☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل دنیا اسپیشل عالمی امور صحت کیرئر پلاننگ خواتین کچن کی دنیا دین و دنیا فیشن انٹرویوز ادب
چارلسٹن میں نیگروئوں کے گھروں کو آگ لگا دی گئی

چارلسٹن میں نیگروئوں کے گھروں کو آگ لگا دی گئی

تحریر : الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان

03-24-2019

آزادی کے خواہش مندوں نے سینکڑوں آزاد کالے اپنی تنظیم میں بھرتی کر لیے۔ انہوں نے بھاری مسلح چار گروہ بنائے جو ایک اشارے پر شہر کی اہم عمارتوں پر قبضہ کر کے انہیں نذرِ آتش کر سکتے تھے اور نظر آنے والے ہر گورے کی جان لے سکتے تھے۔ سیاہ فام کوچ وانوں کا ذمہ یہ تھا کہ اپنی بگھیوں، چھکڑوں، ویگنوں سے بھگڈر مچا کر گوروں کو ایک جگہ جمع نہ ہونے دیں۔

�لیکن اس اتوار کی صبح کسی خوف زدہ نیگر ونے اپنے مالک کو بتا دیا کہ آدھی رات کو کیا ہونے جا رہا ہے۔ بس پھر کیا تھا گورے ان پر ٹوٹ پڑے۔ ایک ایک کالے پر تشدد کرکے اصل سازشی کا نام پوچھا گیا۔ اب تک تیس سے زیادہ نیگروئوں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ چارلسٹن کے آزاد نیگروئوں کو بھگا کر ان کے گھروںکو آگ لگا دی گئی ہے اور نیگرو مبلغوں کو بھی۔ گرجوں پر تالے ڈال دیے گئے ہیں۔

دعویٰ کیاجا رہا ہے کہ وہاں تبلیغ کی آڑ میں نیگروئوں کو لکھنا پڑھنا سکھایا جاتا تھا۔ جارج نے اسے پھر کیبن کی طرف لے جانے کی کوشش کی۔ ’’تمھیں میری بات سمجھ نہیں آرہی؟‘‘ اس نے چڑکر کہا۔ ’’فوراً گھر چلے جائو۔ کسی کی نظر پڑ گئی تو فوراً گولی مار دیے جائو گے۔‘‘ جارج نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ چیریٹی کے کیبن میں کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔ ’’کہہ دیا ناں کہ نہیں!‘‘ تنگ آ کر اس نے چیریٹی کو پرے دھکیلا اور کہا۔

’’جیسے تمہاری مرضی!‘‘ اور یہ سوچتے ہوئے واپس چل دیا کہ اس سے بہتر تھا کہ وہ بیولہ کی طرف چلا جاتا۔ لیکن اب دیر زیادہ ہو گئی تھی۔ اگلی صبح اس نے منگو سے کہا کہ وہ رات اپنی امی سے ملنے گیا تھا جس نے بتایا ہے کہ ’’مس مالیزی نے مالک اور مالکن سے جو کچھ بغاوت کے متعلق سنا ہے اس کے مطابق…‘‘ اسے یقین نہیں تھا کہ منگو اس کی بات پر بھروسا کرے گا لیکن پھر بھی اس نے چیریٹی سے سنی ساری رام کہانی سنادی۔جارج نے پوچھا۔

’’انکل منگو! جنوبی کیرولائنا میں معاملہ ختم ہونے کے بعد وہ یہاں نیگروئوں کو کیوں گولیاں مار رہے ہیں؟‘‘ انکل منگو کچھ دیر سوچتا رہا۔’’ سب گوروں کو ہر وقت یہ ڈر رہتا ہے کہ ہم نیگر وکسی بھی وقت منظم ہو کر بغاوت کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ نیگرو کبھی اکٹھے نہیں ہوں گے۔‘‘ وہ پھر چپ ہو کر سوچتا رہا۔ ’’یہ قتل و غارت کچھ دن میں ٹھنڈی پڑ جائے گی۔ ہمیشہ کی طرح۔ ہر طرف مرے ہوئے اور ڈرے ہوئے نیگرو رہ جائیں گے۔ پھر جلد ہی نئے قوانین بنائے جائیں گے۔‘‘ ’’ اس کام میں کتنا عرصہ لگے گا؟‘‘ جارج کو سوال پوچھتے ہی حماقت کا احساس ہوا۔

