☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن(طیبہ بخاری ) خصوصی رپورٹ(ڈاکٹر مختار احمد عزمی) متفرق( حامد اشرف) غور و طلب(خالد نجیب خان) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دین و دنیا(ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی) متفرق(حکیم نیازاحمد ڈیال) کلچر(ایم آر ملک) خصوصی رپورٹ(عابد حسین) افسانہ(وقار احمد ملک) دین و دنیا(مفتی محمد وقاص رفیع) کچن کی دنیا دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) کھیل(منصور علی بیگ) متفرق(ڈاکٹرمحمد رمضان عاصی) خواتین(نجف زہرا تقوی)
کورونا وائرس کھیلوں کی گورننگ باڈیز کو ’’قلاش‘‘کردیگا

کورونا وائرس کھیلوں کی گورننگ باڈیز کو ’’قلاش‘‘کردیگا

تحریر : منصور علی بیگ

04-19-2020

  اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ کورونا وائرس پوری دنیا کیلئے کئی اعتبار سے سب سے بڑی آزمائش ثابت ہوا ہے جس نے عام لوگوں کو بیماری کے خطرات سے خوف کا شکار کرنے کے ساتھ ہی معاشی بدحالی سے بھی دوچار کر کے رکھ دیا ہے

 

جو اپنے گھروں میں محصور اس عالمی وباء کے اثرات ختم یا کسی حد تک کم ہونے کے منتظر ہیں لیکن کوئی بھی یہ بات یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اس مصیبت سے جان چھڑانے میں کب تک کامیابی مل سکے گی۔اس مشکل ترین صورتحال میں زندگی کا ہر شعبہ غیر یقینی کی کیفیت میں پھنسا ہوا ہے اور ہر گزرنے والا دن مالی استحکام کیلئے خطرہ بنتا جارہا ہے جس میں کھیلوں سے متعلق گورننگ باڈیز، تنظیمیں، فیڈریشنز، ایسوسی ایشنز اور ان سے منسلک کھلاڑی اور دیگر کوچنگ اسٹاف بھی شامل ہے جس کو اپنے مستقبل کا بھی کوئی علم نہیں کیونکہ کھیلوں کی سرگرمیاں مکمل طور پر ماند ہو جانے کے بعدمالی مسائل نے سر اٹھانا شروع کردیا ہے اور ہر جانب سے تنخواہوں میں کٹوتی ،معاہدوں کی منسوخی اور معاوضوں سے محرومی کی خبریں مل رہی ہیں جبکہ سب سے دردناک صورتحال یہ ہے کہ عالمی کرکٹ پر آئی سی سی کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگی ہے کیونکہ بڑے اور طاقتور ممالک نے بڑے ایونٹس کی میزبانی سے ہاتھ کھینچ کر باہمی سیریز اور لیگز سے پیسہ کمانے پر توجہ مرکوز کردی ہے جس کی وجہ سے گورننگ باڈی کو مستقبل کے ایونٹس کیلئے میزبان کی تلاش میں بھی ناکامی کا سامنا ہے اور قطعی حیران نہ ہوں کہ 2023ء سے لے کر 2031ء کے سائیکل میں میزبانی کے حوالے سے پاکستان،ویسٹ انڈیز،ملائیشیا اور یو ایس اے کنسورشیم کے سوا کسی نے دلچسپی کا اظہار نہیں کیا اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بھارت نے اس معاملے پر جواب دینے کی زحمت بھی نہیں کی جس کی وجہ آئی سی سی سے بعض معاملات پر اختلافات اور ٹیکس سے استثنیٰ جیسے مسائل بھی شامل ہیں۔ انگلینڈ،آسٹریلیا ،نیوزی لینڈاور جنوبی افریقہ کی جانب سے خاموشی نے صورتحال اس حد تک سنگین بنا دی ہے کہ آنے والے برسوں میں شیڈول گلوبل ایونٹس کیلئے موزوں خریدار کا ملنا محال ہو سکتا ہے جس نے آئی سی سی حکام کو بھی مایوسی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے جسے رواں برس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا انعقاد بھی ممکن دکھائی نہیں دے رہا ۔ اگر میگا ایونٹ کو ملتوی یا منسوخ کرنا پڑا تو آئندہ برس بھارت میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا درمیانی عرصہ کم ہو جائے گا جس کے نتیجے میں گورننگ باڈی کو اسپانسر شپ سمیت متعدد مشکلات درپیش ہو سکتی ہیں۔

