☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا خصوصی رپورٹ متفرق عالمی امور سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا رپورٹ انٹرویوز کھیل خواتین
ٹرمپ کو کشمیریوں کی آہ لگ گئی!

ٹرمپ کو کشمیریوں کی آہ لگ گئی!

تحریر : الطاف احمد

10-06-2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا بھر کی متنازعہ شخصیات میں سے ایک ہیں۔2016 کے صدارتی انتخابات سے قبل دنیا انہیں ایک کاروباری شخصیت سے تعبیر کرتی تھی۔ کامیابی کے بعد انہوں نے اپنے اس تاثر کو مزید تقویت دی ہے۔ جنوری 2017ء میں 45 ویں امریکی صدر کا حلف اٹھانے کے بعد سے آج تک، وہ اپنے متنازعہ بیانات اور عجیب و غریب فیصلوں کی بدولت عالمی میڈیا میں چٹکلوں کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ان کے بیشتر اقدامات اور ایگزیکٹو آرڈز یعنی صدارتی حکم ناموں کی بدولت نہ صرف امریکہ کے سیاسی، دفاعی اور سماجی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے بلکہ دنیا بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

وہ شروع سے ہی تنازعات کی زد میں رہے ہیں اور بارہا ان کے مواخذے کے چرچے ہوتے رہے ہیں لیکن قسمت کی دیوی ان پر مہربان رہی اور وہ ہر بار بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔ٹرمپ کے تنازعات کی ایک وجہ ان کے جھوٹ اور یو ٹرنز ہیں۔ غلط بیانی کی عادت، شوخ طبیعت اور ناقابلِ بھروسہ طرزِ عمل کی بدولت امریکی تھنک ٹینکس ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکہ کے لئے سکیورٹی رسک سمجھتے ہیں۔ ٹرمپ پر2016 کے امریکی صدارتی انتخابات میں روس سے مدد لینے کا الزام بھی لگا لیکن مولر رپورٹ میں انہیں اس الزام سے بری کر دیا گیا اور وہ مواخذے کی تحریک سے بچ نکلے۔ اسی طرح وہ اثاثے چھپانے کے کیس سے بھی بچ نکلے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ اب انہیںکشمیریوں کی آہ لگ گئی ہے۔ جب ایک طرف وہ ہیوسٹن میں نریندرمودی کے ساتھ جلسہ میں کھڑے ہو کر کشمیریوں کے ساتھ کھیلی جانے والی خون کی ہولی کا مذاق اڑا رہے تھے، اسلامک ریڈیکلائزیشن کا راگ الاپ رہے تھے اسی وقت قدرت نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے اس لئے ان کے خلاف whistleblower کے الزامات کے بعد مواخذے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

Whistleblower کیا ہے؟

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ Whistle انگریزی میں سیٹی کو کہتے ہیں اور blower بجانے والے کو۔ لفظی مطلب ہوا سیٹی بجانے والا۔ اب سیٹی کب بجائی جاتی ہے؟ جب کوئی کسی قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہو، جب کسی کو خطرے سے متنبہ کرنا ہو۔ Whistleblower ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی تنظیم ، ادارے یا ملک میں ہونے والی خطرناک، غیرقانونی، غیراخلاقی اور مجرمانہ سرگرمی کو بے نقاب کرتا ہے۔ 

وسل بلور کے الزامات

حالیہ تنازعہ کا آغاز گذشتہ ہفتے اس وقت ہوا جب یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ قومی انٹیلی جنس کمیونٹی میں ایک نامعلوم اہلکار نے ٹرمپ انتظامیہ کے اندر ہونے والی قومی سلامتی اور امریکی قوانین کے منافی مشکوک سرگرمی کے سلسلے میں انٹیلی جنس انسپکٹر جنرل سے رابطہ کیا۔ یہ مشکوک سرگرمی اب کھل کر سامنے آ گئی ہے۔یہ یوکرین کے صدر زیلنسکی اور ٹرمپ کی فون کال کا معاملہ ہے۔ انٹیلی جنس جنرل جائزہ لے کر اس نتیجہ پر پہنچے کہ شکایت انتہائی سنجیدہ اور فوری نوعیت کی ہے۔

