☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) دنیا اسپیشل( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) متفرق(احمد صمد خان ) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) رپورٹ(ایم ابراہیم خان ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() کھیل(طیب رضا عابدی ) خصوصی رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) صحت(حکیم قاضی ایم اے خالد) غور و طلب(امتیازعلی شاکر) شوبز(مرزا افتخاربیگ) خواتین(نجف زہرا تقوی) دنیا کی رائے(ظہور خان بزدار)
امریکی رہنمائوں کی بھارت کو دھمکی

امریکی رہنمائوں کی بھارت کو دھمکی

تحریر : محمد ندیم بھٹی

04-26-2020

 نریندر مودی کہتے ہیں کہ یوگا سے دماغ ٹھنڈا ہوتا ہے ‘‘لیکن ان کے ایما ء پر بھارتی میڈیا نے ملک بھر میں اسلام دشمنی کی آگ بھڑکا دی ہے، بھارتی حکومت اور میڈیا نے کوروناوائرس کو مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔
 

 

وہاں کورونا وائرس کے پھیلائو کا ذمہ دار مسلمانوں کو ٹھہرایا جا رہا ہے ۔ یہ بحث بھارت تک ہی محدود نہیں رکھی گئی بلکہ اس کا دائرہ کارمشرق وسطیٰ تک وسیع کر دیا گیا ہے۔حال ہی میں دبئی کی ایک بڑی کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو افسرسٹاٹ ہیریسن نے اپنی کمپنی میں بیٹھ کرمسلمانوں کے خلاف زہریلے ٹوئٹ کرنے والے رایکش بی کترماتھ کو برطرف کر دیا ہے۔ہیریسن نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ راکیش کو مسلمانوں کے خلاف ٹوئٹ کرنے پر اسی وقت برطرف کر دیا گیا ہے کیونکہ کمپنی کی پالیسی ہمیشہ سے مذہبی آہنگی میں اضافہ کرنا ہے اس لئے راکیش کو برطرف کر کے پولیس کے حوالے کیا جا رہا ہے۔دو تین ہفتوں میں دبئی اور امارات میں برطرف ہونے والا وہ ایک ہی آدمی نہیں ہے ۔اس کی طرح کے دو اور ہندو بھی برطرف کئے جا چکے ہیں۔ یعنی ہندو یہ آگ مشرق وسطیٰ میں بھی پھیلا ناچاہتے تھے جسے اسی وقت روک دیا گیا ہے۔ 

