☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل سنڈے سپیشل خصوصی رپورٹ کھیل فیشن دین و دنیا ادب کیرئر پلاننگ
چار بار فرار کی کوشش پر تمہارے باپ کا پائوں کاٹ دیا گیا۔۔

چار بار فرار کی کوشش پر تمہارے باپ کا پائوں کاٹ دیا گیا۔۔

تحریر : الیکس ہیلی

04-14-2019

شادی کے بعد جب وہ مل کر جھاڑو پھلانگنے کو تھے تو جارج نے سوچا کہ اسے کوئی ایسی بات کہنی چاہیے جس سے اس کے خاندان کی عزت میں اضافہ ہو ۔ آخر اسے وہ بات سوجھ گئی۔’’خدا ہی میرا وارث ہے!‘‘ اس نے اعلان کیا۔’’ جو میں چاہتا تھا اس نے مجھے دے دیا۔‘‘اس کے ردِ عمل میں لوگوں کے چہرے پر جو تا ٔثر ابھرا اسے دیکھ کر اس نے مزید کچھ کہنے سے گریز کیا۔

بقیہ تقریبات، دعوت وغیرہ پلک جھپکتے میں گزر گئیں۔ شام ڈھلے انکل پامپی کو ویگن چلا کر واپس آنا پڑا۔ سنجیدہ اور شرمندہ کزی، بہن سارہ اور مس مالیزی غصے سے بار بار پلٹ کر دیکھتی آئیں جہاں دولہا بے سدھ لیٹا خراٹے لے رہا تھا۔ اور دلہن ساتھ بیٹھی رو رہی تھی۔ سبز سکارف اترا ہوا تھا اور زیادہ تر چہرہ ڈربی ہیٹ نے ڈھانپ رکھا تھا۔

ویگن نئے کیبن کے سامنے رکی تو خراٹے لیتا چکن جارج نیند سے جاگا۔ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر ادھر دیکھا پھر اس نے سوچا کہ اسے اپنے رویے پر دوسرے لوگوں سے معذرت کرنی چاہیے۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ یہ کوشش کرتا تینوں کیبنوں کے دروازے گولی کی طرح ’’پٹاخ ‘‘ کی آواز کے ساتھ بند ہو گئے۔لیکن وہ شائستگی سے مکمل غافل بھی نہیں تھا۔

اس نے دلہن کو اٹھایا۔ پائوں سے دروازہ کھول کر بغیر زخمی ہوئے جیسے تیسے اندر داخل ہونے میں کام یاب ہو گیا۔ جب مٹلڈا نے شادی کا تحفہ دیکھا تو وہ خوشی سے نہال ہو گئی ۔اس نے فوراً اسے معاف کر کے اس کی کارگزاری بھلادی۔ تحفہ ایک بڑا گھڑیال تھا۔ دادا ابا والا گھڑیال۔ جسے اسّی دن بعد چابی دینا پڑتی تھی۔ جو مٹلڈا کے قد کے برابر ہی اونچا تھا۔ اسے چکن جارج نے اپنی بقیہ پونجی سے خریدا تھا اور گرینز بو رو سے ویگن میں لا د کر لایا تھا۔ مٹلڈا نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تاکہ اٹھنے میں اس کی مدد کرے اور کہا۔

’’میرے ساتھ آئو جارج!

‘‘ چکن جارج صبح تڑکے ہی اپنے مرغوں کی طرف چلا گیا۔ ناشتے کے کوئی ایک گھنٹہ بعد مس مالیزی نے کسی کو اپنا نام پکارتے سنا۔ باورچی خانے کے دروازے پر نئی دلہن کو دیکھ کر اسے حیرت ہوئی ۔اس نے اسے اندر بلا لیا۔

’’جی نہیں شکریہ!‘‘ مٹلڈا نے جواب دیا۔ ’’میں تو پوچھنے آئی تھی کہ کام کے کھیتوں میں کس طرف جانا ہے، زرعی آلات کہاں پڑے ہوتے ہیں؟‘‘

