☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل عالمی امور کیرئر پلاننگ سنڈے سپیشل فیشن کھیل کچن کی دنیا شوبز خواتین دنیا کی رائے روحانی مسائل طنزومزاح ادب
صدر لنکن کی جانب سے افریقی غلاموں کی تجارت پر پابندی

صدر لنکن کی جانب سے افریقی غلاموں کی تجارت پر پابندی

تحریر : الیکس ہیلی

07-07-2019

ٹام نے ان سے ذکر نہیں کیا تھا لیکن وہ دن بھر آگ بگولا گوروں کی باتیں سنتا رہا تھا جو کہہ رہے تھے کہ وہ خون کی ندیاں بہا دیں گے لیکن ریاستی حقوق کے نام پر شمال کے آگے نہیں جھکیں گے اور نہ غلام رکھنے کا حق چھوڑیں گے۔

’’میں تمہیں ڈرانا نہیں چاہتا۔‘‘ اس نے مٹلڈا اور آئرین کو بتایا۔’’لیکن مجھے یقین ہو چلا ہے کہ جنگ ہو کر رہے گی۔‘‘

’’اوہ، میرے خدایا! جنگ کہاں ہوگی، ٹام؟‘‘

آئرین نے جھنجھلا کر دونوں سے کہا’’میں تو اس بات پر ہر گز یقین کرنے والی نہیں کہ یہ گورے ہم نیگروں کے لیے ایک دوسرے کی جان لیں گے۔‘‘

ٹام کی دکان پر آنے والے بہت سے نیگروئوں نے بتایا کہ ان کے مالک اور مالکائیں بہت شکی اور محتاط ہوگئے ہیں اور اپنے قدیم ترین غلام کے آتے ہی ہجوں میں باتیں کرنے لگتے ہیں۔

’’کیا بڑے گھر والے بھی آپ سے ایسے ہی کرتے ہیں امی؟‘‘ ٹام نے مٹلڈا سے پوچھا۔

’’وہ سرگوشیوں اور ہجوں میں تو باتیں نہیں کرتے لیکن میرے جاتے ہی اچانک فصلوں اور دعوتوں کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔‘‘

’’بہتر یہ ہی ہے کہ ہم خود کو بہرا ہی ظاہر کریں، جیسے ہمیں اردگرد کی کوئی خبر ہی نہ ہو۔‘‘ ٹام نے کہا۔

مٹلڈا نے اس تجویز پر غور کیا پھر اس کے برعکس عمل کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک رات کھانے کے بعد جب اس نے مرے خاندان کو میٹھا پیش کیا تو اچانک بولی ’’معاف کرنا مالک اور مالکن! میں اور میرے بچے کچھ عرصے سے عجیب و غریب باتیں سن رہے ہیں۔ ہمیں تو ینکیوں سے بہت ڈر لگ رہا ہے۔ اگر کوئی مسئلہ بنا تو آپ ہمیں بچا لیں گے نا؟‘‘ اسے مالکوں کے چہرے پر خوشی اور اطمینان کی چمک ابھرتی نظر آئی۔

’’بالکل صحیح کہتی ہو۔ یہ ینکی تمہارے ہمدرد بالکل نہیں ہیں!‘‘ بیگم مرے نے کہا۔

’’گھبرائو مت!‘‘ مالک نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہا ’’یہاں کوئی مسئلہ نہیں بنے گا۔‘‘

مٹلڈا نے یہ واقعہ گھر میں بتایا تو سب خوب ہنسے۔ ایسا ہی ایک دل چسپ واقعہ ٹام نے سنایا۔ جو میل ول ٹائون شپ کے ایک سائیس کا تھا۔ اس کے مالک نے پوچھا کہ لڑائی میں تم کس کا ساتھ دو گے؟ تو اس نے جواب دیا۔’’مالک دو کتے ہڈی پر لڑ رہے ہوں تو ہڈی کسی کا ساتھ دے گی؟ ہم ہی تو وہ ہڈی ہیں۔‘‘

کرسمس اور پھر نیا سال بھی خاموشی سے گزر گئے۔ ہر چند دن بعد ٹام کے گاہک اسے جنوبی ریاستوں کی بغاوت کی اطلاع دیتے۔ پہلے مسی سپی پھر فلوریڈا، الاباما، جارجیا اور لوزیانا سب جنوری 1861 میں باغی ہوگئیں اور یکم فروری کو ٹیکساس بھی ان سے مل گئی۔ ان ریاستوں نے الحاق کرکے اپنے صدر کا اعلان کر دیا جس کا نام جیفر سن ڈیوس تھا۔

’’مالک ڈیوس اور سارے جنوب کے سینیٹرز، کانگرس مین اور فوج کے اعلیٰ عہدے دار۔‘‘ ٹام نے انہیں بتایا ’’استعفے دے کر گھر واپس آ رہے ہیں۔‘‘

’’میرا خیال ہے کہ وقت قریب آ رہا ہے۔‘‘ مٹلڈا نے کہا’’ایک آدمی نے آج مالک کو بتایا ہے کہ بوڑھا جج رفن کل واشنگٹن ڈی سی میں کسی امن کانفرنس میں شرکت کرنے جا رہا ہے۔‘‘

کچھ دن بعد ٹام کے ایک گاہک نے بتایا کہ امن کانفرنس ناکام ہوگئی ہے اور جج رفن واپس آگیا ہے۔ وہاں شمال اور جنوب کے نوجوان وفود میں کافی توتکار ہوئی ہے۔ ایک بگھی ڈرائیور نے ٹام کو بتایا کہ المانسے کائونٹی کی عدالت کے چوکی دار نے اسے بتایا ہے کہ تقریباً چودہ سو مقامی سفید فاموں کی میٹنگ ہوئی ہے جس میں مالک مرے بھی تھے اور آئرین کے سابق مالک ہولٹ اور دیگر معززین نے چیخ چیخ کر کہا کہ جنگ کا رخ بدلنا ضروری ہے اور وفاق سے بغاوت نہیں کرنی چاہیے۔ مالک گائلزمی بین کی نگرانی میں ریاست کی علیحدگی پر ووٹ لیے گئے تو ایک کے مقابلے میں چار کی نسبت سے اتحاد کے حق میں فیصلہ ہوا۔

