☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن کیرئر پلاننگ دنیا اسپیشل خصوصی رپورٹ سنڈے سپیشل عالمی امور دین و دنیا کچن کی دنیا روحانی مسائل ادب کھیل رپورٹ خواتین
تمہیں ڈانٹ ڈپٹ سیکھنی ہوگی۔۔۔

تمہیں ڈانٹ ڈپٹ سیکھنی ہوگی۔۔۔

تحریر : الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان

07-14-2019

’’خچر کو ایڑ لگا کر ٹام ایک ٹیلے کے پاس آیا جہاں گھڑ سواروں کی چار قطاریں موجود تھیں۔ افسران احکامات جاری کرنے کے لیے چلاّ رہے تھے۔

ٹام نے میجر کیٹس کو پہچان لیا جو اپنے گھوڑے پر سوار ادھر ادھر آ جا رہا تھا۔ میجر کے اس کی طرف دیکھنے پر اس نے سرہلا کر سلام کیا۔ دوسری طرف سے ایک گھڑ سوار اس کی طرف لپکا۔ ٹام نے خچر کو روک لیا۔

’’جی سر۔‘‘

محافظ نے خیموں کے ایک چھوٹے جھنڈ کی طرف اشارہ کیا۔‘‘ ان کوڑے کرکٹ کے خیموں کے ساتھ تم کام کرو گے۔ تم اپنے اوزار سیدھے کر لو تو ہم گھوڑے بھیجنے شروع کریں۔‘‘

پہلے ہفتے تو گھوڑوں کو نعل لگاتے لگاتے ٹام کو کمر سیدھی کرنے کا موقع نہیں ملا ۔پہلا ہفتہ صبح سے شام تک جھکے جھکے اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا آنے لگا۔ فوجیوں کی ہر بات سے لگتا تھا کہ یینکی ہر محاذ پر منہ کی کھا رہے ہیں۔ وہ تھکن سے نڈھال گھر آتا تو وہاں بھی گاہک اسے گھیرے رہتے۔سب غلام عورتیں بہت پریشان تھیں۔

گزشتہ دن اور رات سے للی سو کا بیمار بیٹا اورز یادہ نیم دیوانہ لگنے لگا تھا۔ ٹام کے آنے سے ذرا پہلے وہ مٹلڈا کو جھاڑو دیتے ہوئے فرنٹ پورچ کے قریب مکان کے نیچے بھوکا پیاسا چھپا ہوا ملا۔’’میں سننے کی کوشش کر رہا تھا کہ مالک اور مالکن نیگروئوں کو آزاد کرنے کے لیے کیا باتیں کر رہے ہیں۔ لیکن مجھے کچھ سنائی نہیں دیا۔‘‘اور اب مٹلڈا اور آئرین مل کر للی سو کو تسلی دینے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ٹام نے بھی اسے حوصلہ دیا اور پھر ہفتے بھر کی کارگزاری سنانے لگا۔ ’’مجھے تو کوئی اچھی خبر سننے کو نہیں ملی۔‘‘ اس نے کہا۔ آئرین نے بھی اس کی بات کی تائید کی۔ ’’ہم نے کبھی آزاد نہیں ہونا۔ اس لیے اس کی فکر بھی کیوں کریں؟‘‘ لیکن مٹلڈا نے کہا’’سچ بتائوں مجھے تو لگتا ہے حالات پہلے سے بھی بدتر ہو جائیں گے۔‘‘

