☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل عالمی امور کیرئر پلاننگ سنڈے سپیشل فیشن کھیل کچن کی دنیا شوبز خواتین دنیا کی رائے روحانی مسائل طنزومزاح ادب
اب بس ۔۔۔افغان جنگ کا انجام قریب آگیا۔۔۔

اب بس ۔۔۔افغان جنگ کا انجام قریب آگیا۔۔۔

تحریر : محمد ندیم بھٹی

07-07-2019

امریکی رہنما زالمے خلیل زاداور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا ساتواں اور شاید آخری رائونڈ قطر میں شروع ہو چکا ہے۔طالبان کی مذاکراتی ٹیم کی قیادت ملا عبدالغنی بہادر کر رہے ہیں۔شیر محمد عباس بھی گروپ میں شامل ہیں۔ان میں سے ایک رہنما کو حال ہی میں غیر ملکی اشارے پر جیل سے رہا کیا گیا ہے۔

یہ وہی عبدالغنی ہیں جو ملا عمرکے دورحکومت میں بھی شامل تھے ۔انہیں خود بھی حکومت کرنے کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔امریکی ٹیم کی قیادت زالمے خلیل زاد کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بے گناہوں کا قتل ہو رہا ہے لہٰذا مذاکراتی عمل کو تیز تر کیا جائے ۔مزید جانوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،انہوں نے کہا کہ اب امن کو راستہ ملنا ہی چاہیے۔

طالبان نے جوابی فائر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارے غیر منتخب افراد سے مذاکرات ناکام ہو گئے تو پھر ہم ان سے دوبارہ مذاکرات نہیں کریں گے، پھر منتخب نمائندوں سے ہی مذاکرات کئے جائیں گے، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ شاید غیر منتخب نمائندے حالات کی سنگینی کو سمجھنے سے قاصر ہیں یا پھر ان کے پاس وہ اختیارات نہیں جو کہ منتخب نمائندوں کے پاس ہو سکتے ہیں۔ مذاکرات جاری ہوئے آٹھ روز ہو چکے ہیں ۔

بات چیت کا یہ سلسلہ اگلے ہفتے میںبھی جاری رہ سکتا ہے۔ جزئیات کے طے ہونے میں دو ہفتے سے بھی زیادہ لگ سکتے ہیں، وہاں کون سا بجلی کی بندش کا ڈر ہے کہ بھائی جون کی گرمی ہے، اوربجلی کی ڈیفالٹرکمپنیوں کے ڈر سے مذاکرات عجلت میں ختم کر دئیے جائیں! ۔فریقین کی زیادہ تر توجہ کسی قابل عمل تحریری دستاویز کی تیاری پر ہی مرکوز ہے جس میں پیش رفت ہوئی ہے۔دراصل امریکہ نے ایک بات طے کر دی ہے، اس نے طالبان رہنمائوں کو بتا دیا ہے کہ وہ ہر صورت مین افغانستان سے یکم ستمبر تک اپنی فوجوں کا انخلاء چاہتا ہے ۔ستمبر کی تاریخ مقرر کرنے کی ایک وجہ امریکی صدر ٹرمپ ہیں۔اسرائیل ۔

فلسطین امن مذاکرات میں مکمل ناکامی کے بعد اب افغانستان ان کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ فلسطین میں ناکامی کا داغ دھونے کے لئے وہ افغان مسئلے کا جلد از جلد حل چاہتے ہیں۔اسی لئے ان کی خواہش ہے کہ واپسی کا عمل اس تاریخ کو لازمی شروع ہو جانا چاہیے،فوجوں کی واپسی میں چاہے کتنے ہی ہفتے لگ جائیں لیکن مذاکرات میںطوالت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اب وہ وقت نہیں کہ امریکہ طالبان کے ساتھ ’’مذاکرات، مذاکرات ‘‘ کھیلے ۔وہ ایسا ہر گز نہیں کھیلنا چاہتا،واپسی کی ڈیڈ لائن بھی اسی لئے مقرر کی ہے تاکہ طالبان کو بھی تسلی ہو جائے کہ اب افغانستان کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں بھی آ سکتی ہے مگر اس کا طریقہ وہ ہی ہو گا جو دنیا بھر میں رائج ہے، یعنی ووٹ کے ذریعے جو چاہے اپنی حکومت بنا سکتا ہے۔ طالبان بھی امریکی حکمت عملی کو نافذ ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں ،مگر فریقین میں عدم اعتماد کی گہری چادرمعاہدے تک پہنچنے میں واحد رکاوٹ ہے۔

