☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل رپورٹ کھیل فیشن صحت دین و دنیا متفرق خواتین کیرئر پلاننگ ادب
’’مالک! ہم سب اکٹھے بکیں گے ناں؟‘‘

’’مالک! ہم سب اکٹھے بکیں گے ناں؟‘‘

تحریر : الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان

05-26-2019

رات کو غلام احاطے کے اکٹھ میں لوئیس نے اصل واقعہ سب کو بتایا۔’’میں نے گھوڑوں کی آواز سنی تو فوراً کام میں مصروف ہونے کا بہانہ کرکے ایک جھاڑی کے پیچھے ہوگیا جہاں سے سب سنتا اور دکھائی دیتا تھا۔بڑی بحث کے بعد انڈوں پر بیٹھی اس قیمتی مرغی کا سو ڈالر میں سودا ہوا۔ اس کے فوراً بعد دونوں میں نیا جھگڑا شروع ہو گیا۔

اس آدمی کاکہنا تھا کہ انڈے بھی سودے کا حصہ ہیں۔ مالک اسے پاگلوں کی طرح گالیاں دینے لگے۔ انہوں نے مرغی واپس چھینی اور پائوں مار کر سارے انڈے توڑ دیے۔ پھر دونوں ہاتھا پائی کرنے لگے۔ اچانک اس آدمی نے لپک کر مرغی چھینی اور گھوڑے پر سوار ہو کر کہاکہ اگر مالک بوڑھے نہ ہوتے تو وہ ان کا سر توڑ دیتا۔‘‘ ہر گزرتے دن کے ساتھ غلاموں میں بے چینی بڑھ رہی تھی اور سر پر منڈلاتے خدشات کے باعث رات کو نیند بھی پوری طرح نہ آتی اور رہ رہ کر آنکھ کھلتی رہتی۔1855ء کے پورے سال میں مالک جب بھی کہیں جاتے یا کہیں سے آتے سب غلام سوالیہ نظروں سے ٹام کی طرف دیکھتے لیکن اس کے پاس بھی کسی سوال کا جواب نہیں تھا۔ ہفتے کی شام مٹلڈا اپنے کیبن کی کھڑکی سے ٹام کے آخری گاہک کے جانے کا انتظار کرتی رہی اور موقع پاتے ہی ٹام کی طرف دوڑی۔ اس کے چہرے کے تاثر سے ٹام کو اندازہ ہوگیا کہ معاملہ سنجیدہ ہے۔

ٹام بچپن سے گھر بھر کی آنکھ کا تارہ تھا۔ ماں کی بات سن کر وہ چونکا۔ اگرچہ سب بہن بھائی اس رقبے پر پیدا ہوئے تھے لیکن اس کے باوجود وہ ان میں گھل مل نہیں سکا۔ ایک تو دوران سکھلائی ان سے دور رہنے کی وجہ سے، دوسرے گھر لوٹ کر بھی وہ زیادہ وقت دکان پر ہی گزارتا تھا۔ جب کہ باقی سب کھیتوں میں اکٹھے رہتے تھے۔ خاص طور پر ورجل، ایش فورڈ اور ننھے جارج سے تو اس کا رابطہ بہت ہی کم ہوگیا تھا۔ ورجل جواب چھبیس سال کا تھا۔ اپنا فارغ وقت ملحقہ رقبے پر رہائش پذیر اپنی بیوی للی سُو اور حال ہی میں پیدا ہونے والے بیٹے اوریاہ کے ساتھ گزارتا۔ ایش فورڈ سے اس کی کبھی نہیں بنی تھی۔ وہ پچیس سال کا تھا اور جب سے اس کی محبوبہ کے مالک نے اسے اپنی لونڈی کے ساتھ جھاڑو پھلانگنے کی اجازت نہیں دی تھی تب سے اس کا رویہ اور تلخ ہوگیا تھا۔ چوبیس سالہ ننھا جارج اب بے حد موٹا ہوگیا تھا۔

دکان کے قیام کے لیے اوزاروں کی خریداری کے وقت سے ہی مالک اس کے دھیمے سبھائو کی وجہ سے اس کی کچھ کچھ عزت کرنے لگے تھے۔ دوسرے کام میں مہارت کے باعث اس کی دکان میں گاہکوں کی تعداد بھی دن بدن بڑھ رہی تھی۔ وہ جو کماتا مالک کو دے دیتا اور مالک ہر اتوار اس کی مزدوری کے طور پر دو ڈالر اسے دے دیتے۔

