☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل انٹرویوز عالمی امور سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا خصوصی رپورٹ کھیل کیرئر پلاننگ ادب
دنیا پرپاپولسٹ رہنمائوں کی حکمرانی

دنیا پرپاپولسٹ رہنمائوں کی حکمرانی

تحریر : افتخار شوکت ایڈوکیٹ

08-04-2019

گزشتہ چند برسوں میںعالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں نے ہر نظام کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، بدلتی دنیا میں ہر وہ نظریہ اور نظام ناکام ہو گیا ہے جو عوام پر حکومت کر رہا تھا۔ صدیوں پہلے ایڈم سمتھ نے امپیرئل ازم کو عوام کے سامنے پیش کیا۔ کمیونسٹ ممالک میںاینگلز کا معاشی فلسفہ نافذ ہوگیا جبکہ مغربی ممالک اور امریکہ میں ایڈم ستمھ کی سوچ جمہوریت کی جان بن گئی۔ اب کہا جاتا ہے کہ نہ تو جمہوریت عوامی امنگوں پر پورا اتر سکی اور نہ ہی کمیونزم نے عوامی بہبود کی ذمہ داریوں کونبھایا۔اسی لئے نوے کی دہائی میں سب سے بڑا کمیونسٹ ملک سویت یونین ٹوٹ گیا ۔

اب کوئی جمہوریت کو ناکام کہہ رہا ہے تو کسی کے نزدیک ایڈم سمتھ کا نظام معیشت امپیرئل ازم میں تبدیل ہو گیا ہے ،اسے چند ارب پتیوںاور ملٹی نیشنل کمپنیوںنے یرغمال بنا لیا ہے لہٰذااب جمہوریت مجموعی طور پر ممالک کی خدمت کرنے سے قاصر ہے،وہ وہاں اقتصادی بہتری لانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس کی ناکامی جمہوریت کی ناکامی ہے، کیونکہ جمہوری ممالک میں عمومی طور پر آزاد معیشت سے متعلق ایڈم سمتھ کی سوچ ہی پنپتی ہے۔اسی کی ناکامی سے ہمیں جمہوریت میں خامیاں اور خرابیاں دکھائی دے رہی ہیں، جن کا کوئی حل نظر نہیں آ رہا۔ایک دور میںبرطانیہ میں لبرل ازم عروج پہ تھا۔انہیںکئی مرتبہ اقتدار ملا۔لیکن کیا آپ کو یاد ہے کہ چند ہی ہفتے قبل روسی صدر ولادیمیرنے کیا کہا تھا؟انہوں نے کہا تھا کہ لبرل ازم اپنی موت آپ مر چکا ہے۔اب دنیا میںلبرل ازم نام کا کوئی نظریہ اپنا وجود نہیں رکھتا۔ میری رائے دنیا میں لبرل ا زم نام کی شے پہلے سے ہی موجود نہ تھی۔

صدیوں پرانی بات نہیں کرتے،1945کو ہی دیکھ لیتے ہیں،صدر ٹرمپ اور ان کی طرح کے پاپولسٹ لیڈروں کا پہلامنشانہ ’’ڈاکٹرائن آف ملٹی لیٹرل ازم ‘‘ ہی بنی ہے۔لیکن یہ تحریک غربت،نا انصافی کے خمیر سے اٹھی ہے۔دنیا پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے قبضے سے دولت کی تقسیم انتہائی غیر مساویانہ ہو گئی۔ غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہو گیا۔امریکہ میں50فیصد غریب آدمیوں کی آمدنی میں کمی آ گئی جبکہ اسی عرصے میں وہاں0.1فیصد امیر ترین طبقے کی آمدنی میں343فیصد اضافہ ہو گیا۔ اس کا مطلب یہی ہواجمہوریت میں جس قسم کے معاشی نظام قائم ہوئے وہ ان ممالک میں معاشی انصاف مہیا کرنے میں ناکام رہے۔ پاپولسٹ اس سوچ کو عام کرتے ہیں کہ‘’’ہمیں کیا مل رہا ہے ہم تو پہلے سے بھی نیچے چلے گئے ہیں،اور پھر ہمیں اہمیت بھی نہیں مل رہی ۔یہ کیسا نظام ہے جس میں ہماری کہیں شنوائی نہیں ہو رہی‘‘۔یہ سوچ غریب طبقے سے نکل کر مڈل کلاس میںبھی پروان چڑھنے لگی جس کا فائدہ پاپولسٹوں نے اٹھایا۔ اور جمہوریت کو اپنی مرضی سے چلانے میں کامیابی حاصل کر لی۔

