☰  
× صفحۂ اول (current) عالمی امور سنڈے سپیشل کھیل کچن کی دنیا خواتین فیشن فیچر متفرق دین و دنیا ادب کیرئر پلاننگ
برطانیہ : وزارت عظمیٰ کے10امیدوار

برطانیہ : وزارت عظمیٰ کے10امیدوار

تحریر : محمد ندیم بھٹی

06-09-2019

ان سطور کے منظر عام پر آنے تک برطانیہ کا منظر نامہ بدل چکا ہوگا۔وہاںجمہوری قوتیں شدید بحران سے دوچار ہیں۔سیاسی جماعتوں کا داخلی بحران کسی بھی سابقہ بحران سے زیادہ پیچیدہ اور پریشان کن ہے، اور یہ بریگزٹ سے جڑا ہوا ہے۔آئر لینڈ نے برطانیہ سے ’’آزادی‘‘ کے ریفرنڈم کا مطالبہ کر کے اسے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔گزشتہ چند برسوں میں برطانیہ میں یہ دوسرا استعفیٰ ہے۔ قبل ازیں پانامہ سکینڈل کا نشانہ بننے والے ڈیوڈ کیمرون ایوان وزیر اعظم سے واپس لوٹ چکے ہیں۔

بریگزٹ انہی کے دور میں ہوا۔برطانیہ کا مستقبل اب ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں ہے جو نہ برطانوی ہے اور نہ ہی برطانیہ میں رہتا ہے،وہ نہ ماہر تعلیم ہے نہ کوئی وزیر۔ بلکہ اس بحران میں فرانسیسی نژاد سول سرونٹ کا نام لیا جارہاہے۔ برطانیہ کا مستقبل کیسا ہو گا؟اچھا ہو گا یا برا؟اس کا دار و مدار فرانسیسی نژاد مائیکل بارنئیر (Michel Barnier) کے رویے پر ہے۔وہ برطانیہ کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں یہی سوچ کر سب کے چہروں پر خوف طاری ہے۔انہوںنے یورپی یونین کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ کی حیثیت سے برطانیہ کو1036دن دئیے تھے،مذاکراتی ٹیم کے پاس اب بہت کم وقت بچا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین کمیشن کی مذاکراتی ٹیم کے فرانسیسی سربراہ مائیکل بارنیئر برطانیہ کو کوئی رعایت دینے پرآمادہ نہیں۔ برطانیہ کی نئی اسٹیبلشمنٹ ان کے سامنے تربیت پا کر آج طاقتور عہدوں پر براجمان ہے۔ یورپی یونین کے ماہر ترین افسر کی حیثیت سے وہ سمجھتے ہیں کہ اب تمام برطانوی ادارے بحران کا شکار ہو سکتے ہیں۔مائیکل بارنئیر کی پالیسیوں نے برطانیہ کے لیے مزید مسائل کھڑے کر دئیے ہیں۔ انہوں نے بھی سوال اٹھایا ہے کہ اب وزیر اعظم کون ہو گا اور کیا وہ بحران سے نمٹ سکے گا؟ کچھ کے نزدیک برطانیہ میںا سٹیبلشمنٹ اقتدار کے قریب پہنچ چکی ہے۔ کچھ کہتے ہیں کہ برطانوی سیاست کو سنبھالنا اب کسی کے بس میں نہیں رہا۔

کیونکہ صدر یورپی کمیشن ژاں کلاڈ ژنکر (Jean-Claude Juncker) کے بریگزٹ معاہدے میں کسی تبدیلی کے حق میں نہیں ہیں، ان کے ڈٹے رہنے سے ہی بحران پیدا ہو ا ہے۔ ۔ تھریسامے نے بریگزٹ کے قواعد و ضوابط کی منظوری میں تین مرتبہ ناکامی کے بعد چند ہفتے قبل ہی مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے اپنے استعفے کی ڈیڈ لائن 7جون مقرر کی تھی ۔ ان کے استعفے کی اطلاع ہم ’’دنیا‘‘ میگزین میں 6 جنوری کو دے چکے ہیں۔’’دنیا‘‘ میگزین نے صاف لکھ دیا تھا کہ ’’تھریسامے کو مستعفی ہونا پڑے گا‘‘۔سو انہوں نے ایسا ہی کیا، ہماری ایک اور پیشن گوئی پاک امریکہ تعلقات میں بہتری اور لینڈ مارک معاہدے سے متعلق تھی۔ اس وقت کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ پاکستان کی تعریف کریں گے، مگر ہماری پیشن گوئی کے عین مطابق انہوں نے پاکستان کے حق میں کئی ٹوئٹ کئے اور پھر افغانستان کے ساتھ مذاکرات میں شریک کیا، اب بھی آپ دیکھیں گے کہ مستقبل میں پاکستان کے امریکہ سے تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔

