☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل عالمی امور غور و طلب فیشن سنڈے سپیشل خواتین کھیل فیچر صحت انٹرویوز طنزومزاح کچن کی دنیا
کیاافغانستان میں کچھ خطرناک ہونے والا ہے؟

کیاافغانستان میں کچھ خطرناک ہونے والا ہے؟

تحریر : محمد ندیم بھٹی

09-22-2019

8جولائی 2019کو قطر میں عروج پر پہنچنے والے ’’امریکہ طالبان مذاکرات‘‘نائن الیون سے صرف چار دن پہلے اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں۔ افغانستان میں ایک امریکی فوجی کے مارے جانے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے پوری قوم کو چونکا دینے والا بیان 7ستمبر 2019کو دیا۔

نوبت یہاں تک آ گئی کہ امریکہ نے بلا حیل وحجت کہہ دیا ہے کہ ’’ ہر صورت میںطے شدہ شیڈول پر امریکی فوجیں واپس بلا لی جائیں گی ، پانچ فوجی اڈوں میں قائم جیلیں ختم کر کے ہزاروں(شائد آٹھ ہزار ) طالبان افغان حکومت کے حوالے کردیئے جائیں گے۔

پھر جو ہو گا دیکھا جائے گا‘‘۔ افغان حکومت انہیں کنٹرول میںرکھ سکے گی یا نہیں؟ اس کا جواب دینا ابھی مشکل ہے، افغان حکومت کے پاس کوئی ہائی سکیورٹی جیل نہیں ہے۔لہٰذا طالبان کے فرار ہونے کا بھی اندیشہ ہے ،ان کے قید خانے طالبان حملوں کی زد میں رہیں گے ۔صدر ٹرمپ نے ٹوئٹ میں واضح کر دیا ہے کہ’’امریکی فوج افغانستان میں پولیس کی ڈیوٹیاں سرانجام ہر گز نہیں دے گی‘‘۔ طالبان کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ میں خفیہ مذاکرات کی تجویز منظر عام پر آنے سے شور مچ گیا ہے۔اگر خفیہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے تو ٹرمپ خود کو امن کے نوبل انعام بھی حقدار گردانتے ۔ جیسا کہ اوسلو معاہدے کے بعد پی ایل اوکے سربراہ یاسر عرفات کو دو اسرائیلی رہنمائوں کے ساتھ امن کا نوبل انعام مل گیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ بھی شائد اسی موڈ میں تھے، مگر غبارے سے اس وقت ہوا نکل گئی جب انہوں نے منگل کے روز مذاکرات کے ’’ڈیڈ‘‘ہونے کا اعلان کیا ۔اگرچہ مذاکرات کی تنسیخ کے فوراََ بعد طالبان نے مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا ہے مگر انہیں امریکہ نے خاطر خواہ جواب نہیں دیا۔2020ء تک تما م فوجی واپس بلا لئے جائیں گے۔دراصل امریکہ کو یہ جنگ بہت مہنگی پڑ رہی ہے کیونکہ 2001ء سے2019ء تک 950 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔ بعض امریکی مبصرین کے مطابق 2020ء میں امریکی فوجوں کی مکمل واپسی کے بعد شائد ملک کا نیا نام ’’سلطنت اسلامیہ افغانستان ‘‘رکھ دیا جائے۔طالبان دور میں یہی نام مستعمل تھا۔

یہ بیان امریکہ کو درپیش مشکلات کی نشاندہی کرتا ہے مگر اس بیان نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیاہے۔اقوام عالم دہشت گردی کی نئی ممکنہ لہرسے خوف زدہ ہیں۔ذرا سوچئے کہ ہزاروں جنگی قیدیوں کی منتقلی سے کیا کچھ ہو سکتا ہے؟اس سے پورے خطے کا امن و امان تہ و بالا ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجودمذاکرات کی ناکامی پر بھارت میں خوشی کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں، ان کے خیال میں پاکستان کو جوکردار مل سکتا تھا وہ ا ب نہیں ملے گا۔بھارت چونکہ امریکہ کی گود میںہے ،اسے امریکی فوج کی واپسی پر کردار ملنے کی امید ہے ۔