کرسمس آیا اور 1856ء کے سال کا آغاز ہوا۔ لیکن ہر طرف ایک بے دلی سی چھائی ہوئی تھی۔ پھر بہار کی ایک سہ پہر ایک اور گھڑ سوار رقبے پر آیا۔ پہلے تو مس مالیزی نے اسے بھی کوئی مرغا خریدنے والا سمجھا۔ لیکن مالک کا جداگانہ رویہ دیکھ کر وہ ٹھٹھکی۔ مہمان سے باتیں کرتے ہوئے مالک نے ننھے جارج کو آواز دے کر مہمان کے گھوڑے کو رات بھر کے لیے اصطبل میں باندھنے اور دانہ پانی دینے کوکہا۔ پھر مالک عزت سے مہمان کو اندر لے گئے۔ابھی مالیزی نے رات کا کھانا نہیں چنا تھا کہ سب غلام، مہمان کے متعلق اپنے اپنے خدشے ظاہر کرنے لگے’’یہ آدمی ہے کون…؟‘‘

’’پہلے تو کبھی نہیں دیکھا!‘‘

’’مالک نے اتنا اچھا سلوک مدت سے کسی کے ساتھ نہیں کیا۔‘‘…’’تو پھر تمہاری رائے میں وہ کیا ہے؟‘‘ ان سے مالیزی کی مخبری کا انتظار نہیں ہو رہا تھا۔

’’میرے سامنے تو انہوں نے کوئی بات نہیں کی۔‘‘ مالیزی نے بتایا ’’شاید اس لیے کہ بیگم صاحبہ بھی وہیں تھیں۔ لیکن پھر بھی مجھے اس آدمی کی نظریں عجیب سے لگ رہی ہیں۔ میں نے ایسے کئی دیکھے ہیں۔ بے چین آنکھیں، جیسے ابھی یہاں کچھ تھا، ابھی کچھ نہیں۔‘‘

چراغ کی روشنی کی حرکت نے انہیں بتایا کہ مالکن آدمیوں کو چھوڑ کر سونے چلی گئی ہیں۔ جب سب لوگ تھک کر سونے کے لیے گئے تب بھی بڑے کمرے کا چراغ جل رہا تھا۔صبح ہوتے ہی مٹلڈا اپنے لوہار بیٹے کو ایک طرف لے گئی اور کہا ’’رات تو مجھے تم سے علیٰحدگی میں بات کرنے کا موقع ہی نہیں ملا اور نہ میں سب کو بتا کر ڈرانا چاہتی تھی۔ لیکن مالیزی نے مجھے بتایا ہے کہ مالک اس آدمی کو کہہ رہے تھے کہ انہوں نے مکان کے دوررہن اتارنے ہیں اور مالیزی کو پتہ ہے کہ مالک کے پاس ٹکا بھی نہیں ہے۔ مجھے لگ رہا ہے کہ یہ آدمی نیگروئوں کا تاجر ہے!‘‘

’’مجھے بھی۔‘‘ ٹام نے کہا پھر کچھ دیر چپ رہ کر بولا۔’’امی میں سوچ رہا تھا کہ کسی اور مالک کے پاس ہم زیادہ بہتر رہیں گے۔ کم ازکم ہم اکٹھے تو رہیں گے۔ مجھے اسی کی فکر ہے۔‘‘باقی لوگ اپنے کیبنوں سے نکلنے لگے تو مٹلڈا تیزی سے دکان سے نکل گئی تاکہ دوسروں کو فکر نہ ہو۔مالکن نے تو سردرد کی وجہ سے ناشتے سے انکار کر دیا لیکن مالک اور مہمان نے پیٹ بھر کر کھایا۔ پھر دونوں سرجوڑ کر باتیں کرتے باہر نکل گئے۔ دونوں چلتے چلتے ٹام کی دکان پر آگئے اور اسے کام کرتے توجہ سے دیکھنے لگے۔ ٹام گھر کی بنائی ہوئی دھونکنی سے آگ دہکا کر دروازوں کے قبضے بنا رہا تھا۔ ہوا میں رہ رہ کر سنہری چنگاریاں اڑتی تھیں۔ ٹام کچھ دیر یوں کام میں مک رہا جیسے ان کی موجودی سے بے خبر ہو۔آخر مالک لی بولے۔’’بہت اچھا لوہار ہے یہ اگر میری پوچھیں تو۔‘‘