ٹام کا بھی یہ ہی خیال تھا۔ اسے کیولری میں کام کرتے دوسرا ہفتہ تھا۔ تیسری رات اسے قریبی کوڑے کے خیمے سے شور سا سنائی دیا۔ اس نے اندھیرے میں ٹٹول کر اپنا ہتھوڑا اٹھا لیا اور وجہ جاننے کے لیے باہر نکل آیا۔ پہلے تو وہ سمجھا کہ شاید کوئی جانور بدک گیا ہوگا۔ پھر چاندنی میں اسے ایک سایہ خیمہ سے نکلتا نظر آیا جو کچھ کھا رہا تھا۔ قریب جانے پر ٹام ایک سوکھے سے نوجوان کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ پہلے تو وہ ایک دوسرے کو گھورتے رہے پھر وہ لڑکا بھاگا۔ لیکن چند قدم دور جا کر وہ کسی شے سے ٹکرا کر گرا لیکن دوبارہ اٹھ کر بھاگ گیا اور اندھیرے میں گم ہوگیا۔ کھٹکا سن کر مسلح محافظ لالٹینیں اٹھائے وہاں پہنچے تو ٹام ہتھوڑا پکڑے کھڑا تھا۔

’’او نیگر، کیا چوری کر رہا ہے؟‘‘

ٹام کو فوراً احساس ہوا کہ وہ مصیبت میں پڑ گیا ہے۔ اگر اس نے براہ راست انکار کیا تو یہ کسی گورے کو جھٹلانے کے برابر ہوگا جو چوری سے بھی خطرناک جرم تھا۔ اس نے گڑبڑا کر کہا’’م م م۔ میں، میں نے شور سنا تھا باہر نکلا تو ایک سفید فام کو کوڑے گھر میں دیکھا، مالک! لیکن وہ بھاگ گیا۔‘‘

دونوں محافظوں کو اس کی بات پر یقین نہیں آیا اور وہ ہنسنے لگے۔‘‘ ابے نیگر تجھے ہم اتنے بے وقوف نظر آتے ہیں‘‘ ایک نے کہا’’میجر کیٹس نے تم پر خصوصی نظر رکھنے کو کہا تھا۔ صبح وہ جاگیں گے تو تمہیں ان کے پاس پیش کریں گے۔‘‘

پھر دوسرے محافظ نے کہا’’یہ ہتھوڑا پھینک دو!‘‘ ٹام نے بے ساختہ ہتھوڑے پر گرفت مضبوط کر لی۔ محافظ نے ایک قدم اٹھایا اور بندوق سیدھی کرتے ہوئے کہا’’پھینک دو!‘‘ٹام نے ہاتھ کھول دیا اور ہتھوڑا زمین پر گرنے کی آواز آئی۔ محافظ اسے اپنے آگے چلاتے ہوئے ایک بڑے خیمے کے باہر کھلی جگہ پر لے آئے جہاں ایک اور محافظ موجود تھا۔ ’’ہم گشت پر تھے اور اس نیگر کو چوری کرتے ہوئے پکڑا ہے۔‘‘ ان میں سے ایک نے کہا ’’ہم خود ہی اسے سنبھال لیتے لیکن میجر صاحب نے اس پر نظر رکھنے اور ان ہی کو رپورٹ کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ اس لیے ہم صبح آئیں گے۔‘‘

دونوں محافظ ٹام کو نئے محافظ کے سپرد کرکے چلے گئے۔ جس نے غصے سے کہا ’’زمین پر چت لیٹ جائو نیگر! اگر ذرا بھی ہلے تو سمجھو کہ تم مردہ ہو۔‘‘ ٹام حسب الحکم لیٹ گیا۔ زمین ٹھنڈی تھی۔ اس نے متوقع سزا اور فرار کے امکانات پر غور کیا اور پھر اس کے نتائج کا سوچا۔ پوپھٹی تو میجر کے جاگنے کی آواز سن کر پہلے دونوں محافظ بھی آگئے۔ ایک نے باہر سے پوچھا۔’’میں حاضر ہوں سکتا ہوں میجر؟‘‘

’’کیا مسئلہ ہے؟‘‘ ٹام کو اندر سے غراہٹ سنائی دی۔

’’کل رات لوہار کو چوری کرتے ہوئے پکڑا ہے سر!‘‘

کچھ دیر سکوت رہا۔ ’’اب وہ کہاں ہے؟‘‘

’’یہ باہر ہماری قید میں ہے، سر!‘‘

’’میں آ رہا ہوں۔‘‘

ایک منٹ بعد میجر پردہ ہٹا کر باہر نکلا اور ٹام کو یوں گھورنے لگا جیسے بلی کسی چڑیا کو دیکھتی ہے۔ ’’اچھا، تو نیگر تم کیا چرا رہے تھے؟ تمہیں پتہ ہے کہ فوج میں اس کی کیا سزا ہے؟‘‘