مغربی جمہوریت عوام کو ان کے حقوق دینے میں ناکام رہی ہے اسی لئے وہاں کسی تیسرے نظام کی تلاش جاری ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ جمہوری نظام معیشت میں رد و بدل جاری رکھا جائے۔کچھ کا کہنا ہے وہاں قوم پرستی کی جو نئی لہر اٹھ رہی ہے اسی کے بطن سے نیا نظام بھی جنم لے سکتا ہے۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اگرچہ برطانیہ ،ا مریکہ ، کینیڈا،بھارت،اٹلی اور ترکی میں جمہوریت ہی قائم ہے مگر یہ ایک نئی شکل کی جمہوریت ہے جسے پاپولر ازم (عوامیت پسند) بھی کہا جا سکتا ہے۔’’اگر ہم 20سال پیچھے دیکھیں تو دنیا میں چند ایک ممالک میں ہی پاپولسٹوں کی حکومت قائم تھی۔آپ ان ممالک میں اٹلی، ارجنٹائن اور وینزویلا کو شامل کر سکتے ہیں۔ان کی کل آبادی2کروڑ کے قریب ہو گی۔ مگر اب اس سوچ کے حامل لیڈرز ایک تہائی کے لگ بھگ آبادی پر حکمران ہیں۔گلوبل پاپولرازم ڈیٹا کے مطابق دنیا میں 2006سے 2009 تک آنے والے عالمی معاشی بحران نے دنیا بھر کو پاپولسٹوں کے لئے بہترین جگہ بنا دیا۔اس بحران کے نتیجے میں کئی ممالک میں پاپولرازم پروان چڑھا۔برطانیہ میں 2008میں معاشی بحران کا اثر یونان اور سپین پر بھی اڑا۔ہمیں یہ بات نہیں بھولنا چاہیے کہ سپین اور یونان میں نوجوانوں بے روزگاری کا تناسب اب بھی کم نہیں ہوا۔یہ اب بھی 60فیصد تک ہے۔یعنی اس سے پورا ’’یوروزون‘‘ متاثر ہوا۔دنیا اس بحران سے نمٹنے میں ناکام رہی جس پر پاپولسٹ طاقت پکڑنے لگے۔

امریکہ میںڈیموکریٹس کمزور ہوئے ،اسی بحران نے برطانیہ میں بورس جانسن کو طاقت اور بنا دیا‘‘۔ اس وقت دنیا کی دو ارب آبادی پر پاپولسٹوں کی حکومت ہے۔یہ وہاں کا نظام بدل دینا چاہتے ہیںیہ رہنما مقبولیت میں اپنی اپنی جماعتوں کو کہیں پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔وہاں جماعتیں ان کی مقبولیت کی محتاج ہیں۔امریکہ ہی کی مثال لیجئے۔ باوجود کوشش کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ابھی تک امریکی کانگریس یا سینٹ کی پکڑ میں نہیں آ سکے۔ حتیٰ کہ ان کی پارٹی بھی انہیں اپنے ڈسپلن میں لانے میں ناکام رہی ہے ،پارٹی کاموقف کچھ اور ہوتاہے مگر وہ 180درجے پر الٹی سمت میں چل پڑتے ہیں۔ان کے مواخذے کی باتیں بھی گردش میں آئیں مگر حقیقت کا روپ دھارنے میں ناکام رہیں۔ انہوں نے بلا روک ٹوک دو برس گزار دئیے اس عرصے میںکئی سیاسی کامیابیاں بھی سمیٹ لیں جو اگلے انتخابات میں ان کی فتح کا باعث بنیں گی۔

