☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(عبدالمجید چٹھہ) عالمی امور(صہیب مرغوب) فیشن(طیبہ بخاری ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) خواتین(نجف زہرا تقوی) رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) فیچر(ایم آر ملک)
خطے کا باس ۔۔۔چین!

خطے کا باس ۔۔۔چین!

تحریر : صہیب مرغوب

06-28-2020

 رات کی تاریکی میں انڈین فوج نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول
کراس کرکے چینی حدود میں قلعہ بندی کر لی جسے ناکام بنا دیا گیا

 لداغ میں بھارتی شکست دنیا بھر میں زیر بحث ہے۔ بھارت میں فوجیوں کے مارے جانے کا غم منایا جا رہا ہے،20فوجیوں میں سے تین فوجیوں کی لاشیں دلہن بنے ٹرکوں میں نمائش کی گئیں ، گنجان آباد علاقوں سے گزارا گیا،راستے بھر میں عوام روتے رہے، تین لاشیں بھارتی رائے عامہ کوچین کے خلاف بھڑکانے کی سازش تھی جس میں نریندر مودی اور ان کے رفقائے کار کامیاب رہے ، شائد ہی کوئی شہر ایسا ہو جہاں چین کے خلاف مظاہرہ نہ کیا گیا ہو۔ ’’بائیکاٹ چین ‘‘کے نعروں کی گونج ہندوستان بھر میں سنائی دے رہی ہے۔آخر مودی سرکا رکیا چاہتی تھی ؟جنگ سے اس کا مقصد کیا ہے؟کیوں اس نے سلامتی کونسل کے ارکان کے انتخاب سے عین چند ہفتے پہلے چین کے ساتھ محاذ کھول کر لاشوں کی سیاست کی؟ کیوں انڈین فوج نے پہلے تین ہلاکتوں کی خبر جاری کرنے کے بعد خود ہی 20مرنے میں خبر بھی دے کر لاشیں صرف تین دکھائیں؟۔

چین کے خلاف انڈین سازش کے محرکات!
انڈین فوجیوں پر مظالم کی داستانیں انڈیا کے مودی نواز میڈیا نے خود جاری کیں ،انڈین فوج نے ان کی تصدیق کی۔ان باتوں کامقصد دنیا کو چین کے خلاف بھڑکانا اور بھارت میں چین کے خلاف پاکستان جیسی نفرت کے بیج بونا تھا۔یہ کام آسان نہ تھا، کیونکہ چینی مصنوعات ہندوستانی نوجوانوں کی رگ و پے میں سرایت کر چکی ہیں،نئی نسل کی سوچ کا حصہ ہیں۔چین کے بغیر بھارتی معیشت اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے قابل نہیں ۔ کئی ہندو تھنک ٹینکس نے اسی کو لے کر مودی حکومت کو خبردار کیا۔۔اول ،ا نڈیا میں چین کا بڑھتا ہوا اثر و نفوذ ہندوئوں میں پاکستان کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔دوئم،چینی کمیونزم ہندوستانی نیشنل ازم کو زیر کر لے گا۔
ہندو پالیسی سازوں کے مطابق چین کے قریب ہونے والی نسل میں برہمن سوچ پروان نہیں چڑھ سکتی ۔انہیں ڈر ہے کہ چین اپنی سرمایہ کاری اور نوجوانوں سے اپنی دوستی کے بل بوتے پر ہندوآتہ کو کمزور سکتا ہے ۔ چینی کمیونزم بھی ہندوآتہ کو ہڑپ کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے ۔ یہ اسلام سے بھی زیادہ بڑا خطرہ ہے کیونکہ ہندوئوں نے مسلمانوں سے اقتصادی قوت چھین لی ہے، نوابوں اور امراء کی جاگیریں چھین کر انہیں اپنے دیئے ہوئے چند سکوں پر گزارہ کرنے کی عادت ڈال دی تھی۔روزگار کے دروازے بند کرکے کر دارکشی کی گئی۔ ٹیکسی چلانے،کپڑے سینے اور گھریلو کام کاج کرنے والے مسلمان ہندوئوں کے سیاسی اور سماجی نظام کے لئے کوئی چیلنج نہیں رہے۔اس کے برعکس چینی کمیونزم نئی، پڑھی لکھی اور طاقتور نسل میں سرایت کر رہا ہے۔سائنس اور بزنس میں سٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کے ذریعے چین نے نئی بلا امتیاز ہر طبقے کی ہندو نسل کے ذہنوں کو مسخر کر لیا ہے۔ طاقت ور برہمنوں کی نئی نسل بھی مودی اور ان کی ریڈیکل سوچ سے پرے ہٹ رہی تھی،اس کی اٹھان پر چینی انداز فکر پروان تھی۔