کرکٹ کی دنیا کے امیر ترین بھارتی کرکٹ بورڈ کو بھی مالی مسائل کے خدشات نے گھیرنا شروع کردیا ہے جہاں آئی پی ایل میں تاخیر نے بھارتی کرکٹرز کو مستقبل قریب میں معاوضوں سے محرومی کا شکار کردیا ہے اور انڈین کرکٹرز ایسوسی ایشن کے سربراہ اشوک ملہوترا کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے باعث مزید نقصانات ہوئے تو ڈومیسٹک کرکٹرز بھی متاثر ہوں گے جن کو فی الحال تو بھارتی کرکٹ بورڈ نے تین ماہ کی تنخواہیں ادا کردی ہیں۔قوانین کے مطابق آئی پی ایل کے آغاز سے ایک ہفتے قبل زیر معاہدہ کرکٹرز کو پندرہ فیصد معاوضوں کی ادائیگی کی جاتی ہے جبکہ ٹورنامنٹ کے دوران 65 فیصد رقم دی جاتی ہے جبکہ باقی رہ جانے والا بیس فیصد معاوضہ پہلے سے طے شدہ وقت کے مطابق ایونٹ کے اختتام کے بعد ادا کیا جاتا ہے لیکن ایونٹ کے شروع ہونے کا کوئی امکان ہی نہیں تو بھارتی کرکٹ بورڈ نے بھی گائیڈلائنز جاری کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ فی الحال کسی کھلاڑی کو معاوضے کی ادائیگی نہیں کی جائے گی کیونکہ آئی پی ایل کے نہ ہونے سے معاشی بدحالی کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر سوراو گنگولی ڈومیسٹک کرکٹرز کی تنخواہوں میں اضافے کیلئے تیار ہیں جو ان کیلئے آئی پی ایل کی طرح منفعت بخش ثابت ہوں گی کیونکہ تنخواہوں میں دو سو فیصد اضافے کے بعد کھلاڑیوں کو سالانہ 50 سے لے کر 70 لاکھ روپے تک مل سکتے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی بھارتی کرکٹ بورڈکے اس اندیشے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اگر رواں سال آئی پی ایل کا انعقاد نہیں ہوسکا تو اسے دو ہزار کروڑ روپے کا بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔واضح رہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے آئی پی ایل کے انعقاد پر غیر یقینی کیفیت کے گہرے بادل منڈلا رہے ہیں کیونکہ 29 مارچ سے شروع ہونے والا ایونٹ 15 اپریل تک موخر کیا گیا لیکن جس وقت یہ سطریں تحریر کی جا رہی ہیں اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ بھارتی ٹی ٹوئنٹی لیگ کا انعقاد ممکن ہو سکے گا کیونکہ بھارت میں 21روزہ لاک ڈاؤن کا خاتمہ ہونے پر بی سی سی آئی حکام فرنچائز مالکان کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھیں گے اور ایونٹ کی قسمت کا فیصلہ کیا جائے گا۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کے حکام سیزن کو مختصر کرنے سمیت کئی آپشنز پر غور کر رہے ہیں تاہم یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جولائی میں یا اس کے بعد سردیوں میں بھی ٹی ٹوئنٹی لیگ کا انعقاد کرایا جا سکتا ہے اور یہ تمام کوششیں آئی پی ایل کی منسوخی کے نتیجے میں بھاری مالی نقصان سے بچاؤ کیلئے کی جا رہی ہیں۔
