☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن کیرئر پلاننگ دنیا اسپیشل خصوصی رپورٹ سنڈے سپیشل عالمی امور دین و دنیا کچن کی دنیا روحانی مسائل ادب کھیل رپورٹ خواتین
یورپی یونین پر عورت کی حکمرانی

یورپی یونین پر عورت کی حکمرانی

تحریر : محمد ندیم بھٹی

07-14-2019

ایک مدت ہوگئی یورپی یونین کو بنے ہوئے ، مگر اس پر مرد ہی حکمرانی کرتے رہے ہیں۔برطانیہ سمیت کئی دوسرے ممالک میں خواتین وزرائے اعظم نے حکومتیں بنائی ہیں۔لیکن یورپی یونین عورت کی حکمرانی سے محروم رہا،اس کا خواب پورا ہونے والا ہے۔بریکسٹ کے بعد کی صورتحال سے نمٹنے کی بھاری ذمہ داری خواتین کے کندھوں پر ڈالی جا رہی ہے۔

جولائی کے پہلے ہفتے میں تین روز جاری رہنے والے یورپی یونین کے غیر معمولی اجلاس میں چار اہم ترین عہدوں میں سے دو (صدر مرکزی بینک یورپی یونین اور صدر یورپی یونین کمیشن )کے عہدے خواتین کو دینے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا۔ موجودہ صدر یورپی یونین کمیشن ژاں کلاڈ جنکر (Jean Claude Junker) کی جگہ 60سالہ جرمن وزیر دفاع ارسولا وون در لیون(Ursula von der Leyen) 30 اکتوبرکو برطانیہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد ایک روز بعد یکم نومبر کو اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیں گی ۔

’’یورپین سنٹرل بینک ‘‘ کی کمان موجودہ صدرماریو دراغی (Mario Draghi)کی ریٹائرمنٹ کے بعدآئی ایم ایف کی 63سالہ مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹائن لوگارڈ کو سونپ دی جائے گی۔ وہ آئی ایم ایف سے چھٹی لے کر اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیں گی۔ فریڈریکا موغرینی(Federica Mogherini) کی ریٹائرمنٹ کے بعد ’’فارن افیئرز اینڈ سکیورٹی پالیسی ‘‘ کی قیادت سپین کے 72سالہ وزیرخارجہ جوزپ بوریل (Josep Borell) سنبھال لیں گے۔ بیلجیئم کے 43سالہ وزیر اعظم چارلس مائیکل ڈونلڈ ٹسک کی ریٹائرمنٹ کے بعدیورپی یونین کی کونسل کے نئے صدرہوں گے۔یورپی پارلیمنٹ کی سربراہی اٹلی کے 63سالہ سوشلسٹ نواز ڈیوڈ ماریہ ساسولی کو ملنے کا امکان ہے۔یوںنئی یورپی قیادت جون اور تجربہ کار خون کا خوبصورت ملاپ ہے ۔ان سے یورپ نے بے حد توقعات وابستہ کی ہوئی ہیں۔ یورپ کی سطح پر نافذ ہونے والا ہر فیصلہ انہی رہنمائوں کی منظوری کا محتاج ہوتا ہے۔

نئی قیادت کے چنائو کیلئے بلائے گئے اجلاس میں ڈونلڈ ٹسک نے یورپی یونین میں تین بڑی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے چھ ممالک کے وزرائے اعظم کے نام پیش کئے۔جرمن چانسلر نے اپنا سار وزن پرانے ساتھی مینفرڈ ویبر کے حق میں ڈال دیا ۔میخوان نے اتنی ہی پھرتی اورطاقت کے ساتھ اینجلہ مرکل کا نام یہ کہہ کر مسترد کر دیاکہ ’’ انہیں حکومت چلانے کا کوئی تجربہ حاصل نہیں‘‘۔جرمن چانسلر اور فرانسیسی صدر کے مابین یہ پہلا کھلا تصادم تھا۔بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔

