☰  
× صفحۂ اول (current) خواتین دنیا اسپیشل کھیل سائنس کی دنیا ادب روحانی مسائل فیشن کیرئر پلاننگ خصوصی رپورٹ صحت دین و دنیا
’’جب مالک نے اپنے پہلے تیس ایکڑ اور پہلا نیگرو جارج خریدا تھا، انہوں نے اس سے اتنا کام لیا کہ اس کی جان ہی لے لی۔‘‘

’’جب مالک نے اپنے پہلے تیس ایکڑ اور پہلا نیگرو جارج خریدا تھا، انہوں نے اس سے اتنا کام لیا کہ اس کی جان ہی لے لی۔‘‘

تحریر : الیکس ہیلی

03-10-2019

کزی نے نیچی آواز میں جواب دیا۔ ’’نہیں۔‘‘ ’’میرا خیال ہے چھ سے سات سو ڈالر میں۔ آج کل کے حالات میں، میں نے ان سے سنا ہے کہ غلاموں کی قیمتیں بہت چڑ ھ گئی ہیں۔ اور تم دیکھنے میں مضبوط اور نوجوان ہو اور اچھی نسل کی لگتی ہو۔ کزی کی زبان گنگ ہو گئی تھی۔ تپتے سورج کے نیچے، کھیتوں میں کام کرتے ہوئے کئی بار کزی کو چکر آجاتے۔ صبح صبح متلی اور الٹیاں بھی جاری تھیں۔ ہل کے کھردرے اور بھاری دستے کو کھینچتے ہوئے اس کے ہاتھوں پر چھالے بنتے اور پھوٹ جاتے، دوبارہ پانی سے بھرتے اور پھر پھوٹ جاتے۔ لکڑیاں کاٹتے ہوئے بھی وہ تجربہ کار موٹے انکل پامپی اور ہلکی رنگت والی بہن سارہ جتنا کام کرنے کی کوشش کرتی۔ وہ دونوں ابھی تک ا س پر اعتماد نہیں کرتے تھے۔ اسے لگتا کہ ان دنوں وہ بیل کو اپنے پاس رکھنے کے لیے کوئی بھی قیمت ادا کر سکتی ہے۔

1806ء کی سردیوں میں، جب بچہ پیدا ہوا تو بہن سارہ نے دائی کا فریضہ ادا کیا۔ وہ حیران نظروں سے ہنستی ہوئی بہن سارہ کے ہاتھوں میں ننھے نومولود کو دیکھتی رہی، یہ لڑکا تھا… لیکن اس کا رنگ زردی مائل بھورا تھا۔کزی کی پریشانی دیکھ کر بہن سارہ نے اسے یقین دلایا کہ ’’نئے بچے ایک مہینے میں کہیں جا کر اپنا صحیح رنگ نکالتے ہیں۔ ‘‘ ہر روز جب کزی بچے کا معائنہ کرتی اس کی پریشانی بڑھ جاتی لیکن جب پورا مہینہ گزر گیا تو اسے یقین ہو گیا کہ اس کا بچہ ہلکے بھورے رنگ کا ہی ہے۔وہ شکر ادا کرتی کہ یہ ذلت بانٹنے کے لیے اس کے ماں باپ وہاں نہیں تھے۔ لیکن اسے علم تھا کہ اب کبھی وہ سر اٹھا کر نہیں چل سکے گی ۔اسے نوح کا خیال آ کر مزید شرمندگی ہوتی۔ اسی طرح کی باتیں سوچتے ہوئے وہ وقت گزارتی رہی۔ ’’جب کبھی، کسی وقت مالکن کی نظر اس بچے پر پڑ گئی۔‘‘ وہ پوچھتی۔ ’’تو مس مالیزی پھر کیا ہو گا؟‘‘ ’’انہیں پتہ ہی ہے کہ مالک کوئی اچھے آدمی نہیں ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سے مالکن بہت حسد محسوس کریں گی کیوں کہ ان کے بچہ نہیں ہو سکتا۔‘‘ بچے کی پیدائش کے کوئی ایک ماہ بعد، مالک رات کے وقت کیبن میں آئے۔ انہوں نے جھک کر شمع بچے کے چہرے کے پاس کی۔