☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا شخصیت عالمی امور سنڈے سپیشل یوم عاشور کچن کی دنیا صحت تحقیق غور و طلب تاریخ
برطانیہ میں پارلیمینٹ کی معطلی جمہوریت کی ناکامی یاآمرانہ ذہن کی علامت ؟

برطانیہ میں پارلیمینٹ کی معطلی جمہوریت کی ناکامی یاآمرانہ ذہن کی علامت ؟

تحریر : محمد ندیم بھٹی

09-08-2019

جن ممالک میں جمہوریت نے جنم لیا ہے اب ان ہی ممالک میں جمہوریت کو لپیٹنے کا عمل بھی جاری ہے،بھارت سے برطانیہ تک جمہوریت خطرے میں ہے۔بھارت میں سوا کروڑ کشمیریوں اور 17کروڑ مسلمانوں کی زبان بندی ہے۔عالمی برادری نے حقوق سے محرومی کوجاری رکھنے کے لئے بھارت کو این او سی بھی دے دیا ہے۔

جن کے نزدیک لاکھوں انسانوں کی قید بھارت کا داخلی معاملہ ہے۔ رہا جنیوا کنونشن ، تو اسے کلبھوشن جیسے جاسوسوں کے لئے ہی مخصوص کر دیا گیا ہے۔ان ممالک میںعام آدمی کے حقوق کو تحفظ دینا جنیوا کنونشن کا مقصد نہیں رہا۔ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے 28اگست کوملکہ کو ایک خط ارسال کیا ،جس میں انہوں نے پانچ ہفتوں کے لئے پارلیمینٹ کی معطلی کا اختیار مانگا۔ملکہ نے وزیر اعظم کو یہ اختیار دے دیا۔ اس فیصلے سے پارلیمینٹ 9ستمبر سے 14اکتوبر تک معطل ہو سکتی ہے۔سچ تو یہ ہے کہ ملکہ کے پاس منظوری کے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ بظاہر وہ ملکہ ہیں لیکن وہ جھانسی کی رانی کی طرح خود سے فیصلے کرنے کی مجاز نہیں ہیں۔جس قدر صاحب اختیار تاش کے پتوں کا بادشاہ ہے اسی قدر طاقت ور ملکہ برطانیہ بھی ہیں۔اول تو انہیں مسترد کرنے کا اختیارہی حاصل نہ تھا ، اگر وہ درخوست روک بھی لیتیں تو اس سے کہیں زیادہ بڑا اورسنگین بحران جنم لے سکتا تھا۔یاد رہے،سابق وزیر اعظم جان میجر بھی اپنے مفاد کی خاطر 1997ء میں پارلیمینٹ کومعطل کر چکے ہیں ، اس بار وہ بورس جانسن کے خلاف ہیں۔ایک ا ور سابق وزیر اعظم گارڈن برائون بھی اس فیصلے کے خلاف میدان میں آگئے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ’’آئین کے بخیے ادھیڑنے سے ملک ٹوٹ سکتا ہے۔اس سے برطانیہ میں دو قومی نظریہ سامنے آگیا ہے۔سکاٹ لینڈ اب دو قوموں کے درمیان ٹریپ ہو گیا ہے‘‘۔