امریکہ سے مذاکرات ختم ہوتے ہی طالبان نے روس میں ڈیرے ڈال لئے ہیں ،جہاں مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے۔ روس انہیں کچھ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے لیکن ماضی میں جب بھی امریکہ طالبان مذاکرات میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوئی تو چین اور روس ،دونوں نے ہی اس کی مدد کی تھی۔اس لئے کہا جا سکتا ہے ان مذاکرات کا فائدہ بھی امریکہ کو ہی ہو گا۔روس سے مذاکرات شروع ہوتے ہی امریکی وزیر خارجہ پومپیو نے بھی مذاکرات کے دروازے کھول دیئے۔انہوں نے کہا کہ فوری طور پر تو نہیں ، چند مہینوں کے بعد دوبارہ مذاکرات کا آغاز ہو سکتا ہے۔جامع اور ٹھوس تجاویز کی صورت میںامریکہ بھی طالبان سے مذاکرات کر سکتا ہے۔

 امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیواور زالمے خلیل زاد امریکہ افغان مذاکرات کے زبردست حامی ہیں جبکہ جان بولٹن مذاکرات میں روڑے اٹکانے والوں میں سرفہرست تھے۔وہ ہر موقع پر امریکہ کو طالبان اور افغانستان سے ڈراتے رہتے تھے۔ اسی لئے صدر نے اپنے ساتھ چلانے میں ناکامی کے بعد جان بولٹن سے جان چھڑالی ہے۔امریکی صدراس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ’’امریکہ نے دنیا بھر میں قیام امن کی ذمہ داری اپنے سر کیوں لے رکھی ہے،اگر کوئی ملک امن چاہتا ہے تو اسے بھی آگے آنا چاہیے ‘‘ ۔ کئی مرتبہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران، شمالی کوریا اور ایران پالیسی مکمل طور پر تبدیل کی۔ امریکہ کیا چاہتا ہے ،اپنے ہی دوست وہ بھی تذبذب کا شکار ہوئے بغیر نہ رہ سکے ۔

 مذاکرات ٹوٹنے کے بعد طالبان کے پاس ایک ہی راستہ بچا ہے ،وہ یہ کہ انتخابات میں حصہ لیں اور نومنتخب حکومت سے مذاکرات کے بعد مین سٹریم میں آ جائیں۔یہ انتخابات 28ستمبر کو ہو رہے ہیںجن میں موجودہ صدر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ بھارت کی زبان بول رہے ہیں۔ امریکہ کے نزدیک اشر ف غنی حکومت میں ہونے کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ایک اہم امیدوار سابق وزیر اعظم گلبدین حکمت یار ہیں۔ پشتون ہونے اور طالبان میں اثر و رسوخ رکھنے کے باعث ان کی کامیابی کے بھی امکانات ہیں۔انتخابی مہم میں وہ بھی اگلے ’’مورچوں‘‘ میں ہیں۔ پھر عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی ایک ہی سوچ سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ گلبدین حکمت یار دوسری سوچ کے حامل ہیں۔انتخابات میںیہ بات بھی انہیں مدد دے گی۔

امریکی صدر کے فیصلے سے فوجوں کی واپسی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔اگلے ساڑھے چار مہینوں میںامریکہ 14ہزار میں سے 5400 فوجی نکال لے گا ۔یوں بھی گزشتہ چند مہینوں میں امریکی فوج آپریشنز سے الگ ہو گئی تھی۔اس کی سرگرمیاںمشاورت، تربیت،اور معاونت تک محدود تھیں۔ مذاکرات شروع کرنے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ چندبرسوں میں امریکی اورنیٹو فورسز نے طالبان کے گرد گھیرا تنگ کر دیا تھا، امریکہ نے صرف دو دن میں ایک سو طالبان جنگجوئوں کوقابو کر لیا تھا۔ 2001 کے بعد سے یہ تعداد سب سے زیادہ ہے۔طالبان کابل سے باہر نکل گئے ہیں، تاہم افغان فورسز نے بھی اپنے ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لئے کم قیمت ادا نہیں کی ،2014ء سے 2019ء تک 45 ہزار سے زائد افغان فوجی مارے جا چکے ہیں۔یعنی 20فوجیوں نے روزانہ جان دی۔