مواخذے کی تحریک کا آغاز

مواخذے کی تحریک کا اعلان امریکی ایوانِ نمائندگان کی سپیکر مس نینسی پیلوسی نے گزشتہ ہفتے ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس تاریخی پریس کانفرنس میں ، ایوان نمائندگان کی انتہائی سینئر ڈیموکریٹ ، نینسی پیلوسی نے کہا کہ مواخذہ کی تحقیقات کے ساتھ آگے بڑھنے کا وقت آگیا ہے ۔ جس کے چند منٹ بعد ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اسے Presidential Harrassment کا نام دیا۔

امریکی صدر نے آخری لمحے میں اس اقدام کو روکنے کی کوشش کی تھی ، اور یہ وعدہ کیا تھا کہ یوکرائنی صدر ، وولدیمیر زیلنسکی کے ساتھ انھوں نے ایک متنازعہ کال کی نقل کو جاری کیا ہے ۔لیکن یہ کافی نہیں تھا۔ محترمہ پیلوسی نے کہا: "صدر کو جوابدہ ہونا چاہئے ۔ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے ۔انہوں نے استدلال کیا کہ یوکرین اسکینڈل میں مسٹر ٹرمپ کے مبینہ سلوک کا مطلب "ان کی اپنے عہدہ سے ناانصافی، قومی سلامتی اور امریکی انتخابات کی سالمیت کے ساتھ غداری ہے ۔" لہٰذا آج میں ایوان نمائندگان کا اعلان کر رہی ہوں کہ وہ مواخذہ کی سرکاری تحقیقات کے ساتھ آگے بڑھیں ۔" مسز پیلوسی نے مزید کہا: ’’صدر کی طرف سے آج تک کی جانے والی کارروائیوں نے آئین کی شدید خلاف ورزی کی ہے ، خاص طور پر جب صدر کہتے ہیں کہ 'میں جو چاہوں کر سکتا ہوں۔‘‘

مواخذہ Impeachment کیا ہوتا ہے؟

مواخذہ وہ عمل ہے جس کے ذریعہ ایک مستقل عہدیدار پر باضابطہ طور پر "غداری ، رشوت ستانی ، یا دیگر اعلیٰ جرائم اور بدانتظامی" کا الزام عائد کیا جاتا ہے اور اسکی تحقیقات ہوتی ہیں۔ تحقیقات میں عہدیدار پر جرم ثابت ہونے کی صورت میں اسے عہدے سے فارغ کر دیا جاتا ہے۔

کیا ٹرمپ کے مواخذے کی تحریک کامیاب ہو سکے گی؟

اس وقت ایوانِ نمائندگان کی سپیکر سینئر ڈیموکریٹ نینسی پیلوسی ہیں وہ متفق ہو گئی ہیں اور انہوں نے مواخذے کی تحریک کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سے قبل وہ ایوان اور ڈیموکریٹ کو متحد رکھنے کے لئے مواخذے کی تحریک کے حق میں نہیں تھیں۔امریکی سکیورٹی کی تین اہم کمیٹیاںہیںمتعلقہ کمیٹی یعنی جوڈیشری کمیٹی ، فارن ریلیشن کمیٹی، اینٹلی جنس کمیٹی۔ جوڈیشری کمیٹی معاملات کو initiate کرتی ہے۔ مواخذے کی تحریک سے قبل ان تینوں کمیٹیوں نے ٹرمپ کو خط لکھا تھا کہ تم یوکرین کے صدر کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا ٹرانسکرپٹ جاری کرو۔ ٹرمپ نے ٹرانسکرپٹ جاری نہیں کیا ۔ نینسی پیلوسی کے اتفاق کے بعد فی الحال معاملہ ابھی ذیلی کمیٹی کے پاس ہے۔اس کمیٹی کے 41 ممبرز ہیں اور ان میں 20 کی حمایت درکار ہے۔ اس کمیٹی کے 24 ممبر ڈیموکریٹ کے اور 17 ری پبلکن ہیں۔ سادہ اکثریت آسانی سے مل جائے گی اس کمیٹی کے سربراہ انٹیلی جنس چیف جوزف مولر ہیں۔ذیلی کمیٹی کے بعد معاملہ جوڈیشری کمیٹی کے پاس جائے گا۔ جوڈیشری کمیٹی میں مواخذے کی تحریک پاس ہونے کے لئے سادہ اکثریت چاہیے۔ اگر یہ کمیٹی تحریک پاس کردیتی ہے تو معاملہ ایوانِ نمائندگان میں ووٹنگ کے لئے پیش کر دیا جائے گا۔ 

