☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل سنڈے سپیشل رپورٹ کھیل خواتین کچن کی دنیا سفر نامہ دین و دنیا فیشن متفرق کیرئر پلاننگ ادب
اساس

اساس

تحریر : الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان

05-05-2019

اگلے روز انہوں نے سنجیدگی سے بتایا کہ ’’میں نے تمہارے لڑکے ٹام کو آ سکیو کے زرعی رقبے پر بھجوانے کا انتظام کر دیا ہے۔‘‘ جارج اتنا خوش ہوا کہ اس نے مالک کو اٹھا کر چکر دینے سے خود کو بہ مشکل روکا۔ اس کی ہنسی ایک کان سے دوسرے کان تک پھیلی ہوئی تھی۔’’ذرا سوچ سمجھ لینا جارج، صرف تمہارے کہنے پر میں نے آسکیو صاحب کو لڑکے کے متعلق یقین دہانی کروائی ہے۔ اگر اس نے کوئی گڑبڑ کی یا میرے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی تو میں اس کے ساتھ ساتھ تمہاری کھال بھی اتار لوں گا۔ سمجھے تم؟‘‘

’’وہ کبھی آپ کو شرمندہ نہیں ہونے دے گا۔ یہ میرا وعدہ ہے۔ وہ مجھ پر ہی گیا ہے۔‘‘ ’’اسی کا مجھے ڈر ہے۔ اس کا سامان باندھ کر صبح روانہ کر دو۔‘‘ مالک نے روکھی آواز میں کہا۔ ’’جی مالک۔ بہت مہربانی مالک۔ آپ کو اس فیصلے پر کبھی افسوس نہیں ہوگا۔‘‘مالک کے جاتے ہی چکن جارج نے غلام احاطے کی طرف دوڑ لگا دی تاکہ مٹلڈا اور کزی کو یہ خوش خبری سنائے کیوں کہ ان دونوں نے ہی اسے مالک سے یہ بات کہنے پر مجبور کیا تھا۔ دروازے پر پہنچ کر اس نے اونچی آواز میں پکارا۔’’ٹام! ٹام! ٹام کہاں ہو؟۔‘‘

’’جی پاپی!‘‘ کھلیان کی طرف سے اس کی آواز آئی۔ ’’ادھر آئو !‘‘لمحہ بھر بعد ٹام کا منہ بھی اس کی آنکھوں کی طرح پورا کھلا ہوا تھا۔ یہ ناقابل یقین خبر اس کے لیے غیر متوقع تھی۔ سب کی پرجوش مبارک باد سے سٹ پٹا کر ٹام باہر نکل گیا۔ اس کا مطلب تھا کہ اس کا خواب پورا ہونے جا رہا ہے۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس دوران اس کی چھوٹی بہنوں کزی اور میری نے یہ خبر سب بھائیوں کو پہنچا دی ہے۔ دس سالہ کزی اور آٹھ سالہ میری خبر پھیلانے کے بعد سائے کی طرح اس کے ساتھ لگی پھرتی تھیں۔ دادی کزی نے کہا ’’کوئی ہمیں اس طرح روتے اور بُس بُس کرتے دیکھے تو سمجھے کہ شاید ہم نے اس بچے کو ہمیشہ کے لیے رخصت کر دیا ہے۔‘‘

’’افوہ! اب اسے بچہ مت کہو!‘‘ بہن سارہ نے کہا’’اب ہمارا ٹام ایک مرد بن گیا ہے۔‘‘ نوماہ بعد ورجل’’یوم تشکر‘‘ پر مالک کی خصوصی اجازت سے ٹام کو واپس لایا۔ گھر کے قریب پہنچ کر ورجل نے چھکڑے کی رفتار تیز کر دی۔ ٹام نے جب ان سب لوگوں کو نومبر کی سرد سہ پہر میں باہر اپنا منتظر کھڑا دیکھا تو محبت سے اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے انہیں کتنا یاد کیا تھا! وہ اسے دیکھ کر خوشی سے ہاتھ ہلانے اور چلاّنے لگے۔ وہ اپنے ہاتھ سے ان کے لیے تحفے بنا کر لایا تھا۔ وہ چھکڑے سے اترا تو عورتیں اسے لپٹانے اور چومنے لگیں۔’’کتنا اچھا ہے… کتنا پیارا لگ رہا ہے!… دیکھو تو اس کے کندھے اور بازو کتنے بھر گئے ہیں!… ارے دادی، کچھ پیار دوسروں کے لیے بھی چھوڑ دو!… ارے اسے اتنا مت بھینچو۔ اسے سانس تو لے لینے دو!‘‘