جس کی اوٹ میںحقائق نظر ہی نہیں آ تے ۔بہر کیف، ساتویں رائونڈ میں برف پگھلنا شروع ہو ئی ہے۔ دونوں نے ایک دوسرے کو راستہ دینا شروع کیا ہے۔ طالبان نے بھی اس بات پر آمادگی ظاہر کر دی ہے کہ وہ امریکہ کو اس کی طویل ترین جنگ ختم کرنے کا موقع فراہم کرناچاہتے ہیں ،تاکہ وہاں سے 20ہزار امریکی اور نیٹو فورسز کو محفوظ راستہ مل جائے ۔ طالبان امریکہ کو وہاں سے نکلنے کے لئے سازگار ماحول مہیا کرنے کے حق میں ہیں ۔انہوں نے اس کے طریق کار پر بھی کسی حد تک آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

امریکہ نے بات چیت کے نکات کو انتہائی خفیہ رکھنے کی کوشش کی ہے یہی وجہ ہے کہ جزئیات امریکی میڈیا کے علاوہ کسی اور میڈیا پر منظر عام پر آ ہی نہیں رہیں۔ عرب ممالک کا میڈیا بھی خاموش ہے۔تاہم امریکی وزیر خارجہ پامپیو اورامریکی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ زالمے خلیل زاد نے ایک بات واضح کر دی ہے کہ معاہدے کی تین جہتیں ہوں گی،ان کی مدد سے فریقین ایک ڈرافٹ پر متفق ہو چکے ہیں،ٹائم لائن اور دیگر امور بعد میں طے کئے جائیں گے۔

اول:دہشت گردی کا فوری خاتمہ۔یہ ممکن نظر نہیں آتا۔دہشت گردوں نے مذاکرات شروع ہونے سے عین چند روز قبل بغلان میں کم از کم 26افراد ماردیئے تھے۔مذاکرات کے دوران کئی حملوں میں 40کے قریب افغان افراد ہلاک کئے گئے ۔یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ کم از کم حکومت کے حامی 26گروپ بھی شمالی افغانستان میں ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں ۔ان سے بچنے کی کوئی امید نہیں۔یہ بھی ایک طرح کی رکاوٹ ہیں، امریکہ ان پر قابو نہیں پا سکا۔ اس کی توجہ کا مرکز صرف اور صرف طالبان پر ہے مگر وہاں اور بھی قوتیں ہیں جنہوں نے امن کو تہہ وبالا کر رکھا ہے ۔طالبان کو یہ ضمانت بھی دینا ہو گی کہ وہ اپنی سرزمین دہشت گردوں کو استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔

دوئم:بات چیت کا عمل مقامی افغان قیادت سے بھی جاری رکھنے کا فیصلہ

سوئم:مستقل سیز فائریعنی طالبان دوبارہ ہتھیار نہیں اٹھائیں گے۔اس بارے میں طالبان کہہ چکے ہیں کہ سیز فائر پر وہ راضی ہیں مگر ایساغیر ملکی فوجوں کی مکمل واپسی کے بعد ہی ممکن ہے، اس سے پہلے مکمل سیز فائر نہیں کیا جا سکتا اس صورت میں مخالفین کا پلڑا بھاری ہو جائے گااور اقتدار ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا اس لئے وہ مخالفین کوکھلامیدان نہیں دے سکتے۔

چہارم:امریکہ کے لئے ہر قسم کے خطرات کا خاتمہ

چاروں نکات پر بات چیت کافی آگے بڑھی ہے۔طالبان نے کچھ ذیلی نکات سے انکار اور کچھ کا اعتراف کیا ہے۔مستقل سیز فائر ممکن ہے مگران پر عمل درآمد کے لئے امریکہ ضمانتیں چاہتا ہے،یہ ضمانتیں ہی اصل رکاوٹیں ہیں۔ طالبان اس کی کیا ضمانت دے سکتے ہیں، اس پر مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے۔ طالبان کے اندر سے کئی گروپس ہیں کچھ اس کی حمایت کر چکے ہیں ،بعض رہنما ایک نکتے پر متفق نہیں ہو سکے۔