 ریاست مہاراشٹرا کے وزیر نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اس نے جان بوجھ کور ونا وائرس پھیلانے والے اقدامات کئے۔ مہاراشٹرا کے ریاستی وزیر نے کہا کہ ’’ہمارے کہنے پر فروری میں ہی تبلیغی اجتماع والوں نے خوشی سے یہ اجتماع منسوخ کر دیا تھا‘‘۔ مہا راشٹرا کے وزیر نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’’جنتا کرفیو اور پھر مکمل کرفیو کے بعد تمام ٹرانسپورٹ روک دی گئی تھی اس سے ان مسلمانوں کی آمد و رفت ناممکن ہو گئی تھی ۔ اس غلطی پر نریندر مودی نے جب قوم سے معافی مانگی تو غلطی کی سزا بھی وہی بھگتیں ۔مسلمانوں کو اس کی سزا کیوں دی جا رہی ہے؟‘‘
انہوں نے سوال اٹھایا کہ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے اسے دہلی میں منعقد کرنے کی اجازت کیوں دی تھی؟ ۔ مہاراشٹرامیں تنسیخ کے بعد تبلیغی اجتماع والے وہاںسے چلے گئے تھے لیکن دہلی میں اجتماع کو منسوخ نہیں کیا گیا تھا۔ فروری میں تبلیغی اجتماع والوں نے دہلی کی انتظامیہ سے کئی بار رابطہ قائم کیا لیکن انہیں یہی بتایا گیا کہ ابھی اجازت برقرار ہے جس پر دنیا بھر سے لوگ بلوا لئے گئے ۔ یہ کہنا بھی بے جا نہ ہو گا کہ نظام الدین مرکز میں دو ہزارافراد پہلی مرتبہ جمع نہیں ہوئے ۔ 70برسوں سے روزانہ کم سے کم 2ہزار افراد کی رہائش کا بندوبست ہوتاہے ۔ اس لئے یہ کہنا درست نہیں کہ اجتماع پہلی مرتبہ ہوا ،یہاں رہائش کابندوبست ہے اورلوگ اپنے اپنے کمروں میں مقیم تھے۔ 
مسلمانوں کے پاس رہائشی سہولتوں کی کمی کے پیش نظر لوگ یہیں رہتے ہیں۔دہلی میں بے گھر ہونے والے اکیلے افراد بھی یہیں آ گئے تھے۔ حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ وزیر داخلہ امت شاہ نے24مارچ کو اجتماع منسوخ کرنے کا حکم جاری کیا اسی روز ان کی رہائش گاہوں پر بھی دھاوا بول دیا گیا۔ پویس نے کیمپ اکھاڑ دیئے، اور بے گناہوں کی گرفتاریاں شروع کر دیں۔یہاں 24 مارچ کو جاری ہونے والے خط کا ذکر کرنا بے جا نہ ہو گا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دہلی میں اس روز ہی اجتماع پر پابندی لگائی گئی تھی ۔
تبلیغی جماعت نے متعدد مرتبہ دہلی حکومت سے ٹرانسپورٹ کی التجا کی جو اس نے سنی ان سنی کر دی ۔مولانا یوسف کے ہاتھ سے لکھا ہوا ایک خط بھی میرے پاس ہے جس میں انہوں نے بھارتی ایس ایچ او سے مدد مانگی تھی۔انہوں نے ایس ایچ او کو لکھا کہ تبلیغی اجتما ع کی تینسیخ کا حکم 24 مارچ کو جاری کیا گیا ہے۔انہوں نے خط ملتے ہی 25مارچ کو تھانے میں اپنا خط وصول کروایااور انخلا میں مدد مانگی لیکن شنوائی نہ ہوئی۔ اس وقت تک کرفیونافذ ہو چکا تھا، ہر قسم کی ٹرانسپورٹ بند ہو گئی تھی۔ہم 24مارچ کو جاری ہونے والے اجتماع کی تنسیخ کے خط پر عمل درآمد کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں لیکن ٹرانسپورٹ بند ہے۔ آمد و رفت کی سہولتیں میسر نہ ہونے کے باوجود بھی ہم انخلا کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم نے 23مارچ سے پہلے 1500افراد کو کسی طرح سے وہاں سے نکال لیا ہے ،دیگر افراد کے انخلاء کے لئے ٹرانسپورٹ مہیا کی جائے‘‘۔انہوں نے دہلی پولیس کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہو ئے انخلاء میں مدد مانگی ۔ انہوں نے ایس ایچ او سے اپیل کی کہ سب ڈویژنل مجسٹریٹ سے رابطہ قائم کر کے ٹرانسپورٹ کا انتظام کروائیں لیکن یہ کام بھی نہیں کئے گئے۔