منگو نے اسے ترچھی نگاہ سے دیکھا اور کہا۔ ’’اس بات کا جواب تو میرے پاس نہیں ہے!‘‘ جارج بھی چپ کر گیا۔ فیصلہ کیا کہ حالات معمول پر آنے تک وہ منگو سے کچھ نہیں کہے گا۔ اگلے دو ماہ میں مالک لی بھی مزاجاًبتدریج معمول پر آتے گئے۔ پھر ایک دن منگو نے دل کی بات کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا۔ ’’انکل منگو! میںنے بڑے غور کے بعد ایک طریقہ سوچا ہے جس سے مالک کے مرغے پہلے سے زیادہ لڑائیاں جیت سکتے ہیں۔‘‘ منگو نے اس کی طرف یوں دیکھا جیسے اس کے سترہ سالہ ماتحت کا دماغ چل گیا ہو۔ لیکن جارج بولتا رہا۔ ’’میں پانچ سال سے آپ کے ساتھ ہر لڑائی پر جا رہا ہوں۔ دو سال پہلے میں نے ایک بات نوٹ کی تھی۔ مالک کے مرغوں کا بھی دوسروں کی طرح اپنا ایک انداز ہے۔

ہم مالک کے مرغوں کو طاقت ور بنانے، ان کا سانس پکانے کے لیے محنت کرتے ہیں تاکہ وہ دوسروں کو پچھاڑ سکیں۔ لیکن میںنے دیکھا ہے کہ جب بھی ہم لڑائی ہارے ہیں اس کی وجہ یہ رہی ہے کہ مخالف مرغا زیادہ اونچا اڑ سکتا تھا۔ اسی لیے وہ اپنا آہنی خاراوپر سے مار سکتا تھا جس سے عموماً ہمارا مرغ مر جاتا تھا۔ اگر مالک کے مرغوں کے پر زیادہ مضبوط ہوں، جس کے لیے ہم انہیں خصوصی ورزشیں کروا سکتے ہیں،تو اس سے ہمارے مرغ زیادہ اونچے اڑ کر زیادہ لڑائیاں جیت سکتے ہیں۔‘‘ منگو نے بھنویں سکیڑ کر اپنے اور جارج کے پیروں کے درمیان اُگی گھاس کو دیکھا۔

پھر کچھ دیر چپ رہ کر بولا۔‘‘ میں تمہارا مطلب سمجھ گیا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ تم یہ بات مالک سے کرو۔‘‘ ’’اگر آپ سمجھ گئے ہیں تو آپ مالک سے کیوں نہیں کرتے؟‘‘ ’’نہیں، طریقہ تم نے سوچا ہے۔ اس لیے مالک کو تم ہی بہتر بتا سکتے ہو۔‘‘ جارج کو خوشی ہوئی کہ منگو نے اس کی بات کا مذاق نہیں اڑایا۔ سوموار کی صبح مالک آئے تو جارج نے ہمت کر کے ساری بات ان کے سامنے دہرا دی اور دوسروں کے مرغوں کے لڑائی کے انداز پر اضافی باتیں بھی کیں۔ ’’مالک گراہم کے مرغوں میں تیزی ہے۔