’’مالک۔۔۔۔‘‘ اور اس نے ساری بات بیان کر دی اور آخر میں کہا ’’وہ بہت بھوکا تھا، مالک اور کوڑا کرید رہا تھا۔‘‘

’’اچھا، تو ایک سفید فام گند کھا رہا تھا! تم بھول گئے ہو کہ ہم پہلے مل چکے ہیں اور میں تم جیسوں کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ ہم نے تمہارے اس بے کار آزاد باپ کا خیال کیا تو تم اوقات سے باہر ہوگئے۔ کوئی بات نہیں اب تمہیں فوج کے قواعد کے مطابق سزا ملے گی۔‘‘

ٹام شرمندگی اور تکلیف میں اس جگہ پہنچا جہاں گھوڑوں کو نعل لگاتا تھا۔ اپنے اوزار سمیٹے، خچر پر بیٹھا اور مڑ کر دیکھے بنا بڑے گھر پہنچ گیا۔ مالک مرے اس کی بپتا سنتے رہے۔ ٹام نے بات ختم کی تو ان کا چہرہ غصے سے سرخ تھا۔ ’’جو بھی ہو جائے مالک، میں واپس نہیں جائوں گا!‘‘

’’تم ٹھیک ہو ٹام؟‘‘

’’درد تو زیادہ نہیں ہے لیکن ذہنی طور پر تکلیف میں ہوں۔‘‘

’’میرا تم سے وعدہ ہے۔ اگر میجر نے کوئی گڑبڑ کرنے کی کوشش کی تو میں اس کے کمانڈنگ جنرل سے ملوں گا۔ جو ہوا اس کا مجھے افسوس ہے۔ تم دکان پر جا کر اپنا کام شروع کرو۔‘‘ وہ ذرا ہچکچائے۔’’ٹام، تم گھر میں سب سے بڑے تو نہیں ہو لیکن میں اور تمہاری مالکن تمہیں تمہارے گھر کا سربراہ ہی سمجھتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ تم اپنے گھر والوں کو بتائو کہ ان ینکیوں کے دفع ہو جانے کے بعد بھی ہم اپنی بقیہ زندگی اکٹھے ہی گزاریں گے۔ ینکی انسان نہیں شیطان ہیں۔‘‘

’’جی مالک۔‘‘ ٹام نے جواب دیا۔ اس نے سوچا کہ مالک کو کبھی سمجھ نہیں آ سکتا کہ کسی کی ملکیت ہونا کبھی خوش گوار نہیں ہوتا۔1862ء کے موسم بہار کے آتے آتے آئرین حاملہ تھی۔ ٹام کو اپنے گاہکوں سے پتہ چلا کہ المانسے کائونٹی جنگ کا مرکز ہے۔ شلوہ کی جھڑپ میں دونوں فریقوں کے چالیس چالیس ہزار فوجی مارے گئے اور زخمی ہوئے۔ بچنے والوں کے لیے لاشوں کے باعث چلنا مشکل ہوگیا ۔ زخمی ہونے والے فوجیوں کے خراب اعضاء کو کاٹنے سے مسی سپی ہسپتال کے صحن میں کٹے ہوئے اعضاء کا بہت بڑا ڈھیر لگ گیا۔

