☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل دنیا اسپیشل عالمی امور صحت کیرئر پلاننگ خواتین کچن کی دنیا دین و دنیا فیشن انٹرویوز ادب
2024ء : یورپ میں اقتدارپر قوم پرست جماعتوں کا قبضہ ہوگا

2024ء : یورپ میں اقتدارپر قوم پرست جماعتوں کا قبضہ ہوگا

تحریر : صہیب مرغوب

03-24-2019

گزشتہ دنوں نیوزی لینڈ جیسے پرامن ملک کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں برینٹن ٹیرنٹ(Brenton Tarrant )نامی سفیدفام نسل پرست (white supremascist)دہشت گردنے 49 مسلمان نمازی شہید اور 20سے زیادہ شدید زخمی کر دئیے ۔ کرائسٹ چرچ نیوزی لینڈ کے ساحل کے جنوب میں واقع ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے۔آکلینڈ اور ویلنگٹن کے بعد یہ نیوزی لینڈ کا تیسرا گنجان آباد شہر ہے۔مقامی باشندے ملنسار، محبت کرنے والے لوگ ہیں، جلد ہی گھل مل جاتے ہیں۔

یہاں دریائے اے وان (Avon River)کی ٹھاٹھیں مارتی موجیں سیاحوں کے لئے کشش کا باعث ہیں۔کرائسٹ چرچ ان چند عالمی شہرں میں شامل ہے جن کے وسط میں دریادل کی طرح دھڑکتا ہے۔اس کی خوبصورتی کا کوئی بدل نہیں۔ شہر اپنی خوبصورتی اوررنگوں کی وجہ سے بھی پہچانا جاتا ہے، اسے پھولوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ ساحلوں پر موسمی رنگوں سے لطف اندوز ہونے والوں کے لئے سائیکلنگ پارک بھی بنائے گئے ہیں۔تاریخ دانوں کے مطابق شہر میں پہلی انسانی بستی 1250ء میں آباد ہوئی ہو گی۔

اس ویرانے کو مشرقی پولی نیشیا (East Polynesia) باشندوں نے آباد کیا۔ قدیم تاریخ کا حامل تو نہیں ،مگریہ نیوزی لینڈ کا سب سے پرنا شہر ہے۔ یہ 31جولائی 1956ء کو ایک چارٹر ’’شاہی فرمان‘‘(Royal Charter) کے تحت نیوزی لینڈ کا حصہ بنا۔آکسفورڈ میں کرائسٹ چرچ نام کا ایک اور قصبہ قائم ہے،بلکہ اس کا نام بھی اسی کے نام پر کرائسٹ چرچ پڑا ۔ کرائسٹ چرچ میں مسلمان آٹے میں نمک کے برابر ہوں گے۔ کوئی 1.2 فیصد۔ Maoriالنسل باشند ں (مسلمان)کو ہی قدیم مقامی نسل سمجھا جاتا ہے۔یہ لگ بھگ 13ویں صدی میں آباد ہونا شروع ہوئے۔

بعد ازاں یورپی تعداد میں بڑھنے لگے۔جبکہ پہلے مسلمان امیگرنٹ خاندان نے 1850ء کی دہائی میں کیشمیئر(Cashmere)میں سکونت اختیار کی۔1990کی دہائی میں گجرات(بھارت) کے تین امیرمسلمان خاندان آکلینڈ میں آباد ہوئے ۔شہر میں2006ء کے سروے میں مسلمانوں کی آبادی36072اور2013 ء میں28فیصد اضافے کے ساتھ 46ہزار تھی ۔2013ء کے بعد یہاں کوئی مردم شماری نہیں ہوئی۔2018

ء میں نیوزی لینڈ کی کل آبادی 4,885,300تھی ۔اس کثیر القومی ملک میں 67.6یورپی ،14.6فیصد مائوری(Maori)،9.2فیصد ایشیائی اور 6.9 فیصدباشندے پیسیفک جزائر سے تعلق رکھتے ہیں۔بیشتر نیوزی لینڈرزجرمن،ڈچ ، فرانسیسی، دالمیشن (Dalmatian) اور سیکنڈینیوین ہیں۔ نیوزی لینڈ مسلم ایسوسی ایشن1950میں آکلینڈ میں قائم ہوئی۔نیوزی لینڈ کی حکومت نے اعلیٰ خدمات سرانجام دینے پر مظہر قراس نیقی(Mazhar Krasniqi) کو سرکاری اعزاز سے بھی نوازا۔تاہم یہاں کے دو اخبارات نے کارٹون بھی شائع کئے۔بعد ازاں اسلامک ایسوسی ایشن آف مسلمزنے حکومت اور اپوزیشن سے رابطہ کیا۔