ممبئی میں سٹیٹ ہوم منسٹر انیل دیش مکھ نے متعدد سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ 
’’رات کی تاریکی میں لگ بھگ دو بجے مسلمانوں کے رہنما مولانا سعد سے ملنے ان کی ’’رہائش گاہ ‘‘پر ملنے کون گیا تھا؟انہیں کس نے بھیجا تھا؟ دہلی پولیس یا امیت شاہ کی جگہ اجیت ڈوول کو مسلمانوں سے رابطہ کرنے کی ہدایت کس نے کی؟اس ملاقات کا پس منظر کیا ہے؟ 
آئیے ہم بتاتے ہیں کہ بھارت کے حوالے سے دنیا بھر میں کیا ہو رہا ہے اور اب امیت شاہ کو پیچھے کیوں دھکیلا جا رہا ہے۔یہ مسلمانوں کے حوالے سے کورونا وائرس کی خبریں منظر عام پر آتے ہی امریکہ میں بھونچال آ گیا۔ امریکی حکومت پہلے ہی کورونا وائرس کے حوالے سے ہر دھمکی اور الزام تراشی کو دہشت گردی کے زمرے میں شامل کر چکی ہے۔اسی لئے بھارت میں مسلمانوں کو کورونا وائرس قرار دیتے ہی امریکی ادارے حرکت میں آ گئے ۔مذہبی آزادیوں کے سب سے بڑے امریکی کمیشن کے سربراہ سام برائون بیک نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ الزامات کی فوری تحقیقات کی جائے اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔بصورت دیگر یہ سمجھا جائے گا کہ کورونا کو مذہب سے منسوب کرنے والوں کو سرکاری حمایت حاصل ہے۔سام برائون بیک کی مذمت کے بعد امریکی معاون وزیر ایلس ویلز نے بھی ٹوئٹ کیا کہ ’’کوروناوائرس کو کسی بھی مذہب سے منسوب کرنا انتہائی ناقابل برداشت اقدام ہے،انہوں نے بھی بھارتی حکومت پرا یسا کرنے والوں کی سرکوبی پر زور دیا ۔ان دونوں رہنمائوں کی جانب سے مذمت سامنے آتے ہی مودی حکومت کا رویہ کچھ حد تک بدل گیا اور ایک بڑے میڈیا ہائوس نے اسی وقت معافی مانگ لی۔اب دیکھتے ہیں کہ مودی کے دوست میکش امبانی کا میڈیا ہائوس کب معافی مانگتا ہے کیونکہ سرکاری کی سرپرستی میں اقلیتوں کو بدنام کرے میں اس نے بھی تو کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔
نریندر مودی او ر وزیر داخلہ امیت شاہ نے 1.30ارب بھارتیوں کو کرفیو میں لاک ڈائون کر دیا،جو اب تک جاری ہے،دہلی میں قتل عام کا شکار ہونے والے ہزاروں مسلمان کہاں جائیں ؟کوئی گھر ہے نہ ٹھکانہ،کہاں دستک دیں؟ ۔ مسلمانوں کیلئے کرفیو بے معنی ، کھوکھلے لفظوں کے سوا کچھ نہیں۔کرفیو میں ٹریفک بند ہوتے ہی لاکھوں مسلمانوں کی زندگی کا بھی پہیہ جام ہو گیا۔حکمران اس کی شدت کا تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ ان کی تخیل کی پرواز سیاست سے آگے سوچنے کی طاقت نہیں رکھتی۔سیاست ،سیاست اور سیاست ۔
مسلمانوں کے خلاف یہ مہم کیسے شروع ہوئی ؟
’’دی کارروان ‘‘نے نریندر مودی کی دھونس اور دھمکیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے لاک ڈائون کرنے سے چھ گھنٹے پہلے اہم میڈیا کو ’’لاک ڈائون‘‘ کر دیاتھا۔مین سٹریم میڈیا کے ایڈیٹرز اورمالکان کو دھمکی دی گئی تھی کہ وہ صرف اچھی خبریں ہی چھاپیں گے۔ انہیں اشارہ مل گیا تھا کہ کس طرح کورونا وائرس کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنا ہے۔نریندر مودی نے لاک ڈائون سے سے قبل اخباری مالکان کو ایک ہی بات کی۔۔۔۔’’آج کے بعد کوئی منفی خبر شائع نہیں ہو گی۔ ملک میں سب اچھا ہے اور آپ یہی لکھیں گے‘‘۔ 