اب ہم آتے ہیں اصل موضوع کی جانب۔ تھریسامے کو دراصل اپنی پارٹی کے اندر ہی شدید مزاحمت کا سامنا تھا۔ 35 ارکان پارلیمنٹ پہلے بھی ان کیخلاف بغاوت کر چکے تھے۔ مگربریگزٹ کے خوف سے کوئی کھل کر سامنے نہ آئے،یہ وہ کڑوی گولی ہے جسے کوئی نگل سکتا ہے نہ اگل سکتا ہے۔ ایک وقت تھا جب نوجوان نسل بریگزٹ کے جنون میں مبتلا تھی۔ 60 لاکھ ووٹ بریگزٹ کے حق میں پڑنے سے صورتحال خراب ہو گئی ۔پھر وقت نے پلٹا کھایا ،لوگ آہستہ آستہ خلاف ہونے لگے۔ ’’نو بریگزٹ‘‘ تحریک کے پروان چڑھتے ہی حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی کے اندرکھچڑی پکتی رہی، اپوزیشن لیڈر جیئرمی کاربن نے بھی چپ سادھ لی۔ وہ اس برائی یا نیکی کا حصہ ہی نہیں بننا چاہتے ۔

بریگزٹ کی حامی اور مخالف قوتیں آپس میں آپس میںبرسرپیکار ہیں۔ کسی معاہدے کے بغیر برطانیہ کایورپی یونین سے اخراج کنوئیں میں چھلانگ لگانے کے مترادف ہے، اسی لئے یورپی یونین نے دو مرتبہ مذاکراتی دور میں توسیع کی۔ 23مئی کو یورپی پارلیمنٹ کے انتخابات ہوئے۔ برطانیہ کو مجبوراً ان میں حصہ لینا پڑا۔کچھ کے خیال میں وہ برطانیہ میں اتنا ہی بڑا بحران پیدا ہو چکا ہے،جتنا بڑا برطانیہ خود ہے!۔ کہتے تھے کہ برطانوی سلطنت میں میںسورج غروب نہیں ہوتا ، مگر اب بحران بھی اتنا ہی بڑاآنے والا ہے جو’’ طلوع ‘‘تو ہو گا مگر’’ غروب‘‘ نہیں ہوگا۔مائیکل بارنئیر نے گزشتہ برس مارچ میں ہی برطانوی رویے کو بھانپ لیا تھا۔ برطانیہ یورپی یونین کا دامن چھوڑنا گوارا نہیں کرسکتا ، کچھ مالی خسارے کے خوف سے ، کچھ ادائیگیوں کی مشکلات تھیں اور کچھ کے ذہنوں میں یوپرپی یونین کے ساتھ رہنے مین ہی مستقبل کے خواب پورے ہوتے تھے۔ یورپی یونین سے علیحدگی کی صورت میں شاید یہ خواب کبھی پورے نہ ہو سکیں۔