دوسرے آدمی نے ان کی تائید کی۔ پھر دکان میں گھوم پھر کر اس کے بنائے اوزار وغیرہ دیکھنے لگا جو کھونٹیوں اور کیلوں سے ٹنگے تھے۔ اس آدمی نے اچانک ٹام کو مخاطب کیا۔’’کیا عمر ہے تمہاری لڑکے؟‘‘

’’جناب میں اس وقت تئیس کا ہوں۔‘‘

’’تمہارے بچے کتنے ہیں؟‘‘

’’ابھی میری شادی نہیں ہوئی۔‘‘

’’لگتا ہے تم تو پکے مذہبی نیگر ہو؟‘‘

ٹام کو علم تھا کہ آدمی اس کی قیمت جانچنے کے لیے باتیں پوچھ رہا ہے۔ اس نے ذرا تیکھے لہجے میں کہا۔ ’’میرا خیال ہے مالک نے آپ کو بتایا ہوگا کہ ہم پورا خاندان ہیں۔ میری ماں، دادی، بھائی، بہنیں اور بچے۔ ہم سب کی تربیت میں خداوند پر اور انجیل پر اعتقاد شامل رہا ہے۔‘‘

پھروہ آدمی پھر اصل موضوع کی طرف پلٹا۔ ’’ کیا خیال ہے تم اس جگہ سے بڑی جگہ پر لوہار کا کام سنبھال لو گے؟‘‘ ٹام کو یہ تو پتہ لگ گیا تھا کہ اس کا سودا ہو رہا ہے لیکن وہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ اس کے خاندان کا کیا ہوگا؟ تجسس اور غصے کو دبا کر اس نے کہا ’’جناب میں اور میرے گھر والے کاشت کاری کر سکتے ہیں اور اس کے علاوہ ضرورت کا ہر کام کر سکتے ہیں،ان کا کیا ہو گا۔۔۔۔‘‘ٹام کو وہیں چھوڑ کر مالک مہمان کے ساتھ کھیتوں کی طرف چل دیے۔ اتنے میں مالیزی بھاگتی ہوئی آئی اور کہا ’’کیا کہہ رہے تھے یہ لوگ؟ مالکن تو مجھ سے آنکھ ہی نہیں ملا رہیں۔‘‘

اپنی آواز پر قابو رکھتے ہوئے ٹام نے کہا ’’کچھ خرید وفروخت ہو رہی ہے، شاید ہم سب اور شاید صرف میں۔‘‘ مالیزی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تو ٹام نے اس کا کندھا زور سے ہلایا۔’’رونے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے امی سے بھی یہ ہی کہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ نئی جگہ ہمارے لیے یہاں سے بہتر ہوگی۔‘‘ لیکن ٹام اپنی پوری کوشش کے باوجود مالیزی کو مطمئن نہ کر سکا۔شام کو سب کھیتوں سے لوٹے تو ٹام کے بھائیوں کے چہرے سُتے ہوئے تھے اور عورتیں رو پیٹ رہی تھیں۔ سب بہ یک وقت بتا رہے تھے کہ کس طرح وہ آدمی ایک ایک کے پاس جا کر سوالات پوچھتا رہا جس سے کسی کو شبہ نہ رہا کہ ان کی قیمت لگائی جا رہی ہے۔رات کی تاریکی میں شاید سب کے رونے پیٹنے کی آوازیں بڑے گھر میں موجود دونوں مردوں تک بھی جا رہی تھیں۔ سب بے حد غمگین اور خوف زدہ تھے۔ سترہ لوگوں میں سے مرد بھی عورتوں کی طرح ہسٹیریائی انداز میں چیختے چلاتے ہوئے ایک دوسرے کو گلے لگا رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اب وہ کبھی ایک دوسرے کو نہیں دیکھ پائیں گے۔ ’’یا خداوند! ہمیں اس مصیبت سے بچا لے!‘‘ مٹلڈا نے چیخ چیخ کر دعا کی۔ٹام نے اگلی صبح بیداری کا گھنٹہ بجایا تو اس کی آواز میں موت کا پیغام تھا۔بوڑھی مس مالیزی ناشتہ بنانے بڑے گھر کے باورچی خانے جا چکی تھی۔ ابھی دس منٹ بھی نہ گزرے تھے کہ وہ صدمے کی حالت میں واپس آگئی۔ اس کے گال آنسوئوں کی نمی سے چمک رہے تھے۔’’مالک نے کہا ہے کوئی کہیں نہ جائے اور ان کے ناشتہ ختم کرنے کے بعد سب باہر جمع ہو جائیں…‘‘