سابق وزیر اعظم ہیلن کلارک (Helen Clark)اورسابق لیڈر آف دی اپوزیشن ڈان بریشبو(Don Brashbo) نے خاکوں پر مسلمانوں کا ساتھ دیا۔جس پر دونوں اخبارات نے مزید اشاعت روک دی ۔فیڈریشنز آف اسلامک ایسو ایشنز نے بھی نیوزی لینڈ کی مصنوعات کا بائیکاٹ ختم کرنے کے لئے 52 ممالک کو خطوط ارسال کئے۔یوں مفاہمت اور ہم آہنگی کی نئی فضا قائم ہوئی۔ نیوزی لینڈ کی آباد کاری میں غیر ملکیوں کا کردار ناقابل فراموش ہے،بلکہ یہ ملک بسایا ہی مہاجرین اور امیگرنٹس نے ہے۔ 1866ء میں چین کے ایوان صنعت و تجارت نے کئی منصوبے شروع کئے۔بعد ازاں اٹلی، ہالینڈ ،آسٹریلیا، شمالی امریکہ،جنوبی امریکہ اور جنوبی افریقہ سے بھی مہاجرین اور امیگرنٹس نے نیوزی لینڈ کی ترقی کو چار چاند لگا ئے۔

نیوزی لینڈ ہر کسی کو داخلے کی اجازت نہیں دیتا۔ویزہ پالیسی اچھی صحت اور فنی مہارت سے مشروط ہے۔ مقامی معیشت میں فعال کردار ادا کرنے کی صلاحیت سے محروم شخص ویزا سے بھی محروم رہتا ہے۔ نیوزی لینڈ کو نیوزی لینڈبنانے والے مہاجرین اور امیگرنٹس کے خلاف بغض رکھنا جائز نہیں۔ان کے خلاف ابھرتی ہوئی نسل پرستی بے جا ،بے معنی اور کسی اندرونی خوف کا نتیجہ ہے۔

کوئی ایسا انجانا خوف جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں۔ اتنا دلچسپ ملک ہے کہ اس کی اپنی32فیصدآبادی چین ،بھارت،فلپائن اور جنوبی کوریا میں پیداہوتی ہے۔کیونکہ 11لاکھ سے زائد نیوزی لینڈرز ان ہی ممالک میں مقیم ہیں۔ شرح بے روزگاری 4.5فیصد ہے۔ شہر کے عین وسط میں ،ڈینس ایونیو میں کیتھڈرل سکوئرکے ایک جانب واقع مسجد النورکرائسٹ چرچ کی قدیم اور خوبصورت مسجد ہے۔دوسری مسجد تقریباً تین میل (5کلومیٹر)کے فاصلے پر لن وڈ (Linwood)کے نواح میں واقع ہے۔ کیرلن رابنسن (Carolyn Robinson) نے اپنی ایک رپورٹ میں مسجد کو امن و امان کا مرکز قرار دیا ہے۔ وہ لکھتی ہیں۔’’’مسجد النورنیوزی لینڈ کی قدیم ترین اور کرائسٹ چرچ کی سب سے بڑی مسجد ہے۔

نیوزی لینڈ آنے والے مسیحی مہاجرین کو بھی اسی مسجد نے پناہ دی۔یہ امن گاہ ہے جہاں محبت اور انسانیت کے دریا بہتے ہیں‘‘۔ مگر ،جدید ترین ہتھیاروں سے لیس دہشت گرد1:40منٹ پر النور مسجد کے قریب پہنچا ،پوری مہارت کے ساتھ دہشت گرد نے گاڑی سے اترتے ہی نمازیوں کو نشانے پر لے لیا،اور ان پر گولیاں برسانا شروع کردیں۔ 5 نمازی مسجد کے دروازے پرشہید ہوئے۔لمحوں میں دہشت گرد مسجد کے اندر داخل ہوا ۔دہشت گرد انتہائی تربیت یافتہ لگتا ہے۔ ویڈیو کے مطابق وہ پہلے مردوں کے کمرے میں پہنچا پھر خواتین کی کمرے کی جانب بڑھا۔

جہاں اس نے نمازیوں کے سروں اور سینوں کا نشانہ لیا۔اس کے سیدھے فائر سے کوئی نہ بچ سکا۔اس نے لاشوں کو ٹٹول کر بھی دیکھا، جس میں ذراحرکت نظر آئی ،اسے دوبارہ خون میں نہلا دیا۔17منٹ کی ویڈیو میں دہشت گرد ہیلمٹ میں نصب کیمرے سے ہالی ووڈ کی شوٹنگ کی طرح دل دہلا دینے والے خوفناک قتل عام کی فلم بندی کرتارہا ۔اس نے نمازیوں پر دو منٹ تک گولیاں برسائیں، بعدازاں مسجد سے باہر نکل آیا۔اپنے آتشیں اسلحہ کولوڈ کیا اور دوبارہ مسجد میں داخل ہوگیا ۔

دہشت گرد گولیاں برساتے ہوئے ایک سائیڈ سے دوسری طرف حرکت کرتارہا، مقصد تمام نمازیوں کو خون میں نہلانے کے سوا کچھ نہ تھا۔ فوٹیج میں بے حس وحرکت پڑے بے جان نمازیوں پر لوگ ایک ایک کر کے گرتے رہے۔ مزید چند منٹ فائرنگ کرنے کے بعد دہشت گرد اطمینان سے اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا ۔امن کے اس گہوارے میں سفید فام دہشت گرد نے 42نمازیوں کے خون سے ہاتھ رنگے

