☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل خصوصی رپورٹ عید اسپیشل غور و طلب فیشن صحت دین و دنیا کیرئر پلاننگ ادب
سیاہ فام غلام چلے نیا شہر بسانے۔۔۔

سیاہ فام غلام چلے نیا شہر بسانے۔۔۔

تحریر : الیکس ہیلی

06-02-2019

نئے رقبے پر ایک ہفتہ بعد جب نئے مالک مرے اور مالکن بگھی میں گرجا گھر گئے تو سب کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔ ’’میں جلدی فیصلہ نہیں دینا چاہتی۔‘‘مٹلڈا نے اپنے بچوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا’’لیکن پورا ہفتہ میں اور مالکن باورچی خانے میں بہت باتیں کرتی رہی ہیں۔ مجھے لگا ہے کہ نئی مالکن اور مالک بہت اچھے ہیں۔

میرا خیال ہے کہ ہم یہاں ٹھیک رہیں گے۔ بس تمہارے ابا نہیں آئے ۔دادی کزی اور باقی سب بھی ابھی تک مالک لی کے پاس ہیں۔‘‘اس نے رک کر سب کے چہرے کی طرف دیکھا۔ ’’تو اتنے دن میں جو تم نے دیکھا سنا ہے۔ اس کے مطابق تمہاری اس جگہ کے بارے میں کیا رائے ہے؟‘‘ پہلے ورجل بولا’’ مالک مرے کاشت کاری کا زیادہ تجربہ نہیں رکھتے۔ اور مالک ہونے کا بھی۔‘‘ مٹلڈا نے اسے ٹوکا۔’’اس کی وجہ تو یہ ہے کہ یہ شہری لوگ ہیں۔ پہلے برلنگٹن میں دکان چلاتے تھے۔ ان کے چچا مرے تو وصیت میں انہیں یہ جگہ دے گئے۔‘‘ ورجل نے کہا ’’وہ مجھ سے ہمیشہ یہ ہی کہتے ہیں کہ انہیں ہم سے کام لینے کے لیے ایک گورے اوورسیئر کی تلاش ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ اس کی ضرورت نہیں ہے۔

اس اوورسیئر کی قیمت میں پانچ چھے اور غلام آ سکتے ہیں۔ میں نے یہ بھی کہا کہ وہ ہمیں موقع دیں ہم انہیں تمباکو کی بہترین فصل اگا کر دیں گے۔۔۔۔!‘‘ ایش فورڈ بولا۔’’میں تو کسی ایسے اوورسیئر کے نیچے کام نہیں کروں گا جو لمحہ لمحہ ہماری ٹوہ میں رہے۔‘‘ بل نے ایش فورڈ کو گھور کر دیکھا۔’’مالک مرے کہہ رہے تھے کہ ابھی وہ ہمیں دیکھ رہے ہیں کہ ہمارا رویہ کیسا ہے۔ میں نے ان کی منت کی تھی کہ وہ مالک کری سے میری للی اور بچے کو بھی یہاں لے آئیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ وہ بہت کام کرنے والی ہے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ سوچوں گا۔

ہمیں خریدنے کے لیے وہ پہلے ہی اپنا مکان بینک کے پاس گروی رکھوا چکے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس سال فصل کیسی ہوتی ہے۔‘‘ ورجل نے توقف کیا۔’’ہم سب کو اس کے لیے کام کرنا ہوگا۔ مجھے پتہ ہے سارے گورے مالک کو الٹے سیدھے مشورے دیتے رہتے ہیں کہ یہ نیگر خود سے آدھا کام بھی نہیں کرتے۔ اگر انہوں نے ہمیں وقت ضائع کرتے اور ادھر ادھر کھیلتے دیکھا تو سمجھو اوورسیئر آگیا۔‘‘ ’’ٹھیک ہے!‘‘ ایش فورڈ نے غصے سے کہا’’تمہیں اور دوسروں کو ہمیشہ سے مالک کا خاص نیگر بننے کا شوق بھی تو ہے!‘‘ ٹام کو غصہ آیا لیکن اس نے سنی ان سنی کر دی۔

