☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل سپیشل رپورٹ دنیا اسپیشل دین و دنیا کچن کی دنیا فیشن کھیل خواتین متفرق کیرئر پلاننگ ادب
’’ہم آپ سے اپنے بچوں کو خرید لیں گے‘‘

’’ہم آپ سے اپنے بچوں کو خرید لیں گے‘‘

تحریر : الیکس ہیلی

05-12-2019

’’تم نے اتنی جلدی گنتی کہاں سے سیکھ لی؟ ‘‘ ’’پاپی، آپ دیکھیے گا میں لوہار کا کام کیسے کرتا ہوں۔ لیکن اب ہمیں اس وقت کیا کرنا چاہیے؟‘‘ ’’ہم دونوں مل کر سب کر لیں گے۔‘‘جارج نے خوش ہو کر کہا۔’’ بس اس گھرانے کو کہیں پہنچا لیں۔ پھر ہم شمال چلے جائیں گے۔ وہاں ہمارے بچے اور پوتے پوتیاں آزاد پلے بڑھیں گے۔ جیسا کہ ہونا چاہیے۔

کیا خیال ہے تمہارا؟‘‘ دونوں بے حد جذباتی ہو رہے تھے اور دونوں نے جذبات کی شدت سے ایک دوسرے کو کندھوں سے پکڑ رکھا تھا۔ اسی دوران انہیں دور سے ننھا جارج بھاری قدموں سے تیز چلتا نظر آیا جو ٹام کو آوازیں دے رہا تھا۔ ’’ٹام! ٹام!‘‘ اس کے چہرے پر بھی بڑی سی مسکراہٹ تھی۔ وہ پھولی ہوئی سانس کے ساتھ ان تک پہنچا اور ٹام سے ہاتھ ملا کر اس کی پیٹھ تھپکی اور رک کر سانس بحال کرنے لگا۔ پسینے سے اس کے پھولے ہوئے گال چمک رہے تھے۔ ’’خوشی ہوئی… تمہیں دیکھ… کر ٹام!‘‘ اس نے بمشکل کہا۔

’’آرام سے میرے بچے!’’چکن جارج نے کہا’’ورنہ تم میں کھانے کے لیے گھر جانے کی طاقت بھی نہیں رہے گی۔‘‘ ’’اس کے… لیے میں کبھی…نہیں… تھکتا…پاپی!‘‘ ’’تو تم یوں کرو کہ چل کر کھانا شروع کرو۔ ہم بھی وہیں آتے ہیں۔‘‘ ٹام نے کہا’’میں اور پاپی کوئی بات کر رہے ہیں۔‘‘ ’’ٹھیک ہے… پھر…گھر پر… ملیں گے۔‘‘ ننھے جارج نے کہا اور مزید حوصلہ افزائی نہ پا کر گھر کی طرف چل پڑا۔

’’جلدی جانا!‘‘ چکن جارج نے عقب سے آواز لگائی۔’’پتہ نہیں تمہاری ماں بچا ہوا کھانا باقیوں سے کتنی دیر بچا پائے گی؟‘‘ ننھے جارج کو ایک دم سرپٹ دوڑتا دیکھ کر دونوں تب تک ہنستے رہے جب تک وہ نظر سے اوجھل نہیں ہوگیا۔’’بہتر ہے کہ ہم آزادی کے لیے سولہ سال کا عرصہ ذہن میں رکھیں۔‘‘ چکن جارج نے لمبا سانس لے کر کہا۔ ’’ایک سال زیادہ کیوں؟‘‘ ’’کیوں کہ ایک سال کی بچت کے برابر تو یہ لڑکا ہی کھا جائے گا۔‘‘ اگلے چھے ہفتے چکن جارج اور مالک لی پورے رقبے پر کسی کو شاذہی نظر آئے ہوں گے۔

’’اچھی بات یہ ہے کہ مالک زیادہ ترمرغوں کے ساتھ ہی رہ رہے ہیں۔ کیوں کہ مالکن کا دماغ بہت گھوما ہوا ہے۔‘‘ مس مالیزی نے تیسرے ہفتے کے اختتام پر غلام احاطے والوں کو بتایا ’’مالکن اس بات پر پاگل ہو رہی تھیں کہ مالک نے بنک سے پانچ ہزار ڈالر نکلوائے ہیں۔ میں نے انہیں یہ کہتے سنا ہے کہ یہ ان کی زندگی بھر کی کمائی تھی۔ وہ بہت سیخ پا ہیں کہ مالک اپنے سے کئی گنا دولت مندوں کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو برباد کر رہے ہیں۔ مالک انہیں بکواس بند کرنے اور اپنے کام سے کام رکھنے کا کہہ کر گھر سے نکل گئے۔‘

‘ مس مالیزی نے انہیں بتایا۔ مٹلڈا اور بائیس سالہ ٹام سنجیدگی سے بیٹھے سنتے رہے۔ ٹام نے چار سال پہلے آ کر اپنی لوہار کی دکان بنا لی تھی اور اب گاہکوں کی بڑی تعداد سے مالک کے لیے پیسے کما رہا تھا۔ غصے سے پھٹتے ہوئے مٹلڈا نے ٹام کو بتایا کہ چکن جارج بھی اس کی جمع پونجی سے دو ہزار ڈالر نکال کر لے گیا ہے۔ جو وہ مالک کو دے کر لی کے مرغوں پر شرطیں بدنے والا تھا۔