خبریں اتنی تھیں کہ انہیں سمجھنے کا وقت نہیں ملتا تھا۔ مارچ میں اطلاع آئی کہ صدر لنکن نے عہدے کا حلف اٹھالیا ہے اور الاباما اور مونٹگمری میں ایک بڑی تقریب میں متحدہ ریاستوں کا جھنڈا لہرایا گیا ہے اور جیف ڈیوس نے افریقی غلاموں کی تجارت پر پابندی عائد کر دی ہے۔ چند ہی دن بعد تنائو میں بے حد اضافہ ہوگیا کیوں کہ شمالی کیرولائنا کی مقننہ نے فوری طور پر بیس ہزار فوجی رضاکار طلب کر لیے تھے۔

12 اپریل 1861 جمعے کی صبح مالک می بین میں ایک اجلاس میں شریک ہونے چلے گئے۔ لوئس، جیمز، ایش فورڈ، ننھی کزی اور میری کھیتوں میں تمباکو کاشت کر رہے تھے کہ انہوں نے غیر از معمول بہت سے سفید فام گھڑ سواروں کو مرکزی راستے سے سرپٹ گزرتے دیکھا۔ جب ایک سوار نے گھوڑ آہستہ کرکے ان کی طرف مکا لہرا کر کچھ کہا، جو انہیں سمجھ نہیں آیا، تو ورجل نے فوراً ننھی کزی کو مٹلڈا، ٹام اور آئرین کی طرف دوڑایا کہ ضرور کوئی بڑا واقعہ ہوا ہے۔

 کزی کی بات سن کر ٹام کو غصہ آگیا۔ ’’وہ تم سب پر کیا چلاّ رہا تھا؟‘‘ اس نے پوچھا لیکن کزی اسے اتنا بتا سکی کہ گھڑ سوار دور تھا اور وہ صحیح سن نہیں سکے۔

’’میرا خیال ہے میں خود خچر لے کر جائوں اور پتہ لگائوں۔‘‘ ٹام نے خچر پر بیٹھتے ہوئے کہا۔

’’لیکن تمہارے پاس سفری اجازت نامہ تو ہے نہیں!‘‘ ورجل چلایا۔

’’مجھے ہمت کرنی ہی پڑے گی۔‘‘ ٹام نے پلٹ کر جواب دیا۔

وہ مین روڈ پر پہنچا تو لگا جیسے گھڑ دوڑ کے مقابلے میں آگیا ہے۔ سب لوگ کمپنی کی دکانوں کی طرف جا رہے تھے جہاں ٹیلی گراف آفس میں کھمبوں پر لگے تاروں سے اہم خبریں آ رہی تھیں۔ بھاگتے ہوئے گھڑ سوار ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے لیکن وہ بھی ٹام کی طرح بے خبر ہی تھے۔ اس بھگدڑ سے اندازہ ہوگیا کہ گڑبڑ ہو چکی ہے۔ پھر جب وہ ٹیلی گراف آفس کے قریب بھیڑ میں پہنچا تو اس کا دل بری طرح دھڑکنے لگا۔

خچر سے اتر کر اس نے خچر کو باندھا اور مشتعل سفید فاموں کے ہجوم کی طرف بڑھا جو بار بار تاروں کی طرف یوں دیکھ رہا تھا جیسے تاروں میں آتی خبر دیکھنا چاہتا ہو۔ وہ ایک طرف کو ہو کر سیاہ فاموں کے ایک گروہ کی طرف چلا گیا۔’’مالک لنکن نے ہمارے لیے جنگ شروع کر دی ہے!…‘‘ ایک نے کہا’’لگتا ہے خدا بھی نیگروئوں کا حمائتی ہے…‘‘ دوسرے نے لقمہ دیا۔’’مجھے تو یقین نہیں آتا… آزادی، میرے خدایا آزادی!‘‘

ایک بوڑھے آدمی سے پوچھنے پر ٹام کو حقیقت معلوم ہوئی۔ سائوتھ کیرولائنا کے دستے چارلسٹن ہاربرپر واقع فیڈرل فورٹ پر فائرنگ کر رہے تھے اور صدر ڈیوس کے حکم پر جنوب میں واقع انتیس فیڈرل بیسز پر قبضہ کر لیا گیا تھا۔ جنگ واقعی شروع ہو چکی تھی۔ ٹام مالک کی واپسی سے پہلے ہی گھر واپس پہنچ گیا۔ انہوں نے سنا کہ دو دن کے محاصرے کے بعد فیڈرل فورٹ سمٹر پر قبضہ کر لیا گیا تھا۔ دونوں فریقوں کے پندرہ آدمی مرے اور ہزار سے زیادہ غلام چارلسٹن ھاربر کے داخلی دروازے کو ریت بھری بوریوں سے بند کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ شمالی کیرولائنا کے گورنر جون ایلس نے صدر لنکن کو آگاہ کیا کہ وہ شمالی کیرولائنا کے دستے نہیں لے گا اور ہزاروں بندوقچی کنفڈریٹ آرمی میں شامل کر دیے۔ صدر ڈیوس نے جنوب کے تمام اٹھارہ سے پینتیس سال تک کے سفید فاموں کو تین سال کے لیے رضاکارانہ طور پر جنگ میں شامل ہونے کا کہہ دیا اور حکم جاری کیا کہ کسی بھی رقبے پر موجود دس مرد غلاموں میں سے ایک جنگی بیگار کے لیے مہیا کیا جائے۔ جنرل رابرٹ ای۔ لی نے یونائٹڈ سٹیٹس کی فوج سے استعفیٰ دے کر ورجینیا کی فوج کی قیادت سنبھال لی۔ یہ افواہ بھی گردش کر رہی تھی کہ واشنگٹن ڈی سی میں ہر سرکاری عمارت کو جنوبی فوجوں کے حملے کے خوف کے باعث فوجیوں اور لوہے اور سیمنٹ کی رکاوٹوں سے محفوظ بنایا جا رہا ہے۔