اجلاس میں انڈین ایکسپریس گروپ،دی ہندو گروپ،پنجاب کیساری گروپ(Punjab Kesari Gruop بھی شامل تھے۔ سرکاری ویب سائٹ ہی کہا گہا ہے کہ ۔۔’’نریندر مودی نے اجلاس کے شرکاء یعنی فری میڈیا کے کرتا دھرتاوئں کو باور کرایا ہے،آپ کا کام حکومت اور عوام کے درمیان پل کرداراد ا کرنے کے سوا کچھ نہیں، یہ کام کیجئے،مسلسل فیڈ بیک دیجئے‘‘۔آدھے گھنٹے جاری رپہنے والی اس اجلاس میں نریندر مودی نے لمبی لمبی باتیں سننے سے گریز کیا۔ انہوں نے دوٹوک لفظوں میں میڈیا کو ہدایت دی کہ۔۔ ۔ ۔ قنوطیت، مایوسی،افواہوں پر مبنی اطلاعات برداشت نہیں کی جائیں گی۔ان سے نمٹنا اچھی بات ہے یعنی اچھے بچوں کا کام افواہیں اور مایوسی پھیلانا نہیں ہے۔ عوام کو یہی بتایا جائے کہ حکومت کوروناوائرس کے خاتمے میں مخلص ہے۔ان کے آخری اور حتمی الفاظ تھے۔۔۔’’صحافیوں کو مثبت اور اچھی خبریں شائع کرنا چاہیں۔
اجلاس کے بعد کچھ مالکان حکومت کی چاپلوسی پر اتر آئے۔ انہوں نے اسی وقت ٹوئٹ میں نریندر مودی کادل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔ یہ بھی ان کا اعزاز تھاکہ نریندر مودی نے اپنی بات کہنے کے لئے انہیں چن لیا تھا۔دیگر اخبارات نے اگلے دن کسر نکالی۔ ہر اخبار میں راوی چین لکھ رہا تھا۔کسی ایک اخبار نے بھی ناقص منصوبہ بندی اور عوام کی تکالیف کا ذکر کرنا گوارہ نہیں کیا۔آزادی صحافت کی موت واقع ہو گئی۔ کسی ایک اخبارنے یہ نہیں لکھا کہ حکومت نے ضروری ادویات کا سٹاک کیوں ذخیرہ نہیں کیا تھا۔حالانکہ عالمی ادارہ صحت ادویات ذخیرہ کرنے کی وارننگ بھی دے چکا تھا، کسی ایک نے بھی نہیں لکھا کہ ملک میں 4.10کروڑ عوام دوسری ریاستوں میں کام کی غرض سے گئے ہوئے ہیں ان کی واپسی کیسے ہو گی؟ کسی نے نہیں لکھا کہ راستے میں ہی درجنوں دم توڑ گئے ہیں ان کو کیوں سہولت مہیا نہیں کی گئی تھی؟ 
اخبار نے یہی تاثر دیا کہ حکومت ان اموات کو نہیں روک سکتی تھی۔ یہ لوگوں نے تو مرنا ہی تھا۔کسی نے اتر پردیش میں ہلاکتوں کا ذکر ضرور کیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ حکومت ان مرنے والوں کو بچا سکتی تھی ؟کسی نے نہیں پوچھا کہ ٹرانسپورٹ کیوں بند کی گئی جبکہ لوگ اپنے گھروں سے کئی ہزار کلومیر دور تھے؟ کسی ے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ 1.30ارب باشندوں کے گھروں میں روٹی پانی کا بندوبست کئے بغیر لاک ڈائون کرنے سے گھروں میں کہرام مچنے کا ذمہ دارو کون ہے؟
 کسی ایک اخبار نے بھی یہ لکھنے کی جرات نہ کی کہ دہلی میں لگائے کیمپ اکھاڑ پھینکے گئے ،یہ لوگ اس وقت کہاں ہیں ؟اللہ جانتا ہے۔یہ انسانی المیہ دو تین مہینے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
ایک اخبار نے یہ تاثر دینے کی بھی کوشش کہ کہ وائرس مسلمانوں نے پھیلایا ہے ،شکر ہے کہ اس نے یہ نہیں کہہ دیا کہ ووہان میں بھی مسلمانوں نے ہی پھیلایا اور امریکہ بھی وہی گئے تھے۔دی ہندو پڑھنے سے ایسا لگتا ہے کہ بھارت ہر وزارت ، ہر محکمہ اور ہر افسر کورونا وائس کے خاتمے میں لگا ہوا ہے اور یہ جلد ہی ختم ہو جائے گا۔کسی نے یہ نہیں لکھا کہ بھارت میں 1.34کروڑ افراد دوسری ریاستوں میں روزگار کما رہے ہیں۔ ان میں1.20کروڑ مرد اور باقی بچے اور خواتین شامل ہیں۔ 
کسی نے حال ہی میں دہلی میں بے گھر ہونے والے مسلمانوں کی داستان نہیں لکھی۔جو کچھ انہوں نے نہیں لکھا وہ ہم لکھ دیتے ہیں۔دہلی میں امیر اور غریب کا فرق جنگل میں آگ کی مانند ابھر کر سامنے آیا ہے۔صرف دہلی سے دوسری راستوں میں جانے والوں کی تعداد 13 لاکھ ہے۔یہ سب مشکل سے دوچار ہیں،بے گھر ہیں اور کورونا کا آسان شکار ہیں۔دہلی حکومت نے ایک کمرے کا کرایہ اور راشن دینے کا کہا ہے،باقی کچھ نہیں۔ ایک سرکاری ٹیم کیمپ میں داخل ہوئی،شاپر میں سب کو چینی،چاول اور اجناس دیتے ہوئے انہیں اٹھنے کاحکم دیا۔یہ نہیں بتایا کہ وہ کہاں جائیں۔ 