لیکن ورجل اٹھا اور غصے سے ایش کی طرف انگلی اٹھا کر بولا۔‘‘ ایک بات میں تمہیں بتا دوں کہ خواہ مخواہ طنز کی ضرورت نہیں ہے۔ ایسا نہ ہو کہ تم اپنے لیے کوئی مصیبت کھڑی کر لو۔ میں صرف اپنی بات کر رہا ہوں اگر مجھ سے الجھے تو کسی ایک کا بہت نقصان ہوگا!‘‘ ’’شش، خبردار اگر تم آپس میں جھگڑے!‘‘ مٹلڈا نے پہلے دونوں کی طرف پھر خصوصاً ایش فورڈ کو گھورا۔ پھر ماحول بہتر کرنے کے لیے ٹام کی طرف دیکھا۔’’ٹام جب تم دکان بنا رہے تھے تو میں نے مالک مرے کو اکثر تم سے باتیں کرتے دیکھا ہے۔ تم کیسا محسوس کرتے ہو؟‘‘ ٹام نے آہستہ آہستہ کہنا شروع کیا۔’’میرا بھی یہ ہی خیال ہے کہ ہم یہاں بہتر ہیں۔ لیکن اس کا انحصار ہمارے رویوں پر بھی ہے۔ جیسا کہ آپ نے کہا ہے، وہ گھٹیا اور کمینے سفید فام نہیں لگتے۔

میں بھی ورجل سے متفق ہوں۔ مالک کو ابھی غلام رکھنے کا تجربہ نہیں ہے۔ شاید وہ اس بات سے بھی پریشان ہیں کہ ہم ان کی نرمی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اسی لیے وہ ذرا سخت نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ہی معاملہ اوورسیئر کے ساتھ ہے‘‘ٹام کہتے کہتے رکا۔ ’’میری رائے میں امی تو مالک کا خیال رکھیں اور باقی سب مالک کو سمجھانے کی کوشش کریں کہ اگر وہ ہر وقت ہم پر مسلط رہنا چھوڑ دیں تو یہ ان کے لیے بھی بہتر ہوگا۔‘‘ سب نے دبے لفظوں میں اس کی تائید کی۔ پھر مٹلڈا نے امید بھرے لہجے میں کہا۔ ’’اب ہمیں کوشش یہ کرنا ہے کہ مالک کو للی سو اور ننھے اوریاہ کو خریدنے پر بھی مائل کریں۔ کیوں کہ تمہارے ابا کے آنے تک ہم صرف انتظار ہی کر سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے وہ بھی ان دنوں میں لوٹ آئیں۔۔۔‘‘ میری نے ہنس کر کہا’’وہی سبز سکارف اوڑھے اور سیاہ ڈربی ہیٹ پہنے ہوئے!‘‘ ’’ٹھیک کہتی ہے میری بیٹی۔‘‘ مٹلڈا نے دوسروں کے ساتھ مسکراتے ہوئے کہا ’’مالکن نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ دادی، سارہ اور مالیزی کے لیے بھی ہماری مدد کریں گی۔ میں نے انہیں بتایا کہ اس طرح خاندان کے بٹ جانے سے ہمیں کتنی تکلیف ہوئی ہے۔ میری بپتا سن کر مالکن بھی میری طرح رونے لگیں۔ وہ کہہ رہی تھیں کہ مالک کسی صورت تین بوڑھی عورتیں نہیں خریدیں گے۔