لگتا یہ ہی تھا کہ ینکی جنگ ہار رہے ہیں۔ اگست کے آخر میں ٹام نے سنا کہ ’’بل رن‘‘ کی دوسری لڑائی میں ینکی اپنے دو جنرلز کی لاشیں چھوڑ کر بھاگ گئے۔ ان کے ہزاروں دستے واشنگٹن ڈی سی میں پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سرکاری ملازموں کو وفاقی عمارتوں کے آگے رکاوٹیں کھڑی کرتے، خزانے اور بنکوں کی دولت کو بحری جہازوں میں نیویارک منتقل کرتے دیکھ کر سویلینز میں بھی دہشت پھیل گئی اور وہ بھی بھاگنے لگے ہیں۔ پوٹو میک دریا میں جنگی کشتی صدر لنکن اور ان کے سٹاف کو نکالنے کے لیے تیار کھڑی ہے۔ دو ہفتوں بعد ھارپر زفیری کے مقام پر جنرل سٹون وال جیکسن کی کمان میں اتحادی فوج نے گیارہ ہزارہ ینکیوں کو گرفتار کرلیا۔

ستمبر میں جب ٹام نے آئرین کو بتایا کہ ’’انیٹائی ٹیم‘‘ کے مقام پر آمنے سامنے کھڑی کنفیڈرٹیس اور ینکیوں کی دو تین میل لمبی قطاروں نے ایک دوسرے کو لڑتے ہوئے مار دیا ہے تو وہ جھرجھری لے کر بولی۔ ’’میں اس خوف ناک جنگ کے متعلق اور کچھ نہیں سننا چاہتی۔ میں تیسرے بچے کی ماں بننے والی ہوں،اور میں نہیں چاہتی کہ ہر وقت جنگ اور قتل و غارت کی باتیں ہوں۔‘‘

کیبن کے دروازے پہ ہلکی سی آواز سن کر دونوں نے یک دم اس طرف دیکھا لیکن وہاں کچھ نہیں تھا۔ دوسری بار آواز زیادہ واضح دستک نما تھی۔ آئرین دروازے کے قریب تھی اس نے دروازہ کھولا تو ٹام کو ایک سفید فام کی آواز سنائی دی۔’’معافی چاہتا ہوں۔ آپ کے پاس کھانے کو کچھ ہے، میں بھوکا ہوں۔‘‘ ٹام نے مڑ کر دیکھا تو گھبرا کر کرسی سے گر پڑا۔ یہ وہی گورا نوجوان تھا جسے اس نے کیولری میں گندگی کریدتے دیکھا تھا۔ ٹام نے فوراً خود کو سنبھالا اور چوکنا ہو کر بیٹھ گیا۔ آئرین چوں کہ لا علم تھی اس لیے اس نے آرام سے جواب دیا۔ ’’ہمارے پاس تو کھانے کو کچھ نہیں ہے۔ لیکن تھوڑی سی مکئی کی ٹھنڈی روٹی بچی پڑی ہے۔‘‘

’’آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔ میں نے دو دن سے کچھ نہیں کھایا۔‘‘ اسے محض اتفاق سمجھتے ہوئے ٹام کرسی سے اٹھا اور دروازے پر جا کر بولا۔ ’’تم مانگنے کے علاوہ بھی تو کچھ کرتے رہے ہو، کیا خیال ہے؟‘‘ ایک لمحہ وہ حیرانی سے ٹام کی طرف دیکھتا رہا پھر اس کی آنکھیں پھیل گئیں اور وہ اتنی تیزی سے غائب ہوا کہ آئرین پریشان ہوگئی۔ پھر ٹام نے اسے بتایا کہ وہ کسے کھانا کھلانے والی تھی۔

اگلی رات مٹلڈا نے سب کو بتایا کہ ایک بدحال سفید فام باورچی خانے کے دروازے پر اس سے کھانا مانگنے آیا تو اس نے پیالہ بھر بچا ہوا سٹیو اسے دے دیا اور وہ لڑکا شکریہ ادا کرکے غائب ہوگیا۔ بعد میں صاف پیالہ باورچی خانے کی سیڑھی پر رکھا ملا۔ ٹام نے سب کو پچھلے واقعات بتائے اور کہا ’’مجھے لگتا ہے کہ وہ کہیں آس پاس ہی ہوگا۔ ہو سکتا ہے پاس کے جنگل میں چھپ کر سو رہا ہو۔ اس پر بھروسا مت کرنا۔ مجھے لگتا ہے کوئی پریشانی آنے والی ہے۔‘‘

