☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دنیا اسپیشل( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() صحت(حکیم محمد سعید شہید) عالمی امور(محمد سمیع گوہر) رپورٹ(سید مبشر حسین ) تاریخ(مقصود احمد چغتائی) کھیل(ڈاکٹر زاہد اعوان) افسانہ(راجندر سنگھ بیدی)
کووڈ 19 اور فاشسٹ سیاست

کووڈ 19 اور فاشسٹ سیاست

تحریر : محمد سمیع گوہر

05-17-2020

  دنیا کے وہ ممالک جہاں دائیں بازو کے فاشسٹ نظریات رکھنے والی حکومتیں موجود ہیں وہاں کورونا وائرس کی بناء پر ہونے والی ہولناک تباہی کے باوجود اپنے انتہا پسند نظریات کو ہوا دے رہی ہیں ۔

3 بڑی جمہوریتیں امریکہ،برازیل اور بھارت میں وہاں کے حکمراں کووڈ 2019 ء سے پیدا ہونے والے بحران کو تارکین وطن اور اقلیتوں کیخلاف جنگ لڑنے کیلئے استعمال کررہے ہیں اور اس لڑائی کوصرف اپنے نقطہ نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

جرمنی کی چانسلر انجیلا میرکل،جنوبی کوریاکے صدر مون جاان اور سنگا پور کے خود مختار ٹیکنو کریٹس کی موثر قیادت کے بالکل برعکس دنیا کے دور دراز کے علاقوں کے قوم پرست کورونا وائرس کی وبائی بیماری کے خلاف کچھ کرنے کے بجائے اپنے فاشسٹ خیالات کو ہوا دینے میں مصروف نظر آتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ نکاراگوان،ٹیگا،بیلاروس،ترکمانستان اور شمالی کوریا کے آمروں سمیت چند اور رہنما اس حقیقت سے انکار کررہے ہیں کہ کورونا وائرس سے دنیا کو کوئی خطرہ لاحق ہے۔برازیل کے صدر بالنسارو نے حال ہی میں اپنے وزیر صحت لیدز مینڈیٹا کو محض معاشرتی دوری کی پالیسی کی حمایت کرنے پر برطرف کردیا تھا۔ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنے ہم منصب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقلید کررہے ہیں جنہوں نے اپنے ملک کے صحت کے شعبہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار کو کووڈ 19 کے غیر تسلی بخش علاج کی حمایت کرنے کی کوششوں کے خلاف مزاحمت کرنے پر بے دخل کردیا تھا۔کورونا وائرس کی وبائی بیماری سے پیدا ہونے والے بحران کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سوچ کا اندازہ ان کی فیصلہ کن پالیسیوں سے گریز اور غیر یقینی صورتحال کو ہوا دینے والے بیا نات سے لگایا جاسکتا ہے ۔ان کا یہ احمقانہ بیان کہ گھریلو جراثیم کش اسپرے کے ٹیکے لگا کر کورونا وائرس کا علاج کیا جاسکتا ہے ،بعد ازاں ان کے اس بیان کی شدید مخالفت کی بنا پر یہ بیان واپس لینا پڑا تھا۔دراصل امریکی صدر ٹرمپ اور برازیل کے صدر بولنسار ایک ہی مؤقف اختیار کئے ہوئے ہیں کہ وہ خود کو سائینس اور دیگر معاملات سے بالا تر رکھیں،اپنی آنت کی جبلت کو بڑھاوا دیں اور اپنے فیصلوں کو ایمان اور خرافات کے ساتھ جواز بنادیں۔اگرچہ ان دونوں حکمرانوں کی حکمت عملی سطحی طور پر الگ الگ ہیں مگر یہ دونوں ایک فاشسٹ تاریخی پس منظر کے حامل ہیں جو ایک قومی رہنما کے فرقے اور قومی عظمت کی داستان کے گرداحاطہ کرتی ہیں۔ایک ایسی عظمت جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بین الاقوامی ازم اور لبرل ازم(جوکہ فاشسٹ اشتراکی نظریہ کے مترادف ہیں) کے ذریعے سمجھویہ نہ کیا گیا ہے۔
پوری دنیا میں فاشسٹ نظریے کے کلیدی عناصرکو وبائی بیماری کے بارے میں دائیں بازو کے رہنمائوں کے اس ردعمل کی روشنی میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اسپین کی دائیں بازوکی قوم پرست ووکس پارٹی جس کے ممبران اپنی ریلیوں میں کو رونا وائرس کے انفیکشن کا نشانہ نہ بنے ان کا یہ مؤقف تھا کہ ان کے اینٹی باڈیزغیر ملکی حملہ آور کے خلاف قوم کی جنگ کی نمائندگی کرتے ہیں۔اس پارٹی کے ایک رہنما کا کہنا تھا کہ اسپین کی عوام نے بدترین چینی وائرس کیخلاف ایک بڑی لڑائی کی ہے۔اسی طرح برازیل کے صدر نے گذشتہ دنوں اپنی ایک تقریر میں دعویٰ کیا تھا کہ کورونا وائرس کے اٹیک سے ان کے ملک کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کمزور اٹلی کے برعکس ہمارے ہاں بڑی عمر کے لوگوں کو بھی اس وائرس سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ایک عظیم قوم بننے کیلئے ہمارے پاس سب کچھ ہے اور ساتھ ہی اس بحران کے دوران اپنے ایتھلیٹس کی کارکردگی کو بھی سراہا تھا جنہوں نے اس وبائی بیماری کو اپنے لئے کوئی خطرہ نہیں سمجھا تھا اور اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھا تھا۔