لیکن انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ مالک سے کہہ کر ٹام کو کام دلواتی رہیں گی اور باقی لڑکوں کو بھی تاکہ ہم پیسے جوڑ سکیں۔ اس لیے یادرکھنا کہ یہاں ہم نئے مالک کے لیے کام نہیں کر رہے، ہم اپنے گھر والوں کو خریدنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘‘ اس عہد کے بعد سب دل و جان سے اپنی ذمہ داریوں میں مصروف ہو گئے۔ یہ 1856ء کا سال تھا۔ مالک اور مالکن مٹلڈا کی محنت، اچھی پکائی اور نیک نیتی سے بہت خوش تھے۔مالک مرے ،ورجل اور اس کے بھائیوں کو تمباکو کی بہتر فصل حاصل کرنے کے لیے سرتوڑ محنت کرتے دیکھ کر بہت خوش تھے۔ ٹام گھریلو آلات اور اوزاروں کی مرمت اس عمدگی اور صفائی سے کرتا کہ بے کار اور پرانے اوزار پھر سے نئے ہو جاتے۔ اس کے علاوہ وہ گھر کی آرائش کے لیے بھی چیزیں بناتا رہتا۔اتوار کے روز اگر مالک اور مالکن خود کہیں نہ گئے ہوتے تو اردگرد کے رقبوں سے لوگ انہیں ملنے آ جاتے۔

برلنگٹن، گراہم، ہاری ور، می بین وغیرہ سے آنے والے لوگوں کو مالک بڑے فخر سے ٹام کی دست کاری کے نمونے دکھاتے۔ زیادہ تر لوگ مالک کو ترغیب دیتے کہ وہ ٹام کو ان کے لیے بھی کام کرنے کی اجازت دے دیں اور وہ ان سے وعدہ کر لیتے۔ ٹام کی بنائی ہوئی چیزیں المانسے کائونٹی میں نظر آنے لگیں اور اس کی شہرت دور دور پھیلنے لگی اور مالکن کو اس کے لیے مالک سے سفارش کی ضرورت بھی نہیں پڑی۔ لوگ بعض اوقات ٹام سے اپنے نمونے کے مطابق بھی چیزیں بنواتے اور کبھی کبھی گاہکوں کی درخواست پر مالک اسے دوسرے رقبوں اور قصبوں میں جا کر آلات ٹھیک کرنے کی اجازت دینے لگے۔

1857 آتے آتے ٹام کا کام اتنا بڑھ گیا کہ وہ اتوار کے سوا ہر روز صبح سے شام تک کام میں مصروف رہتا۔ گاہک کام کا معاوضہ براہ راست مالک کو ان کے گھر پر یا گرجا میں ملاقات پر ادا کرتے تھے۔ معمول کی مرمت کا معاوضہ بھی معمول کے مطابق تھا البتہ جو اشیاء دیگر مالکان خاص طور پر خود خاکہ تیار کرکے بنواتے ان کا معاوضہ بھی خاص ہوتا۔ ہفتے کے اختتام پر مالک آمدنی کا حساب کرکے ٹام کو فی ڈالر، دس سینٹ ادا کرتے ۔ٹام یہ رقم اپنی ماں مٹلڈا کے حوالے کر دیتا جو اسے فوراً شیشے کے مرتبان میں ڈال کر کسی خفیہ جگہ پر زمین میں دبا دیتی۔ اس خفیہ جگہ کا مٹلڈا اور ٹام کے علاوہ کسی کو علم نہیں تھا۔ ہفتے کی دوپہر کو کھیتوں میں کام کرنے والوں کا ہفتہ اختتام کو پہنچتا۔

ننھی کزی اور میری جواب بالترتیب انیس اور سترہ سال کی ہو چکی تھیں۔ کھیتوں سے لوٹتے ہی نہاتیں۔ اپنی چوٹیاں گوندھتیں اور چھتے کے موم سے مل مل کر چہرہ چمکاتیں۔ پھر اپنا اپنا کلف لگا بہترین جوڑا پہن کر تیار ہوتیں اور بھائی کی دکان پر پانی یا سکنجبین کا جگ لے جاتیں۔ ٹام اپنی پیاس بجھاتا اور پھر اوزار لینے آئے ہوئے دیگر غلاموں کو بھی پانی یا مشروب میں شریک کر لیتا۔ ٹام محسوس کرتا کہ اس کی بہنیں نوجوان اور خوش شکل مردوں کو دیکھ کر زیادہ خوش مزاجی اور شوخی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ ایک روز ہفتے کی رات جب اس نے مٹلڈا کو غصے سے بولتے سنا تو اسے حیرت نہیں ہوئی۔ ’’میں اندھی نہیں ہوں۔ مجھے بھی صاف نظر آتا ہے کہ تم ان مردوں میں کیوں پھرتی ہو؟‘‘ ننھی کزی نے ڈھٹائی سے جواب دیا۔’’ امی اب ہم بڑی ہو چکی ہیں۔ مالک لی کے رقبے پر توہم کبھی مردوں کے پاس بھی نہیں گئی تھیں۔‘‘ مٹلڈا نے جواباً کچھ کہا جو ٹام کو سمجھ نہیں آیا۔ ٹام کو محسوس ہوا کہ مٹلڈا اتنی ناراض نہیں ہے جتنا نظر آ رہی ہے۔ اس بات کی تصدیق بھی فوراً ہوگئی جب مٹلڈا نے ٹام سے کہا۔’’ لگتا ہے کہ تم اپنی بہنوں کو اپنے سامنے دوسروں سے ملاقات کرنے کا موقع دیتے ہو۔