’’یہ سچ ہے!۔‘‘ مٹلڈا نے کہا ’’اگلی بار آیا تو میں اسے بٹھا لوں گی اور ظاہر کروں گی کہ اس کے لیے کچھ لانے گئی ہوں اور جا کر مالک کو بتا دوں گی۔‘‘ منصوبہ کامیاب رہا۔ اگلی صبح لڑکا آیا تو مٹلڈا نے فوراً مالک کو اطلاع دی اور مالک نے پیچھے سے جا کر لڑکے کو پکڑ لیا۔ ’’تم یہاں کیوں پھر رہے ہو؟‘‘ مالک نے پوچھا تو لڑکا نہ گھبرایا اور نہ ڈرا۔ اس نے کہا ’’جناب میں صرف سفر سے بے حال ہوں اور بھوکا بھی اور یہ کوئی جرم نہیں ہے۔ آپ کے نیگر بہت اچھے ہیں اور انہوں نے مجھے کھانا دیا ہے۔‘‘ مالک مرے ذرا جھجھکے پھر بولے۔‘‘ مجھے تم سے ہم دردی ہے۔ لیکن تمہیں پتہ ہے حالات کتنے خراب ہیں اور ایک آدمی کو کھلانا بہت مشکل ہے۔ اس لیے تمہیں آگے جانا ہوگا۔‘‘ مٹلڈا کو نوجوان کی منت بھری آواز سنائی دی۔‘‘ مہربانی کرکے مجھے یہیں رکنے دیں۔ میں کام سے نہیں گھبراتا۔ لیکن فاقے نہیں کرنا چاہتا۔ آپ جو بھی کہیں گے وہ کام کر سکتا ہوں۔‘‘

’’یہاں تمہارے لیے کوئی کام نہیں ہے۔ میرے نیگر سارے کام کرتے ہیں۔ کاشت کاری بھی۔‘‘

’’میں تو پلا بڑھا ہی کھیتوں میں ہوں۔ پیٹ بھر کھانے کے بدلے میں آپ کے نیگروئوں سے بھی زیادہ محنت کروں گا۔‘‘ لڑکے نے پھر منت کی۔

’’کیا نام ہے تمہارا اور کہاں سے آئے ہو؟‘‘

’’جارج جانسن، جنوبی کیرولائنا سے جناب۔ جہاں میں رہتا تھا وہاں جنگ نے سب کچھ ختم کر دیا ہے۔ میں فوج میں بھرتی ہونے گیا تو انہوں نے کہا میں کم عمر ہوں، صرف سولہ سال۔ جنگ نے ہماری فصلیں اور سب کچھ برباد کر دیا۔ کوئی خرگوش تک نہیں بچا۔ میں بھی گھر چھوڑ کر آیا ہوں۔ لیکن آپ کے نیگر کے علاوہ کسی نے ایک ذرّہ نہیں دیا۔‘‘

مٹلڈا نے محسوس کیا کہ مالک کے دل پر لڑکے کی کہانی کا اثر ہوا ہے۔ پھر اس نے مالک کو کہتے سنا۔’’تم اوورسیئر کا کام کر لو گے؟‘‘

’’کبھی کیا تو نہیں سر۔‘‘ جارج جانسن نے گڑبڑا کر کہا۔ پھر جلدی سے بولا۔ ’’لیکن آپ بے فکر رہیں میں سیکھ لوں گا۔‘‘

مٹلڈا باتیں سننے کے لیے دروازے کی جالی کے قریب ہوگئی۔ ’’اگرچہ میرے نیگر خود ہی صحیح کام کرتے ہیں پھر بھی اوورسیئر کا ہونا بھی بہتر ہے۔ شروع میں تمہیں صرف بستر اور کھانا ملے گا۔ باقی پھر بعد میں دیکھیں گے۔‘‘