یورپی یونین کی کونسل کے موجودہ سربراہ نے انتخاب کو بہترین جینڈر بیلنس قراد دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے چار میں سے دو عہدے خواتین کو دے دئیے ہیں‘‘۔ فرانسیسی صدر نے نئی قیادت کو ’’فرانکو۔جرمن اتحاد‘‘ کا نمونہ قرا دے دیاہے۔یورپی اتحاد کو برقرا رکھنا اور برطانیہ کی علیحدگی کے بعد پورپ کو کسی بھی نئے تصادم سے بچانا ان کی سب سے بڑی ذمہ داری ہوگا جس کے لئے وہ تیار ہیں، نئی قیادت یورپی یونین میں کسی قسم کی دراڑ پڑتے دیکھنا ہی نہیں چاہتی ۔

برطانیہ نے یورپیوںکے دل توڑ دیئے ہیں۔ بریکسٹ سے ان کے تن بدن میں آگ سی لگی ہے، برطانیہ کو اگر کوئی تحفظات تھے تو راہیں جداکرنے کی بجائے مذاکرات کی میز پر ہر مشکل کو حل کیا جا سکتا تھا۔ برطانیہ الگ ہو رہا ہے ،ہر یورپی باشندہ دکھی ہے۔ بریکسٹ سے ’’ٹکرا ‘‘ جانے والی قیادت کو اسی لئے منظر عام پر لایا گیا ہے۔ ’’مردانہ قیادت‘‘ بریکسٹ سے نمٹنے میں ناکام رہی ،یورپ کے اندر اٹھنے والی آوازوں نے نئی ٹیم کے دل میں کسک پیدا کر رکھی ہے،اس حوالے سے گلے پانچ سال انتہائی اہم ہوں گے۔

خواتین کے اختیار سنبھالنے کے بعد یورپ کی دونوں بڑی سیٹوں مردوں کا قبضہ ختم ہو جائے گا۔ گائناکالوجسٹ اور سات بچوں کی ماں ارسیلا وون در لیون40برس سے جرمنی کی سیاست میں چھائی ہوئی ہیں۔ 14برس تو مرکل کابینہ میں شمولیت کو ہوگئے مگر انہیں سب سے زیادہ مخالفت کا سامنا اپنے ہی ملک کی جانب سے کرناپڑا۔ انہیں جرمنی میں اینجلہ مرکل کا متبادل سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے اس خواہش کا کبھی خود تو نہیں کیا مگر میڈیا انہیں مضبوط متبادل کے طور پر پیش کرتا رہا۔ اینجلہ مرکل نے یورپی کمیشن کی صدارت کے لئے برازیلی قانون دان کا نام پیش کر دیاتھا ان کے پیش کردہ نام پر کئی دیگر ممالک راضی نہ ہوئے بالآخر یہ نام بھی واپس لینا پڑا۔

جرمنی نے اپنے ہی ملک کی اہم ترین امیدوار کو ووٹ نہیں ڈالا، جرمن نمائندہ غیر حاضر رہاورنہ یہ انتخاب متفقہ بھی ہو سکتا ہے۔ ان کی تعیناتی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اینجلہ مرکل نے بس اتنا کہنے پر اکتفا کیا کہ بالآخر یورپی یونین خود کے متحد رکھنے کی صلاحیت کی حامل قیادت کو آگے لانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ فرانسیسی اور انگریزی زبانوں پر ہی عبور رکھنے والی ارسیلا نے ’’فیملی منسٹر‘‘ کی حیثیت سے میٹرنٹی اور پیٹرنٹی حقوق کے لئے کافی کام کیا۔لندن سکول آف اکنامکس سے تعلیم حاصل کرنے کے باعث اقتصادی معاملات کو خوب سمجھتی ہیں،اور بریکسٹ کی پیچیدہ معاشی گتھیوں کو حل کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں۔ صدر فرانس میخوان کی طرح وہ بھی فرانکو۔ جرمن اتحاد کی داعی ہیں۔امریکی صدر ٹرمپ نیٹو پر پورا بجٹ خرچ کرنے کے لئے یورپی یونین پر دبائو ڈال رہے ہیں، ان حالات میں یورپی یونین کو فوجی اور اقتصادی، دونوں امور پر یکساں عبور رکھنے والے لیڈر کی ضرورت تھی جو برسر اقتدار آ گئی ہے۔