لیکن مالک میگ گریگر کے مرغ احتیاط سے لڑتے ہیں… ‘‘ چوں کہ جارج نگاہیں جھکا کر باتیں کر رہا تھا اس لیے اسے مالک کے چہرے پر گہری دلچسپی نظر نہیں آئی۔ ’’اگر آپ اجازت دیں تو میں اور انکل منگو مرغوں کو نئے سرے سے تربیت دے کر زیادہ اونچا اچھلنے کی اہلیت پیدا کر سکتے ہیں تاکہ وہ مخالف مرغے کے اوپر سے حملہ کر کے اس کو ہرا سکیں۔‘‘ مالک لی اس طرح جارج کو گھور رہے تھے جیسے انہوں نے پہلی بار جارج کو دیکھا ہو۔اگلا موسم شروع ہونے سے پہلے مالک زیادہ وقت مرغی خانے میں گزارنے لگے وہ منگو اور جارج کو مرغ ہوا میں اچھالتے دیکھ کر محظوظ ہوتے۔ مرغے اپنے پانچ چھے پائونڈ وزن کے ساتھ نیچے آتے ہوئے پرزور زور سے پھڑپھڑاتے

جس سے ان کے بازو بتدریج مضبوط ہونے لگے۔1823ء کے موسم میں مالک کے مرغوں نے جارج کی پیش گوئی کے مطابق بہت اچھی کارکردگی دکھائی۔ انہوںنے باون میں سے انتالیس لڑائیاں جیتیں۔کوئی ہفتہ بھر بعد ایک صبح مالک اپنے آدھ درجن زخمی بہترین مرغوں کی خبر گیری کے لیے آئے۔ ’’میرا نہیں خیال کہ یہ بچے گا۔‘‘ انکل منگو نے ایک زخمی اور نیم جان مرغے کی طرف اشارہ کر کے کہا تو مالک نے بھی تائید میں سر ہلایا۔ ‘‘ پھر مالک نے اچانک کہا۔۔۔’’یہ جو رات کو تم پھرتے ہو۔ ا س میں اس لڑکی کے دوسرے دوستوں سے بچ کر رہنا۔‘‘

ایک لمحہ تو جارج کو سمجھ ہی نہیں آیا کہ مالک نے کیا کہا ہے۔ پھر ایک دم اسے انکل منگو کی غداری پر بے پناہ غصہ آیا۔ لیکن منگو کے چہرے پر بھی حیرت تھی۔ مالک نے بات جاری رکھی۔ ’’بیگم ٹیگ نے میری بیوی کو بتایا ہے کہ پتہ نہیں اس کی ملازمہ کو کیا ہوتا جا رہا ہے۔ اس نے ملازموں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ چیریٹی دو دوبار کی مشقت سے نڈھال ہو جاتی ہے۔

ایک تو تمہارا نام ہے اور دوسرا کوئی اور نیگرو ہے۔‘‘ مالک لی ہنسے۔ چیریٹی! دو دوبار! جارج غصے سے کھول اٹھا۔ وہ کوشش کر کے کھسیانا سا مسکرایا۔ اب جب مالک کو پتہ چل ہی گیا تھا کہ وہ غائب ہوتا ہے تو وہ اس کے ساتھ کیا کریں گے؟ لیکن مالک نے غیر متوقع طور پرکہا ۔۔۔’’جان خطرے میں نہ ڈالنا۔ اور باہر سڑک پر ان گشت کرنے والوں کے ہاتھ نہ لگنا جو دیکھتے ہی مار دیتے ہیں۔‘‘ ’’نہیں جناب! بالکل نہیں۔!‘‘ جارج اتنا گھبرایا ہوا تھا کہ اسے جواب نہیں سوجھا۔ ’’مہربانی مالک !… مہربانی!‘‘ مالک اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور مسکراتے ہوئے سڑک کی طرف چل دیے۔

رات کو اپنے بستر پر لیٹ کر اس نے جی بھر کر چیریٹی کو کوسا اور فیصلہ کیا کہ اب وہ صرف بیولہ پر دھیان دے گا جو وفادار تو تھی۔ پھر اسے وہ لڑکی یاد آئی جس نے اپنا نام اوفیلیا بتایا تھا ۔ اس نے ایک رات واپس آتے ہوئے اسے دیکھا تھا۔ لیکن وہ بہت بڑے مالک کی غلام تھی۔ مشہور تھا کہ اس کے مالک کے پاس ہزار سے زیادہ لڑاکا مرغ ہیں اور مالک کے خاندان کی کاس ویل کائونٹی کے علاوہ جارجیا اور سائوتھ کیرولائنا میں بھی کافی اراضی تھی۔ اگرچہ فاصلہ تو بہت تھا لیکن جارج نے پہلی فرصت میں مالک جیوٹ کی اس خادمہ سے جان پہچان کا فیصلہ کیا ۔