سب باہر اکٹھے ہوئے تو بیمار انکل پامپی کو بھی کیبن سے نکال لایا گیا۔ مالک لی اور مہمان گھر سے نکلے تو مالک کی لڑکھڑاتی چال نے انہیں بتا دیا کہ مالک معمول سے زیادہ پیتے رہے ہیں۔ جب وہ غلاموں سے چار گز کے فاصلے پر آ کر رکے تو مالک کی آواز اونچی، تلخ اور تڑخی ہوئی تھی۔

’’تم نیگر ہر وقت میری ٹوہ میں رہتے ہو۔ اس لیے تمہارے لیے یہ کوئی خبر تو نہیں ہوگی کہ یہ جگہ ختم ہونے والی ہے۔ تم سب میرے لیے بوجھ بن گئے ہو جو اب مجھ سے نہیں اٹھتا۔ اس لیے میں اس شریف آدمی سے سودا کر رہا ہوں۔۔۔۔‘‘

غلاموں کی آہ و بکا بلند ہوئی تو دوسرے آدمی نے غصے سے کہا ’’بند کرو یہ اپنی بک بک۔ کل رات سے یہ ہی کچھ ہو رہا ہے!‘‘ اس نے سب کو اس طرح گھورا کہ سب چپ ہوگئے۔’’میں کوئی عام نیگر تاجر نہیں ہوں۔ میں اس کاروبار کی سب سے بڑی اور سب سے اعلیٰ فرم کا نمائندہ ہوں۔ ہمارے دفتر کی شاخیں ہیں اور دور دور کے علاقوں، مثلاً رچمنڈ، چارلسٹن، میمفس اور نیواورلینز وغیرہ میں نیگروئوں کی ترسیل کے لیے ہمارے پاس کشتیاں بھی ہیں۔۔۔۔‘‘ آخر مٹلڈا نے وہ بات پوچھ لی جو سب کو کھا رہی تھی۔ ’’مالک! ہم سب اکٹھے بکیں گے ناں؟‘‘

’’کہاناں بکواس بند کرو۔ سب پتہ چل جائے گا۔ مجھے کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ تمہارے مالک بے حد شریف انسان ہیں اور ان کی بیگم بھی جو گھر میں تم کالی چمڑیوں کے لیے رو رو کر ہلکان ہو رہی ہیں۔‘‘ اس نے ننھی کزی اور میری کی طرف دیکھا ’’تم دونوں چھوکریاں، کپاس چننے والے بچے، جن کی قیمت فی بچہ چار سو یا زیادہ ہو ۔‘‘ پھر اس کی نظر مٹلڈا پر پڑی۔ ’’اگرچہ تم کافی بوڑھی ہو۔ مگر سنا ہے تم باورچن اچھی ہو۔ جنوب میں اچھی باورچن کے بارہ سے پندرہ سو تک مل جاتے ہیں۔‘‘ پھر اس نے ٹام کو دیکھا ’’جیسا کہ آج کل قیمتیں چڑھ رہی ہیں۔ تم جیسا نسل کشی والا بڑھئی آرام سے پچیس سو دلا سکتا ہے اور اگر کوئی تمہیں گاہکی کرنے کی اجازت بھی دے سکے تو تین ہزار کہیں نہیں گئے۔‘‘ اس نے نظروں سے ٹام کے بیس سے اٹھائیس سال کے بھائیوں کا جائزہ لیا۔’’اور تم سب کھیت مزدور فی کس نو سے ہزار ڈالر تک کے ہو۔۔۔۔‘‘ اس نے وقفہ کیا۔’’لیکن تم سب ہو مقدر والے نیگر۔ تمہاری مالکن کا اصرار ہے کہ تم سب کا اکٹھا سودا ہو اور تمہارے مالک کا بھی یہ ہی کہنا ہے۔‘‘

’’شکریہ مالکن! شکریہ ‘‘ دادی کزی نے بلند آواز سے کہا۔‘‘ شکر خدا کا!‘‘ مٹلڈا چیخی۔