ٹک ٹاک اور ڈو برائوزر سمیت چین کے تین درجن سے زائد سرچ انجنوں اور ایپلی کیشنز نے سب کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔نئی نسل کی سوچ میں تبدیلی نے ہندو قیادت کو فکری انتشار سے دو چار کر دیا تھا۔ کیا کریں کیسے کریں،کیسے کریں،کشمیر میں انٹرنیٹ بند کرنے کے بعد دنیا کی نظروں میں کھٹک رہے ہیں، بحالی پر زور دینے کے باوجود عالمی اداروں کی شنوائی نہ ہونے سے بھارت کی سبکی الگ ہو رہی ہے۔ 20فوجی مروانے سے ہندوستانی عوام میں چین کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی منزل حاصل کر لی گئی ہے ۔
ایک اہم چینی تھنک ٹینک کے مطابق بھارتی دھمکی کو چین میں سنجیدگی سے لیا گیا ہے ، طاقت کے نشے میں سرشار ہندو حکومت اپنے ہمسایہ ممالک کی سرحدوں میں بھی داخل ہونے کی کوشش کر رہی ہے ۔ ہمسایہ ممالک قیام امن کی ہندوآنہ شرائط مانتے چلے آئے تھے ،لیکن اب نہیں، اب ایسا نہیں ہوگا۔چین کی ابھرتی ہوئی طاقت نے بھارت کے ہمسایہ ممالک کو بھی حوصلہ دیا ہے ،نیپال کا ڈٹ جانا اس کا ثبوت ہے۔
چینی تھینک ٹینک کے مطابق’’ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کا لوک سبھا میںدیا جانے والا بیان پاکستان ہی نہیں ،چین کی سلامتی کے لئے بھی خطرہ تھا۔

سنکیانگ اور تبت کے کچھ علاقے انڈیا کے نقشے
میں شامل کرنے کا معاملہ

چین کو نیپال سمجھتے ہوئے انڈیا نے بعض علاقے نئے بھارتی نقشے میں اپنی حدود میں شامل کر لئے تھے۔لداخ کی یونین ٹیریٹری میں سنکیانگ اور تبت کے کچھ علاقے بھی بھارت کا حصہ بتائے گئے تھے۔ سنکیانگ اور تبت چین کے لئے اہم ہیں، ان دونوں کا ہندوستان سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا ۔ آرٹیکل 370کی تنسیخ کے بعد رہی سہی کسر نئے نقشے نے پوری کر دی۔چین کو یہ کیسے گوارہ تھا۔

