☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) سپیشل رپورٹ(صہیب مرغوب) رپورٹ(پروفیسر عثمان سرور انصاری) عالمی امور(نصیر احمد ورک) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() خواتین( محمدشاہنوازخان) خواتین(نجف زہرا تقوی) خصوصی رپورٹ(ایم آر ملک) شوبز(مرزا افتخاربیگ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) دنیا کی رائے(شکیلہ ناز) دنیا کی رائے(تحریم نیازی) دنیا کی رائے(مریم صدیقی)
سپر پاور امریکہ طالبان سے مذاکرات پر مجبور کیوں ہوا ؟

سپر پاور امریکہ طالبان سے مذاکرات پر مجبور کیوں ہوا ؟

تحریر : نصیر احمد ورک

03-08-2020

 سال گزشتہ کی بات ہے جب 2ستمبر کو زلمے خلیل زاد کے ساتھ مذاکرات کے 9طویل ادوار کے بعد طالبان مذاکرات پر آمادہ ہوئے یہ امریکی فوجیوں اور امریکہ کے ساتھ جنگ میں شامل دیگر ممالک کیلئے انتہائی خوشی کا مقام تھا
 

 

اس معاہدے کے تحت طالبان اور امریکہ نے مشترکہ طور پر جنگ بندی اور افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا پر لکھی گئی دستاویز پر دستخط کرنا تھے جبکہ امریکہ اور طالبان نے مشترکہ طور پر ایک پریس کانفرنس بھی کرنا تھی یہ مشترکہ تقریب دوحہ (قطر )میں ہونا تھی لیکن کابل میں ہونے والے ایک دھماکہ نے جنگ بندی کی خواہش رکھنے والی سپر پاور اور دیگر حلیف قوتوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ایک ضدی اور روایتی سفارتی ضابطوں سے آزاد امریکی صدر نے ایک ٹویٹ کے ذریعے مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کا اعلان کردیا امریکی ذرائع ابلاغ نے کابل بم دھماکے کو ایک بہانہ قرار دیا۔ 