۔دوسری مسجد میں پہنچنے تک وہ مسلسل خود کلامی کرتارہا۔۔۔’’ مجھے تو نشانہ لینے کا وقت بھی نہیں ملا، اتنے زیادہ شکار تھے ‘‘۔اپنی دانست میں سب کو شہید کرنے کے بعد دہشت گرد النور مسجد سے 5کلومیٹر دور واقع دوسری مسجد میں گھس گیا ۔جہاں اسے باہر ہی ایک پاکستانی نے روک لیا۔امام مسجد نے شور و غل سن کر باہر کی جانب دیکھا،وردی والے کو دیکھ کر وہ مطمئن ہو گئے اور انہوں نے نماز جاری رکھنے کی ہدایت دی۔

اگلے ہی لمحے گولیوں کی ٹر ٹرسے وہ سہم گئے ’’یہ معاملہ کچھ اور ہے‘‘اتنا کہہ کر انہوں نے تمام نمازیوں کو لیٹ جانے کا حکم دیا ۔باہر کشت و خون کرنے کے بعد وہ اندر داخل ہو گیا۔نمازی پہلے سے محتاط تھے، چنانچہ محفوظ رہے۔ مسجد لنووڈمیں 7نمازی موقع پر ہی شہید ہوگئے۔ اب اس کی منزل ہسپتال تھی۔جہاں وہ زخمیوں کو مارنا چاہتا تھا۔اسی لمحے وہاں تربیت کے لئے موجود دو سپاہیوں کو خبر ہو گئی۔

ان دونوں سپاہیوں کوآرگنائزڈ کرائم کی روک تھام کے لئے دہشت گردوں سے نمٹنے کی تربیت دی جا رہی تھی۔موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے دونوں اپنی کار میں مجرم کے پیچھے لگ گئے۔اسے پتہ بھی نہ چلنے دیا کہ پولیس پیچھے ہے۔بالآخرانہوں نے کار کو سائیڈ مار کر روک لیا۔اس سے پہلے کہ وہ گن اٹھاتا،ایک نے کار سے باہر گھسیٹتے ہوئے اسے زمین پر گرا لیا۔ نیوزی لینڈ ایک اور سانحے سے بچ گیا۔آسڑیلوی وزیراعظم اسکارٹ موریسن کے مطابق دہشت گرد آسٹریلوی شہر ی ہے۔پولیس نے ایک خاتون سمیت 4افراد کو حراست میں لیا۔بعد ازاں ایک کو رہا کر دیا گیا۔

سفید فام دہشت گرد کی گاڑی سے بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد بھی ملاجسے انہوں نے ناکارہ بنا دیا۔گورے نسل پرست، دہشت گردنے حملے کی 17منٹ کی فوٹیج بھی فیس بک اور 8Chanپر اپنے ہیلمٹ میں نصب کمیرے سے لایئو نشر کی۔جسے فیس بک بروقت ہٹانے میں ناکام رہی۔ اس معاملے کونیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے بھی فیس بک انتظامیہ کے روبرو اٹھایا ہے۔تاہم فیس بک انتظامیہ کے مطابق اس نے ایک دن میں12لاکھ ایسی ویڈیوز کو اپ لوڈ ہونے سے روکا جبکہ مزید تین لاکھ اپ لوڈ ہوتے ہی ہٹا دی گئیں۔اب تک ہٹائی جانے والی ویڈیوز کی تعداد کروڑوں میں ہو گئی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے اب بھی یہ ویڈیوز لاکھوں کی تعداد میں مختلف گروپوں کے پاس موجود ہوں گی۔ کینٹری بری ڈسٹرکٹ ہیلتھ بورڈ کی ترجمان کے مطابق ’’سانحہ کی خبر سنتے ہی ہسپتال میں ایمرجنسی کے تحت فوری کارروائی کی گئی جس سے زخمیوں کے علاج معالجہ میں سہولت ملی۔پولیس نے ناصرف مساجد بند کروادیں بلکہ کرائس چرچ کے متعلقہ علاقے کے تمام مکینوں کو بھی گھروں کے اندر رہنے کا مشورہ دیا۔ واقعہ کے فورا ًبعد حفاظتی انتظام کے طور پر تمام سکولوں کو بند کردیا گیا تاہم کچھ دیر بعد والدین کو اپنے بچے لے جانے کی اجازت مل گئی۔

ڈین ایونیو ماسک کے قریب ہی ایک اسٹور میں کام کرنے والے 26سالہ امن سنگھ نے واقعے کی تفصیلات یوں بتائیں، ’’میں نے گولیوں کی آوازیں سنی جس کے ساتھ ہی ہر طرف چیخ وپکار اور خون میں لت پت لوگ دکھائی دیئے ۔میں بہت سے نمازیوں کو جانتاہوں اوروہ میرے بہت اچھے دوست ہیں۔مجھے نہیں معلوم ان پر کیا بیتی ۔میں تو اپنی بیوی کیساتھ اسٹور کے کونے میں چھپ گیا اورپولیس کی آمد پر باہر نکلا۔ راستے بند ہونے کی وجہ سے مجھے گھر جانے میں بھی دشواری پیش آئی‘‘ ۔ النور مسجدمیں زندہ بچ جانے والے ایک عینی شاہد نے کہا ’’گورے دہشت گرد نے نمازیوں کے عین سینوں پر گولیاں چلائیں ۔پہلے مردوں کے کمرے میں نشانہ بنایا ۔پھر وہ خواتین کے کمرے میں حملہ آور ہوا،