المانسے کائونٹی میں جنگ پر جانے والے سفید فاموں کی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ ٹام کو ایک سیاہ فام ویگن ڈرائی ور نے بتایا کہ اس کے مالک نے اپنے سب سے بااعتماد غلام کو بلا کر کہا کہ ’’مجھے امید ہے کہ میری واپسی تک تم مالکن اور بچوں کا دھیان رکھوگے۔‘‘ بہت سے اوس پڑوس کے لوگ اپنے گھوڑوں کو نعل لگوانے اس کی دکان پر اکٹھے ہوگئے۔ وہ سب نو ساختہ ’’ھافیلڈز کمپنی‘‘ جو المانسے کائونٹی کی نمائندہ تھی، میں شمولیت کے لیے می بین ٹائون شپ میں جمع ہو رہے تھے۔ جہاں سے ٹرین پر انہیں شارلٹ میں واقع تربیتی کیمپ پہنچنا تھا۔ ایک سیاہ فام بگھی ڈرائی ور نے اسے الوداعی منظر سناتے ہوئے بتایا کہ ’’عورتیں زار وقطار رو رہی تھیں اور لڑکے ٹرین کی کھڑکیوں سے باغیانہ نعرے لگا رہے تھے۔ کچھ کہہ رہے تھے کہ ان کتیا کے بچے ینکیوں کو جہاز پر چڑھا کر ناشتے سے پہلے واپس آ جائیں گے۔ چھوٹے مالک نے سرمئی وردی پہن رکھی تھی اور بڑے مالک اور مالکن کی طرح خود بھی پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔ وہ بڑی مشکل سے ایک دوسرے سے الگ ہوئے اور جھوٹ کیوں بولوں، میں تو خود بھی رو رہا تھا۔‘‘

رات گئے ٹام آئرین کے بستر کے پاس بیٹھا تھا۔ جب دردزہ کی شدت سے آئرین چیخنے لگی تو وہ اپنے ماں کو بلانے بھاگا۔ مٹلڈا بھی اسی امید پر جاگ رہی تھی۔ وہ اسے کیبن سے نکلتی ہوئی ملی کیوں کہ اس نے چیخیں سن لی تھیں۔ مٹلڈا نے پلٹ کر ننھی کزی اور میری سے کہا ’’پانی کا پتیلا ابال کر میرے پاس لے آئو!‘‘ کچھ ہی دیر میں ٹام کے پانچوں بھائی اور دوسرے بڑے افراد بھی اکٹھے ہوگئے۔ صبح پوپھٹتے ہی انہیں بچے کے رونے کی آواز سنائی دی تو سب نے ٹام کو مبارک باد دی۔ چند لمحوں بعد مٹلڈا نے بتایا ’’ٹام! تمہارے ہاں ایک اور بیٹی ہوئی ہے۔‘‘

ذرا دن چڑھ آیا تو سب بچی کو دیکھنے اندر گئے۔ مٹلڈا نے یہ خبر بڑے گھر بھی پہنچا دی اور ناشتے سے فارغ ہو کر مالک اور مالکن اپنی نئی ملکیت کو دیکھنے آئے۔ بچی کا نام آئرین کی ماں کے نام پر’’ایلن‘‘ رکھا گیا۔ ٹام کو باپ بننے کی خوشی میں یہ بات بھی بھول گئی کہ اسے بیٹے کا کتنا چائو تھا۔

اگلی سہ پہر مٹلڈا ٹام کی دکان پر گئی اور کہا ’’پتہ ہے ٹام میں کیا سوچ رہی تھی؟‘‘ ٹام نے جواب دیا۔’’آپ کو دیر ہوگئی امی۔ میں نے سب سے کہہ دیا ہے کہ اتوار کی رات میرے کیبن میں آ جائیں جہاں میں اپنی بچی کو خاندان کی کہانی سنائوں گا۔ جس طرح میں نے ماریا کو اس کی پیدائش پر سنائی تھی۔‘‘ منصوبے کے مطابق سب لوگ جمع ہوئے اور ٹام نے حسب روایت کہانی سنائی۔ بعد میں خوب ہنسی مذاق بھی ہوا۔ کسی نے کہا کہ اگر کبھی کوئی اپنے بچے کو یہ کہانی نہیں سنائے گا تو اسے دادی کزی کی روح آ کر ڈانٹے گی۔

بچی کی پیدائش کی خوشی جلد ہی کم ہوگئی کیوں کہ جنگ میں تیزی آگئی تھی۔ دن بھر ٹام گھوڑوں کو نعل لگاتے ہوئے اور آلات کی تیاری اور مرمت کے دوران کان کھڑے رکھتا اور سفید فام گاہکوں کی باہمی گفتگو غور سے سنتا رہتا۔ اتحادیوں کی کامیابیوں کی خبروں سے اس کا دل ڈوبنے لگتا۔ خاص طور پر ایک جھڑپ، جسے گورے ’’بل رن‘‘ کہتے تھے، نے ان میں بہت جوش و خروش پیدا کر دیا۔ وہ نعرے لگاتے ہوئے اپنے ہیٹ اچھال رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ جو ینکی مردہ یا زخمی نہیں تھا سر پر پائوں رکھ کر بھاگ گیا تھا۔ اسی طرح مسوری میں ’’والسن کریک‘‘ کے مقام پر ینکیوں کے بھاری نقصان پر خوشی منائی گئی۔ کچھ ہی دن بعد ورجینیا میں ’’بالزبلف‘‘ کے مقام پر سینکڑوں یینکی مارے گئے جن میں گولیوں سے چھلنی ایک جنرل بھی تھا جو صدر لنکن کا قریبی دوست تھا۔ ’’تمام گورے چاہتے تھے کہ صدر لنکن ان کے قہقہے سنے اور بچوں کی طرح روئے۔‘‘ ٹام نے اپنے گھر والوں کو بتایا،1861ء کے آخر تک المانسے کائونٹی نے مختلف مقامات پر بارہ کمپنیاں روانہ کیں۔ ’’خدا جانتا ہے کہ اگر یہ ہی حال رہا تو ہم کبھی آزاد نہیں ہوں گے!‘‘ 

مٹلڈا نے سب کے بجھے بجھے چہرے دیکھ کر ایک سہ پہر کہا۔ کافی دیر تک کوئی کچھ نہیں بولا۔ پھر للی سونے اپنے بیٹے اور یاہ کو سنبھالتے ہوئے کہا۔’’آزادی کی باتوں سے کیا ہونا ہے۔ میں نے تو امید ہی چھوڑ دی ہے۔‘‘1862ء کی بہار کی ایک شام ایک سوار، اتحادیوں کی سرمئی وردی میں، مالک مرے کے گھر کی طرف آتا دکھائی دیا جو دور سے ٹام کو کچھ مانوس لگا۔ قریب آنے پر وہ سابق کائونٹی شریف کیٹس نکلا جو چارے کی دکان کا مالک تھا اور جس کے مشورے کی وجہ سے چکن جارج کو ریاست چھوڑ کر جانا پڑا تھا۔ کیٹس گھوڑے سے اتر کر بڑے گھر چلا گیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد مٹلڈا اس کی دکان کی طرف آتی نظر آئی۔ اس کے چہرے پر گھبراہٹ تھی۔ ’’ٹام! مالک تمہیں بلا رہے ہیں۔ وہ اس کمینے مالک کیٹس سے باتیں کر رہے ہیں۔ کیا تمہیں کوئی اندازہ ہے وہ کیوں بلا رہے ہیں؟‘‘