کچھ منٹ بعد مٹلڈا آئی اور کزی، بہن سارہ اور انکل پامپی کے ساتھ کھیتوں میں کام میں جُٹ گئی۔ شام کو سب لوگ چکن جارج کی واپسی تک غلام احاطے میں اس سے باتیں کر کے اس کادل بہلاتے رہے۔ دوران گفت گو مٹلڈا نے پوچھا کہ کیا غلام احاطے میں عبادت کے اجتماعات باقاعدگی سے ہوتے ہیں؟ انکار میں جواب ملنے پر اس نے اعلان کیا کہ اتوار کی سہ پہر سے باقاعدگی سے اجتماع ہو گا۔’’سچ بتائوں! میں تو مدت سے عبادت گاہ کے قریب بھی نہیں گئی۔‘‘ کزی نے کہا۔ ’’میں بھی۔‘‘ بہن سارہ نے بھی اعتراف کیا۔

’’بھائی جتنی بھی عبادت کر لو یہ گورے نہیں بدلیں گے۔‘‘ انکل پامپی نے کہا۔ ’’انجیل میں لکھا ہے کہ حضرت یوسف ؑو اہل مصر کے ہاتھ بیچا گیا تھا۔ لیکن خداحضرت یوسف ؑ کے ساتھ تھا اور خدا نے حضرت یوسف ؑ کی خاطر مصریوں کے گھر پر رحمت کی تھی۔‘‘ مٹلڈا نے دو جمع دو والے انداز میں کہا۔تینوں نظروں کا فوری تبادلہ ہوا اور سب کی آنکھوں میں اس نوجوان عورت کے لیے احترام ابھر آیا۔

’’جارج نے بتایا تھا کہ تمھارے پہلے مالک مبلّغ تھے۔‘‘ بہن سارہ نے کہا۔ ’’تم تو خود مبلّغ لگتی ہو!‘‘

ایک صبح کھیتوں میں کام کرتے ہوئے سینتالیس سالہ بہن سارہ نے افسردگی کے ساتھ اٹھارہ سالہ نئی دلہن سے کہا۔ ’’میری جان! مجھے لگتا ہے کہ تمھاری شادی کے بعد زندگی تمہارے اور مرغوں کے درمیان بٹی رہے گی۔‘‘مٹلڈا نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’میں نے ہمیشہ سنا ہے اور میرا ایمان ہے کہ شادی شدہ زندگی ویسی ہی ہوتی ہے جیسی آپ بناتے ہیں۔ اور میرا خیال ہے کہ اسے پتہ ہے کہ ’’وہ‘‘ ہماری زندگی کیسی بنانا چاہتا ہے!‘‘

شادی کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے بعد وہ اٹھتے بیٹھتے اپنے شوہر کے مزاحیہ اور کبھی سنجیدہ قصے سناتی رہتی۔ ’’اس کے پائوں میں بچپن ہی سے چکر ہے۔‘‘ ایک دن کزی نے اسے بتایا۔

’’جی امی!‘‘ مٹلڈا نے کہا۔ ’’مجھے بھی شادی والے دن اندازہ ہوا تھا۔ اس نے مرغ بازی اور مالک کے ساتھ سفر کے علاوہ حرام ہے کوئی بات کی ہو۔‘‘ پھر اس نے ذرا بے تکلفی سے کہا۔ ’’جب اسے اندازہ ہو گیا کہ میں کسی دوسرے مرد کے ساتھ جھاڑو نہیں پھلانگوں گی تووہ ایک دن بھاگتا ہوا میری پاس آیا اور شادی کی پیش کش کی تھی۔‘‘

دو ماہ بعد جب مٹلڈا نے خوش خبری سنائی تو کزی کی خوشی دیدنی تھی۔ اپنے بیٹے کے باپ بننے کا سوچ کر اسے اپنے والد یاد آگئے۔ اور جب ایک شام چکن جارج کہیں باہر گیا ہوا تھا تو کزی نے مٹلڈا سے پوچھا۔’’ اس نے کبھی تم سے اپنے نانا کا ذکر بھی کیا ہے؟‘‘