میں معمول کے مطابق نماز پڑھتارہا ۔میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ ہی دعاکی کہ خدارا اس کی گولیاں ختم ہوجائیں ،حملہ آور کبھی بائیں جانب ہوتا تو کبھی دوڑکر دوسری سمت میں پہنچ جاتا ۔ابھی ابھی مجھے ایک عورت کے مرنے کی خبر ملی ہے‘‘۔ ایک اور فلسطینی نے بتایا کہ ’’نامعلوم حملہ آور لوگوں کے سروں میں گولیاں ماررہا تھا۔ میں نے اوپر تلے کئی گولیاں چلنے کی آوازیں سنیں۔ دس سکینڈ کا وقفہ ہوا اور پھر فائرنگ شروع ہوگئی

یقینا کوئی خود کار ہتھیار ہو گا ورنہ اتنی تیزی سے ٹریگر دبانا ممکن نہیں ۔ہر طرف چیخ وپکا ر تھی۔ کچھ لوگ باہر کی جانب بھاگے، کچھ خون میں لت پت تھے‘‘۔ کرائسٹ چرچ ہسپتال میں بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ۔سانح پر نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈر آرڈرن نے کہا ہے : ’’ دونوں مساجد پر حملہ دہشت گردی ہے۔مرنے والے ہمارے اپنے ہیں، اور حملہ آور دہشت گرد کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔وہ مساجد پر حملوں کے بعدہسپتال میں زخمیوں کی کبھی جان لینا چاہتا تھا۔‘‘ اللہ کرے،یہ انفرادی واقعہ ہو،مگر ایسا ہے نہیں۔87

صفحات پر مشتمل منشور سے پتہ چلتا ہے کہ برینٹن ہیریسن ٹرینٹ (Brenton Harrison Tarrant) اکیلا نہیں۔ اس کے پیچھے مغرب میں ابھرتی ہوئی فاشزم اور ’’فار رائٹ‘‘(دائیں بازو کی انتہا پسند) سوچ ہے۔اس معاملے کو حل کرنا تو درکنار مغرب نے اب تک اس کا ادارک ہی نہیں کیا۔ہمیں ’’ڈو مور‘‘ کی تلقین کرنے والے مغرب نے اپنے اندر ابھرنے والی تمام انتہا پسندانہ تحریکوں کو کچلنے کی بجائے ان کے ووٹوں سے ہی حکومت بنائی۔ بلکہ انہیں کئی اہم وزارتوں سے بھی نوازا۔ اکثر ممالک میں انہوں نے وزارت داخلہ پر قبضہ کر کے من مانی کے قوانین نافذ کئے ۔آئیے سانحے کا پس منظر جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

12ستمبر 2018کو تھامس (Thomas Meany)نے ایک مضمون بعنوان ’’یورپ پر سیاہ دھبہ۔۔ امریکہ اور یورپ میں ابھرتی ہوئی دائیں بازو کی انتہاپسندانہ جماعتوں اور ان کا رویہ‘‘ میں یورپی سیاست کے نئے طرز پر گہری تشویش ظاہر کی۔ تھامس کے نزدیک ’’یورپ تیزی سے فاش ازم کی طرف لوٹ رہا ہے، ا س سے بھی زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ مغرب میںکسی کو بھی اس کا ادراک نہیں ہے‘‘۔ مصنف لکھتاہے ۔۔۔

’’ ڈونلڈ ٹرمپ کا اقتدارمیں آنا ایسے ہی ہے جیسے اس روز ملک میں جمہوریت ختم ہوگئی ۔یہ جمہوریت کا آخری دن تھا ،ہمیں 1930کے بد ترین مالیاتی بحران کی چاپ سنائی دیتی ہے ،پچ تیار ہے ۔اگر تجارتی جنگ میں شدت پیدا ہوتی ہے تو صدر ٹرمپ کامیاب رہیں گے۔مغربی لبرل ازم کے حامی فاشزم کے پرچارک بن چکے ہیں۔ اب یہی سیاست کا راستہ ہے‘‘۔ میڈلین البرائٹ یورپی فاشزم کا ایک شکار ہیں۔

انہیں یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ’’ دوسری جنگ عظیم کے بعد فاشزم ہی یورپ کے لیے سب سے سنگین اوربڑا خطرہ ہے‘‘۔ فنتان اوتولے (Fintan O\\\\\\\'Toole)کا شمار آئرلینڈ کے نامورلبرل دانشوروں میں ہوتا ہے ،بقول فنتان ،’’یورپ میں فاشزم اپنا راستہ بنارہاہے، ہم پری فاشزم دورسے گزر رہے ہیں‘‘۔ نیویارک ٹائمزکے مائیکل گولڈ برگ، فنتان سے متفق نہیں ۔ وہ لکھتے ہیں ۔۔۔