ٹام کا ذہن امکانات پر غور کر رہا تھا۔ سنا تھا کہ بعض مالکان اپنے غلاموں کو اپنے ساتھ ہی جنگ پر لے گئے تھے اور بعض اپنے ہنر مند غلاموں کو رضاکارانہ طور پر خود میدان جنگ میں بھیج رہے تھے۔ پھر بھی اس نے تحمل سے جواب دیا۔’’کچھ اندازہ نہیں امی۔ میرا خیال ہے جا کر ہی کچھ پتہ لگے گا۔‘‘ چیزیں سمیٹ کر ٹام بڑے گھر کی جانب چل دیا۔

’’جی مالک!‘‘ ٹام نے کیٹس کی طرف دیکھے بنا کہا، جس کی نگاہ اسے چبھتی محسوس ہو رہی تھی۔

’’میجر کیٹس کا کہنا ہے کہ وہ کمپنی کی دکانوں میں نئے کیولری یونٹ کو تربیت دے رہے ہیں اور انہیں ضرورت ہے کہ تم ان کے گھوڑوں کو نعل لگائو۔‘‘

ٹام نے تھوک نگلا۔ اسے اپنے الفاظ کانوں میں گونجتے محسوس ہوئے۔ ’’اس کا مطلب ہے مالک میں جنگ پر جا رہا ہوں؟‘‘ لیکن اس کا جواب کیٹس نے زہر بھرے لہجے میں دیا۔ ’’کوئی نیگر وہاں پھٹک بھی نہیں سکتا جہاں میں لڑ رہا ہوں۔ تمہیں صرف وہاں گھوڑوں کو نعل لگانے ہیں جہاں ہم تربیت دے رہے ہیں۔‘‘

’’میں نے اور میجر نے بات کر لی ہے۔‘‘ مالک مرے نے کہا’’دوران جنگ ایک ہفتہ تم کیولری میں کام کرو گے اور ایک ہفتہ یہاں۔ یہ کام زیادہ عرصہ نہیں کرنا پڑے گا۔‘‘ مالک مرے نے میجر کیٹس کی طرف دیکھ کر کہا ’’ٹام کب سے کام شروع کرے؟‘‘

’’اگر کوئی مسئلہ نہ ہو تو کل صبح ہی سے۔‘‘

مالک مرے نے اعتماد کے ساتھ کہا’’آج رات میں سفری اجازت نامہ لکھ دوں گا اور اپنا ایک خچر دے دوں گا‘‘۔

’’بہت اچھے۔‘‘ کیٹس نے کہا پھر اس نے ٹام کی طرف دیکھا۔ ’’ہمارے پاس وقت ضائع کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔‘‘

’’جی سر۔‘‘

ٹام اپنے اوزار لے کر کمپنی کی دکانوں پر پہنچا تو اردگرد کے چھدرے جنگل کی جگہ چھوٹے خیموں کی قطاریں نظر آئیں۔ قریب پہنچ کر اسے بگل بجنے اور گولیاں داغنے کی آوازیں سنائی دیں۔ پھر اسے ایک گھڑ سوار محافظ اپنی طرف آتا دکھائی دیا۔

’’نظر نہیں آتا یہ فوج ہے، نیگر؟ کدھر اٹھائے جا رہے ہو؟‘‘ فوجی نے پوچھا۔

’’میجر کیٹس نے مجھے گھوڑوں کو نعل لگانے کے لیے بلایا ہے۔‘‘ ٹام نے گھبرا کر کہا۔’’اچھا کیولری اس طرف ہے۔‘‘ فوجی نے اشارہ کیا’’اس سے پہلے کہ تمہیں گولی لگے وہاں پہنچ جائو۔‘‘

’’خچر کو ایڑ لگا کر ٹام ایک ٹیلے کے پاس آیا جہاں گھڑ سواروں کی چار قطاریں موجود تھیں۔ افسران احکامات جاری کرنے کے لیے چلاّ رہے تھے۔          ٹام نے میجر کیٹس کو پہچان لیا جو اپنے گھوڑے پر سوار ادھر ادھر آ جا رہا تھا۔ میجر کے اس کی طرف دیکھنے پر اس نے سرہلا کر سلام کیا۔ دوسری طرف سے ایک گھڑ سوار اس کی طرف لپکا۔ ٹام نے خچر کو روک لیا۔

’’جی سر۔‘‘

محافظ نے خیموں کے ایک چھوٹے جھنڈ کی طرف اشارہ کیا۔‘‘ ان کوڑے کرکٹ کے خیموں کے ساتھ تم کام کرو گے۔ تم اپنے اوزار سیدھے کر لو تو ہم گھوڑے بھیجنے شروع کریں۔‘‘

پہلے ہفتے تو گھوڑوں کو نعل لگاتے لگاتے ٹام کو کمر سیدھی کرنے کا موقع نہیں ملا ۔پہلا ہفتہ صبح سے شام تک جھکے جھکے اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا آنے لگا۔ فوجیوں کی ہر بات سے لگتا تھا کہ یینکی ہر محاذ پر منہ کی کھا رہے ہیں۔ وہ تھکن سے نڈھال گھر آتا تو وہاں بھی گاہک اسے گھیرے رہتے۔سب غلام عورتیں بہت پریشان تھیں۔ گزشتہ دن اور رات سے للی سو کا بیمار بیٹا اور یاہ نیم دیوانہ لگنے لگا تھا۔ ٹام کے آنے سے ذرا پہلے وہ مٹلڈا کو جھاڑو دیتے ہوئے فرنٹ پورچ کے قریب مکان کے نیچے بھوکا پیاسا چھپا ہوا ملا۔’’میں سننے کی کوشش کر رہا تھا کہ مالک اور مالکن نیگروئوں کو آزاد کرنے کے لیے کیا باتیں کر رہے ہیں۔ لیکن مجھے کچھ سنائی نہیں دیا۔‘‘اور اب مٹلڈا اور آئرین مل کر للی سو کو تسلی دینے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ٹام نے بھی اسے حوصلہ دیا اور پھر ہفتے بھر کی کارگزاری سنانے لگا۔ ’’مجھے تو کوئی اچھی خبر سننے کو نہیں ملی۔‘‘ اس نے کہا۔ آئرین نے بھی اس کی بات کی تائید کی۔ ’’ہم نے کبھی آزاد نہیں ہونا۔ اس لیے اس کی فکر بھی کیوں کریں؟‘‘ لیکن مٹلڈا نے کہا’’سچ بتائوں مجھے تو لگتا حالات پہلے سے بھی بدتر ہو جائیں گے۔‘‘

