☰  
× صفحۂ اول (current) عالمی امور سنڈے سپیشل کھیل کچن کی دنیا خواتین فیشن فیچر متفرق دین و دنیا ادب کیرئر پلاننگ
غلاموں کے دن بدلنے لگے۔۔۔

غلاموں کے دن بدلنے لگے۔۔۔

تحریر : الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان

06-09-2019

اس بات سے کئی ماہ قبل اتوار کے روز مالک اور مالکن گرجاگھر سے لوٹے تو آتے ہی مٹلڈا کی طلبی کے لیے گھنٹی بجائی اور اسے کہا کہ ٹام کو پورچ میں بلائے۔مالک کے لہجے اور چہرے پر خوشی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ہولٹ کاٹن مل کے مالک ایڈون ہولٹ نے پیغام بھیجا ہے کہ ان کی بیگم کو ٹام کی ہنرمندی بے حد پسند آئی ہے۔

اب اس نے اپنی کھڑکیوں کے لیے ایک خوبصورت جنگلا ڈیزائن کیا ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ تم ان کے گھر جا کر جنگلا بنائو گے اور نصب بھی کرو گے۔اگلی صبح ٹام مالک سے اجازت نامہ لے کر خچر پر روانہ ہوا تاکہ جنگلے کا نمونہ دیکھ سکے اور کھڑکیوں کی پیمائش لے سکے۔ مالک مرے نے اسے راستہ بھی اچھی طرح سے سمجھا دیا تھا۔وہاں پہنچ کر ٹام نے اپنا تعارف کروایا تو ایک سیاہ فام باغبان نے اسے سیڑھیوں کے پاس انتظار کرنے کو کہا۔

تھوڑی ہی دیر بعد بیگم ہولٹ خود باہر آگئیں ۔انہوں نے ٹام کے کاموں کی بہت تعریف کی اور اسے اپنے کھینچے ہوئے نئے خاکے دکھائے۔ ٹام نے ان خاکوں کا غور سے جائزہ لیا۔ ’’میرا خیال ہے کہ میں یہ بنالوں گا۔ بیگم صاحبہ۔‘‘ٹام نے کہا لیکن اس نے یہ وضاحت کر دی کہ کھڑکیوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث اس کام کی تکمیل میں لگ بھگ دو مہینے لگ سکتے تھے۔

بیگم ہولٹ نے جواباً کہا کہ اگر یہ کام دو مہینے میں بھی پورا ہو جائے تو اسے بہت خوشی ہوگی۔ پھر وہ خاکے ٹام کے حوالے کرکے چلی گئیں اور ٹام کام شروع کرنے کے لیے کھڑکیوں کی پیمائش لینے لگا۔سہ پہر کے وقت جب ٹام برآمدے میں کھلنے والی کھڑکیوں پر کام کر رہا تھا تو اسے احساس ہوا جیسے کوئی اس کی نگرانی کر رہا ہے۔ مڑ کر دیکھنے پر اسے اگلی کھڑکی کے پاس سانولے رنگ کی بے حد خوب صورت لڑکی جھاڑن ہاتھ میں پکڑے کھڑی دکھائی دی۔ اس نے سادہ سا لباس پہن رکھا تھا اور سیدھے بالوں کا سر کے پیچھے جوڑا بنا رکھا تھا۔

پور مسکراہٹ سے جواب دیا اور چلی گئی۔ بعد میں مالک مرے کے رقبے پر لوٹتے ہوئے بھی ٹام اسے اپنے ذہن سے نہ نکال سکا۔ رات اپنے بستر میں لیٹے لیٹے اسے اچانک خیال آیا کہ اس نے لڑکی کا نام تک نہیں پوچھا۔ اس کے اندازے کے مطابق اس کی عمر انیس بیس سال تھی۔ رات اسے نیند بھی پوری طرح نہیں آئی۔ اتنی خوب صورت لڑکی اب تک غیر شادی شدہ نہیں ہو سکتی تھی ۔لوہے کی چادریں کاٹنا اور جنگلے میں تبدیل کرنا اس کے لیے معمول کا کام تھا۔