’’فاشزم آ نہیں رہا ،آچکاہے ۔لبرل مؤرخین اس پر اپنی مہریں تصدیق ثبت کر چکے ہیں ۔اب اس کو روکنا اداروں کی بربادی کے مترادف ہو گا‘‘۔ ییل(yale)سے تعلق رکھنے والے تاریخ دان اموتی سنیڈر نے ٹرمپ کے دو سالہ اقتدار کو فاشزم کا عکس قراردیا، بلکہ وہ اس سے آگے بڑھ گئے۔ لکھتے ہیں، ’’فرانس میں فار رائٹ برسر اقتدار آتے آتے رہ گئے‘‘ ۔ فرانسیسی انتخابات کے دوسرے راؤنڈ میں اہم حریف امیدوار میرین لی پین کی ناکامی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں،’’ اس نظریے (فار رائٹ )نے روم کو فتح کرلیاہے اورحتیٰ کہ سکینڈینیویا میں بھی فار رائٹ کا ماڈل نافذ ہے۔

سویڈن ڈیموکریٹس بھی ایسا کچھ ہی کررہے ہیں ۔برلن میں بھی فاررائٹ اور لبرل کے مابین میچ پڑچکا ہے۔ کرسچن ڈیموکریکٹ یونین کی سربراہ انجیلامرکل کو بھی اپنا اقتدار خطرے میں دکھائی دیا ۔جرمنوں کا ووٹنگ پیٹرن فاشزم کی جانب ہے ۔فاشزم کو بیان کرنا آسان نہیں۔ اس کی کئی تشریحات ہیں۔ بعض مؤرخین کے نزدیک فاشزم 1920اور 1930ء کی دہائی میں اٹلی نے دیکھا ۔ اکثر فاشزم کی وسیع تر تشریح کا اطلاق نازیوں اوررومانیہ کی عسکری تنظیموں پر کرتے ہیں۔جیسا کہ ان کے نزدیک جرمن گسٹاپو،آئرن گارڈ ،دی فرنچ پاپولر پارٹی اوردی اسپانش فلانجے سمیت بعض دوسری جماعتیں فاشسٹ ہیں ۔فاشزم کو مغرب میں صحیح طور پر پہچانا ہی نہیں جا سکا ،

وہاں لبرل ڈیموکریسی کی آڑ میں دراصل فاشسٹ تحریکیںہی چلائی گئیں۔یہ بتانا ضروری ہے کہ عیسائی جمہوریت اورلبرل ازم ایک ہی نظام کے دو نام نہیں۔دونوں میں تفریق کرنا ضروری ہے۔اس کی ایک اہم مثال ہنگری کے صدر وکٹر آربن ہیں۔وہ تمام جمہوری اصولوں کے منافی اقدامات کررہے ہیں ۔ وہ کثیرالثقافت اور امیگریشن کے خلاف ہیں ۔وہ ناصرف ہنگری سے بلکہ یورپی یونین سے بھی امیگرنٹس کو نکالنا چاہتے ہیں۔ جرمنی میں بھی صرف جرمنی ثقافت پر مبنی تعلیم دینے والے سکولوں کے قیام کی بحث چل رہی ہے وہاں بھی امیگرنٹس پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے‘‘۔

گزشتہ چند برسوں میں یورپ میں دائیں بازو کی قوم پرست جماعتوں نے تقویت حاصل کی۔ مسلمان چونکہ بہت بڑی تعداد میں بیرون ملک موجود ہیں، اسی لیے وہ ان انتہاپسندوں کا سب سے بڑا ہدف ہیں۔بالخصوص2017اور2018میں دنیا بھرمیں امیگرنٹس کو نکالنے کا مقصد لے کر فاررائٹ تحریکوں نے وزارت داخلہ پر اثر انداز ہونا شروع کر دیا۔ ہنگری میں Fideszنامی جماعت نے صرف 30برس کی جدوجہد کے بعداقتدار پر قبضہ کرلیا۔1988میں قائم ہونے والی اس جماعت نے 2018کے عام انتخابات میں 199 میں سے 134نشستیں جیت لیں۔ سوئٹرلینڈجیسا پرامن ملک بھی قوم پرستوں سے بچا ہوا نہیں ہے۔

وہاں’’ سوئس پیپلز پارٹی‘‘ نیشنل کنزوویٹ ازم کا ایجنڈہ لیکر 1971ء میں قائم ہوئی اور2015میں 200میں سے 65نشستوں پر قبضہ کرلیا۔ ڈنمارک کی مثال لے لیجئے۔قدامت پرستی اور ڈینشز نیشنل ازم کی بات کرنے والی ’’ڈینش پیپلزپارٹی‘‘ نے 2015میں 179میں سے 37نشستوں پر قبضہ کرلیا ۔پولینڈ اور اٹلی میں بھی یورپی ازم مضبوط ہورہاہے۔