ٹام کا بھی یہ ہی خیال تھا۔ اسے کیولری میں کام کرتے دوسرا ہفتہ تھا۔ تیسری رات اسے قریبی کوڑے کے خیمے سے شور سا سنائی دیا۔ اس نے اندھیرے میں ٹٹول کر اپنا ہتھوڑا اٹھا لیا اور وجہ جاننے کے لیے باہر نکل آیا۔ پہلے تو وہ سمجھا کہ شاید کوئی جانور بدک گیا ہوگا۔ پھر چاندنی میں اسے ایک سایہ خیمہ سے نکلتا نظر آیا جو کچھ کھا رہا تھا۔ قریب جانے پر ٹام ایک سوکھے سے نوجوان کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ پہلے تو وہ ایک دوسرے کو گھورتے رہے پھر وہ لڑکا بھاگا۔ لیکن چند قدم دور جا کر وہ کسی شے سے ٹکرا کر گرا لیکن دوبارہ اٹھ کر بھاگ گیا اور اندھیرے میں گم ہوگیا۔ کھٹکا سن کر مسلح محافظ لالٹینیں اٹھائے وہاں پہنچے تو ٹام ہتھوڑا پکڑے کھڑا تھا۔

’’او نیگر، کیا چوری کر رہا ہے؟‘‘

ٹام کو فوراً احساس ہوا کہ وہ مصیبت میں پڑ گیا ہے۔ اگر اس نے براہ راست انکار کیا تو یہ کسی گورے کو جھٹلانے کے برابر ہوگا جو چوری سے بھی خطرناک جرم تھا۔ اس نے گڑبڑا کر کہا’’م م م۔ میں، میں نے شور سنا تھا باہر نکلا تو ایک سفید فام کو کوڑے گھر میں دیکھا، مالک! لیکن وہ بھاگ گیا۔‘‘

دونوں محافظوں کو اس کی بات پر یقین نہیں آیا اور وہ ہنسنے لگے۔‘‘ ابے نیگر تجھے ہم اتنے بے وقوف نظر آتے ہیں‘‘ ایک نے کہا’’میجر کیٹس نے تم پر خصوصی نظر رکھنے کو کہا تھا۔ صبح وہ جاگیں گے تو تمہیں ان کے پاس پیش کریں گے۔‘‘ 

پھر دوسرے محافظ نے کہا’’یہ ہتھوڑا پھینک دو!‘‘ ٹام نے بے ساختہ ہتھوڑے پر گرفت مضبوط کر لی۔ محافظ نے ایک قدم اٹھایا اور بندوق سیدھی کرتے ہوئے کہا’’پھینک دو!‘‘ٹام نے ہاتھ کھول دیا اور ہتھوڑا زمین پر گرنے کی آواز آئی۔ محافظ اسے اپنے آگے چلاتے ہوئے ایک بڑے خیمے کے باہر کھلی جگہ پر لے آئے جہاں ایک اور محافظ موجود تھا۔ ’’ہم گشت پر تھے اور اس نیگر کو چوری کرتے ہوئے پکڑا ہے۔‘‘ ان میں سے ایک نے کہا ’’ہم خود ہی اسے سنبھال لیتے لیکن میجر صاحب نے اس پر نظر رکھنے اور ان ہی کو رپورٹ کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ اس لیے ہم صبح آئیں گے۔‘‘

دونوں محافظ ٹام کو نئے محافظ کے سپرد کرکے چلے گئے۔ جس نے غصے سے کہا ’’زمین پر چت لیٹ جائو نیگر! اگر ذرا بھی ہلے تو سمجھو کہ تم مردہ ہو۔‘‘ ٹام حسب الحکم لیٹ گیا۔ زمین ٹھنڈی تھی۔ اس نے متوقع سزا اور فرار کے امکانات پر غور کیا اور پھر اس کے نتائج کا سوچا۔ پوپھٹی تو میجر کے جاگنے کی آواز سن کر پہلے دونوں محافظ بھی آگئے۔ ایک نے باہر سے پوچھا۔’’میں حاضر ہوں سکتا ہوں میجر؟‘‘

’’کیا مسئلہ ہے؟‘‘ ٹام کو اندر سے غراہٹ سنائی دی۔

’’کل رات لوہار کو چوری کرتے ہوئے پکڑا ہے سر!‘‘

کچھ دیر سکوت رہا۔ ’’اب وہ کہاں ہے؟‘‘

’’یہ باہر ہماری قید میں ہے، سر!‘‘

’’میں آ رہا ہوں۔‘‘

ایک منٹ بعد میجر پردہ ہٹا کر باہر نکلا اور ٹام کو یوں گھورنے لگا جیسے بلی کسی چڑیا کو دیکھتی ہے۔ ’’اچھا، تو نیگر تم کیا چرا رہے تھے؟ تمہیں پتہ ہے کہ فوج میں اس کی کیا سزا ہے؟‘‘

’’مالک۔۔۔۔‘‘ اور اس نے ساری بات بیان کر دی اور آخر میں کہا ’’وہ بہت بھوکا تھا، مالک اور کوڑا کرید رہا تھا۔‘‘

’’اچھا، تو ایک سفید فام گند کھا رہا تھا! تم بھول گئے ہو کہ ہم پہلے مل چکے ہیں اور میں تم جیسوں کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ ہم نے تمہارے اس بے کار آزاد باپ کا خیال کیا تو تم اوقات سے باہر ہوگئے۔ کوئی بات نہیں اب تمہیں فوج کے قواعد کے مطابق سزا ملے گی۔‘‘