تمہیں کم ازکم اتنا دھیان تو رکھنا چاہیے کہ یہ کوئی غلط قدم نہ اٹھا لیں۔‘‘ کم گو میری نے جب اصطبل کے سائیس کے ساتھ جھاڑو پھلانگنے کا اعلان کیا تو خاندان بھر کو حیرت ہوئی۔ امیدوار لڑکا می بین کے قریب کسی رقبے پر سائیس تھا۔ میری نے ماں کی منت کرتے ہوئے کہا کہ’’اگر آپ چاہیں تو مالک کو قائل کر سکتی ہیں کہ جب نیکوڈی مس کے مالک مجھے خریدنے آئیں تو مالک میری معقول قیمت لینے پر مان جائیں۔ اس طرح ہم اکٹھے رہ سکیں گے۔‘‘ مٹلڈا جواب میں کچھ بڑبڑائی اور میری پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

’’ٹام تم ہی کہو اب میں کیا کروں۔ مجھے اس لڑکی کو خوش دیکھ کر بہت خوشی بھی ہو رہی ہے۔ لیکن میں اپنے میں سے کسی اور کو آگے بکتے ہوئے بھی دیکھنا نہیں چاہتی۔‘‘ ’’آپ غلط سوچ رہی ہیں امی اور آپ کو اس بات کا پتہ بھی ہے۔‘‘ ٹام نے کہا ’’میں خود ایسی لڑکی سے شادی نہیں کروں گا جو کسی دوسرے رقبے پر رہتی ہو۔ آپ نے دیکھا ہی ہے کہ ورجل کے ساتھ کیا ہوا۔ جب سے ہم یہاں بکے ہیں وہ بیمار ہی چلا آتا ہے اسے ہر وقت پیچھے رہ جانے والی للی سو کی فکر ہی کھائے جاتی ہے۔‘‘ ’’ہاں میرے بچے۔‘‘ مٹلڈا نے جواب دیا۔’’یہ بات مجھے سمجھانے کی نہیں ہے کہ کسی ایسے آدمی سے شادی کرنا کیا معنی رکھتا ہے جسے آپ شاذو نادر ہی مل سکتے ہوں۔

جب میں تم بچوں کو دیکھتی ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ میرا بھی کوئی شوہر ہے۔۔۔۔‘‘ مٹلڈا ذرا ہچکچائی۔ ’’امی جان!‘‘ ٹام نے سخت لہجے میں اسے ٹوکا۔ ’’اب ہم جوان مرد ہیں۔‘‘ ’’جانتی ہوں، جانتی ہوں۔‘‘ مٹلڈا نے اسے کہا ’’میں یہ نہیں کہہ رہی۔ مجھے یوں لگ رہا ہے جیسے ہمارے خاندان کا شیرازہ بکھرنے کو ہے، ہمیشہ کے لیے۔‘‘ خاموشی کے وقفے میں ٹام سوچنے لگا کہ وہ ایسی بات کرے جو مٹلڈا کے دل کو تسلی دے سکے۔ اسے یہ بھی احساس تھا کہ مٹلڈا کی موجودہ بے چینی کی ایک وجہ یہ تھی کہ اس کے باپ نے جن مہینوں میں آنا تھا انہیں گزرے کافی دن ہوگئے تھے اور اب وہ پھر اس کی غیر حاضری محسوس کرنے لگی تھی۔مٹلڈا نے اچانک اس سے پوچھا۔’’تم کب شادی کر رہے ہو؟‘‘ ٹام یہ سوال سن کر چونک پڑا۔ ’’ابھی تو میں نے اس پر سوچا نہیں۔۔۔۔۔‘‘ گھبرا کر اس نے موضوع بدل دیا۔’’میں دادی جان، بہن سارہ اور مس مالیزی کی واپسی کے متعلق سوچ رہا تھا۔