ایک اتوار کی صبح جارج غلام احاطے میں گیا ہی تھا کہ مالک معائنے کے لیے آگئے۔ مرغوں کی باتیں کرتے کرتے اچانک منگو نے ایسے کہا جیسے اسے یک دم خیال آیا ہو۔ ’’مالک! آپ کو تو پتہ ہے کہ ہر موسم میں ہم زیادہ زخمی ہونے والے مرغوں کو چھانٹ کر الگ کر دیتے ہیں۔ جو پھر بھی دوسروں کے مرغوں سے اچھے ہی ہوتے ہیں۔ اگر آپ ان مرغوں کو چھوٹی لڑائیوں میں لڑوانے کے لیے جارج کو دے دیا کریں تو اس سے آپ کو اضافی آمدنی بھی ہو سکتی ہے۔‘‘ انکل منگو جانتا تھا کہ مالک ٹام لی کا نام کا س ویل کائونٹی کے طول و عرض میں اس لیے مشہور ہے کہ وہ ایک مرغے کے ساتھ چھوٹی لڑائیوں سے جیتتے ہوئے ایک نام ور مرغ باز بنے تھے۔

وہ اکثر غربت کے دنوں کو یاد کرکے منگو سے کہتے کہ ان دنوں کا لطف وہ کبھی نہیں بھولتے۔ ان کا مزہ وہ بڑے مقابلے جیتنے کے برابر تھا جو انہوں نے بعد میں جیتے۔ فرق صرف یہ تھا کہ بڑی لڑائیوں میں امیر لوگ شریک ہوتے۔ بڑی رقمیں لگتیں اوربڑی ہار جیت بھی ہوتی۔ چھوٹی لڑائیاں غریب لوگوں اور دوسرے تیسرے درجے کے مرغوں کی چیز تھی۔ ان میں غریب گورے، آزاد کالے۔ یاغلام جن کے پاس پچیس سینٹ سے لے کر ایک ڈالر تک بچت ہوتی تھی،شرکت کرتے۔ کبھی کبھی کوئی مرغ باز جوش میں آ کر دماغ خراب کر لیتا اور پچیس ڈالر تک کی شرط لیتا۔ جو اس کی زندگی بھر کی کمائی ہوتی۔

’’کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ اکھاڑے میں مرغوں کو سنبھال لے گا؟‘‘مالک لی نے پوچھا۔ انکل منگو کو پہلے تو اپنی تجویز پر اعتراض نہ سن کر خوشی ہوئی۔ ’’میرا خیال ہے جس توجہ سے وہ پانچ سال سے آپ کو مرغ لڑاتے دیکھ رہا ہے اور شوق کے ساتھ اس کے اندر جو فطری مرغ بازی کی صلاحیت ہے، اسے دیکھ کر مجھے تو یقین ہے کہ اسے کسی تربیت کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر اس نے وہ ہی مرغے لڑوانے ہیں جو ہم پہلے ہی علیحدہ کر چکے ہوں گے اور ہمارے لیے ویسے بھی کسی کام کے نہیں ہوں گے، مالک۔‘‘ ’’ہوں‘‘ مالک نے ٹھوڑی کھجا کر سوچتے ہوئے کہا۔

’’بات تو تمہاری ٹھیک لگتی ہے۔ تم ذرا کچھ مرغے الگ کر کے گرمیوں کے لیے مشق تو کروائو۔ اگر اگلے موسم تک اس نے بہتری دکھائی تو میں شرطوں کے لیے اسے کچھ رقم دے دوں گا۔‘‘ ’’ٹھیک مالک، ضرور کروائوں گا۔‘‘ انکل منگو بہت خوش تھا۔ کیوں کہ کئی مہینوں سے وہ اور جارج چھانٹی شدہ مرغوں کی مصنوعی لڑائیاں کروا رہے تھے۔ ان کے مرغوں کے خار انکل منگو کے بنائے چمڑے کے خول سے ڈھک دیے جاتے تھے۔ ’’بچوُ! میں تمھیں وہ خبر سنانے والا ہوں کہ جسے سن کر تمہارا منہ کھلا کا کھلا رہ جائے گا۔‘‘ انکل منگو نے یہ کہتے ہوئے خبر سنائی ۔