امریکی ایوانِ نمائندگان کو آئین کے آرٹیکل 1 ، سیکشن 2 ، کلاز 5 کے تحت صدر کے مواخذے کی تحریک چلانے کا اختیار حاصل ہے۔ ایوانِ نمائندگان میں اس وقت ڈیموکریٹس کی اکثریت ہے۔ اگر ایوانِ نمائندگان تحریک سادہ اکثریت سے پاس کر دیتی ہے، جو کہ نظر آرہا ہے کہ ایسا ہو جائے گا، تو معاملہ سینٹ میں جائے گا ۔تحریک کی اصل جنگ سینٹ میں ہوتی ہے۔امریکی سینٹ کو آئین کے آرٹیکل 1 ، سیکشن 3 ، کلاز 6, 7 کے تحت صدر کے مواخذے کی تحریک کا اختیار حاصل ہے۔سینٹ میں اس وقت 53 ری پبلکن ، 45 ڈیموکریٹس اور 2 آزاد ارکان ہیں، مواخذے کی تحریک کی کامیابی کے لئے 67 ووٹ چاہئیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کے لئے تمام ڈیموکریٹس، آزاد ارکان اور 20 ری پبلکن کو مواخذے کی تحریک کے حق میں ووٹ دینا ہو گا جو کہ ناممکن نظر آتا ہے۔ اس لئے غالب امکان یہی ہے کہ مواخذے کی تحریک سینٹ میں جا کر دم توڑ دے گی۔

کیا پہلے کسی امریکی صدر کو مواخذے کا سامنا کرنا پڑا؟

دوامریکی صدور اینڈریو جانسن (1868) اور بل کلنٹن (1998)کو مواخذے کی تحریک کا سامنا کرنا پڑا لیکن دونوں کو بری کردیا گیا۔ رچرڈ نکسن کو واٹر گیٹ اسکینڈل (1974) پر مواخذے کی دھمکی دی گئی تھی ، لیکن کانگریس کے ووٹ ڈالنے سے پہلے ہی انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ ٹرمپ چوتھے امریکی صدر ہیں جنہیں مواخذے کی تحریک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

امریکہ کے علاوہ کونسے عالمی رہنما ئوں کو مواخذے 

کی تحریک کا سامنا کرنا پڑا؟

20 ویں صدی میں بہت سے عالمی رہنماؤں کو مواخذے کے عمل سے ان کے عہدے سے فارغ کیا گیا ہے۔ ان میں چاراہم ترین نام یہ ہیں۔ 1981 میں ایرانی صدر ابولحسین بنی صدر ، 1992 میں برازیل کے صدر فرنینڈو کولر ڈی میلو ، 1993 میں وینزویلا کے صدر کارلوس آندرس پیریز اور روسی رہنما بورس ییلتسین مواخذے کی تحاریک کی بدولت اپنے اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی تحریک کااثر کیا ہوگا؟

مواخذے کی قرارداد یا تحریک کا کامیاب ہونا یا نہ ہونا بعد کی بات ہے۔ لیکن کسی صدر پر مواخذے کی تحریک کا چلنا اس کی سیاسی پروفائل پر ایک دھبہ ہے۔ مواخذہ کا عمل تو ابھی چلتا رہے گا لیکن ڈیموکریٹس اور امریکہ کو اس کا وقتی فائدہ ایک تو یہ ہو گا کہ ٹرمپ کی غیرسنجیدہ گفتگو بندی ہو جائے گی۔ اس کا پاپولر ووٹ بنک گرے گا۔ فی الحال تو ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگراسکا مواخذہ ہوا تو وہ قانون سازی کا عمل روک دیں گے ۔ امریکہ جیسے مہذب ملک میں اگر ایسا ہوا تو یہ ٹرمپ کے لئے اور خطرناک ہو گا اورٹرمپ مزید کمزور ہو سکتا ہے۔ مستقبل میں اس کے فیصلوں میں طاقت اور اثر نہیں رہے گا۔ اور اگر ڈیموکریٹس کسی نہ کسی طرح سینٹ میں 20 ری پبلکن کی حمایت حاصل کر لیتے ہیں تو پھر امریکہ کی تاریخ میں ٹرمپ پہلے صدر ہوں گے جو مواخذے کی تحریک سے عہدے سے فارغ ہو جائیں گے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو امریکی اور عالمی سیاست پر اس کے دوورس اثرات مرتب ہوں گے۔

