☰  
× صفحۂ اول (current) خواتین دنیا اسپیشل کھیل سائنس کی دنیا ادب روحانی مسائل فیشن کیرئر پلاننگ خصوصی رپورٹ صحت دین و دنیا
مرغی خانے:امریکہ کے پر اسرار ،ممنوعہ علاقے !

مرغی خانے:امریکہ کے پر اسرار ،ممنوعہ علاقے !

تحریر : الیکس ہیلی

03-10-2019

’’اساس‘‘ (Roots) ایک شہرئہ آفاق ناول ہے۔ ایلکس ہیلی نے اسے بارہ سال کی تحقیق و جُستجوکے بعد لکھا ہے ۔اس ناول کودنیا بھر میں کروڑوں قارئین نے پذیرائی بخشی اور اس ناول پر فلم بنی جسے ناظرین نے بے حد پسند کیا۔ 1970ء کے آخری نصف میں یہ کتاب شائع ہوئی تو فوراً ہی بیسٹ سیلر بن گئی۔ امریکا اور دنیا بھر میں اس کی مقبولیت کی دو وجہتیں تھیں۔ ایک تو بطور ناول یہ بے حد دل چسپ اور سنسنی خیز کتاب تھی۔ دوسرے تاریخی اعتبار سے بھی اس کی اہمیت و افادیت مسلمہ تھی، مؤرخین کے مطابق یہ صرف افسانہ نہیں، اس میں حقیقت بھی ہے۔ناول کے مترجم عمران الحق چوہان ایک قانون دان، شاعر، کالم نگار، معلم ،سفرنامہ نگار اور ادیب ہیں ۔وہ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں پر عبور رکھتے ہیں ۔ ’’بُک ہوم لاہور‘‘ نے اس کا اردو ترجمہ شائع کیا ہے۔

’’اس کی عادتیں تو اچھی ہیں اور اس میں صلاحیت بھی ہے، مالک!‘‘ انکل منگونے مالک کو غلام احاطے میں رہنے والے لڑکے کے متعلق بتایا، جس کا نام پوچھنا وہ بھول گیا تھا۔اگر مالک لی اسے ایک موقع دینے پر رضامند ہوئے تو منگو کو بہت خوشی تو ہوگی لیکن حیرت نہیں۔ وہ کئی سال سے ایک ماتحت کی ضرورت محسوس کر رہا تھا۔ اسے احساس تھا کہ مالک کو بھی مرغے سدھانے والے بوڑھے کی ڈھلتی عمر اور ناگہانی موت کی فکر تھی۔ پچھلے پانچ چھے ماہ میں وہ کئی مرتبہ شدید کھانسی میں مبتلا ہو چکا تھا۔ اوراسے یہ بھی علم تھا کہ مالک بڑے عرصے سے کسی نئے غلام کی تلاش میں تھے جو مرغ سدھانے میں مدد دے سکے لیکن علاقے کے دوسرے مالک اس سلسلہ میں تعاون نہیں کر رہے تھے۔ ’’اگر کسی غلام لڑکے میں ایسی اہلیت کا امکان بھی ہو۔‘‘ ایک اور مالک نے مالک لی سے کہا تھا۔ ’’تو کیا میں اسے تمہارے ہاتھ بیچوں گا؟ ابھی تو بوڑھا منگو ہی کافی ہے۔ پانچ چھے سال میں وہ لڑکے کو بھی سکھا کر ہمارے مقابلے پر کھڑا کر دے گا۔‘‘ لیکن اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ نئے سال کی بڑی لڑائی کے فوراً بعد کاس ویل کائونٹی میں مرغ بازی کاموسم شروع ہونے والا تھا اور اگر جارج صرف دانے پانی کی ذمہ داری ہی سنبھال لے تو منگو نوجوان دو سالہ مرغوں کو لڑائی کے لیے زیادہ بہتر تربیت دے سکے گا۔ جارج کو اندازہ نہیں تھا کہ اسے مرغے اتنے پسند آئیں گے خصوصاً لڑاکا مرغ، جن کے خار نکلنے اور پروں میں شوخ رنگ بھرنے لگے تھے۔ وہ آنکھوں میں خود سری لیے بے باکانہ چلتے پھرتے تھے۔ کبھی کبھی یہ مرغے جب اپنے سر پیچھے کر کے بہت اونچی بانگ دیتے۔ جیسے پرانے مرغوں کو، جن کے تن پر پچھلی لڑائیوں کے نشان باقی تھے، للکار رہے ہوں تو جارج بہت ہنستا۔ انہیں انکل منگو اپنے ہاتھ سے خوراک دیتا تھا۔ جارج خود کو نوجوان اور انکل منگو کو پرانا مرغا سمجھنے لگا۔دن میں کم از کم ایک مرتبہ گھوڑے پر سوار ہو کر مالک لی تربیت گاہ آتے تو جارج ان کے سامنے کم سے کم آتا اسے مالک کی سرد مہری کا پورا احساس تھا۔ ’’میں اس سال تیس مرغے لڑوانے کا سوچ رہا ہوں، منگو! اس لیے ہمیں تقریباً ساٹھ مرغے تیار کرنا ہوںگے۔‘‘ ’’جی مالک! وقت آنے پر ہمیں چالیس کے لگ بھگ تربیت یافتہ مرغے چاہیے ہوں گے۔‘‘کچھ دنوں بعد اس نے مالک لی کے سامنے لڑاکا مرغوں کی دیکھ بھال کے لیے جارج کو ذمہ داری سونپنے کی بات کی اور مزید کہا کہ۔ ’’میں ساتھ ساتھ اس کو ہدایات دیتا رہوں گا۔‘‘ مالک لی اس جواب کے لیے بالکل تیار نہیں تھا۔ ’’میں بھی اس مسئلے پر سوچتا رہا ہوں۔ تمہارا کیبن چھوٹا ہے۔ میرا خیال ہے کہ تم کسی جگہ کھلاسا جھونپڑا ڈال لو تاکہ وہ ہر وقت تمہارا ہاتھ بٹانے کے لیے موجود ہو۔‘‘ منگو کو اپنے اور مرغوں کے بیچ سالوں پر پھیلی تنہائی میں کسی کی مداخلت کا خیال عجیب سا لگا لیکن اس کے پاس اختلاف کی گنجائش نہ تھی۔مالک کے جانے کے بعد اس نے ترش لہجے میں جارج سے کہا۔ ’’مالک کہہ رہے تھے کہ تمہیں مستقل میرے ساتھ رہنا ہو گا۔ شاید وہ تمہیں مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔‘‘ ’’جی جناب!‘‘ جارج نے اپنے تاثرات چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ ’’لیکن انکل میں رہوں گا کہاں؟‘‘ جارج کو احساس تھا کہ یہ مالک کے گھر میں مورپنکھ جھلنے اور مہمانوں کا دل بہلانے کے پرلطف دنوں کا آخری وقت ہے۔ اب تو مالکن بھی اسے پسند کرنے لگی تھیں۔ پھر اسے خیال آیا کہ وہ باورچی خانے سے مس مالیزی کے ہاتھ کے پکے مزے دار کھانے بھی نہیں کھا پائے گا۔ لیکن ان سب سے مشکل بات یہ تھی کہ امی کو یہ خبر کیسے دی جائے؟جارج سنجیدہ چہرہ لیے اندر آیا تو کزی گرم پانی کے لگن میں پائوں ڈالے سستا رہی تھی۔ ’’ایک بات آپ کو بتانی ہے امی؟‘‘ ’’دیکھو! میں سارا دن لکڑیاں کاٹتے کاٹتے تھک گئی ہوں۔ میں ان مرغوں کی کوئی بات نہیں سنوں گی۔‘‘ ’’نہیںیہ ان کی بات نہیں ہے۔‘‘ اس نے لمبا سانس لیا۔ ’’مالک نے انکل منگو کو نئی جھونپڑی بنانے کے لیے کہا ہے۔ میرے رہنے کے لیے!‘‘ کزی نے برتن کا پانی پھینکا اور جیسے اچھل کر کھڑی ہو گئی۔ ’’تمہارے لیے کیوں؟… وہ کون سا کام ہے جو تم یہاں رہ کر نہیں کر سکتے؟‘‘ ’’میں نے کچھ نہیں کہا امی! مالک کہہ رہے تھے۔‘‘ وہ کزی کے چہرے کا غصہ دیکھ کر ایک قدم پیچھے ہٹ گیا۔ ’’میں تو وہاں نہیں جانا چاہتا۔‘‘ ’’ابھی تم اتنے بڑے نہیں ہوئے ہو کہ کہیں بھی رہنے لگو۔ یہ اسی بڈھے منگو نے مالک کے دماغ میں ڈالا ہو گا۔‘‘ ’’نہیں امی! انہوں نے بھی نہیں کہا۔ ‘‘ جارج کو ایسی کوئی بات نہیں سوجھ رہی تھی جس سے کزی ٹھنڈی ہو سکے۔ مالک مجھ سے اور انکل منگو سے باقی نوکروں کی نسبت اچھا سلوک کرتے ہیں۔ اسے یاد آیا کہ اس کی ماں بھی باقی نوکروں میں شامل ہے۔ لیکن اب دیر ہو چکی تھی۔ کزی نے غصے اور جلن سے جارج کو پکڑ کر جھنجھوڑ ڈالا۔ ’’مالک کو تمہاری فکر کیوں ہونے لگی۔ وہ تمہارا باپ ہے مگر اسے صرف اس سے غرض ہے کہ تم اس خبطی بڈھے کا ہاتھ بٹائو اور مرغوں کو سنبھالو جو مالک کو دولت مند بنا سکتے ہیں۔‘‘ ماں کی بات سن کر جارج گم سم کھڑا تھا۔بیل نے جارج کے ایک دو جھانپڑ رسید کیے۔ ’’یہاں کھڑے کیا کر رہے ہو؟‘‘ اس نے جارج کے چند کپڑے نکال کر اس کے پر مارتے ہوئے کہا۔ ’’اسی وقت دفع ہو جائو ا س کیبن سے!‘‘ جارج تو جیسے پتھر کا ہو گیا تھا۔ کزی کو اپنے آنسوئوں پر قابو نہ رہا تووہ کیبن سے نکل کر دوڑتی ہوئی مالیزی کی طرف چلی گئی۔جارج کے آنسو اس کے چہرے پر بہہ رہے تھے۔ تھوڑی دیر وہاں رکنے کے بعد وہ بھی مرغی خانے کی طرف چل پڑا اور مرغیوں کی خوراک کا ایک خالی تھیلا تہہ کر کے سر کے نیچے رکھا اور دڑبے کے پاس ہی سو رہا۔ تڑکے تڑکے منگو آیا تو جارج کو وہاں سویا دیکھ کر سمجھ گیا کہ کیا ہوا ہو گا۔ دن بھر وہ خلافِ معمول جارج سے نرمی سے پیش آتا رہا جو پہلے ہی چپ چپ اور کھویا کھویا تھا۔ جھونپڑی دو دن میں مکمل ہوئی اور منگو اس سے بات بھی کرنے لگا۔’’ اب یہ مرغے ہی تمہاری زندگی اور تمہارا خاندان ہیں۔‘‘ وہ یہ بات اس کے ذہن میں بٹھا دینا چاہتا تھا۔لیکن جارج نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے ذہن میں ماں کی کہی ہوئی بات کے علاوہ اور کچھ نہیں آتا تھا۔ مالک اس کے ابّا ہیں؟ جارج چپ رہا تو منگو پھر گویا ہوا۔ ’’مجھے پتہ ہے سب نیگر مجھے عجیب سمجھتے ہیں…‘‘ وہ ذرا ہچکچایا۔ ’’ویسے میں کچھ کچھ ہوں بھی۔‘‘ جارج کو لگا کہ انکل منگو اس کے جواب کا منتظر تھا لیکن وہ پھر بھی خاموش ہی رہا۔ پھر اس کے ذہن میں ایک سوال آیا جو پہلے روز سے اسے تنگ کر رہا تھا۔ ’’انکل منگو! یہ مرغے دوسرے مرغوں سے کیسے فرق ہیں؟‘‘ ’’تمہارا مطلب ہے پالتو مرغوں سے؟ وہ کسی کام کے نہیں ہوتے۔ بس کھائے جا سکتے ہیں۔‘‘ انکل منگونے نے حقارت سے کہا۔ ’’یہ مرغ ایسے ہی ہیں جیسے جنگل میں ہوتے ہیں۔ تم آج بھی ان میں کسی کو جنگل میں چھوڑ دو، وہ مرغیوں پر قبضے کے لیے اسی طرح دوسرے مرغوں کو مارے گا جیسے وہ ہمیشہ جنگل میں ہی رہا ہو۔‘‘ جارج کے ذہن میں اور بھی سوال تھے۔ لیکن اب منگو کو چپ کروانا ممکن نہیں تھا۔ اس کے بقول اگر لڑاکا مرغا بلوغت سے پہلے بانگ دے دے تو اس کی گردن فوراً مروڑ دینی چاہیے۔ یہ تھڑدلے اور بزل مرغے کی نشانی ہے۔ ’’اصل لڑاکا مرغا تو انڈے سے ہی لڑاکا پیدا ہوتا ہے۔ لڑائی اسکے خون میں دادوں،پڑدادوں سے وراثت میں آتی ہے۔ مالک کہتے ہیں کہ ایک زمانے میں انسان اور مرغے اسی طرح رہتے تھے جیسے اب انسان اور کتے رہتے ہیں۔ لیکن یہ کتوں، بیلوں، ریچھوں اور سارے انسانوں سے زیادہ لڑاکا ہے۔ مالک کہتے ہیں کہ بڑے بڑے بادشاہ اور صدر بھی مرغ لڑاتے ہیں۔ ان کا یہ ہی واحد شوق ہے۔‘‘ منگو کئی کئی دن جارج سے بات چیت نہ کرتا کیوں کہ اسے مالک اور مرغوں کے سوا کسی سے بات کرنے کی عادت نہیں رہی تھی۔ لیکن اب جارج کی موجودی کی عادت ہونے پر وہ وقتاً فوقتاً اس سے بات کرنے لگا۔ اور کبھی کبھی اچانک اچھے اور لڑائی جیتنے کے اہل مرغوں کے متعلق اسے سمجھاتا۔ ’’مالک اکھاڑے میں کسی سے نہیں ڈرتے۔‘‘ ایک رات انکل منگونے اسے بتایا۔’’وجہ یہ ہے کہ انہیں اصل امیروں سے مقابلہ کر کے مزہ آتا ہے۔ ان کے پاس ہزاروں جانور ہوتے ہیں لیکن ہمارے پاس گنتی کے چند ہیں۔ پھر بھی مالک ان امیروں کی نسبت زیادہ جیتتے ہیں۔ انہیں یہ بات بری بھی لگتی ہے کیوں کہ مالک غریب کریکر سے یہاں تک پہنچے ہیں۔ صرف اچھے مرغوں اور اچھی قسمت سے آج ان کے برابر بیٹھتے ہیں۔‘‘ انکل منگو نے آنکھیں سکیڑ کر جارج کو دیکھا۔ ’’سنا تم نے لڑکے؟ یہاں کسی کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ مرغ بازی سے کتنی دولت کمائی جا سکتی ہے۔ اگر کوئی مجھے سوایکڑ کپاس یا تمباکو کے دے یا ایک بہترین لڑاکا مرغا۔ تو میں ہر بار مرغا ہی لوں۔ یہ ہی مالک کی سو چ ہے۔ اسی لیے وہ اپنی دولت سے زمین یا نئے غلام نہیں خریدتے۔‘‘ جارج چودہ برس کا ہوا تو اسے اتوار کے روز گھر والوں سے ملاقات کی چھٹی ملنے لگی۔ وہ مس مالیزی، بہن سارہ اور انکل پامپی کو بھی اپنے گھر والے ہی سمجھتا تھا۔ وہ بار بار کزی کو یقین دلاتا کہ اس کے دل میں اپنے باپ کے خلاف کوئی نفرت نہیں ہے۔ پھر بھی اس کے ذہن میں رہ رہ کر یہ خیال آتا ہی رہتا۔ غلام احاطے میں ہر شخص اس کے مرتبے سے متاثر تھا۔ اگرچہ ظاہر کوئی بھی نہیں کرتا تھا۔ ’’میں تمہیں پوتڑے باندھتی رہی ہوں۔ اگر کبھی بھولے سے بھی افسری دکھانے کی کوشش کی تو ایسی پٹائی کروں گی کہ یاد کرو گے!‘‘ ایک صبح بہن سارہ نے مذاق سے کہا۔ ’’ارے نہیں بہن سارہ! میں کہاں کا افسر ہوں۔‘‘ پھر بھی سب کو اس پر اسرار اور ممنوعہ علاقے کی، جسے مرغی خانہ کہتے تھے، ٹوہ لگی رہتی تھی۔ جارج نے بتایا کہ اس نے لڑاکا مرغوں کو چوہا مارتے، بلی کو بھگاتے اور لومڑی پر حملہ کرتے خود دیکھا ہے۔ اور لڑاکا مرغیاں تو مرغوں سے بھی زیادہ کٹ کھنیاں ہیں اور ان ہی کی طرح بانگیں بھی دیتی ہیں۔ مالک اُچکوں سے بھی محتاط رہتے تھے کہ کہیں وہ فاتح مرغ کے انڈے نہ چرا لیں۔ یا کوئی چور ان کا کوئی بیش قیمت مرغا چوری کر کے کسی دوسری ریاست میں بیچ دے یا اپنا کہہ کر لڑوانا شروع کر دے۔ جب جارج نے بتایا کہ ایک امیر مالک جی وٹ نے ایک مرغا تین ہزار ڈالر کا خریدا ہے تو مالیزی نے حیرت سے کہا۔ ’’توبہ! اتنے پیسوں میں تو وہ تین چار نیگر بھی خرید سکتے تھے!‘‘ نومبر کی ایک یخ صبح مالک لی اپنے چھکڑے میں آئے تو انکل منگو اور جارج لڑاکا مرغوں کی ٹوکری لیے ان کے منتظر تھے۔ ٹوکری چھکڑے پر رکھوا کر جارج نے انکل منگو کو پسندیدہ بوڑھا مرغ پکڑوانے میں مدد کی۔ ’’یہ بھی تمہارے جیسا ہے منگو!‘‘ مالک لی نے ہنس کر کہا۔’’جو لڑنا تھا لڑ چکا، جو نسل کشی کرنا تھی کر لی۔ اب اسے کھانے اور بانگیں دینے کے سوا کوئی کا م نہیں ہے۔‘‘ منگو نے مسکرا کر کہا۔ ’’میں تو اب بانگیں بھی نہیں دیتا مالک۔‘‘ جارج جتنا منگو سے متاثر تھا اتنا ہی مالک سے خوف زدہ بھی۔ لیکن دونوں کا مزاج خوش گوار دیکھ کر اسے بہت خوشی ہوئی۔ وہ چھکڑے پر سوار ہوئے تو منگو، مالک کے ساتھ مرغ پکڑ کر بیٹھ گیا جب کہ جارج عقب میں ٹوکریوں کے پیچھے بیٹھ رہا۔وہ چیڑھ کے جھند میں پہنچے تو چھکڑاروک کر دونوں کان لگا کر سننے لگے۔ پھر منگو نے کہا۔ ’’مجھے ان کی آواز آرہی ہے۔‘‘ اس نے گال پھلا کر زوردار پھونک مرغ کے سر پر ماری تو اس نے یک دم اونچی بانگ دی۔چند لمحوں میں درختوں میں سے اونچی بانگ آئی۔ جواب میں منگو کا مرغ پھر بولا۔ جب جارج نے پیڑوں میں سے ایک بہترین مرغ کو دوڑ کر آتے ہوئے دیکھا تو اس کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔ شوخ رنگوں کے پراس کے بدن پر چمک رہے تھے۔ شام سے ذرا پہلے چھکڑ ا واپس آیا تو اٹھائیس دو سالہ مرغوں کو ایک سالہ مرغوں سے بدل دیا گیا۔ اسی طرح اگلے روز بتیس مزید تبدیل کیے گئے۔ جارج کو محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے وہ ہمیشہ سے یہ ہی کر رہا ہے۔ اب وہ ساٹھ مرغوں کو دانہ پانی دینے میں مصروف رہتا۔ کھاتے ہوئے بھی مرغے دائیں بائیں چونچیں مارتے رہتے۔ ان کے دڑبے اس طرح بنائے جاتے تھے کہ وہ ایک دوسرے کو نہ دیکھ پائیں ورنہ ایک دوجے سے لڑنے کی کوشش میں وہ اپنے آپ کو زخمی کر لیتے تھے۔ مالک زیرِتربیت مرغوں کی تعداد دوگنی کرنا چاہتے تھے۔ ’’ سب مرغے ایک سے مزاج اور ایک سی اٹھان کے نہیں ہوتے۔‘‘ انکل منگو نے جارج کو بتایا۔ ’’اور جو ہمارے معیار کے نہ ہوں انہیں مار دیا جاتا ہے۔‘‘ ایک صبح مالک ایک بڑا ڈبہ لے کر آئے۔ انہوں نے انکل منگو کے ساتھ مل کر گندم اور اوٹ کا ونڈہ ناپ کرمکھن، بیئر کی بوتل، لڑاکا مرغیوں کے بارہ انڈوں کی سفیدیوں،پسی ہوئی آلٔوی اور جنگلی بوٹی میں ملایا۔ اس آمیزے کو آٹے کی طرح گوندھ کر پتلی پتلی ٹکیوں کی طرح پکایا گیا۔’’ اس روٹی سے ان میں جان آئے گی۔‘‘ انکل منگو نے جارج کو بتایا اور ہر روز ہر مرغ کو ان ٹکیوں کے تین مشت ٹکڑے ڈالنے کا حکم دیا۔ اور یہ بھی کہا کہ ان کے پانی کے برتن میں تھوڑی سی ریت بھی ملا دیا کرے۔ ’’منگو ! مجھے ان مرغوں پر سوائے پٹھوں اور ہڈیوں کے ایک اونس بھی چربی نظر نہ آئے۔‘‘ مالک نے حکم دیا۔ اب مرغوں کی تربیت کا عرصہ شروع ہو چکا تھا۔ انکل منگو حملہ آور مرغ کو پکڑ کر بے نمک مکھن کا اخروٹ جتنا پیڑا کھلاتا جس میں جڑی بوٹیاں ملی ہوتیں۔ پھر اسے نرم تنکوں سے بھرے ٹوکرے میں بٹھا کر اوپر مزید گھاس ڈال دیتا۔ پھر ٹوکرے کا ڈھکن بند کر دیتا۔ ’’اس سے اسے پسینہ آئے گا؟‘‘ اس نے وضاحت کی۔ سب کی ورزش ہو چکی تو جارج نے مرغے ٹوکروں سے نکال کر ان کے دڑبوں میں بند کر دیے۔ لیکن بند کرنے سے پہلے انکل منگو نے ہر مرغ کا سر اور آنکھیں زبان سے چاٹیں اور جارج کو بتایا کہ۔ ’’اس سے انہیں اپنی چونچوں سے خون کے لوتھڑے صاف کروانے کی عادت بنتی ہے۔ کیوں کہ لڑتے ہوئے زخمی ہونے پر چونچ میں خون جمنے سے ان کا سانس بند ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔‘‘ نئے سال کے آغاز کے دو دن بعد جارج باری باری مرغوں کو پکڑتا۔ مالک لی اور انکل منگو اس کے سر کے بال تراشتے۔ گردن، بازوئوں وغیرہ کے پر چھوٹے کرتے۔ اور دم کے پر بھی کتر کر چھوٹے کر دیتے۔ جارج کو اندازہ ہوا کہ اس تراش خراش سے مرغوں کی خوبصورتی بہت بڑھ جاتی ہے۔ کچھ مرغوں کی تو نچلی چونچ بھی تراشی جاتی تاکہ ان کی پکڑ مضبوط ہو۔ ان کے فطری خار گھس کر ہم وار کر دیے گئے۔ دن کا اجالا پھیلتے ہی منگو اور جارج نے حتمی منتخب بارہ مرغوں کو سفری دڑبوں میں بند کیا۔ انکل منگو نے ہر مرغ کو مقوی اشیاء ملا مکھن کا پیڑا کھلایا۔ مالک لی اپنی ویگن میں پہنچے۔ ان کے ساتھ سرخ سیبوں سے بھری ٹوکری تھی اور وہ مل کر آگے روانہ ہوئے۔ انکل منگو نے مڑ کر کہا۔ ‘‘ تمہارا کیا ارادہ ہے؟‘‘جارج پھرتی سے ویگن پر سوار ہو گیا۔ اس کے جانے کا پہلے سے طے نہیں تھا۔ وہ سانس بحال کرتا ہوا چوکڑی مار کر نیچے بیٹھ گیا۔ اس کے کانوں میں ویگن کی چرخ چوں اور مرغوں کی آوازیں مل کر آرہی تھیں۔ وہ مالک لی اور انکل منگو کا بے حد شکرگزار تھا۔ اس کے ذہن میں پھر ماں کی کہی ہوئی بات آئی کہ مالک اس کے ابو تھے یا اس کے ابو ہی اس کے مالک تھے۔راستے پر آگے جا کر اسے ہر طرف ویگنیں، گاڑیاں، چھکڑے اور پیدل لوگ نظر آنے لگے جو اپنے اپنے مرغ لڑوانے لا رہے تھے۔ اسے خیال آیا کہ کبھی مالک بھی یوں ہی پیدل اپنا پہلا مرغا جو انہوں نے ریفل ٹکٹ سے خریدا تھا، لڑوانے لے گئے ہوں گے۔ ہر گاڑی میں گورے اور غلام بھرے ہوئے تھے۔ انکل منگو نے کہا تھا کہ مرغ باز کو پتہ لگ جائے کہ کہیں مرغوں کی اہم لڑائی ہے تو وہ وقت اور فاصلے کی پرواہ نہیں کرتا۔ ان پیدل غریبوں میں سے بھی کوئی بعد میں زمین دار بن سکتا ہے، مالک کی طرح۔دو گھنٹے کے سفر کے بعد جارج کو مرغوں کی مدھم سی بانگیں سنائی دینے لگیں۔ ویگن چیڑھ کے گھنے جنگل کے پاس پہنچی تو یہ شوربے حد اونچا ہو گیا۔ اس کے ناک میں گوشت بھننے کی خوش بو آئی۔ پھر ویگن روکی گئی۔ ہر طرف گھوڑے، خچر بندھے ہوئے تھے اور لوگ باتیں کر رہے تھے۔ ’’ٹام لی!‘‘ نیچے کھڑے غریب کریکروں نے مالک کو دیکھ کر پہچان لیا جو ویگن میں کھڑے ہو کر ٹانگیں سیدھی کر رہے تھے۔ مالک ویگن سے کود کو نیچے اترے اور بھیڑ میں شامل ہو گئے۔ سینکڑوں لوگ، بچوں سے لے کر بوڑھوں تک، ادھر ادھر کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ جارج نے ادھر ادھر دیکھ کر اندازہ لگایا کہ تمام غلام گاڑیوں میں ہی رکے ہوئے مرغوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔ اور لگتا تھا کہ سینکڑوں مرغوں میں بانگیں دینے کامقابلہ ہو رہا ہے۔ کئی ویگنوں کے نیچے سفری بستر بچھے نظر آئے۔ جس کا مطلب تھا کہ بعض مالک اتنی دور سے آئے ہیں کہ وہ رات یہیں رکیں گے۔

مزید پڑھیں

