☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل عالمی امور متفرق سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا طب کھیل رپورٹ کیرئر پلاننگ روحانی مسائل ادب
میانمار میں اقوام متحدہ ناکام ہو گیا۔۔

میانمار میں اقوام متحدہ ناکام ہو گیا۔۔

تحریر : محمد ندیم بھٹی

07-21-2019

29مئی 2019ء اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ منظر عام پر آئی ہے جس میں میانمار حکومت،فوج ،بدھ مت کے مذہبی پیشوائوں اور آن سا ن سوچی کی خاموشی کو روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مصنف گرٹ روزن تھل (Gert Rosenthal) نے دل دہلا دینے والے واقعات لکھتے ہوئے وہاں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی علمبردار آن سان سوچی کو ناکام قرادر دیا ہے ۔ زیر نظر مضمون اسی رپورٹ کے حصوں پر مشتمل ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق میانمار کی آبادی 2019ء میں 5.40 کروڑ نفوس پر مشتمل تھی۔1948ء میں آزادی کے بعد سے وہاں 1962تا2010ء ایسی فوجی حکومتیں قائم رہیں جنہوںنے بزور طاقت حکومت کی۔ یہ جابرانہ اور inward حکومتیں تھیں۔ اسی لئے مزید خود مختاری اور برابری کے لئے 21مسلح گروپوں نے ہتھیار اٹھا رکھے ہیں۔ان گروپوں نے کرہ ارض کی قدیم ترین مسلح جدوجہد کی ہے۔ جس کے نتیجے میں 1962ء سے سیاسی ڈھانچے میں فعال کردار ادار کرنے والی فوج کچھ حد تک اپنے دائرے کے اندر آ گئی ہے۔ اقلیتیں، بالخصوص روہنگیا مسلمانوںکا دکھ بھی اتنا ہی قدیم اور معاشرے کی جڑوں میں گہرا ہو چکا ہے۔ تمام اقلیتوں کو ایک پرچم تلے لانا ہی سب سے بڑا چیلنج ہے۔نسل پرستی کی طرح سماجی تضادات کی جڑیں بھی اتنی ہی گہری ہیں۔ایک مثال لے لیجئے،یہاں غربت کا اشاریہ 189 ممالک میں 148ہے، لیکن غربت ہر جگہ ایک جیسی نہیں، ملک کی ایک تہائی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے مگر مسلمانوں میں یہ تناسب 78فیصد ہے،دگنے سے بھی زیادہ۔

مسائل اس قدر گھمبیر ہیں کہ ان کی تہہ تک پہنچنا آسان نہیں۔مسائل سابق سویت یونین کی مانند ہیں،جس کے بارے میںونسٹن چرچل نے کہا تھا ۔۔۔’’سابق سویت یونین پراسراریت میں لپٹی ہوئی دردناک پہیلی سے کم نہیں‘‘۔

ملک کا نام برما ہو یا میانمار،نام کی تبدیلی سے صدیوں پرانی تہذہبوں اور قبائل سے رابطے ختم نہیں ہوجاتے ،نہ ہی تاریخ بدل جاتی ہے۔ میانمار ،دنیا کی قدیم ترین آزادی کی جنگوں کو برداشت کر رہا ہے ،کچھ کو کچلنے میںکامیاب رہا ہے۔صدیوں پرانی تحریکوں کے بغیرمیانمار کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی۔میانمارکی خاص بات اس کی27سے زائد قومیتیں ہیں ،سبھی کے الگ الگ مسائل اور حیثیت ہے۔ 21 قومیتیں حقوق اور برابری کے لئے مسلح جدوجہد بھی کررہی ہیں،وہ حکومت کیساتھ معاہدوں کا بھی مزہ چکھ چکی ہیں۔اقوام متحدہ کا ادارہ 27 اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرنے میں ناکام رہا ہے، کچھ کر نہیں پا رہا۔2011ء سے انسانی حقوق کی سنگین پامالی المناک ہے۔اسی لئے اقوام متحدہ کے کردار پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں ۔