ٹام شرمندگی اور تکلیف میں اس جگہ پہنچا جہاں گھوڑوں کو نعل لگاتا تھا۔ اپنے اوزار سمیٹے، خچر پر بیٹھا اور مڑ کر دیکھے بنا بڑے گھر پہنچ گیا۔ مالک مرے اس کی بپتا سنتے رہے۔ ٹام نے بات ختم کی تو ان کا چہرہ غصے سے سرخ تھا۔ ’’جو بھی ہو جائے مالک، میں واپس نہیں جائوں گا!‘‘

’’تم ٹھیک ہو ٹام؟‘‘

’’درد تو زیادہ نہیں ہے لیکن ذہنی طور پر تکلیف میں ہوں۔‘‘

’’میرا تم سے وعدہ ہے۔ اگر میجر نے کوئی گڑبڑ کرنے کی کوشش کی تو میں اس کے کمانڈنگ جنرل سے ملوں گا۔ جو ہوا اس کا مجھے افسوس ہے۔ تم دکان پر جا کر اپنا کام شروع کرو۔‘‘ وہ ذرا ہچکچائے۔’’ٹام، تم گھر میں سب سے بڑے تو نہیں ہو لیکن میں اور تمہاری مالکن تمہیں تمہارے گھر کا سربراہ ہی سمجھتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ تم اپنے گھر والوں کو بتائو کہ ان ینکیوں کے دفع ہو جانے کے بعد بھی ہم اپنی بقیہ زندگی اکٹھے ہی گزاریں گے۔ ینکی انسان نہیں شیطان ہیں۔‘‘

’’جی مالک۔‘‘ ٹام نے جواب دیا۔ اس نے سوچا کہ مالک کو کبھی سمجھ نہیں آ سکتا کہ کسی کی ملکیت ہونا کبھی خوش گوار نہیں ہوتا۔1862ء کے موسم بہار کے آتے آتے آئرین حاملہ تھی۔ ٹام کو اپنے گاہکوں سے پتہ چلا کہ المانسے کائونٹی جنگ کا مرکز ہے۔ شلوہ کی جھڑپ میں دونوں فریقوں کے چالیس چالیس ہزار فوجی مارے گئے اور زخمی ہوئے۔ بچنے والوں کے لیے لاشوں کے باعث چلنا مشکل ہوگیا ۔ زخمی ہونے والے فوجیوں کے خراب اعضاء کو کاٹنے سے مسی سپی ہسپتال کے صحن میں کٹے ہوئے اعضاء کا بہت بڑا ڈھیر لگ گیا۔ لگتا یہ ہی تھا کہ ینکی جنگ ہار رہے ہیں۔ اگست کے آخر میں ٹام نے سنا کہ ’’بل رن‘‘ کی دوسری لڑائی میں ینکی اپنے دو جنرلز کی لاشیں چھوڑ کر بھاگ گئے۔ ان کے ہزاروں دستے واشنگٹن ڈی سی میں پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سرکاری ملازموں کو وفاقی عمارتوں کے آگے رکاوٹیں کھڑی کرتے، خزانے اور بنکوں کی دولت کو بحری جہازوں میں نیویارک منتقل کرتے دیکھ کر سویلینز میں بھی دہشت پھیل گئی اور وہ بھی بھاگنے لگے ہیں۔ پوٹو میک دریا میں جنگی کشتی صدر لنکن اور ان کے سٹاف کو نکالنے کے لیے تیار کھڑی ہے۔ دو ہفتوں بعد ھارپر زفیری کے مقام پر جنرل سٹون وال جیکسن کی کمان میں اتحادی فوج نے گیارہ ہزارہ ینکیوں کو گرفتار کرلیا۔

ستمبر میں جب ٹام نے آئرین کو بتایا کہ ’’انیٹائی ٹیم‘‘ کے مقام پر آمنے سامنے کھڑی کنفیڈرٹیس اور ینکیوں کی دو تین میل لمبی قطاروں نے ایک دوسرے کو لڑتے ہوئے مار دیا ہے تو وہ جھرجھری لے کر بولی۔ ’’میں اس خوف ناک جنگ کے متعلق اور کچھ نہیں سننا چاہتی۔ میں تیسرے بچے کی ماں بننے والی ہوں،اور میں نہیں چاہتی کہ ہر وقت جنگ اور قتل و غارت کی باتیں ہوں۔‘‘

کیبن کے دروازے پہ ہلکی سی آواز سن کر دونوں نے یک دم اس طرف دیکھا لیکن وہاں کچھ نہیں تھا۔ دوسری بار آواز زیادہ واضح دستک نما تھی۔ آئرین دروازے کے قریب تھی اس نے دروازہ کھولا تو ٹام کو ایک سفید فام کی آواز سنائی دی۔’’معافی چاہتا ہوں۔ آپ کے پاس کھانے کو کچھ ہے، میں بھوکا ہوں۔‘‘ ٹام نے مڑ کر دیکھا تو گھبرا کر کرسی سے گر پڑا۔ یہ وہی گورا نوجوان تھا جسے اس نے کیولری میں گندگی کریدتے دیکھا تھا۔ ٹام نے فوراً خود کو سنبھالا اور چوکنا ہو کر بیٹھ گیا۔ آئرین چوں کہ لا علم تھی اس لیے اس نے آرام سے جواب دیا۔ ’’ہمارے پاس تو کھانے کو کچھ نہیں ہے۔ لیکن تھوڑی سی مکئی کی ٹھنڈی روٹی بچی پڑی ہے۔‘‘

’’آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔ میں نے دو دن سے کچھ نہیں کھایا۔‘‘

اسے محض اتفاق سمجھتے ہوئے ٹام کرسی سے اٹھا اور دروازے پر جا کر بولا۔ ’’تم مانگنے کے علاوہ بھی تو کچھ کرتے رہے ہو، کیا خیال ہے؟‘‘ ایک لمحہ وہ حیرانی سے ٹام کی طرف دیکھتا رہا پھر اس کی آنکھیں پھیل گئیں اور وہ اتنی تیزی سے غائب ہوا کہ آئرین پریشان ہوگئی۔ پھر ٹام نے اسے بتایا کہ وہ کسے کھانا کھلانے والی تھی۔