’’سر۔۔۔ آپ کا کیا نام ہے؟‘‘

’’مرے۔‘‘ مالک نے جواب دیا۔

’’تو مسٹر مرے! آج سے آپ ایک اوورسیئر کے مالک بھی ہوگئے ہیں۔‘‘

مٹلڈا کو مالک کی ہنسی سنائی دی۔ پھر وہ بولے۔’’کھلیان کے پیچھے ایک خالی باڑہ ہے تم وہاں رہ لو۔ تمہارا سامان کدھر ہے؟‘‘

’’سر میرا سارا سامان میں خود ہی ہوں۔‘‘ جارج جانسن نے کہا۔

یہ خبر، بجلی کی طرح ہر طرف پھیل گئی۔’’مجھے تو اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔‘‘ مٹلڈا نے سب کو واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔ جس پر سب لوگ ناراضی کا اظہار کرنے لگے۔ ’’مالک کا دماغ ٹھکانے نہیں رہا… کیا ہم اچھا بھلا کام نہیں کر رہے؟… دونوں گورے ہیں نا، اس لیے!… کہیں وہ ہمارے ساتھ ان کریکروں والا سلوک نہ شروع کر دے!‘‘

اگلی صبح وہ سب غصے میں بھرے ہوئے کھیتوں میں پہنچے لیکن اس چمرخ اوورسیئر نے ان کا غصہ یہ کہہ کر فوراً ہی کافور کر دیا کہ ’’تم لوگوں کی نفرت بجا ہے۔ لیکن تھوڑا سا انتظار کرو کہ میں اچھا نکلتا ہوں یا برا۔ میرا پہلی بار نیگروئوں سے واسطہ پڑا ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ تم اسی طرح نیگرو ہو جس طرح میں سفید ہوں۔ میں لوگوں کو رنگ سے نہیں کام سے پہچانتا ہوں۔ میں صرف ایک بات جانتا ہوں، جب میں بھوکا تھا تو تم لوگوں نے مجھے کھانا دیا تھا جب کہ بے شمار سفید فاموں نے مجھے دھتکار دیا تھا۔ اب لگتا ہے کہ مسٹر مرے نے اوورسیئر رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور میں جانتا ہوں کہ تم سب لوگ انہیں کہہ کر مجھے نکلوا بھی سکتے ہو۔ لیکن اگر تم نے ایسا کیا تو ہو سکتا ہے وہ کوئی بدترین اوورسیئر لے آئیں۔‘‘

کسی کو کوئی جواب نہ سوجھا اور وہ اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے۔ وہ کن اکھیوں سے جارج کو بھی دیکھتے جاتے تھے جو اپنی نیک نیتی ظاہر کرنے کے لیے ان سے زیادہ نہیں تو ان جتنی محنت ضرور کر رہا تھا۔اوورسیئر کی آمد کے چند دن بعد ٹام کی بیٹی ونی پیدا ہوئی۔ کھیتوں میں جارج جانسن دوپہر کا کھانا ان کے ساتھ ہی کھاتا اور وقفے میں ایش فورڈ کے آنکھ بچا کر کھسکنے کو نظر انداز کر دیتا۔ ’’تمہیں پتہ ہے کہ مجھے اوورسیئری کا کچھ پتہ نہیں ہے۔ اس کے لیے تمہیں میری مدد کرنا پڑے گی۔‘‘ جارج جانسن نے بے تکلفی سے کہا ’’ایسا نہ ہو کہ مسٹر مرے کسی وقت یہاں آ کر دیکھیں اور میں ان کی امید کے مطابق کام نہ کر رہا ہوں۔‘‘

اوورسیئر کو خود تربیت دینے کا خیال انہیں کافی دل چسپ لگا۔ رات کھانے پر یہ بات سن کر ٹام بھی مسکرا دیا۔ یہ ذمہ داری ورجل پر ڈالی گئی۔ کیوں کہ کھیتی باڑی کا وہی نگران تھا۔ ’’پہلی بات‘‘ اس نے جارج جانسن سے کہا’’تمہیں اپنی عادتیں بدلنا ہوں گی۔ ہم ہر وقت دھیان رکھیں گے اور اگر کسی وقت مالک آ جائیں تو تمہیں اشارہ کر دیں گے اور تم ہم سے ذرا فاصلے پر چلے جانا۔ کیوں کہ سفید فاموں، خاص طور پر اوورسئیروں کو نیگروئوں کے اتنا قریب نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ ’’لیکن جنوبی کیرولائنا میں جہاں سے میں آیا ہوں، نیگر کبھی سفید فاموں کے پاس نہیں جاتے تھے۔‘‘