2012میں بھی فرانس کے دارالحکومت پیرس کے نواح میں تحریک طالبان کی قیادت کے ساتھ امریکہ اور مغربی ممالک مذاکرات کرنے پر مجبور ہوئے اور یہ مذاکرات بند کمرے میں ہوئے دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کرانے والی فرانسیسی فائونڈیشن فار سٹریٹجک ریسرچ نے کیا اور یہ کہا کہ ملاقات کی تفصیلات نہیں جاری کی جائیںگی یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ یہ ملاقات امریکہ نے بندکمرے میں کیوں کی؟ منتظمین کے مطابق اس ملاقات کے بارے میں زیادہ معلومات دنیا کو دینا مقصود نہیں تھی۔ طالبان قیادت کے ساتھ یہ مذاکرات ماضی میں بھی کئی بار ہوئے مگر طالبان امریکہ کی ایک شرط بھی ماننے پر رضامند نہیں ہوئے کیونکہ طالبان قیادت کا موقف تھا کہ شرائط ہمیشہ فاتح منواتے ہیں مفتوح نہیں امریکہ تب بھی مایوس ہوا کہ کوئی ضمانت نہیں کہ پیرس ملاقات میں تحریک طالبان کی نمائندگی کرنے والے شہاب الدین دلاور اور نعیم وردگ مصالحت کرنے کیلئے آمادگی ظاہر کریں گے۔ سوال یہ ہے کہ 18سالہ جنگ میں سپر پاور اس نہج تک کیوں پہنچی کہ ایسے مسلمان جنگجوئوں کے ساتھ مصالحت کی راہ ہی راہ فرار ہے اس کا پس منظر کھوجنے کی ضرورت ہے۔ 
دسمبر 1979ء میں سوویت یونین کے چیف آف جنرل سٹاف مارشل نکولائی اوگارکوف 24نے ایک آرڈیننس پیش کیا تھا جس کے مطابق اُسی سال 25دسمبر کو سوویت فوج کو افغانستان کی سرحد پار کرنے کا حکم دیا گیا اُس روز افغانستان میں سوویت یونین کی فوجی موجودگی کی ابتدا ہوئی تھی افغانستان کی انتہائی اہم جیو پولیٹیکل پوزیشن کی وجہ سے افغانستان پر قبضہ کرنا سوویت یونین کا سنہری خواب تھا ،مسلمانوں کی صفوں میں ازل سے ہی غدار جنم لیتے رہے ہیں،اور 1978ء میں افغان لیڈرز نور محمد ترکئی اور حفیظ اللہ امین نے دورہ ماسکو کے دوران روس کو فوجی مداخلت کی باقاعدہ دعوت دی مگر اس وقت کے سوویت رہنما لیونیڈ بر ژنیف نے افغانستان میں سوویت فوج کی تعیناتی کے قطعی خلاف رائے دی مارچ 1979ء میں جب ہرات میں افغان فوج کے ایک ڈویژن نے باغیوں کا ساتھ دیا تو افغانستان میں داخل ہونے کا سوال پھر پیدا ہوا لیکن برژنیف نے اس امکان کو ایک بار پھر مسترد کر دیا ستمبر 1979ء میں حفیظ اللہ امین بر سر اقتدار آئے تو سوویت قیادت کے موقف میں تبدیلی آگئی اس کے باوجود سوویت یونین کا جنرل سٹاف افغانستان میں فوج کی تعیناتی کے خلاف تھا افغانستان میں کام کرنے والے سوویت فوجی مشیروں کے رہنما لیفٹیننٹ جنرل لیو گوریلوف جنہوں نے بار بار ماسکو میں منعقدہ خصوصی کمیشن برائے افغانستان کے اجلاسوں میں حصہ لیا تھا افغانستان میں سوویت یونین کی فوجی موجودگی کے خلاف بنیادی اور ٹھوس دلائل پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغان قوم غیر ملکی معاونت کے بغیر لڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ان عسکری تجزیہ نگاروں کے دلائل و آراء کے باوجود سوویت یونین نے افغانستان میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا اور گیارہ برس کے بعد جب آخری سوویت سپاہی افغان سرزمین سے عبرت ناک شکست کھا کر باہر نکلا تو دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقت کا شیرازہ بکھر چکا تھا اور اُس کا معاشی طور پر یوں دیوالیہ ہوچکا