امریکی صدر کا مواخذہ کیسے ہوتا ہے ؟

٭مواخذے کی قرارداد سب سے پہلے ایوانِ نمائندگان کے کسی ایک رکن یا زیادہ ارکان کی ذریعے پیش کی جاتی ہے۔

٭ اس کے بعد ایوان ِ نمائندگان کے سپیکر کا متفق ہونا ضروری ہے۔ 

٭سپیکر قرار داد کو جائزے کے لئے جوڈیشری کمیٹی کے سپرد کرتا ہے۔

٭جوڈیشری کمیٹی میں قرارداد کے پاس ہونے کے لئے سادہ اکثریت چاہیے۔

٭جوڈیشری کمیٹی سے سادہ اکثریت میں پاس ہونے کے بعد قرارداد ایوانِ نمائندگان میں ووٹنگ کے لئے بھیج دی جاتی ہے جہاں منظوری کے لئے سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔

٭ایوانِ نمائندگان سے منظوری کے بعد قرارداد سینٹ میں پیش کر دی جاتی ہے۔ مواخذے کا اصل عمل یہاں ہوتا ہے، جہاں جرم کا مرتکب ہونے یا نہ ہونے بارے صدر کا ٹرائل ہوتا ہے، یہ ٹرائل کیسے ہوگا اس بات کا تعین چیئرمین سینٹ کرتا ہے۔ سینٹ کے ارکان ٹرائل کے دوران مینیجرز کہلاتے ہیں۔ یہ مینیجر بالکل اسی طرح کام کرتے ہیں جس طرح عدالت میں پراسیکیوٹر کام کرتے ہیں۔ اس لئے ان کو پراسیکیوٹرز بھی کہا جاتا ہے۔ یہ جرم ہونے یا نہ ہونے بارے ثبوت فراہم کرتے ہیں، دلائل دیتے ہیں اور بحث کرتے ہیں۔

٭ اس عمل کے دوران صدر اپنا ایک کونسل/ وکیل سینٹ میں پیش کرسکتا ہے۔

٭امریکی عدالت کے چیف جسٹس سینٹ ٹرائل کی سربراہی کرتے ہیں۔

٭ٹرائل کے دوران پیش کیے جانے والے ثبوتوں، دلائل، بحث و مباحثے کے نتیجہ میں مینیجرز یعنی سینٹ کے ارکان اپنے ووٹ کا تعین کرتے ہیں۔ اور یہ ووٹ صدر کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اگر 67 مینیجرز/ سینٹرز مواخذے کے دوران صدر کے جرم کے ارتکاب ہونے کے حق میں ووٹ دے دیتے ہیں تو صدر اپنے عہدے سے فارغ ہو جاتا ہے۔

ٹرمپ۔زیلنسکی بات چیت کے متنازعہ حصے 

ڈیموکریٹس کی طرف سے شدید پریشر اور مواخذے کی تحریک کے اعلان کے بعد صدر ٹرمپ نے یوکرین کے صدر زیلنسکی کے ساتھ اپنی متنازعہ کال کا ٹرانسکرپٹ جاری کر دیا ہے۔یہ ٹرانسکرپٹ کوئی کال ریکارڈ نہیں ہے اور نہ ہی لفظ بہ لفظ تحریری ریکارڈ ہے۔بلکہ یہ وائٹ ہائوس کے پرسنل سٹاف اور سکیورٹی سٹاف سے حاصل کردہ نوٹس ہیں، جن کی ڈیوٹی صدر کی کال کو سننا اور نوٹ کرنا ہوتی ہے، انہی نوٹس سے حاصل ہونے والی معلومات کی بناء پریہ ٹرانسکرپٹ تیارکیا گیا ہے۔ 5 صفحوں پر مشتمل اس ٹرانسکرپٹ نے امریکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔25 جولائی2019 کو ہونے والی اس فون کال سمری سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ نے یوکرین کے عہدیداروں سے سابق نائب صدر جو بائیڈن سے تفتیش کرنے کے لئے دبائو ڈالااور یوکرین کی فوجی امداد کو بھی پریشر کے طور پر استعمال کیا۔ جوبائیڈن سابق امریکی نائب صدر رہ چکے ہیں اور اگلے سال 2020 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ صدارتی حریف ہو سکتے ہیں۔ڈیموکریٹس کا الزام ہے کہ ٹرمپ نے ممکنہ طور پر جوبائیڈن کے خلاف تحقیقات کے لئے دبائو ڈالا تاکہ ان کا پاپولر ووٹ بنک ختم کرکے آئندہ انتخابات میں اپنی پوزیشن مستحکم کر سکے۔

ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے ذریعہ جاری کردہ سمری ان کے شبہات کی تصدیق کرتی ہے کہ صدر اپنے ذاتی سیاسی فائدے کے لئے امریکی خارجہ پالیسی چلا رہے تھے ۔ تاہم صدر ٹرمپ نے ان تبصروں کو مسترد کردیا اور کہا ہے کہ ٹرانسکرپٹ میں کچھ بھی غیرقانونی اور غلط نہیں ہے ۔ ری پبلکن کے متعدد قانون سازوں نے بھی صدر کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس سمری سے کوئی بھی نتیجہ نہیں نکلتا۔یوکرائنی صدر سے ملاقات کے بعد ایک نیوز کانفرنس کے دوران ، ٹرمپ نے زور دے کر کہا کہ 25 جولائی کو زیلنسکی سے فون پر بات چیت کے دوران اس نے بائیڈن معاملے پر مدد کے بدلے میں یوکرین کے لئے کسی فائدے کا وعدہ نہیں کیا ہے ۔

ڈیموکریٹس کے الزامات کی تصدیق اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر زیلنسکی سے دوطرفہ ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ بڑے پیمانے پر بدعنوانی سے نمٹنے کے لئے یوکرائنی رہنما کی کوشش کی حمایت کرتے ہیں اور بائیڈن اور ان کے بیٹے کے خلاف لگائے گئے الزامات پر دگناحمایت کرتے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا ، ’’جب بائیڈن کا بیٹا یوکرائن سے لاکھوں ڈالر لے کر چلا گیا اور اسے کچھ پتہ نہیں ہے اور وہ کروڑوں ڈالر ادا کررہے ہیں ، یہی بدعنوانی ہے ،‘‘۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ہنٹر بائیڈن نے اپنے بیانات کی تائید کے لئے کوئی تفصیلات فراہم کیے بغیر ، چین میں بھی ایسا ہی سلوک کیا۔

ٹرانسکرپٹ کے مطابق ٹرمپ نے فون کال پر یوکرین کے صدر زیلنسکی سے کہا ، "بائیڈن کے بیٹے کے بارے میں بہت سی باتیں ہو رہی ہیں ، جو بائیڈن نے استغاثہ روک دیا اور بہت سارے لوگ اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں ، لہذا آپ اٹارنی جنرل کے ساتھ جو کچھ بھی کرسکتے ہیں وہ بہت اچھا ہوگا۔"

انہوں نے کہا کہ بائیڈن بڑبڑاتے ہوئے گھومتے رہے کہ انہوں نے استغاثہ روک دیا تاکہ اگر آپ اس کا جائزہ لیں۔یہ میرے لئے خوفناک لگتا ہے ، "

اس کال کے خلاصے میں یہ بھی دکھایا گیا تھا کہ ٹرمپ نے یوکرائنی رہنما سے اپنے ذاتی وکیل روڈی گلیانی کے ساتھ بات کرنے کو کہا تھا ، جسے انہوں نے ایک "انتہائی قابل احترام شخص" کے ساتھ ساتھ اٹارنی جنرل ولیم بار سے بھی تعبیر کیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا کہ گلیانی یوکرین کا سفر کریں گے ۔ زیلنسکی نے کہا کہ وہ گلیانی سے ملاقات کریں گے جب وہ تشریف لائیں گے ۔

ٹرمپ نے زیلنسکی سے کہا کہ "ہمارے ساتھ احسان کریں" اور "یہ معلوم کریں کہ یوکرائن کے ساتھ اس ساری صورتحال کے ساتھ کیا ہوا" کروڈ اسٹریک نامی ایک سائبر سکیورٹی کمپنی ہے جس نے 2016 کے انتخابات میں روسی مداخلت کی تحقیقات میں مدد فراہم کی تھی۔ یہ واضح نہیں تھا کہ صدر یوکرین کی "صورتحال" کا ذکر کر رہے ہیں۔

کال سمری کے مطابق ، مسٹر ٹرمپ نے زیلنسکی کو بتایا ، "بائیڈن کے بیٹے کے بارے میں بہت سی باتیں ہو رہی ہیں کہ بائیڈن نے استغاثہ روک دیا اور بہت سارے لوگ اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لہذا آپ اٹارنی جنرل کے ساتھ جو بھی کرسکتے ہیں وہ اچھا ہوگا۔ بائیڈن شیخی مارتے ہوئے گھومتے رہے کہ اس نے پراسیکیوشن روک دی ہے اگر آپ اس پر غور کرسکیں تویہ میرے لئے خوفناک لگتا ہے ۔ "

