☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) رپورٹ( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) تجزیہ(ابوصباحت(کراچی)) کچن کی دنیا() دنیا اسپیشل(خالد نجیب خان) قومی منظر(محمد سمیع گوہر) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری) زراعت(شہروزنوازسرگانہ/خانیوال) کھیل(عابد حسین) متفرق(محمد سیف الرحمن(وہاڑی)) فیشن(طیبہ بخاری )
کاش

کاش

تحریر : محمد سیف الرحمن(وہاڑی)

05-10-2020

  یہ ایک نہایت ہی چھوٹا سا اور مختصر سا لفظ ہے، لیکن اس میں کیا کچھ چھپا ہے یہ جاننے کیلئے، بولنے والے کا درد جاننا ضروری ہے۔‘‘کاش یوں ہوتا، کاش یہ ہوتا، کاش میں یہ کرتا، کاش مجھے وہ ملتا، پتہ نہیں کیا کیا کچھ کہا جاتا ہے اس کاش کے ساتھ۔۔۔۔۔


’’لفظوں کی تاثیر ہوتی ہے یا ہر لفظ کی الگ تاثیر ہوتی ہے، تاثیر لہجے میں بھی ہوتی ہے، لفظ کی تاثیر کا تعلق بولنے والے کی دِلی کیفیت سے ضرور ہوتا ہے ۔کسی نے کیا خوب کہا ہے
لفظ تاثیر بنتے ہیں تلفظ سے نہیں
اہلِ دِل آج بھی ہیں اہلِ زباں سے آگے
حقیقت یہ ہے کہ کاش کہنے سے بھی کوئی فائدہ نہیں بس ایک اظہار ہے افسوس کا، جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ وقت کے مطابق ڈھال لیں خود کو، کبھی یہ نہ سوچیں کہ آپ کی قابلیت کیا ہے۔ بس یہی حقیقت ہے کہ آپ کسی قابل بھی نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ ’’قابلِ رحم‘‘ بھی نہیں۔ سو اس صورتِ حال میں جو مل جائے اْس پر صبر کریں تا کہ وقت اچھا گزرے۔ ورنہ اس دنیا میں بہت سی قابلیت والے لوگ بھی ذلیل ہو رہے ہیں۔ آپ کیا چیز ہیں جو ایسا سوچیں کہ کچھ قابلِ قدر ملے گا۔ موت تک کیلئے تم محتاج ہو، مرنا چاہو تو مر نہیں سکتے۔ ہر انسان کے اپنے نصیب ہوتے ہیں نصیب سے زیادہ کچھ نہیں اور وقت سے پہلے کچھ نہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جو نصیب کے قائل نہ ہوں ایک وقت آنے پہ وہ بھی نصیب کو مان لیتے ہیں۔

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 سال رواں کے آغاز تک یہ تصور بھی محال تھا کہ سماجی اور معاشی سرگرمیاں پوری دنیا میں محدود ہوجائیں گی۔۔ چند ماہ میں ہی کورونا وائرس کی وباء نے پوری دنیا کے لوگوں کو مجبور کردیا ہے کہ وہ معاشرتی طور پر خود میل جول میں فاصلہ رکھیں اور گھروں سے کام کریں۔
 

 

مزید پڑھیں

 گوگا بنیادی طور پر ایک پہلوان ہے اور اپنے اکھاڑے سے اس کی وابستگی اتنی ہی گہری ہے جتنی اپنے خاندان سے ہے۔ یوں وہ ایک خاندانی پہلوان ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ نہ تو اس کا اکھاڑا رہا ہے نہ ہی خاندان بچا ہے۔ دونوں کی مدتوں پہلے اکھاڑ پچھاڑ ہو چکی ہے۔
 

 

مزید پڑھیں

کورونا وائرس کیا قدرتی آفت ہے؟ یا تخلیق کی گئی مہلک بیماری ہے۔تاہم یہ اٹل حقیقت ہے کہ خالقِ کائنا ت کی طرف سے جب بھی کوئی بیماری نازل کی جاتی ہے توا س کاعلاج بھی اُتارا جاتا ہے ۔
 

 

مزید پڑھیں
`