بورس جانسن تنقیدی نشتروں سے پریشان نہیںہیں،بورس جانسن نے اسے جمہوریت کا سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بریگزٹ کے راستے میں حائل تمام رکاوٹیں دور ہوجا ئیں گی، اور یہ پیچیدہ مرحلہ کسی مشکلات سے دوچار ہوئے بغیر آسانی سے طے کر لیا جائے گا۔ان کا کہناہے کہ پارلیمینٹ کی وجہ سے وہ غیر ضروری کاموں میں الجھے ہوئے تھے اب وہ عوامی مسائل حل کرنے کے لئے دل جمعی کے ساتھ کام کر سکتے ہیں، اب انہیںصحت اورتعلیم کی فراہمی ،تشدد اور جرائم سے نمٹنے کیلئے کافی وقت مل جائے گا۔ جبکہ پارلیمینٹ کو بھی دوبارہ فعال ہونے کے بعد بریگزٹ پر غور کے لئے کافی وقت مل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمینٹ توڑی نہیں کی گئی صرف پانچ ہفتے اجلاس نہیں بلا سکے گی ۔انہوں نے کہا کہ یہ ایوان 31اکتوبر کو ہونے والے بریگزٹ سے 17دن پہلے، 14اکتوبر کو بحال ہو جائے گا۔وہ چاہتے ہیں کہ نوڈیل بریگزٹ کے فوراََ بعداگلے عام انتخابات کا اعلان کر دیں۔پھر جو ہو گا دیکھا جائیگا۔وہ 17ستمبر کو یورپی یونین کے اجلاس میںنئی ڈیل پر بات کرنا چاہتے ہیں ۔ ناکامی کی صورت میں نو ڈیل ہی چلے گی ۔اگر یورپی یونین برطانوی وزیر اعظم کے ساتھ کسی ڈیل پر رضامندہوگئی تو پھر بورس جانسن یہ ڈیل اپنے ایوان میں 21یا 22اکتوبر کو پیش کریں گے ۔اگربرطانوی ایوان راضی نہ ہوا تو پھر نو ڈیل پر ہی عمل ہو گا۔اس ضمن میں ہر جماعت میں بغاوت ہو رہی ہے، ہر جماعت کے بعض ارکان ہر صورت میں بریگزٹ چاہتے ہیں ،اوربورس جانسن ان ارکان کی حمایت سے ہی اپنے مشن میںکامیاب ہوناچاہتے ہیں۔ 

اس کے برعکس کچھ ارکان معاہدہ کر کے ہی الگ ہونے کے حق میں ہیں،مگر پارلیمینٹ کسی معاہدے پربھی تو آمادہ نہ تھی۔اسی پارلیمینٹ نے سابق وزیر اعظم تھریسامے کی تجاویز کو تین مرتبہ مسترد کرکے انہیں مشکل میں ڈال دیا تھا ، جس کے بعد انہوں نے استعفیٰ دے کربریگزٹ سے جان چھڑائی ۔بورس جانسن صدر ٹرمپ کی طرح مقبول شخصیت ہیںلیکن مشکلات کا پہاڑ تو ان کے سامنے بھی دکھائی دے رہا ہے۔ہمیں تھریسامے کا استعفیٰ بھی نہیں بھولنا چاہیے۔اس کی وجہ بھی پارلیمینٹ ہی تھی۔ وزیر اعظم جانسن کی سب سے بڑی یہی غلطی ہے کہ انہوں نے اپنی ہی پارٹی کو تقسیم اور قوم کو متحد کر دیا ہے۔50سے زائد نامورارکان پارلیمینٹ نے اگلے چند ہفتوں میں مسلسل بریگزٹ پر بحث کے لئے ’’متبادل پارلیمینٹ‘‘کا اجلاس بلانے کی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔ بریگزٹ پر بحث کے لئے کنزرویٹیو پارٹی، گرین پارٹی، لبرل ڈیموکریٹس،چینج یوکے، لیبر پارٹی اورایس این پی نے آپس میں بحث جاری رکھنے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے جو حکمران جماعت میں واضح انتشار کی علامت ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ وہ پارلیمینٹ کی عمارت میں ہی اپنا اجلاس بلائیں گے۔ اپنے ایک خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ ’’حکومت کو قومی بحران کاتجزیہ روکنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔وزیر اعظم نو ڈیل کے ذریعے یورپی یونین سے الگ ہونا چاہتے ہیں مگر اس صورت میں ہمارے لئے نوکریوں،سلامتی اورمیعار زندگی جیسے چیلنج پیدا ہو جائیں گے۔یہ دراصل ’غیر آئینی بغاوت‘ ہے۔ وہ اپنے سیاسی مفاد کی خاطر یہ سب کچھ کر رہے ہیں ‘‘۔انہوں نے اعلان کیا کہ اگر وزیر اعظم نے اجلاس روکنے کے لئے ویسٹ منسٹر کی عمارت کو تالے لگا دیئے تو یہ اجلاس کہیں اور بلا لیا جاے گا۔جیساکہ چرچ ہائوس میں بھی ایک اجلاس ہو چکا ہے۔اس اجلاس نے بھی ہائوس آف کامنز کے اجلاس میں رکاوٹ ڈالنے کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔اس ضمن میں ہیش ٹیگ ’’Stopthecoup‘‘ کے ساتھ مہم اور مظاہر ے بھی شروع کر دیئے گئے ہیں۔ 