انگور کی بیلیں بنانے کے لیے اس نے بہت غور و خوض کیا۔ وہ صبح سویرے نکل جاتا اور انگور کی اصل بیلیں اور ان کے پیچ و خم ذہن میں بٹھاتا۔ٹام اپنے کام میں منہمک رہتا اور مالک آنے والے گاہکوں کو بتاتے کہ وہ ایڈون ہولٹ کے لیے کام کر رہا ہے اور صرف انتہائی ضرورت کی اشیاء ہی مرمت کر سکتا ہے۔ مالک مرے اور مالکن اس کا کام دیکھنے کے لیے دکان میں چکر لگاتے رہتے۔

بعض اوقات وہ اپنے ملنے والوں کو بھی اس کی کارکردگی دکھانے کے لیے ساتھ لے آتے۔ کبھی یہ بھی ہوتا کہ آٹھ دس افراد خاموشی سے کھڑے اسے کام کرتے دیکھا کرتے۔ اسے دل ہی دل میں خوشی بھی ہوتی کہ سفید فام لوگ ایک سیاہ فام لوہار سے نظر انداز ہونے کا قطعی برا نہیں مناتے تھے۔ اس کی دکان میں آنے والے اکثر غلام یا تو بہت افسردہ ہوتے یا دکان کے متعلق آپس میں باتیں کرتے رہتے۔ لیکن جوں ہی کوئی گورا وہاں آتا سب اس طرح ہشاش بشاش نظر آنے کی کوشش کرتے کہ مسخرے لگنے لگتے۔ ٹام کو اپنا والد یاد آتا جو ڈربی ہیٹ پہن کر ایسا ہی لگتا تھا۔ جنگلے کے لیے انگور کے پتے بنانا سب سے مشکل کام تھا اور اس کا اندازہ اسے پہلے دن خاکے دیکھ کر ہی ہوگیا تھا۔ اس کے لیے اسے بہت محنت کرنا پڑی۔

اس کے بنائے پتے ایک دوسرے سے اتنے ہی مختلف تھے جتنا کہ فطری طور پر اصل پتے ہوتے ہیں۔ ساتویں ہفتے میں اس نے یہ پتے جنگلے پر لگانے شروع کر دیے۔’’ٹام مجھے تو لگتا ہے کہ کہیں یہ اگنے ہی نہ لگیں۔‘‘ مٹلڈا نے حیرت سے بیٹے کی مہارت سے متاثر ہوتے ہوئے کہا۔ اسی طرح ٹام کے بھائیوں اور ان کی بیویوں نے بھی داد دی اور ننھی کزی نے بھی، مالک مرے اور مالکن کی خوشی اور فخر چھپائے نہیں چھپ رہا تھا۔ٹام سارے جنگلے ویگن میں لاد کر ہولٹ صاحب کے بڑے گھر نصب کرنے لے چلا۔ بیگم ہولٹ اس کا کام دیکھ کر ایسا خوش ہوئی کہ اس نے اپنی نوجوان بیٹی اور جوان بیٹوں کو بھی بلا لیا اور سب حیرت اور مسرت سے ٹام کو مبارک دینے لگے۔

ٹام فوراً ہی جنگلے نصب کرنے میں جٹ گیا، دو گھنٹوں میں اس نے زمینی منزل کا کام پورا کر لیا۔ لیکن وہ کہاں تھی؟ بالائی منزل پر کام شروع کرنے کے لیے اوپر جاتے ہوئے وہ تنائو کا شکار تھا۔ یہ وہ ہی جگہ تھی جہاں وہ پہلی بار نظرآئی تھی۔ وہ کس سے اور کیسے پوچھے کہ اس کی دل چسپی بھی ظاہر نہ ہو؟ وہ کون تھی؟ کہاں تھی؟ اور اس کی حیثیت کیا تھی؟ اسی بے چینی میں ٹام اپنا کام اور بھی تیزی سے کرنے لگا تاکہ جلدی کام ختم کرکے وہاں سے چلا جائے۔وہ تیسری سیڑھیوں کی کھڑکی میں جنگلا لگا رہا تھا کہ اسے تیز قدموں کی آواز سنائی دی اور پھر وہ اس کے سامنے تھی۔