ایک امیر نے اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ نوکرانی جوہنجیہ میرے سامنے ناشتے کا میز بھر کر گئی ۔میری آنکھوں میں شرم کے مارے آنسو تیرنے لگے ۔ہمارے گھر سے کچھ ہی فاصل پر ایک ایک چیز جلائی جا چکی تھی ۔مسلمانوں کے پاس کھانے کو تھا نہ رہنے کو، اور ہم یہاں ناشتے کی کی میز سجائے بیٹھے تھے۔ ایک وقت میں وہ کچھ کھا رہے ہیں جس سے کئی مسلمان اپنے پیٹ کی آگ بجھا سکتے ہیں۔میں نے شرم سے بھری آنکھیں نیچے کرتے ہوئے قریب ہی بیٹھی بیٹی کی جانب دیکھا ،اس کے چہرے پر یہی کچھ لکھا تھا۔ہمارے فرج کاا یک ایک کونہ پھلوں، سبزیوں اور دوسری اشیاء سے بھراتھا،مجھے کچھ اور جمع کرنے کی ہوس نہیں۔ میں تو پہلے ہی سب کچھ جمع کر چکا ہوں۔یہاں دہلی میں سماجی ناانصافی اور امیر اور غریب کا فرق کسی پہاڑ کی مانند واضح ہو گیا ہے۔کرفیو نے بھارت کی امارت اور سماجی ترقی کا پول کھول دیا ہے۔جس ملک میں 40لاکھ لوگ پیدل چل رہے ہوں اور امیر ایک ہی رات میں ہوائی جہازوں پراپنی چار دیواری کی آغوش میں چلے جائیں ،وہاں نچلے طبقات کے لئے زندگی کتنی مشکل ہو گی؟ یہ حکمرانوں نے کبھی سوچا ہی نہیں‘‘۔
امارت اور غربت کے بارے میں ناول نگار اروند ادیئجا لکھتا ہے۔۔۔۔نفیس کپڑوں میں ملبوس امیر زادہ اپنی اعلیٰ ، راجوں مہاراجوں کے رنگ رنگا ، چمچماتی کارمیں سوا ر ہوکر اپنے دوست کی جانب روانہ ہوتا ہے ۔دوست کو ساتھ لینے کے بعد دونوں کی منزل دہلی کے دل میں واقع امیر زادہ کی آرام گاہ فائیوسٹار ہوٹل کے سوا اور کیا ہو سکتی تھی۔ راستے میں ان کا سامنا ناریل کے قتلے فروخت کرنے والے بچے سے ہوتا ہے۔’’ناریل لے لو، تازہ ناریل‘‘۔۔ کار سوار اسے بری طرح دھتکار کر آگے نکل جاتے ہیں،حقارت سے دیکھتے ہوئے شیشہ او پر کرلیتے ہیں۔معصوم سا بچہ اپنا سا منہ لے کر پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ 
ان لوگوں سے میں نے کئی مرتبہ پوچھا ، کار کے شیشے اور ہوتے دیکھ کرکیا محسوس ہوتا ہے؟ ۔۔’’ جیسے کوئی میرے پورے خاندان کو دہکتے ہوئے الائو میں پھینک رہا ہو‘‘ ۔۔ یہی لوگ سامنے ہوٹل میں ایک وقت کے کھانے میں جتنی دولت اڑا دیں گے اتنے پیسوں میں پورے پورے گھر کا ایک مہینے کا راشن آ سکتا ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی ایک رات بھی بھوکا نہیں سوئے گا‘‘۔یہ کہتے ہوئے لڑکے کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے ۔ زخم ہرے کرنے پر پھر سے مجھے شرمندگی نے آلیا۔ چندو نگر سے تھوڑے فاصلے پر ایک اور کالونی تھی،یہ اب مسلمانوں کے لئے مہاجر کالونی ہے، یہاں بھی مہاجرین رہتے تھے، دہلی کے لٹے پٹے مہاجرین۔شیو بہار میں ایک ہجوم نے ممتاز توفر کے تین منزلہ مکان کو بھی تیل چھڑک کر جلا دیا تھا۔اب اس نے بھی 10 بائی 10کا ایک کمرہ کرائے پر لیا ہے،وہ ا پنے چار بچوں او ران بیویوں کے ساتھ اس ایک کمرے میں کیسے رہے گا؟ کیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت نہیں جانتی؟وہ کہتا ہے کہ ’’میں نریندر مودی سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ان کے ساتھیوں نے ایک ہی رات میں مجھے لینڈ لارڈ سے فقیر بنا دیا ہے۔رہی سہی کسر حکمرانوں نے کرفیو کا حکم دے کرپوری کر دی ۔لاکھوں مسلمانوں بھیٹریوں کے آگے ڈالدیا ہے۔۔نوچ لو جتنا نوچنا ہے‘‘۔وہ کہتا ہے ۔۔’’میں کورنا سے نہ مراتو بھوک سے مر ہی جائوں گا‘‘۔