’’بکواس بند!‘‘ تاجر نے غصے سے کہا ’’میں انہیں قائل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہوں مگر یہ نہیں مانے۔ اتفاق سے میری فرم کے پاس تمباکو کے رقبے کا گاہک ہے۔ نارتھ کیرولائنا ریل روڈ کمپنی کے قریب المانسے کائونٹی میں انہیں نیگر خاندان کی ضرورت ہے جو پریشان نہ کرتا ہو۔ فرار وغیرہ کی کوشش نہ کرے اور کام کی سمجھ بوجھ رکھتا ہو۔ مجھے نیلامی کے پنگے کی ضرورت نہیں ہے اور بتایا گیا ہے کہ تمہیں زنجیریں باندھنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ اگر مجھے کوئی تکلیف نہ دی جائے تو۔‘‘اس نے سرد نگاہوں سے انہیں گھورا۔ ’’ٹھیک ہے تیاری کرو۔ اب سے تم خود کو میرا نیگر سمجھو جب تک ہم منزل پر نہ پہنچ جائیں۔ تمہارے پاس سامان باندھنے کے لیے چار دن ہیں۔‘‘

سب سے پہلے ورجل کے حلق سے آواز نکلی۔’’میری للی سُو اور میرے بچے کا کیا ہوگا؟ آپ انہیں بھی خرید لیں گے ناں جناب؟‘‘

پھر ٹام نے پوچھا۔’’ہماری دادی، بہن سارہ، مس مالیزی اور انکل پامپی کا کیا ہوگا؟ ان خاندان والوں کا آپ نے ذکر ہی نہیں کیا۔۔۔؟‘‘

’’نہیں۔ ۔۔یہ کباڑ جو یہاں ہے یہ کام کرنا تو ایک طرف چل پھر بھی نہیں سکتے۔ انہیں کوئی گاہک نہیں خریدے گا۔ لیکن لی صاحب نے مہربانی کرکے انہیں یہیں ایڑیاں رگڑنے کی اجازت دے دی ہے۔‘‘

زار وقطار روتے ہوئے دادی کزی مالک لی کے سامنے جا کھڑی ہوئی اور بھرائی ہوئی آواز میں بولی۔’’آپ نے میرا بچہ بھیج دیا۔ مجھ سے میرے پوتے پوتیاں تو مت چھینیں!‘‘ مالک دوسری طرف دیکھنے لگے۔ کزی بے سدھ ہو کر زمین پر گری، تو کئی مضبوط بانہوں نے اسے تھام لیا۔ بہن سارہ اور مس مالیزی بہ یک آواز پکاریں۔ ’’مالک ہمارا تو خاندان ہی یہ ہیں… ہم پچاس سالوں سے مل کر رہ رہے ہیں۔‘‘ بوڑھا اور معذور انکل پامپی کرسی پر بے حس و حرکت بیٹھا تھا۔ آنسو اس کے چہرے پر بہہ رہے تھے۔ اس کے ہونٹوں میں لرزش تھی۔ شاید وہ دعا کر رہا تھا۔

’’بک بک بند کرو!‘‘ غلاموں کا تاجر پھر چلاّیا۔‘‘ میں تمہیں آخری مرتبہ کہہ رہا ہوں۔ ورنہ ابھی پتہ چل جائے گا کہ مجھے تم نیگروئوں کو قابو کرنا بھی آتا ہے۔‘‘

ٹام کی نگاہ لمحہ بھر کو مالک کی نگاہ سے ملی اور اس نے کہا’’ہمیں آپ کی بدقسمتی پر بڑا افسوس ہے مالک! ہمیں پتہ ہے کہ آپ کو اسی لیے ہمیں بیچنا پڑ رہا ہے۔۔۔۔‘‘

شکر گزاری کے احساس سے مالک نے نگاہیں جھکالیں اور بہت نیچی آواز میں بولے۔’’مجھے تم میں سے کسی سے شکایت نہیں ہے، لڑکے۔‘‘وہ ذرا ہچکچائے ’’بل کہ سچ تو یہ ہے کہ تم سب بہت اچھے ہو۔ تم میں سے اکثر میرے ہی رقبے پر پیدا ہوئے اور پلے بڑھے ہو۔‘‘