مٹلڈا نے رودھوکر، چیخ چلا کر جارج کو سمجھانے کی کوشش کی۔ ’’مگر وہ تو جیسے پاگل ہو چکا تھا۔‘‘ اس نے ٹام کو بتایا۔’’الٹا مجھے کہنے لگا۔ احمق عورت! میں مرغوں کو انڈے میں ہی پہچان لیتا ہوں۔ اپنی جوڑی ہوئی رقم کو پلک جھپکتے میں دوگنا کرنے کا اس سے سنہرا موقع نہیں ملے گا۔ دو منٹ کی لڑائی ہمیں آٹھ نو سال تک پینی پینی جوڑنے سے بچا سکتی ہے۔ جو ہم آزادی حاصل کرنے کے لیے کب سے جوڑ رہے ہیں۔

‘‘ ’’مجھے پتہ ہے آپ نے پاپی کو یہ بھی بتایا تھا کہ اگر وہ ہار گئے تو ساری بچت نئے سرے سے کرنا پڑے گی۔’’ٹام نے جواب دیا۔ ’’صرف بتایا ہی نہیں بل کہ ہاتھ بھی جوڑے کہ اسے ہماری آزادی کے ساتھ جواء نہیں کھیلنا چاہیے۔ لیکن وہ تو پاگل ہوگیا۔بولا، ہم ہار ہی نہیں سکتے۔ تم پیسے میرے حوالے کرو!‘‘ چنانچہ مٹلڈا نے یہ ہی کیا تھا۔مرغی خانے میں مالک لی اور چکن جارج نے سترہ بہترین مرغوں میں سے دس کا انتخاب کیا۔ پھر ان کی ہوائی تربیت شروع ہوئی۔ انہیں بار بار اتنا اونچا اچھالا گیا کہ آخر ان میں سے آٹھ زمین پر پائوں لگنے سے پہلے آٹھ گز تک اڑنے لگے۔

’’لگتا ہے ہم جنگلی ٹرکیوں کی تربیت کر رہے ہیں مالک!‘‘ جارج نے ہنس کر کہا۔ ’’انہیں جیوٹ اور اس انگریز کے مرغوں کے مقابلے میں عقاب بنانا ہے۔‘‘ مالک نے جواب دیا۔ جب بڑی لڑائی میں صرف ایک ہفتہ رہ گیا تو مالک گئے اور اگلے روز چھے جوڑے بہترین سویڈش خار کے لے آئے۔ ان کی طوالت اور تیکھا پن سوئی جیسا تھا۔لڑائی سے دو دن پہلے مرغے اتنے اعلیٰ تیار تھے کہ ان میں سے پانچ کا چنائو مشکل ہوگیا۔ لہٰذا مالک نے آٹھوں لے جانے اور چنائو کا فیصلہ آخری لمحے پر کرنے کا فیصلہ کیا۔رات بھر کا سفر معمول کا تھا۔

راہ میں چکن جارج ویگن پر لگی لالٹین کو گھورتے ہوئے مٹلڈا کے ساتھ پیسوں کے مسئلے پر ہونے والی چپقلش کے متعلق سوچتا آیا۔ اس نے غصے سے سوچا کہ وہ مٹلڈا سے بہتر جانتا ہے کہ کتنے برسوں کی صبر آمیز بچت سے اتنے پیسے جڑتے ہیں۔ آخر اس نے یہ پیسے اپنی چھوٹی مرغ بازیوں سے ہی تو کمائے تھے۔ مٹلڈا ایک اچھی بیوی تھی اور اسے مٹلڈا کے ساتھ اونچا بولنے پر دکھ تھا۔

یہ سوچ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی کہ جب اس نے مالک کو بتایا تھا کہ وہ دو ہزار ڈالر لایا ہے تاکہ مالک اس کی طرف سے بھی شرط بد سکیں تو مالک کتنا خوش ہوئے تھے اور اس کا ہاتھ دبا کر بولے تھے کہ چکن جارج کو اپنی رقم سے جیتی ہوئی شرط کی ایک ایک پینی ضرور ملے گی۔ انہوں نے کہا ’’تمہاری رقم دوگنی ہونی چاہیے۔‘‘ پھر وہ ذرا ہچکچائے اور پوچھا’’تم چار ہزار ڈالر کا کرو گے کیا؟‘‘ عین اس لمحے چکن جارج نے زندگی کا سب سے بڑا جواء کھیلنے کا فیصلہ کیا اور مالک کو بتایا کہ کیوں وہ اتنی محنت سے پیسے جوڑ رہا ہے۔

’’مجھے غلط نہ سمجھیے گا مالک میرے دل میں آپ کی بہت قدر ہے۔ لیکن میں نے اور مٹلڈا نے سوچا ہے کہ ہم آپ سے خود کو اور اپنے بچوں کو خرید لیں اور زندگی کے باقی دن آزادی سے گزاریں!‘‘مالک کو ہکا بکا دیکھ کر اس نے پھر منت کی۔ ’’مالک مہربانی کرکے ہمیں غلط مت سمجھیے گا۔۔۔۔‘‘ اور پھر چکن جارج کو زندگی کا بہترین تجربہ ہوا جب مالک نے کہا’’میں تمہیں بتانے ہی والا تھا کہ جس مرغوں کی لڑائی پر ہم جا رہے ہیں اس کے متعلق میرے ذہن میں کیا ہے۔

میرا نہیں خیال کہ تمہیں احساس ہوگا کہ میں اٹہتر سال کا ہوگیا ہوں اور پچھلے پچاس سال سے میں مرغ بازی کے لیے بھاگا پھر رہا ہوں۔ اب میں اس سے تنگ آگیا ہوں۔ سنو میں اصل شرط اور جزوی شرطوں سے اتنی رقم جیتنے کی امید رکھتا ہوں کہ اپنے اور اپنی بیوی کے لیے نیا گھر تعمیر کر سکوں۔ اتنا بڑا نہیں جتنے بڑے کی میں باتیں کیا کرتا تھا۔ بس پانچ چھے کمروں کا۔ لیکن نیا نکور اور تمہارے کہنے سے پہلے مجھے بھی خیال نہیں آیا تھا کہ پھر مجھے نیگروئوں کی اتنی بھیڑ کی ضرورت نہیں رہے گی۔