اسی دور میں ڈونلڈ ٹرمپ ’’سب سے پہلے امریکہ‘‘ کے نعرے کے ساتھ ابھرے۔برازیل فرسٹ یا اٹلی فرسٹ کا نعرہ بھی سنائی دیا۔ برطانوی قیادت نے کھل کر نہیں کہا مگر یورپی یونین سے علیحدگی کے پیچھے برطانیہ فرسٹ کے سو اکچھ نہیں ۔برطانیہ فرسٹ کے جواب میں یورپی یونین فرسٹ کے جذبات بھی بھڑک اٹھے۔حال ہی میں ہونے والے یورپی پارلیمنٹ کے انتخابات کی مثال ہمارے سامنے ہے،وہ بھی یورپ کو برطانیہ پر ترجیح دینے والی قیادت کو اوپر لے آئے۔ یہ یورپی قیادت برطانیہ کے پاپولرازم کا مقابلہ آسانی سے کر سکتی ہے۔ اب یورپ بھی ان کی بات سننے کو تیار نہیں اسی لئے یورپی یونین نے وزیر اعظم بورس جانسن کا بریگزٹ پلان بھی پیش ہوتے ہی مسترد کرد یا۔یعنی اس پر سوچ بچار کے لئے جتنا وقت لینا چاہیے تھا وہ بھی نہیں لیا۔ معاشی اور روس سے تعلقات کے حوالے سے یہ پارلیمنٹ بری طرح انتشار کا شکار تھی۔اسی لئے کوئی فیصلہ نہ کر پائی۔کچھ ممالک روس کے حامی اور کچھ شدید مخالف تھے۔ہم ان میں دائیں بازو کے انتہا پسند بھی شامل کر سکتے ہیں۔ دنیا انہیں فار رائٹ کہتی ہے مگر حقیقت میں انتہا پسند ہی توہیں جو پوری دنیا پراپنی مرضی کا نظام تھوپ دینا چاہتے ہیں اور اس کی ابتدا اپنے ملک سے کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔فرانس میںایسی قیادت آتے آتے رہ گئی۔ موجودہ صدرفرانس میخوان کو بھی کسی حد تک پاپولسٹ لیڈر کہا جا سکتا ہے۔وہ اگرچہ میرین لی پین سے بہت مختلف ہیں مگر انہوں نے بھی فرانس میں اپنی ہی پالیسیاں نافذ کرر کھی ہیں وہ بھی دنیا کو اپنی مرضی سے چلانا چاہتے ہیں۔فار رائٹ لیڈر میرین لی پین کو ناکام بنانے کے لئے انٹرنیٹ کی مدد لی ورنہ شاید شکست دنیا مشکل تھا۔

بورس جانسن کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہی امریکہ کے ایک بڑے تھنک ٹینک ’’بروکنگس انسٹیٹیوٹ ‘‘کے کرتا دھرتا تھامس رائٹ نے کہہ دیا تھا کہ ’’میں نہیں سمجھتا کہ بورس جانسن ’کمپنی‘ (پارٹی)میں سیٹ ہوں گے ۔بلکہ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ یہ رہنما مل کر کوئی نیا سسٹم بنا رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں جیسے معاملات پر اٹلی کے نائب وزیر اعظم ماتیو سالوینی (Matteo Salvini)اور برازیل کے حکمران جیئر بالسونارو (Jair Bolsonaro) دوسرے پاپولسٹ رہنمائوں سے زیادہ ماڈریٹ ہیں۔جی ٹوینٹی پر ایک نظر ڈالنے سے بھی آپ کو ایسے کئی لیڈر نظر آئیں گے۔وہ صدر ٹرمپ کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں۔بلکہ کئی پاپولسٹ رہنمائوں کا اقتدار بھی ٹرمپ کی لہر کی ہی مرہون منت ہے۔اگر وہ اقتدار میں نہ آتے تو دنیا آج ان لیڈروں سے بھی محروم ہوتی‘‘۔انہوں نے اس ٹیم میں آسٹریلیا کے لیڈر سکاٹ ماریسن کو بھی شامل کر لیا ہے۔بعض ناقدین کے مطابق پاپولسٹوں کو پہلی کامیابی 2016میں بریگزٹ ریفرنڈم میں ملی تھی۔لیکن اس وقت تو امریکہ میں ٹرمپ کی سیاست عام بھی نہیں ہوئی تھی ۔