ٹام کو اپنے دو چھوٹے بھائی جیمز اور لوئس نظر آئے جن کے چہرے پر حیرت اور محبت تھی۔ اسے اطلاع مل گئی تھی کہ ننھا جارج ابو کے ساتھ مرغی خانے جانے لگا ہے اور ایش فورڈ کو مالک نے شادی کرنے کی اجازت دے دی ہے۔پھر اس نے دیکھا کہ انکل پامپی اپنے کیبن کے باہر رضائی میں لپٹا کرسی پر بیٹھا ہے۔ جوں ہی ذرا گنجائش بنی ٹام نے فوراً جا کر اس سے ہاتھ ملایا۔ ’’مجھے یقین نہیں آ رہا کہ تم ہم سب سے ملنے آئے ہو لڑکے۔۔۔!‘‘

’’جی انکل پامپی! مجھے بھی گھر آ کر بہت خوشی ہوئی ہے۔‘‘

’’اچھا، اچھا، فارغ ہو کر میرے پاس آنا۔‘‘

ٹام کو اپنے جذبات پر قابو رکھنا مشکل ہو رہا تھا۔ ابھی وہ سولہ سال کا تھا اور پہلے کبھی اس سے یوں بڑوں والا سلوک نہیں ہوا تھا اور نہ شدید محبت اور احترام ہی ملا تھا۔ دونوں چھوٹی بہنیں پھر سائے کی طرح اس کے ساتھ ساتھ لگی پھرتی تھیں۔ پھر اسے دور سے ایک مانوس آواز سنائی دی۔

’’لوجی، مرغے خان بھی آگئے!‘‘ مٹلڈا نے کہا اور سب خواتین میز پر کھانا چننے لگیں۔جب چکن جارج غلام احاطے میں داخل ہوا تو ٹام کو دیکھ کر اس کا چہرہ کھل اٹھا۔ ’’ارے یہ کون بھاگ کر گھر آیا ہے؟‘‘ اس نے زور سے ٹام کے کندھے تھپک کر کہا۔’’کچھ پیسے ویسے بھی کمانے لگے ہو کہ نہیں؟‘‘

’’نہیں، ابھی نہیں پاپی۔‘‘ ’’تم کیسے لوہار ہو جو ابھی تک پیسے نہیں کماتے؟‘‘ جارج نے ہنس کر پوچھا۔

’’چھوٹا جارج کھانے پر نہیں آ رہا؟‘‘ اس نے پوچھا۔

’’ہو سکتا ہے وہ آخری وقت پر آ جائے اور ہو سکتا ہے نہ آئے۔‘‘

چکن جارج نے کہا’’وہ بہت سست الوجود ہے، میں نے اسے کہا ہے کہ جب تک کام مکمل نہ ہو اپنی شکل یہاں لے کر مت آنا۔‘‘ چکن جارج ان سے انکل پامپی کی طرف مڑا ’’آپ کو کیبن سے باہر دیکھ کر بہت خوشی ہوئی انکل پامپی کیسی طبیعت ہے؟‘‘