سارہ اور مالیزی باورچی خانے اور باغیچے کی دیکھ بھال کے لیے کافی ہوں گی اور بینک میںاتنے پیسے ہوں گے کہ مجھے کسی سے مانگنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔۔۔۔‘‘ چکن جارج کا سانس رک گیا تھا۔ مالک لی نے بات جاری رکھی۔’’اب سنو میں کیا کہنے والا ہوں! تم سب نے میری بہت خدمت کی ہے اور کبھی کوئی خاص پریشانی پیدا نہیں کی۔ اگر ہم یہ لڑائی جیت گئے۔ کم ازکم ہماری رقم سے دو گنا، ٹھیک ہے تو جو تمہارے پاس ہو مجھے دے دینا۔ میرا مطلب ہے چار ہزار اور ہمارا حساب بے باک! تم خود بھی جانتے ہو کہ تم سب کی مالیت اس سے کم ازکم دگنی بنتی ہے اور تمہیں پتہ نہیں ورنہ اس دولت مند جیوٹ نے ایک بار مجھے چار ہزار کی پیشکش کی تھی، صرف تمہارے لیے اور میں نے انکار کر دیا تھا۔

جی، اگر تم آزاد ہونا چاہتے ہو تو ٹھیک ہے!‘‘ آنکھوں میں آنسو لیے چکن جارج نے مالک سے بغل گیر ہونے کی کوشش کی جو گھبرا کر ایک طرف کو ہوگئے۔ ’’اوہ خدایا، مالک! آپ نہیں جانتے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں! ہم واقعی آزاد ہونا چاہتے ہیں!‘‘ مالک نے بھی عجیب سی بھرائی ہوئی آواز میں جواب دیا۔ ’’پتہ نہیں تم نیگر آزاد ہو کر کرو گے کیا؟ جب کہ کوئی تمہارا دھیان رکھنے والا بھی نہیں ہوگا اور پتہ نہیں میری بیوی، تم سب کو چھوڑنے پر، گھر میں کتنا ہنگامہ کرے گی۔ ارے وہ لڑکا ٹام ہی اکیلا پچیس سو ڈالر سے زیادہ مالیت کا ہے، جمع اس رقم کے جو وہ لوہے کے کام سے کما کر مجھے دیتا ہے۔

‘‘ مالک نے چکن جارج کو دھکیلا۔’’چلو نیگر! اس سے پہلے کہ میں اپنا ارادہ بدل لوں۔ شاید میرا دماغ ٹھکانے نہیں رہا۔ لیکن تمہارے بیوی، ماں اور دوسرے یہ تو مانیں گے کہ میں اتنا برا نہیں ہوں جتنا وہ سب سمجھتے تھے۔‘‘ ’’نہیں مالک بالکل نہیں۔‘‘ اور بگھی بڑے گھر کے راستے پر دوڑنے لگی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ مٹلڈا، امی اور دوسروں سے یہ خبر آخری وقت تک چھپائے رکھے گا۔ کئی بار ٹام کے سامنے یہ بات اس کے ہونٹوں پر آ کر رہ گئی۔ اگرچہ ٹام ایک قابل بھروسہ آدمی تھا لیکن امکان تھا کہ وہ ماں اور دادی سے قربت کی بناء پر انہیں یہ راز بتا دیتا اور پھر سارا مزہ جاتا رہتا۔

دوسرے اس سے بہن سارہ، مس مالیزی اور انکل پامپی کا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوتا جو مالک کے بقول پیچھے رہنے والے تھے۔ حالآنکہ وہ بھی ان کے لیے گھر کے لوگوں کی طرح تھے۔چنانچہ آخری ہفتوں میں یہ راز دل میں چھپائے چکن جارج دل و جان سے آٹھوں مرغوں کو بہترین تربیت دیتا رہا تھا جو اب ان کے ساتھ تھے اور نئی ویگن خالی اور تاریک سڑک پر دوڑ رہی تھی۔ وقفے وقفے سے جارج کو خیال آتا کہ مالک اس وقت کیا سوچ رہے ہوں گے؟صبح پوپھٹے وہ اس مقام پر پہنچے تو وہ پہلے ہی کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ ہر طرف لوگ ہی لوگ تھے اور قریب چراگاہ میں دوسری ویگنیں، گاڑیاں، بگھیاں، چھکڑے اور خچر، گھوڑے کھڑے تھے۔چکن جارج نے کبھی مرغوں کا ایسا غلغلہ نہیں سنا تھا۔

پاس سے گزرتے ایک غلام نے بتایا کہ لوگ دوسری ریاستوں سے کئی کئی دنوں کا سفر کرکے یہاں پہنچے ہیں۔ بعض تو فلوریڈا جیسی دور افتادہ ریاست سے بھی پہنچے ہیں۔ یہ شوروغل اس وقت مزید بڑھ گیا جب تینوں تشریف لائے اور پیمائش کرکے لائنیں لگانے لگے۔ اسی دوران کسی کا مرغا چھوٹ گیا اور تماشائیوں پر حملہ آور ہوگیا۔ اس نے راہ میں کھڑے ایک کتے کو بھی چیائوں چیائوں کرکے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔

بڑی مشکل سے اسے قابو کیا گیا۔ جب بھی کوئی مشہور مرغ باز آتا تو لوگوں میں ایک شور اٹھتا۔ خصوصاً آخری آٹھ مرغ باز جن کا مقابلہ مالک جیوٹ اور رسل سے تھا۔ چکن جارج مرغوں کے لیے سیب کاٹ رہا تھا کہ فلک شگاف شور سن کر اٹھا تو سامنے سے مالک جیوٹ کی گاڑی آتی نظر آئی جس میں دونوں دولت مند مسکرا کر لوگوں کو ہاتھ ہلا رہے تھے۔ ان کے عقب میں چھے ویگنوں میں مرغوں کے دڑبے رکھے تھے اور آگے والی ویگن کو مالک جیوٹ کا ڈرائی ورچلا رہا تھا اور اس کے ساتھ ایک پتلا سا، مڑی ہوئی ناک والا عجیب سا آدمی بیٹا تھا۔

کسی نے بتایا کہ دولت مند انگریز اسے اپنے مرغوں کی دیکھ بھال کے لیے سمندر پار سے ساتھ لایا ہے۔ لیکن توجہ کا اصل مرکز تو عجیب سے کپڑوں میں ملبوس، ٹھگنا اور گٹھے ہوئے جسم والا معزز انگریز تھا جو مالک جیوٹ کے ساتھ بیٹھا تھا۔ ان کے روئیں روئیں سے اہم ہونے کا احساس ٹپک رہا تھا۔ اگرچہ دونوں ہی بہت امیر تھے لیکن انگریز کے رویے میں ذرا رعونت اور تکبر زیادہ ہی تھا۔ پھر اسے پہلا اعلان سنائی دیا۔’’مسٹر فریڈرڈولف اپنا سرخ مرغ، انگلینڈ کے سرسی۔ ایرک رسل کے چتکبرے مرغ کے مقابلے میں چھوڑیں گے!‘‘ پھراعلان ہوا۔

’’مرغے تیار کر لیں!‘‘ اور پھر ’’چھوڑو!‘‘ کہا گیا۔مجمعے کا شور اٹھا اور ایک دم خاموشی پھیل گئی جس نے اسے بنا دیکھے بتا دیا کہ انگریز کا مرغا جیت چکا ہے۔ آٹھوں مرغ باز اپنے اپنے مرغے یکے بعد دیگرے مالک جیوٹ یا انگریز کے مرغوں کے مقابلے کے لیے پیش کرتے رہے۔ چکن جارج نے کبھی اتنی شرطیں لگتی نہیں دیکھی تھیں اور نہ کبھی اتنا شور سنا تھا۔ بعض اوقات شور سے اسے پتہ چلتا کہ دونوں مرغے اتنے زخمی ہوگئے ہیں کہ ریفری کو لڑائی روک کر ان کے مالکان سے مرہم پٹی کرنے کو کہنا پڑا تاکہ لڑائی جاری رہ سکے۔

کبھی شور زیادہ ہوتا تو جارج کو اندازہ ہوتا کہ انگریز کا مرغ ہار گیا ہے۔ پھر وہ سوچتا کہ جانے مالک کی باری میں کتنی دیر باقی ہے۔ جارج کو اندازہ تھا کہ مقابلے کے لیے نام قرعہ اندازی سے نکالے جاتے ہیں۔ پھر اسے ریفری کی آواز سنائی دی۔’’اگلے پانچ مرغے کاس ویل کائونٹی کے مسٹر ٹام لی کی ملکیت ہیں!‘‘ چکن جارج کا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔ وہ اپنا ڈربی سنبھال کر ویگن سے کودا۔

کیوں کہ مالک مرغا چننے آتے ہی ہوں گے۔ ’’ٹا آآآآم لی!‘‘ غریب کریکرز نے مالک کا نام لے کر نعرہ لگایا۔ پھر کچھ لوگوں نے بھیڑ سے نکل کر مالک کے گرد گھیرا ڈال لیا۔ پھر ویگن کے پاس آ کر انہوں نے منہ کے گرد ہاتھ رکھ کر چیختے ہوئے جارج سے کہا’’یہ لوگ مرغے اکھاڑے تک پہنچانے میں ہماری مدد کریں گے۔‘‘ ’’جی مالک!‘‘ جارج دوبارہ ویگن پر چڑھا اور آٹھوں پنجرے مالک کے غریب ساتھیوں کو پکڑانے لگا۔ پچھلے سینتیس سالوں میں اسے ایسے تنائو بھرے وقت میں بھی مالک کے سکون پر ہمیشہ حیرت رہی تھی۔ چکن جارج نے اس ٹھگنے اور موٹے انگریز کو اکھاڑے کے پاس بے فکری سے کھڑے دیکھا۔ وہ غور سے آنے والے جلوس کا اور مقابلے کے مرغ کا جائزہ لے رہا تھا۔ مالک کے اشارے پر رسل نے مرغا ترازو پر رکھا۔

وزن ہوا اور ریفری بولا۔ ’’پانچ پائونڈ اور پندرہ آئونس!‘‘ خوب صورت مرغے کے خوش رنگ پر دھوپ میں چمکتے تھے۔ پھر مالک نے اپنا مرغا ترازو پر رکھا۔ یہ چکن جارج کا پسندیدہ مرغا تھا۔ یہ قوی اور وحشی تھا جس کی گردن جھنجھنے سانپ کی طرح ہلتی تھی۔ اس کی آنکھوں میں خون تھا اور وہ ٹوٹ پڑنے کے لیے مچل رہا تھا۔ جب ریفری نے اعلان کیا۔ ’’پورے چھے پائونڈ!‘‘ تو نشے میں دھت غریب گورے یوں چلائے جیسے اضافی آئونس سے وہ پہلے ہی لڑائی جیت گیا ہو۔’’ٹام لی بتا دو اس انگریز کو۔ ٹام! ٹھونک دو اس انگریز کو!‘‘ مالک لی کے سب پرستار بری طرح دھت تھے۔