لداخ کو یونین ٹیریٹری بنانے پر چین کی وارننگ
ہندوستانی اخبار ات اور چینلز کا ماننا ہے کہ نقشے میں شامل چینی علاقوں پہ قبضہ کرنے کی کوشش کے سوا کچھ نہ تھا۔’’چائنا انسٹی ٹیوٹ آف کنٹیمپری انٹرنیشنل ریلیشنز‘‘ (CICIR) میںانسٹی ٹیوٹ آف سائوتھ ایشین سٹڈیز سے منسلک وانگ شیدہ (Wang Shida) چین کے غیر معمولی مصنف سمجھے جاتے ہیں۔ یہ ادارہ چین کی ’سٹیٹ سکیورٹی‘ کی نگرانی میں کام کر رہا ہے۔وانگ شیڈاکے مطابق چینی وزیر خارجہ نے دورہ بھارت کے موقع پر جے شنکر کو خبردار کیا تھا کہ آرٹیکل 370کی تنسیخ سے خطے میں امن کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے ،یہ اقدام عالمی امن کے منافی ہے۔چینی وزیر خارجہ نے لداخ کو یونین ٹیریٹری بنانے کے بارے میںا پنے خدشات سے کھلے لفظوں میں آگاہ کر دیا تھا۔جے شنکر نے روایتی اکڑ دکھاتے ہوئے اسی قسم کی بات کی ’’یہ تو بھارت کا اندرونی معاملہ ہے، آپ کون ہوتے ہیں درمیان میں بولنے والے ‘‘ ۔ چین نے بھی لداخ کے کو بھارتی نقشے سے نکالنے کا اشارہ دیا تھا۔وانگ نے پاکستان کا بھی ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ ہندوستان کا یہ اقدام ناصرف چین بلکہ پاکستان کی سلامتی کے لئے بھی خطرہ ہے۔

ہندوئوں کے اس عمل سے چین ۔بھارت تعلقات مزید پیچیدہ اور چین پاکستان تعلقا ت مزید خوشگوار ہو گئے ہیں۔ یہ بات ذہن نشین کرلی جائے کہ چین یہ معاملہ اقوم متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی لے کر گیا تھا۔ ہندوستانی حکومت اپنے غلط اعتماد کا شکار ہو کر چین کے آگے ڈھیر ہو گئی۔5مئی کے بعد سے ہونے والے مذاکرات میں بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کا لداخ کو ہندوستان میں شامل کرنے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ یہ بیان بھی مذاکرات کی کامیابی میںرکاوٹ بنا ہوا ہے۔

5مئی کو رات کی تاریکی میں انڈین فوج چینی علاقے میں داخل ہو گئی :چینی ذرائع
انڈین ایکسپریس کے مطابق چینی دفتر خارجہ کے ترجمان Zhao Lijian نے کہا،’’ وادی گلوان چینی علاقے کے مغرب میں واقع ہے ،برس ہا برس تک چین کی فوج ہی گلوان میں گشت کرتی رہی، رواں برس اپریل میں انڈین فوج نے یکطرفہ طور پر ، چپکے چپکے مسلسل سڑکیں،پل اور دیگر سہولتیں قائم کر لیں۔بھارتی فوج کے ترجمان مذاکرات کے دوران عجیب بے بنیاددعوے کرتے رہے، وہ چاہتے ہی نہیں کہ دونوں ممالک کے فوجی سربراہ کسی نتیجے پر پہنچیں ‘‘۔ چینی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ۔۔’’ انڈین فوج کے متضاد اور بے بنیاددعوے معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں‘‘۔ژائو نے اعلان کیا ہے کہ چین نے اس قبضے کے خلاف انڈین قائدین کو خطوط ارسال کئے، کسی ایک کا جواب نہیں ملا۔ احتجاج کیااور پری زنٹیشنز بھی ارسال کیں،لیکن انڈین فوج کی سرگرمیاں اشتعال انگیز تھیں۔6 مئی 2020ء کو رات کی تاریکی میں کو انڈین فوج لائن آف ایکچوئل کنٹرول کراس کرتے ہوئے چینی سرحد میں داخل ہو گئی۔

انڈینز نے چین کے علاقے میں قلعہ بندی کر لی ، چوکیاں قائم کر لیں اوربیرکیں بناکر مورچہ زن ہو گئی۔انہوں نے چینی علاقے میں چینی فوج کی دستوں کے گشت کو بھی ناکام بنانے کی کوشش کی۔انڈین فوج کی یہ دانستہ کوشش یکطرفہ طور پر سرحدی حد بندی میں تبدیلی لانے کی کوشش تھی جسے ناکام بنا دیا گیا۔انڈین فوج نے ہمیں ضروری اقدامات کرنے پر مجبور کیا جو کر لئے گئے ہیں ،چینی فوج نے بارڈر کی بہتر مینجمنٹ کے انتظامات کر لئے ہیں۔