’’یہ تو ان کی سمجھ داری ہے۔‘‘ ورجل نے کہا ’’دوسری بات یہ کہ مالکوں کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ اوورسیئر سخت مزاج ہو اور نیگروئوں سے پہلے کی نسبت زیادہ کام کروائے۔ تمہیں ڈانٹ ڈپٹ سیکھنی ہوگی۔ اونیگر! کام پر دھیان دے۔ اس طرح کی اور جب کبھی مالک یا دوسرے سفید فام آس پاس ہوں تو کبھی ہمیں نام سے نہ بلانا، جیسے تم کرتے ہو۔ تمہیں نہایت گھٹیا انداز میں برا بھلا کہنا، اونچا بولنا آنا چاہیے جس سے لگے کہ تم نہایت کرخت ہو اور ہم سے کام لے سکتے ہو۔‘‘

اگلی بار مالک مرے کھیتوں میں آئے تو جارج جانسن نے بھرپور اداکاری کی اور سب کو خوب سخت سست کہا۔ ’’کیسا کام کر رہے ہیں یہ سب؟’’مالک نے پوچھا۔‘‘ ویسے تو ٹھیک ہیں۔’’جارج نے جواب دیا۔‘‘ لیکن ایک دو ہفتوں میں اور ٹھیک ہو جائیں گے۔‘‘

اس رات سب جارج جانسن اور مالک کی باتیں دہرا کر بہت ہنسے بعد میں جارج نے بتایا کہ وہ بہت ہی غریب گھرانے کا ہے اور جنگ سے پہلے بھی ان کے حالات اچھے نہیں تھے۔’’یہ شاید واحد سفید فام ہے جو اپنے متعلق بھی سچ بولتا ہے۔‘‘ ورجل نے سب کی طرف سے اسے سراہا۔

’’سچ کہوں، مجھے تو اس کی باتیں بڑی اچھی لگتی ہیں۔‘‘ للی سو نے کہا تو ننھا جارج کھنکارا۔’’کیا فرق ہے اس میں دوسروں سے؟ وہ بھی سب کی طرح وہ نظر آنے کی کوشش کر رہا ہے جو وہ نہیں ہے۔‘‘ میری ہنس کر بولی۔’’چلو اس میں کوئی شرم کی بات نہیں بشرطے کہ اس کے کھانے کا انداز نہ بدلے۔‘‘

’’لگتا ہے تم اولڈ جارج کو پسند کرنے لگے ہو۔‘‘ مٹلڈا نے کہا۔ اتنے کم عمر اوورسیئر کو ’’اولڈ جارج‘‘ کہنے پر سب قہقہہ لگا کر ہنسے۔ مٹلڈا ٹھیک کہتی تھی۔ وہ واقعی اسے پسند کرنے لگے تھے۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

میں جارج اور جولیئس گرمیوں میں نانی جان کے پاس ہنینگ چلے جاتے۔ لیکن نانا اور ماما کی وفات نے انہیں اداس اور دکھی کر دیا تھا۔ وہ فرنٹ پورچ ...

مزید پڑھیں

غزل کا ایک مفہوم اردو سے باتیں کرنا قرار دیا گیا ہے مردوں نے جی بھر کے غزلیں کہیں اور باتیں کیں لیکن جب خودنے اظہارکیا تو وہ کچھ اور کہانی ...

مزید پڑھیں

اسی سال ول نے برتھا کو پیانو سکھانے کے لیے ایک استاد رکھا جو ہر ہفتے میمفس سے آتا تھا۔ اس میں خدا داد صلاحیتیں تھیں اور بہت جلد وہ نیو ہوپ ...

مزید پڑھیں