اس کا چہرہ سرخ اور بھاگنے کی وجہ سے سانس بے ترتیب تھا۔ ٹام کے منہ میں جیسے زبان ہی نہیں رہی تھی۔ ’’کیا حال ہے، مسٹر مرے؟‘‘ ٹام کو ایک دم خیال آیا کہ وہ مالک لی کے متعلق کچھ نہیں جانتی۔ اسے بس یہ ہی پتہ ہے کہ وہ مالک مرے کا غلام ہے۔ ’’تم ٹھیک ہو، مس ہولٹ…؟‘‘ ’’میں نیچے گوشت سکھا رہی تھی کہ تمہارے آنے کی خبر ملی۔‘‘ اس نے آخری کھڑکی میں نصب جنگلے کو دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’اوہ۔ یہ تو بہت پیارا ہے! مالکن ایمی لی تو تمہارے کام کی نفاست سے مدھوش پڑی ہیں۔‘‘ ٹام نے اس کے کھیتوں والے کپڑے اور سر پر لپٹی پگڑی دیکھ کر کہا’’میں سمجھا تھا تم گھر کا کام کرتی ہو۔‘‘ بات اسے موقع کی مناسبت سے بالکل صحیح لگی۔ ’’مجھے مختلف کام کرنے کا شوق ہے اور مجھے کوئی روکتا بھی نہیں۔‘‘

اس نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا۔’’میں ایک منٹ کے لیے آئی تھی۔ بہتر ہے کہ کام پر واپس چلی جائوں اور تم بھی کام پورا کرلو۔‘‘ اسے ابھی مزید باتیں پوچھنا تھیں۔ کم ازکم اس کا نام ہی، جو اس نے پوچھ لیا۔ ’’آئرین‘‘ اس نے بتایا۔’’سارے مجھے رینی کہتے ہیں۔ تمہارا کیا نام ہے؟‘‘ ’’ٹام‘‘ اس نے کہا۔ رینی کے بقول انہیں کام میں مصروف ہو جانا چاہیے تھا۔ لیکن پھر بھی اس نے جواء کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ ’’مس آئرین۔ کیا تم۔۔۔ کسی کو پسند کرتی ہو؟۔‘‘ وہ کافی دیر تک ٹکٹکی لگائے اسے دیکھتی رہی۔ حتیٰ کہ ٹام کو محسوس ہونے لگا کہ اس سے حماقت ہوگئی ہے۔’’میں اپنے دل کی بات کبھی نہیں چھپاتی۔ جب پہلی بار میں نے تمہیں دیکھا کہ تم کتنے شرمیلے ہو تو میں ڈر گئی تھی کہ شاید تم کبھی بھی مجھ سے بات نہیں کرو گے۔‘‘ ٹام کو لگا کہ وہ کھڑکی سے باہر جاگرے گا۔تب سے وہ ہر اتوار مالک مرے سے پورے دن کا سفری اجازت نامہ لے کرخچر پر نکل جاتا۔ گھر والوں کو اس نے کہہ رکھا تھا کہ وہ ادھر ادھر سے متروک دھاتی اشیاء ڈھونڈنے جاتا ہے تاکہ اپنی دکان میں کباڑ کا اضافہ کرتا رہا۔ ہر سفر میں اسے کوئی نہ کوئی کام کی چیز مل ہی جاتی۔

آئرین سے ملنے کے لیے اسے ایک طرف کے دو گھنٹے کا سفر کرنا پڑتا تھا۔ہولٹ کے رقبے پر نہ صرف آئرین بلکہ باقی لوگ بھی اسے بڑی گرم جوشی سے ملتے۔ ’’تم اتنے شرمیلے اور اتنے سمجھ دار ہو کہ لوگ خواہ مخواہ تمہیں پسند کرنے لگتے ہیں۔‘‘آئرین نے اسے ہنستے ہوئے بتایا۔ وہ دونوں کہیں قریب ہی تنہا جگہ پر چلے جاتے۔ ٹام خچر کو چرنے کے لیے کھلا چھوڑ دیتا اور دونوں ساتھ ساتھ چہل قدمی کرنے لگتے۔ اس دوران زیادہ تر گفتگو آئرین ہی کرتی تھی۔ ’’میرے پاپی ایک انجن تھے۔ میری ماں نے بتایا تھا کہ ان کا نام ہلئین تھا۔ میرا یہ عجیب رنگ ان ہی کی طرف سے آیا ہے۔‘‘ آئرین نے بے تکلفی سے بتایا۔’’امی ایک کمینے مالک کی غلامی سے بھاگی تھیں۔ جنگل میں انہیں انجنوں نے پکڑ لیا۔ وہیں ان کی شادی پاپی سے ہوئی اور میں پیدا ہوئی۔