برطانیہ کانیا وزیر اعظم کون ؟

برطانیہ کی باگ دوڑ کون سنبھالے گا، کامیاب ہو گا یاا س کا مقدر بھی تھریسامے جیسا ہی ہو گا،برطانوی جمہوریت میں یہی سوال زیرگردش ہیں۔امیداوار جانتے ہیں کہ 10ڈائونگ سٹریٹ کی سیڑھیاں اترتے وقت تھریسامے کے چہرے پر عجیب کیفیت طاری تھی ۔کچھ خوف ۔۔بریگزٹ کی ناکامی کی صورت میں کیا ہو گا؟ کچھ امید ۔۔بریگزٹ کامیاب ہوگیاتو امید کی کرنیں برطانیہ کو منور کر دیں گی۔ مگرسب سے زیادہ تشویش مستقبل کی لیڈر شپ کے حوالے سے پائی جاتی ہے ۔تھریسامے کے چہرے پر بھی کچھ اسی طرح کی کیفیت طاری تھی۔ اس وقت 12ارکان پارلیمنٹ وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں۔ کہہ لیجئے،امیدواروں کا اتوار بازار لگا ہے۔ تاہم ان میں سے 10امیدواروں نے وزارت عظمیٰ کا الیکشن لڑنے کا اعتراف کر لیا ہے۔ان تمام امیدواروں نے کہا کہ ہمیں بہت پر امید رہنا چاہئے اور فیصلے بھی ڈٹ کر کرنا چاہیے۔ بورس جانسن اور ڈومینک راب (Dominic Raab )بھی اسی سوچ کے حامل ہیں۔

ان کے ویژن کو’’ آپٹمیس ویژن‘‘ کہا جاتا ہے۔ کنزرویٹو پارٹی کے ایک اوررہنما مائیکل گوو (Michael Gove)اتحاد کی علامت بن کر ابھرے ہیں۔ ان کے خیال میں کنزرویٹو پارٹی میں مکمل طور پر ایک ویژن کے تحت اتحاد قائم ہونا چاہیے۔وزارت عظمیٰ کے بعض امیدوار دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کے شدید مخالف ہیں۔ ان کے خیال میں بریگزٹ سے پہلے دولت کو ہی عوام کو منتقل کر دینا چاہیے۔ انتقال اقتدار کے ساتھ انتقال دولت بھی ہوجانا چاہیے مگراس کے لیے کئی طرح کے معاشی اور سیاسی تجربے کرنا ہوں گے۔ برطانیہ کے پاس اب تجربات کاوقت نہیں ایک اور رائے کے مطابق برطانیہ میں گوریلا لوکل ایزم بھی فروخت پارہاہے۔ پریسٹن اس کی ایک مثال ہے۔ ماہرین کے خیال میں دولت کی منصفانہ تقسیم نہ ہونے کی صورت میں معاشی بلبلہ پھٹ سکتا ہے۔

پا کستانی نژاد ساجد جاوید کا نام بھی عبوری دور کے وزیراعظم کے طور پر لیا جانے لگاہے۔ ساجدجاوید ٹوری پارٹی میں بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ کہتے ہیں کہ اگر وہ وزیراعظم بن گئے تو 20ہزار پولیس افسران بھرتی کرلیں گے۔ یہ تو پاکستان والا حال ہو گیا۔انہوں نے برطانیہ میں بھی بھرتیوں کا بینڈ بجا دیا ہے۔ جس پر تین برسوں میں ایک ارب پائونڈ (پاکستانی کرنسی میں 190 ارب روپے ) خرچ ہوں گے۔ وہ وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں اچھی پوزیشن پر ہیں۔ انہوں نے بھی ہر گروپ میں اتحاد قائم کرنے کی امید دلائی ہے۔ اس وقت برطانوی میڈیا میں ساجد جاوید کوبہت زیادہ اہمیت دی جارہی ہے۔

معروف صنعتکار جیئرمی ہنٹ(Jeremy Hunt)بھی اس دوڑ میں نئے نئے شامل ہوئے ہیں۔وہ کہتے ہیں ،’’ بریگزٹ کے بعد برطانوی معیشت کو سنبھالنا ہی سب سے اہم ہوگا، اور یہ کام وہ اچھے طریقے سے کرسکتے ہیںمگر ترقی کی خاطر سب کو متحد ہونا پڑے گاکیونکہ جب بھی ہم سب میں اتفاق ہوا ہم جیت گئے‘‘۔ روری سٹیوارٹ (Rory Stewart)ابھی نو آموز ہیں اسی لئے وہ کہتے ہیں ’’بڑے بڑے برج کبھی کبھار اچھی چوائس ثابت نہیں ہوتے،کبھی کبھی جمی کرکٹ (Jiminy Cricket)جیسے نمائندے (Pinocchio)سے اچھی کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہتے ہیں۔‘‘ خود کو بورس جانسن سے بہتر امیدوار قرار دینے والے جیمز کلیورلی نے کا نام اب فہرست میں شامل نہیں۔وہ بریگزٹ کے شجر ممنوعہ بننے کے بعد وہ بھی متبادل پلان لے کر منظر عام پر آئے تھے۔

