☰  
× صفحۂ اول (current) خواتین دنیا اسپیشل کھیل سائنس کی دنیا ادب روحانی مسائل فیشن کیرئر پلاننگ خصوصی رپورٹ صحت دین و دنیا
’’برطانیہ نے امریکی دارالحکومت اور وائٹ ہائوس کو آگ لگا دی ہے‘‘

’’برطانیہ نے امریکی دارالحکومت اور وائٹ ہائوس کو آگ لگا دی ہے‘‘

تحریر : الیکس ہیلی

03-10-2019

مس مالیزی کے چہرے پر افسوس دیکھ کر کزی نے لہجہ ذرا خوش گوار بنا کر اسے ماضی کا سارا قصہ سنا ڈالا۔ ’’میں اب بھی خود سے کہتی رہتی ہوں کہ وہ کبھی نہ کبھی مجھے ڈھونڈھتا ہوا یہاں آجائے گا۔‘‘ اس کے لہجے میں دعا کا ساتاثر تھا۔’’ سچ کہوں مس مالیزی، اگر ایسا ہو گیا تو ہم ایک دوسرے سے ایک لفظ بھی نہیں کہیں گے۔ بس ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر تم سب کو الوداع کہیں گے اور جارج کو لے کر چلے جائیں گے۔ میں اس کے آخری الفاظ کبھی نہیں بھول سکتی۔ اس نے کہا تھا۔‘‘ہم ساری زندگی اکٹھے رہیں گے، میری جان!‘‘ کزی کی آواز بھر آئی۔ اور وہ دونوں رونے لگیں۔ پھر کزی اپنے کیبن لوٹ آئی۔

کئی ہفتے بعد ایک اتوار کی صبح جب جارج باورچی خانے میں مس مالیزی کا ہاتھ بٹا رہا تھا۔ بہن سارہ نے پہلی بار کزی کو اپنے کیبن میں بلایا۔ کزی نے حیرت سے کھلیپڑ اتری دیواروں کو دیکھا جس پر جگہ جگہ کیلوں اور کھونٹیوں پر لاتعداد سوکھی جڑیں اور بوٹیاں ٹنگی تھیں۔ جو بہن سارہ کے اس دعوے کا ثبوت تھیں کہ وہ کسی بھی بیماری کا علاج کر سکتی ہے۔ اکلوتی کرسی کی طرف اشارہ کر کے اس نے کہا۔ ’’بیٹھو لڑکی۔‘‘ کزی بیٹھ گئی تو سارہ نے کہا۔ ’’میں تمہیں ایسی بات بتانے لگی ہوں جس کاہر کسی کو علم نہیں ہے۔ میری ماں لوزی آنا کیجن عورت تھی۔ اس نے مجھے قسمت کا حال دیکھنا سکھایا تھا۔‘‘ اس نے کزی کے پریشان چہرے کو دیکھا۔’’ تم اپنی قسمت جاننا چاہتی ہو؟‘‘ زمین پر بیٹھ کر بہن سارہ نے بستر کے نیچے سے ایک بڑا سا صندوق نکلا۔ اس میں سے ایک چھوٹا ڈبہ نکال کر اس نے دونوں ہاتھ بھر عجیب سی سوکھی ہوئی چیزیں نکالیں اور آہستہ سے کزی کی طرف مڑی۔ ان چیزوں کو ایک خاص ترتیب سے رکھ کر اس نے اپنے گریبان سے ایک چھڑی سی نکالی اور تیزی سے چیزیں الٹنے پلٹنے لگی۔ پھر وہ اتنا جھکی کہ اس کا ماتھا زمین پر پڑی چیزوں کو چھونے لگا جب وہ سیدھی ہونے لگی تو اس نے بڑی غیر فطری اونچی آواز میں کہا۔ ’’روحیں جو بتاتی ہیں میں تمہیں بتانا نہیں چاہتی۔ تم اب کبھی اپنے امی اور ابو کو نہیں ملو گی۔ کم از کم اس زندگی میں…‘‘ کزی سسکیاں لے کر رونے لگی۔ بہن سارہ نے اسے یک سر نظر انداز کرتے ہوئے دوبارہ احتیاط سے چیزیں رکھیں۔ پھر انہیں بار بار پلٹا پہلے سے کافی زیادہ دیر تک حتیٰ کہ کزی کے آنسو تھم گئے اور اس نے خود کو سنبھال لیا۔ وہ آنسو بھری آنکھوں سے چھڑی کی حرکت غور سے دیکھنے لگی۔ پھر بہن سارہ ناقابل فہم الفاظ بڑبڑانے لگی۔ ’’ایسا لگتا ہے کہ اس لڑکی کا بدنصیبی کا وقت ہے… وہ آدمی جس سے وہ محبت کرتی ہے… اس کا راستہ مشکلوں بھرا ہے… وہ بھی اس سے محبت کرتا ہے… لیکن روحوں نے اسے سمجھا دیا ہے کہ سچ کو ماننا اچھی بات ہے… اور کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے…‘‘ کزی کے منہ سے چیخ نکلی جس نے بہن سارہ کو چونکا دیا۔ ’’شش ش ش ش… روحوں کو تنگ مت کرو۔ بیٹی۔ شش ش ش ش !‘‘ لیکن کزی کی چیخیں نہیں رکیں۔ وہ تیزی سے اٹھ کر باہر دوڑی اور اپنے کیبن میں جا کر دروازہ زور سے بند کر لیا۔ انکل پامپی کے کیبن کا دروازہ جھٹکے سے کھلا۔ مالک اور مالکن، مس مالیزی اور جارج کے چہرے بڑے گھر اور باورچی خانہ کی کھڑکیوں میں نمودار ہوئے۔ جارج دوڑتا ہوا آیاتو کزی گدے پر گری پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ ’’امی! امی جان کیا ہوا؟‘‘ کزی آنسوئوں بھرا چہرہ اٹھا کر پاگلوں کی طرح چیخی۔ ’’بکواس بند کرو!‘‘ جارج تین برس کا ہوا تو اسے غلام احاطے کے ہر مکین کا ہاتھ بٹانے کا جنون ہو گیا۔ ’’میرے خدایا! میرے لیے پانی کی بالٹی اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا اور بالٹی اس سے ہلی بھی نہیں۔‘‘ مس مالیزی نے ہنس کر بتایا۔ ایک اور موقع پر مالیزی نے بتایا ’’اسے میرا اتنا خیال ہے کہ جلانے کی چھوٹی چھوٹی لکڑیاں نہ ملیں تو ادھ جلی لکڑیاں جمع کر کے ہی گودام بھرتا رہتا ہے۔‘‘ کزی خوش ہونے کے باوجود جارج کے سامنے اس کی ستائش کرنے سے گریز کرتی۔ وہ پہلے ہی بہت شرارتی تھا۔ ’’امی! میں آپ کی طرح کالا کیوں نہیں ہوں؟ ‘‘ایک رات جارج نے جب وہ کیبن میں اکیلا تھا، کزی سے پوچھا۔ ’’ہر آدمی جو پیدا ہوتا ہے۔‘‘ کزی نے اسے سمجھایا۔ ’’اس کا اپنا اپنا رنگ ہوتا ہے۔ اور بس! ‘‘ لیکن چند ہی راتوں بعد اس نے پھر یہ موضوع شروع کر لیا۔ ’’امی! ابو کون تھے؟ وہ مجھے ملتے کیوں نہیں؟ وہ کہاں رہتے ہیں؟‘‘ کزی نے سخت لہجے میں کہا۔ ’’زیادہ بک بک مت کرو!‘‘ لیکن بعد میں وہ کافی دیر جارج کا دکھی اور پریشان چہرہ دیکھ کرکڑھتی رہی۔ اگلی صبح مالیزی کے حوالے کرنے سے پہلے اس نے جارج سے کہا۔ ’’مجھے بس یوں ہی غصہ آگیا تھا۔ تم سوال بہت پوچھتے ہو ناں!‘‘ لیکن اسے احساس تھا کہ جارج جیسے ذہین بچے کو مطمئن کرنے کے لیے اسے کوئی بہتر عذر کرنا چاہیے تھا۔ کوئی ایسا عذر جو دونوں کے لیے قابل قبول ہوتا۔ ’’ان کا رنگ اتنا کالا تھا جتنی رات ہوتی ہے۔ اور وہ مسکراتے تو بالکل ہی نہیں تھے۔‘‘ اس نے نیا جواب دیا ’’وہ جتنے میرے لگتے ہیں اتنے ہی تمہارے لگتے ہیں۔ لیکن تم انہیں نانا ابو کہہ سکتے ہو۔‘‘جارج کو یہ بات پسند آئی۔ اس نے مزید دلچسپی ظاہر کی تو کزی نے بتایا کہ نانا ابو ایک جہاز میں افریقہ سے آئے تھے۔ نانی بتاتی تھیں کہ وہ ناپلس نامی جگہ اترے تھے۔ پھر مالک والر کے بھائی انہیں خرید کر سپاٹ سلوینیا کائونٹی کے رقبے پر لے گئے۔ نانا نے بھاگنے کی کوشش کی۔ اس سے آگے کے تلخ واقعات کے تذکرے کو اس نے مختصر کر دیا۔’’… جب وہ بار بار بھاگتے رہے تو انہوں نے ان کا آدھا پائوں کاٹ دیا۔ ‘‘ جارج کے ننھے سے ماتھے پر شکنیں ابھریں۔ انہوں نے ایسا کیوں کیا امی؟‘‘ ’’انہوں نے چند نیگر پکڑنے والوں کو مارنے کی کوشش کی تھی۔‘‘ ’’وہ نیگروئوں کو کیوں پکڑ رہے تھے؟‘‘ ’’وہ ان نیگروئوں کو پکڑتے تھے جو بھاگ جاتے تھے۔‘‘ ’’وہ بھاگتے کیوں تھے؟‘‘ ’’اپنے گورے مالکوں سے آزادی کے لیے۔‘‘ ’’گورے مالک انہیں کیا کہتے تھے؟‘‘ کزی چڑ کر بولی۔ ’’چلو منہ بند کرو اپنا، سر ہی کھا لیتے ہو!‘‘ لیکن جارج کو چپ کروانا آسان نہیں تھا۔ خصوصاً اپنے افریقی نانا کے متعلق تو اس کے سوالات ختم ہی نہیں ہوتے تھے۔ ’’امی افریقہ کہاں ہے؟… افریقہ میں چھوٹے بچے ہوتے ہیں؟… پھر بتائیں نانا ابو کا نام کیا تھا؟‘‘ جارج کے ذہن میں اس کے نانا کی ایک خود ساختہ تصویر بن رہی تھی جس میں کزی بھی اپنی یادداشت کے ساتھ مسلسل رنگ آمیزی کرتی رہتی۔ ’’کاش تم وہ افریقی گیت سن سکتے جو وہ مالک کی بگھی چلاتے ہوئے مجھے سنایا کرتے تھے۔ تب میں بھی اتنی سی ہوتی تھی جتنے تم ہو۔‘‘ کزی سپاٹ سلوینیا کے گرد بھرے راستوں پر اپنے ابو کے ساتھ بگھی کے سفر یاد کر کے مسکرائی۔’’تمہارے نانا مجھے افریقی زبان بھی سکھایا کرتے تھے۔ وہ فڈل کو، کو، اور دریا کو ’کیمبی بولونگو، کہتے تھے۔ اسی طرح کے اور بھی مزے مزے کے الفاظ ہوتے تھے۔‘‘ اس نے سوچا کہ ابو یہ جان کر کتنا خوش ہوتے کہ ان کا نواساافریقی زبان سیکھ رہا ہے۔ ’’کو!…‘‘کزی نے پوچھا۔’’ تم سے یہ لفظ کہہ سکتے ہو؟‘‘ ’’کو!‘‘ جارج نے دہرایا۔ ’’واہ، تم تو بہت سمجھ دار ہو۔ اب کہو کیمبی بولونگو!‘‘ جارج نے یہ لفظ بالکل صحیح ادا کیا۔ پھر ماں کو چپ ہوتا دیکھ کر بولا۔ ’’امی اور بھی سکھائیں ناں۔‘‘ خوشی سے نہال ہوتے ہوئے کزی نے اسے آئندہ مزید لفظ سکھانے کا وعدہ کر کے زبردستی بستر میں لٹا دیا۔ جارج چھ سال کا ہوا تو یہ اس بات اعلان تھا کہ اب اسے کھیتوں میں کام شروع کرنا ہے۔پہلے ہی دن سے جارج کو کھیتوں میں کام کرنا کسی مہماتی کھیل کی طرح دلچسپ لگا۔ اور جب وہ انکل پامپی کے ہل کی نوک کے راستے میں آنے والے پتھر دوڑ دوڑ کر ہٹاتا تو سب کو بہت پیارا لگتا۔ وہ سب کے لیے کھیتوں کے پار چشمے سے پانی کی بالٹیاں بھر کر لاتا۔ وہ مکئی یا کپاس بونے میں بھی اپنی سی مدد کرتا۔ جب تینوں بڑے اسے اپنے سے بڑا بیلچہ اٹھانے کی کوشش کرتے دیکھتے تو بہت ہنستے جس پر جارج بھی ہنسنے لگتا جو اس کی خوش مزاجی کی دلیل تھی۔ جب اس نے انکل پامپی سے ہل چلانے کی ضد کی اور اجازت ملنے پر جانا کہ ابھی تو وہ ہل کی ہتھی تک بھی نہیں پہنچتا تو سب بہت ہی ہنسے۔ لیکن اس نے ہل چھوڑ کر خچروں کو ہانکنا شروع کر دیا۔ شام کو گھر پہنچتے ہی کزی کھانا پکانے میں جت جاتی۔ ایک رات جارج نے یہ معمول بدلنے کی تجویز بھی دی اور بولا۔ ’’امی آپ سارا دن اتنا کام کرتی ہیں۔ آج اپ آرام کریں میں آپ کے لیے پکاتا ہوں۔‘‘ وہ کبھی کبھی چھوٹے موٹے کاموں پر حکم دینے کی کوشش بھی کرتا تو کزی کو لگتا کہ جارج وہ آدمی بننے کی کوشش کر رہا ہے جس کی ان دونوں کی زندگی میں کمی تھی۔ اس میں خود اعتمادی اور خود انحصاری بہت زیادہ تھی۔کبھی وہ رات کو سونے سے پہلے کزی کو اپنے خیالات سنا کر مسکرانے پر مجبور کر دیتا۔’’میں ایک دن بڑے راستے پر جا رہا تھا‘‘ ایک رات اس نے سرگوشی میں بتایا۔ ’’میں نے ایک بڑے سے ریچھ کو بھاگتے ہوئے دیکھا… وہ ناں گھوڑے سے بھی بڑا تھا۔ میں نے اسے بلایا۔ریچھ صاحب! اوریچھ صاحب! اگر تم نے میری امی کو کچھ کہا تو میں تمہاری بہت پٹائی کروں گا!‘‘کبھی اس کا دل چاہتا تو وہ آتش دان کے پاس جا لیٹتا اور کسی ادھ جلی ٹہنی سے چیڑھ کے سفید تختے پر انسانوں اور جانوروں کی تصویریں بنانے لگتا۔ جب بھی وہ ایسا کرتا کزی پریشان ہو جاتی۔ اسے ڈر لگتا کہ وہ لکھنے پڑھنے کا تقاضہ نہ شروع کر دے۔ لیکن یہ خیال جارج کے ذہن میں کبھی نہیں آیا اور کزی نے احتیاط کی کہ اس بات کا ذکر بھی نہ ہو جس نے اس کی زندگی برباد کر دی تھی۔ جب سے وہ لی کے رقبے پر آئی تھی اس نے پنسل یا قلم کو ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا،کبھی کبھی اس کا دل بھی چاہتا کہ وہ لکھنے کی کوشش کرے لیکن اس نے اس سے دور رہنے کی قسم کھا رکھی تھی۔ یہاں کچھ پتہ نہیں چلتا تھا کہ رقبے سے باہر دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔اس رقبے پر غریب مالک خود گھڑ سواری کرتا اور خود بگھی ہانکتا تھا، باہر کی خبر کا گزر نہیں ہوتا تھا۔ ایک آدھ خبر آتی بھی تو تب جب گھر میں باہر سے مہمان آتے تھے اور یہ بھی مہینوں میں ایک آدھ بار ہوتا۔ 1812 میں ایک سہ پہر ایسے ہی کھانے کے دوران مس مالیزی دوڑتی ہوئی ان کے پاس آئی۔ ’’وہ کھانا کھا رہے تھے تو مجھے آنے کی ذرا فرصت مل گئی۔ وہ کہہ رہے تھے کہ انگلینڈ کے ساتھ ایک نئی جنگ لگ گئی ہے اور انگلینڈ جہاز بھر بھر کر فوجی بھیج رہا ہے۔‘‘ اس رات کیبن میں تیز کانوں والے جارج نے پوچھا۔’’ امی جنگ کیا ہوتی ہے؟‘‘ اس نے ایک لمحہ سوچا پھر جواب دیا۔ ’’میرا خیال ہے اس میں بہت سے آدمی ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے ہیں۔‘‘ ’’کس بات پر لڑتے ہیں؟‘‘ ’’بس جس بات پر ان کا دل کرتا ہے، لڑ پڑتے ہیں۔‘‘ ’’یہ گورے لوگ اور انگلینڈ والے کس بات پر لڑتے ہیں؟‘‘ ’’بھئی تمہارے تو سوال ہی ختم نہیں ہوتے۔‘‘ ’’تقریباً آدھ گھنٹے بعد جب جارج مس مالیزی کا سکھایا ہوا گانا گنگنانے لگا تو کزی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔ ’’میں اپنے سفید کپڑے پہنوں گا اور دریا کنارے جائوں گا! دریا کنارے جائوں گا لیکن دریا کو نہیں دیکھوں گا۔‘‘ کافی عرصے بعد ایک اور دعوت کے دوران مس مالیزی نے بتایا کہ ’’وہ کہہ رہے ہیں کہ انگلینڈ نے شمال میں ڈیٹرائٹ نامی شہر فتح کر لیاہے۔‘‘ پھر کئی ماہ بعد اس نے بتایا کہ ’’مالک، مالکن اور مہمان بڑے خوش ہیں۔ یونائیٹڈ سٹیٹس کے ایک اولڈ آئرن سائیڈز نامی بڑے جہاز نے اپنی چالیس توپوں کے ساتھ انگلینڈ کے بہت سے جہاز غرق کر دیے ہیں۔‘‘ 1814 کی ایک اتوار جارج باورچی خانے میں مس مالیزی کا ہاتھ بٹا رہا تھا۔ وہ بھاگتا ہوا غلام احاطے میں آیا اور پھولے ہوئے سانس کے ساتھ کہا ’’مس مالیزی بتا رہی ہیں کہ انگلینڈ نے یونائیٹڈ سٹیٹس کے پانچ ہزار فوجی مار دیے ہیں اور کیپیٹل اور وائٹ ہائوس کو آگ لگا دی ہے۔‘‘موسم سرما میں مس مالیزی نے آ کر انہیں بتایا کہ ’’اندر وہ سب گا گاکر انگلینڈ کے جہازوں کا ذکر کر رہے ہیں جو بالٹی مور کے پاس کسی قلعے پر گولہ باری کر رہے ہیں۔‘‘ مس مالیزی نے انہیں وہ گیت بھی سنایا۔سہ پہر کے وقت باہر سے عجیب سی آواز سن کر سب نے اپنے اپنے کیبن سے جھانکا تو جارج سر پر ٹرکی کا لمبا پر سجائے فوجیوں کی طرح چل رہا تھا اور سوکھی ٹہنی زمین پر مار مار کر وہ گیت گانے کی کوشش کر رہا تھا جو اس نے مس مالیزی کو گاتے سنا تھا۔ ’’ارے ہو! تم نے صبح کی روشنی میں دیکھی ہے… راکٹوں کی سرخ آگ… ستاروں سے سجا لہراتا جھنڈا۔ ہو، آزاد کی دھرتی اور سورمائوں کا گھر…‘‘ ایک سال کے اندر اندر جارج کی نقالی کی اہلیت سب غلاموں میں مقبول ہو چکی تھی۔ خاص طور پر مالک لی کی نقل۔ پہلے مالک کی غیر موجودی کا یقین کر کے جارج آنکھیں سکیڑ کر اور منہ بھینچ کر غصے سے کہتا ’’نیگرو، کان کھول کر سن لو۔سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے مجھے اس کھیت کی کپاس کی چنائی مکمل چاہیے۔ ورنہ کسی کو راشن نہیں ملے گا!‘‘ ہنس ہنس کر دوہرے ہوتے ہوئے سب بڑے ایک دوسرے سے پوچھتے۔ ’’تم نے کبھی کوئی اس بچے جیسا تیز دیکھا ہے؟‘‘ ’’توبہ کرو! کبھی بھی نہیں!‘‘جارج کو نقل اتارنے کے لیے سرسری سے مشاہدے کی ضرورت پڑتی۔ حتیٰ کہ اس نے اس سفید بوڑھے مبلّغ کی نقل بھی اتارلی جسے مالک تبلیغ کے لیے ان کے پاس شاہ بلوط کے درخت تلے لائے تھے۔ اور جب جارج نے بوڑھے منگو کو پہلی بار دیکھا تو اس کی عجیب چال کی فوراً نقل کی اس نے دومرغیوں کو ٹانگوں سے پکڑا اور انہیں زور زور سے جھلاتے ہوئے مرغوں کا مکالمہ بولنے لگا۔ ’’اُلو کے پٹھے، بدمعاش! میں تمہاری آنکھیں نکال دوں گا!‘‘ ا س پر دوسرے مرغے نے جواب دیا۔ ’’تمہاری اوقات کیا ہے؟ چار پروں کے چوزے!‘‘ ہفتے کے روز جب مالک لی معمول کے مطابق غلام احاطے میں ہفتہ وار راشن بانٹ رہے تھے۔ کزی، بہن سارہ، مس مالیزی اور انکل پامپی ادب کے ساتھ اپنے اپنے کیبن کے دروازے میں کھڑے تھے کہ اچانک جارج ایک چوہے کا تعاقب کرتے ہوئے اندھا دھند بھاگتا ہوا آیا۔ مالک کو دیکھ کر اس نے خود کو بہ مشکل ا ن سے ٹکرانے سے روکا۔مالک لی نے نیم تمسخرانہ لہجے میں پوچھا۔ ’’کیوں بھئی! تم اپنے راشن کے بدلے یہاں کیا کرتے ہو؟‘‘ نو سالہ جارج نے جس اعتماد سے مالک کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا اس سے چاروں بڑے ہک دک رہ گئے۔ ’’میں آپ کے کھیتوں میں کام کرتا ہوں اور تبلیغ کرتا ہوں مالک!‘‘ مالک نے حیرت سے کہا۔ ’’اچھا! ہم بھی تو تمہاری تبلیغ سنیں ذرا۔‘‘ پانچ بڑوں کے سامنے جارج ایک قدم پیچھے ہٹا اور بولا۔ ’’وہ سفید فام مبلّغ جسے آپ یہاں لائے تھے مالک! ‘‘ وہ بازو لہرا لہرا کر خطاب کرنے لگا۔ ’’اگر تم سمجھو کہ انکل پامپی نے مالک کا سؤر چرایا ہے تو مالک کو بتائو۔ اگر تم دیکھو کہ مس مالیزی نے مالکن کا آٹا غائب کیا ہے تو مالکن کو بتائو۔ اگر تم اسی طرح کے اچھے نیگر بنو گے اور اپنے اچھے مالک اور مالکن کے ساتھ بھلائی کرو گے تو مرنے کے بعد تم جنت کے باورچی خانے میں داخل ہو سکو گے!‘‘ جارج کا بیان ختم ہونے سے پہلے ہی مالک لی کے قہقہے بلند ہونے لگے۔ کسی نے آج تک مالک کو اس قدر ہنستے نہیں دیکھا تھا۔ انہوں نے جارج کی کمر تھپکی اور کہا۔ ’’جب تمھارا جی چاہے تبلیغ کر لیا کرو۔‘‘ پھر انہوں نے راشن کی ٹوکری وہیں چھوڑی کہ وہ خود سامان بانٹ لیں اور بڑے گھر کی طرف چل دیے۔ ان کے کندھے ہل رہے تھے اور وہ مڑ مڑ کر جارج کو دیکھتے تھے جو کھڑا دانت نکال رہا تھا۔گرمیوں میں ایک بار مالک دورے سے لوٹے تو دو مور پنکھ لے آئے۔ مس مالیزی کو بھیج کر جارج کو کھیتوں سے بلوایا اور اسے سکھانے لگے کہ اگلے اتوار کی سہ پہر کھانے پر مہمانوں کے پیچھے کھڑے ہو کر کس طرح مور کے پروں کے یہ پنکھے نرمی سے جھلنے ہیں۔ ’’مالک دوسروں کے سامنے دولت مند نظر آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ مالیزی نے کزی سے کہا۔ وہ کزی کو یہ پیغام دینے آئی تھی کہ مہمانوں کی آمد پر جارج کو نہا دھو کر اور کلف لگے، استری شدہ کپڑوں میں بڑے گھر حاضر ہونا ہے۔ مہمان اگرچہ ابھی موجود تھے کہ مالیزی عادت سے مجبور ہو کر خبریں سنانے بھاگی آئی۔ ’’بھئی کیا بتائوں! یہ لڑکا توحد ہے!‘‘ پھر اس نے بتایا کہ جارج کس طرح دعوت میں مور پنکھ ہلاتا رہا۔ میٹھے کے بعد مالک کواچانک خیال آیا۔اور بولے۔ ’ہاں بھئی لڑکے! ذرا تبلیغ ہی ہو جائے۔‘ مجھے تو لگ رہا تھا لڑکے نے مشق کر رکھی ہے۔ کیوں کہ اس نے مالک سے کوئی کتاب مانگی جسے انجیل بنایا جا سکے، جو مالک نے دے دی۔ وہ تیزی سے مالکن کے فٹ سٹول پر چڑھا اور پھر جو تبلیغ کے جوہر دکھائے ہیں۔ اس کے بعد بنا کہے وہ گانے لگا۔ اور میں تمھیں بتانے ادھر آگئی۔‘‘ وہ کزی بہن سارہ اور انکل پامپی کو خوش اور فخر سے سر دھنتے چھوڑ کر واپس لوٹ گئی۔ جارج کو اتنا پسند کیا گیا کہ مالکن لی نے اتوار کی سہ پہر بگھی کی سیر سے واپسی پر مالیزی کو بتایا کہ ان کے سب مہمان بار بار جارج کا پوچھتے ہیں۔ بل کہ کچھ دن بعد تو الگ تھلگ رہنے والی مالکن نے بھی جارج کے لیے پسندیدگی کا اظہار کیا۔ حال آنکہ انہوں کبھی کسی نیگر کو اچھا نہیں سمجھا۔‘‘ مس مالیزی نے حیرت سے کہا۔ رفتہ رفتہ مالکن لی گھر میں کوئی نہ کوئی کام جارج کو بلا لیتیں۔ اور گیارہواں سال لگتے لگتے وہ کھیتوں سے زیادہ وقت گھر میں گزارنے لگا۔ چوں کہ ہر کھانے پر اس کی ذمہ داری مورپنکھ جھلنے کی ہوتی تھی اس لیے اسے سب کی باتیں سننے اور مالیزی سے زیادہ خبریں اکٹھی کرنے کا موقع ملتا تھا۔ کھانا بھگتا کر وہ سب کو خبریں سنانے پہنچ جاتا۔ اس نے بتایا کہ ایک مہمان کے بقول مختلف علاقوں کے تین ہزار کے لگ بھگ نیگروئوں نے فلاڈیلیفا میں ایک بڑا اجتماع کیا ہے۔ انہوں نے کوئی قرار داد بھی صدر میڈیسن کو بھیجی ہے کہ اس ملک کی تعمیر میں غلام اور آزاد دونوں نیگروئوں کا حصہ ہے۔ تمام جنگوں میں ان کا حصہ ہے اور آج نیونائٹڈسٹیٹس جس مقام پر ہے اس میں نیگروئوں کا کم حصہ نہیں ہے۔ اس پر مالک نے کہا کہ ’’کوئی احمق بھی سمجھ سکتا ہے کہ آزاد نیگروئوں کو ملک سے ختم کر دینا چاہیے!‘‘ جارج نے بتایا کہ کھانے کے دوران ویسٹ انڈیز میں غلاموں کی تازہ اور بڑی بغاوتوں پر تمام مہمان بہت لال پیلے ہوئے۔ ’’انہوں نے ملاحوں سے سنا ہے کہ ویسٹ انڈین نیگر ساری فصلیں اور عمارتیں جلا رہے ہیں اور اپنے ہی مالکوں کو مارنے پیٹنے، ٹکڑے کرنے اور پھانسیاں چڑھانے میں لگے ہوئے ہیں۔‘‘ 1818 کی ایک اتوار جارج نے بتایا کہ ایک مہمان نے اطلاع دی ہے کہ ’’امریکن کو لونائز سوسائٹی‘‘ جہاز بھر بھر کر آزاد نیگروئوں کو لائبیریا بھیج رہی ہے۔ سب گورے اس بات پر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے کہ ’’آزاد نیگروئوں سے کہا جا رہا ہے کہ لائبیریا میں گوشت کے پیڑ ہیں۔‘‘ ’’ہونھ!‘‘ بہن سارہ ناک بھوں چڑھا کر بولی ’’میں تو درختوں پر بندروں کی طرح رہنے والے نیگروئوں کے ساتھ کبھی افریقہ نہ جائوں!