حالیہ انتخابات میں چار ممالک نے بڑے عہدے جیت لئے ہیں ،52سال میں پہلی مرتبہ جرمنی کویورپی کمیشن کا اہم عہدہ مل گیا ہے۔یورپی یونین کی ایک بڑی پارٹی (لبرل ALDF) کو کونسل کی صدارت مل گئی ہے۔ کئی ممالک نے سرے سے کوئی امیدوار کھڑا ہی نہیں کیا تھا ۔انہوں نے بعض امیدواروں کا راستہ روک کر ہی اپنا مشن پورا کر لیا تھا، یہی ان کے نصیب میں لکھا تھا ،سو انہوں نے حاصل کرلیا۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی پر سپین کے سوشلسٹوں کا قبضہ ہو گیا ہے،72سالہ بوریل قوم پرستی کی بنیاد پر کسی بھی ملک کی تقسیم کے زبردست مخالف ہیں کیونکہ انہیں خود اپنے ملک میں قوم پرستی کاسامنا ہے اس آگ سے وہ اپنے ملک کو مشکل سے بچا پائے ہیں ورنہ قتولینیاکے علیحدگی پسند وں کی وجہ سے ان کے ملک کا شیرازہ بکھر جاتا۔ وہی یورپ کی خارجہ پالیسی کے خد و خال بنائیں گے۔ان کا کونسل کا صدر بننا آئر لینڈ کی آزادی چاہنے والی نکولا سٹرجنیون(Nicola Sturgeon) کے لئے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔

کرسٹائن لوگارڈ نے امریکی لائن اپنانے کی بجائے آزادنہ پالیسی اختیار کر رکھی تھی۔انہوں نے عمران خان سے اس وقت ملاقات کی تھی جب امریکہ پاکستان کو قرضہ دینے کے خلاف ڈٹ گیا تھا۔یہ ہماری معاشی پالیسی میں ایک ایسا موڑ تھا جس میں قرضہ لینا اس لینا ضروری نہ تھا کہ ہمیں اس کی ضرورت تھی بلکہ یہ ثابت کرنا ضروری تھا کہ پاکستان امریکہ کی مخالفت کے باوجود آئی ایم ایف سے قرضہ لے سکتا ہے۔ یہ آزادانہ خارجہ پالیسی کاایک ستون بن گیا تھا۔کرسٹائن لوگارڈ اب نیو لبرل اوپن اکنانومی کی پرچارک ہیں۔

ان کے خیال میں سرمایہ دارانہ نظام اب امیروں کے لئے بھی قابل عمل نہیں رہا،یہ بات انہوں نے آئی ایم ایف سے 30سالہ وابستگی کے بعد سیکھ لی ہے۔ دنیا میں نئے نظام کا قیام ناگزیرہو گیا ہے۔کرسٹائن کوبرطانیہ کی علیحدگی کے بعد بھی یورپی یونین میں کوئی معاشی ہل چل پیدا ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔وہ فار رائٹ (دائیں باوز کے انتہا پسندجیسا کہ AFD) کے کبھی حق میں نہیں رہیں، ۔ان سے یورپ مخالف انتہا پسند اوربن، لی پین، ٹوری (ERGگروپ) نیدر لینڈز میں ،تھیرے بوڈٹ (Thierry Baudet)اور پولینڈ کے (Jaroslaw Kaczynski)کوئی امید نہ رکھیں۔وہ یورپی یونین کے لئے ’’یورپی آرمی‘‘کا لفظ بھی استعمال کر کے یورپ کے اتحاد پر زور دے چکی ہیں۔اب وہی کرسٹائن یورپ کی کرنسی کے بارے میں اہم فیصلے کرنے کی مجاز ہوں گی اگر انہوں نے آزادانہ فیصلے کئے تو یورو مزید مضبوط ہو جائے گا۔چارلس مائیکل لبرل ڈیموکریٹس ہیں۔ان کے فیصلے بھی یورپ میں غیرملکی مداخلت اور قوم پرستی کو کمزور کرنے میں معاون بنیں گے۔

