں،ایران نے کہا کہ پانی پئیں،پاکستانی حکومت نے کہاکہ فاصلہ رکھیں،مگر عوام نے کہا جو ہوگا دیکھا جائے گا،خدانخواستہ اگر ہو گیا تو وہ کسی سے دیکھا نہیں جائے گا چین کے صدر کا مسجد میں جانا،ٹرمپ کا قرآن پاک کی تلاوت سننا،برطانوی پارلیمینٹ میں اذان ہونا یہ میرے رب کی کرامات ہیں ہمارا مذہب اسلام تمام مذاہب سے افضل ہے اس مہلک بیماری سے نجات اور چھٹکارے کا واحدحل اپنے گناہوں پر رب کے حضور معافی مانگیں توبہ کریں،احتیاط کریں ورنہ یہ نہ ہو کہ توبہ کا دروازہ ہی بند ہو جائے۔

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

غربت انسانی زندگی سے خوشیاں اور سکون کسی دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔
 

 

مزید پڑھیں

 کھجور ایک قسم کا پھل ہے یہ زیادہ تر عرب ممالک اور گردونواح میں پائی جاتی ہے دنیا میں سب سے اعلی کھجورعجوہ ہے جو سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ اور مضافات میں پائی جاتی ہے۔

 

مزید پڑھیں

میں کچھ تکلیف دہ حالت سے بیدا رہوا، اپنے ارد گرد ہلکی ہلکی آوازیں میرے کانوں میں آ رہی تھیں، کچھ ملی جلی تھیں۔ کبھی بہنوں کی سسکیاں سنائی دیتی تو کبھی بیوی کی ہچکیوں کی اور کبھی والدہ کی سرد آہیں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ میں اس دنیا سے جا رہا ہوں اور سب مجھے رخصت کر رہے ہیں۔
 

 

مزید پڑھیں
`