میں بہت چھوٹی سی تھی کہ کچھ گوروں نے گائوں پر حملہ کر دیا۔ قتل و غارت کے علاوہ لوگوں کو پکڑا بھی۔ امی کو بھی دوبارہ مالک کے پاس لے آئے۔ مالک نے امی کو بہت مارا اور پھر ہمیں ایک نیگر کے تاجر کے ہاتھ بیچ دیا۔ جہاں سے مالک ہولٹ نے خرید لیا جو ہماری خوش قسمتی تھی کیوں کہ وہ سب اچھے لوگ تھے۔‘‘اس نے آنکھیں سکیڑیں۔ ’’میرا مطلب ہے کہ ان میں سے زیادہ تر، خیر امی بطور دھوبن دھلائی اور استری کا کام کرتیں۔ یہ کام وہ چار سال پہلے تک یعنی مرتے دم تک کرتی رہیں… تب سے میں یہیں ہوں۔ اٹھارہ کی ہو چکی اور نئے سال کے پہلے دن سے انیس کی ہو جائوں گی۔‘‘ اس نے ٹام کی طرف مخصوص بے تکلفانہ انداز میں دیکھا۔ ’’تم کتنے برس کے ہو؟‘‘ ’’چوبیس۔‘‘ ٹام نے جواب دیا۔ پھر ٹام نے اسے اپنے خاندان کے بارے میں بتایا اور یہ بھی کہا کہ ابھی انہیں اس نئے علاقے شمالی کیرولائنا کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہے۔ ’’ہوں‘‘ آئرین نے کہا’’میرے پاس بہت معلومات ہیں۔ کیوں کہ ہولٹ خاندان بہت اہم ہے۔ اس لیے سب بڑے لوگ ملنے آتے رہتے ہیں۔ کھانا عموماً میں ہی لگاتی ہوں اور میرے کان بھی کھلے ہوتے ہیں۔‘‘ ’’کہتے ہیں کہ اس کائونٹی کے گوروں کے دادے پڑدادے انقلاب کی جنگ سے بہت پہلے پنسلوینیا سے آئے تھے۔

تب یہاں سوائے سی سی پا انجنوں کے کوئی بھی نہیں ہوتا تھا۔ جنہیں کچھ لوگ سیکساپا بھی کہتے تھے۔ پھر گورے انگریز سپاہیوں نے یہاں وہ خون خرابا کیا کہ ان کا نام و نشان تک نہیں چھوڑا۔ اب صرف دریائے سیکساپا رہ گیا ہے۔‘‘ آئرین نے دانت بھینچ کر کہا ’’مالک کہتے ہیں کہ وہ حالات کی سختی سے تنگ آ کر دریا پار بھاگ گئے تھے۔ ان کی تعداد پنسلوینیا میں اتنی تھی کہ انگریز بھی اپنی زمینیں بیچ بُوچ کر نکل گئے۔ تب یہ زمین دو سینٹ فی ایکڑ کے حساب سے بکی تھی۔ تب کو ایکروں کی بن آئی۔ پریس بی ٹیرئین سکاچ آئرش، جرمن لوتھرنز کے ہاتھ جو لگا ویگنوں میں بھر کر کمبرلینڈ اور شینانڈو کی وادیوں میں آبسے۔ انہوں نے دھڑا دھڑ زمینیں خرید کر صاف کرنا شروع کر دیں اور تھوڑی بہت زراعت ہونے لگی۔

آج بھی اس علاقے کے اکثر گورے خود کاشت کاری کرتے ہیں۔ زراعتی رقبے بڑے نہیں تھے تو نیگر بھی کہاں سے آتے؟‘‘ ٹام اس بات پر بھی حیران ہوتا کہ آئرین کو ہر بڑی دکان کا پتہ تھا اور اس کے علاوہ ہر گرجے، سکول، ویگن شاپ کا بھی۔’’میں مالک سے ان جگہوں کے تذکرے سنتی رہتی ہوں جو وہ مہمانوں سے کرتے ہیں۔‘‘ آئرین نے وضاحت کی۔ وہ ایک اور مل کے پاس سے گزرے تو آئرین نے بتایا کہ یہ مل بھی مالک کی ہے۔ ’’وہ اپنی گندم زیادہ تر آٹا بنا کر اور مکئی سے وہسکی بنا کر فئیٹ ویل میں فروخت کرتے ہیں۔‘‘ رفتہ رفتہ ٹام کو آئرین کے منہ سے اس کے مالکوں کی تعریفیں سن سن کر الجھن ہونے لگی۔