اب تک ہم نے کتنے پیسے جوڑ لیے ہیں امی؟‘‘ ’’پچھلے اتوار تم نے جو دو ڈالر اور چار سینٹ مجھے دیے تھے انہیں ملا کر میرے پاس ستاسی ڈالر اور باون سینٹ ہوگئے ہیں۔‘‘ ٹام نے سر ہلایا۔’’میرا خیال ہے کہ ہمیں اور محنت کرنا ہوگی۔۔۔۔‘‘ ’’مالکان زیادہ تر مزدوری کے لیے آزاد نیگر کو ترجیح دیتے ہیں جو کم سے کم اجرت پر کام کر لیتے ہیں۔ دادی جان، بہن سارہ اور مس مالیزی بہت بوڑھی ہو رہی ہیں۔‘‘ ’’تمہاری دادی لگ بھگ ستر سال کی ہوگی۔ جب کہ سارہ اور مالیزی اسّی کے پیٹے میں ہوں گی۔‘‘ اچانک مٹلڈا کو کوئی خیال سوجھا۔’’پتہ ہے ٹام میرے دل میں کیا خیال آیا ہے؟ تمہاری دادی بتاتی تھیں کہ ان کے افریقی ابا اپنی عمر کا حساب رکھنے کے لیے گھڑے میں کنکر ڈالا کرتے تھے۔ یاد ہے ناتمہیں؟‘‘ ’’جی امی یاد ہے۔‘‘ اس نے فوراً کہا ’’پتہ نہیں کتنی عمر تھی ان کی؟‘‘ ’’مجھے بھی اندازہ نہیں ہے۔ نہ کبھی کسی سے سنا ہی ہے۔‘‘ اس کے چہرے پر دبدھا کے آثار ابھرے۔ ’’اب جب کہ دادی جان خود ستر سال کے قریب ہیں تو میرا خیال ہے کہ ان کے افریقی ابا اور امی دونوں مدت ہوئی دنیا سے جا چکے ہوں گے۔

بے چارے!‘‘ ’’جی بالکل۔۔۔‘‘ ٹام نے سوچتے ہوئے’’کبھی میں سوچتا ہوں کہ وہ کیسے لگتے ہوں گے؟ بچپن سے اب تک میں نے ان کا بہت ذکر سنا ہے۔‘‘ ’’میں نے بھی، بیٹے۔‘‘ مٹلڈا نے کہا وہ کرسی پر سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ ’’میں تو ہر رات خداوند سے تمہاری دادی، سارہ اور مالیزی کی خیر مانگتی ہوں اور یہ بھی دعا کرتی ہوں کہ تمہارے ابا دولت سے جیبیں بھر کر لوٹیں اور انہیں خرید لیں۔‘‘ وہ خوشی سے ہنسی۔ ’’ایک صبح ہم جاگیں گے تو سب اکٹھے ہوں گے اور بالکل آزاد ہوں گے، پرندوں کی طرح۔‘‘ ’’کیا دن ہوگا وہ بھی!‘‘ ٹام بھی ہنس کر بولا۔ دونوں کچھ دیر اپنے اپنے خیال میں گم رہے۔