 بھارت کے برعکس پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام قدرے مطمئن دکھائی دیتے ہیں جنہیں پی ایس ایل کے تکمیل سے قبل خاتمے اور بنگلہ دیش کیخلاف سیریز کے باقی حصے سے محرومی کی صورت میں بھاری مالی نقصان کا خدشہ ہے تاہم چیف ایگزیکٹو وسیم خان ہی نہیں چیئرمین پی سی بی احسان مانی بھی پرامید ہیں کہ آنے والے بارہ سے چودہ ماہ تک انہیں کسی قسم کی مالی مشکلات سے دوچار نہیں ہونا پڑے گا لیکن اس بات سے انکار بھی ممکن نہیں کہ اگر رواں برس پاکستان کی میزبانی میں ہونے والا ایشیاء کپ اور اس کے بعد ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ بھی کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کا نشانہ بن گیا تو پی سی بی کے خزانے پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔وسیم خان کا اپنے ایک حالیہ بیان میں کہنا تھا کہ ان کی اولین ترجیح فی الوقت یہ ہے کہ ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹرز کو تنخواہوں کی ادائیگی کردی جائے جو مالی اعتبار سے مسائل کا شکار ہیں کیونکہ یہ بات اب واضح طور پر سامنے آچکی ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹرز کو کئی ماہ سے تنخواہوں کی ادائیگی ممکن نہیں ہو سکی ہے۔پی سی بی نے اس حوالے سے وضاحت کی ہے کہ نئے آئین کا نفاذ گزشتہ برس اگست میں کیا گیا اور نئے اسٹرکچر کے تحت پلیئرز ستمبر کے مہینے سے تنخواہوں کے اہل ہو چکے تھے البتہ علاقائی سطح پر کھلاڑیوں سے معاہدے چونکہ اس سے قبل کئے گئے لہٰذا پلیئرز کو ستمبر سے نومبر دو ہزار انیس تک تین ماہ کی تنخواہیں ادا کردی گئیں ۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ برس دسمبر سے رواں برس مارچ تک ڈومیسٹک کرکٹرز معاوضوں سے محروم ہیں جن کا مطالبہ ہے کہ انہیں گزشتہ سال جولائی اور اگست کی تنخواہیں بھی ادا کی جائیں جس پر بورڈ ترجمان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ انہیں مذکورہ مہینوں کی تنخواہ بھی ادا کی جائے گی اور پی سی بی ان سے کئے جانے والے ریجنل کنٹریکٹس کی پاسداری کرے گا۔کورونا وائرس کے نتیجے میں پیدا شدہ صورتحال کے باعث ملک بھر میں کھیل کی سرگرمیاں موقوف ہیں اور یہی وجہ ہے آمدنی کے ذرائع محدود ہی نہیں بلکہ ختم ہو چکے ہیں جس کیلئے زیر معاہدہ قومی کھلاڑیوں کی تنخواہوں میں کمی یا کٹوتی کا فی الحال کوئی امکان نہیں لیکن ٹیسٹ کپتان اظہرعلی نے حال ہی میں اس بات کی وضاحت کردی ہے کہ فی الحال بورڈ نے معاہدے بدستور قائم رکھنے کا فیصلہ کیا ہے مگر مالی مشکلات درپیش ہوئیں تو وہ تنخواہوں میں کٹوتی کیلئے بھی تیار ہیں کیونکہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث مالی مسائل سر اٹھا رہے ہیں۔
بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی ایک جانب کورونا وائرس کیخلاف برسر پیکار ہیں جنہوں نے اپنی ماہانہ تنخواہ کا نصف حصہ حکومتی فنڈ میں دینے کا اعلان کردیا ہے جو کم و بیش 25لاکھ ٹکا بنتا ہے جبکہ بی سی بی نے حال ہی میں بارہ کرکٹ کلبوں کے ان 98پلیئرز کو معاوضوں کی ادائیگی کردی ہے جو نیشنل کنٹریکٹ حاصل نہیں کر سکے جبکہ نیشنل ٹیم سے زیر معاہدہ پلیئرز کی تنخواہوں میں کمی کا بھی کوئی پلان نہیں کیونکہ بی سی بی کے چیف ایگزیکٹو  نظام الدین چودھری کا کہنا ہے کہ بی سی بی کی مالی حالت دوسرے ممالک کے کرکٹ بورڈز کے مقابلے میں بہت بہتر ہے لہٰذا وہ کھلاڑیوں کی تنخواہوں میں کٹوتی کے متعلق نہیں سوچ رہے بلکہ حالات کنٹرول ہونے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے بعد بیشتر ممالک کے کرکٹ بورڈز کو شدید مالی نقصانات کا سامنا ہے جس کے سبب پلیئرز کی تنخواہوں میں عارضی کمی یا کٹوتی کرنا پڑ رہی ہے لیکن امید ہے کہ بی سی بی کو ایسے اقدامات کی ضرورت نہیں پڑے گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ مالی حالت کی بہتری کے دعوے کرنے والا بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ گلوبل ایونٹس کی منسوخی کی صورت میں مشکلات کی دہائیاں دینے لگا ہے کیونکہ چیئرمین فنانس کمیٹی اسماعیل حیدر ملک نے انکشاف کیا ہے کہ ایشیاء کپ اورٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا عدم انعقاد مسائل پیدا کرسکتا ہے کیونکہ بی سی بی کی نصف آمدنی بی پی ایل سمیت دیگر ڈومیسٹک ٹورنامنٹس کی مرہون منت ہے جبکہ باقی پچاس فیصد آمدنی کے ذرائع آئی سی سی اور اے سی سی کے ایونٹس ہیں جن کو منسوخ نہ کیا گیا تو ان کی مالیات کو قطعی نقصان نہیں پہنچے گاالبتہ کورونا وائرس کے نتیجے میں عالمی سطح پر معاشی بحران کے پیش نظر سالانہ آمدنی میں بیس سے پچیس فیصد کمی آسکتی ہے جو 40 کروڑ ٹکا بنتی ہے۔
کورونا وائرس کی شدت سے برطانیہ میں مالیات کو شدید دھچکا پہنچا ہے اورا گرچہ گزشتہ دنوں ای سی بی کے چیف ایگزیکٹو ٹام ہیریسن نے اپنی تنخواہ میں پچیس فیصد کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ لارڈز پر موجود دیگر آفیشلز بھی اپنی تنخواہوں میں کمی کریں گے تاہم عالمی وباء کا سامنا کرنے کیلئے ای سی بی کی جانب سے 61 ملین پاؤنڈز کے امدادی پیکج کے اعلان اور دنیا بھر میں کرکٹ کی معطلی کے باوجود ان کا سرفہرست انگلش کرکٹرز کی تنخواہوں میں کٹوتی کا کوئی پلان نہیں تاہم انہوں نے پروفیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹو سے ایک خط میں درخواست کی تھی کہ وہ سینٹرل کنٹریکٹ کے مالک پلیئرز کو تنخواہوں میں کمی پر آمادہ کریں جن کی جانب سے سخت مزاحمت دیکھنے میں آ رہی تھی ۔