 حکمران جماعت کے ارکان بھی اپنے وزیر اعظم کی مخالفت میںکمر بستہ ہو گئے ہیں۔ اس فیصلے سے حکمران جماعت میں بھی اختلاف رائے پیدا ہو گیا ہے ۔کئی وزراء اور ارکان نے پارلیمینٹ کی معطلی کو عوامی امنگوں کے منافی قرار دیا ہے ۔سپیکر جان برکو (John Berco) نے بھی وزیر اعظم کے اس فیصلے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیاہے۔وہ اپنی فیملی ٹرپ پر تھے کہ انہیں یہ دھماکہ خیز ملی۔ہیلتھ منسٹر میٹ ہین کک نے اسی جون میں کہاتھا کہ پارلیمینٹ کی معطلی سے جمہوریت کے لئے دی جانیوالی والی تمام قربانیاں رائیگاں جائیں گی۔ 21 صدی میں وزیراعظم کو اس قسم کی غیر سنجیدہ پالیسی اختیار نہیںکرنا چاہیے۔ کسی نے کہا ،یہ فیصلہ آئینی بغاوت سے کم نہیں،اب نئی سیاسی جنگ شروع ہو چکی ہے۔سکاٹش کزنور ویٹو پارٹی کی رہنما رتھ ڈیوڈسن اس فیصلے سے اس قدر نالاں ہیں کہ انہوں نے ٹوری پارٹی چھوڑدی ہے۔نکولہ سٹرجیون نے بھی دوٹوک لفظوں میں کہا کہ ہے اگر رتھ ڈیوڈسن کی پارٹی کی رہنما ہی ان کے ساتھ نہیں ہیں تو ہمیں کیا پڑی ہے کہ ان کی مدد کرتے پھریں، انکا ساتھ دیں۔ انہوں نے بھی بورس جانسن کا ساتھ نہ دینے کا علان کیا ہے۔

اپوزیشن لیڈر جیئرمی کاربن کو بھی ہمارے اپوزیشن لیڈروں کی طرح بولنے کا موقع مل گیا ہے ،انہوں نے کہا ہے کہ ’’وزیر اعظم بورس جانسن نے ملکہ سے عوامی خواہشات کا خون کروا دیا ہے۔وزیر اعظم نے عوام کے ہی منتخب کردہ ہائوس آف کامنز کے ارکان کو بریگزٹ کے بارے میں عوامی خواہشات کے اظہار سے روک دیا ہے۔یہ غیر آئینی اقدام ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ہے کہ جب ملکہ کو سیاست میں گھسیٹا گیا ہے تو کیوں نہ وہ بھی ان سے آدھی ملاقات کرڈالیں۔ اس میں حرج ہی کیا ہے۔اپوزیشن لیڈر نے بھی ملکہ سے ملاقات کا وقت مانگ لیا ہے ۔ اگر ان کی کوششیںکامیاب ہو گئیں تو اسی سال اکتوبر میں اگلے عام انتخابات بھی ہو سکتے ہیں ۔کیونکہ جیسے ہی پارلیمینٹ کا اگلا اجلاس ہو گا ،وہ بورس جانسن کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کامنصوبہ بنا رہے ہیں۔یہ بھی ہو سکتاہے کہ 31اکتوبر کو بریگزٹ سے پہلے ہی بورس جانسن کی بھی چھٹی ہو جائے ۔اغلب امکان یہی ہے کہ ہائوس آف کامنز اپنی میعاد پوری نہیں کر پائے گا، اسے وقت سے پہلے جاناپڑے گا!۔اگر ایسا ہو گیا تو ایک بریگزٹ کی وجہ سے دو وزرائے اعظم کی چھٹی برطانوی تاریخ کا ناقابل فرموش اور انوکھا واقعہ ہو گا۔سات لاکھ افراد نے پارلیمینٹ کا اجلاس جاری رکھنے کی پٹیشن پر سائن کر دیئے تھے جسے وزیر اعظم نے کوئی اہمیت نہیں دی۔