اٹلی میں Lega Nordنامی گروپ نے 630میں سے 125نشستوں حاصل کی ہیں ۔ اس کو تقریباً 18فیصد ووٹ ملے۔ جرمنی میں Alternative for Germayنامی جماعت نے 2017کے انتخابا ت میں 631میں سے 94نشستوں پر قبضہ کرلیا فرانس میں نیشنل ریلی نامی فرنچ نیشنل ازم کی حامی جماعت نے بھی 13فیصد ووٹ حاصل کئے۔دی نیدرلینڈز میں ’’پارٹی فارفریڈم ‘‘بھی یورپی ازم کے ایجنڈے پر کابند ہے۔اس کے ووٹوں کا تناسب 13فیصد اورنشستوں کی تعداد 150میں سے 20ہے ۔ناروے انتہائی پرامن ملک ہے مگر وہاں بھی ’’پراگس پارٹی‘‘ 15فیصد ووٹ حاصل کرکے 169میں سے 27نشستیں لے چکی ہے۔ فن لینڈ میں’’فنس پارٹی‘‘ کا ایجنڈا بھی یورپی ازم ہے، وہ فرنچ نیشنلزم کی علمبردار ہے۔

اس جماعت نے 2015میں 18فیصد ووٹ لے کر200میں سے 38نشستیں حاصل کیں۔آسٹریامیں بھی دائیں بازو کے رہنما طاقتور سیاسی گروپ بن چکے ہیں۔ وہاں فار رائٹ جماعت کو26فیصد ووٹ اور 183میں سے 51نشستوں حاصل ہیں۔پولینڈ میں بھی کرسچن ڈیموکریسی اور نیشنل کنزرویٹ ازم کی حامی جماعت ’’لاء اینڈ جسٹس ‘‘سب سے بڑی اکثریتی پارٹی ہے، اسے 460نشستوں میں سے 235پر نمائندگی حاصل ہے۔ اگر دیکھا جائے تو دائیں بازو کی جماعتیں یورپی ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں بہت کمزورہیں جہاں انہیں قابل ذکر نمائندگی حاصل نہیں ۔پاکستان کے برعکس آسٹریا میں فریڈم پارٹی کے قوم پرست رہنما کیکل اور اٹلی میں دائیں بازو کی انتہاء پسند جماعت لیگ سے تعلق رکھنے والے matteo salviniوزیر داخلہ رہے۔ جرمن چانسلر انجلا مرکل نے بھی بطور وزیر داخلہ امیگرنٹس کو دبائو میں رکھا۔یہ دبائو اب بھی قائم ہے۔جارجیا یونیورسٹی میں سکول آف پبلک اینڈ انٹرنیشنل افیئرز کے پروفیسر کیس موڈے Cas Mudde بھی اسی خیال کے حامی ہیں۔

ان کے نزدیک ، دائیں بازو کی پاپولیسٹ ریڈیکل جماعتیں اور سیاستدانوں کی رائے میں منشیات سے لے کر امیگریشن تک ہر مسئلے کا تعلق امن وامان سے ہے،وہ امیگریشن امن و امنا کی خاطر امیگریشن پر کنٹرول کے حامی ہیں۔دائیں بازو کی انتہاء پسند جماعتوں اور ریڈیکل تحریکوں کے رہنماؤں کے نزدیک مقصد کی بجا وآوری کے لئے وزارت داخلہ کا حصول ناگزیر تقاضا ہے۔ یورپ میں بڑھتے ہوئے نیشنلزم پر بی بی سی نے بھی2018ء کے آخر میں ایک رپورٹ شائع کی تھی جس کے مطابق ’’15سے زائد یورپی ممالک میں قوم پرستوں کے ووٹ بینک میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

سوئٹرز لینڈ میں سوئس پارٹی (ووٹ بینک 29فیصد) ،آسٹریا میں فریڈم پارٹی(ووٹ بینک26فیصد)، ڈنمارک میں ڈینش پیپلز پارٹی (ووٹ بینک21فیصد )،فن لینڈ میں دی فنس پارٹی (ووٹ بینک 18فیصد) ،سویڈن میں سویڈن ڈیم کریٹس (ووٹ بینک17.6فیصد)، اٹلی میں دی لیگ(ووٹ بینک 17.4فیصد )اورہنگر ی میں جوبک پارٹی (ووٹ بینک19فیصد )طاقتور جماعت بن کر ابھری ہیں‘‘۔ چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ یورپ بھر میں امیگرنٹس کے خلاف تحریکیں چل رہی ہیں۔ جنہیں پانچ ممالک میں طاقتورحیثیت حاصل ہے۔وہ قوم پرستوں اور امیگریٹس مخالفین کو اقتداردلانے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔

مجھے ایسا دکھائی دے رہاہے کہ اٹلی سمیت کئی ممالک میں یہ قوم پرست طاقت میں آجائیں گے ۔ 13مارچ 2019ء کو ایسٹونیا میں بھی قوم پرستوں نے حکومت کو مشکل میں ڈال دیاہے ۔ وزیر اعظم ایسٹونیا اپنی حکومت بچانے کی کوششوں میں ہیں۔یورپی یونین کے ممالک میں لبرل پارٹی کے ممبران کے مطابق ’’اگلے پانچ برسوں میں یورپی یونین میں لبرل چھا جائیں گے‘‘۔