’’مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کہوں۔‘‘جارج نے خبر سن کر خوشی سے کہا۔ ’’اپنے سارے دانت نکال کر۔ اور کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ چلو کام شروع کریں۔‘‘ ساری گرمیوں کی سہ پہریں وہ کم از کم ایک گھنٹہ عارضی بنائے گئے اکھاڑے میں مرغوں کو تربیت دیتے رہے۔ کئی ہفتے بعد مالک ان کا جائزہ لینے آئے۔ جارج کی مہارت سے خوش ہو کر انہوں نے اسے کچھ اپنے گُر بھی بتائے۔کسی سہ پہر وہ تربیت سے فارغ ہو کر بیٹھتے تو انکل منگو بڑے رسان سے جارج کو اس دولت اور شان کا بتاتا جو ان لڑائیوں سے مل سکتی تھی۔

’’میں نے ان لڑائیوں میں غریب نیگروئوں کو دس دس، بارہ بارہ بلکہ زیادہ ڈالر بھی جیتتے دیکھا ہے، میرے بچے۔‘‘ ’’میرے پاس ایک ڈالر ہونا تو کجا میںنے کبھی ایک ڈالر کی شکل بھی نہیں دیکھی کہ وہ ہوتا کیسا ہے؟‘‘ میرے پاس بھی کچھ زیادہ نہیں رہے۔ دوسرے مجھے ان کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ لیکن مالک کہہ رہے تھے کہ وہ شرطیں لگانے کے لیے تمھیں کچھ رقم دے دیں گے۔ اور اگر تم جیتے بھی تو ہو سکتا ہے وہ تمھیں حصہ بھی دیں۔‘‘ ’’واقعی؟ آپ کے خیال میں ایسا ہو سکتا ہے؟

‘‘ ’’میرا خیال ہے کہ انہیں اس بات کا احساس ہے کہ تمہیں حصہ دینے کا کیا فائدہ ہو گا۔ اور اگروہ ایسا کریں تو کیا تم اتنی سمجھ داری کرو گے کہ اپنی بچت کو جمع کر کے رکھو؟‘‘ ’’کیوں نہیں! میں ضرور ایسا کروں گا۔‘‘ ’’میں نے سنا ہے بعض نیگرو ان لڑائیوں کی آمدنی جوڑ کر اپنے مالکوں سے آزادی خرید لیتے ہیں۔‘‘ ’’میں خود کو اور اپنی امی کو ضرور آزاد کرائوں گا۔‘‘ انکل منگو تلملا کر درخت کے کٹے تنے سے اٹھا۔ اس کے دل میں حسد کی ایسی لہر اٹھی کہ وہ کچھ کہہ بھی نہیں سکا۔ اس کے منہ سے بمشکل نکلا۔ ’’ہاں خیر، ناممکن تو کچھ بھی نہیں۔

‘‘ اسے یک لخت احساس ہوا کہ جتنی محبت وہ جارج سے کرتا ہے جارج اس سے نہیں کرتا۔ وہ اٹھ کر اپنے کیبن چلا گیا۔ 1824ء میں ایک بڑی لڑائی کے دوران انکل منگو نے ایک پرانے مرغ باز سے سنا کہ آئندہ ہفتے ایک بڑے رقبے پر ذرا نچلے درجے کی مرغ لڑائی ہونے جا رہی ہے۔ ’’میرا خیال ہے کہ جارج اب تیار ہے مالک!‘‘ منگو نے مالک لی سے کہا۔ ہفتے کی صبح مالک حسبِ وعدہ آئے اور سکوں اور روپوں کی شکل میں بیس ڈالر منگو کو دیے۔ ’’تمھیں میرے طریقہ کار کا پتہ ہے۔‘‘ انہوں نے دونوں سے کہا۔’’ ایسے مرغے پر کبھی شرط مت لگانا جس پر شرط لگاتے ہوئے تمھیں ڈر لگے۔