ظلم کا سب سے بڑا شکار مسلمان ہیں۔مسلمانوں کی بچیوں کی عصمت دری کی جاتی ہے۔ مسلمانوں کی پوری پوری بستیوں کو آگ لگا دی گئی ۔سیٹلائٹ امیجز سے بھی روہنگیامسلمانوں کے دیہات کو نذر آتش کرنے کی تصدیق ہوتی ہے۔ اگرچہ میانمار کی انتظامیہ اسے ردعمل قرار دیتی ہے مگر یہ ردعمل کسی مسلمان تنظیم کی جانب سے دوچار افراد کے قتل سے مطابقت نہیںرکھتا ۔ یہ میانمار میں بدھ متوں کا ردعمل ،عمل سے نہ صرف کہیں زیادہ شدیدہے بلکہ یہ سوچی سمجھی سکیم کا نیتجہ دکھائی دیتا ہے ۔اس بات کو بھی جھٹلانا مشکل ہے کہ میانمارمیں بدھ مت کے مذہبی پیشوا بھی مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز ماحول پیدا کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کی آزمائش،دکھ، غم اور حقوق کی پامالی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔

دنیا کو آن سان سوچی سے بڑی امید تھی، انہیں انسانی حقوق کے اداروں کی مزاحمت کے بعد ہی آزادی اور سہولتیں ملی تھیں مگر انہوں نے بھی مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ رپورٹ میں اس بات کا اعتراف بھی شامل ہے کہ 2011اور 2012میں سری لنکا میں بھی اسی قسم کی صورتحال سے دوچار ہوا تھا،جب اقوام متحدہ کوسمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کرے ، کیا نہ کرے۔ (Charles Petrie) کی مرتب کردہ انسانی حقوق کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کا سسٹم سری لنکا میںانسانی حقوق کو تحفظ دینے میںناکام ہو گیا تھا۔ میانمار میں بھی یہی تجربہ دہرایا جا رہا ہے۔سری لنکا جیسے واقعات سے بچنے کے لئے ہی اقوام متحدہ نے 2014ء (Human Rights Upfront) یعنی’’ آگے بڑھ کر تحفظ کرنے ‘‘ کی حکمت عملی اپنائی تھی ،ان میں انسانی حقوق کے حوالے سے حکومتوں کے علاوہ خود احتسابی کا عمل بھی شامل تھا۔

اقوام متحدہ یہ بھی دیکھے گی کہ انسانوں کو تحفظ دینے میں خود کس کا سسٹم کس قدر کامیاب یا ناکام ہے۔اس ادارے نے کوئی ایکشن لیا یا بے عملی دکھائی ۔یہ بات شک و شبہے سے بالا تر ہے کہ میانمار میں انسانی حقوق کی پامالی نہ صرف جاری و ساری ہے بلکہ جاری رہنے کابھی امکان ہے۔یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ اقوام متحدہ وہاں 2007ء سے 2017تک ہونے والے دہشت ناک واقعات ( جو اب تک جاری ہیں)کی روک تھام میں کامیاب رہا یا نہیں۔بالخصوص رخائن سٹیٹ(Rakhine State)اس المیے سے دوچار ہے۔اقوام متحدہ کی جانب سے ہر بار یہی کہا جاتا ہے ’’آئندہ ایسا عمل برداشت نہیں ہونے دیا جائے گا،بس یہ آخری ہے‘‘ ۔افسوسناک امر یہ ہے کہ اگلی بار پھر دنیا کے کسی اور گوشے میں اس سے بھی زیادہ سنگین واقعات جنم لے لیتے ہیں، اقوام متحدہ کچھ نہیں کر پاتی۔اس میں کچھ سسٹم اور سٹرکچر کی خامیوں کا بھی دخل ہے۔ میانمار کے مسائل کی متعدد پرتیں ہیں ،مگر یہاں چند ایک کو ہی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