چین ۔بھارت قربتیں ہندوآتہ کی تپش میں جل کر راکھ
چین کو پاکستان سے دور کرنا نریندر مودی کی اولین خواہش او رکوشش تھی،انڈین وزیر خارجہ جے شنکر چینی رہنامئوں کے سامنے پاکستان کے متعلق زہر اگلتے رہے۔ ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے بھی چین کو دبائو میں لانا چاہا،پاکستان حق پر تھا، چین ہمارے ساتھ ڈٹا رہا۔بھارتی صحافی شہکر گپتا 20جون 2020ء کو شائع شدہ مضمون میں لکھتے ہیں کہ ’’پاک ۔چین دوستی کو ناکام بناتے بناتے نریندر مودی چین کا آہنی مکا کھا بیٹھے ہیں۔نہرو پاک۔چین دوستی میں دراڑ ڈالنے پر تلے تھے، وہ ناکام رہے ، مودی کو بھی منہ کی کھانا پڑی ۔چین کے خلاف انڈیا میں شور شرابابہت ہے لیکن عمل صفر ہے۔بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کا جواب یہی تھا جو چین نے دیا۔ پہلے کی با نسبت کہیں زیادہ علاقے سرنگوں ہو گیا۔ چین بھارتی علاقے میں کافی اندر تک آ گیا ہے۔2015ء میں مودی ۔ژی پنگ ملاقات کے بعدصرف چار برسوں کے اندر اندر اتنی بڑی تبدیلی حیرت ناک ہے۔

چین ،بھارت قربتیں ہندوآتہ کی تپش میں جل کر راکھ ہو چکی ہیں ۔ یہی حال امریکہ کا بھی ہوگا ،اگر امریکی مشنری ادارے نے بھارت میں اپنے مذہب کا پرچار کرنا چاہا تو مودی کی مذہبی انتہا پسندی اس کا جینا مشکل کر دے گی ۔ چین نے اپنی برتری جتانے کے لئے ہندوآتہ کی ناک پرمکا دے مارا ہے۔’’میں ہوں باس‘‘!چین کاپیغام ہے ۔ہندوآتہ کے پرچارک خوش ہیں کہ فوجیوں کی ہلاکتوں پر کئی ممالک نے اظہار افسوس کیا ہے ،لیکن امریکہ کے سوا کسی بڑے ملک کے اہم رہنما نے اظہار افسوس نہیں کیا ۔بھارت کے روایتی دوست روس بھی کے ہونٹ بھی سلے ہوئے ہیں ۔ہمسایہ ملک یا سارک ممالک سے بھی بارت کو حمایت نہ مل سکی، چین کے مقابلے پر آنے والے بھارت کو اپنی حیثیت کا علم ہو جانا چاہیے۔

بھٹو ۔سورن سنگھ مذاکرات کی صورت میں کینیڈی کا بھارت کو ریلیف
1962ء میںبھارت کے لئے بیک وقت دو محاذوںپر لڑنا مشکل کام تھا ۔امریکہ نے 1962ء میں بھی چین کے خلاف بھارت کو اتنا بڑا ریلیف دے دیا تھا۔روسی بلاک سے مفادات حاصل کرنے والے نہرو غیر جانبدا ر تحریک کے سرخیل ہونے کا راگ بھی الاپتے رہے۔ 1962میں چین پر حملے بعدانہوں وہ سابق امریکی صدر کینیڈی کے سامنے روئے پیٹے ۔ کینیڈی نے پاکستا ن کو دی جانے والی فوجی مفادکو بھارت کے خلاف استعمال کرنے سے روک دیا ۔ کینیڈی نے کئی عشروں سے جاری پاک ۔امریکہ دوستی کو پس پشت ڈال کرنہرو کو بھی گلے سے لگا لیا۔انہوں نے چین کی مخالفت کے جنون میں دہلی میں ٹو سٹار جنرل کی قیادت میں مستقل فوجی مشن بھی قائم کر دیا۔