مذاکرات کی تنسیخ کے ساتھ ہی امور خارجہ کمیٹی کے سربراہ ایلیئٹ اینجل نے افغان مذاکرات کار امریکی رہنما زالمے خلیل زاد کو 19ستمبرکو امورخارجہ کمیٹی کے روبرو بیان دینے کے لئے طلب کیا تھا۔ ایلیئٹ نے دکھ کے ساتھ اعلان کیا تھاکہ’’ افغان جنگ میں دو ہزار سے زائد امریکی فوجی مارے جا چکے ہیں، میں امن مشن کوا مریکی عوام اور کانگریس سے چھپائے رکھنے سے تنگ آ چکا ہوں، ہم ایک لمبی جنگ کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور امریکی عوام کو کسی بات سے آگاہی حاصل نہیں ہے۔ کمیٹی زالمے خلیل زاد کو کئی بار پہلے بھی طلب کر چکی ہے مگر وہ اسی سال اپریل، مئی اورجون میں پیش ہونے سے انکار کر چکے ہیں‘‘۔اس لئے اب ثمن جاری کئے گئے ہیں ،بصورت دیگر ان کی گرفتاری کے لئے کہا جائے گا۔ ڈیموکریٹس کے نزدیک صدر نے خفیہ مذاکرات رکھ کر پارلیمینٹ کو نیچا دکھانے کی کوشش کی ہے جو کسی صورت قابل برداشت نہیں۔ ا نہوں نے 18برس سے افغانستان میں موجود امریکی فوجوں کی واپسی کے لئے کئے جانے والے مذاکرات سے کانگریس اور قوم کو اندھیرے میں رکھا ہے ۔ایک سال سے جاری مذاکرات کے بارے میں امریکی نمائندے زالمے خلیل نے صرف ایک مرتبہ کانگریس کمیٹی کو تفصیلات سے آگاہ کیا تھا جبکہ کانگریس میں انہوں نے ایک بھی رپورٹ پیش نہیں کی۔امریکی ایوان اس ہچکچاہٹ پر بھی ناراض ہے۔

اس بارے میں لاس اینجلس ٹائمز لکھتا ہے کہ،

’’ویٹ نام اور افغانستان ہی نہیں ،لاطینی امریکہ اور مشرق وسطیٰ میں امریکی مداخلت بھی کے نتائج بھی بھیانک نکلے ہیں۔ مقامی افراد میں صلاحیتوں اورنیک نیتی کے فقدان سے ان ممالک میںنئے بحران نے جنم لیا۔اس سے بھی سبق لینے کی بجائے امریکہ ایک مرتبہ پھردنیا بھر میں فوجی کارروائیوں کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ایران اور ونیزویلا اس کی تازہ مثال ہیں۔ ایران میں مداخلت کسی المیہ سے کم نہ ہو گی۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ موجودہ ایرانی حکومت کا قیام1953ء میں امریکی مداخلت کا ہی نتیجہ ہے۔کہاوت ہے کہ’’ حماقت اسی چیز کا نام ہے کہ ہم ایک ہی کام بار بار کریں اور ہر بار مختلف نتائج کی توقع رکھیں‘‘۔