آل راؤنڈربین اسٹوکس کے علاوہ جو روٹ نے معاوضوں میں کمی یا کٹوتی سے صاف انکار کردیا تھا جبکہ فاسٹ بالر کرس ووکس کا کہنا تھا کہ مالیات اور معاوضوں میں کمی جیسے نازک موضوع پر بات کرنا درست نہیں کیونکہ یہ ایک الجھا ہوا معاملہ ہے مگر شدید عوامی دباؤ کے سامنے انگلش پلیئرز نے گھٹنے ٹیک دیئے جب انہوں نے کورونا وائرس سے مقابلے کیلئے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کو پانچ لاکھ پاؤنڈز کا عطیہ دینے کا اعلان کردیا جبکہ ویمن ٹیم کی کھلاڑیوں نے بھی اپریل تا جون تین ماہ تک تنخواہوں میں کٹوتی پر آمادگی ظاہر کردی تاکہ انگلش کرکٹ کی مالیات کو مستحکم کیا جا سکے جہاں انگلش کاؤنٹیز کو مقابلوں کی انعامی رقم تنخواہوں کیلئے استعمال کرنے کی مجبوری درپیش ہے۔ ای سی بی کے چیف ایگزیکٹو ٹام ہیریسن کی جانب سے تنخواہوں میں رضاکارانہ طور پر 20 فیصد کمی کی ابتدائی درخواست پروفیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشن نے سنی ان سنی کردی تھی تاہم مختصر فارمیٹ کے انگلش کپتان اوئن مورگن اور کچھ دیگر پلیئرز نے یہ معاملہ اپنے ہاتھوں میں لے کر ایک بڑا مسئلہ حل کردیا اور اب تمام زیر معاہدہ کرکٹرز تین ماہ تک اپنی تنخواہوں سے بیس فیصد رقم ای سی بی کو دیں گے جسے مالی استحکام کیلئے مختلف آپشنز پر غور کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ کاؤنٹی کرکٹ سمیت ملکی سطح پر تمام ایونٹس پر عدم انعقاد کے بادل چھا چکے ہیں اور انگلش کاؤنٹی سرے نے آسٹریلین پیسر مائیکل نیسر اور گلوسیسٹرشائر نے بھارتی بیٹسمین چتیشور پجارا کا معاہدہ ختم کردیا ہے جبکہ آسٹریلین آف اسپنر نیتھن لیون نے سیزن موخر ہوجانے کے باعث ہمپشائر سے ڈیل از خود ختم کردی ہے ۔
دنیا بھر کے مشہور فٹ بال کلبوں نے بھی اپنے پلیئرز کے معاوضوں میں کمی کے ساتھ تنخواہوں میں کٹوتی کے فیصلے کئے ہیں اور ٹینس کے پلیئرز بھی سیزن کی معطلی کے باعث دیگر ذرائع آمدنی تلاش کر رہے ہیں لیکن شدید مالی بحران کے باوجود بھی اسے ایک خوشگوار پیشرفت کہا جا سکتا ہے کہ گرینڈ سلم ایونٹ ومبلڈن کا اہتمام کرنے والی آل انگلینڈ لان ٹینس ایسوسی ایشن کو عالمی وباء کی انشورنس کی مد میں 141ملین پاؤنڈز کی خطیر رقم ملنے والی ہے جس سے اس کے ومبلڈن کی منسوخی سے ہونے والے کم بیش نصف نقصان کی تلافی ہو جائے گی۔سارس وائرس کی وباء کے وقت آل انگلینڈ لان ٹینس کلب نے وبائی امراض کے نتیجے میں ومبلڈن کا انشورنس کرایا تھا جس کے تحت گزشتہ سترہ برس کے دوران اسے دو ملین پاؤنڈز سالانہ کی ادائیگی کرنا پڑی لیکن 34ملین پاؤنڈز کے عوض بھاری رقم کی وصولی نے دیگر کھیلوں کے منتظمین کو بھی اس بات پر مجبور کردیا ہے کہ وہ بھی مالی صدمے سے بچاؤ کیلئے ایونٹس کی انشورنس کا سہارا لیں کیونکہ رواں برس متعدد گلوبل ٹورنامنٹ کا عدم انعقاد کھیلوں کی گورننگ باڈیز کو ہی نہیں بلکہ ان سے منسلک تمام اسٹیک ہولڈرز کو مالی اعتبار سے بڑا جھٹکا پہنچائے گا جن کو سنبھلنے میں کافی عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔
 