بورس جانسن،مودی ،ٹرمپ، سالوینو بولسونارو (Bolsonaro) اور ترکی حقیقتاََسوشل میڈیا کی پیداوار ہیں۔ہم اس میں کسی حد تک کینڈاکے جسٹن ٹرڈو کو بھی شامل کر لیتے ہیں انہیںبھی پاپولسٹ لیڈر وں کی صف میں شامل کیا جا سکتا ہے۔فرانس کی ساری فار رائٹ تحریک بھی اسی سوشل میڈیا کا شاخسانہ ہے ۔اسی لئے وہ دوسرے میڈیا کو بھی کوئی اہمیت نہیں دیتے۔انہوں نے آن لائن پلیٹ فارم کو اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے استعمال کیا ہے۔اگر آپ مڑ کرپیچھے کی جانب دیکھیں او رپھر جن ممالک میں حکومتی تبدیلیاں ہونے والی ہیں ایک نظر ان پہ ڈالیں تو خود پتہ چل جائے گا کہ ان کی اصل طاقت کیا ہے۔ان کی اصل طاقت سوشل میڈیا ہی تو ہے۔جو انہیں حکومت میں لانے میں کامیاب رہا، ورنہ تمام الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے نزدیک ٹرمپ کے آنے کادور دور تک کوئی سوال نہ تھا۔ برطانیہ میں بھی بورس جانسن کے خلاف ایک محاذ کھڑا تھا، جو سوشل میڈیا کے آگے بے بس رہ گیا۔اسی لئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ لہر تھمی نہیں،کئی اور ممالک میں بھی اسی قسم کے لیڈر برسراقتدار آنے والے ہیں۔

یہ رہنما نئے برانڈ کی سیاست کر رہے ہیں جس کی بنیاد اامیگریشن کی کی مخالفت پر رکھی گئی ہے،۔ برطانیہ میں انٹی امیگریشن پررکھی گئی ہے ۔بورس جانسن کی نئی ٹیم بھی ایسے رہنمائوں پرہی مشتمل ہے۔اس لئے برطانیہ میں امیگرنٹس کے حق میں قوانین کی توقع کرنا فضول ہے۔یہ رہنما روایتی ایلیٹ کلاس(ٹیکنوکریٹس وغیرہ) کو بھی مسترد کرتے ہیں۔ان کے نزدیک یہی سب سے بڑے ٹیکنوکریٹس ہیں۔یہ کم و بیش قوم پرستوں کا لہجہ ہی اختیار کرتے ہیں۔

پاپولسٹوں کی اچانک بڑھتی ہوئی طاقت کے بارے میں گلف نیوز نے حال ہی میں کہا ہے کہ برازیل کے پاپولسٹ صدر نے امریکی صدر سے ملاقات کے فوراََ بعد چلی کا درہ کیا۔ لہٰذااب چلی بھی ان کے نشانے پرہے۔صدر ٹرمپ کے دور میں ہی چلی میں بھی جمہوریت کی جڑیںکمزور ہو جائیں گی اور وہاں پاپولسٹوں کی حکمرانی کے بیج بو دیئے جائیں گے۔ان دونوں رہنمائوں کی باہمی قربتوں کو دیکھ کرہی کچھ ناقدین بالسونارو کو ’’ٹروپیکل ٹرمپ‘‘ بھی کہتے ہیں ۔ ٹرمپ کان کی مدد سے اس خطے میں نئے نظام کی بنیادیں رکھ رہے ہیں جس میں کافی حد تک کامیاب ہیں۔ٹرمپ کی طرح وہ بھی عام میڈیا کو فیک میڈیاکہتے ہیں۔وہ بھی اداروں سے مطمئن نہیں، انہیں بھی کئی عالمی معاہدات پر درجنوں اعتراضات ہیں جنہیں دور کرنا ممکن نہیں۔