برطانوی اخبار دی گارڈین نے 5 مارچ 2019کوبرسلز میں اپنے نمائندے جینفر رینکن کے حوالے سے ایک تفصیلی مضمون شائع کیا ہے جس کا عنوان ہے ’’یورپی یونین کو قوم پرستی کے ناسور کا سامنااگلے پانچ برسوں میں شدت سے ہوگا‘‘ ۔ مئی میں ہونے والے انتخابات یورپی یونین کو پاپولرازم (عوامیت پسندی) سے بچانے کا آخری موقع ہوں گے‘‘۔ لبرل لیڈر Guy Verhofstatنے اعتراف کیاکہ، ’’یورپی یونین کو موجودہ دہائی کے وسط میں’’پاپولسٹ ۔نیشنلسٹ‘‘ (مقبول قوم پرستی) کا سامنا کرناپڑے گا۔ا س بحران سے بچ نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے ،

وہ یہ کہ عوامی حمایت کے حصول کے لئے اعتدال پسند یورپی کاز کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں ۔ 4دہائیو ں سے یورپی یونین کے انتخابات براہ راست ہورہے ہیں ،مگر یورپ میں پہلی مرتبہ دائیں بازو کی جماعتوں کی مخالفت کا سامناہے ،اگرچہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میخوان کی کامیابی کا امکان ہے مگر اعتدال پسند جماعتوں کو بھرپورمحنت کرنا ہوگی ورنہ 2024میں اقتدارپر قوم پرستوں اور عوامیت پسند (پاپولسٹ )جماعتوں کا قبضہ ہوگا ۔

انتخابات یورپی پارلیمنٹ کے لیے بڑا جھٹکا ہوں گے ،خوب ہل چل ہوگی۔مرکز بائیں (سنٹر لفٹ) اور مرکز دائیں(سنٹر رائٹ) جماعتیں گزشتہ 40 برسوں میں پہلی مرتبہ اپنی اکثریت کھو دیں گی‘‘۔ بیلجئیم کے سابق وزیراعظم نے صورتحال سے بچائو کے لئے یورپی یونین کواپنے نظام کی تنظیم نو کرنے، امیگریشن اور مشترکہ دفاعی نظام کا ازسرنو جائزہ لینے کا مشورہ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ’’ مغرب کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ دنیا میں کوئی نظام بھی دائمی نہیں، سیاسی ادارے بھی تاقیامت قائم نہیں رہ سکتے،ہر چیز بدل سکتی ہے۔ اب اصلاحات لانا ہمارافرض ہے اور اگر ہم اصلاحات لانے میں ناکام ہوگئے تو یہ بہت بڑا المیہ ہوگا‘‘۔میرے خیال میں یہی مسائل کا حل بھی ہے۔

نیوزی لینڈ میں دہشت گرد پولیس سے زیادہ مسلح ہیں:سروے رپورٹس

 

نیوزی لینڈ کا شمار پرسکون ممالک میں ہوتاہے ، 2017میں صرف 35افراد کا قتل ہونا امن وامان کی بہتری کا ثبوت ہے۔گزشتہ 30برسوں میں اسلحہ کے ناجائز استعمال کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ۔یہ وہاں دہشت گردی کا پہلابڑا واقعہ ہے۔قبل ازیں 30برس قبل 13نومبر 1990ء کو ڈیوڈ گرے (David Gray)نے ذاتی تنازعے پر ارامونا (Aramoana) میں اندھا دھند فائرنگ کرکے 13افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، جس کے بعد 1983میں بنائے گئے پہلے اسلحہ قانون پر 1993میں ترمیم ہوئی۔ عوام پر فوجی ساختہ، نیم خود مختار اسلحہ رکھنے پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔ لیکن پھر بھی نیوزی لینڈ میں اسلحہ قوانین کافی نرم ہیں۔ اس میں دو نمبری کی گنجائش بہت زیادہ ہے۔وہاں اسلحہ لائسنس کا ہونا بہت ضروری ہے مگر اسلحہ کو رجسٹر ڈ کروانا ضروری نہیں۔ ایک لائسنس کی آڑ میں متعدد بندوقیں اور دوسرا آتشیں اسلحہ رکھنے کا چور دروازہ بھی کھلا ہے۔وہاں 12لاکھ ہتھیار رجسٹرڈ ہیں ۔ 16سال سے زائد عمر کا کوئی بھی شخص اسلحہ رکھ سکتا ہے۔16کی نا پختہ عمر میں اسلحہ رکھنے کی اجازت دینا خود ایک خطرناک عمل ہے۔حیرت انگیز طور پر نیوزی لینڈ کی پولیس عام آدمی کے مقابلے میں کم مسلح ہے ۔2008میں صرف 48فیصد لوگ پولیس کو مسلح کرنے کےحق میں تھے،2017میں پولیس کو جدید ترین ہتھیاروں کی فراہمی پر ایک سروے ہوا ،جس میں ایک تہائی لوگوں نے پولیس کو جدید اسلحہ دینے کی مخالفت کی۔

 