دہلی کامحمد ادریس بھی نریند ر مودی کا خطاب سننے والوں میں شامل تھا۔اس کی کل کائنات دہلی میں جل چکی تھی۔کیمپ میں اپنے خاندان کے ساتھ کرفیو کی خبر سنتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے، کیا صرف تقریر سے کام چل جائے گا؟ وہ بولا۔
 پیشے کے اعتبار سے وہ بڑھئی تھا، دن بھر میں تھوڑی بہت کام مل جاتا جس سے گزر اوقات چل رہی تھی۔ تھک ہار کر شام کو گھر لوٹتا، ٹی وی سے دل بہلاتالیکن کورونا کے خلاف جنگ سے پہلے ہی وہ ٹی وی بھی ہار گیا تھا۔ ہندو بلوائی گھر سے دوسرے سامان کے ساتھ ٹی وی بھی لے جا چکے تھے ۔
وہ بڑبڑاتا رہا،سر ہلاتا رہا اور مودی سے پوچھتا رہا کہ ’’ میں کہاں جائوں؟ کہاں جائوں؟ کہاں جائوں؟ ’’میں نہیں جانتا ،میں نہیں جانتا، میں نہیں جانتا ‘‘ ۔ کیا ملک کا سربراہ نہیں جن جانتاکہ ہمارے گرگھر جلائے جاچکے ہیں؟کرفیو لگانے سے پہلے حکمرانوں نے یہ نہیں سوچا کہ دہلی میں سینکڑوں افراد کے گھر جلائے جلائے جا چکے ہیں۔ عیدگاہ کے کیمپوں میں پڑے ہوئے یہ مسلمان کہاں جائیں؟‘‘یہ کیمپ ہی ادریس اس کی ماں اور چار بچوں کی آخری چھت تھا کرفیو سے یہ بھی چھن گئی۔وہ اپنے 5شتے داروں کے ساتھ ایک کمرے میں کیسے رہ سکتاہے؟دہلی میں مالک مکان دو مہینوں کا ایڈوانس مانگ رہے ہیں محمد ادریس جیسے لٹے پٹے مسلمان ایڈوانس کہاں سے لائیں ؟کیا حکمران یہ نہیں جانتے کہ ان کے بھارت میں لاک ڈائون سے پہلے کتنے گھروں کو بلوائیوں کی نفرت کی آگ میں جلتے دیکھا تھا ۔حکومت کو یہ سب کچھ اتنی جلدی کیوں بھول گیا؟۔
مہتاب کی آنکھوں میں بھی یہی سوال تھا۔ کہاں جائیں ؟وہ اپنے خاندان کے 18افراد کے ساتھ شمالی دہیلی کا مکین تھابدقسمت مکین۔ نئے نکام کا مالک کہتا ہے کہ اس کے ایک کمرے میں چار سے زیادہ افراد نہیں نہیں رہ سکتے۔ اس کرفیو میں میرے خاندان کے 14 افراد کہاں جائیں؟ مہتاب نے بھرائی ہوئی آنکھوں سے پوچھا کیا ۔حکمرانوں کو ہماری حالت کا علم نہیں، یہ سب سے بڑی جمہوریت اپنے شہریوں کی بپتا اتنی جلدی کیوں فراموش کربیٹھی ۔
اسی طرح کسی بھارتی اخبار نے نہیں لکھا کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے وہاں دانستہ طور پر وائرس پھیلایا جا رہا ہے۔کسی نے نہیں لکھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھی ظلم کی آگ ٹھنڈی نہیں ہوئی۔ اپنے گھر جانے والے90کشمیریوں کو پولیس نے سورت میں گھیر لیا۔کشمیریوں نے گھر جانے کی ضد کی، پولیس نے پہلے آنسوگیس چلائی، پھرہوائی فائرنگ کر دی،فوجی گولیوں کی تڑ تڑ کی آوازیں سناٹے کو چیرتی ہوئی نکل گئیں۔کئی کشمیری گرفتار اور کئی زخمی ہوئے۔ وہاں کئی روز سے شہادتیں ہورہی ہیں ۔زیادہ بحث کرنے والے دہشت گردی کے الزام میں جیلوں میں ڈال دیئے گئے ہیں۔ مقدمے کی سماعت کرفیو ختم ہونے کے بعد ہو گی ۔فی الحال کشمیریوں کی قسمت بھی ڈائون ہو گئی ہے۔ایک مغربی اخبار نے لکھا کہ ’’کشمیر تیسری دنیا کے اندر کی تیسری دنیا ہے،پسماندگی اور مصیبتوں میں گھرا خطہ ۔کوروناسے اتنے لوگ نہیں جاں بحق ہوں گے جتنے کرفیو اور لاک ڈائون سے شہید ہوں گے ۔ بھارتی فوج عالمی میڈیا کو بتائے گی ،ان کی فائلوں پر لکھا ہو گا کہ ’’ قدرتی موت مارے گئے‘‘۔ اس وقت بھی مقبوضہ کشمیر میں روزانہ ہی شہادتیں ہو رہی ہیں ۔ہر خبر کے ساتھ کہہ دیاجاتا ہے ، ۔۔۔’’کشمیری دہشت گرد مارے گئے ‘‘۔ہندو کی نظر میں دہشت گردوں کی تعداد 60لاکھ سے زائد ہے!۔
 