بے سمت امریکی خارجہ پالیسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے برنی سینڈرز نے خوب بات کی ۔ افغانستان میں مذاکرات پہلے بھی ناکام ہو چکے ہیں اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے برنی سینڈرز نے کہا کہ’’ دوبارہ مذاکرات کا نتیجہ پہلی ملاقاتوں سے مختلف کیسے نکل سکتا تھا۔ہم اپنی فوج پر سالانہ 750ارب ڈالر خرچ کر رہے ہیں اور ہمیں یہی نہیںمعلوم کہ ہمارا دشمن کون ہے!پھر یہ سب اخراجات بے معنی ہیں‘‘۔یعنی معلوم ہی نہیں کہ دشمن کو ن ہے۔ جو بائیڈن نے کہا کہ’’ فوجوں کی فوری واپسی کی صورت میں انتشار پھیل سکتا ہے، اگر ہم عراق سے فوجیں بلوا لیتے تو یہ ملک داعش کے حوالے ہو جاتا‘‘۔

اس معاملے میں ری پبلیکن پارٹی کے رہنما آپس میں الجھے ہوئے ہیں۔اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔10ستمبرکوایک ڈیبیٹ میںری پبلیکن پارٹی کے رہنمائوںنے شرکت کی ۔موضوع بحث تھا کہ ۔۔۔امریکہ کو افغانستان اوروسیع تر معنوں میں دنیا میںکیا کردار ادا کرنا چاہیے؟۔ رینڈ پائول افغانستان اور عراق سے امریکی فوجوں کی واپسی کے حق میں ہیں ۔سینیٹر پائول ’’سب سے پہلے امریکہ ‘‘ کے حامی ہیں۔ان کے خیال میںان دونوں ممالک سے واپسی ’’سب سے پہلے امریکہ‘‘ کی اولین شرط ہے ۔وہ ہارڈلائنر جان بولٹن کی برطرفی پرخوشی منانے والے ارکان کانگریس میں بھی شامل ہیں ۔وہ ٹرمپ کی ایران پالیسیوں کے بھی حامی ہیں ۔ مگر روایتی سوچ رکھنے والے ارکان میںسائوتھ کیرولائنا کی سینیٹر لنڈزے گراہم چینی بھی شامل ہیں ،وہ تصادم کے حق میں ہیں۔روایت پسند ریپبلیکنزان موضوعات پر تذبذب کا شکار ہیں۔ خارجہ پالیسی پر بحث کے دوران لز چینی اورکینٹکی سے سینیٹر رینڈ پائول کے مابین ٹوئٹر وار چھڑ گئی۔لز چینی نے رینڈ پائول کو ’’ Terrorist.suporting Loser‘‘قرار دے دیا جبکہ رینڈ پائول نے بھی یہ کہہ کرکسر پوری کر دی کہ’’ لز چینی War monger‘‘ ہیں۔ چینی نے دوسروں پر تنقید کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ’’کیمپ ڈیوڈ وہ جگہ ہے جہاں امریکی صدر ٹرمپ نائن الیون کوتین ہزار امریکیوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے طالبان کے حمایت یافتہ القائدہ کی باقیات سے ملاقاتوں کے منصوبے بنا رہے تھے ۔کوئی طالبان یہاں قدم نہ رکھے، کبھی نہیں‘‘۔

