☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) متفرق(شہروزنوازسرگانہ/خانیوال) سپیشل رپورٹ(مولانا خورشید احمد گنگوہی) رپورٹ(عبدالحفیظ ظفر) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن() کھیل(منصور علی بیگ) خصوصی رپورٹ(خالد نجیب خان) صحت(حکیم قاضی ایم اے خالد) غورطلب(عابد حسین) عالمی امور(عبدالماجد قریشی) افسانہ(امین کنجاہی)
جنگ جیسا ماحول

جنگ جیسا ماحول

تحریر : دانیال احمد ہاشمی

04-12-2020

تاریخ گواہ ہے کہ ہر صدی میں کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ، حادثہ، سانحہ یا قدرتی آفت ایسی نازل ہوئی کہ جو اس دور کے لوگوں کے لئے ایک کڑی آزمائش اور چیلنج بنی اور آنے والی نسلوں کے لئے ایک عبرت، ایک مثال اور ایک قابل ذکر داستان بن گئی۔
 

 

بیسویں صدی کی بات کریں تو جنگ عظیم اول و دوم، برطانیہ اور سویت یونین جیسی عالمی طاقتوں کا زوال، تقسیم ہند، چین کا وجود میں آنا اور ترقی کرنا، ایران کا انقلاب ایسے واقعات ہیں جنہوں نے بیسویں صدی کی تاریخ رقم کی۔ اکیسویں صدی کی تاریخ میں سب سے بڑی آفت کو رونا وائرس ہے جس نے پوری دنیا کو یرغمال بنا دیا ہے اور ہر شعبہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ سوچنے بیٹھیں تو عقل انسانی دنگ ہو کر رہ جاتی ہے کہ ایک ملی میٹر سے بھی10 گنا چھوٹے ایک وائرس نے کاروبار جہاں معطل کر دیا ہے، 80 ہزار سے زیادہ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ 3لاکھ انسانوں کو متاثر کیا ہے جو ابھی اس کے وار سے محفوظ ہیں انہیں زندگی کے اہم ترین معمولات کو بھی ترک کر کے گھروں میں قید ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس اور طب کے میدان میں حیرت انگیز ترقی اور نت نئی تحقیقات کرنے والے یورپی ممالک، امریکہ اور چین تک اس موذی وائرس کے سامنے بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔
کورونا وائرس دنیا میں عذاب الہٰی کی ایک صورت ہے، انسانوں کی بداعمالیوں کے باعث پروردگار کی جانب سے ایک انتباہ ہے تاکہ وہ باز آ جائیں اور اپنے رب کی طرف رجوع کر لیں یا پھر ترقی کے نشے میں چور ہو کر خدا کو بھول جانے والوں کو اللہ رب العزت کی جانب سے ایک پیغام ہے کہ مخلوق چاہے کچھ بھی کر لے آخر خالق کی قدرت کے آگے اسے گھٹنے ٹیکنے ہی پڑتے ہیں۔ مخلوق بہرحال اس ذات باری کے ایک حرف کن کی محتاج ہے۔ تکبر اسی کو شایاں ہے کہ جو قادر مطلق ہو اور وہ صرف اللہ کی ذات ہے انسان نہیں۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کو رونا وائرس کے ذریعے خدا نے خوابیدہ اور غفلت میں ڈوبی امت مسلمہ کو بلکہ پوری انسانیت کو جھنجوڑا ہے تاکہ وہ بیدار ہو کر ہوش کے ناخن لے۔
     تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے جو بالکل مختلف اور اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ، بھیانک اور قابل غور ہے۔ وہ یہ کہ کورونا وائرس ایک بائیولاجیکل ویپن (biological weapon ) ہے جسے خود لیبارٹریز میں تیار کیا گیا اور پھر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پوری دنیا میں پھیلایا گیا۔ اس کا اصل ہدف چین اور ایران تھے لیکن وباء آخر سرحدوں کی پابند کب رہی ہے، یہ تو بس پھیلتی ہی چلی جاتی ہے۔ ماہرین کی رائے کے مطابق کورونا وائرس کی شکل میں دراصل انسانیت کے خلاف تیسری عالمی جنگ چھیڑی گئی ہے۔ اگر ہم دنیا بھر میں پیدا ہونے والی ہنگامی صورت حال پر غور کریں تو یہ احتمال اور بھی قوی ہو جاتا ہے۔ تعلیمی سرگرمیوں سے لے کر کاروبار تک کا پوری دنیا میں بیک وقت معطل ہو جانا، لوگوں کا گھروں تک محدود ہو کر رہ جانا، ایسا جنگ کے حالات میں ہی ہوتا ہے، اس سے پہلے بھی دنیا میں کئی وبائی امراض آئے اور آ کر چلے بھی گئے لیکن کسی وباء نے ایسی دہشت اور ایسا خوف و ہراس نہیں پھیلایا جیسا کہ کورونا وائرس نے پھیلا رکھا ہے۔ سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ اگر لاک ڈائون طویل عرصے تک جاری رہا تو پوری دنیا ایک شدید معاشی بحران کا شکار ہو جائے گی جس میں خوراک کی قلت کا خدشہ بہت زیادہ ہے۔ اس بحران سے پاکستان جیسے ممالک بہت بری طرح متاثر ہوں گے جن کے پاس پہلے ہی وسائل کی کمی ہے۔ لاک ڈاون کرتے ہوئے وزیر اعظم کو 25 فیصددیہاڑی دار طبقے کے حوالے سے جو خدشات لاحق تھے، جن کا برملا اظہار انہوں نے اپنی تقاریر میں کیا، ان سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم کسی معاشی بحران کے کتنے متحمل ہو سکتے ہیں۔ 
کورونا وائرس نے اجتماعی زندگی کے ساتھ ساتھ انفرادی زندگی کو بھی متاثر کیا ہے۔ وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لیے حکومت کی جانب سے لگائی گئی پابندی کی وجہ سے اکثر لوگ گھروں میں بند ہیں، محفلیں ختم ہوئیں اور رونقیں ماند پڑ گئیں، مصروفیت کی جگہ فراغت نے لے لی اور فراغت بذات خود ایک المیہ، ایک مسئلہ ہے۔ بزرگ اور اہل دانش کہتے ہیں کہ انسان انسان کی دوا ہے لیکن یہ عجیب مرض ہے کہ جس کی دوا تنہائی ہے اور پرہیز یہ ہے کہ کسی سے نہ ملا جائے، سب سے دور اور الگ تھلگ رہا جائے۔ تنہائی انسان کو اکیلا تو کر دیتی ہے لیکن خود کبھی اکیلی نہیں رہتی، ہمیشہ اپنے ساتھ اداسی اور بیکار خیالات لاتی ہے۔ اور پھر مجھ جیسے لوگ جو شعر و شاعری سے دلچسپی رکھتے ہوں، ان کے لیئے تو تنہائی سامان وحشت ہے اور کسی عذاب یا سزا سے کم نہیں۔ ہم اہل دل دل ہی دل میں خدا کو کربلا کے اسیروں کا واسطہ دے دے کر لاک ڈائون نامی اس اسیری کے جلد ختم ہونے کی دعائیں مانگتے رہتے ہیں۔ اس کیفیت کو میں نے کچھ یوں بیان کرنے کی کوشش کی ہے
کچھ یوں ہوا کہ ایک وباء پھیلتی گئی
پھر شہر اپنا شہر خموشاں سا ہو گیا
پہلو نشیں جو رہتے تھے اب ملتے بھی نہیں
ہر شخص محفلوں سے گریزاں سا ہو گیا
گھر سے نکلنا جرم ہے مل بیٹھنا منع
یہ حکم سن کے میں تو پریشاں سا ہو گیا
تنہائیاں بھلا ہیں کسی مرض کا علاج
دل کے اداس رکھنے کا ساماں سا ہو گیا
مختصر یہ کہ اب سوشل میڈیا پر world before Corona and after corona کہ عنوان پر باقائدہ memes بنائی جا سکتی ہیں۔ tiktok کے شوقین نوجوانوں نے تو اس سے متعلق کئی ویڈیوز بنانا شروع کر دی ہیں۔ ہماری قوم کا خاصہ ہے کہ چاہے کتنا ہی سنجیدہ معاملہ ہو ہم اس میں کہیں نا کہیں سے مزاح کا پہلو نکال ہی لیتے ہیں۔
     پاکستانی سیاست نے ہمیشہ سے ہی ایک میدان جنگ کا منظر پیش کیا ہے جہاں سیاسی حریف اور مخالفین ایک دوسرے پر لفظی گولاباری کرتے اور تنقید کے تیر چلاتے دکھائی دیتے ہیں لیکن یہ کورونا وائرس جب سے ملکی حدود میں داخل ہوا ہے، اس نے سیاسی محاذ کو کافی حد تک ٹھنڈا کر دیا ہے۔ ازل سے ایک دوسرے کو نشانے پر رکھنے والے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما آج یکجہتی اور مل جل کر اس مشکل کا سامنا کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال موجودہ حکومت کے لیئے بہت بڑا چیلنج ہے۔ ان حالات سے نمٹنے کے لیے کپتان اور ان کی ٹیم کی حکمت عملی اور کارکردگی ہی پاکستان کی سیاست میں ان کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔ شاید اپوزیشن بھی اسی انتظار میں خاموش ہے۔ کورونا وائرس کا تیزی سے پھیلنا اور انسانی زندگی کو اس قدر متاثر کرنا اور اس پہ ساری دنیا کی بے کسی اور لاچاری کو دیکھ کر قرآن کی یہ آیت یاد آ جاتی ہے، جس کا ورد بھی ہمارے لیئے اکسیر ثابت ہو سکتا ہے۔"بھلا کون ہے جو بیقرار کی دعا کو قبول کرتا ہے جب وہ اسے پکارے، اور وہ برائی کو دور کرتا ہے" (27:63)
 