’’خراب، بیٹے، بہت خراب۔ بڑھاپا کم بخت خود ایک عذاب ہے۔‘‘

’’کہیں مجھے یہ بیماری نہ لگا دینا۔‘‘ چکن جارج نے ہنس کر کہا اور ٹام کی طرف متوجہ ہو کر بولا۔’’انکل پامپی جیسے چھپکلی نما نیگر سو سو سال جیتے ہیں۔ تمہارے پیچھے یہ دو تین بار بیمار ہوا تھا اور عورتوں نے اس کے کفن دفن کی تیاری شروع کر دی لیکن یہ پھر بھلا چنگا ہوگیا۔‘‘ وہ تینوں اس بات پر ہنس ہی رہے تھے کہ دادی کزی کی تیز آواز آئی۔’’پامپی کو بھی میز پر لے آئو!‘‘ درخت کے نیچے ایک لمبی میز لگائی گئی تھی تاکہ سب مل کر’یوم تشکر‘ کے کھانے کا لطف لے سکیں۔ جیمز اور لوئیس، انکل پامپی کی کرسی اٹھا لائے اور بہن سارہ ان کے پیچھے ہدایات دیتی ہوئی آئی۔ ’’گرامت دینا اسے۔ ابھی وہ اتنا بوڑھا نہیں ہوا کہ تمہاری کھال نہ ادھیڑ سکے!‘‘ چکن جارج نے آواز لگائی۔سب بیٹھ چکے۔ اگرچہ مرکزی نشست پر تو چکن جارج ہی بیٹھا تھا لیکن مٹلڈا نے ٹام سے کہا ’’بیٹے دعا کروائو!‘‘ ٹام کو پہلے اندازہ ہی نہیں تھا کہ یہ ذمہ داری اس پر ڈالی جائے گی ۔اس نے کہنا شروع کر دیا۔

’’ اے آقا! ہم باپ، بیٹے اور روح القدس کے نام پر استدعا کرتے ہیں کہ یہ خوراک جو ہم کھانے والے ہیں ہمارے لیے بابرکت بنا دے، آمین۔‘‘

’’آمین… آمین!‘‘ میز سے آوازیں آئیں۔ پھر مٹلڈا، دادی کزی اور بہن سارہ کھانا لا لا کر سب کو پیش کرنے لگیں اور پھر خود بھی کھانے میں شریک ہوگئیں۔ کچھ منٹ تک مکمل خاموشی رہی جس میں تعریفی ’’ہوں‘‘ اور چٹخاروں کے علاوہ کوئی آواز نہیں تھی۔ کچھ دیر بعد مٹلڈا نے دوبارہ ٹام کی طرف توجہ مبذول کی اور اس کا گلاس لسی اور پلیٹ بوٹیوں سے بھرنے لگی۔ ساتھ ساتھ اس سے سوالوں کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔

’’وہاں تمہیں کچھ ڈھنگ کا کھانے کو بھی دیتے ہیں؟ تمہارے لیے پکاتا کون ہے؟‘‘ مٹلڈا نے پوچھا۔

ٹام نے لقمہ چبا کر نگلا پھر بولا’’مسٹر ایسا یاہ کی بیوی مس ایما۔‘‘ ’’کس رنگ کی ہے؟ کیسی دکھائی دیتی ہے؟‘‘ کزی نے پوچھا۔ ’’کالی ہے اور تھوڑی سی موٹی۔‘‘

اس کا پیٹ بھر چکا تھا لیکن اس کے مسلسل انکار کے باوجود اس کی پلیٹ بھرنے کا سلسلہ جاری تھا۔ اس نے بھرے منہ سے بمشکل کہا’’کچھ ننھے جارج کے لیے بھی بچا لیں۔‘‘

’’اس کے لیے بھی ہے۔ تمہیں پتہ ہی ہے۔‘‘ مٹلڈا نے کہا ’’یہ تلے ہوئے خرگوش کی بوٹی لو… اور تھوڑا سا یہ بھی اور مالیزی نے بڑے گھر والوں کے لیے بنے میٹھے ٹارٹس بھیجے ہیں، دیکھو یہ کتنے مزے کے ہیں۔۔۔۔‘‘ٹام ابھی کسٹرڈ میں کانٹا ڈالنے ہی لگا تھا کہ انکل پامپی نے گلا صاف کیا اور سب خاموش ہوگئے۔پھر سب ایک مبلغ کی باتیں کرنے لگے،

دادی کزی اپنی نشست سے اچھل کر کھڑی ہوئی اور نقل کرتے ہوئے بولی۔ ’’میں چاہتی ہوں کہ اب شمال بھی جاگ اٹھے۔‘‘ اس نے یوں تقریر کی جیسے اس کے سامنے بہت سے سامعین ہوں۔