نئی قیادت سے اصل مسلہ برطانیہ کو درپیش ہو گا ،جسے بریکسٹ میں کسی قسم کی رعایت ملنے کا امکان نہیں۔اسے ٹف ٹائم ملے گا ۔ سخت گیر رویہ رکھنے والی قیادت کے برسراقتدار آنے سے یورپ اور برطانیہ میں تنائو بڑھنے کا اندیشہ ہے۔یہ برطانیہ کو واضح اشارہ ہے کہ گومگوں کی پالیسی نہیں چلے گی، دو ٹوک فیصلے ہوں گے۔یورپی یونین کی نئی ٹیم نظریاتی اور فکری طور پر صدر فرانس میخوان کے خیالات کی حامی ہے۔نئی یورپی قیادت کویہ فکرکھائے جا رہی ہے کہ نائجل فراج جیسی شخصیات نے یورپ کو نسل پرستی اور لسانیت کی آگ میں جھونک دیا ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ شعلے بھڑکتے جارہے ہیں۔ نئی نسل ان کے نعروںکی اسیر ہے۔وہ یورپ کو موجودہ شکل میں برقرار رکھنے کے حق میں نہیں ۔ پچھلے دنوں یورپی پارلیمنٹ کے ایک اجلاس میں افتتاحی ’’قومی ترانہ‘‘کی دھن بجتے ہی نائجل فراج کی پارٹی کے تمام ارکان نے سپیکر کو پیٹھ دکھا دی ۔پارلیمنٹ میں ان کی اس حرکت پر بہت لے دے ہوئی، نائجل فراج اپنی دلیل پر ڈٹے رہے،کہ ’’یورپ کون سا کوئی ایک ملک ہے جو اس کا قومی ترانہ بھی ہو‘‘۔

نئی یورپی قیادت قوم پرست یورپ کی بجائے یورپ کو’’پروگریسیو ‘‘ بنانا چاہتی ہے۔ ان میں سے ایک رہنما امریکی صدر ڈونلڈ ٹرپمپ کو ’‘’کائو بوائے‘‘ کا لقب عطا کرچکے ہیں۔ان کے نزدیک ڈونلڈ ٹرمپ ایسی شخصیت نہیں کہ یورپ ان کی پیروی کرے۔ایک لیڈر نے وینزویلا میں امریکی حکمت عملی کو بھی مسترد کرتے ہوئے یورپی یونین کو آگے آنے کا مشورہ دیا ہے۔ٹرمپ کے دل چسپ خیالات کو سنا جا سکتا ہے ، عمل کے پیرائے میں ڈھالنے کی ضرورت نہیں۔یوں یورپ کی نئی قیادت کے فکری رجحانات بھی امریکی صدر سے کوئی میل نہیں کھاتے بلکہ متصادم ہیں ۔اس کے پیش نظر یہ کہنا مشکل نہیں کہ مستقبل میں یورپ ’’آزاد ‘‘ خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہوگا، وہ امریکی لائن ٹوہ کرنے کی بجائے اپنی سوچ کے مطابق چلے گا، یہ حکمت عملی جہاں امریکہ کے لئے پریشان کن ہو سکتی ہے وہیں اس میں ہمارے ہمسائے میں رہنے والے نریندر مودی کے لئے بھی کئی پریشانیاں ہیں۔ان کے دن ’’پھرنے‘‘ والے ہیں، بہتری کے لئے نہیں، مشکلات اور تکالیف کے لئے۔