یورپی یونین کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک پہلے ہی برطانیہ کو بریگزٹ کئے لئے چھ ماہ کی چھوٹ دے چکے ہیں اب وہ مزید وقت دینے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ انہوں نے برطانیہ میں پیدا ہونے والی نئی سیاسی ہل چل کے پیش نظر کہا ہے کہ اب مزید وقت نہیں ملے گا، جو ہے اسے ضائع نہ کیا جائے۔لیکن یورپی یونین یہ بھی کہہ چکا ہے کہ بریگزٹ کی مدت میں توسیع صرف اسی صورت میں مل سکتی ہے جب برطانیہ میں نئے انتخابات یا نیا ریفرنڈم ہو۔اس لئے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بورس جانسن خود بھی اس بات کے حق میں ہیں کہ نئے انتخابات ہو جائیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم نے تمام دروازے بند کر کے ہائو س آف کامنز (یا اپوزیشن )کوتحریک عدم اعتماد کی جانب دھکیل دیا ہے۔انہوں نے اپوزیشن کو موقع دیا ہے کہ وہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائیں جس سے حکمران جماعت میں بھی پھوٹ پڑ جائے گی ، سیاسی گرمام گرمی میں ہائوس آف کامنز ٹوٹ بھی سکتی ہے جس سے نئے انتخابات کا راستہ ہموار ہو جائے گا۔2011ء کے Fixed Term Parliamnent Act کے مطابق اکثریت حاصل ہونے کی صورت میں عبوری حکومت بن سکتی ہے۔جو بریگزٹ کی ڈیڈ لائن میں توسیع کی درخواست دے کر تحلیل ہو جائے گی جس کے بعد یورپی یونین کے پاس مدت میںاضافے کے سوا کوئی چارہ ہی نہ ہوگا۔کچھ لوگوں کی رائے میں بورس ایسا کچھ نہیں کریں گے، وہ خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں گے ،اور ان کا رویہ کچھ ایسا ہو گا کہ’’ جو ہوگا دیکھا جائے گا‘‘۔ 

ایک اور منظر نامہ بھی ہو سکتا ہے ۔ بحالی کے فوراََ بعد پارلیمینٹ ’’نوڈیل بریگزٹ ‘‘کے خلاف قانون سازی بھی کر سکتی ہے جس سے بورس جانسن کوئی نہ کوئی فارمولہ بنانے کے پابند ہو جائیں گے مگر اس کے لئے یورپی یونین کا متفق ہونا بھی لازمی ہے جو پہلے ہی برطانیہ کی کئی تجاویز کو ٹھکرا چکی ہے۔وقت کم رہ گیا ہے اب کسی ایسی ڈیل کی تیاری کا امکان کم ہے، جس پر یورپ اور برطانیہ متفق ہوں۔

یہ معاملہ عدالتوں میں بھی جا چکا ہے جہاں اب تک وزیر اعظم بورس جانسن کو ہی کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔70سے زائد ارکان نے معطلی کے خلاف سکاٹ لینڈ کی عدالت سے رجوع کیا تھا مگرعدالت نے کہا ہے کہ وہ اس ضمن میںکوئی حکم امتناعی جاری نہیں کرسکتے ۔کئی ارکان نے ’’اڈنبر اکورٹ آف سیشنز سے بھی رجوع کر لیا ہے۔ اس تحریر کے منظر عام پر آنے تک ان کا فیصلہ بھی شائد آ چکا ہو۔