2010ءمیں پہلے سیاسی انتخابات ہوئے۔متنازعہ نتائج میں ملک کا نظم و نسق فوج کی حمایت سے ’’یونین سالیڈیریٹی اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی‘‘ نے سنبھال لیا تھا۔انسانی حقوق کے اداروں کے دبائو پر گھر پرنظر بند آن سان سوچی کو رہا کر دیاگیا۔آن سان سوچی کی ’’نیشنل لیگ فار ڈیمو کریسی پارٹی‘‘ نے 2012ء کے ضمنی انتخابات میں 45میں سے 43نشستوں پر میدان مار لیا۔نیم سویلین طرز کی حکومت میںسابق جنرل (U Thein Sein) نے صدارت سنبھال لی جبکہ آن سان سوچی ’’سٹیٹ کونسلر‘‘بن گئیں۔ 2015ء میں دوبارہ انتخابات کروانا پڑے ،

دونوں ایوانوں میں آ سان سوچی کی جماعت نے بھاری کامیابی حاصل کرلی۔طویل عرصہ نظربندی اور امن کی فاختہ بننے کے ناتے انہیں1991میں نوبل انعام کا حقدار ٹھہرایا گیا۔آن سان سوچی کے برسراقتدار آنے کی وجہ سے میانمار کا سیاسی منظر نامہ راتوں رات تبدیل ہو گیا۔عالمی اقتصادی پابندیاں ہٹا لی گئیں،اور میانمار حکومت کو ہر جگہ تسلیم کیا جانے لگا۔

2012ء میںمیانمارکی حکومت اور نیشنل کارن یونین (National Karen Union) کے مابین امن معاہدے سے 60سالہ خانہ جنگی کا خاتمہ ہو گیا ۔اسی دورانKachin Independence Organization کے ساتھ 1994ء میں کیا جانے والا معاہدہ ٹوٹ گیا۔نئے تصادم میں درجنوں افراد ہلاک اور ایک لاکھ بے گھر ہوئے۔ 2013ء میں’’ ملک گیر سیز فائر رابطہ ٹیم ‘‘ تشکیل دی گئی۔جس کی مرتب کردہ ’’قومی سطح پر سیز فائر دستاویز‘‘پر 21 میں سے 12مسلح گروپ متفق ہو گئے۔ امن سے معاشی فائدے بھی حاصل ہوئے، غیر ملکی سرمایہ کاروں نے میانمار کا رخ کرنا شروع کر دیا۔وائٹ اور بلیو کار جابز پیدا ہوئیں۔امن معاہدے کے باوجود اکادکا واقعات پیش آتے رہے۔2012ء سے 2016ء تک روہنگیا مسلمانوں میں امن معاہدئے کی خلاف ورزی کے واقعات پیش آئے۔ اگست 2017ء کے واقعات خاص طور پر اہم ہیں۔جس سے بلواسطہ طور پر آن سان سوچی کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔

درحقیقت روہنگیا مسلمان میانمار کی آبادی کا قلیل سا حصہ ہیں، کوئی 14لاکھ ہوں گے۔جو رخائن سٹیٹ میں محدود ہیں۔ 1982میںمیانمار میں نئے قومیتی قوانین کے نفاذ کے بعد روہنگیا مسلمانوں سے شہریت بھی چھین لی ۔انہیں سٹیزن شپ سے محروم کے کر ’’سٹیٹ لیس‘‘ کر دیا ۔ ان سے نقل حمل کا حق بھی چھین لیا گیا،انہیں صحت و تعلیم جیسی سہولتوں سے محروم کر کے سماجی خدمات تک رسائی روک دی گئی،اکثر کیسوں میں ان پر ملازمت کے دروازے بند کر دیئے گئے۔2014ء میں ہونے والی مردم شماری میں انہیں شمار ہی نہیں کیا گیااسی لئے 2015ء کے انتخابات میں انہیں ووٹ دالنے کے حق سے بھی محروم کر دیا گیا۔انہیں شادی کے لئے حکومت سے اجازت لینا پڑتی ہے جس کے بغیر وہ شادی بھی نہیں کر سکتے۔