’’نہیں تو، کبھی بھی نہیں۔‘‘ مٹلڈا نے گھبرا کر کہا۔

’’نہیں کیا؟‘‘ بڑھیا کے چہرے پر مایوسی دیکھ کر مٹلڈا نے جلدی سے کہا۔ ’’میرا خیال ہے اسے ابھی اس کا وقت ہی نہیں ملا۔ کزی امی!‘‘ اس نے فیصلہ کیا کہ یہ کام اسے خود ہی کرنا چاہیے۔ یوں بھی وہ جارج سے کہیں زیادہ جانتی تھی۔ کزی نے اسے سولہ سال تک مالک والر کے پاس رہنے اور پھر مالک لی کے ہاتھ بکنے کا واقعہ سنایا۔ اور اس نے اپنے افریقی باپ کی اور اس سے سنی ہوئی باتوں کا تذکرہ کیا۔ ’’مٹلڈا میں تمھیں کیا بتائوں۔ میں چاہتی ہوں کہ تم سب جان لو کہ تمھارا ایک پڑنا نا بھی تھا۔‘‘

’’میں سمجھتی ہوں امی جان!‘‘ مٹلڈا نے جواب دیا۔ وہ دونوں خود کو ایک دوسرے سے قریب محسوس کر رہی تھیں۔ 1828

کی بہار میں چکن جارج اور مٹلڈا کے بیٹا ہوا۔ زچگی کے فرائض بہن سارہ نے ادا کیے اور گھبرائی ہوئی کزی اس کا ہاتھ بٹاتی رہی۔ پوتے کی پیدائش کی خوشی نے اسے چکن جارج کی غیر حاضری کا غصہ بھی بھلا دیا جو کہ ہفتہ بھر سے مالک کے ساتھ گیا ہوا تھا۔ یہ مالک لی کے رقبے پر پیدا ہونے والا دوسرا بچہ تھا۔

’’اب آپ دادی بن گئی ہیں!‘کزی نے تکیوں کے سہارے بیٹھ کر کہا۔ اس نے بچے کو آغوش میں لیا ہوا تھا اور ہونٹوں پر کم زور سی مسکراہٹ تھی۔

’’شکر ہے خدا کا! سب کچھ خیریت سے ہو گیا!‘‘ کزی نے خوشی سے کھل کر کہا۔

’’لگتا ہے اب کزی بوڑھی ہو رہی ہے!‘‘ انکل پامپی نے شرارت سے کہا۔

’’کوئی بات نہیں ، عورتوں سے بھی زیادہ بوڑھے یہاں موجود ہیں۔‘‘ بہن سارہ تڑخ کر بولی۔

کچھ دیر سوچ کر مٹلڈا نے کہا۔ ‘‘ میں ان باتوں پر سوچ رہی تھی جو آپ نے اپنے ابو کے متعلق بتائی تھیں۔ میں نے تو اپنے باپ کو دیکھا بھی نہیں اور میرا خیال ہے کہ جارج کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہو گا اگر بچے کا نام میں اپنے والد کے نام پر رکھ دوں۔ امی نے بتایا تھا کہ ان کا نام ورجل تھا۔‘‘

یہ نام سنتے ہی جارج کو پسند آگیا۔ وہ سفر سے لوٹ آیا تھا اور بیٹے کی پیدائش پر پھولانہ سماتا تھا۔ اس نے بچے کو ہوا میں اچھال کر ماں سے کہا۔ ’’یاد ہے امی میں نے آپ سے کیا کہا تھا؟ یعنی جو آپ نے مجھے بتایا ہے وہ میں اپنے بچوں کو ضرور بتائوں گا۔‘‘ پھر وہ بیٹے کو گود میں لے کر آتش دان کے سامنے بیٹھ گیا اور اس سے کہنے لگا۔ ’’سنو لڑکے! میں تمھیں تمھارے پڑنانا کے بارے میں بتاتا ہوں۔ وہ افریقی تھے اور سنا ہے کہ ان کا نام کَنتا کِنتے تھا۔ وہ گٹار کو ’’کو‘‘ اور دریا کو ’’کیمبی بولو نگو‘‘ کہتے تھے۔ اس کے علاوہ بھی ہر شے کا افریقی نام ہوتا تھا۔