’’اے سفید فامو! کزی کی بات کان کھول کر سنو۔ اب یہ بدتمیزی اور نہیں چلے گی۔ ہم نیگر اس غلامی سے تنگ آ چکے ہیں!‘‘ ’’امی، لوگ کہتے ہیں کہ وہ عورت چھے فٹی ہے۔ آپ اتنی لمبی نہیں ہیں!‘‘

چکن جارج نے قہقہہ لگا کر کہا جس پر سب نے اسے دیکھنا شروع کر دیا۔ دادی کزی شرمندگی سے اپنی نشست پر بیٹھ گئی۔ٹام نے انہیں ایک اور بچ نکلنے والی غلام عورت کا بتایا۔

’’اس کا نام ہیرئیٹ ٹبمین ہے۔ وہ لاتعداد مرتبہ جنوب میں آکر ہم جیسے لوگوں کے گروہ کے گروہ نکال کر شمال لے جاتی ہے۔ کسی زیر زمین ریل روڈ سے، کہتے ہیں اس نے یہ کام اتنی بار کیا ہے کہ گوروں نے اس کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر چالیس ہزار ڈالر انعام رکھ دیا ہے۔‘‘

’’میرے خدایا! میں نے تو کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ گورے دنیا میں کسی نیگر کی اتنی قیمت بھی لگا سکتے ہیں!‘‘ بہن سارہ نے کہا۔ ٹام نے مزید بتایا کہ کسی دورافتادہ ریاست کیلی فورنیا میں دو سفید فام کھدائی کر رہے تھے کہ ان کی زمین سے سونا نکل آیا۔ اس خبر کا پھیلنا تھا کہ ہزاروں لوگ ویگنوں اور خچروں پر حتیٰ کہ پیدل بھی اس طرف بھاگنے لگے ۔ آخر میں اس نے بتایا کہ شمال میں غلامی کے موضوع پر سٹیفن ڈگلس اور ابراہم لنکن کے مابین عظیم الشان مباحثے ہوتے رہتے ہیں۔

’’ان میں سے نیگروئوں کے حق میں کون ہے؟‘‘ دادی کزی نے پوچھا۔

’’جہاں تک میرا خیال ہے مالک لنکن نیگروئوں کے حق میں ہیں۔‘‘ ٹام نے جواب دیا۔

’’شکر ہے، خدا اسے ہمت دے!‘‘ کزی نے کہا۔

چکن جارج اپنے ہونٹ چاٹتا اور پیٹ پر ہاتھ پھیرتا اٹھا اور ٹام کی طرف مڑ کر بولا۔’’کیا خیال ہے لڑکے، کیوں نہ تھوڑی سی چہل قدمی ہو جائے ؟‘‘

’’جی پاپی!‘‘ ٹام نے لڑکھڑاتی زبان سے کہا۔ وہ اپنی حیرت چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے معمول کے مطابق نظر آنے کی کوشش کر رہا تھا۔خواتین بھی کچھ حیران تھیں۔ انہوں نے سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور وہ دونوں سڑک پر چلنے لگے۔ بہن سارہ نے آہستگی سے کہا۔’’تم نے دیکھا لڑکا قد میں اپنے باپ کے برابر ہوگیا ہے۔‘‘ جیمز اور لوئیس نے حسد سے بھائی کی طرف دیکھا۔ لیکن ساتھ جانے کی جرأت نہیں کی لیکن دونوں چھوٹی کزی اور میری نہ رہ سکیں اور ان سے چند قدم پیچھے اچھل اچھل کر چلنے لگیں۔ بنا پلٹ کر دیکھے چکن جارج نے حکم دیا۔ ’’واپس جائو اور اپنی ماں کا ہاتھ بٹائو!‘‘

’’اوں پاپی!‘‘ دونوں بہ یک آواز منمنائیں۔ ’’جوکہا ہے، فوراً کرو!‘‘

آدھا مڑ کر ٹام نے محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے ان سے کہا۔’’تم نے پاپی کی بات نہیں سنی؟ ہم آ کر تم سے ملتے ہیں۔‘‘ دونوں خاموشی سے کچھ دور تک چلتے رہے پھر چکن جارج نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔’’میرا خیال ہے کہ تم سمجھ تو گئے ہوگے کہ کھانے کے دوران میں تمہیں صرف تنگ کر رہا تھا۔‘‘