کال کے دوران ، مسٹر ٹرمپ نے شوکین کا مثبت الفاظ میں حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا ، "میں نے سنا ہے کہ آپ کے پاس ایک پراسیکیوٹر تھا جو بہت اچھا تھا اور وہ بند ہوگیا تھا اور یہ واقعی غیر منصفانہ ہے ۔" "بہت سارے لوگ اس کے بارے میں بات کر رہے ہیں ، جس طرح انہوں نے آپ کے بہت اچھے وکیل کو بند کردیا اور آپ میں کچھ بہت ہی برے لوگ شامل تھے ۔"

روس کی تحقیقات کے بارے میں کانگریس کے سامنے رابرٹ مولر کی گواہی دینے کے ایک روز بعد ، زیلنسکی کے ساتھ صدر کا فون ہوا اور اس بات کے بارے میں کہ مسٹر ٹرمپ نے انصاف میں رکاوٹ ڈالی ہے یا نہیں ، اور روس کی تحقیقات کا موضوع بھی کال کے دوران سامنے آیا۔ زیلنسکی نے مسٹر ٹرمپ سے یوکرین کی جانب سے امریکی امداد سے حاصل ہونے والی امداد پر اظہار تشکر کرنے کے بعد کہا کہ یوکرین روس کے خلاف پابندیاں نافذ کرنے میں "اگلے اقدامات کے لئے تعاون جاری رکھنے کے لئے تیار ہے "۔ "خاص طور پر ،" زیلنسکی نے کہا ، "ہم امریکہ سے مزید جیولنس میزائل خریدنے کے لئے تقریبا تیار ہیں۔"

مسٹر ٹرمپ نے جواب دیا ، "میں چاہتا ہوں کہ آپ ہم پر احسان کریں اگرچہ ہمارا ملک برے حالات سے گزر رہا ہے اور یوکرین کو اس کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہے ۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ کو یہ معلوم کرنا پڑے کہ یوکرین کے ساتھ اس ساری صورتحال کے ساتھ کیا ہوا ہے ۔" کراؤڈ اسٹرائک ……… مجھے لگتا ہے کہ آپ دولت مند لوگوں میں سے ایک ہیں ……… سرور ، وہ کہتے ہیں کہ یوکرین کے پاس ہے ۔ "

کروڈ اسٹرائک ایک سائبر سکیورٹی فرم ہے جسے سن 2016 میں ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی نے اس وقت بلایا تھا جب اس نے غیر معمولی سرگرمی دیکھی۔ اس نے 2016 کے انتخابات میں روسی مداخلت کی تحقیقات میں مدد کی اور روسی حکومت سے منسلک دو الگ الگ ہیکنگ گروپوں نے ڈی این سی کے نیٹ ورک کی خلاف ورزی کی ہے ۔

مسٹر ٹرمپ نے زیلنسکی کو اپنے ذاتی وکیل ، روڈی گلیانی اور اٹارنی جنرل ولیم بار سے کہا تھا کہ وہ زیلنسکی کو "اس کی انتہا تک پہنچنے " کے لئے فون کریں گے ۔ مسٹر ٹرمپ یوکرین کا سفر کررہے ہیں۔ زیلنسکی نے کہا کہ وہ گلیانی سے ملاقات کریں گے جب وہ تشریف لائیں گے۔

زیلنسکی نے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ ان کا نیا پراسیکیوٹر اس معاملے کا جائزہ لے گا ، اور اس نے مزید معلومات طلب کیں۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

8جولائی 2019کو قطر میں عروج پر پہنچنے والے ’’امریکہ طالبان مذاکرات‘‘نائن الیون سے صرف چار دن پہلے اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں۔ ا ...

مزید پڑھیں

جن ممالک میں جمہوریت نے جنم لیا ہے اب ان ہی ممالک میں جمہوریت کو لپیٹنے کا عمل بھی جاری ہے،بھارت سے برطانیہ تک جمہوریت خطرے میں ہے۔بھارت ...

مزید پڑھیں

گزشتہ چند برسوں میںعالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں نے ہر نظام کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، بدلتی دنیا میں ہر وہ نظریہ اور نظام ناکام ہو گ ...

مزید پڑھیں