برازیل کے بعد دنیا کے ایک اور بڑی جمہوریت کے دعویدار ملک بھارت جہاں دائیں بازو کی انتہاپسند بھارتی جنتا پارٹی کی حکومت ہے اس کے وزیر آعظم نریندر مودی نے اپنے ملک میں کورونا وائرس کی وبائی بیماری کے پھیلنے کی ذمہ داری مسلم اقلیت کے ایک تبلیغی اجتماع پر ڈال دی تھی اور وہاں مسلمانوں کیخلاف انتہائی گھناونی مہم چلائی جارہی ہے۔بھارت میں مسلمانوں کو مسجدوں میں جاکر نماز اد ا کرنے سے روک دیا گیا ہے،مسجدوں کو تالے لگادئے گئے ہیں اور اذان دینے پر پابندی لگادی گئی ہے۔دوسری جانب بھارت کے سینکڑوں مندروں میں اس قسم کے اجتماع ہوتے رہتے ہیں مگر ان اجتماعات کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے اس بیانیہ کی دنیا بھر میں مخالفت کی جارہی ہے اور مسلم تنظیمیں شدید احتجاج کررہی ہیں۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ بھارت میں کورونا وائرس کے پھیلائوسے قبل مقبوضہ کشمیر کی ریاست کو ایک امتیازی سلوک کی مہم کے ذریعے مسلمانوں کو گزشتہ چھ ماہ کے زائد عرصہ سے جاری لاک ڈائون کرکے ا نتقامی کاروائیوں کا مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے۔لاکھوں مسلمانوں نے سے ان کی شہریت چھین لینے کی سرکاری کوششوں کے علاوہ مسلمانوں کے خلاف کئے جانے والے مظالم میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔یہ سب ایک پروگرام کے تحت کیا جارہا ہے جس کا آغاز اس سال کے اوائل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھارت کے شاہانہ دورہ کے موقع پر کیا گیا تھا۔
فاشسٹ سیاست میں نفرت انگیزی کو اپنے پیرو کاروں میں ہمیشہ بیمارشکاری کے طور پر پیش کیا جاتا ہے،نازیوں نے یہودیوں کے بارے میں یہی طرز عمل اختیار کیا تھا اور آج کل کے دور میں دائیں بازوکی حکومتیں تارکین وطن اور اقلیتوں کونشانہ بنانے کی پالیسی پر چل رہی ہیں۔اٹلی جس کو پہلی فاشسٹ حکومت کا گھر سمجھا جاتا ہے وہاں کی دائیں بازو کی ایک جماعت کے ایک رہنما بیشیوسالویسی نے یہ استدلال پیش کیا تھا کہ تارکین وطن کے افریقہ سے آنے کے بعد جہاں کورونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی تھی ان کی وجہ سے یہ بیماری یہاں شروع ہوئی تھی حالانکہ اس وقت اٹلی میں پہلے ہی سے
300کے قریب تصدیق شدہ کیسز ہوچکے تھے جبکہ افریقہ میں اس وقت صرف ایک کیس رپورٹ ہوا تھا۔یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بھی کووڈ 19کے بحران کو اپنے تارکین وطن مخالف مؤقف کو مستحکم کرنے کیلئے غیر دستاویزیتارکین وطن پر اپنے جنونی حملوں سے بالا تر ہو کر استعمال کیا تھا جس کے بعد ٹرمپ کی حکومت نے اب قانونی امیگریشن پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔
سیاسی رہنماوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنے مخالفین پر مسائل کا ذمہ دار ٹھہرانے کا الزام عائید کردیتے ہیں کیونکہ اس کے ذریعے وہ اپنے بیانیہ کو تقویت دینا چاتے ہیں۔ایک امریکی دانشور جنناآرینڈٹ کے مطابق’’مطلق العنان پراپیگنڈا کرنے کی سب سے بڑی مجبوری یہ ہے کہ وہ عوام کی اس خواہش کو پوری طرح سے مستقل،قابل فہم اور پیش گو ئی دنیاکیلئے عقل سے متصادم سمجھے بغیر پوری نہیں کرسکتی ہے‘‘
اب جبکہ دنیا بھر میں کورونا وائرس انفیکشن سے ہونے والی ہلاکتیں دنیا بھر میں سب سے زیادہ امریکہ میں ہیںدرحقیقت یہ خود چین کے خلاف کئے جانے والے پراپیگنڈے کے برعکس ہے لیکن جیساکہ ہم فاشزم کی تاریخ سے اندازہ لگاسکتے ہیں کہ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے ان کی سوچ ہی ہمیشہ غالب رہے۔

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

تاریخ گواہ ہے کہ ہر صدی میں کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ، حادثہ، سانحہ یا قدرتی آفت ایسی نازل ہوئی کہ جو اس دور کے لوگوں کے لئے ایک کڑی آزمائش اور چیلنج بنی اور آنے والی نسلوں کے لئے ایک عبرت، ایک مثال اور ایک قابل ذکر داستان بن گئی۔    

مزید پڑھیں

چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والے کورونا وائرس نے ایشیاء میں سب سے زیادہ ایران کو متاثر کیا ہے جہاں متاثرہ افراد کی تعداد 47 ہزار اور جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 3 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے    

مزید پڑھیں

 امریکہ میں صدارتی انتخابات ہوں گے یا یہ کورونا وائرس سے بچائو کی حکمت عملی کی بھینٹ چڑھ جائیں گے؟ کورونا وائرس انسانیت کے قتل کے ساتھ ساتھ امریکہ اور کئی دوسرے ممالک کے انتخابی عمل کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے ۔    

مزید پڑھیں