:برطانیہ:وزارت عظمیٰ آندرے لیڈسن(Andrea Leadsom)کے بقول وہ ہی برطانیہ میں بہترین متبادل قیادت ہو سکتی ہیں۔ان کا خیال ہے کہ عظیم جماعت کی قیادت کرنا ان کے کے لئے ایک اعزاز ہو گا اور وہ ملک کی کشتی کو بحران سے نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔ میٹ ہین کاک (Matt Hancock)بہت سنجیدہ امیدوار ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ملک کو صرف آج ہی نہیں، مستقبل میں بھی اعلیٰ قیادت درکار ہے اسی لئے انہوں نے اس میدان کارزار میں قدم رنجا فرمایا ہے۔ انہوںنے یورپی یونین سے بھی لچک دار رویے کی امید ظاہر کی ہے۔ انہوں نے برملا اس بات کااظہار کیاکہ اب ان کا کام بریگزٹ میں ناکامی کے بعد برطانیہ کیلئے بہترین چوائس کو تلاش کرنا ہے۔ اسیتھر میکوے (Esther McVey)وزارت عظمیٰ کی دوسری خاتون امیدوار ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ’’یورپی یونین سے واپسی کا ٹائی ٹینک ڈوب چکا ہے،اب متبادل کی تلاش میں ہی بقا ہے۔

میں ملک کی ضروریات کے عین مطابق جرات مندانہ اور نیا نکتہ نظر اختیار کروں گی۔31اکتوبر کو یورپی یونین سے اخراج کے بعد ہم نئے مسقتبل کی تعمیر نو کریں گے۔‘‘کٹ مالٹ ہائوس (Kit Malthouse)کا شمار برطانیہ کے اہم سیاست دانوں میں ہوتا ہے۔ ’’ بریگزٹ پارٹی ‘‘کے نائیجل فراج(Nigel Farage) فار رائٹ کے اہم سیاست دان ہیں۔انہوں نے دو ٹوک رویہ اختیارکرتے ہوئے سب پر واضح کیا ہے کہ ایک کومے اور فل سٹاپ کی تبدیلی کو بھی معاہدے کے خلاف سمجھا جائے گا۔ مائیکل بارنیئر نے نائیجل فراج کو یورپی یونین کے لئے خطرناک قرار دیا ہے۔مغربی میڈیا میں یہ بات بھی گردش میں ہے کہ اب نائیجل فراج نے برطانوی سیاست کو بہت حد تک تبدیل کر دیا ہے۔ بلکہ ان کی کامیابی کی بڑی وجہ بڑی جماعتوں کی ناکامی ہے۔

اب دوسری جماعتیں بھی ’’بریگزٹ پارٹی‘‘ کی پیروی کرنے پر مجبور ہیں۔جس نے یورپی پارلیمنٹ کے انتخابات میں بھی دوسری جماعتوں کو پریشان کیا۔ بریگزٹ ریفرنڈم سے پیدا شدہ خلا کو پورا کرنا بس میں نہیں رہا۔ اب اس کے لیے طاقتورپاپولسٹ نیشنل ازم کی ضرورت ہے۔ یعنی فار رائٹ جماعتوںکی۔ یہ وہی فار رائٹ جماعتیں ہیں جنہیں بنیاد پرست اور ریڈیکل کہا جا سکتا ہے۔

اگر سخت وزیر اعظم آیا تو کیا ہوگا؟

برطانیہ میں مارگیٹ تھیچر نے ڈٹ کر حکومت کی، ان کی طرز سیاست کو تھیچر ازم کہا جاتا ہے۔ ان کا رویہ سخت اور بے لچک تھا۔ اسی رویے سے مشکلات نے جنم لیا۔38فیصد ورکنگ کلاس تعلیم اور صحت پر سبسڈی لینے پر مجبور ہو گئی ۔تھیچر ازم سے امراء کو فائدہ پہنچا۔ ارتکاز زر اس وقت برطانیہ کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ بریگزٹ کے پس منظر میں بھی ارتکاز زر سے پیدا ہونے والی غربت کو اہم عنصر قرار دیا جاسکتا ہے اور یہ ارتکاز زر ملکہ وکٹوریہ کے دور س بھی سنگین تر ہو گیا ہے۔ دولت چند ہاتھوں میں گزشتہ سو سال میں محدود نہیں ہوئی جتنی چند برسوں میں ہو گئی۔