آہوں اور سسکیوں میں ٹام نے کہا ’’ہمیں آپ سے مہربانی کی امید تھی مالک!‘‘

’’لے جائو انہیں یہاں سے!‘‘ مالک نے غصے کے ساتھ تاجر سے کہا اور ایڑی پر گھوم کر گھر کی طرف چلے گئے۔غلام احاطے میں آ کر سب ایک دوجے کو تسلیاں دینے لگے۔ مالیزی اور بہن سارہ، دادی کزی کو تسلی دینے میں مصروف تھیں۔ جو ٹام کی بنائی ہوئی جھولا کرسی میں بے حواس سی بیٹھی تھی۔ سب گھر والے رو رو کر اسے گلے مل رہے تھے اور چوم رہے تھے۔ آخر اس نے ہمت مجتمع کرکے کہا ’’گھبرانا مت۔ میں، سارہ، مالیزی اور پامپی یہاں جارج کی واپسی کا انتظار کریں گے۔ زیادہ دن نہیں لگیں گے۔ دو سال ہونے ہی والے ہیں۔ اگر وہ پیسے لے کر نہ آیا تو بھی تمہیں اور باقی لڑکوں کو زیادہ عرصہ نہیں لگے گا پیسے جوڑنے میں۔‘‘

’’کیوں نہیں، ضرور!‘‘ ایش فورڈ نے تھوک نگل کر کہا تو کزی نے اس کی طرف خالی نظروں سے دیکھا پھر سب کی طرف دیکھا۔‘‘ ایک اور بات! ’’کزی نے کہا‘‘ تم سب بڑے ہوگئے ہو۔ اب تمہارے بچے بھی ہوں گے۔ انہیں میرے لوگوں کے متعلق، میری ماں بیل اور میرے افریقی ابو کَنتا کِنتے کے متعلق ضرور بتانا! سنا تم نے! انہیں میرے، میرے جارج اور اپنے متعلق بھی بتانا اور یہ بھی کہ ہم مختلف مالکوں کے پاس کن کن حالات سے گزرے ہیں، اور سب بچوں کو بتانا کہ ہم کون ہیں!‘‘

سب نے ہچکیاں بھرتے ہوئے کہا۔’’جی امی! ضرور۔‘‘…! ’’جی دادی کبھی نہیں بھولیں گے۔‘‘کزی نے قریب ترین کھڑے بچے کا چہرہ پونچھا۔’’اب رونا بند کرو! سب ٹھیک ہو جائے گا۔ شش! بس اب کیا رو رو کر گھر ہی ڈبو دو گے!‘‘چار دن سامان باندھنے میں گزر گئے اور ہفتے کی صبح آگئی۔ رات بھر شاید کوئی بھی نہیں سو سکا تھا۔ بنا کچھ بولے وہ ایک جگہ جمع ہوگئے۔ سورج نکل آیا۔ ویگنیں آگئیں۔ جانے والے پیچھے رہ جانے والوں سے گلے ملنے لگے۔’’انکل پامپی کہاں ہیں؟‘‘ کسی نے پوچھا۔

مس مالیزی نے جواب دیا۔’’وہ کہہ رہے تھے کہ مجھ سے سب کو جاتا نہیں دیکھا جائے گا۔۔۔۔‘‘’’میں انہیں مل کر آتی ہوں!‘‘ ننھی کزی نے کیبن کی طرف دوڑ لگا دی۔

چند ہی لمحوں بعد اس کی آواز آئی۔’’نہیں!‘‘ سب لوگ ویگنوں سے اتر کر اندر دوڑے۔ بوڑھا پامپی اپنی کرسی پر بیٹھا تھا اور مر چکا تھا۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

میں جارج اور جولیئس گرمیوں میں نانی جان کے پاس ہنینگ چلے جاتے۔ لیکن نانا اور ماما کی وفات نے انہیں اداس اور دکھی کر دیا تھا۔ وہ فرنٹ پورچ ...

مزید پڑھیں

غزل کا ایک مفہوم اردو سے باتیں کرنا قرار دیا گیا ہے مردوں نے جی بھر کے غزلیں کہیں اور باتیں کیں لیکن جب خودنے اظہارکیا تو وہ کچھ اور کہانی ...

مزید پڑھیں

اسی سال ول نے برتھا کو پیانو سکھانے کے لیے ایک استاد رکھا جو ہر ہفتے میمفس سے آتا تھا۔ اس میں خدا داد صلاحیتیں تھیں اور بہت جلد وہ نیو ہوپ ...

مزید پڑھیں