 
 

مزید پڑھیں

کورونا وائرس کی وباء جس جس ملک  میں عروج کو پہنچ رہی ہے وہاں لاشوں کے انبار لگتے جارہے ہیں۔ چین سے جب اس وائرس نے آغاز کیا تھا تو اس وقت دنیا اسکی ہلاکت خیزی سے آگاہ نہیں تھی۔
 

 

مزید پڑھیں

 سبھی جانتے ہیں کہ پاکستانیوں کا شمار دنیا میں سب سے کم ٹیکس دینے والی قوموں میں ہوتا ہے خیرات مگر بڑھ چڑھ کر دیتے ہیں۔ ٹیکس کا بنیادی تصور اسلام میں زکوٰۃ و عشر کی شکل میں روزِ اوّل سے موجود رہا ہے کہ جس کے تحت معاشرے کے خوشحال افراد اپنی آمدنی کے تناسب سے حکومت کے خزانے میں ایک متعین حصہ جمع کرواتے ہیں ۔
 

 

مزید پڑھیں

 دنیااس وقت کوروناوائرس کی وجہ سے جس کرب اورمشکل ترین حالات سے گزررہی ہے اس کااندازہ ان تمام ممالک کوبخوبی ہے جواس کی لپیٹ میں آچکے ہیں، البتہ بعض ممالک میں اس کاپھیلاؤ اتناشدید ہے کہ کئی بڑے ترقی یافتہ ملک تمام وسائل رکھنے کے باوجود بھی ہاتھ کھڑے کرچکے ہیں

 

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  کیا پاکستان ،کورونا کے خلاف جنگ جیت جائیگا؟ ہر جانب یہی سوال سننے کو مل رہا ہے۔ماہرین کے مطابق کورونا کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے عوام کا تعاون بہت ضروری ہے۔
 

 

مزید پڑھیں

برصغیر کی مدبراور زیرک قیادتوں کے اذہان پر برطانوی سامراج کے انخلاء کے بعد متحدہ برصغیر کا جو نقشہ ابھر رہا تھا اس میں دو پہلو نظر آ رہے تھے ، ایک یہ کہ متحدہ برصغیر کو تقسیم در تقسیم کے عمل سے بچا تے ہوئے متحد ہی رہنا چاہیے،
 

 

مزید پڑھیں

یہ جو ہم عموماً کہتے ہیں کہ اقبال نے عجمی تصوف کو اسلامی تصوف سے الگ کیا اور دونوں کی الگ الگ تشریحات پیش کرکے اوّل الذکر کو قوم اور فرد کے لیے یکساں قاتل اور ثانی الذکر کو حیات بخش قوت قرار دیا تو اس بات کا اصل مفہوم کیا ہے؟ہم، جو عام لوگ ہیں اور تصوف کی گہری باتوں کو مطلقاً نہیں سمجھ پاتے،
 

 

مزید پڑھیں
`