اگلی رات مٹلڈا نے سب کو بتایا کہ ایک بدحال سفید فام باورچی خانے کے دروازے پر اس سے کھانا مانگنے آیا تو اس نے پیالہ بھر بچا ہوا سٹیو اسے دے دیا اور وہ لڑکا شکریہ ادا کرکے غائب ہوگیا۔ بعد میں صاف پیالہ باورچی خانے کی سیڑھی پر رکھا ملا۔ ٹام نے سب کو پچھلے واقعات بتائے اور کہا ’’مجھے لگتا ہے کہ وہ کہیں آس پاس ہی ہوگا۔ ہو سکتا ہے پاس کے جنگل میں چھپ کر سو رہا ہو۔ اس پر بھروسا مت کرنا۔ مجھے لگتا ہے کوئی پریشانی آنے والی ہے۔‘‘

’’یہ سچ ہے!۔‘‘ مٹلڈا نے کہا ’’اگلی بار آیا تو میں اسے بٹھا لوں گی اور ظاہر کروں گی کہ اس کے لیے کچھ لانے گئی ہوں اور جا کر مالک کو بتا دوں گی۔‘‘

منصوبہ کامیاب رہا۔ اگلی صبح لڑکا آیا تو مٹلڈا نے فوراً مالک کو اطلاع دی اور مالک نے پیچھے سے جا کر لڑکے کو پکڑ لیا۔ ’’تم یہاں کیوں پھر رہے ہو؟‘‘ مالک نے پوچھا تو لڑکا نہ گھبرایا اور نہ ڈرا۔ اس نے کہا ’’جناب میں صرف سفر سے بے حال ہوں اور بھوکا بھی اور یہ کوئی جرم نہیں ہے۔ آپ کے نیگر بہت اچھے ہیں اور انہوں نے مجھے کھانا دیا ہے۔‘‘ مالک مرے ذرا جھجھکے پھر بولے۔‘‘ مجھے تم سے ہم دردی ہے۔ لیکن تمہیں پتہ ہے حالات کتنے خراب ہیں اور ایک آدمی کو کھلانا بہت مشکل ہے۔ اس لیے تمہیں آگے جانا ہوگا۔‘‘ مٹلڈا کو نوجوان کی منت بھری آواز سنائی دی۔‘‘ مہربانی کرکے مجھے یہیں رکنے دیں۔ میں کام سے نہیں گھبراتا۔ لیکن فاقے نہیں کرنا چاہتا۔ آپ جو بھی کہیں وہ کام کر سکتا ہوں۔‘‘

’’یہاں تمہارے لیے کوئی کام نہیں ہے۔ میرے نیگر سارے کام کرتے ہیں۔ کاشت کاری بھی۔‘‘

’’میں تو پلا بڑھا ہی کھیتوں میں ہوں۔ پیٹ بھر کھانے کے بدلے میں آپ کے نیگروئوں سے بھی زیادہ محنت کروں گا۔‘‘ لڑکے نے پھر منت کی۔

’’کیا نام ہے تمہارا اور کہاں سے آئے ہو؟‘‘

’’جارج جانسن، جنوبی کیرولائنا سے جناب۔ جہاں میں رہتا تھا وہاں جنگ نے سب کچھ ختم کر دیا ہے۔ میں فوج میں بھرتی ہونے گیا تو انہوں نے کہا میں کم عمر ہوں، صرف سولہ سال۔ جنگ نے ہماری فصلیں اور سب کچھ برباد کر دیا۔ کوئی خرگوش تک نہیں بچا۔ میں بھی گھر چھوڑ کر آیا ہوں۔ لیکن آپ کے نیگر کے علاوہ کسی نے ایک ذرّہ نہیں دیا۔‘‘

مٹلڈا نے محسوس کیا کہ مالک کے دل پر لڑکے کی کہانی کا اثر ہوا ہے۔ پھر اس نے مالک کو کہتے سنا۔’’تم اوورسیئر کا کام کر لو گے؟‘‘

’’کبھی کیا تو نہیں سر۔‘‘ جارج جانسن نے گڑبڑا کر کہا۔ پھر جلدی سے بولا۔ ’’لیکن آپ بے فکر رہیں میں سیکھ لوں گا۔‘‘

مٹلڈا باتیں سننے کے لیے دروازے کی جالی کے قریب ہوگئی۔’’اگرچہ میرے نیگر خود ہی صحیح کام کرتے ہیں پھر بھی اوورسیئر کا ہونا بھی بہتر ہے۔ شروع میں تمہیں صرف بستر اور کھانا ملے گا۔ باقی پھر بعد میں دیکھیں گے۔‘‘

’’سر۔۔۔ آپ کا کیا نام ہے؟‘‘

’’مرے۔‘‘ مالک نے جواب دیا۔

’’تو مسٹر مرے! آج سے آپ ایک اوورسیئر کے مالک بھی ہوگئے ہیں۔‘‘

مٹلڈا کو مالک کی ہنسی سنائی دی۔ پھر وہ بولے۔’’کھلیان کے پیچھے ایک خالی باڑہ ہے تم وہاں رہ لو۔ تمہارا سامان کدھر ہے؟‘‘

’’سر میرا سارا سامان میں خود ہی ہوں۔‘‘ جارج جانسن نے کہا۔

یہ خبر، بجلی کی طرح ہر طرف پھیل گئی۔’’مجھے تو اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔‘‘ مٹلڈا نے سب کو واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔ جس پر سب لوگ ناراضی کا اظہار کرنے لگے۔ ’’مالک کا دماغ ٹھکانے نہیں رہا… کیا ہم اچھا بھلا کام نہیں کر رہے؟… دونوں گورے ہیں نا، اس لیے!… کہیں وہ ہمارے ساتھ ان کریکروں والا سلوک نہ شروع کر دے!‘‘

اگلی صبح وہ سب غصے میں بھرے ہوئے کھیتوں میں پہنچے لیکن اس چمرخ اوورسیئر نے ان کا غصہ یہ کہہ کر فوراً ہی کافور کر دیا کہ ’’تم لوگوں کی نفرت بجا ہے۔ لیکن تھوڑا سا انتظار کرو کہ میں اچھا نکلتا ہوں یا برا۔ میرا پہلی بار نیگروئوں سے واسطہ پڑا ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ تم اسی طرح نیگرو ہو جس طرح میں سفید ہوں۔ میں لوگوں کو رنگ سے نہیں کام سے پہچانتا ہوں۔ میں صرف ایک بات جانتا ہوں، جب میں بھوکا تھا تو تم لوگوں نے مجھے کھانا دیا تھا جب کہ بے شمار سفید فاموں نے مجھے دھتکار دیا تھا۔ اب لگتا ہے کہ مسٹر مرے نے اوورسیئر رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور میں جانتا ہوں کہ تم سب لوگ انہیں کہہ کر مجھے نکلوا بھی سکتے ہو۔ لیکن اگر تم نے ایسا کیا تو ہو سکتا ہے وہ کوئی بدترین اوورسیئر لے آئیں۔‘‘