 
 
 

مزید پڑھیں

یہ 1987ء کے ورلڈ کپ کا واقعہ ہے۔ لاہور میں پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین سیمی فائنل میچ ہو رہا تھا۔ اس وقت آسٹریلیا کی ٹیم زیادہ تر نئے کھلاڑیوں پر مشتمل تھی لیکن پھر بھی اس نے کافی اچھی کارکردگی دکھائی تھی۔
 

 

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

جاوید میانداد (سابق کپتان ، پاکستان کرکٹ ٹیم)
سابق ٹیسٹ کرکٹر جاوید میانداد کہتے ہیں کہ بچپن کی باتیں زیادہ یاد تو ن ہیں لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ نماز عید بہت اہتمام سے ادا کیا کرتے تھے ۔ پھر زیاد ہ وقت چونکہ کرکٹ کو ہی دیا اور کم عمری میں ہی کرکٹ کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا اس لئے عید سے اتنی یادیں وابستہ نہیں کیونکہ کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے زیادہ عرصہ باہر عیدیں گزریں اور کائونٹی کرکٹ کی وجہ سے انگلینڈ میں وقت گزرا، وہاں پر عید کا جوش و خروش نہیں ہوتا تھا۔ لیکن یہ ہے کہ بچپن میں ہمارے وقت میں چاند رات کو اتنا جاگنا نہیں تھا جتنا اب ہے اور بچے نوجوان چاند رات کے علاوہ بھی رات دیر تک جاگتے رہتے ہیں ۔ ہمارے وقتوں میں رات کو جلدی سونے کی عادت تھی اور صبح جلدی اٹھا جاتا تھا۔ لیکن اب نوجوان موبائل پر رات گئے تک لگے ہوتے ہیں ۔

بچوں کا دارومدار والدین پر ہوتا ہے ، والدین اگر چاہیں تو بچوں کی تربیت اچھی ہوسکتی ہے۔ہمارے والدین نے ہماری ایسی تربیت کی کہ ہم غلط طرف جاہی نہیں سکے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو رات کو جلدی سونے کا عادی بنائیں۔ جہاں تک کورونا میں عید منانے کا تعلق ہے تو عید ایک اسلامی تہوار ہے اور اصل چیز نماز عید ہے ۔ ہر چیز ایک اصول کے تحت ہوتی ہے ۔جب آپ اصول کو توڑیں گے تو خرابی پیدا ہوگی۔سابق لیجنڈ کرکٹر جاوید میانداد کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک میرا عید کا دن گزارنے کی بات ہے تو نمازعید پڑھنے کے بعد رشتہ داروں ، احباب سے ملنا جلنا ہوتا ہے اور زیادہ وقت گھر میں ہی گزرتا ہے ۔ کپڑوں کا بھی کوئی خاص اہتمام نہیں کرتا جو پہننے کو مل جائے پہن لیتا ہوں۔ اس سوال کے جواب میں کہ بچوں کو عیدی دیتے ہیں کہنا تھا کہ ظاہر سی بات ہے کہ بچوں کو عیدی تو ضرور دینا پڑتی ہے یہ موقع ہی ایسا ہوتا ہے۔ جاوید میانداد نے 1992ورلڈکپ کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ورلڈکپ بھی رمضان میں آیا تھا اور کئی کھلاڑی روزے رکھتے تھے کئی نہیں بھی رکھتے تھے ۔ یہ اللہ اور بندے کا معاملہ ہے ۔

مزید پڑھیں

کورونا وباء نے جہاں دنیابھر میں دیگر شعبوں کو تباہی کے دہانے پرپہنچادیا وہیں کھیلوں کے میدان بھی بدستور ویران ہیں،لاک ڈائون سے کاروباری طبقے کی طرح کھلاڑی اورسپورٹس آفیشلز بھی سخت پریشان ہیں ، ان حالات میں اتھلیٹس نے خودکو فٹ رکھنے کیلئے گھروں میں ہی مشقیں شروع کررکھی ہیں جبکہ آن لائن سرگرمیوں سے مصروف رہنے کے طریقے ایجاد کرلئے ہیں،  

مزید پڑھیں

 جاوید میانداد اور عرفان پٹھان کا تنازعہ
بھارتی فاسٹ بائولر عرفان پٹھان نے ایک انٹرویو میں ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایاکہ مجھے یاد ہے جاوید میانداد نے میرے بارے میں کہا تھاکہ عرفان پٹھان جیسے بائولرز پاکستان کے ہر گلی محلے میں ملتے ہیں۔ میرے والد نے اس خبر کو پڑھا تھا، یہ پڑھنے کے بعد انہیں بالکل بھی اچھا نہیں لگا تھا۔

مزید پڑھیں
`