ایک بار وہ اپنے چھوٹے بھائی کے ڈھول کے لیے لکڑی کاٹ رہے تھے کہ چار آدمیوں نے انہیں پکڑ لیا۔ پھر ایک بڑے جہاز میں انہیں بڑے پانیوں کے پار ایک جگہ اینا پلس لایا گیا۔ انہوں نے چار بار فرار ہونے کی کوشش کی۔ لیکن جب ایک بار انہوں نے ایک گرفتار کرنے والے کو قتل کرنے کی کوشش کی تو ان کا بایاں پائوں آدھا کاٹ دیا گیا۔‘‘

اس نے شیر خوار کو اٹھا کر کزی کی طرف دیکھا۔’’پھر انہوں نے ایک بڑے گھر کی باورچن مس بیل کے ساتھ جھاڑو پھلانگی۔ ان کی ایک بیٹی ہوئی۔ اور وہ یہ ہیں۔ تمھاری دادی، جو تمھیں دیکھ کر مسکرا رہی ہیں۔‘‘ مٹلڈا بھی کزی کی طرح کھل کر مسکرا رہی تھی جس کی آنکھوں میں محبت اور فخر کی نمی تھی۔چوں کہ اس کا شوہر زیادہ تر باہر رہتا تھا اس لیے مٹلڈا زیادہ تر شام کا وقت دادی کزی کے ساتھ گزارنے لگی۔ کھانے سے پہلے مٹلڈا ہمیشہ دعا پڑھتی اورکزی ہاتھ باندھے سر جھکائے بیٹھی رہتی۔ بعد میں مٹلڈا بچے کو دادی کے حوالے کر دیتی۔

جو اسے سینے سے لگائے ہل ہل کر کوئی لوری یا گیت گنگنانے لگتی۔ اگرچہ مالک لی کو مطالعے پر کوئی اعتراض نہیں تھا لیکن کزی پھر بھی اسے پسند نہیں کرتی تھی۔ لیکن چوں کہ یہ انجیل تھی اس لیے کزی نے اعتراض نہیں کیا۔ بچے کے سونے کے بعد کزی بھی بڑبڑاتے ہوئے اونگھنے لگتی۔کبھی کبھی مٹلڈا کو اس کی بڑبڑاہٹ سمجھ آتی جو ہمیشہ ایک سے لفظوں پر مبنی ہوتی۔

’’امی،…ابو…مجھے ان سے بچا لو!… سب مجھ سے کھو گئے ہیں… اب وہ اس دنیا میں کبھی مجھے نہیں ملیں گے!‘‘ مٹلڈا کا دل بھر آتا تو وہ اس کے کان میں سرگوشی کرتی۔ ’’دادی کزی ،ہم سب تمھارے ہی لوگ ہیں۔‘‘ پھر ورجل کو بستر پر لٹا کر وہ محبت سے کزی کو اٹھاتی۔ جس سے وہ اب اپنی ماں کی طرح ہی پیار کرنے لگی تھی اور اسے اس کے کیبن میں چھوڑ آتی۔

پہلے پہلے اتوار کی سہ پہر صرف تین عورتیں مٹلڈا کے دعائیہ اکٹھ میں شریک ہوئیں۔ پھر بہن سارہ کے طعنوں نے انکل پامپی کو بھی شرکت پر مجبور کر دیا۔ لیکن کبھی کسی کو چکن جارج کو مدعو کرنے کا خیال نہیں آیا۔ وہ اتوار کی دوپہر تک ان کے ساتھ رہ کر مرغ خانے لوٹ جاتا۔

’’میں بھی یسوع مسیح سے بہت پیار کرتی ہوں!‘‘ کزی نے تائیدا ً کہا۔ ’’لیکن مجھے اس کے متعلق بڑا ہونے تک کچھ پتہ ہی نہیں تھا۔ میری ماں نے مجھے ایک کیمپ میٹنگ میں عیسائی بنایا تھا جب میں بہت چھوٹی تھی۔‘‘