 

 

مزید پڑھیں

چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والے کورونا وائرس نے ایشیاء میں سب سے زیادہ ایران کو متاثر کیا ہے جہاں متاثرہ افراد کی تعداد 47 ہزار اور جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 3 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے    

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 رات کی تاریکی میں انڈین فوج نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول کراس کرکے چینی حدود میں قلعہ بندی کر لی جسے ناکام بنا دیا گیا

مزید پڑھیں

  دنیا کے وہ ممالک جہاں دائیں بازو کے فاشسٹ نظریات رکھنے والی حکومتیں موجود ہیں وہاں کورونا وائرس کی بناء پر ہونے والی ہولناک تباہی کے باوجود اپنے انتہا پسند نظریات کو ہوا دے رہی ہیں ۔ 3 بڑی جمہوریتیں امریکہ،برازیل اور بھارت میں وہاں کے حکمراں کووڈ 2019 ء سے پیدا ہونے والے بحران کو تارکین وطن اور اقلیتوں کیخلاف جنگ لڑنے کیلئے استعمال کررہے ہیں اور اس لڑائی کوصرف اپنے نقطہ نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

 امریکہ میں صدارتی انتخابات ہوں گے یا یہ کورونا وائرس سے بچائو کی حکمت عملی کی بھینٹ چڑھ جائیں گے؟ کورونا وائرس انسانیت کے قتل کے ساتھ ساتھ امریکہ اور کئی دوسرے ممالک کے انتخابی عمل کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے ۔    

مزید پڑھیں