دنیا کی سب سے بڑی مگر بری جمہوریت میں چین کے خلاف امریکی اڈے کا قیام بڑی کامیابی تھی۔یہ فوجی مشن نئی دلی میں قیام پذیر رہا اور وہیں سے چین کی جاسوسی کرتا رہا۔امریکی قیادت نے پاکستان کو بتا دیا کہ ۔۔ ۔ ۔ ’’ بھارت چین کے ساتھ مصروف ہے،پاکستان اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرے۔‘‘اب بھی بھارت اسی لئے پاکستانی محاذ پر مسلسل گولہ باری کر رہا ہے، پورا جواب ملنے کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ بھارت چن او رپاکستان کے خلاف بیک وقت دو محاذ کیسے اور کیونکر کھول سکتا ہے،اس راز تک پہنچے بغیر تجزیہ ممکن نہیں۔اگر تھوڑا پیچھے جائیں تو معلوم ہو گا کہ امریکی دبائو پر ذوالفقار علی بھٹو نے انڈین وزیر خارجہ سورن سنگھ کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کر دیا تھا، اکتوبر سے نومبر تک انڈیا چین کے ساتھ حالت جنگ میں تھا تو مائو کیپ پہنے ہوئے بھٹو صاحب سورن سنگھ کے ساتھ کشمیر پر مذاکرات۔مذاکرات کھیل رہے تھے ۔ کینیڈی قتل ہو گئے ، سورن سنگھ مذاکرات سے پیچھے ہٹ گئے، انڈیا نے دوبارہ غیر جانب دار تحریک کے پلیٹ فارم سے امریہ کے خلاف متحرک ہو گیا، اس وقت تک جنگ بھی بند ہو چکی تھی۔چین ۔انڈیاجنگ بند ہوتے ہی کہاں کا کشمیر اور کون سا کشمیر ، سب مایہ کی طرح ختم ہو گیا۔

مودی کے راستے بند
اب مودی کے پاس آپشنز ختم ہو چکی ہیں ۔وہ امریکی بلاک کا حصہ ہیں لیکن امریکہ نے بھی 250 ارب ڈالر کے تجارتی معاہدے کے لئے چین کے خلاف مذہبی بنیادوں پر پابندیاں عائد کرنے کے قانون پر عمل درآمد روک دیا ہے۔ امریکہ کے’’ الفاظ‘‘ بھارت کے ساتھ ہیں لیکن معاشی معاہدے وہ چین سے کر رہا ہے۔ اس لئے بھارت اب نہ امریکی گروپ کا مضبوط حصہ ہے اور نہ ہی چین سے پہلے جیسے روابط قائم ہو سکتے ہیں۔کینیڈا سمیت کئی یورپی ممالک بھی بھارت کی نئی پالیسیوں سے خوش نہیں۔اسی لئے کانگریس نے کہا ہے ۔۔۔۔’’اکیلا ہی چلا ہوں‘‘۔ہم جارحانہ حکمت عملی کے ذریعے عالمی افق پر بہتر راستہ بنا سکتے ہیں۔