’’میرا خیال ہے کہ ہمیں خدا کا تعارف اسی وقت کروانا چاہیے جب ہم بچے ہوتے ہیں۔‘‘ بہن سارہ نے دادی کی گود میں لیٹے ورجل کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ ‘‘ اس طرح ہم جلدی راہِ راست پر آجاتے ہیں۔‘‘

مس مالیزی نے انکل پامپی سے کہا۔ ’’اگر تم ذرا پہلے اس طرف آجاتے تو تم مبلّغ بن سکتے تھے۔ تمھاری تو شکل بھی ان سے ملتی ہے۔‘‘

’’اگر خدا تمھیں تبلیغ کے لیے چن لے تو بولنے کے لیے الفاظ بھی تمھارے میں خود ڈال دیتا ہے۔‘‘ مٹلڈا نے کہا۔

’’مجھے بھی ایک بوڑھی نوکرانی بہن بیسی یاد آگئی جو اس رقبے پر رہتی تھی جہاں میری پرورش ہوئی۔‘‘ مس مالیزی نے بتایا۔ ’’وہ بھی بہت چلّاتی تھی۔ وہ بنا شوہر کے ہی بوڑھی ہو چلی تھی۔ ‘‘

ایک بار چارلسٹن سے واپسی پر اس نے بتایا کہ ’’وہاں اتنے بڑے بڑے جہاز تھے اور نیگر چیونٹیوں کی طرح تمباکو اور دوسری چیزیں انگلینڈ جانے والے جہازوں پر لاد رہے تھے۔ آج کل تو میں اور مالک جہاں جاتے ہیں وہاں نیگر نہریں کھودتے، پکی سڑکیں بناتے نظر آتے ہیں اور ریل کی پٹڑیاں بچھاتے پائے جاتے ہیں۔ نیگر اپنے زور بازو سے یہ ملک تعمیر کر رہے ہیں!‘‘

ایک مرتبہ اس نے یہ بھی سنا کہ گورے لوگ انڈینز کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ وہ اپنے علاقوں میں نیگروئوں کو پناہ دینا چھوڑ دیں۔ کئی کریک اور سیمی نول لوگ نیگروئوں سے شادیاں بھی کرنے لگے ہیں۔ بلکہ بعض جگہ تو یہ نیگر ان انڈینز کے سردار بھی بن گئے ہیں۔

’’میں نے خود سے فیصلہ کر رکھا ہے کہ میں تم سے کبھی شکوہ شکایت نہیں کروں گی جارج!‘‘ ایک رات مٹلڈا نے اس سے کہا۔

’’مجھے پتہ ہے تم کیا کہنا چاہ رہی ہو۔‘‘ جارج نے تحمل سے جواب دیا۔’’مجھے بھی مالک کے ساتھ سفر کرتے ہوئے، یا کبھی رات رات بھر انکل منگو کے ساتھ کسی بیمار مرغے کی تیمارداری کرتے ہوئے، تمھارا اور بچے کا خیال آتا ہے۔‘‘

مٹلڈا اپنے شکوک کے اظہار سے رک گئی۔ پھر اس نے پوچھا۔ ’’کیا خیال ہے تمھارا، یہ حالات کبھی بہتر بھی ہوں گے، جارج ؟‘‘ ’’اگر کبھی مالک کافی امیر ہو گئے اور گھر پر وقت بتانے پر تیار ہوئے تو۔ لیکن اسے اتنا دل پر مت لو۔ یہ بھی تو دیکھو کہ میں جیتی ہوئی رقم کس طرح جمع کر رہا ہوں۔‘‘

’’پیسے تمھارا متبادل تو نہیں ہیں۔‘‘ مٹلڈا نے جواب دیا۔ پھر نرم لہجے میں بولی۔ ’’ہم اور بھی رقم بچا سکتے ہیں اگر تم ہر بار سب کے لیے تحفے خریدنے بند کر دو۔ تمھیں پتہ ہے کہ ہم سب کو اس سے خوشی تو ہوتی ہے لیکن اس طرح میں کبھی بھی ویسا اعلیٰ ریشمی جوڑا نہیں لے سکوں گی جیسا مالکن پہنتی ہیں۔‘‘