ایک اتوار جب وہ گراہم نامی قصبے میں گھوم رہے تھے۔ آئرین نے کہا’’جس سال کیلی فورنیا میں گولڈ رش کا طوفان مچا ہوا تھا۔ تب مالک کے ابا ان بڑے لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے یہاں زمین خرید کر یہ قصبہ آباد کیا اور اسے کائونٹی سیٹ بنایا۔‘‘ اگلے اتوار جب وہ سالسبری روڈ پر جا رہے تھے تو اس نے ایک یاد گار کی طرف اشارہ کرکے کہا’’وہاں مالک کے دادا کے رقبے پر المانسے کی جنگ ہوئی تھی۔ بادشاہ سے تنگ آئے لوگ بندوقیں لے کر سرخ کوٹوں پر ٹوٹ پڑے۔ مالک کہتے ہیں کہ یہ جنگ تھی جس نے امریکی انقلاب کی جنگ کے فتیلے کو آگ دکھائی جو پانچ سال بعد شروع ہوئی تھی۔‘‘ مٹلڈا بھی اس عرصے میں بہت بے چین ہو چلی تھی۔ اب اس سے مزید صبر نہیں ہوتا تھا۔ آخر ایک روز اس نے کہہ ہی دیا۔’’کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ؟ لگتا ہے تم اپنی انجن لڑکی کو سب سے چھپا کر رکھنا چاہتے ہو!‘‘ ٹام جواباً منہ میں بڑبڑا کر چپ رہا تو مٹلڈا نے زیادہ سخت حملہ کیا۔’

’شاید وہ ہم سے بہت اچھی ہے۔ ظاہر ہے اتنے امیر اور اہم لوگوں کے پاس جو رہتی ہے۔‘‘ زندگی میں پہلی بار ٹام ماں کو کوئی جواب دیے بغیر وقار کے ساتھ اٹھ کر چلا گیا۔ اس کا جی چاہا کہ کوئی ہوتا جس کے ساتھ وہ آئرین کے متعلق اپنی دلی کش مکش کا حال بانٹ سکتا۔ وہ مانتا تھا کہ وہ آئرین سے بہت محبت کرتا ہے۔ اس کے نیگروئوں اور انڈینز والے ملے جلے نین نقش اتنے خوب صورت تھے کہ اس سے بہتر اور سمجھ دار لڑکی کا خواب میں بھی تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ لیکن اپنی طبیعت کی احتیاط پسندی کے باعث اسے دو مسئلوں کا سامنا تھا۔ جب تک وہ حل نہ ہوتے وہ کبھی کام یاب ازدواجی زندگی نہیں گزار سکتے تھے۔پہلی بات تو یہ کہ ٹام کہیں دل کی گہرائی میں کسی سفید فام شخص کو نہ تو پسند کرتا تھا نہ قابل بھروسا سمجھتا تھا بشمول مالک اور مالکن مرے۔ جب کہ آئرین اس کے برعکس اپنے مالک گوروں کی اگر پرستش نہیں کرتی تھی تو کم ازکم انہیں سراہتی بہت تھی۔

اس سے واضح تھا کہ وہ ایک مسئلے پر یک ساں رائے نہیں رکھتے تھے۔ دوسری پریشانی یہ تھی کہ ہولٹ خاندان کو آئرین سے کوئی خاص لگائو نہیں تھا جیسا کہ بعض اوقات خوش حال گھرانوں کو اپنے خاص ملازموں سے ہوتا ہے اور ٹام یہ برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ شادی کے بعد وہ اپنی بیوی سے الگ رقبے پر رہے اور ازدواجی ملاقات کے لیے انہیں اپنے اپنے مالک سے اجازت مانگنا پڑے۔ٹام نے اپنے طور پر ان مسائل کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی لیکن اس کا ایک ہی حل تھا، بے حد تکلیف دہ حل، کہ وہ آئرین سے ملنا چھوڑ دے۔ ’’کیا مسئلہ ہے ٹام!‘‘ آئرین نے اگلے اتوار اسے دیکھ کر فکر مندی سے پوچھا۔ ’’کچھ نہیں۔‘‘ وہ کچھ دور خاموشی سے سفر کرتے رہے۔