لیکن شرط نہیں لگائو گے تو کبھی جیتو گے بھی نہیں۔ مجھے ہار کا خوف نہیں ہے۔ لیکن رقم میری ہے اور مرغے تم نے لڑوانے ہیں۔ اس لیے جیت کی رقم میں آدھا حصہ میرا ہو گا۔ سمجھ گئے؟ لیکن اگر میرے پیسوں میں کوئی گڑ بڑ ہوئی تو میں تمھاری کالی کھالیں ادھیڑ کر بھی پیسے نکال لوں گا۔‘‘ دونوں اکٹھے بولے۔ ’’جی مالک!‘‘ مرغوں کی لڑائی کی جگہ پہنچ کر جارج کو اکھاڑے کے گرد بیس کے قریب سیاہ فام باتیں کرتے اور ہنستے نظر آئے۔ ان میں سے کچھ کو پہچان کر ا س نے ہاتھ ہلایا۔ چند نے شوخ رنگ کپڑے پہن رکھے تھے اور اپنے انداز سے آزاد کالے محسوس ہوتے تھے۔

ان کے علاوہ کچھ غریب گورے بھی تھے۔ اپنے مرغے کو گرم کر کے جارج اکھاڑے کی طرف لے چلا جہاں ریفری لڑائی شروع کرنے کا اشارہ دے رہا تھا۔’’لو بھائی! اب لڑائی شروع ہونے والی ہے۔ جم کارٹر اور بین سپینس اپنے مرغوں کو آگے لے آئو!‘‘ دو بے ڈھنگے سے گورے آگے بڑھے۔ اپنے مرغوں کا وزن کروایا اور سٹیل کے خاران کی ٹانگوں سے باندھے۔ ہر طرف شرطیں بدنے کا شور تھا۔ جو پچیس اور پچا س سینٹ تھیں۔ جارج کو وہ دونوں مرغے مالک کے اوسط درجے کے ان متروک مرغوں سے بھی گئے گزرے لگے جو اس وقت منگو کے تھیلے میں بند تھے۔

’’شروع!‘‘ کی آواز پر دونوں مرغے ایک دوجے پر لپکے، ہوا میں اچھلے، نیچے گرے اور روایتی انداز سے لڑنے لگے۔ ان کی لڑائی میں جار ج کو وہ سنسنی محسوس نہیں ہوئی جو مالک کی بڑی لڑائیوں میں ہوتی تھی۔ جب ایک مرغ نے آہنی خار دوسرے کی گردن میں اتارا تو اس مرغ کو مرنے میں بھی کچھ وقت لگا حال آنکہ یہ کام کوئی اعلیٰ مرغا چند سیکنڈوں میں کر سکتا تھا۔ ہارنے والے آدمی نے مردہ مرغے کو ٹانگوں سے پکڑ کر اٹھایا اور اپنی قسمت کو کوسنے لگا۔ دوسری تیسری اور چوتھی لڑائی بھی بے مزہ اور جارج کی توقع سے بہت نیچے رہیں۔

لیکن جب اس کی باری آئی تو جارج کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ ’’شروع!‘‘ وہ ریفری کے ہونٹوں پر نگاہ رکھنا بھول گیا۔ جتنی دیر میں اس کے ہاتھ حرکت میں آئے دوسرا مرغ ہوا میں تھا۔ جارج گھبرا کر پیچھے ہٹا اور اپنے مرغے کو چوٹ کھا کر گرتے دیکھا۔ لیکن اس نے خود کو سنبھالا اور پلٹا۔ دونوں مرغ ہوا میں اچھلے۔ جارج والا زیادہ اونچائی پر تھا لیکن اس کا حملہ مؤثر نہ ہو سکا۔ دوسری بار دونوں یکساں بلندی تک گئے۔ اور بہت تیزی سے ایک دوجے پر حملہ آور ہوئے۔ جب تک دونوں مرغے سارے اکھاڑے میں اڑتے، گرتے، جھپٹتے رہے جارج کی دھڑکن رکی رہی۔