 یورپی یونین نے متذکرہ فیصلے کو آمرانہ قراردیا۔

اس وقت سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ 31اکتوبر کو رات کو گیارہ بجے برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد کیا ہو گا؟نظام کیسے چلایا جائے گا؟ اس بارے میں اب تک کوئی فیصلہ ہی نہیں ہو سکا۔دوسرے لفظوں میں کروڑوں افرد بے چینی اور بے یقینی کا شکار ہوں گے۔بریگزٹ کے وقت برطانیہ میں بڑے پیمانے پر معاشی تبدیلیوں نے جنم لیا تھا ، کئی علاقوں میں روایتی انڈسٹری ختم ہو گئی تھی ۔ لندن میں روزگا ر کے لاکھوںمواقع پیدا ہوئے تھے ، اب تاریخ کا پہیہ الٹا چلے گا تو لندن میں جو لاکھوںمواقع پیدا ہوئے تھے وہ ختم ہو سکتے ہیں، یوں وہاں بے روزگاری کا طوفان آ سکتا ہے جس کے بارے میں کچھ نہیں سوچا گیا۔ دوسرے ممالک میں زیر تعلیم لاکھوں بچوں کا کیا بنے گا؟اسی طرح برطانیہ میں مقیم یورپی میں مقیم یورپی باشندوں کا کیا بنے گا،برطانوی وزرات داخلہ تیس لاکھ یورپی باشندوں میں سے دس لاکھ کو برطانیہ میں رہنے کا اجازت نامہ دنیے کو تیار ہے ان میں سے سات لاکھ کو اجازت ملی ہے۔ اگرچہ برطانیہ نے لاکھوں یورپی باشندوں سے کہا ہے کہ بریگزٹ سے وہ متاثر نہیں ہوں گے، مگر پچھلے ہی دنوں 31برس قبل فرانس سے آنے والے بیکری شاپ کے مالک رچرڈ برٹی ننٹ کو ایک خط ملا کہ برطانیہ میں رہنے کے معیار پر پورا نہ اترنے پر اسے واپس جانا پڑے گا ، وہ پانچ سال کے اندر اندر دوبارہ بھی درخواست دے سکتا ہے ۔اٹلی سے نوجوانی میں برطانیہ آنے والی بوڑھی اینا اماتو کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوا ہے۔اسے بھی خط ملا ہے کہ وہ برطانیہ میںرہنے کے میعار پر پوری نہیں اترتی۔یوں دوسری بڑی نقل مکانی برطانیہ اور یورپ کے درمیان ہوگی جس میں کئی درجن لاکھ افراد ملک سے دوسرے ملک میں جائیں گے، کہیں ملازمتوں کی گنجائش پیدا ہو گی اور کہیں بحران پیدا ہوگا ۔یوں دوسری بڑی نقل مکانی برطانیہ اور یورپ کے درمیان ہوگی جس میں کئی درجن لاکھ افراد ملک سے دوسرے ملک میں جائیں گے، کہیں ملازمتوں کی گنجائش پیدا ہو گی اور کہیں بحران پیدا ہوگا ۔

 