وہاںطالبان واحد سٹیک ہو لڈر نہیں ہیں ، ان کے علاوہ اور بھی کئی عوامل اور گروپس سیاست اور دہشت گردی پر اثر انداز ہیں۔ طالبان کے اندر بھی گروپس ہیں۔اسی لئے ضمانت دینا مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ اسلحہ ان کے کلچر کا حصہ ہے، اسے دہشت گردی سے ہرگز نہ جوڑا جائے،اس کا جائزہ اپنے دو سو سالہ نوآبادیاتی نظام میں برطانوی بھی اچھی طرح کر چکے ہیں۔ یعنی کلچر اور دہشت گردی کو الگ الگ کرنے کا مسئلہ درپیش ہے۔

طالبان اپنی جانب سے ہر قسم کی ضمانت دینے کو تیار ہیں کہ افغانستان مستقبل میں بھی امریکہ کے لئے کبھی کو ئی خطر نہیں بنے گا۔طالبان نے بھی ا س کے لئے چند شرائط پیش کی ہیں جن پر غور بھی ہو رہا ہے اور عمل بھی ہو گا۔ مذاکرات کا عمل مستقل جاری رکھنے کے لئے سازگار ماحول کا ہونا بھی لازمی شرط ہے، یہ ماحول بھی برقرار رہنا چاہیے ۔اس پر کام ہو رہا ہے۔فریقین نتیجے پر راضی ہیں مگر راستے کا تعین کیا جا رہا ہے۔

اس کی جزئیات طے ہونا باقی ہیں۔اسی سے جڑی ہوئی ایک اور شرط پر عمل درآمد پر بھی کچھ اختلافات ہیں۔امریکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کے نکلنے کے بعد طالبان افغان حکومت سے براہ راست مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری رکھیں۔ اس پر طالبان کو شدید اعتراض ہے۔جب وہ افغان حکومت کو ہی نہیں مانتے تو ان کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کا جواز ہی پیدا نہیں ہوتا۔تاہم افغان حکومت میں شامل صدر اشرف غنی اور دوسرے رہنماعام آدمی کے طور پر ان سے جب چاہے مل سکتے ہیں ،طالبان کو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔بطور صدر ان کے دو بڑے اعتراضات ہیں۔

اول:صدراشرف غنی امریکہ کے کٹھ پتلی ہیں،ان کی اپنی کوئی حیثیت نہیں۔ان سے بات چیت وقت کا ضیاع ہے۔

دوئم: اشرف غنی کو فیصلے کا بھی اختیار حاصل نہیں جب آخری فیصلہ امریکہ نے ہی کرنا ہے تو پھر اشرف غنی سے مذاکرات کیوں ؟

افغان ارہنمائوںسے براہ راست مذاکرات سے انکار کے باوجود طالبان مذاکرات کے دو رائونڈ میں حصہ لے چکے ہیں۔ ایک میں سابق افغان صدر حامد کرزئی اور شمالی اتحاد کے رہنمابھی شامل تھے۔طالبان رہنما روس میں بھی ان کے ساتھ مذاکرات کا ایک رائونڈ مکمل کر چکے ہیں۔ جس میں کافی پیش رفت ہوئی تھی۔ماسکو میں بھی کل تین اجلاس ہو چکے ہیں ، روس بھی اس عمل کا حصہ ہے کیونکہ امریکی فوجوں کی واپسی کے بعد پورے خطے پر اثرات مرتب ہو ں گے جن کا پہلے سے علاج کرنا ضروری ہے۔اب تک مذاکرات کی ناکامی میں افغان سیاست کا بھی عمل دخل ہے،حامد کرزئی موجودہ صدر کو مضبوط ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے تھے اور موجودہ صدر کی تمام تر حکمت عملی سابق رہنمائوں کی ناکامی پر مرکوز تھی۔لہٰذاامن کی خواہش ایک خواب ہی رہی۔

یہ الگ بات ہے کہ طالبان نے حامد کرزئی کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھی تھی۔ان کے پانچ سالہ دورحکومت میں کئی دھماکے ہوئے جن میں اہم رہنمائوں نے بھی اپنی جانوں کی قربانیاں دیں یا دیناپڑیں۔یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں نئی حکومت بننے کا بھی امکان ہے۔صدر اشرف غنی کی جانب سے 28ستمبرکو صدارتی انتخاب کرانے کی تجویز کو بھی طالبان کے مطالبے سے جوڑا جا رہا ہے ، یعنی افغان صدر انتخابات ہارنے کی صورت میں 28ستمبر کو بھی ایوان اقتدار سے نکل سکتے ہیں۔