’’جی جی، کیوں نہیں۔‘‘ ٹام پریشان تھا کہ والد کی یہ معذرت کیا معنیٰ رکھتی ہے۔ ’’مجھے پتہ تھا آپ مجھے تنگ کر رہے ہیں۔‘‘ چکن جارج بڑبڑایا۔’’ کہتے ہیں ہمیں مرغوں کے سوا کسی شے کی خبر ہی نہیں ہے؟ تمہیں کچھ اندازہ ہے کہ ننھے جارج نے آنے میں اتنی دیر کیوں کی؟ وہ یقیناً یوم تشکر منانے کے لیے اب تک کئی مرغے بھون کر کھا چکا ہوگا۔‘‘

ٹام ہنس دیا۔’’ننھا جارج بہت اچھا ہے بس ذرا سست ہے۔ اس نے مجھے بتایا ہے کہ اسے مرغ اتنے اچھے نہیں لگتے جتنے آپ کو لگتے ہیں۔‘‘یہ کہہ کرٹام چپ کر گیا۔ پھر حوصلہ کرکے بولا۔ ’’میرا خیال ہے دنیا میں کوئی اور مرغوں سے آپ جتنا پیار نہیں کرتا۔‘‘ ’’خیر کم ازکم تم اور میں اس کام سے پیسے کما رہے ہیں جو ہمیں پسند ہے۔‘‘ چکن جارج نے کہا۔

ٹام نے جواب دیا۔’’جی ،میں تو ابھی دو سال تک پیسے نہیں کما سکوں گا جب تک یہ شاگردی ختم کرکے مالک کے لیے کام شروع نہیں کرتا۔ وہ بھی تب اگر وہ مجھے کچھ پیسے دیں جیسے آپ کو چھوٹی مرغ بازیوں پر دیتے ہیں۔‘‘

’’کیوں نہیں، ضرور دیں گے۔‘‘ چکن جارج نے کہا۔’’مالک اتنے برے نہیں ہیں جتنا تم، تمہاری ماں، دادی اور دوسرے سمجھتے ہیں۔ ان کا اپنا ایک انداز ہے۔ تمہیں صرف مالک کا مثبت پہلو ڈھونڈنا ہوتا ہے جیسے میں کرتا ہوں۔ انہیں صرف یقین دلاتے رہو کہ تم انہیں اعلیٰ مالکوں میں شمار کرتے ہو جو اپنے نیگروئوں سے اچھا سلوک کرتے ہیں۔‘‘

چکن جارج کہتے کہتے رکا۔’’وہ مالک آسکیو، جہاں تم کام کرنے جاتے ہو، کچھ اندازہ ہے کہ وہ اپنے نیگر لوہار کو کتنے پیسے دیتے ہیں؟‘‘

’’میرا خیال ہے کہ ایک ڈالر فی ہفتہ۔‘‘ ٹام نے بتایا۔’’میں نے ایک دن صاحب کی بیوی کو کہتے سنا تھا کہ وہ ایک ایک پینی جوڑ کر رکھتی ہے۔‘‘

’’مرغ بازی میں تو ایک منٹ سے بھی کم وقت میں اس سے زیادہ پیسے جیتے جا سکتے ہیں۔‘‘ چکن جارج نے کہا لیکن پھر رک گیا۔ ’’خیر واپس آئو گے تو مالک سے پیسوں کا معاملہ طے کرنا مجھ پر چھوڑ دینا۔ میں انہیں بتائوں گا کہ مالک آسکیو اپنے نیگر کے ساتھ کتنا گھٹیا سلوک کرتے ہیں۔‘‘