جارج کے مرغے کا خون مسلسل بہہ رہا تھا اور وہ کم زور پڑ رہا تھا۔ پھر اچانک لڑائی ختم ہو گئی۔ جارج کا مرغا ایک طرف گرا، پھڑپھڑاتے ہوئے تڑپ رہا تھا۔ جارج نے تیزی سے بڑھ کر مرغ کو اٹھایا۔ اسے شرطیں لگانے والوں کے نعرے اور گالیاں سنائی نہیں دے رہی تھیں۔ وہ اپنے آنسو روکتے ہوئے بھیڑ سے نکل رہا تھا کہ انکل منگو نے غصے سے اس کا بازو پکڑا اور لوگوں کی سماعت سے دور لے گیا۔ ’’احمق کیوں بن رہے ہو؟‘‘ منگو نے دانت بھینچ کر کہا۔ ‘‘ چلو لڑائی کے لیے دوسرا مرغا نکال کر لائو!‘‘ ’’میں کبھی اچھا کھلاڑی نہیں بن سکتا۔ میں نے مالک کا مرغا بھی مروا دیا ہے۔

‘‘ منگو نے اسے حیرت سے دیکھا۔ ’’جب بھی لڑائی ہوتی ہے تو ایک نے تو ہارنا ہی ہوتا ہے! تم نے کبھی مالک کو ہارتے نہیں دیکھا؟ چلو۔ اپنا کام شروع کرو۔ ‘‘ لیکن اس کی حوصلہ افزائی اور دھمکیاں سب بے اثر رہیں اور آخر اس نے کوشش ترک کر دی۔ ’’تمہاری مرضی، میں تو مالک کو جا کر بتانے والا نہیں ہوں کہ ہم نے ڈر کے مارے ان کی رقم جیتنے کی کوشش ہی نہیں کی۔‘‘ انکل منگو نے غصے سے اکھاڑے کے گرد کھڑے لوگوں کی طرف پھیر لیا۔ دو مزید لڑائیوں کے بعد ریفری نے پھر اعلان کیا۔ ‘‘ ٹام لی کا نیگر!‘‘ شرم میں ڈوبے ہوئے اس نے منگو کو دس ڈالر کی شرط بدتے ہوئے سنا۔

اور پھر مالک کے مرغ نے دو منٹ سے بھی کم وقت میں یہ لڑائی جیت لی۔ واپسی پر منگو کی مسلسل حوصلہ افزائی سے جارج ذرا سنبھلا۔’’ بھئی ہم نے دو ڈالر کمائے ہیں۔ اور تمھیں موت پڑ رہی ہے!‘‘ ۔’’میں ہارنے پر شرمندہ ہوں۔ مجھے لگتا ہے مالک لڑائی کے لیے مجھے اور مرغے نہیں دیں گے!‘‘ جارج نے جواب دیا۔منگو نے جب دیکھا کہ جارج آغاز ہی میں ہارمان گیا ہے تو وہ بڑا پریشان ہوا۔

جارج تین دن تک چھپتا پھرتا رہا۔ اس کا جی چاہتا تھا کہ زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائے۔ یہ صورت دیکھ کر منگو نے مالک سے کہا۔ ’’آپ اس سے ذرا بات تو کریں مالک۔ وہ ایک لڑائی ہار کر بالکل ہی بددل ہو گیا ہے۔‘‘ چناں چہ اگلی بار مالک جب مرغی خانے آئے تو جارج سے بولے۔ ’’سنا ہے تم ہار سے بہت ڈرتے ہو؟‘‘ ’’مالک مجھ سے آپ کا مرغا مرتا نہیں دیکھا جاتا۔‘‘ ’’میں تمھیں بیس مرغے اور لڑائی کے لیے دوں گا۔‘‘

