☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) متفرق(شہروزنوازسرگانہ/خانیوال) سپیشل رپورٹ(مولانا خورشید احمد گنگوہی) رپورٹ(عبدالحفیظ ظفر) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن() کھیل(منصور علی بیگ) خصوصی رپورٹ(خالد نجیب خان) صحت(حکیم قاضی ایم اے خالد) غورطلب(عابد حسین) عالمی امور(عبدالماجد قریشی) افسانہ(امین کنجاہی)
ایران پر امریکی پابندیاں

ایران پر امریکی پابندیاں

تحریر : عبدالماجد قریشی

04-12-2020

چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والے کورونا وائرس نے ایشیاء میں سب سے زیادہ ایران کو متاثر کیا ہے جہاں متاثرہ افراد کی تعداد 47 ہزار اور جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 3 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے
 

 

جب کہ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ متاثرہ افراد اور ہلاکتوں کی اصل تعداد اس سے زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں ایران ساتویں نمبر پر ہے۔ ایران کے شہر قْم میں گذشتہ ماہ کورونا وائرس سے پہلی دو ہلاکتوں کے بعد ایران نے سنجیدگی سے اقدامات شروع کیے تاہم یہ وائرس ملک کے تمام 31 صوبوں میں پھیل چکا ہے۔ایرانی صدر حسن روحانی نے تہران میں واقع اینٹی کورونا وائرس ہیڈکوارٹر سے ایک ویڈیو کانفرنس کے دوران شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ سفر سے گریز کریں۔
ایرانی حکام کی جانب سے شہریوں کو گھروں میں محدود رہنے کی ہدایت کے ساتھ کہا جارہا ہے کہ اگر کسی میں وائرس کی علامات پائی جائیں تو فوری طور پر وزارت صحت کی ویب سائٹ پر رپورٹ کریں۔وزارت کی ویب سائٹ پر شہریوں کو ان کے شناختی کارڈ نمبر کی مدد سے شناخت کیا جاتا ہے اور ان سے پوچھا جاتا ہے کہ انہیں کھانسی یا بخار تو نہیں۔یہ بھی پوچھا جاتا ہے کہ کہیں وہ وائرس سے متاثرہ مشتبہ شخص، کسی زیر علاج شخص یا حال ہی میں صحت یاب ہونے والے شخص کے ساتھ رابطے میں تو نہیں ہیں۔اگر علامات سنجیدہ نہ ہوں تو شہریوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ گھر پر ہی رہیں جبکہ یہ ویب سائٹ لوگوں کو یہ بھی بتاتی ہے کہ ان کے قریب کون سا طبی مرکز موجود ہے۔
ایران میں پھیلنے والے کورونا وائرس نے ملک عام آبادی کے ساتھ اعلیٰ قیادت کو بھی متاثر کیا ہے۔ کئی ارکان پارلیمنٹ اس وقت کورونا کا شکار ہیں۔ علی اکبر ولایتی جو تہران کے ایک اسپتال کے سربراہ بھی ہیں پچھلے چند ہفتوں میں کورونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں انہیں اب الگ تھلگ کردیا گیا ہے۔ایرانی محکمہ صحت کے مطابق اب تک ملک میں مجموعی طورپر 53 ہزار 183 افراد کورونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں جن میں سے 3294 افراد کا انتقال ہوا ہے جبکہ 17 ہزار935 متاثرہ افراد بھی صحت یاب ہوگئے ہیں۔گزشتہ دوسالوں کے دوران ایرانی عوام امریکہ کی انسانیت سوز پابندیوں کا شکار ہیں ۔ادویات کی سہولیات کی فراہمی میں ان کو بہت بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ 2015 کا نیوکلیئر معاہدہ ختم کرکے تجارتی پابندیاں لگائی تھیں۔ امریکہ کی یہ تجارتی پابندیاں ایران کے کورونا سے لڑنے کے اقدامات کی راہ میں حائل ہیں۔کورونا وائرس کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے ایران نے عالمی اقتصادی پابندیاں اٹھوانے کے لیے وزیراعظم پاکستان عمران خان کے نام ایرانی صدرحسن روحانی نے ایک خط میں ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرنے کا کہا ہے۔ ایسے حالات میں جبکہ ہر ملک کو اپنی اپنی پڑی ہے۔ اس عالمی وباء سے بچاؤ کے لیے دوسرے ملک کا ساتھ دینا فی الحال مشکل ہے۔ کورونا جہاں انسانی جانوں کو نگلے جا رہا ہے وہیں عالمی اقتصادی بحران کے شدید خطرات بھی لاحق ہیں ملکوں ملکوں کساد بازاری ہے۔ اس نازک ترین مرحلے پر پوری دنیا کو ایک دوسرے کے شانہ بشانہ ہونا چاہیے اور بلا امتیاز مذہب و نسل بھرپور مدد کرنی چاہیے۔ لہٰذا حالات کا تقاضا ہے کہ دنیا ایران کے معاملے پر کان دھرے۔
 ایران اور دنیا بھر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے رونما ہونے والے بحران کے پیش نظر اور ملک پر اٹھائے گئے شدید نقصانات کی وجہ سے تین ہزار ایرانی یوتھ آرگنائزیشنز نے اقوام متحدہ کے سربراہ آنٹونیو گوترش کے نام تین ہزار افراد کے دستخط سے ایک خط میں پابندیوں کے تسلسل کو روکنے کا مطالبہ کیاہے۔اقوام متحدہ کے سربراہ نے گزشتہ ہفتے کے دوران اقوام متحدہ کی اعلی کونسل برائے انسانی حقوق کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کورونا وائرس سے متاثرہ تمام ممالک کیخلاف عائد پابندیوں کو اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے تمام ممالک سے کوویڈ-19 کی روک تھام میں ایرانی کوششوں کے تعاون کا مطالبہ کیا۔ایران پر پابندیاں ختم کرنے کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپیل کی کہ جب تک کورونا وائرس کی عالمی وباء پر قابو نہیں پایا جاتا اس وقت تک کے لئے انسانی بنیادوں پر ایران سے پابندیاں ہٹائی جائیں۔گذشتہ دنوں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں لاکھوں لوگوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے پابندیوں میں نرمی کی جائے ۔ امریکی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کی جانب سے صدارتی نمائندگی کے امیدوار برنی سینڈرز سمیت دیگر اراکین کانگریس نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سخت پابندیاں ایران میں کورونا وائرس کی پھیلی ہوئی وباء سے نمٹنے کی کوششوں میں رکاوٹ ہیں اس لیے یہ پابندیاں ہٹائی جائیں۔ ایران سے امریکا کا تنازع کورونا کی وباء سے پریشان معصوم لوگوں کی مدد میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ لہذا امریکی حکومت ایرانی عوام کی براہ راست مدد کا حل نکالے تاکہ ایرانی عوام کورونا وائرس کا مقابلہ کرسکیں۔امریکی پابندیوں اور محدود وسائل کے بغیر تمام سرکاری محکمے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور نیم فوجی ملیشیا بسیج کے اراکین تہران میں کورونا وائرس سے بچنے کا سامان مفت تقسیم کر رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی امدادی سامان سے بھرے کارگو جہاز بھی ایران بھیجے جارہے ہیں۔
 فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے گزشتہ برس انسٹیکس کے قیام کا اعلان کیا تھا، انسٹیکس اسکیم کے تحت یورپ نیوکلیئر معاہدے کی شرائط پر ایران کو پابند رکھنے کا مجاز ہے مگر تجارتی پابندیوں کے باوجود یورپ نے ایران کوبائی پاس ڈیل کے تحت طبی امداد بھیج دی ہے۔یورپی ممالک سے ایران بھیجی گئی امداد میں طبی آلات اور ساز و سامان شامل ہے۔ یورپی ممالک کی جانب سے ایران کو بھیجی جانے والی یہ پہلی امداد ہے۔ ایران کو امداد بھیجنے والے ممالک میں فرانس، جرمنی اور برطانیہ شامل ہیں۔ ایران طویل عرصے سے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی طرف سے عائد پابندیوں کی زد میں رہا ہے۔ کئی پابندیاں 1979ء سے عائد ہیں جبکہ معاشی اور تجارتی نوعیت کی متعدد پابندیاں نوے کے عشرے میں نافذ کی گئیں۔ ایران کی مالی حالت خراب ہونے کی ایک وجہ وہ جنگیں اور خطے کے تنازعات ہیں جن میں ایران پھنسا ہوا ہے۔ عراق کے ساتھ مسلسل 8برس تک جنگ اور پھر خطے میں امریکی اتحادیوں کے مقابل کھڑا ہونے کی حکمت عملی نے ایرانی معیشت کے وسائل دفاعی منصوبوں پر خرچ کروائے۔ ایران کے قومی بجٹ میں ہسپتالوں‘ لیبارٹریوں اور تحقیق کے لئے رقم بہت قلیل ہوتی ہے۔
 