انہیں نظر انداز کرتے ہوئے مالک اور انگریز گھٹنوں کے بل جھک کر اپنے اپنے مرغے کو سٹیل کا خار باندھنے لگے۔ لیکن لوگوں کا شوروغوغا بڑھتا ہی جا رہا تھا۔’’مرغوں کی لڑائی کروائے گا یا بطخوں کی؟‘‘…’’نہیں، چل کُکڑوں کی!‘‘…’’ہاں بھئی انہیں مچھلیاں جو کھلاتا ہے!‘‘ انگریز کے چہرے پر شدید غصہ تھا۔ ریفری اپنے بازو ہلا ہلا کر کہہ رہا تھا۔’’جناب! مہربانی کریں!‘‘ لیکن پینک میں ڈوبے قہقہے اور جملے مزید تیز ہوگئے۔

’’ ابے اس کا لال کوٹ کہاں ہے؟‘‘…’’یہ لومڑیاں بھی لڑواتا ہے؟‘‘…’’ابے نہیں! یہ تو سالا ایسا ڈھیلا ہے جیسے اپوسم!‘‘… ’’مجھے تو مینڈک جیسا دکھے ہے!‘‘ ’’ابے چل، پورا شکاری کتا نظر پڑے ہے!‘‘ اب منصفین بھی اٹھ کر آگئے اور اعلان کیا کہ جب تک شور بند نہیں ہوگا، لڑائی شروع نہیں ہوگی۔ ’’اگر لڑائی دیکھنی ہے تو چپ رہو!‘‘ آخر دھیرے دھیرے مستوں کا شور تھمنے لگا۔ چکن جارج نے دیکھا کہ مالک لی کے چہرے پر گہری پریشانی ہے جب کہ مالک جیوٹ اور انگریز کے چہروں کا رنگ مکمل فق تھا۔’’مسٹرلی!‘‘ جب انگریز نے اونچی آواز میں اچانک کہا تو مجمع یک لخت خاموش ہوگیا۔

’’مسٹر لی! ہم دونوں کے مرغے بہترین ہیں۔ کیا خیال ہے ہم دونوں اضافی ذاتی شرط بھی نہ لگا لیں؟‘‘ چکن جارج کو علم تھا کہ وہاں موجود سینکڑوں لوگوں کو احساس ہوگیا ہے کہ انگریز کے مہذب لہجے کے پیچھے گہرا انتقام اور غصہ چھپا ہوا ہے۔ مالک لی کی گُدّی غصے سے سرخ ہوگئی۔چند سیکنڈ بعد انہوں نے تیکھے لہجے میں جواب دیا۔’’مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ پیشکش کیا ہے؟‘‘ انگریز نے کچھ لمحے توقف کیا جیسے سوچ رہا ہو، پھر بولا۔’’کیا خیال ہے، دس ہزار ڈالر کافی رہیں گے؟‘‘ اس نے لوگوں کی ’’ہا، اوہ‘‘ کو ختم ہونے کا موقع دیا۔ پھر کہا’’لیکن صرف اس صورت میں اگر آپ کو اپنے مرغے پر اعتماد ہو۔ مسٹر لی۔‘‘ وہ مالک کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہونٹوں پر زہریلی مسکراہٹ تھی۔مجمع پر موت کی خاموشی طاری تھی۔ بیٹھے لوگ اٹھ کر کھڑے ہوگئے تھے۔

چکن جارج کے دل کی دھڑکن جیسے تھم گئی تھی۔ اس کے کانوں میں مس مالیزی کی آواز گونجی کہ پانچ ہزار ڈالر جو مالک نے بینک سے نکلوائے تھے وہ ان کی زندگی بھر کی کمائی کا نصف تھی۔ اس لیے چکن جارج جانتا تھا کہ مالک کبھی اس شرط کو نہیں مانیں گے۔ لیکن اس بھیڑ کے سامنے عزت بچانے کے لیے کہیں گے کیا؟ چکن جارج سے مالک لی کی طرف دیکھا نہیں جاتا تھا۔ لگتا تھا صدیاں بیت گئی ہیں۔

پھر جو اس نے سنا، اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔ مالک کی آواز میں تنائو تھا۔ ’’اسے دوگنا نہ کر لیا جائے؟ بیس ہزار!‘‘ سارا مجمع حیران رہ گیا اور اس میں بے چینی پیدا ہوئی۔ خوف کے عالم میں چکن جارج نے حساب لگایا کہ یہ رقم تو مالک کے کل اثاثوں، مکان، زمین، غلاموں اور جمع چکن جارج کی رقم سے بھی زیادہ تھی۔’’واہ کیا جذبہ ہے! چلو طے ہوئی!‘‘ انگریز نے کہا پھر اچانک چکن جارج کو اندازہ ہوا مالک جانتے ہیں کہ ان کا مرغا ضرور جیتے گا۔ مالک لی اور انگریز اکھاڑے میں آمنے سامنے جھکے۔ چکن جارج کی آنکھوں کے سامنے مالک لی کے مرغے کی ساری زندگی گھوم گئی۔

چکن جارج کے کانوں میں مٹلڈا کی آواز گونجی۔’’تم تو مالک سے بھی زیادہ دیوانے ہو۔ ان کے ساتھ توبد ترین صورت یہ ہوگی کہ وہ غریب کریکر بن جائیں گے۔ لیکن تم اپنا سوچو تمہارے خاندان کی آزادی ایک مرغے پر جوئے کے رحم و کرم پر ہے!‘‘ پھر تینوں منصفین نے اکھاڑے کے گرد جگہیں سنبھال لیں۔ ریفری اس طرح چوکنّا بیٹھا تھا جیسے انڈے پر بیٹھا ہو۔ ماحول پر ایک سنسنی طاری تھی، ہر شخص جانتا تھا کہ وہ ایک ایسا واقعہ دیکھ رہا ہے جس کے متعلق وہ باقی زندگی دوسروں کو بتایا کرے گا۔ چکن جارج نے دیکھا کہ مالک لی اور انگریز دونوں اپنے اپنے بے چین مرغے تھامے ریفری کے ہونٹوں کی طرف دیکھ رہے تھے۔