پھر اس نے اپنے مخصوص شوخ لہجے میں کہا۔’’اگر نہیں بتانا چاہتے تو تمہاری مرضی۔ لیکن مجھے پتہ ہے کہ تمہیں کوئی پریشانی ہے۔‘‘ پھر اس نے کوشش کرکے بات آگے بڑھائی’’مجھے بھی یہ ہی لگتا ہے کہ اگر میں کسی سے شادی کرنا چاہوں… تو یہ ہر گز نہیں ہوگا کہ ہم مختلف رقبوں پر رہیں۔‘‘ ’’میں بھی یہ ہی سمجھتی ہوں۔‘‘ اس کا جواب اتناغیر متوقع تھا کہ ٹام کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا اور گھبراہٹ میں لگام اس کے ہاتھ سے گر گئی۔

وہ اس کی طرف جھٹکے سے مڑا۔‘‘ کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘اس نے ہکلا کر پوچھا۔ ’’وہی جو تم کہہ رہے تھے۔‘‘ ٹام نے ذرا سخت لہجے میں کہا۔’’ تمہیں پتہ ہے کہ مالک ہولٹ اور مالکن تمہیں نہیں بیچیں گے۔‘‘ ’’جب میں بکنا چاہوں گی، بک بھی جائوں گی۔‘‘ اس نے پرسکون لہجے میں کہا۔’’تم اس کی فکر مت کرو۔ یہ میرا مسئلہ ہے۔‘‘ ٹام نے کم زور آواز میں کہا’’ٹھیک ہے تو تم بک کیوں نہیں جاتیں؟‘‘ ’’یہ تو تم پر ہے۔ جب کہو۔۔۔۔‘‘ اس کا ذہن بھاگ رہا تھا۔ اس کا مالک کتنی قمیت مانگ سکتا ہے؟ اور یہ سب ایک بے سروپا خواب ہی نہ نکلے؟ ’’تم اپنے مالک سے پوچھو کہ وہ مجھے خریدنا پسند کریں گے؟‘‘ ’’وہ تمہیں ضرور خریدیں گے۔‘‘

اس نے ضرورت سے زیادہ اعتماد کے ساتھ کہا’’کیا خیال ہے وہ تمہارے کتنے پیسے مانگیں گے؟ تاکہ مالک کو ذرا اندازہ ہو جائے۔‘‘ ’’میرا خیال ہے وہ کوئی معقول قیمت قبول کر لیں گے۔‘‘ وہ دونوں خاموش ہو کر ایک دوجے کو دیکھنے لگے۔ ’’ٹام مرے تم بھی عجیب و غریب ہو۔ اس کا اندازہ مجھے پہلے دن ہی ہوگیا تھا جب میں نے تمہیں دیکھا تھا۔ تب سے میں تمہارے منہ سے یہ سننے کے لیے بے چین تھی۔ ذرا میرے قابو آ جائو پھر تمہارے ضدی پن کا علاج کروں گی۔‘‘ اسے ان پیار بھرے مکوں کا احساس بھی نہیں ہوا جو آئرین اس کے سر اور کندھوں پر مار رہی تھی۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

یہ سب سوچ کر میرا دماغ گھومنے لگا۔ اتنے میں ہم ایک نسبتاً بڑے گائوں میں پہنچ گئے۔مجھے اندازہ ہوا کہ جو کچھ جفورے میں ہوا تھا اس کی خبر یہا ...

مزید پڑھیں

انہوں نے مجھے ایسی بات بتائی جو میرے سان گمان میں بھی نہیں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اندرون ملک کے قدیم دیہاتوں میں اب بھی ایسے بوڑھے ہوتے ہی ...

مزید پڑھیں

میں جارج اور جولیئس گرمیوں میں نانی جان کے پاس ہنینگ چلے جاتے۔ لیکن نانا اور ماما کی وفات نے انہیں اداس اور دکھی کر دیا تھا۔ وہ فرنٹ پورچ ...

مزید پڑھیں