مٹلڈا نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اس سے اچھا ساتھی بھی کوئی اسے مل سکتا ہے۔ لیکن اسے اس پر بھروسا نہیں تھا۔ وہ اکثر سوچتی کہ کیا وہ واقعی اس سے اور بچے سے اتنی محبت کرتا ہے جتنی مالک کے ساتھ سفر کرنے سے کرتا ہے؟ انجیل میں کہیں مرغوں کا ذکر بھی ہے؟ پھر اسے دھندلا سا یاد آیا۔ میتھیو میں تھا۔ اگر وہ غلطی نہیں کر رہی تو… اچھا دیکھوں گی، اس نے خود سے کہا۔لیکن جب جارج گھر ہوتا تو وہ اپنی پریشانی بھلا کر ایک اچھی بیوی بننے کی کوشش کرتی۔ بہترین کھانا تیار کر رکھتی۔ یا اگر وہ دن یا رات میں کسی وقت اچانک آجاتا تو وہ فوراً کھانا بنانے میں مصروف ہو جاتی۔ وہ خود ہی دعا کر کے کھانا شروع کرتی ۔جارج کو کھانے کے دوران ورجل سے کھیلتے دیکھ کر خوش ہوتی۔ پھر ورجل کو سلا کر وہ پانی گرم کر کے جارج کا سر اور کمر دھوتی۔ اگر اس کے پائوں میں خارش ہوتی تو وہ بھنے ہوئے پیاز اور گھر کے بنے صابن سے انہیں رگڑ رگڑ کر صاف کرتی۔ جب ورجل پائوں پائوں چلنے لگا تو مٹلڈا ایک او ربچے کی ماں بننے والی تھی۔

دوسرے بچے کی پیدائش سے قبل کزی نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک دو باتیں، جو اس کے دل میں تھیں، اپنے بیٹے سے کہہ دے۔ ایک اتوار کی صبح جارج گھر آیا تو کزی اپنے پوتے کی دیکھ بھال کر رہی تھی اور مٹلڈا بڑے گھر میں آنے والے مہمانوں کے لیے کھانا بنانے میں مس مالیزی کا ہاتھ بٹا رہی تھی۔

’’ذرا میرے پاس بیٹھو!‘‘ اس نے وقت ضائع کیے بغیر کہا۔ ’’مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا کہ تم کتنے بڑے ہوگئے ہو۔ میں بہرصورت تمہاری ماں ہوں۔ اللہ نے تمہیں اتنی اچھی بیوی دی ہے اور تم اس کے ساتھ ٹھیک سلوک نہیں کر رہے۔ سن رہے ہو میری بات؟ ورنہ میں ابھی ڈنڈا اٹھا لوں گی۔ تمہیں اپنے بیوی بچے کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا چاہیے ۔‘‘ ’’آپ کیا کہہ رہی ہیں امی؟۔‘‘ اس نے چڑ کر کہا۔کزی نے غصے سے کہا۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

مالک ذرا بھی نہیں بدلے۔ ابھی تک سانپ کی طرح چالاک اور خطرناک ہیں۔۔۔یہ جان بوجھ کر ٹلڈا اور بچوں کا ذکر نہیں کر رہے۔۔۔مجھے انہیں غصہ دلانے ...

مزید پڑھیں

گھبرائی ہوئی مسز ایمیلی ہولٹ آگے بڑھیں تو اسے نچلی سیڑھی کے پاس اپنی بہترین خادمہ آئرین ایک ڈھیر کی صورت گری ہوئی نظر آئی۔’’کیا ہوا ...

مزید پڑھیں

اس بات سے کئی ماہ قبل اتوار کے روز مالک اور مالکن گرجاگھر سے لوٹے تو آتے ہی مٹلڈا کی طلبی کے لیے گھنٹی بجائی اور اسے کہا کہ ٹام کو پورچ میں ...

مزید پڑھیں