 

مزید پڑھیں

تاریخ گواہ ہے کہ ہر صدی میں کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ، حادثہ، سانحہ یا قدرتی آفت ایسی نازل ہوئی کہ جو اس دور کے لوگوں کے لئے ایک کڑی آزمائش اور چیلنج بنی اور آنے والی نسلوں کے لئے ایک عبرت، ایک مثال اور ایک قابل ذکر داستان بن گئی۔    

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 رات کی تاریکی میں انڈین فوج نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول کراس کرکے چینی حدود میں قلعہ بندی کر لی جسے ناکام بنا دیا گیا

مزید پڑھیں

  دنیا کے وہ ممالک جہاں دائیں بازو کے فاشسٹ نظریات رکھنے والی حکومتیں موجود ہیں وہاں کورونا وائرس کی بناء پر ہونے والی ہولناک تباہی کے باوجود اپنے انتہا پسند نظریات کو ہوا دے رہی ہیں ۔ 3 بڑی جمہوریتیں امریکہ،برازیل اور بھارت میں وہاں کے حکمراں کووڈ 2019 ء سے پیدا ہونے والے بحران کو تارکین وطن اور اقلیتوں کیخلاف جنگ لڑنے کیلئے استعمال کررہے ہیں اور اس لڑائی کوصرف اپنے نقطہ نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

 امریکہ میں صدارتی انتخابات ہوں گے یا یہ کورونا وائرس سے بچائو کی حکمت عملی کی بھینٹ چڑھ جائیں گے؟ کورونا وائرس انسانیت کے قتل کے ساتھ ساتھ امریکہ اور کئی دوسرے ممالک کے انتخابی عمل کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے ۔    

مزید پڑھیں