ٹام سوچ رہا تھا کہ یہ لمحہ وہ بات کہنے کے لیے بالکل موزوں ہے جسے وہ کب سے چھپائے ہوئے ہے۔ آخر اس نے ماحول ساز گار پا کر بات شروع کی۔ ’’امی جان! کچھ دن پہلے آپ پوچھ رہی تھیں کہ کیا میں نے شادی کرنے کے متعلق بھی کبھی سوچا ہے؟‘‘ مٹلڈا ایک جھٹکے سے سیدھی ہوئی۔ ’’ہاں بیٹے، پوچھا تو تھا۔‘‘ٹام کوبات پوری کرنے کے لیے الفاظ نہیں مل رہے تھے۔ پھر اس نے ذرا اعتماد سے کہا’’مجھے ایک لڑکی ملی تو ہے۔ ہم میں بات چیت بھی ہوتی رہتی ہے۔۔۔۔‘‘ ’’یا خدا رحم! کون ہے وہ؟‘‘ ’’آپ نہیں جانتیں۔ اس کا نام آئرین ہے۔ کچھ لوگ اسے رینی بھی کہتے ہیں۔ وہ مالک ایڈوَن ہولٹ کی غلام ہے اور بڑے گھر میں کام کرتی ہے۔‘‘

’’وہ امیر کبیر مالک ایڈوَن ہولٹ جس کے متعلق مالک اور مالکن بتاتے ہیں کہ اس کی المانسے کریک میں روئی کی مل بھی ہے؟‘‘ ’’جی امی!‘‘ ’’و ہی بڑا گھرنا جہاں تم نے کھڑکیوں میں خوبصورت سے جنگلے لگائے تھے؟‘‘ ’’جی امی۔۔۔۔‘‘ ٹام کے چہرے پر ایسا تاثر تھا جیسے کوئی ننھا بچہ بسکٹ چراتا پکڑا گیا ہو۔ ’’میرے خدایا!‘‘ مٹلڈا کے چہرے پر چمک سی آگئی تھی۔ وہ ایک دم اٹھی اور بیٹے کو سینے سے لگا کر بولی۔’’میں بہت خوش ہوں ٹام، بہت ہی خوش۔‘‘ ’’مجھے پتہ ہے مالک تمہارے لیے اس لڑکی کو ضرور خرید لیں گے۔

مجھے اس کے متعلق اور بتائو۔‘‘ مٹلڈا کے ذہن میں بہت سی باتیں گڈمڈ ہو رہی تھیں۔ وہ شادی کے کیک کے متعلق سوچ رہی تھی جو اس نے بنانا تھا۔ ’’دیر ہو رہی ہے، اب چلنا چاہیے۔۔۔۔‘‘ وہ دروازے تک اس کے ساتھ آئی۔’’مجھے اتنی خوشی ہے کہ کسی نے میرے بچے کو بھی پسند کیا ہے اور وہ بھی سب سے اچھے بچے کو۔‘‘ٹام نے طویل عرصے بعد اپنی ماں کو اتنا خوش دیکھا تھا۔ ’’میں بھی بوڑھی ہوگئی ہوں دادی کزی کی طرح اور میں بھی بہت سے پوتے پوتیاں چاہتی ہوں۔‘‘ ٹام اس کے پہلو سے گزر کر باہر چلا تو اسے مٹلڈا کی آواز سنائی دی۔’’میں اتنی عمر ضرور پائوں گی کہ پڑپوتے پڑپوتیاں دیکھ سکوں!‘‘

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

مالک ذرا بھی نہیں بدلے۔ ابھی تک سانپ کی طرح چالاک اور خطرناک ہیں۔۔۔یہ جان بوجھ کر ٹلڈا اور بچوں کا ذکر نہیں کر رہے۔۔۔مجھے انہیں غصہ دلانے ...

مزید پڑھیں

گھبرائی ہوئی مسز ایمیلی ہولٹ آگے بڑھیں تو اسے نچلی سیڑھی کے پاس اپنی بہترین خادمہ آئرین ایک ڈھیر کی صورت گری ہوئی نظر آئی۔’’کیا ہوا ...

مزید پڑھیں

اس بات سے کئی ماہ قبل اتوار کے روز مالک اور مالکن گرجاگھر سے لوٹے تو آتے ہی مٹلڈا کی طلبی کے لیے گھنٹی بجائی اور اسے کہا کہ ٹام کو پورچ میں ...

مزید پڑھیں