تھا کہ سوویت یونین کے حکمران کی بیٹی لائن میں لگ کر کھا نا مانگ رہی تھی امریکہ نے دو سپر پاورز کے خوفناک انجام کو دیکھنے کے باوجود افغان طالبان کے ساتھ ایک ایسی جنگ کا آغاز کیا جس کی بنا پرجو امریکہ کو طالبان کے ساتھ مذاکرات پر مجبور ہونا پڑا یہ اور بات کہ طالبان نے اپنی دھرتی پر کسی مداخل کے ساتھ مذاکرات کو وہ اہمیت نہ دی جس کو ایک نام نہاد سپرپاورامید افزا نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ 
امریکی عسکری و سیاسی معاملات کے ایک ماہر نے کہا تھا کہ شمالی ویت نام پر حملہ کرنے کا فیصلہ کرتے وقت امریکہ نے تاریخ کے اسباق کو سامنے نہ رکھا دانشور کے مطابق امریکی سیاسی قیادت اس وقت یہ بھول گئی کہ ماضی میں جاپان، چین اور فرانس جیسی بڑی طاقتیں ہزاروں سال کی کاوشوں کے باوجود بھی انڈوچائنہ پر اپنا مستقل تسلط بر قرار نہ رکھ سکیں۔تجزیہ نگار ریٹائرڈ جنرل عبدالقیوم کے مطابق ویت نام میں امریکی ہزیمت کی دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ امریکی قیادت نے امریکی قوم کو اس جنگ کیلئے ذہنی طور پر تیا ر بھی نہ کیا یہ نہ جانتے ہوئے کہ National-willکی عدم موجودگی میں صرف ہتھیار وں کے بل بوتے پر میدان میں کود پڑنے والی طاقتوں کیلئے شکست نوشتہ دیوار بن جاتی ہے ،نامور دانشور Santayana نے کہا تھا ،
Those who can not remember the past are condemed to repeat it.
یعنی جو اقوام ماضی کی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھتیں وہ ان غلطیوں کو پھر دہراتی ہیں۔
 سابق امریکی وزیر خارجہ ہنر ی کسنجر نے کہا تھا ’’ ویت نام اب بھی امریکی قوم کے ذہنوں پر سوارہے اس سانحے نے امریکی Judgment امریکی credibilityاور امریکی طاقت کو نہ صرف امریکی عوام بلکہ بین الا قوامی برادری کے ذہنوں میں بھی ایک سوالیہ نشان بنا دیا ہے جس سے امریکہ میں ایک زہریلا اور نقصان دہ مباحثہ شروع ہو گیا ‘‘۔
تجزیہ نگار ریٹائرڈ جنرل عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ پچاس سال گزرنے کے بعد امریکہ نے افغانستان اور عراق پر حملے کر کے پھر وہی غلطی دہرائی اور اگر آپ کو یاد ہو تومیک کرسٹل جیسے امریکی جنرل کہہ رہے تھے کہ جنگ شرع کرنے سے قبل ہم نے افغانستان کی تاریخ پڑھی اور نہ افغان قوم کی قوت مدافعت کا صحیح اندازہ لگایا اب امریکہ ایک ایسے جال میں پھنسا ہوا ہے کہ جس سے جان چھڑانی بھی مشکل ہو گئی ہے وہ کہتے ہیں کہ اس ہزیمت کی سیاسی و عسکری وجوہا ت کا پس منظر یہ ہے ۔
۱۔ نائن الیون کے واقعہ میں کوئی حقیقت نہ تھی اگر تھی تو نائن الیون کا واقعہ دراصل امریکہ کی مشرق وسطیٰ سے متعلق غلط خارجہ پالیسی کی وجہ سے رونما ہوا یہی وجہ ہے کہ امریکی سول ائیر لائنز کو ہائی جیک کرنے والے تمام انیس افراد کا تعلق مشرق وسطیٰ سے بتایا گیا ،امریکہ کے اس جھوٹ کو مان بھی لیا جائے تو یہ ایک سیا سی مسئلہ تھا جس کو سیا سی طور پر حل کرنے کی بجائے امریکہ نے توپ کی بیرل کا سہارا لیا اور لاکھوں بے گناہ انسانوں کو قتل کر کے مسلم دنیا کی حقارت بھی مول لی۔