پتھر دل(Hardliners) رہنمائوں نے مسلمانوں کے خلاف نفرت کی آگ اس قدر بھڑکا دی ہے کہ ان کے خلاف ان اقدامات کو میانمار میں مقبولیت حاصل ہوئی۔ ایسا کرنے والوں میں انتہا پسند مذہبی پیشوا بھی شامل ہیں۔ایک مثال یہ ہے کہ۔۔۔2015ء کے عام انتخابات کے موقع پر ’’پتھر دل‘‘ (Hardliner) بدہسٹ تنظیم ’’Ma BA Tha‘‘ نے مسلمان اقلیت کے خلاف عوام کو اشتعال دلایا مگر حکومت خاموش تماشائی بنی رہی۔ پارلیمنٹ نے ’’Race and Religious Protection Laws‘‘ جیسے چار متنازعہ وقوانین منظور کئے ۔حکومت کی جانب سے ایسا شائبہ تک نہیں ہوا کہ وہ مسلمانوں کی حمایت یا مدد کرنا چاہتی ہے۔حکومت نے تورخائن مسلمانوں کا بھی ساتھ نہ دیا جنہیں وہ میانمار کا شہری مانتی ہے۔ سٹیٹ لیس روہنگیا مسلمانوں کا تو ذکر ہی کیا کرنا۔

روہنگیا المیے کا ایک اور رخ چند سالوں میں ہی سامنے آیا۔تاریخی طور پر روہنگیا اور دوسری اقوام اکھٹے رہتے رہے ہیں۔یہ پر امن دور تھا۔ ہر قسم کی کشیدگی سے پاک۔روہنگیا کے خلاف نفرت انگیز تقریروں سے کبھی کبھی تصادم بھڑک اٹھتا۔ نئی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد روہنگیا مسلمانوں کے خلاف بدھ متوں کی بڑی کارروائی 2015ء میں ہوئی۔گائوں کے گائوں روہنگیالوگوں کے سمیت جلا دیئے گئے ۔ لاتعداد ہلاک و زخمی ہوئے۔

ایک لاکھ چالیس ہزار روہنگیا مسلمانوں کو مہاجر کیمپوں میںمنتقل کرنا پڑا۔کہا جاتا ہے کہ ایک مسلمان کی جانب سے ایک بدھ عورت پر حملے کی خبر سامنے آنے کے بعد ان حملوں کا آغازہوا ۔ مبصرین کے مطابق میانمار کی فوجی کارروائی کاکوئی ثانی نہیں،رد عمل کہیں وسیع تھا۔2012ء میں بھی ایسا ایک واقعہ پیش آیا تھا،دراصل ان واقعات کومیانمار کی فوج مسلمانوں کے گرد مزید گھیرا تنگ کرنے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ جبر کے باعث روہنگیا افراد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ،ملائشیاء، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا بھی ہجرت کرگئے ۔2015ء میں کشتیوں میں پھنسے ہوئے روہنگیا مسلمانوں کے المیوں نے کافی توجہ حاصل کی۔ 2014 اور2015کے درمیان ایک لاکھ چالیس ہزار بنگلہ دیشی اور روہنگیا مسلمانوں نے ہجرت کی ۔