یہ بھی مشہور تھا کہ مرغ باز کو پتہ لگ جائے کہ کہیں مرغوں کی اہم لڑائی ہے تو وہ وقت اور فاصلے کی پرواہ نہیں کرتا۔ ان پیدل غریبوں میں سے بھی کوئی بعد میں زمین دار بن سکتا ہے، مالک کی طرح۔دو گھنٹے کے سفر کے بعد جارج کو مرغوں کی مدھم سی بانگیں سنائی دینے لگیں۔ ویگن چیڑھ کے گھنے جنگل کے پاس پہنچی تو یہ شوربے حد اونچا ہو گیا۔ اس کے ناک میں گوشت بھننے کی خوش بو آئی۔ پھر ویگن روکی گئی۔ ہر طرف گھوڑے، خچر بندھے ہوئے تھے اور لوگ باتیں کر رہے تھے۔’’ٹام لی!‘‘ نیچے کھڑے غریب کریکروں نے مالک کو دیکھ کر پہچان لیا جو ویگن میں کھڑے ہو کر ٹانگیں سیدھی کر رہے تھے۔ مالک ویگن سے کود کو نیچے اترے اور بھیڑ میں شامل ہو گئے۔ سینکڑوں لوگ، بچوں سے لے کر بوڑھوں تک، ادھر ادھر کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ جارج نے ادھر ادھر دیکھ کر اندازہ لگایا کہ تمام غلام گاڑیوں میں ہی رکے ہوئے مرغوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔ اور لگتا تھا کہ سینکڑوں مرغوں میں بانگیں دینے کامقابلہ ہو رہا ہے۔ کئی ویگنوں کے نیچے سفری بستر بچھے نظر آئے۔ جس کا مطلب تھا کہ بعض مالک اتنی دور سے آئے ہیں کہ وہ رات یہیں رکیں گے۔

مزید پڑھیں

کزی نے نیچی آواز میں جواب دیا۔ ’’نہیں۔‘‘ ’’میرا خیال ہے چھ سے سات سو ڈالر میں۔ آج کل کے حالات میں، میں نے ان سے سنا ہے کہ غلاموں کی قیمتیں بہت چڑ ھ گئی ہیں۔ اور تم دیکھنے میں مضبوط اور نوجوان ہو اور اچھی نسل کی لگتی ہو۔ کزی کی زبان گنگ ہو گئی تھی۔ تپتے سورج کے نیچے، کھیتوں میں کام کرتے ہوئے کئی بار کزی کو چکر آجاتے۔ صبح صبح متلی اور الٹیاں بھی جاری تھیں۔ ہل کے کھردرے اور بھاری دستے کو کھینچتے ہوئے اس کے ہاتھوں پر چھالے بنتے اور پھوٹ جاتے، دوبارہ پانی سے بھرتے اور پھر پھوٹ جاتے۔ لکڑیاں کاٹتے ہوئے بھی وہ تجربہ کار موٹے انکل پامپی اور ہلکی رنگت والی بہن سارہ جتنا کام کرنے کی کوشش کرتی۔ وہ دونوں ابھی تک ا س پر اعتماد نہیں کرتے تھے۔ اسے لگتا کہ ان دنوں وہ بیل کو اپنے پاس رکھنے کے لیے کوئی بھی قیمت ادا کر سکتی ہے۔

مزید پڑھیں

مس مالیزی کے چہرے پر افسوس دیکھ کر کزی نے لہجہ ذرا خوش گوار بنا کر اسے ماضی کا سارا قصہ سنا ڈالا۔ ’’میں اب بھی خود سے کہتی رہتی ہوں کہ وہ کبھی نہ کبھی مجھے ڈھونڈھتا ہوا یہاں آجائے گا۔‘‘ اس کے لہجے میں دعا کا ساتاثر تھا۔’’ سچ کہوں مس مالیزی، اگر ایسا ہو گیا تو ہم ایک دوسرے سے ایک لفظ بھی نہیں کہیں گے۔ بس ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر تم سب کو الوداع کہیں گے اور جارج کو لے کر چلے جائیں گے۔ میں اس کے آخری الفاظ کبھی نہیں بھول سکتی۔ اس نے کہا تھا۔‘‘ہم ساری زندگی اکٹھے رہیں گے، میری جان!‘‘ کزی کی آواز بھر آئی۔ اور وہ دونوں رونے لگیں۔ پھر کزی اپنے کیبن لوٹ آئی۔

مزید پڑھیں