اس نئے انتخاب پر ایک برطانوی اخبار نے یہاں تک لکھ دیا (بلکہ لکھ مارا ہے) کہ۔۔۔بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری کے باعث غربت کا شکار کروڑوں افراد یورپ اور امریکہ میں’’ ٹرمپ۔ جانسن۔ فراج۔سلوینی ‘‘کے جال میں پھنس چکے ہیں۔قوم پرستی کے دلفریب نعرے یورپی پالیسی سازوں کے لئے حقیقی خطرے کی گھنٹی ہیں۔ اسی رجحان کو دیکھتے ہوئے جی۔20کے اجلاس میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے اعلان کیا تھا کہ لبرل ویلوز اپنی موت آپ مر چکی ہیں۔اس ماحول میں نئی قیادت کا چنائو قوم پرستوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔یہ پوری ٹیم بورس جانسن، وکٹر آربن، میٹیو سلوینی جیسی سوچ کو مسترد کرتے ہوئے نیا مستقبل تلاش کریں گی۔

اپریل کے بعد ہونے والی تبدیلیوں نے جرمنی اور فرانس میں قدرے خلیج حائل کر دی۔یہ فکری تصادم اس وقت عروج پر پہنچ گیا جب ڈونلڈ ٹسک نے اپنے متبادل کے انتخاب کے لئے فوری فیصلہ کرنے پر زور دیا۔ ان کے مد مقابل کے طور پر سوشلسٹ ڈچ وزیر خارجہ فرانس تیمر مینس (Frans Timmermans)کا نام گرامی بھی زیر بحث آیا تھا مگر چیک وزیر اعظم آندرے بابیس(Andre Babis) کے دوٹوک رویے نے ان کا راستہ روک دیا۔چیک وزیر اعظم نے برملا کہا کہ’’ مشرقی بلاک کی متعدد حکومتیں اور اٹلی تیمر مینس کو 24گھنٹے کے لئے بھی اس سیٹ پر نہیں دیکھنا چاہتے ۔ پانچ سال تو دور کی بات ہے۔ہم ایسا رہنما چاہتے ہیں جس سے کھل کر دل کی بات کہہ سکیں‘‘۔ان ممالک نے واضح کیا کہ ان کا مسلہ صرف ایک نام ہے۔ان کے علاوہ جس کو مرضی لے آئو۔ہنگری ، پولینڈ، اور سلوواکیہ نے بھی تیمر مینس کی شدید مخالفت کی۔ وہ ماضی میں پاپولسٹ ممالک کو عدالت کی آزادی میں رکاوٹ بننے پر کئی مرتبہ تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ان ممالک نے ان کے خلاف محاذ بنا لیا۔ان ممالک کے بے لچک رویے پر اجلاس کئی گھنٹے تعطل کا شکار رہا۔اس وقت مرکل نے ہی کہا تھا۔۔ ’’ہمیںآگے بڑھنا ہے ،ہر صورت میںآگے ہی آگے جانا ہے، ہر بات ہر مشکل کا حل نکالنا ہے‘‘۔

سب سے پہلے سوشلسٹ ڈچ وزیر خارجہ فرانس تیمر مینس (Frans Timmermans)یورپی یونین کی صدارت کے امیدوار بن گئے ۔اٹلی ،ہنگری ، پولینڈ، اور سلوواکیہ نے ان کا راستہ روک دیا۔چیک وزیر اعظم آندرے بابیس(Andre Babis) نے دوٹوک انداز میں کہا کہ’’ پانچ سال تو درکنار مشرقی بلاک اور اٹلی انہیں 24گھنٹے کے لئے بھی اس سیٹ پر نہیں دیکھنا چاہتے ۔’’ہم ایسا رہنما چاہتے ہیں جس سے کھل کر دل کی بات کہہ سکیں‘‘۔ ان کا مسلہ صرف ایک نام تھا،باقیوں سے انہیں کوئی سروکار نہیں،جس کو مرضی لے آئو۔یہ محاذ اس لئے بن گیا کہ ماضی میں تیمیرمینس ان ممالک کو عدالتی آزادی میں رکاوٹ بننے پر کئی مرتبہ تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔اب ان ممالک کو موقع مل گیا اور انہوں نے تنقید کا مزہ چکھا دیا۔ کوئی لیڈر تیمیرمنیس کو اس عہدے پر دیکھنے کے حق میں نہیں تھا۔ وہ بھی سوچتے ہوں گے کہ انہوں نے کن شیروں کے منہ میں ہاتھ دے دیا تھا ،جو اب انہیں بہت بھاری پڑا۔معمولی تنقید ان کا عہدہ ہی لے ڈوبی ،مخالفانہ نعروں کے اس طوفان میں انہوں نے دستبرداری میںہی عافیت جانی ۔