۲۔عراق اور افغانستان کے میدان جنگ امریکہ سے کئی ہزار میل دور ہیں اس لئے یہاں گولہ، بارود، راشن اور اسلحہ پہنچانا اور یہاں سے زخمیوں اور مردہ سپاہیوں کی لاشوں کو واپس دنیا کے دوسرے سرے پر واقع براعظم امریکہ میں لے جانا ایک بہت ہی ڈرائونا خواب ہے یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے جنوبی ایشیاء اور مشرق وسطیٰ کے خطوں میں سیا سی عسکری اور معاشی حوالے سے کافی نقصان اٹھا یا۔ 
۳۔امریکی آرمڈ فورسز جنرل کے مطابق عراقی فوج کو شکست دینے اور عراقی عوام کو تحفظ دینے کیلئے تقریبا 4لاکھ 70ہزار فوجی درکار تھے لیکن امریکی جنرلز Post.Iraq.Warکی صحیح صورت حال کا با لکل اندازہ نہ لگا سکے اور طاقت کے نشے میں چُورتھوڑی سی فوج لیکر میدان جنگ میں کود پڑے فوجی قیادت نے سیاسی قیادت کو یہ نہ بتایا کہ عراق اور افغانستان میں اصلی جنگ صدام حسین اور ملا عمر کے جانے کے بعد شرع ہوگی خاص طور پرافغانستان کے حالات یہی وجوہات بنے امریکی فوجی قیادت کی ناکامی کی اصل وجہ یہ ہے کہ فوجی قیادت نے مزاحمتی فورسز کی طاقت حوصلے اور قوت ارادی کے بہت غلط اندازے لگائے۔
۴۔ امریکہ نے کرزئی حکومت اور اپنے عسکری دستیوں کی قوت کا بھی غلط اندازہ لگایا اور پاکستان جو اس جنگ میں فرنٹ لائن کا اتحادی تھا کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھا گیا اور کابل کی چابیاں ہندوستان اور شمالی اتحاد کوپکڑا دیں اب بھی انڈیا اپنے 25ہزارفوجی یہاں اتارنے کا خواہاں ہے حالانکہ امریکہ کی اس جنگ کی قیمت سب سے زیادہ پاکستان نے چکائی ۔ امریکی فوج کے انخلاء کے بعد بھارتی مداخلت کا انجام برطانیہ اور روس سے بھی بھیانک ہوگاجس کا اندازہ مودی کو نہیں ہے۔
۵ ۔افغانستان میں سول آبادی پر بے دریغ حملے ، افغانی فوج میں 80فیصد شمالی اتحاد کی شمولیت کرزئی اور اس کے بھائی، عبداللہ عبداللہ اور وارلارڈز کو کھلی چھوٹ امریکہ کے مقاصد کی راہ میں رکاوٹ بنے۔
۶۔پاکستان پر ڈرون حملے ،پاکستان کے اندر پراکسی جنگ کی حوصلہ افزائی اور پاکستان کے بے تحا شا مالی و جانی نقصانات بھی امریکی شکست کا سبب ہیں اور حیرانگی کی بات یہ ہے کہ امریکہ جنگ ہارنے کے بعد بھی اب یہ چاہتا ہے کہ اس کے کٹھ پتلی افراد صدر رہیں ہر بار صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے ایسے صدور کا انتخاب امریکہ کا وطیرہ رہا ،امریکہ کا عطا کیا ہوا آئیں افغانستان میں لاگوہے ، افغان طالبان کے حریف اہم عہدوں پر قابض ہیں ،ہندوستا ن کے جاسوس بھی افغانستا ن میں موجودہیں ، سب سے بڑھ کر یہ کہ شکست خوردہ امریکہ کی افواج شمالی افغانستان کے اہم عسکری اڈوں کو خالی نہیں کررہیں۔
لبر ل دانشوروں کی نظر میں یہ عجیب و غریب مطالبات ہیں جو ایک فاتح ملک تو اپنے زور بازو سے لاگو کر سکتا ہے لیکن ایک شکست خوردہ سلطلنت جس کا اپنا بازو ٹوٹا ہوا ہو وہ ان شرائط کو نہیں منوا سکتی اب طالبان مذاکرات کی میز پر بھی ماضی کے پرانے مطالبات دہرا رہے ہیں کہ اتحادی افغانستان سے نکل جائیں افغان جنگ میں شہید ہونے والوں کے لواحقین اور زخمیوں کو معاوضہ ادا کیا جا ئے نیٹوفوجیوں کے خلاف جنگی جرائم سرزد کرنے کے مقدمات درج ہوں افغانستان میں ہونے والی تباہی کا بین الاقوا می ادارے معاوضہ ادا کریں کہا جاتا ہے کہ امریکہ کی شکست کو 2003میں بلیک واٹر نے جیت میں بدلنے میں اہم کردار ادا کیا تھا ایک طرح سے داعش کا خالق بھی بلیک واٹر کا چیف ایرک پرنس ہی تھا جو طالبان کے مد مقابل داعش کو لیکر آیا جبکہ شام میں ہونے والی کارروائیوں میں بھی داعش کا ہی ہاتھ ہے جب روس نے داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی تو امریکہ منافقانہ فلاح انسانیت کا نعرہ لگاتے ہوئے چیخ پڑا۔ عراق میں جو آج تک خانہ جنگی کی کیفیت ہے اس کی محرک بھی انسانیت دشمن تنظیم بلیک واٹر ہے جس کی پالیسیوں کی وجہ سے بے گناہ افراد خواتین ،بچوں اور بوڑھے افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا فسادات کرائے گئے حال ہی میں عراق کی سرزمین پر شہید ہونے والے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت میں بھی بلیک واٹر کی جاسوسی کا ہاتھ تھا جس نے اس کی باقاعدہ ریکی کی امریکہ نے اس کے علاوہ بھی بہت سے ٹارگٹ بلیک واٹر کے ذریعے حاصل کئے مگر امریکہ کی کمر اس وقت ٹوٹی جب افغانستان میں طالبان نے امریکہ کے  800کروڑ مالیت کے ایک جہاز کو مار گرایا جس میں سی آئی اے کے ہائی پروفائل افراد کے علاوہ بلیک واٹر کے اہم افراد بھی شامل تھے ۔
 امریکہ نے سپر پاور ہونے کا زعم دنیا پر مسلط رکھنے کیلئے اسے ایک حادثہ قرار دیا مگر ایسا نہیں تھا یہ طالبان کی ایک بہت بڑی کامرانی تھی ،یہ ایک ایسا سانحہ تھا جس نے امریکہ کو ایک بار پھر طالبان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ٹرمپ نے اپنے دورہ بھارت کے دوران ایک پاکستان دشمن ملک کی سرزمین پر پاکستان کی تعریف اسی تناظر میں کی پاکستان ہی ایسا ملک ہے جو طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرسکتا ہے وزیر اعظم کا دورہ قطر بھی انہی دو طرفہ مذاکرات کا شاخسانہ سمجھا جارہا ہے افغانستان میں اس وقت امریکہ کے 16ہزار فوجی موجود ہیں جن پر ہر سال 52ملین امریکی ڈالر خرچ ہوتے ہیں افغانستان میں برسرِ پیکار امریکی فوجی اس وقت عجیب ذہنی کوفت کا شکار ہیں وہ راتوں کو اچانک ہربڑا کر اُٹھ بیٹھتے ہیں ایک تجزیہ نگار کے مطابق ایسے بہت سے امریکی افواج کے نوجوان خود کشی جیسے قبیح فعل کرنے پر مجبور ہیں افغانستان ایک ایسا خطہ ہے جہاں برسر پیکار برطانوی افواج نے لاشوں کا تماشا دیکھا اس جنگ کے بعد امریکی معیشت روبہ زوال ہے جلد یا بدیر امریکہ کو یہاں سے ذلت آمیز شکست کے بعد نکلنا ہوگا ۔
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 امریکہ میں صدارتی انتخابات ہوں گے یا یہ کورونا وائرس سے بچائو کی حکمت عملی کی بھینٹ چڑھ جائیں گے؟ کورونا وائرس انسانیت کے قتل کے ساتھ ساتھ امریکہ اور کئی دوسرے ممالک کے انتخابی عمل کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے ۔    

مزید پڑھیں

 خطے کو ایک بڑی خوشی مبارک ہو۔جمعہ اورہفتہ کے روز بھی کافی سرگرمیاں رہیں ، مذاکرات کے کئی دور ہوئے۔17جنوری کوامریکہ اور طالبان جنگ بندی پر آمادہ ہوگئے ہیں ۔دونوں نے خود جنگ کا آغازکیا تھا اب دونوں خود ہی جنگ بندی پر آمادہ بھی ہو گئے ہیں ۔۔دنیا کو امن مبارک ہو!    

مزید پڑھیں

اگلے چند برسوں میں دنیا کتنی بدل جائے گی؟ یہ آپ کے تصور میں بھی نہیں ہے۔ ایک ماہر عمرانیات نے کہا ، ’’انسان کوجتنا عروج ملنا تھا ، مل چکا ،انسانی ذہن میں مزید ترقی کو سنبھالنے کی سکت نہیں، اب زوال اس کامقدر ہو گا ۔انسان نے ہی دنیا میں زہر گھولا ہے۔

مزید پڑھیں