پارلیمینٹ کو تالا لگاتے ہی عوام میں غم و غصہ دوڑ گیا:میڈیا

برطانوی اخبارگارجین کی سرخی تھی کہ ’’بورس کی جانب سے پارلیمینٹ کو تالا لگاتے ہی عوام میں غم و غصہ ‘‘۔اخبار نے اس فیصلے کو ’’جمہوریت کا قتل ‘‘سے تعبیر کرتے ہوئے لکھا کہ’’ پارلیمینٹ کی پانچ ہفتوںکے لئے معطلی جمہوریت ختم کرنے کے مترادف ہے، اسے جمہوریت کے قتل کے سوا اور کوئی نام نہیں دیا جا سکتا ‘‘۔ اخبار کے مطابق ’’اس جرات مندانہ اقدام سے بریگزٹ کے خلاف ٹوریوں کی مزاحمت کمزور پڑ جائے گی۔’’دی سن‘‘ نے بہترین سرخی کا انعام بھی حاصل کر لیا تھا سرخی تھی۔۔۔۔(Hey Big Suspender)۔ذیلی سرخی تھی کہ’’بورس بھی کمر بستہ ہو گئے۔کل ہی انہوں نے اپنے باقی ماندہ مخالفین کو چت کر دیا ہے‘‘۔جریدے ’’مرر‘‘نے پارلیمینٹ کی معطلی کو آمرانہ اقدام قرار دیا۔اخبار نے لکھا کہ نو ڈیل بریگزٹ برطانوی نظام ہیلتھ کی خود کشی کی مترادف ہو گا۔اخبار کو اس بات پر بھی غصہ تھا کہ وزیر اعظم نے اس جنگ میں ملکہ کو کیو ںشامل کیا۔

’’ڈیلی میل ‘‘نے لکھا۔۔۔بورس نے دستانے اتار لئے،مکہ دکھا دیا۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق بورس جانسن کی جانب سے بریگزٹ کو بچانے کے لئے پارلیمینٹ کو تالا لگاتے ہی طوفان کھڑا ہو گیا۔دی ٹائمز نے وزیر اعظم کی سیاہ تصویر لگاتے ہوئے کیا خوب لکھا کہ جانسن نے سکوت توڑ دیا ، برطانیہ کو آئینی بحران کی دلدل میں دھکیل دیا۔

’’دی ٹیلی گراف ‘‘سے بورس جانسن کئی سال بطور کالم نگار منسلک بھی رہے ہیں، اس اخبار نے اپنے سابق کالم نگار کے لئے مناسب سے انداز میں لکھا کہ ’’وزیر اعظم کو رائے عامہ کا احترام کرنا چاہیے۔ کچھ ارکان پارلیمینٹ بریگزٹ کو خراب کرناچاہتے تھے۔آئینی بحران پر قابو پانے کے لئے یہ فیصلہ ضروری تھا۔’’ٹیلی گراف‘‘ کی طرح لیڈر آف دی ہائوس بھی بورس کی مدد کو آگئے ہیں۔یہ ایک طاقت ور آواز ان کے حق میں اٹھی ہے۔جیکب ریس موگ نے ناقدین کو یاد کرایا کہ عوام نے ہی اپنے ووٹوں کے ذریعے بورس کو بریگزٹ کرنے کا اختیار دیا ہے اب وہ اس سے پھر نہیں سکتے۔ سکاٹ لینڈ کے ایک بڑے اخبار نے نکولہ سٹرجیون کے بیان سے ہی خبر نکالتے ہوئے لکھاکہ ۔۔۔۔۔۔یہ وہ دن ہے جب آزادی ناگزیر ہو گئی ہے۔اخبار نے اسے جمہوریت کے لئے سیاہ دن قرار دیا۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

سامراجیت کے آلہ کارمغرب نواز سیکولر لبرل مسلمانوں، یورپی امریکی میڈیا ہاوسز اور سرمایہ دار کمپنیوں کے مالک یہودیت کے علمبرداروں نے اس ...

مزید پڑھیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا بھر کی متنازعہ شخصیات میں سے ایک ہیں۔2016 کے صدارتی انتخابات سے قبل دنیا انہیں ایک کاروباری شخصیت سے تعبیر کرتی ...

مزید پڑھیں

8جولائی 2019کو قطر میں عروج پر پہنچنے والے ’’امریکہ طالبان مذاکرات‘‘نائن الیون سے صرف چار دن پہلے اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں۔ ا ...

مزید پڑھیں