’’جی؟‘‘ چکن جارج اپنے بیٹے سے ایک عجیب سی محبت اور وابستگی محسوس کر رہا تھا۔ یہ نہیں تھا کہ باقی پانچ کے ساتھ کوئی خرابی تھی لیکن پھر بھی ٹام کے اندر ذمہ داری کا عنصر زیادہ تھا۔ اگرچہ وہ سبز سکارف اور کالے ڈربی والی طبیعت کا تو نہیں تھا۔ پھر بھی اس کی شخصیت میں ایک مضبوطی اور پائیداری جھلکتی تھی۔

وہ کچھ دیر خاموشی سے چلتے رہے پھر چکن جارج نے یک دم کہا۔ ’’کبھی تم نے اپنے لیے لوہار کا کام کرنے کا سوچا ہے؟‘‘ ’’کیا مطلب آپ کا؟ بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے پاپی؟‘‘

’’کبھی تم نے سوچا کہ جو پیسے تم کمائو انہیں بچا کر تم آزادی خرید لو؟‘‘ ٹام کو ہکا بکا دیکھ کر چکن جارج بنا رکے بولتا رہا۔ ’’کچھ سال پہلے، جب ننھی کزی پیدا ہوئی تھی میں اور تمہاری ماں حساب کرتے رہے تھے کہ ہمارے پورے گھرانے کو آزاد کروانے کی قیمت کیا ہوگی؟ ان دنوں میں نیگروئوں کی قیمت کے مطابق وہ تقریباً اڑسٹھ سو ڈالر بنی تھی۔‘‘

’’اوہ!‘‘ ٹام نے سر ہلایا۔ ’’دھیان سے سنو!‘‘ جارج نے کہا۔ ’’ہے تو یہ بہت بڑی رقم، لیکن تب ہی سے میں دن رات چھوٹی مرغ لڑائیوں میں جٹا ہوا ہوں اور تمہاری ماں میری جیت کی رقم مسلسل جوڑ رہی ہے۔ اگرچہ میں اتنا تو نہیں جیتا جتنا مجھے توقع تھی۔ لیکن اس بات کی میرے اور تمہاری ماں کے سوا کسی کو خبر نہیں ہے اور اب تم بھی جان گئے ہو۔ اس نے ہزار ڈالر سے زیادہ رقم مرتبانوں میں ڈال کر پچھلے صحن میں چھپا رکھی ہے۔‘‘

’’غور سے سنو، بیٹا!‘‘ چکن جارج کے لہجے میں عجلت تھی۔ ’’اگر میں پہلے کی طرح مزید کچھ موسم جیتتا رہا تو تمھارے مالک کے لیے کام شروع کرنے تک میں تین چار سو ڈالر اور بچالوں گا۔‘‘

ٹام دل چسپی سے سر ہلا رہا تھا۔’’اور پاپی ہم دونوں کے کام کرنے سے امی پانچ چھے سو ڈالر سالانہ بچا سکتی ہیں!‘‘ ٹام نے پرجوش انداز میں کہا۔

’’ہاں!‘‘ چکن جارج نے کہا’’اور اس شرح سے، غلاموں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر، ہمارے پاس اتنی رقم ہونی چاہیے کہ ہم پورے گھر کو آزاد کروا سکیں۔۔۔ اب دیکھتے ہیں کہ یہ کیسے ہوگا…؟‘‘ دونوں نے اپنی انگلیوں پر حساب لگانا شروع کیا، کچھ دیر بعد ٹام بولا۔’’تقریباً پندرہ سال!‘‘ ٭٭٭

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

یہ سب سوچ کر میرا دماغ گھومنے لگا۔ اتنے میں ہم ایک نسبتاً بڑے گائوں میں پہنچ گئے۔مجھے اندازہ ہوا کہ جو کچھ جفورے میں ہوا تھا اس کی خبر یہا ...

مزید پڑھیں

انہوں نے مجھے ایسی بات بتائی جو میرے سان گمان میں بھی نہیں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اندرون ملک کے قدیم دیہاتوں میں اب بھی ایسے بوڑھے ہوتے ہی ...

مزید پڑھیں

میں جارج اور جولیئس گرمیوں میں نانی جان کے پاس ہنینگ چلے جاتے۔ لیکن نانا اور ماما کی وفات نے انہیں اداس اور دکھی کر دیا تھا۔ وہ فرنٹ پورچ ...

مزید پڑھیں