بیلجیئم کے وزیر اعظم چارلس مائیکل یورپی کونسل کا صدر نامزد ہونے پر یوپی یونین کا شکر بجا لائے ہیں۔انہوں نے اپنے انتخاب (سیلیکشن )کو اپنے لئے عزت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’میں جانتا ہوں کہ یہ ایک بھاری ذمہ داری ہے مگر میں اس معیار پر پورا اترنے کی ہر ممکن کوشش کروں گا‘‘۔ صدر فرانس امانوئل میخوان نے یورپ کو اطمینان دلایا ہے کہ ’’نوڈیل بریکسٹ سے بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں ،اس سے بھی یورپ ہی فائدہ اٹھائے گا۔اونٹ کوئی بھی کروٹ لے لے ، یورپی اتحادکو کوئی خطرہ نہیں، یہ مزیدمضبوط اور مستحکم ہوگا۔نئی قیادت کا چنائوقدیم فرانکو ۔جرمن رشتوں کا عکاس ہے ۔جرمنی اور فرانس کے رشتے مزید مضبوط ہوں گے۔ بریکسٹ کے تمام معاملات نئی قیادت کے آنے سے پہلے پہلے مکمل کر لئے جائیں تاکہ نئی ٹیم پوری تندہی سے کام کر سکے۔تھریسامے کے متبادل کی تلاش میں تاخیر پریشان کن ہے ، یورپ کو نئی برطانوی قیادت کے ساتھ کام کرنے کا کوئی قابل ذکر تجربہ نہیں، وہ کس طرح کے اقدامات اٹھاسکتی ہے ہم نہیں جانتے، ہماری قیادت نئے حالات کے لئے تیار تو ہے مگر گومگو کی کیفیت میں ہے۔ایسی آوازیں بھی سنی جا رہی ہیں کہ بغیر کسی ڈیل کی صورت میں الگ ہونے پر برطانیہ سے ہر قسم کے مذاکرات روک دیئے جائیں۔ کیونکہ ایسی صورت میں یورپ اپنے ہی سامنے کسی قیدی کی مانند ہوگا،یرغمال ہو گا، کوئی بھی قدم اٹھانے سے قاصر ہو گا۔‘‘انہوں نے یہ کہہ کر بات ہی ختم کرنا چاہی کہ یورپ کو ہرگز تقسیم نہیں ہونا چاہیے ۔ سیاسی طور پر نہ اقتصادی طور پر۔

اس وقت مرکل نے ہی کہا تھا۔۔ ’’ہمیں آگے بڑھنا ہے ،ہر صورت میں آگے ہی آگے جانا ہے، ہر بات ہر مشکل کا حل نکالنا ہے‘‘۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

گزشتہ چند برسوں میںعالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں نے ہر نظام کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، بدلتی دنیا میں ہر وہ نظریہ اور نظام ناکام ہو گ ...

مزید پڑھیں

29مئی 2019ء اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ منظر عام پر آئی ہے جس میں میانمار حکومت،فوج ،بدھ مت کے مذہبی پیشوائوں اور آن سا ن سوچی کی خاموشی کو رو ...

مزید پڑھیں

امریکی رہنما زالمے خلیل زاداور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا ساتواں اور شاید آخری رائونڈ قطر میں شروع ہو چکا ہے۔طالبان کی مذاکراتی ...

مزید پڑھیں