’’چھوڑو!‘‘ دونوں مرغے بجلی کی طرح لپکے اور ایک دوجے سے ٹکرا کر پیچھے گر پڑے۔ اگلے ہی لمحے دونوں ہوا میں تھے۔ ان کی چونچیں، پر اور پنجے بجلی کی سرعت سے حرکت کر رہے تھے۔ ان کے حملوں کی رفتار اتنی تیز تھی کہ آنکھ پوری طرح دیکھ نہیں پاتی تھی۔ چکن جارج نے ایسی برابر کی ٹکر زندگی بھر نہیں دیکھی تھی۔ اچانک انگریز کے مرغے کو زخم آیا۔

مالک کے مرغ کا خار اس کے پر کی ہڈی میں کھب گیا۔ دونوں غیر متوازن ہو کر گرے اور خار نکالنے کی جدوجہد میں ایک دوجے کے سر میں ٹھونگیں مارنے لگے۔’’قابو کرو! تیس سیکنڈ!‘‘ ریفری نے ابھی کہا ہی تھا کہ مالک اور انگریز اٹھ کھڑے ہوئے۔خار نکالا گیا۔ دونوں نے اپنے اپنے مرغے کے سر کے پرچاٹ کر ٹھیک کئے۔ پھر انہیں پکڑ کر نشان پر بیٹھ گئے۔’’تیار… چھوڑو!‘‘ دونوں مرغے یک ساں بلندی تک اڑے،

اپنے اپنے خار سے مہلک حملہ کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام ہو کر واپس زمین پر آگئے۔ مالک کا مرغا مخالف کو دھکا دینے کے لیے اس پر لپکا لیکن وہ مہارت سے غچہ دے گیا اور مالک کا مرغا اس کے پاس سے گزر گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ پلٹتا انگریز کا مرغا اس کے اوپر تھا۔ دونوں زمین پر لڑھکتے چلے گئے۔ پھر پائوں پر کھڑے ہوئے اور دیوانہ وار چونچوں سے لڑنے لگے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ پروں اور پنجوں کا استعمال بھی کر رہے تھے۔ وہ پھر ہوا میں بلند ہوئے اور نیچے آگئے۔ایک چیخ بلند ہوئی۔ انگریز کے مرغے نے خون نکال دیا تھا۔

مالک کے مرغے کے سینے پر گہرا نشان پھیل رہا تھا۔ لیکن اس نے پھر بھی حملے جاری رکھے حتیٰ کہ انگریز کا مرغا لڑکھڑا گیا اور مالک کا مرغا اسے مارنے کے لیے ہوا میں اڑا۔ لیکن ایک بار پھر انگریز مرغا نیچا ہوا، چکمہ دیا اور بچ نکلا۔ چکن جارج نے ایسے اعصاب کبھی نہیں دیکھے تھے۔ لیکن مالک کے مرغے نے اتنی تیزی سے پلٹا کھایا کہ انگریز مرغا کمر کے بل گر پڑا۔

اس نے دوبار اس کے سینے پر وار کیا اور خون نکل آیا۔ لیکن انگریز مرغا کسی طرح ہوا میں اڑا اور مالک کے مرغے کی گردن پر وار کیا۔ خونم خون مرغوں کی کش مکش نے چکن جارج کا سانس بند کر دیا۔انگریز مرغے نے اچانک سخت حملہ کیا اور مالک کے مرغے پر غالب آگیا اور اسے پروں سے مدھول کر رکھ دیا اور پنجوں سے اسے ادھیڑنے لگا۔ پھر ایک ناقابل یقین بات ہوئی۔

مالک کا مرغا ہوا میں بلند ہوا اور نیچے آ کر اپنا خار انگریز مرغے کے دل میں بھونک دیا۔ جو پروں کے ڈھیر کی طرح ایک طرف کو لڑھک گیا۔ اس کی چونچ سے خون ابل رہا تھا۔ سب کچھ اتنی تیزی سے ہوا کہ ایک دو سیکنڈ تک خاموشی رہی اور پھر ایک غلغلہ بلند ہوا۔ ہر طرف شور مچ گیا۔ لوگ پاگلوں کی طرح اچھل رہے تھے ’’ٹام، ٹام، جیت گیا بھئی جیت گیا!‘‘ چکن جارج خوشی سے بھی اگلے مقام پر تھا۔ لوگ مالک کی پیٹھ ٹھونک رہے تھے، ہاتھ ملا رہے تھے اور نعرے لگا رہے تھے۔’’ٹام لی! ٹام لی!‘‘ ہم آزاد ہو جائیں گے، چکن جارج نے سوچا۔ اتنی جلدی گھر والوں کو خوش خبری سنانے کے تصور پر اسے خود یقین نہیں آ رہا تھا۔ انگریز اس طرح دانت بھینچے بیٹھا تھا کہ اس پر کسی بُل ڈاگ کا گمان گزرتا تھا۔

’’مسٹر لی!‘‘ یہ آواز سنتے ہی مجمع پر سکوت چھا گیا۔ انگریز اٹھا اور مالک سے تین گز کے فاصلے پر آ کر رک گیا۔ پھر بولا۔’’تمہارا پرندہ خوب لڑا۔ دونوں میں سے کوئی بھی جیت سکتا تھا۔ دونوں برابر کے تھے۔ سنا ہے تم بڑے حوصلہ مند ہو، تو تمہاری جیت کی رقم سے ایک اور لڑائی ہو جائے؟‘‘ مالک کے چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا۔چند پل کے لیے پورے مجمعے میں صرف مرغوں کی آواز سنائی دیتی تھی۔