امریکہ کی تھپکی کا نتیجہ
چینی مصنف نے 2019ء کے انتخابی نتائج کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’انتخابی نتائج سے بھارتیہ جنتا پارٹی کو غیر معمولی اعتماد ملا ہے‘‘۔یہ اعتماد اس کاسب سے بڑامسلہ بن جائے گا، ایسا ہی ہوا۔بھارتی جنتا پارٹی کی جانب سے چینی علاقوں پر قبضے کا خواب دیکھنے کا ایک اور سبب بھی ہے۔امریکہ کے ساتھ ہندوئوں کی بڑھتی ہوئی محبت نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنمائوں کو خطے کی مرکزی طاقت سمجھنا شروع کر دیاتھا۔ امریکی تھپکیوں کے بعد بھارت کا ’’دماغ‘‘ ٹھکانے نہیں رہا۔ وہ کشمیر میں بھی طاقت کے استعمال کے غرور میں مبتلا ہو گیا تھا۔چینی تھینک ٹینک سے تعلق رکھنے ولاے مصنف وانگ لکھتے ہیں کہ ’’چین کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ ہندو کے اعتماد میں کس قدر اضافہ ہوا ہے،یا وہ اپنے بارے میں کسی خوش فہمی کا شکار ہے،وہ جان لے، طاقت کے بل بوتے پر کسی بھی ملک کا رقبہ ہتھیانے کی ہر بھارتی کوشش ناکا می سے دوچار ہو گی‘‘۔
چینی دفتر خارجہ کے ترجمان Zhao Lijian نے کہاکہ ’’وادی گلوان چینی علاقے کے مغرب میں واقع ہے ،برس ہا برس تک چین کی فوج ہی گلوان میں گشت کرتی رہی،رواں برس اپریل میں انڈین فوج نے یکطرفہ طور پر ، چپکے چپکے مسلسل سڑکیں،پل اور دیگر سہولتیں قائم کر لیں۔بھارتی فوج کے ترجمان مذاکرات کے دوران عجیب بے بنیاددعوے کرتے رہے، وہ چاہتے ہی نہیں کہ دونوں ممالک کے فوجی سربراہ کسی نتیجے پر پہنچیں ۔ چینی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ۔۔’’ انڈین فوج کے متضاد اور بے بنیاددعوے معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں‘‘۔ژائو نے اعلان کیا ہے کہ چین نے اس قبضے کے خلاف انڈین قائدین کو خطوط ارسال کئے، کسی ایک کا جواب نہیں ملا۔ احتجاج کیااور پری زنٹیشنز بھی ارسال کیں،لیکن انڈین فوج پہلے سے بھی آگے بڑھتے ہوئے لائن آف ایکچوئل کنٹرول میں اپنی حد سے نکلنے لگی۔ اس کی سرگرمیاں اشتعال انگیز تھیں۔6مئی2020ء کو رات کی تاریکی میں کو انڈین فوج لائن آف ایکچوئل کنٹرول کراس کرتے ہوئے چینی سرحد میں داخل ہو گئی۔

بھارت گلوان سے دستبردار
چینی دفتر خارجہ نے اعتراف کیا ہے کہ انڈین ٹیم نے دوران مذاکرات میں دریائے گلوان(Gulwan) کی Estuary میں فوجیں نہ بھیجنے کا چینی مطالبہ مان لیا ہے۔چین کا کہنا ہے کہ پورا گلوان ہی اس کا تھا لیکن انڈیا نے وقت کے ساتھ ساتھ ہتھیا لیا، لاتوں کے بھوت باتوں سے کہاں مانتے ہیں ،اب مان گئے ہیں ۔اس وقت انڈین فوجیں دریائے گلوان کی جانب اپنی سائیڈ پر ہیں یعنی پورے گلوان سے دستبراداد ر ہو گیا ہیچین نے گلوان کے مذکورہ علاقوے مٰنانڈیا کی اجنب سے بنائے گئے سٹرکچرز بھی ملیا میٹ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ انڈیا یہ بھی مان گیا ہے۔15جون کو انڈین فوج نے دوبارہ خلاف ورزی کی۔ ’’ون انڈیا‘‘ نے چینی علاقے میں بھارتی دراندازی کا اعتراف کیا گیا ہے۔وہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے پار چینی علاقے میں گھس گئی تھی ،اور مار کھا کر پسپا ہو گئی۔’’ون انڈیا‘‘ نے بھارتی حکومت کی اس کوشش کو کشیدگی پیدا کرنے کی دانستہ حرکت قرار دیا ہے۔یہی نہیں، انڈیا نے مذاکرات کے لئے آئے ہوئے چینی فوجیوں پر بھی ہتھیاروں سے حملہ کر دیا۔جو 20ہلاکتوں کا سبب بن گیا۔ اس محاذ کا امن انڈین آرمی کی مہم جوئی پرسے جڑا ہوا ہے، ان کی ذرا سی غلطی بڑی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے، نریندر مودی کا کہناہے کہ انہوں نے نچلی سطح پر جنگ لڑنے کا اختیار دیاہے ،بھارتی فوجی حالات کے مطابق کوئی بھی فیصلہ کر سکتے ہیں۔یہ اختیار نچلی سطح پر منتقل ہونے سے جنگ کے سائے مزید گہرے ہو گئے ہیں۔