بھارتی پروپیگنڈا دنیا کو تقسیم کر رہا ہے

اس المیے کے پیچھے بھارتی میڈیا کے حالیہ پراپیگنڈے کو نظر انداز کرنا مشکل ہے ۔پلوانہ میں 40جوانوں کی ہلاکت کے بعد بھارت نے 40سے زائد ممالک میں بھونچال لانے کی کوشش کی ۔تمام سوشل میڈیا، فیس بک ہو یا ٹیوٹر، یا پھر انسٹاگرام ،ہرجگہ ’’پلوامہ، پلوامہ‘‘ ہوگئی ۔ بھارت نے دنیا بھر میں مسلمانوں،پاکستان اورپاکستانیوں کے خلاف زہریلا پروپیگنڈاکیا۔بھارت کی اس انتہاء پسندانہ سوچ نے نہ صرف بھارت کے اتحاد کو پارہ پارہ کیا بلکہ یورپ پر بھی اثرات مرتب کئے۔اس کے نتیجے میں بھارت میں مقبوضہ کشمیر اورخالصتان علیحدگی کی تحریکیں زور پکڑگئیں ۔بھارت نے الزام دیا کہ اس حملے کی ذمہ داری پاکستان میں موجود کسی گروپ نے قبول کرلی ہے حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہوا۔ کسی گروپ نے حملے کی ذمہ قبول نہ کی نہ اس نے کوئی بیان جاری کیا۔ایک کشمیری نوجوان کی ویڈیو بھارت میں بنی ، وہیں سے جاری ہوئی۔ویڈیو کا کوئی فرانزک ٹیسٹ ہوانہ تحقیق۔ بھارتی میڈیا نے ہی اسے اپ لوڈ کیا اور بھارتی حکومت نے ہی اس کی بنیاد پر الزامات دھر دئیے۔نوجوان نے بھارتی علاقے سے اسلحہ خریدا اور افغانستان میں تربیت لی ۔پھریہ ہے سادہ سی حقیقت۔مسلمانوں کے خلاف زہریلے بھارتی پروپیگنڈا کے زیر اثر ہی 28سالہ آسٹریلوی نوجوان گمراہ ہوا، جس پر سب کا سر شرم سے جھک گیاہے ۔آسٹریلوی وزیراعظم سکارٹ موریسن (Morrison Scott ) ہوں، یا نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن(Jacinda Ardern)،سبھی کو دلی رنج ہواہے۔جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے،سبھی عالم سوگ میں ہیں۔ آسٹریلوی وزیراعظم سکاٹ موریسن یہ کہتے ہوئے بہت غمزدہ ہیںکہ ’’مبینہ دہشت گرد آسٹریلوی شہرت کا حامل ہے، وہ انتہاء پسند ہے اوردائیں بازو کا دہشت گرد ہے‘‘۔

اب یورپ کو ’’ڈو مور‘‘ کی ضرورت ہے!

مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والا دہشت گرد امیگرنٹس پالیسوں کا شدید مخالف ہے ،تاہم وہ اس سے پہلے پولیس کی نظروں میں نہیں آیا۔وہ ہسٹری شیٹر نہیں۔ہم سمجھتے ہیں یورپی ممالک کی پولیس نہایت پھرتیلی ہے، آناً فاناً ردعمل ظاہر کرتی ہے مگر دومساجد پر حملے کے لئے اس نے خطرے کی گھنٹی پہلے ہی بجا دی تھی،سوشل میڈیا پر ڈال دیا تھا کہ وہ کیا کچھ کرنے والا ہے۔اس کے باوجود پولیس اس واقعے کو روکنے میں ناکام رہی۔پھردہشت گردی میں کم از کم 17منٹ لگے ۔دہشت گرد لائیو ٹیلی کاسٹ کرتے رہے،سوشل میڈیا ریڈ الرٹ رہا،دہشت گرد سب کچھ اپ لوڈ کرتا رہا۔ دہشت گرد اپنے ساتھ بھاری مقدارمیں اسلحہ لائے تھے ،وہ دونوں مساجد کے باہر اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد پھینک کر فرار ہوگئے ۔ بلکہ اس بات کا کریڈٹ بہرحال نیوزی لینڈ کی پولیس کو جاتاہے کہ اس نے دن ڈھلنے سے پہلے چار مرکزی دہشت گرد گرفتار کرکے کاروں میںدھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنایا۔پولیس نے ایک عورت سمیت چار دہشت گرد گرفتارکئے ہیں۔ ایک بے گنا ہ نکلا، جسے چھوڑدیا گیا ۔ دہشت گرد اپنے مقصد میں پورے طورپر کامیاب رہا کیونکہ امن وامان کی خراب حالت کے پیش نذر شہر کی تمام مساجد کو تاحکم ثانی بند کردیاگیا ہے ۔دونوں مساجد کے قریب واقع پاپانوئی ہائی سکول میں پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کردی گئی تھی ۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا بھر کی متنازعہ شخصیات میں سے ایک ہیں۔2016 کے صدارتی انتخابات سے قبل دنیا انہیں ایک کاروباری شخصیت سے تعبیر کرتی ...

مزید پڑھیں

8جولائی 2019کو قطر میں عروج پر پہنچنے والے ’’امریکہ طالبان مذاکرات‘‘نائن الیون سے صرف چار دن پہلے اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں۔ ا ...

مزید پڑھیں

جن ممالک میں جمہوریت نے جنم لیا ہے اب ان ہی ممالک میں جمہوریت کو لپیٹنے کا عمل بھی جاری ہے،بھارت سے برطانیہ تک جمہوریت خطرے میں ہے۔بھارت ...

مزید پڑھیں