’’جی مالک!‘‘ جارج نے پھر بے دلی سے کہا۔ لیکن جب اگلی بار وہ اپنی پہلی دونوں لڑائیاں جیتا اور خوشی سے فاتح مرغوں کی طرح خود بھی بانگیں دینے لگا تو انکل منگو نے اس کے کان میں کہا ۔ ’’ہوش میں آئو ورنہ پھر لڑائی ہارو گے!‘‘ ’’ایک بار مجھے یہ پیسے اپنے ہاتھوں میں پکڑنے دو انکل!‘‘ جارج نے ہاتھ پھیلا کر کہا۔ وہ ایک ڈالر کے نوٹ اور سکوں کو خوشی سے دیکھ رہا تھا کہ منگو نے ہنس کر کہا۔

’’پیسے تم خود مالک کو دینا۔ اس سے تم دونوں کو زیادہ خوشی ہو گی!‘‘ واپس آتے ہوئے جارج مسلسل کوشش کر تا رہا کہ انکل منگو ایک بار غلام احاطے میں آ کر اس کی امی، مس مالیزی، بہن سارہ اور انکل پامپی سے مل لے۔ ’’مالک کے پاس ہم چھے نیگر ہی توہیں۔ ہمیں تو ایک دوسرے سے واقف ہونا چاہیے۔ لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ آپ انہیں پسند نہیں کرتے!‘‘ ’’تمھیں اور ان سب کو پتہ ہونا چاہیے کہ میں ان لوگوں کو ناپسند نہیں کر سکتا جنہیں میں جانتا ہی نہیں!

‘‘ منگو نے جواب دیا۔ ’’جیسا ہے ویسا ہی چلنے دو۔ نہ مجھے ان کی فکر کی ضرورت ہے اور نہ انہیں میری فکر کی ضرورت ہے۔‘‘ رقبے پرپہنچ کر منگو اپنے راستے پر چل دیا۔ کزی نے اتنے سارے نوٹ اور سکے دیکھے تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ ’’اتنے پیسے تمھیں کہاں سے ملے ؟‘‘ اس نے پوچھا اور بہن سارہ کو بلا لائی۔ ’’ویسے یہ ہیں کتنے؟‘‘ سارہ نے پوچھا۔

’’پتہ نہیں۔ لیکن یہ اس سے بھی زیادہ تھے۔‘‘ بہن سارہ اسے ہاتھ سے پکڑ کر انکل پامپی کے پاس لے گئی۔ ’’میرا خیال ہے میں بھی ایک مرغا لے لوں‘‘ بوڑھے پامپی نے کہا۔ ’’لیکن یہ پیسے تو مالک کے ہوں گے نا؟‘‘بہن سارہ نے پوچھا۔ ’’اس میں سے آدھے میرے ہوں گے۔‘‘ جارج نے فخر سے کہا۔ ’’لیکن ابھی تو میں نے مالک کو ان کا حصہ دینے جانا ہے۔‘‘ باورچی خانے میں جارج نے مالیزی کو پیسے دکھائے اور مالک سے ملوانے کی درخواست کی۔ مالک نے ڈالر جیب میں ڈالے اور ہنس کر کہا۔ ’’لگتا ہے منگو بہترین مرغے تمھیں دے کر مجھے بے کار مرغے دے رہا ہے۔‘‘

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

میں جارج اور جولیئس گرمیوں میں نانی جان کے پاس ہنینگ چلے جاتے۔ لیکن نانا اور ماما کی وفات نے انہیں اداس اور دکھی کر دیا تھا۔ وہ فرنٹ پورچ ...

مزید پڑھیں

غزل کا ایک مفہوم اردو سے باتیں کرنا قرار دیا گیا ہے مردوں نے جی بھر کے غزلیں کہیں اور باتیں کیں لیکن جب خودنے اظہارکیا تو وہ کچھ اور کہانی ...

مزید پڑھیں

اسی سال ول نے برتھا کو پیانو سکھانے کے لیے ایک استاد رکھا جو ہر ہفتے میمفس سے آتا تھا۔ اس میں خدا داد صلاحیتیں تھیں اور بہت جلد وہ نیو ہوپ ...

مزید پڑھیں