یہی طالبان کا مقصد ہے۔ لیکن انہیں اشرف غنی حکومت سے منصفانہ انتخابات کی کوئی امید نہیں۔ اسی لئے 28ستمبر کو متوقع صدارتی انتخابات پر تنقید کے نشتر برسائے جارہے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ الیکٹرانک مشینوں پر چند ایک افراد کو تربیت دی گئی تھی اورگزشتہ برس اکتوبر میںہونے والے پارلیمانی انتخابات کے دن وہ کہیں نظر نہیں آئے۔ان انتخابات میںاگرچہ تشدد کے بھی کچھ واقعات پیش آئے تھے مگر ماہرین کے نزدیک اصل بد انتظامی اور الیکشن فراڈ کا تھا۔ دنیا جانتی ہے کہ پارلیمانی انتخابات میں کیا نہیں ہوا تھاجب نوابزادہ نصراللہ کی باتیں سچ ثابت ہو ئی تھیں۔

انہوں نے کہا تھاکہ الیکشن کمیشن 5 ووٹوں کو 50بھی بنا سکتا ہے۔ انہوں نے سابقہ الیکشن حکام پر تنقید کرتے ہوئے مذاقاََکہا تھا کہ’’ امریکہ میں انتخابات ہوئے ۔پانچ امیدواروں میں ایک پاکستانی بھی شامل تھا۔ووٹرز کل پچاس تھے ،جب گنتی شروع ہوئی تو ایک امیدوار کے بیس ووٹ تھے اوردوسرے کے تیس جبکہ پاکستانی کے 50ووٹ برآمد ہوئے‘‘۔گزشتہ افغان انتخابات میں بھی یہی کچھ ہوا جب کھل کر جعلی ووٹ بھگتائے گئے تھے ،بلکہ دل کی بھڑاس نکال لی گئی تھی۔ ہمارے ماضی کے انتخابات کو بھی بری طرح مات دے دی گئی تھی۔امریکی رہنماکوگل مین(Kugleman) نے صاف طور پر کہہ دیاہے کہ’’ امریکی حکومت کو بھی یقین ہے کہ افغانستان میں انتخابات امن مذاکرات میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔اس سے وہاں دشمنیاں اور گروہ بندیاں سر اٹھائیں گی،قومی ہم آہنگی اور یک جہتی متاثر ہو گی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ طالبان کے ایک حصے کو حکومت میں شامل کئے بغیر سیاسی طورپربا اختیار بنا دیا جائے۔

جیسا کہ ہمارے ہاں منتخب اور غیر منتخب ’’حکومت‘‘ساتھ ساتھ چل رہی ہے تو وہاں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا۔ آخر کار ، موجودہ افغان رہنمائوں نے طالبان سے ہی اقتدار چھینا ہے،اب یہی چھینا جھپٹی معاہدے کی ایک رکاوٹ بن رہی ہے۔امریکہ نے عبداللہ عبداللہ کو بھی کو چیف ایگزیکٹیو کے طور پر شامل کیا تھا، ایسا طالبان رہنمائوں کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ان میں سے کچھ رہنمائوں کو بھی معمولی عہدے دے کر ٹرخایا جا سکتا ہے۔

اب تک مذاکرات کے عمل سے باہر رکھے گئے افغان صدر عبدالغنی نے بات چیت کی کامیابی کی امید ظاہر کی ہے۔انہیں جلد ہی افغان رہنمائوں سے بھی مذاکرات شروع کرنے کی امید ہے۔ اس کے لئے انہیں اپنے ہاں منصفانہ انتخابی عمل سے گزرنا پڑے گا۔وہ چاہتے ہیں کہ امریکی میدان سے نکل جائیں اور پھر کھیل ان کے ہاتھ میں آ جائے ۔ انڈیا بھی یہی چاہتا ہے، وہ بھی مذاکرات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاک افغان میچز کے موقع پر ’’انہی لوگوں نے‘‘ حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی اور عالمی کھیل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے ایک عالمی مسئلہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مستقبل میں جب مذاکرات افغانستان میں ہی ہوں،اور وہاں پاکستان مخالف حکومت قائم ہو۔دراصل امن مذاکرات کی کامیابی سے کئی علاقائی طاقتوں کی سیاست کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔اسی لئے ان کی خواہش کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات جلد از جلد اتنے خراب کر دیئے جائیں کہ پھر طالبان کے لئے بھی ان کی طرف دیکھنا مشکل ہو جائے اور وہ بھی بھارت کو ترجیح دے۔مگر ایسا نہیں ہوگا،افغانستان میں پاکستان کو وسیع حمایت حاصل ہے اور وہ اس سے کوئی نہیں چھین سکتا۔