کسی کو کوئی جواب نہ سوجھا اور وہ اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے۔ وہ کن اکھیوں سے جارج کو بھی دیکھتے جاتے تھے جو اپنی نیک نیتی ظاہر کرنے کے لیے ان سے زیادہ نہیں تو ان جتنی محنت ضرور کر رہا تھا۔اوورسیئر کی آمد کے چند دن بعد ٹام کی بیٹی ونی پیدا ہوئی۔ کھیتوں میں جارج جانسن دوپہر کا کھانا ان کے ساتھ ہی کھاتا اور وقفے میں ایش فورڈ کے آنکھ بچا کر کھسکنے کو نظر انداز کر دیتا۔ ’’تمہیں پتہ ہے کہ مجھے اوورسیئری کا کچھ پتہ نہیں ہے۔ اس کے لیے تمہیں میری مدد کرنا پڑے گی۔‘‘ جارج جانسن نے بے تکلفی سے کہا ’’ایسا نہ ہو کہ مسٹر مرے کسی وقت یہاں آ کر دیکھیں اور میں ان کی امید کے مطابق کام نہ کر رہا ہوں۔‘‘

اوورسیئر کو خود تربیت دینے کا خیال انہیں کافی دل چسپ لگا۔ رات کھانے پر یہ بات سن کر ٹام بھی مسکرا دیا۔ یہ ذمہ داری ورجل پر ڈالی گئی۔ کیوں کہ کھیتی باڑی کا وہی نگران تھا۔ ’’پہلی بات‘‘ اس نے جارج جانسن سے کہا’’تمہیں اپنی عادتیں بدلنا ہوں گی۔ ہم ہر وقت دھیان رکھیں گے اور اگر کسی وقت مالک آ جائیں تو تمہیں اشارہ کر دیں گے اور تم ہم سے ذرا فاصلے پر چلے جانا۔ کیوں کہ سفید فاموں، خاص طور پر اوورسئیروں کو نیگروئوں کے اتنا قریب نہیں ہونا چاہیے۔‘‘

’’لیکن جنوبی کیرولائنا میں جہاں سے میں آیا ہوں، نیگر کبھی سفید فاموں کے پاس نہیں جاتے تھے۔‘‘

’’یہ تو ان کی سمجھ داری ہے۔‘‘ ورجل نے کہا ’’دوسری بات یہ کہ مالکوں کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ اوورسیئر سخت مزاج ہو اور نیگروئوں سے پہلے کی نسبت زیادہ کام کروائے۔ تمہیں ڈانٹ ڈپٹ سیکھنی ہوگی۔ اونیگر! کام پر دھیان دے۔ اس طرح کی اور جب کبھی مالک یا دوسرے سفید فام آس پاس ہوں تو کبھی ہمیں نام سے نہ بلانا، جیسے تم کرتے ہو۔ تمہیں نہایت گھٹیا انداز میں برا بھلا کہنا، اونچا بولنا آنا چاہیے جس سے لگے کہ تم نہایت کرخت ہو اور ہم سے کام لے سکتے ہو۔‘‘

اگلی بار مالک مرے کھیتوں میں آئے تو جارج جانسن نے بھرپور اداکاری کی اور سب کو خوب سخت سست کہا۔ ’’کیسا کام کر رہے ہیں یہ سب؟’’مالک نے پوچھا۔‘‘ ویسے تو ٹھیک ہیں۔’’جارج نے جواب دیا۔‘‘ لیکن ایک دو ہفتوں میں اور ٹھیک ہو جائیں گے۔‘‘

اس رات سب جارج جانسن اور مالک کی باتیں دہرا کر بہت ہنسے بعد میں جارج نے بتایا کہ وہ بہت ہی غریب گھرانے کا ہے اور جنگ سے پہلے بھی ان کے حالات اچھے نہیں تھے۔’’یہ شاید واحد سفید فام ہے جو اپنے متعلق بھی سچ بولتا ہے۔‘‘ ورجل نے سب کی طرف سے اسے سراہا۔

’’سچ کہوں، مجھے تو اس کی باتیں بڑی اچھی لگتی ہیں۔‘‘ للی سو نے کہا تو ننھا جارج کھنکارا۔’’کیا فرق ہے اس میں دوسروں سے؟ وہ بھی سب کی طرح وہ نظر آنے کی کوشش کر رہا ہے جو وہ نہیں ہے۔‘‘ میری ہنس کر بولی۔’’چلو اس میں کوئی شرم کی بات نہیں بشرطے کہ اس کے کھانے کا انداز نہ بدلے۔‘‘

’’لگتا ہے تم اولڈ جارج کو پسند کرنے لگے ہو۔‘‘ مٹلڈا نے کہا۔ اتنے کم عمر اوورسیئر کو ’’اولڈ جارج‘‘ کہنے پر سب قہقہہ لگا کر ہنسے۔ مٹلڈا ٹھیک کہتی تھی۔ وہ واقعی اسے پسند کرنے لگے تھے۔

 

 

 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

’’خچر کو ایڑ لگا کر ٹام ایک ٹیلے کے پاس آیا جہاں گھڑ سواروں کی چار قطاریں موجود تھیں۔ افسران احکامات جاری کرنے کے لیے چلاّ رہے تھے۔ مزید پڑھیں

’’رنگ داروں(Coloured) کے لیے مخصوص مکان میں۔۔۔ دوسرے نیگروئوں کی طرح۔ اور کہاں ٹھہرنا تھا؟ پیسے میرے پاس تھے، جواب بھی میری زین کے تھیل ...

مزید پڑھیں

مالک ذرا بھی نہیں بدلے۔ ابھی تک سانپ کی طرح چالاک اور خطرناک ہیں۔۔۔یہ جان بوجھ کر ٹلڈا اور بچوں کا ذکر نہیں کر رہے۔۔۔مجھے انہیں غصہ دلانے ...

مزید پڑھیں