تھریسامے کے استعفیٰ سے ٹوری پارٹی کے اندر ایک بڑی تقسیم پیدا ہو گئی۔ دونوں گروپوں کے لیڈراقتدار کی رسہ کشی میں برطانوی جمہوریت کو کمزور ہی کریں گے۔ اگر برطانیہ کو مستقبل میں کوئی ہارڈ لائنر مل گیا توپھر یقینا وہ بغیر کسی معاہدے کے یورپی یونین سے نکل آئے گا۔ ایسا ہونا کسی صورت میں دو سالہ ٹرانزیشن پیریڈ نہیں ملے گا۔ اسی طرح برطانیہ اور یورپی یونین کوطویل المعیاد تجارتی معاہدوں کیلئے وقت ہی نہیں ملے گا۔ آپس کے معاہدات ختم یا غیر موثر ہونے کی صورت میں ڈبلیو ٹی او کے قواعد و ضوابط نافذ ہوں گے۔برطانوی مصنوعات کو ملنے والا خصوصی سٹیٹس ختم ہو جائے گا۔ یورپ بذات خود بہت بڑی منڈی ہے مگر برطانوی مصوعات کی مانگ میں کمی قدرتی امر ہو گا۔سخت وزیراعظم آیا تو حالات مزید خراب ہوں گے۔ب

ریگزٹ کے دوسرے ریفرنڈم میں ہم نے دیکھا کہ کچھ ارکان پارلیمنٹ نے سخت رویے کی مخالفت کی ۔ یہی نہیں بلکہ 60لاکھ لوگ بریگزٹ منسوخ کرو کی درخواست پر سائن کر چکے ہیں۔ اس صورت میں نیا وزیراعظم مذاکرات کے دروازے کھول دے گا۔ وہ بریگزٹ پر متبادل انتظامات کیلئے ریفرنڈم کروا سکتا ہے۔ ممبر پارلیمنٹ اگرچہ کئی دو مرتبہ دوسری آپشنز پر بھی غور کر چکے ہیں مگر انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

اگر نرم وزیراعظم آیا توکیا ہو گا؟

برطانیہ میں اگر بریگزٹ کے بارے میں نرم رویہ رکھنے والے کسی رہنما نے اقتدار سنبھال لیا تو پھر برطانیہ کویورپی یونین کے کسٹم قوانین اورسنگل مارکیٹ کی سہولت برقرار رہے گی جس سے برطانوی انڈسٹری کا پہیہ معمول کے مطابق چلتا رہے گا ورنہ بے روزگاری میں اضافے کا خدشہ ہے۔

پارٹیوں کا بحران

لیبر پارٹی بھی بحران سے دو چار ہے۔ جیئرمی کاربن کی ناکام سیاست کی وجہ سے درجنوں قانون سازوں نے ایوان نمائندگان کے اندر آزاد گروپ بنا لیا ہے۔ یعنی پرندے برطانیہ میں پرواز کر رہے ہیں۔ کنزرویٹو پارٹی کے بھی تین ارکان اس گروپ میں شامل ہیں ۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ لیبر پارٹی کا سکاٹ لینڈ میں صفایا ہو چکا ہے۔ وہ لوگوں کے دل جیتنے میں ناکام رہی۔ لندن میںبھی اسے پذیرائی حاصل نہ ہوئی۔ حتیٰ کہ وہ گرین پارٹی سے بھی زیادہ نشستیں حاصل نہ کرسکی اور اس سے بھی پیچھے رہ گئی۔ اور دودوسری جماعتوںنے 25فیصد ووٹ حاصل کر لیے ہیں۔ ٹرن آئوٹ کم رہا، ووٹر بطور احتجاج باہر نہیں نکلا۔ تبدیلی کے نعرے سے پریشانی برطانوی ووٹر اب بریگزٹ ریفرنڈم میں بھی اپنی امیدیں کھو چکاہے۔ وہ سٹیبلشمنٹ کیخلاف ہے جس کے پاس اس کے مسائل کا کوئی حل نہیں۔