 

افغانستان میں 50صدارتی امیدوار

افغانستان میں صدارتی انتخابات کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر 50کے قریب امیدوار میدان میںاتر چکے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ ان سطور کے منظر عام پر آنے تک کچھ اپنی ناکامی کے خوف سے انتخابی عمل سے باہر ہو چکے ہوں۔ یہ بھی ہوسکتاہے کہ کچھ کے ساتھ ’’لے دے‘‘ کر معاملہ طے کر لیا جائے۔ سب سے اہم امیدوار تو ظاہر ہے کہ موجودہ صدر اشرف غنی اور موجودہ چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ ہی ہیں۔ انتخابی میدان میں سابق وزیر اعظم گلبدین حکمت یار کی انٹری کو ’’پرانی ہوا کا تازہ جھونکا ‘‘ کہا جا سکتا ہے۔انہوں نے سیاسیت سے طویل کنارہ کشی کے بعد ایک مرتبہ پھر سیاست کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے۔ان کے کئی قریبی ساتھیوں کو بھی کلیرنس مل چکی ہے۔ لہٰذا انہیں ’’مقتدر سسٹم‘‘ کی جانب سے کسی مشکل کا سمان شائد نہ کرنا پڑے۔دیگر امیدواروں میں محمد حنیف(سابق وزیر داخلہ)،رحمت اللہ نبیل(نیشنل ڈائریکٹوریٹ کے سابق سربراہ)،زلمئی رسول(سابق وزیر خارجہ)،شائیدہ محمد ابدالی(سابق سفیر بھارت)،فرامرض تمنا(سنٹر برائے سٹریٹیجک سٹڈیز کی سابق سربراہ)، عبدالطیف پیدران(ممبر پارلیمنٹ)،نورالحق علمی(سابق وزیر داخلہ)،سید سمیع،محمد احسان قرجی،محمد ابراہیم الکوزئی،محمد صادق عزیزی،محمد حاکم طورسن،محمد نادر،سیف اللہ قیصری،سیدنوراللہ جلیلی،چراغ علی چراغ،عنایت اللہ حافظ،جنت خان فہیم، عبدل جمیل شیروانی،عبدالجبار تقویٰ،غلام علی وحدت ،بشیر احمد،سید قیاس سعیدی،محمد امین،محمد شعاب حکیمی،عبدالعلی سروانی،نورالہباب،محمد یونس قانونی،حاجی محمد محقق،فضلہادی وزین،حافظ رحمان وزین،حافظ الرحمان نقی،احمد ولی مسعود، فریدہ مہمند، عبدالطیف نجری،مراد علی مراد،مسعودہ طلحہ محمد، خدیجہ غزنوی،عنایت اللہ بابر،اسد اللہ سعادتی،امیر اللہ صالح،غلام سرور دانش، نور اللہ،عبدالہادی،اب بصیر سلنگی،ذوالفقار خان عبدالفاروق، شریف اللہ اور محمد شریف بابر خیل بھی شامل ہیں۔

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

سامراجیت کے آلہ کارمغرب نواز سیکولر لبرل مسلمانوں، یورپی امریکی میڈیا ہاوسز اور سرمایہ دار کمپنیوں کے مالک یہودیت کے علمبرداروں نے اس ...

مزید پڑھیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا بھر کی متنازعہ شخصیات میں سے ایک ہیں۔2016 کے صدارتی انتخابات سے قبل دنیا انہیں ایک کاروباری شخصیت سے تعبیر کرتی ...

مزید پڑھیں

8جولائی 2019کو قطر میں عروج پر پہنچنے والے ’’امریکہ طالبان مذاکرات‘‘نائن الیون سے صرف چار دن پہلے اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں۔ ا ...

مزید پڑھیں