 مگر یہ پاپولسٹ نظام کیا ہوتا ہے ،اور کیا اسے مستحکم نظام کہا جا سکتا ہے، ہرگز نہیں۔ ایک مغربی مفکر’’سکار زیری‘‘ (Scarzzieri)کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک اس وقت پاپولسٹ حکمرانوں کے دور سے گزر رہے ہیں۔ ا مریکہ، برطانیہ، بھارت ،اٹلی، ترکی، بھارت، ارجنٹائن(Mauricio Macri) کی مثال بھی دیتے ہیں۔وہاں انٹر نیٹ کی مدد سے ان مقبول حکمرانوں نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔حتیٰ کہ سیاسی جماعتوں کی مجبوری بن گئے۔ان سب لیڈروں کے الگ الگ جھنڈے ہیں ،الگ الگ پہچان ہے، مگر اندر سے وہ سب ایک ہیں یعنی ان کا مشن ایک ہے،یہ تمام لیڈر ’’سب سے پہلے امریکہ(یا برطانیہ یا اٹلی یا کوئی اور ملک)‘‘ کے نعرے کے ساتھ اٹھے اور اپنے ملک پر چھا گئے۔انہوں نے کوئی نظام بہت سوچ بچار کے بعد قائم نہیں کیا۔ان کا نظام تو شخصیات کی عادتوں اور ان کے موڈ کا محتاج ہے۔

سیاسی اور سماجی علوم کے ماہر بریمر کے بقول۔۔۔

’’ان رہنمائوں کے قومی مفادات بھی ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتے مگر پھر بھی وہ ا یک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔ان کے لئے عالم گیریت کی مزاحمت کرنا بھی آسان ہے، فری تجارت بھی ان کے نشانے پر رہتی ہے۔وہ ہر وقت ٹیرف، مزید ٹیرف کی رٹ لگائے رہتے ہیں۔آپ انہیں کسی ایک نکتے پر متفق کر کے دیرپا نظام قائم نہیں کر سکتے ۔کیونکہ ان کی سوچ وقت کے دھارے کے ساتھ بدل جاتی ہے۔ ان میں ایک دوسرے سے تعاون کی حس کا فقدان ہوتا ہے،اور وہ عالمی نظام کو عدم استحکام کا شکار کر سکتے ہیں۔یہاں اقوام متحدہ،یورپی یونین،موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق عالمی معاہدات ، عالمی قوانین و ضوابط اور عالمی تجارت کی مثال دی جا سکتی ہے ۔ وہ کسی کی سننے کو تیار نہیں۔ قوم پرست یا سسٹم کے خلاف کھڑے ہونے والے کبھی آپس میں بھی الجھیں گے یا نہیں؟۔آپ ان رہنمائوں کو ایسا گروپ بھی کہہ سکتے ہیں جو ایک دوسرے کے حامی ہیں مگر آپس میں کسی نکتے پر متفق ہیں نہ متحد۔ 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

سامراجیت کے آلہ کارمغرب نواز سیکولر لبرل مسلمانوں، یورپی امریکی میڈیا ہاوسز اور سرمایہ دار کمپنیوں کے مالک یہودیت کے علمبرداروں نے اس ...

مزید پڑھیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا بھر کی متنازعہ شخصیات میں سے ایک ہیں۔2016 کے صدارتی انتخابات سے قبل دنیا انہیں ایک کاروباری شخصیت سے تعبیر کرتی ...

مزید پڑھیں

8جولائی 2019کو قطر میں عروج پر پہنچنے والے ’’امریکہ طالبان مذاکرات‘‘نائن الیون سے صرف چار دن پہلے اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں۔ ا ...

مزید پڑھیں