‘‘ دیکھنے میں تو برا نہیں ہے۔ جسامت بھی ٹھیک ہے۔‘‘ انہوں نے انگلی سے بچے کی بند مٹھی کو گدگدایا۔ پھر کزی سے بولے۔ ’’اس ہفتے کے آخر تک بہت آرام ہو جائے گاسوموار سے دوبارہ کھیتوں میں جانا شروع کر دو!‘‘ ’’لیکن مجھے بچے کے ساتھ رکنا پڑے گا!‘‘ کزی نے احمقانہ انداز میں کہا۔ غصے میں بھری آواز کزی کے کانوں میں آئی۔ ’’بکواس بند کرو، اور جو کہا جا رہا ہے، وہی کرو! تمہیں ورجینیا کے کسی نواب نے لاڈ سے بگاڑ دیا ہے۔اس بچے کو بھی ساتھ ہی کھیتوں میں لے جایا کرو۔ ورنہ میں بچے کو رکھ کر تمہیں نکال باہر کھڑا کروں گا تاکہ تمہارا دماغ ٹھکانے آجائے!‘‘ ڈری ہوئی کزی اپنے بچے سے بچھڑ کر آگے بکنے کے خوف سے رونے لگی۔ ’’جی اچھا مالک!‘‘ اس نے روتے ہوئے کہا۔ اسے سہما ہوا دیکھا تو مالک کا غصہ ایک دم کم ہو گیا۔ اس نے پہلے سوچ رکھا تھا کہ وہ ’’کنتا‘‘ یا ’’کِنتے‘‘ میں سے ایک نام رکھے گی۔ اگرچہ اسے بے یقینی تھی کہ مالک ان نامانوس آوازوں پر کیا رد ِ عمل ظاہر کریں گے۔ اس لیے اس نے ان کے رکھے ہوئے نام پر اعتراض کر کے ان کے غصے کو بڑھاوا نہیں دیا۔ اس نے ڈرتے ہوئے سوچا کہ اس کے افریقی ابو اس پر کیا سوچیں گے؟وہ تو ناموں کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ کزی کو یاد آیا کہ انہوں نے بتایا تھا کہ ان کے وطن میں لڑکے کا نام رکھنا سب سے اہم کام ہوتا تھا۔ ’’کیوں کہ بیٹے ہی اپنے خاندان کے مرد بنتے ہیں!‘‘ وہ لیٹی سوچتی رہی کہ اسے اپنے ابو کی ان گوروں کی دنیا سے اتنی نفرت کبھی سمجھ نہیں آتی تھی۔ وہ انہیں ’’طوبوب‘‘ کہتے تھے۔ اسے بیل کا کہنا یاد آیا کہ ’’میری بیٹی ! تم اتنی خوش نصیب ہو کہ مجھے ڈر لگتا ہے۔ تمہیں کچھ اندازہ نہیں کہ نیگرو ہونے کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ میں تو خدا سے دعا کرتی ہوں کہ تمہیں اس کا پتہ نہ ہی چلے۔‘‘ لیکن اب اسے پتہ چل چکا تھا۔ کالوں پر گوروں کے ظلم و ستم کی کوئی انتہا نہیں تھی۔ لیکن سب سے بڑا ظلم کَنتا کے بقول یہ تھا کہ گورے انہیں ان کی شناخت سے لاعلم رکھتے تھے تاکہ وہ پورے انسان نہ بن سکیں۔ ’’تمہارے ابو کو پہلے پہل پسند کرنے کی وجہ یہ تھی۔‘‘اس کی امی نے اسے بتایا تھا، ’’کہ میں نے ان سے زیادہ مغرور کالا نہیں دیکھا تھا۔‘‘ سونے سے پہلے کزی نے خود سے فیصلہ کیا کہ چاہے اس کے بچے کی نسل کتنی ہی گھٹیا ہو، اس کا رنگ کتنا ہی ہلکا ہو، مالک جو مرضی نام اس پر ٹھونسیں۔ وہ اسے ایک افریقی کا نواسا ہی سمجھے گی۔ انکل پامپی اسے صبح سویرے دیکھ کر ’’کیا حال ہے؟‘‘ سے زیادہ بات نہیں کرتا تھا۔ لیکن اس صبح جب وہ بچے کو لیے کھیت میں پہنچی تو یہ دیکھ کر بہت متاثر ہوئی کہ انکل پامپی اسے دیکھ کر قریب آیا اور پسینے کے داغوں والا ہیٹ چھوکر، ذرا شرماتے ہوئے پیڑوں کے جھنڈ کی طرف اشارہ کر کے بولا۔ ’’میرا خیال ہے تم بچہ وہاں، پیڑوں تلے لٹا دو۔‘‘ کزی نے آنکھیں سکیڑ کر دیکھا تو اسے درخت پر کچھ نظر آیا۔ وہ وہاں پہنچی تو اس کی آنکھیں آنسوئوں سے بھیگ گئیں۔ وہاں لمبی گھاس، موٹی جھاڑیوں اور ہرے پتوں سے بچے کے لیے ایک چھوٹا سا چھپڑ بنا ہوا تھا۔کزی نے شکر گزاری کے ساتھ اپنی صاف بوری پتوں پر بچھا کر بچے کو اس پر لٹا دیا۔ بچہ تھوڑا سا رویا لیکن کزی کے تھپکنے اور گنگنانے پر ہنسنے اور اس کی انگلیاں پکڑنے لگا۔ تمباکو کے کھیت میں کام کرتے اپنے دونوں ساتھیوں کے پاس جا کر کزی نے کہا۔ ’’شکریہ انکل پامپی! میں آپ کی شکرگزار ہوں۔‘‘ اور وہ اپنی گھبراہٹ چھپانے کے لیے جلدی جلدی تمباکو کاٹنے لگا۔ وقفے وقفے سے وہ جا کر اپنے بچے پر نظر ڈال آتی۔ اور ہر تین گھنٹے بعد جب بچہ روتا تو وہیں بیٹھ کر اسے دودھ پلاتی۔ ’’تمہارے بچے نے تو ہم سب کو مصروف کر دیا ہے۔ کیوں کہ یہاں اور کوئی چیز تو ہے نہیں جس پر آدمی دھیان دے۔‘‘ کچھ دن بعد بہن سارہ نے، انکل پامپی کی طرف دیکھ کر کہا۔ ہر روز شام کو واپسی پر جب کزی دونوں کدالیں اٹھائے کیبن کو لوٹتی تو بہن سارہ بچے کو اٹھا لیتی۔ یہاں غلام احاطہ چھوٹے، کھڑکی کے ڈربا نما چار کیبنوں پر مشتمل تھا جو بڑے درخت کے پاس تھے۔ عام طور پر کزی کے گھر پہنچتے پہنچتے اندھیرا ہو جاتا ۔وہ جا کر جلدی جلدی چولہا جلاتی اور ہفتے کے روز مالک کی طرف سے جاری کردہ راشن سے کچھ نکال کر پکنے رکھ دیتی۔ کھانا کھا کر وہ مکئی کے چھلکوں کے گدے پر لیٹ جاتی اور جارج (بیٹے) سے کھیلنے لگتی۔ وہ تب تک اسے دودھ نہ پلاتی جب تک وہ بھوک سے رونے نہ لگتا۔ پھر اسے پیٹ بھر کر دودھ پلا کر اسے کندھے سے لگا تی اور پیٹھ مسلتی تاکہ اسے ڈکار آجائے۔ پھر دوبارہ اس سے کھیلنے لگتی۔ وہ حتی الوسع دیر تک جاگتی تاکہ بچہ زیادہ دیر تک سویا رہے اور جلدی دودھ کے لیے تنگ نہ کرے۔ رات کو جارج کو دوبارہ دودھ پلا کر وہ سوتی تو صبح انکل پامپی کی دستک پر پھر اٹھ بیٹھتی۔ بہن سارہ کے ساتھ کھیتوں میں جانے سے پہلے وہ ناشتہ کر کے بچے کو دودھ پلا دیتی۔ مکئی، تمباکو اور کپاس کے کھیت الگ الگ تھے اور انکل پامپی نے ہر کھیت کے سرے پر ایک سایہ دار چھپڑ بنا دیا تھا۔ اتوار کو دوپہر کا کھانا کھا کر مالک اور مالکن بگھی پر ہفتہ وار سیر کے لیے نکل جاتے۔ ان کے جاتے ہی غلام احاطے کے لوگ بڑے پیڑ تلے گھنٹے بھر کے لیے اکٹھے ہو جاتے۔ کزی اور جارج کے آنے کے بعد مس مالیزی اور بہن سارہ اس بات پر الجھنے لگتیں کہ جارج کو کون اٹھائے گا۔ انکل پامپی، اپنا پائپ پیتے ہوئے، کزی سے باتیں کر کے خوش ہوتا رہتا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ کزی باقی دونوں عورتوں کی نسبت زیادہ توجہ اور احترام کے ساتھ، بلا مداخلت کیے، اس کی باتیں سنتی تھی۔ ’’یہ جگہ نرا جنگل تھی اور پچاس سینٹ فی ایکڑ کے حساب سے ملتی تھی۔‘‘ ایک سہ پہر انکل پامپی نے بتایا۔ ’’جب مالک نے اپنے پہلے تیس ایکڑ اور پہلا نیگرو، جارج خریدا تھا، یہ ہی نام جو تمہارے بیٹے کا ہے، انہوں نے اس نیگر وسے اتنا کام لیا کہ اس کی جان ہی لے لی۔‘‘ کزی کا کھلا منہ دیکھ کر اس نے پوچھا۔ ’’کوئی مسئلہ ہے؟‘‘ ’’نہیں، کوئی نہیں۔‘‘ کزی نے جلدی سے خود کو سنبھال کر جواب دیا اور انکل پامپی پھر کہنے لگا۔ ’’جب میں یہاں آیا تھاتو مالک کو وہ نیگر وخریدے ایک سال بھی نہیں ہوا تھا۔ وہ سارا وقت درخت کاٹتے اور جھاڑیاں صاف کرتے رہتے تھے تاکہ پہلی فصل کاشت کر سکیں۔ پھر ایک روز میں اور وہ نیگر وآرے سے لکڑی کی کھپچیاںبنا رہے تھے۔ اُدھر بڑے گھر میں۔‘‘ انکل پامپی نے اشارہ کیا۔ ’’خدایا! مجھے عجیب سی آواز آئی اور میں نے اپنے آرے سے سر اٹھا کر دیکھا۔ اس نیگر وجارج کی آنکھیں پھٹی پڑ رہی تھیں اور اس نے سینہ پکڑا ہوا تھا۔ وہ ایک دم گرا اور مر گیا۔ بس یوں!‘‘ کزی نے موضوع بدل دیا۔ ’’جب سے میں یہاں آئی ہوں یہ ہی سن رہی ہوں کہ سب مرغوں کی لڑائیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ پہلے تو میں نے کبھی اس کا ذکر بھی نہیں سنا تھا۔‘‘ ’’میں نے مالک کو کہتے تو سنا ہے کہ ورجینیا میں بھی مرغوں کی بہت لڑائیاں کروائی جاتی ہیں۔‘‘ مالیزی نے جواب دیا۔ ’’شاید جہاں تم رہتی تھیں وہاں آس پاس اس کا رواج نہ ہو۔‘‘ ’’ہم سارے بھی ان کے متعلق کچھ زیادہ نہیںجانتے‘‘انکل پامپی نے کہا۔ ’’سوائے اس کے کہ یہ خاص قسم کے مرغے ہوتے ہیں جنہیں ایک دوسرے کو مارنے کے لیے پالا جاتا ہے۔ لوگ ان پر بڑی بڑی رقموں کی شرطیں لگاتے ہیں۔‘‘ ’’مجھے یہاں آئے چودہ سال ہو گئے ہیں۔‘‘ بہن سارہ نے کہا۔ ’’لیکن میںنے سب کو اچھی طرح نہیں دیکھا۔ ایک آدمی کو انسانوں سے زیادہ مرغے اچھے لگتے ہیں۔ ہونھ!۔ اس نے ناک چڑھائی۔‘‘ جس وقت کزی سب کے ساتھ ہنس رہی تھی اس دوران بہن سارہ نے مس مالیزی کی طرف جھک کر بازو پھیلائے۔ ’’بھئی ذرا دیر کے لیے بچہ مجھے دے دو۔‘‘ مالیزی نے ماتھے پر بل ڈال کر بچہ اس کے حوالے کر دیا۔’’سچ پوچھو تو۔‘‘اس نے کہا۔ ’’ان مرغوں کی وجہ سے ہی مالک اور مالکن کی حیثیت علاقے میں اتنی اچھی ہوئی ہے۔‘‘ اس نے ان کی نقل اتاری ’’کسی امیر آدمی کی بگھی کے قریب سے گزرتے ہوئے مالک اس طرح ہاتھ ہلاتے ہیں۔‘‘ اس نے انگلیاں ہلائیں جیسے تتلی اڑتی ہو۔ ’’اور مالکن یوں رومال ہلاتی ہیں کہ بگھی سے باہر گرنے والی ہو جاتی ہیں۔‘‘ کزی کو ہنستے ہنستے سانس لینا دشوا ر ہو گیا۔ اس نے بچے کو لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو بہن سارہ تیکھی ہو کر بولی۔ ’’ٹھہرو بھئی! ابھی تو مجھے ایک منٹ بھی نہیں ہوا اسے پکڑے ہوئے۔‘‘کزی کو انہیں بچے کے لیے جھگڑتے دیکھ کر خوشی ہوئی۔ انکل پامپی بھی مزاحیہ شکلیں بنا کر اور ہاتھوں کے اشارے کر کے بچے کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتا۔ اور جب بچہ اس کی جانب دیکھتا تو انکل پامپی کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھتا۔چند ماہ بعد جارج لڑھکتا پھر رہا تھا کہ دودھ کے لیے رونے لگا۔ کزی اسے اٹھانے ہی لگی تھی کہ مس مالیزی نے کہا۔ ’’تھوڑی دیر رو لینے دو اسے۔ اب اتنا بڑا ہو گیا ہے کہ کچھ کھانا بھی شروع کرے۔‘‘ وہ جلدی سے اپنے کیبن میں گئی اور مکئی کی روٹی اور دودھ کا ملیدہ سا بنا کر، جارج کو گود میں بٹھایا اور چمچ سے تھوڑا ملیدہ اسے کھلایا۔ سب یہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے کہ جارج مزے لے لے کر کھانے لگا۔اب جارج چاروں ہاتھوں پائوں پر لڑھکنے لگا تھا اس لیے کزی نے اس کی کمر سے رسی باندھنی شروع کر دی، لیکن وہ اپنی پہنچ کے اندر رہ کر بھی مٹی اور کیڑے مکوڑے منہ میں ڈال لیتا۔ سب کا خیال تھا کہ اسے روکنا ضروری ہے۔’’ اب اس نے دودھ پینا تو چھوڑ ہی دیا ہے۔‘‘ مس مالیزی نے تجویز دی۔ ’’اس لیے جب تم کھیتوں میں جائو تو اسے میرے پاس چھوڑ جایا کرو، میںاس پر نظر رکھ لوں گی۔‘‘ بہن سارہ نے بھی اس کی تائید کی۔ کزی نہ چاہنے کے باوجود بھی اسے بڑے گھر کے باورچی خانے میں چھوڑ کر کھیتوں میں جانے لگی۔ جہاں سے لوٹ کر وہ اسے واپس لے لیتی۔ پہلی بار جب جارج نے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں ’’می لیز‘‘کہا تو کزی کو اپنے فیصلے پر غصہ آیا۔ لیکن جلد ہی جب اس نے واضح طور پر ’’امی‘‘ کہا تو کزی کوبہت خوشی ہوئی۔ اس کا اگلا لفظ ’’انکا پامپ‘‘ تھا جسے سن کر بوڑھے کو یوں لگا جیسے اس نے سورج کی روشنی پی لی ہو۔ پھر فوراً ہی اس نے ’’سس سی را‘‘ بھی کہہ دیا۔ایک سال کا ہو کر جارج پائوں پائوں چلنے لگا۔ پندرہ مہینے کا ہو کر وہ بھاگنے بھی لگا۔ اسے خود بھی یہ نئی آزادی اچھی لگتی تھی۔ جب تک وہ نیند میں یا بیمار نہ ہوتا کسی کی گود میں نہ جاتا۔ اور بیماری تو اس کے قریب نہیں پھٹکتی تھی۔ مس مالیزی نے اسے باورچی خانے کی بہترین چیزیں کھلا کھلا کر خوب تن درست بنا رکھا تھا۔ اب اتوار کی سہ پہر میں کزی اور دیگر بڑے اسے کھیلتے دیکھ کر نہال ہوتے رہتے۔ وہ ٹہنیاں چبا کر، مکوڑے پکڑ کر، جہازی مکھیوں کا پیچھا کر کے یا بلی اور چوزوں کا تعاقب کر کے بہت خوش ہوتا۔ جارج دو سال کا ہوا تو انکل پامپی نے اسے کہانیاں سنا سنا کر اپنا دیوانہ بنا لیا۔ اتوار کی ڈھلتی سرد شام میں پامپی ایک چھوٹا سا الائو جلاتاتاکہ دھواں مچھروں کو دور رکھ سکے، تینوں عورتیں الائو کے گرد کرسیاں رکھ کر بیٹھ جاتیں۔ جارج ایسی جگہ بیٹھتا جہاں سے اسے انکل پامپی کے چہرے کے تاثر اور ہاتھوں کے اشارے صاف نظر آئیں۔ اس کی کہانیوں کی کوئی انتہا نہیں تھی۔ ’’مالیزی میں تم سے ایک بات کہنے لگی ہوں۔ ‘‘ کزی نے ایک دن کہا۔ ’’بہن سارہ اور انکل پامپی لڑتے ہی رہتے ہیں۔ لیکن مجھے یہ بھی لگتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے پاس رہ کر خوش بھی رہتے ہیں۔‘‘ ’’مجھے تو کبھی ایسا نہیں لگا۔ نہ انہوں نے کبھی منہ سے کچھ کہا۔ میرے خیال میں تو وہ صرف وقت گزاری کرتے ہیں۔ جب تم بھی ہماری عمر کی ہو جائو گی تو تمہیں اندازہ ہو گا کہ آدمی اکیلے پن کا عادی ہو جاتا ہے۔ بغیر چاہے ہی۔‘‘ مس مالیزی نے بات آگے کرنے سے پہلے کزی کو غور سے دیکھا۔ ’’ہم تو بوڑھے ہیں، سوہیں۔ لیکن میری جان تم جوان ہو اور کسی کاہونا تمہارے لیے ایک مسئلہ ہے۔ میں کئی بار سوچتی ہوں کہ مالک کسی کو خرید لیں اور تمہارا ساتھ بن جائے!‘‘ ’’ہاں مس مالیزی! مجھے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے کہ میرا دل ساتھی نہیں چاہتا۔ ضرور چاہتا ہے ‘‘ کزی رکی۔ پھر اس نے وہ بات کی جو دونوں کو معلوم تھی۔ ’’لیکن مالک ایسا کبھی نہیں کریں گے۔‘‘ اس نے دل میں سب کا شکریہ ادا کیا کہ مالک اور اس کے تعلقات جاننے کے باوجود کبھی کسی نے اس کا اشارہ بھی نہیں دیا تھا۔ کم از کم اس کے سامنے۔ ’’اب تم سے کیا چھپانا۔‘‘کزی نے بات جاری رکھی۔’’ جہاں سے میں آئی ہوں وہاں ایک آدمی تھا۔ میں اب بھی اکثر اس کے متعلق سوچتی ہوں۔ ہماری شادی ہونے والی تھی لیکن پھر سب کچھ گڑ بڑ ہو گیا۔ اسی وجہ سے مجھے یہاں آنا پڑا۔‘‘ ٭٭٭

مزید پڑھیں