بہت سے افراد کو ظالم تند و تیز موجوں نے نگل لیا ، طوفانوں سے بچنے والے سمگلروں کے ہتھے چڑھ کر ان کی مستقل آمدنی کا ذریعہ بن گئے۔ روہنگیا مسلمانوں پر حملے شروع ہو گئے۔کم و پیش 70روہنگیا ہلاک کر دیئے گئے۔تشدد اس قدر شدید تھا کہ ہزاروں بنگلہ دیش بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔یہ بات شک و شبہے سے بالاتر ہے کہ ایک مخصوص آبادی کو دہشت ناک بر بریت کا نشانہ بنایا گیا۔روہنگیا مسلمانوں کے سینکڑوں دیہات اور نذر آتش یا تباہ کر دیئے گئے ۔سات ہزار ہلاکتوں کا اندازہ ہے۔ درندگی اورجنسی درندگی کے واقعات ان کے علاوہ ہیں۔چھ لاکھ ساٹھ ہزار روہنگیا گھر بار چھوڑنے پر مجبور کئے گئے۔تین لاکھ پہلے ہی بنگلا دیش جا چکے ہیں۔یوں کل تعداد دس لاکھ ہو گئی۔

’’سٹیٹ کونسلر‘‘آن سان سوچی نے ستمبر 2016ء میںچھ ملکی اور تین غیر ملکی شخصیات پر مشتمل ایک مشاورتی کمیٹی قائم کر دی۔کوفی عنان فائونڈیشن سے بھی مدد مانگ لی گئی۔ 2017ء میں کوفی عنان کی قیادت میں کمیشن نے حتمی رپورٹ پیش کردی۔جس میں شہریت اور حقوق سے محروی جیسے مسائل کی بھی نشاندہی کی گئی تھی۔ لگتا ہے کہ میانمار کے طاقتور قوم پرست رہنما، فوج اور بدہسٹ کی ٹرائیکا اس رپورٹ پر عمل درآمد کے خلاف ہے۔جس دن سے اس رپورٹ پر عمل ہونا تھا اس دن سے روہنگیا مسلمانوں کو کچلنے کے واقعات سامنے آنے لگے۔

جبر اورتشدد ہمارے تصور سے کہیں زیادہ ہے ۔اگست 2017میں رخائن سالویشن آرمی کی جانب سے9 پولیس اہل کاروں کی ہلاکت کے بعد ایک اور کریک ڈائون کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ پہلے سے طے شدہ تھا۔ بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی کی گئی۔ اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق کو کہنا پڑا کہ۔۔۔۔’’صورتحال نسل کشی کی کتابی تشریح پر پوری اتری ہے۔‘‘ ہیومن رائٹس کونسل کا فیکٹ فائنڈنگ مشن اس سے بھی آگے چلا گیا۔ اس نے کہا کہ ۔۔۔یہ نسل کشی کا ہی واقعہ ہے۔میانمار میں اقوام متحدہ ڈس فنکشنل ہے ،اسی لئے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔اس کی کئی وجوہات ہیں۔ آن سان سوچی نے قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ نہیں کیا،حتیٰ کہ وہ فوج سے الگ ہونے پر بھی آمادہ نہیں۔دوسرے یہ کہ نئے انتخابات 2020ء میں ہوں گے۔لہٰذاانہیں مدنظر رکھتے ہوئے ہی اقوام متحدہ کواب کچھ کرنا چاہیے۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا بھر کی متنازعہ شخصیات میں سے ایک ہیں۔2016 کے صدارتی انتخابات سے قبل دنیا انہیں ایک کاروباری شخصیت سے تعبیر کرتی ...

مزید پڑھیں

8جولائی 2019کو قطر میں عروج پر پہنچنے والے ’’امریکہ طالبان مذاکرات‘‘نائن الیون سے صرف چار دن پہلے اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں۔ ا ...

مزید پڑھیں

جن ممالک میں جمہوریت نے جنم لیا ہے اب ان ہی ممالک میں جمہوریت کو لپیٹنے کا عمل بھی جاری ہے،بھارت سے برطانیہ تک جمہوریت خطرے میں ہے۔بھارت ...

مزید پڑھیں