‘‘ کزی کو بھی سارہ کا اپنے والد اور اس کے وطن افریقہ کے بارے میں تحقیر آمیز رویہ پسند نہیں آیا۔ لیکن اسے خوشی اس بات کی ہوئی کہ جارج کو بھی سارہ کا نانا کے متعلق رویہ اچھا نہیں لگا تھا۔ لیکن وہ ہچکچاہٹ کے باعث چپ رہا۔ پھر کچھ دیر بعد بولا۔ ’’امی! بہن سارہ غلط بات کہہ رہی تھی نا؟‘‘ ’’بالکل غلط کہہ رہی تھی!‘‘ کزی نے زور دے کر اس کی تائید کی۔ جارج چند لمحے خاموش رہا پھر بولا ’’آپ مجھے ان کے متعلق اور بتائیں گی؟‘‘ کزی کو اپنے سابق رویے پر بہت افسوس ہوا۔ گزشتہ سرما میں جارج کے نانا سے متعلق نہ ختم ہونے والے سوالوں سے تنگ آ کر اس نے جارج کے سوال کرنے پر پابندی لگا دی تھی۔ ’’میرے خیال میں تو نانا جان کے متعلق ایسی کوئی بات نہیں رہی جو تمھیں بتانے کی ہو۔‘‘ وہ رکی۔ ’’یہ تو مجھے پتہ ہے کہ تم کچھ نہیں بھولتے لیکن پھر بھی، کہو تم کیا پوچھنا چاہتے ہو۔‘‘ جارج کچھ دیر سوچتا رہا۔ ’’امی! ایک بار آپ نے کہا تھا کہ نانا کہتے تھے کہ وہ آپ کو افریقہ کی چیزوں کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں۔‘‘ ’’ہاں کئی بار بتایا کرتے تھے۔‘‘ کزی نے سوچ کر کہا۔ ایک اور سکوت کے بعد جارج نے کہا۔ ’’امی! میں بھی آپ کی طرح اپنے بچوں کو افریقہ اور نانا ابو کے متعلق بتائوں گا!‘‘ کزی مسکرا دی بارہ سالہ جارج کے منہ سے بچوں کی بات کافی دل چسپ تھی۔ جوں جوں مالک اور مالکن کی پسندیدگی بڑھتی گئی توں توں جارج کی آزادی میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ اتوار کی سہ پہر جب مالک اور مالکن بگھی کی سیر پر جاتے تو جارج دور دور گھومنے نکل جاتا اور کبھی کبھی گھنٹوں غائب رہتا۔ وہ لی رقبے کاکو نہ کو نہ گھومتا رہتا تھا۔ ایسی ہی ایک اتوار اس نے آ کر کزی کو بتایا کہ وہ مرغ بان بوڑھے سے مل کر آیا ہے۔ ’’پہلے تو میں نے ان کی ایک مرغا پکڑنے میں مدد کی، جو چھوٹ گیا تھا۔ پھر میں ان سے باتیں کرنے لگ گیا۔ مجھے وہ اتنا عجیب تو نہیں لگے جتنا آپ سب کہتے تھے۔ میںنے ایسے مرغ کبھی نہیں دیکھے۔ وہ کہتے تھے کہ اس کے مرغے بانگ دینے سے پہلے ہی دڑبوں میں ایک دوسرے سے لڑنے کے لیے چھلانگیں لگانے لگتے ہیں۔ انہوں نے مجھے انہیں تھوڑی سے گھاس کھلانے کا موقع بھی دیا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ میں مرغے پالنے میں جتنی محنت کرتا ہوں اتنی مائیں بچے پالنے کے لیے نہیں کرتیں۔‘‘ کزی نے اپنے ردِ عمل کو چھپاتے ہوئے جارج کی دل چسپی کا لطف لیا۔ ’’انہوں نے مجھے ان کی کمریں، گردنیں اور ٹانگیں سہلا کر دکھلائیں۔ کیوں کہ اس سے لڑنے کی صلاحیت بڑھتی ہے!‘‘ ’’تم اس سے دور ہی رہا کرو۔‘‘ کزی نے تنبیہ کی۔‘‘ مالک کو اس بوڑھے کے علاوہ کسی کا مرغی خانے میں دخل پسند نہیں !‘‘ ’’انکل منگو کہہ رہے تھے کہ وہ مالک سے اجازت لے لیں گے تاکہ میں آ کر مرغوں کو دانہ دنکا ڈالنے میں ان کا ہاتھ بٹا سکوں۔‘‘ اگلے دن کھیتوں کو جاتے ہوئے کزی نے بہن سارہ کو یہ قصہ سنایا۔ سارہ یہ سن کر کچھ نہیں بولی، پھر کہا۔ ’’مجھے پتہ ہے تمھیں میرا قسمت کا حال بتانا پسند نہیں۔ لیکن میں تمھیں جارج کے متعلق ایک دو باتیں بتانا چاہتی ہوں۔ ‘‘ اس نے ایک لمحہ رک کرکہا۔ ’’وہ ایسی زندگی نہیں گزارے گا جیسی عام نیگر گزارتے ہیں۔ جب تک وہ جیے گا نت نئے اور انوکھے کام کرتا رہے گا!‘‘