سونیا گاندھی کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں
نریندر مودی نے ہتھیار پھینکتے وئے کہا کہ۔۔۔۔’’چین ہمار ے کسی علاقے میں داخل ہوا ،نہ اس نے کسی پرعلاقے پر قبضہ کیا،ہمارے 20جوان مارے گئے۔مگر جنہوں نے بھارت ماتاکو چیلنج کرنے کی جرات کی،انہیں بھی سبق سکھا دیا گیا‘‘۔مودی نے آل پارٹیز کانفرنس کے بپھرے ہوئے مندوبین کو راضی کرنے کی کوشش کی لیکن کویئئی بھیء نہ مانان۔نریندر مودی مجلس میں سونیاگاندھی کے سات میں سے ایک سوال کا جواب بھی نہ دے سکے، ان کے سات سوال یہ تھے،
چینی فوج کس تارخ کو لداغ میں انڈین سرحد میں داخل ہوئی؟
چینی دراندازی کا انڈین فوج کو کب پتہ چلا؟یعنی چینی قبضہ کب بھارت کے علم میں آیا؟
کیاانڈین فوج کو مواصلاتی سیارے کی تصاویر نہیں ملتیں ، جن میں فوجی نقل و حرکت کوصا ف طور پر دیکھا جا سکتا ہے؟
کیا ہماری خفیہ ادارے نے بھی سرحد پر غیر معمولی سرگرمی سے آگاہ نہیں کیا؟
کیا انڈین ملٹری انٹیلی جنس نے بھی دونوں جانب سے ہونیوالے فوجی اجتماع سے آگاہ نہیں کیا؟
حکومت اسے انٹیلی جنس کی ناکامی سمجھتی ہے یا نہیں؟
کیا چینی فوج 5مئی کو ہی انڈین علاقے میں داخل ہوئی جیسا کیہ کہا جا رہا ہے؟
ہم اپنی فوجی تیاریوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔2013میں’’مائونٹین سٹرائیک کور ‘‘اور دو ’’مائونٹین انفنٹری ڈویژنز‘‘ بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا ،ان پر کتنا عمل ہوا؟کیا یہ معاملہ حکومت کو ترجیحی بنیادوں پر کام نہیں کرنا چاہیے تھا؟کیا وزیر اعظم اس پرقوم کو اعتماد میں لینا پسند کریں گے،

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  دنیا کے وہ ممالک جہاں دائیں بازو کے فاشسٹ نظریات رکھنے والی حکومتیں موجود ہیں وہاں کورونا وائرس کی بناء پر ہونے والی ہولناک تباہی کے باوجود اپنے انتہا پسند نظریات کو ہوا دے رہی ہیں ۔ 3 بڑی جمہوریتیں امریکہ،برازیل اور بھارت میں وہاں کے حکمراں کووڈ 2019 ء سے پیدا ہونے والے بحران کو تارکین وطن اور اقلیتوں کیخلاف جنگ لڑنے کیلئے استعمال کررہے ہیں اور اس لڑائی کوصرف اپنے نقطہ نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

تاریخ گواہ ہے کہ ہر صدی میں کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ، حادثہ، سانحہ یا قدرتی آفت ایسی نازل ہوئی کہ جو اس دور کے لوگوں کے لئے ایک کڑی آزمائش اور چیلنج بنی اور آنے والی نسلوں کے لئے ایک عبرت، ایک مثال اور ایک قابل ذکر داستان بن گئی۔    

مزید پڑھیں

چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والے کورونا وائرس نے ایشیاء میں سب سے زیادہ ایران کو متاثر کیا ہے جہاں متاثرہ افراد کی تعداد 47 ہزار اور جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 3 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے    

مزید پڑھیں