لوگ لڑنے والے مرغوں کی طاقت کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے تھے۔ آخر یہ اسی ہزار ڈالر کی لڑائی تھی جو فاتح کو ملنے تھے… لوگ مالک لی کی طرف دیکھ رہے تھے جو گھبرائے ہوئے تھے۔ ان کی نگاہ ایک لمحے کو زخمی مرغے کو سنبھالتے چکن جارج کی نگاہ سے ملی۔ ’’سنا ہے کہ تمہارا وفادار کالا بہترین استاد ہے۔ لیکن میں اس کے مشورے پر زیادہ کان نہیں دھروں گا۔ میرے پاس ابھی اور بھی اعلیٰ مرغے ہیں۔

‘‘انگریز نے یہ بات یوں کہی جیسے وہ محض کنچوں کی بازی ہارا ہو۔ اس کے لہجے میں طنز تھا۔ پھر مالک لی نے مہذب انداز میں کہا ’’ٹھیک ہے، جیسے تم کہو۔ مجھے ایک اور لڑائی پر دائو کھیل کر خوشی ہوگی۔‘‘ مرغوں کی تیاری کے چند منٹ پل بھر میں گزر گئے مجمعے سے ایک آواز بھی نہیں آ رہی تھی۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ مالک نے اس دڑبے کی طرف اشارہ کیا تو چکن جارج کا دل کھل اٹھا۔

یہ وہی مرغا تھا جس کا پیار کا نام جارج نے رکھا ہوا تھا۔ ’’یہ شہباز؟ جی مالک!‘‘ اسے اس پرندے کی مخالف کو چونچ سے دبوچ کر پنجوں سے ادھیڑنے کی صلاحیت پر بڑا اعتماد تھا۔ یہ ان مرغوں کے جواب کے لیے عمدہ خوبی تھی جو جُل دینے کے ماہر ہوتے ہیں۔ جیسا کہ انگریز کا سابق مرغا تھا۔ مالک شہباز کو بغل میں داب کر اکھاڑے میں پہنچے تو انگریز گہرے سرمئی رنگ کا مرغا لیے ہوئے تھا۔

دونوں کا وزن پورے چھے پائونڈ تھا۔ جب ’’چھوڑو!‘‘کی آواز آئی تو خلاف توقع دونوں پرندے ہوا میں اڑنے کے بجائے پروں سے لڑنے لگے۔ شہباز کی چونچ مناسب گرفت کے لیے کوشش کر رہی تھی کہ اچانک انگریر مرغے کا خار زور سے شہباز کو لگا۔ مالک کا مرغا لڑکھڑایا اور ایک لمحے کو اس کا سر ایک جانب کو ڈھلک گیا اور پھر وہ گر پڑا۔ اس کے منہ سے خون بہہ رہا تھا۔ ’’میرے خدایا؟ میر ے خدایا! میرے خدایا!‘‘ چکن جارج تیزی سے اندر بھاگا اور لوگوں کو دھکے دیتا اکھاڑے میں پہنچ گیا اور اسے بچے کی طرح گود میں اٹھا لیا اور اس کی چونچ میں جمتے ہوئے خون کو چوسا۔

یہ ایک مہلک گھائو تھا اور شہباز اس کے ہاتھوں میں دم توڑ رہا تھا۔ وہ لڑکھڑاتا ہوا اٹھا اور مردہ پرندے کے ساتھ ویگن کی طرف چل دیا۔تماش بین اب انگریز اور مالک جیوٹ کو مبارکباد دے رہے تھے۔ کسی کا رخ شکست خوردہ مالک لی کی طرف نہیں تھا۔ جو اپنی جگہ پر کھڑے اکھاڑے کے فرش پرخون کے دھبوں کو گھور رہے تھے۔ آخر سرسی۔ ایرک رسل مالک کی طرف گئے اور مالک لی نے آہستہ سے آنکھیں اٹھائیں۔ ’’کیا کہتے ہو؟‘‘ مالک نے کہا۔ ’’میرے خیال میں یہ تمہارا برا دن ہے۔‘‘ مالک لی نے مسکرانے کی کوشش کی۔ سرسی۔ ایرک رسل نے کہا’’جہاں تک شرط کا سوال ہے۔

ظاہر ہے اتنی رقم کوئی جیب میں لے کر نہیں آتا۔ تو حساب کتاب کل کیوں نہ کر لیا جائے؟ کوئی سہ پہر کے وقت۔۔۔۔‘‘ وہ رکے ’’چائے کے بعد، مالک جیوٹ کے گھر۔‘‘ گم سم مالک نے سر ہلایا۔’’ٹھیک ہے۔‘‘ گھر کا فاصلہ دو گھنٹے میں طے ہوا۔ راستے بھر دونوں کے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکلا۔ چکن جارج کے لیے یہ طویل ترین راستہ تھا۔ لیکن آخر ویگن گھر پہنچ گئی۔

اگلے روز شام کے وقت مالک لی جب مالک جیوٹ کے گھر سے لوٹے تو چکن جارج مرغوں کی خوراک بنا رہا تھا۔ وہ کل رات سے یہیں تھا کیوں کہ مٹلڈا کی گریہ و زاری اور چیخ و پکار نے اسے کیبن چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔ ’’جارج!‘‘ مالک نے کہا ’’میں ایک سخت بات کہنے والا ہوں۔‘‘ وہ چپ کر گئے جیسے موزوں لفظ ڈھونڈ رہے ہوں۔ ’’سمجھ نہیں آ رہا کہ کیسے کہوں؟ تمہیں تو پتہ ہے کہ میرے پاس اس رقم کا عشر عشیر بھی نہیں جو لوگ میرے پاس سمجھتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ میرے پاس چند ہزار ڈالر، اس مکان اور زمین کے علاوہ تم چند نیگر ہی ہو۔