مزید پڑھیں

یہ بھی مشہور تھا کہ مرغ باز کو پتہ لگ جائے کہ کہیں مرغوں کی اہم لڑائی ہے تو وہ وقت اور فاصلے کی پرواہ نہیں کرتا۔ ان پیدل غریبوں میں سے بھی کوئی بعد میں زمین دار بن سکتا ہے، مالک کی طرح۔دو گھنٹے کے سفر کے بعد جارج کو مرغوں کی مدھم سی بانگیں سنائی دینے لگیں۔ ویگن چیڑھ کے گھنے جنگل کے پاس پہنچی تو یہ شوربے حد اونچا ہو گیا۔ اس کے ناک میں گوشت بھننے کی خوش بو آئی۔ پھر ویگن روکی گئی۔ ہر طرف گھوڑے، خچر بندھے ہوئے تھے اور لوگ باتیں کر رہے تھے۔’’ٹام لی!‘‘ نیچے کھڑے غریب کریکروں نے مالک کو دیکھ کر پہچان لیا جو ویگن میں کھڑے ہو کر ٹانگیں سیدھی کر رہے تھے۔ مالک ویگن سے کود کو نیچے اترے اور بھیڑ میں شامل ہو گئے۔ سینکڑوں لوگ، بچوں سے لے کر بوڑھوں تک، ادھر ادھر کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ جارج نے ادھر ادھر دیکھ کر اندازہ لگایا کہ تمام غلام گاڑیوں میں ہی رکے ہوئے مرغوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔ اور لگتا تھا کہ سینکڑوں مرغوں میں بانگیں دینے کامقابلہ ہو رہا ہے۔ کئی ویگنوں کے نیچے سفری بستر بچھے نظر آئے۔ جس کا مطلب تھا کہ بعض مالک اتنی دور سے آئے ہیں کہ وہ رات یہیں رکیں گے۔

مزید پڑھیں

کزی نے نیچی آواز میں جواب دیا۔ ’’نہیں۔‘‘ ’’میرا خیال ہے چھ سے سات سو ڈالر میں۔ آج کل کے حالات میں، میں نے ان سے سنا ہے کہ غلاموں کی قیمتیں بہت چڑ ھ گئی ہیں۔ اور تم دیکھنے میں مضبوط اور نوجوان ہو اور اچھی نسل کی لگتی ہو۔ کزی کی زبان گنگ ہو گئی تھی۔ تپتے سورج کے نیچے، کھیتوں میں کام کرتے ہوئے کئی بار کزی کو چکر آجاتے۔ صبح صبح متلی اور الٹیاں بھی جاری تھیں۔ ہل کے کھردرے اور بھاری دستے کو کھینچتے ہوئے اس کے ہاتھوں پر چھالے بنتے اور پھوٹ جاتے، دوبارہ پانی سے بھرتے اور پھر پھوٹ جاتے۔ لکڑیاں کاٹتے ہوئے بھی وہ تجربہ کار موٹے انکل پامپی اور ہلکی رنگت والی بہن سارہ جتنا کام کرنے کی کوشش کرتی۔ وہ دونوں ابھی تک ا س پر اعتماد نہیں کرتے تھے۔ اسے لگتا کہ ان دنوں وہ بیل کو اپنے پاس رکھنے کے لیے کوئی بھی قیمت ادا کر سکتی ہے۔

مزید پڑھیں

’’اساس‘‘ (Roots) ایک شہرئہ آفاق ناول ہے۔ ایلکس ہیلی نے اسے بارہ سال کی تحقیق و جُستجوکے بعد لکھا ہے ۔اس ناول کودنیا بھر میں کروڑوں قارئین نے پذیرائی بخشی اور اس ناول پر فلم بنی جسے ناظرین نے بے حد پسند کیا۔ 1970ء کے آخری نصف میں یہ کتاب شائع ہوئی تو فوراً ہی بیسٹ سیلر بن گئی۔ امریکا اور دنیا بھر میں اس کی مقبولیت کی دو وجہتیں تھیں۔ ایک تو بطور ناول یہ بے حد دل چسپ اور سنسنی خیز کتاب تھی۔ دوسرے تاریخی اعتبار سے بھی اس کی اہمیت و افادیت مسلمہ تھی، مؤرخین کے مطابق یہ صرف افسانہ نہیں، اس میں حقیقت بھی ہے۔ناول کے مترجم عمران الحق چوہان ایک قانون دان، شاعر، کالم نگار، معلم ،سفرنامہ نگار اور ادیب ہیں ۔وہ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں پر عبور رکھتے ہیں ۔ ’’بُک ہوم لاہور‘‘ نے اس کا اردو ترجمہ شائع کیا ہے۔

مزید پڑھیں