آرٹیکل 50 کیا ہے؟

 

برطانیہ نے یورپی یونین سے اخراج کافیصلہ 30جون 2016ء کو ایک ریفرنڈم میں کیا۔ اب اس پر عمل درآمد کے لئے 31اکتوبر 2019ء تک کی ڈیڈ لائن طے ہے ۔اس سلسلے میں29مارچ2017ء کو آرٹیکل 50 نافذکیا گیا۔ اس میں دوسال کی مدت طے ہوئی ۔ 8جون 2017ء کو برطانیہ میں عام انتخابات کے نتیجے میں تھریسامے وزیر اعظم منتخب ہوئیں البتہ ڈیمو کریٹک نے یونینسٹ پارٹی سے اس کی متعدد نشستیں چھین لیں اور یہیں سے تھریسامے کی مشکلات کا آغاز ہوا۔ 19یورپی یونین سے مئی کو مذاکرات شروع ہوئے۔ 25نومبر 2018 ء کوبرطانیہ اور یورپی یونین 585 صفحات پر مشتمل دستاویز پر متفق ہو گئے۔ شہری حقوق ،علیحدگی کا بل اور آئرش بارڈر بھی اس کا حصہ تھے۔ 15جنوری 2019ء کو پارلیمنٹ نے اسے مسترد کردیا۔ 16جنوری کو تھریسامے تحریک عدم اعتماد سے بچ نکلنے میں کامیاب رہیں،ان کے خلاف دو مرتبہ تحریک عدم اعتماد آتے آتے رہ گئی ۔ انہوںنے 21جنوری کو پلان بی پیش کیا۔ مگر اسے بھی پرانی دستاویزات سے مشابہہ قرار دے کر مسترد کر دیا گیا۔ ارکان پارلیمنٹ آئرلینڈ سے متعلقہ شقوں کے اخراج کے حق میں ہیں مگر یورپی یونین کے بقول معاہدے میں رد و بدل کی گنجائش نہیں۔ 12مارچ کو ان کا ایک اور پلان ناکام ہو گیا۔ 27مارچ کو بریگزٹ کی 8متبادل تجاویزپیش کی گئیں ایک کو بھی شرف قبولیت حاصل نہ ہو سکا چنانچہ 29 مارچ کو 28ووٹوں سے تھریسامے کو پھر شکست ہو گئی جس کے بعد انہوں نے اقتدار سے الگ ہونے کا فیصلہ کر لیا۔

ٹوری پارٹی کا نیا قائد کون ہوگا؟

 

 اس بارے میں ایک سروے کیا گیا جس کے نتائج حسب ذیل ہیں۔۔۔

نیا لیڈر تعداد حامی

بورس جانسن 26فیصد

ان میں سے کوئی نہیں 13فیصد

روری سٹیورٹ 11فیصد

ڈومینک راب 10 فیصد

ایستھر میکوے 9فیصد

ساجد جاوید 8فیصد

جیئرمی ہنٹ 7 فیصد

مائیکل گوو 5 فیصد

کٹ مالٹ ہائوس 4فیصد

آندرے لیڈسن 4فیصد

میٹ ہین کاک 3فیصد

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

سامراجیت کے آلہ کارمغرب نواز سیکولر لبرل مسلمانوں، یورپی امریکی میڈیا ہاوسز اور سرمایہ دار کمپنیوں کے مالک یہودیت کے علمبرداروں نے اس ...

مزید پڑھیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا بھر کی متنازعہ شخصیات میں سے ایک ہیں۔2016 کے صدارتی انتخابات سے قبل دنیا انہیں ایک کاروباری شخصیت سے تعبیر کرتی ...

مزید پڑھیں

8جولائی 2019کو قطر میں عروج پر پہنچنے والے ’’امریکہ طالبان مذاکرات‘‘نائن الیون سے صرف چار دن پہلے اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں۔ ا ...

مزید پڑھیں