یہ بھی مشہور تھا کہ مرغ باز کو پتہ لگ جائے کہ کہیں مرغوں کی اہم لڑائی ہے تو وہ وقت اور فاصلے کی پرواہ نہیں کرتا۔ ان پیدل غریبوں میں سے بھی کوئی بعد میں زمین دار بن سکتا ہے، مالک کی طرح۔دو گھنٹے کے سفر کے بعد جارج کو مرغوں کی مدھم سی بانگیں سنائی دینے لگیں۔ ویگن چیڑھ کے گھنے جنگل کے پاس پہنچی تو یہ شوربے حد اونچا ہو گیا۔ اس کے ناک میں گوشت بھننے کی خوش بو آئی۔ پھر ویگن روکی گئی۔ ہر طرف گھوڑے، خچر بندھے ہوئے تھے اور لوگ باتیں کر رہے تھے۔’’ٹام لی!‘‘ نیچے کھڑے غریب کریکروں نے مالک کو دیکھ کر پہچان لیا جو ویگن میں کھڑے ہو کر ٹانگیں سیدھی کر رہے تھے۔ مالک ویگن سے کود کو نیچے اترے اور بھیڑ میں شامل ہو گئے۔ سینکڑوں لوگ، بچوں سے لے کر بوڑھوں تک، ادھر ادھر کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ جارج نے ادھر ادھر دیکھ کر اندازہ لگایا کہ تمام غلام گاڑیوں میں ہی رکے ہوئے مرغوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔ اور لگتا تھا کہ سینکڑوں مرغوں میں بانگیں دینے کامقابلہ ہو رہا ہے۔ کئی ویگنوں کے نیچے سفری بستر بچھے نظر آئے۔ جس کا مطلب تھا کہ بعض مالک اتنی دور سے آئے ہیں کہ وہ رات یہیں رکیں گے۔

مزید پڑھیں

مس مالیزی کے چہرے پر افسوس دیکھ کر کزی نے لہجہ ذرا خوش گوار بنا کر اسے ماضی کا سارا قصہ سنا ڈالا۔ ’’میں اب بھی خود سے کہتی رہتی ہوں کہ وہ کبھی نہ کبھی مجھے ڈھونڈھتا ہوا یہاں آجائے گا۔‘‘ اس کے لہجے میں دعا کا ساتاثر تھا۔’’ سچ کہوں مس مالیزی، اگر ایسا ہو گیا تو ہم ایک دوسرے سے ایک لفظ بھی نہیں کہیں گے۔ بس ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر تم سب کو الوداع کہیں گے اور جارج کو لے کر چلے جائیں گے۔ میں اس کے آخری الفاظ کبھی نہیں بھول سکتی۔ اس نے کہا تھا۔‘‘ہم ساری زندگی اکٹھے رہیں گے، میری جان!‘‘ کزی کی آواز بھر آئی۔ اور وہ دونوں رونے لگیں۔ پھر کزی اپنے کیبن لوٹ آئی۔

مزید پڑھیں

’’اساس‘‘ (Roots) ایک شہرئہ آفاق ناول ہے۔ ایلکس ہیلی نے اسے بارہ سال کی تحقیق و جُستجوکے بعد لکھا ہے ۔اس ناول کودنیا بھر میں کروڑوں قارئین نے پذیرائی بخشی اور اس ناول پر فلم بنی جسے ناظرین نے بے حد پسند کیا۔ 1970ء کے آخری نصف میں یہ کتاب شائع ہوئی تو فوراً ہی بیسٹ سیلر بن گئی۔ امریکا اور دنیا بھر میں اس کی مقبولیت کی دو وجہتیں تھیں۔ ایک تو بطور ناول یہ بے حد دل چسپ اور سنسنی خیز کتاب تھی۔ دوسرے تاریخی اعتبار سے بھی اس کی اہمیت و افادیت مسلمہ تھی، مؤرخین کے مطابق یہ صرف افسانہ نہیں، اس میں حقیقت بھی ہے۔ناول کے مترجم عمران الحق چوہان ایک قانون دان، شاعر، کالم نگار، معلم ،سفرنامہ نگار اور ادیب ہیں ۔وہ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں پر عبور رکھتے ہیں ۔ ’’بُک ہوم لاہور‘‘ نے اس کا اردو ترجمہ شائع کیا ہے۔

مزید پڑھیں