اگر ہم اسی پس منظرمیں دیکھیں تو صدر ٹرمپ نے اپنے ارد گرد اسے ’’وار مانگرز‘‘ کو ہٹانا شروع کر دیا ہے، وہ خطے میں امن چاہتے ہیں۔طالبان سے مذاکرات کے خاتمے کے دوران ہی انہوں نے نیشنل سکیورٹی کے مشیر کو برطرف کر دیا جس پر پائول نے ٹوئٹ کیا کہ’’جان بولوٹن کی وائٹ یاہائوس سے چھٹی ہوتے ہی دنیا بھر میں جنگ کے خطرات کم ہو گئے ہیں‘‘۔انہوں نے یہ تاثر دیا کہ دنیا بھر میں جنگی خطرات کی قیاس آرائیاںدراصل جان بولٹن پھیلا رہے تھے۔ ان کی چھٹی ہوتے ہی دنیا میں امن ہی امان نظر آئے گا۔ یہ بات کافی حد تک درست ہے کیونکہ بولٹن کا شمار سخت رویہ رکھنے والے مشیروں میں ہوتا تھا ،وہ ہر جگہ جنگ چاہتے تھے یہی وجہ ہے کہ ان کی مشاورت کے دوران امریکی فوجوں کی واپسی کا عمل رک گیاتھا۔شائدمذاکرات میں ناکامی کی ایک وجہ بھی وہی ہوں۔لزچینی کہاں رکنے والی تھیں ۔انہوں نے پل بھر میں دوسرا ٹوئٹ کیا۔۔’’میں امریکی صدر اوروردی والے مردوں اور عورتوں کے ساتھ کھڑی ہوں جو سینیٹر پائول کی طرح دہشت گردوں کے سامنے کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔سینیٹر پاول کو آج نائن الیون یاد نہیں‘‘۔

پائول نے ٹوئٹ کیا۔۔’’ہائے چینی۔۔آپ نے بولٹن کے حامی جنگجوئوں کا انجام دیکھا،میں صدر کاشکر گزار ہوں کہ انہوں نے آپ کی سوچ کے برعکس یہ لامتناہی جنگوں کو ختم کرنے کی حمایت کی ہے‘‘۔ 

لز چینی نے جوابی ٹوئٹ کیا،’’ہائی رینڈ پائول‘‘۔۔۔۔ ’’میں جانتی ہوں کہ 2016ء میں تم بہت بڑے شکست خوردہ تھے ،اب بھی ہو،تم تو آئیووا میں4.5فیصد ووٹوں سے مسترد کئے گئے تھے۔مجھے کوئی حیرت کی بات نہیں کہ اگر آپ کا نصب العین ہو کہ سب سے پہلے دہشت گرد، امریکہ دوسرے نمبر پر‘‘۔

بہرکیف اس وقت امریکہ کی خارجہ پالیسی پریشانیوں سے دوچار ہے اسے کوئی راستہ نہیں مل رہا۔کچھ کے خیال میں افغان صورتحال خطرناک موڑ پر آ گئی ہے۔ہماری خواہش ہے کہ افغان الیکشن کا نتیجہ ہی کچھ اچھا نکل آئے، امن کی خواہشمند حکومت برسراقتدار آ جائے،ہمارے ہاں مداخلت بند ہو، اور ہمیں بھی سکون ملے۔اس لئے دعا ہے کہ جو کچھ بھی ہو خطے کے لئے بہتر ہی ہو۔ 

 

افغان جنگ کی قیمت ! 

امریکہ نے دوسری جنگ عظیم 4.1کھرب ڈالرمیں لڑی تھیء جبکہ افغان جنگ میں اب تک امریکہ975ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے مگر جنگ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی، جس پر سخت تشویش پائی جاتی ہے،امریکہ مزید اخراجات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اسی لئے بجٹ میں بھی مسلسل کٹوتیاں کی جا رہی ہیں۔ آئیے ،دیکھتے ہیں کہ کس دور میںافغان جنگ پر کتنے ڈالرجھونک دیئے گئے۔ 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

سامراجیت کے آلہ کارمغرب نواز سیکولر لبرل مسلمانوں، یورپی امریکی میڈیا ہاوسز اور سرمایہ دار کمپنیوں کے مالک یہودیت کے علمبرداروں نے اس ...

مزید پڑھیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا بھر کی متنازعہ شخصیات میں سے ایک ہیں۔2016 کے صدارتی انتخابات سے قبل دنیا انہیں ایک کاروباری شخصیت سے تعبیر کرتی ...

مزید پڑھیں

جن ممالک میں جمہوریت نے جنم لیا ہے اب ان ہی ممالک میں جمہوریت کو لپیٹنے کا عمل بھی جاری ہے،بھارت سے برطانیہ تک جمہوریت خطرے میں ہے۔بھارت ...

مزید پڑھیں