‘‘ شاید مالک ہمیں بیچنے لگے ہیں۔ جارج نے اندازہ لگایا۔ ’’مشکل یہ ہے کہ سب ملا کر بھی اس رقم کے نصف کے قریب بنتا ہے جو اس کتیا کے بچے کو میں نے دینی ہے۔ لیکن اس نے مجھے ایک رعایت کی پیشکش کی ہے۔‘‘مالک ذرا ہچکچائے۔ ’’تم نے اسے کہتے تو سنا ہوگا کہ اس نے تمہارے متعلق کیا سن رکھا ہے۔ آج اس نے کہا ہے کہ وہ مرغوں کی تربیت سے بہت متاثر ہوا ہے۔۔۔۔‘‘ مالک نے گہرا سانس لیا۔ جارج نے دم سادھ لیا۔’’لگتا ہے کہ اسے انگلینڈ میں اپنا ایک استاد گنوانے کے بعد نئے استاد کی ضرورت ہے اور اس کے خیال میں ایک نیگر استاد واپس لے جانا دل چسپ بات ہوگی۔

‘‘ مالک کو جارج کی حیران پریشان آنکھوں کی طرف دیکھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ انہوں نے اچانک کہا ’’مختصر بات یہ ہے کہ اگر ہم سارا پیسہ دے کر مکان اس کے ہاتھ گروی رکھ دیں اور تمہیں انگلستان بھیج دیں تاکہ تم کسی اور کو تربیت دے سکو، جوبقول اس کے دو سال سے زیادہ کا عرصہ نہیں ہوگا تو وہ حساب بے باق کرنے پر تیار ہے۔‘‘ مالک نے بڑی مشکل سے چکن جارج کی طرف دیکھا۔’’میں بتا نہیں سکتا کہ مجھے یہ سب کتنا ناگوار لگ رہا ہے جارج… لیکن اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ و ہ مجھے سستے میں چھوڑ رہا ہے اور اگر یہ نہ ہوا تو میں برباد ہو جائوں گا۔ ہر شے برباد ہو جائے گی۔‘‘

جارج کو الفاظ نہیں مل رہے تھے۔ وہ کہتا بھی کیا۔ وہ تو مالک کا غلام تھا۔ ’’مجھے پتہ ہے تم بھی کنگال ہوگئے ہو۔ اس لیے فیصلہ میں تم ہی پر چھوڑتا ہوں۔ لیکن میں تمہیں زبان دیتا ہوں کہ تمہارے پیچھے میں تمہاری عورتوں اور بچوں کی دیکھ بھال کرتا رہوں گا اور جس دن تم گھر لوٹو گے۔۔۔۔‘‘ مالک نے رک کر ہاتھ جیب میں ڈال کر ایک تہہ شدہ کاغذ نکالا اور کھول کر چکن جارج کے سامنے کر دیا۔

’’پتہ ہے یہ کیا ہے؟ میں نے اسے کل رات بیٹھ کر لکھا ہے۔ یہ تمہاری قانونی آزادی کا کاغذ ہے لڑکے میں اسے تجوری میں رکھ رہا ہوں تاکہ جس دن تم لوٹو، یہ تمہیں دے دوں۔‘‘ کچھ دیر اس کاغذ پر لکھی تحریر کو گھورتے رہنے کے بعد چکن جارج نے غصے کو دباتے ہوئے کہا ’’مالک! میں نے ہم سب کو آزاد کروانے کا سوچا تھا۔ لیکن اب سب کچھ ختم ہو چکا ہے اور آپ مجھے اپنے بیوی بچوں سے دور سمندر پار کہیں بھیج رہے ہیں۔

آپ انہیں ابھی آزاد کیوں نہیں کر دیتے اور پھر مجھے، جب میں واپس آئوں…؟‘‘ مالک لی نے آنکھیں سکیٹریں ’’تمہیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے، لڑکے! تم نے رقم میری غلطی سے نہیں کھوئی۔ میں پہلے ہی تمہیں ضرورت سے زیادہ دے رہا ہوں۔ یہ ہی نیگروئوں کا مسئلہ ہے۔ منہ ذرا سوچ سمجھ کر کھولا کرو۔‘‘ مالک کا چہرہ سرخ ہونے لگا تھا۔’’اگر مجھے تمہاری زندگی بھر کی خدمت کا خیال نہ ہوتا تو میں ابھی تمہیں بیچ بھی چکا ہوتا۔‘‘ جارج نے ان کی طرف دیکھ کر سر ہلایا۔ ’’اگر میری زندگی کی آپ کے نزدیک کوئی اہمیت ہے مالک تو اسے اور برباد مت کریں!‘‘ مالک کے چہرے پر سختی آگئی۔’’جو چیز ساتھ لے جانی ہے باندھ لو۔ ہفتے کو تم انگلینڈ جا رہے ہو۔‘‘

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

رات کو غلام احاطے کے اکٹھ میں لوئیس نے اصل واقعہ سب کو بتایا۔’’میں نے گھوڑوں کی آواز سنی تو فوراً کام میں مصروف ہونے کا بہانہ کرکے ا ...

مزید پڑھیں

انگریز نے کچھ لمحے توقف کیا جیسے سوچ رہا ہو، پھر بولا۔’’کیا خیال ہے، دس ہزار ڈالر کافی رہیں گے؟‘‘ اس نے لوگوں کی ’’ہا، او ...

مزید پڑھیں

اگلے روز انہوں نے سنجیدگی سے بتایا کہ ’’میں نے تمہارے لڑکے ٹام کو آ سکیو کے زرعی رقبے پر بھجوانے کا انتظام کر دیا ہے۔‘‘ جارج ا ...

مزید پڑھیں