☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل صحت فیچر کیرئر پلاننگ رپورٹ ہم ہیں پاکستانی فیشن سنڈے سپیشل کچن کی دنیا کھیل خواتین متفرق روحانی مسائل ادب
اساس

اساس

تحریر : الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان

07-28-2019

ٹام اپنی گاڑی میں مصروف تھا کہ پچھلے دروازے پر دستک ہوئی۔ رات کا وقت تھا۔ لیکن دروازہ کھولنے سے پہلے ہی اسے اندازہ ہوگیا کہ کون ہے۔ اولڈ جارج جانسن باہر کھڑا تھا۔

اس کے چہرے پر جذبات کا طلاطم تھا اور وہ ہاتھوں میں اپنے ہیٹ کومروڑ رہا تھا۔’’ٹام، ایک بات کرنی ہے، اگر تمہارے پاس وقت ہو۔۔۔‘‘

گاڑی سے اتر کر ٹام چاندنی میں اس کے ساتھ چلنے لگا۔ کچھ دور آ کر جارج رکا لیکن جذبات کی شدت سے وہ کوئی بات نہیں کر پا رہا تھا۔ آخر بڑی مشکل سے بولا۔ ’’میں اور مارتھا بات کر رہے تھے…ہمارا تو تم لوگوں کے سوا کوئی اور ہے بھی نہیں، ہم سوچ رہے تھے ٹام کہ اگر تم ہمیں بھی ساتھ لے جائو جہاں تم جا رہے ہو؟‘‘

ٹام کچھ لمحے خاموش رہ کر بولا۔’’اگر تو صرف میرے خاندان کا مسئلہ ہوتا تو میں ابھی تمہیں بتا دیتا۔ لیکن اور بہت لوگ بھی ہیں۔ مجھے ان سے بھی بات کرنی پڑے گی۔ میں تمہیں پوچھ کر بتائوں گا۔۔۔‘‘

ٹام نے ہر ویگن کے آدمیوں کو بلایا اور صورت ِحال بتائی۔ کافی دیر بوجھل خاموشی رہی۔ ٹام نے کہا ’’وہ ہمارے لیے بہترین اوورسئیر تھا کیوں کہ وہ اور سئیر تھا ہی نہیں۔ وہ تو ہمارے کندھے سے کندھا جوڑ کر کام کرتا تھا۔‘‘کچھ سفید فام لوگوں نے اس کی بھرپور مخالفت کی۔ لیکن پھر کسی نے کہا ’’اگر وہ گورا ہے تو اس میں اس کا کیا قصور ہے؟‘‘آخر ووٹ لیا گیا اور اکثریت نے انہیں ساتھ لے جانے کی اجازت دے دی۔جارج اور مارتھا کے لیے راک اوے بنانے کے لیے ایک دن مزید رکنا پڑا۔ اگلی صبح سورج نکلتے ہی انتیس چھتی ہوئی ویگنیں چرخ چوں کرتیں ایک قطار میں مرے صاحب کے رقبے سے روانہ ہوگئیں۔ اس کارواں میں سب سے آگے ڈربی ہیٹ اور سکارف پہنے سڑسٹھ سالہ چکن جارج تھا جو اپنا یک چشمی لڑاکا مرغا لیے اپنے گھوڑے ’’اولڈ باب‘‘ پر سوار تھا۔ اس کے پیچھے پہلی ویگن میں ٹام اور آئرین تھے۔ جن کے ساتھ حیران پریشان بچے تھے جن میں سب سے چھوٹی سنتھیا کی عمر دو سال تھی۔ ان کے پیچھے ستائیس ویگنوں میں کالے یاملاٹو خاندان تھے اور سب سے پیچھے ویگن میں جارج اور مارتھا تھے جو اگلی ویگنوں اور گھوڑوں کی اڑائی گرد کے پار اس ارض موعود کو ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے تھے جس کا چکن جارج نے ان سے وعدہ کیا تھا۔

’’کیا یہ ہے؟‘‘ ٹام نے پوچھا۔

’’ارضِ موعود؟‘‘ مٹلڈا نے پوچھا۔

’’وہ جانور اور ٹھاہ ٹھاہ پھٹنے والے تربوز کہاں ہیں؟‘‘ کسی بچے نے پوچھا۔چکن جارج نے کاروان کو رکنے کا اشارہ کیا تو ہر طرف سے سوال ہونے لگے۔ان کے سامنے جنگل کے بیچوں بیچ ایک خالی جگہ میں چند دکانیں تھیں جن کے دروازے لکڑی کے تھے۔ یہ دکانیں کچی سڑک کے کونے پر تھیں۔ سڑک کے ایک سرے پر وہ کھڑے تھے اور دوسرا سرا دائیں مڑ گیا تھا۔ تین سفید فام وہاں موجود تھے۔ ایک ڈرم پر بیٹھا تھا۔ دوسرا جھولا کرسی پر اور تیسرا ٹوٹے ہوئے اسٹول پر یوں بیٹھا تھا کہ ٹانگیں سامنے کھمبے پر ٹکائی ہوئی تھیں۔ انہوں نے ویگنوں اور ان کے سواروں کی قطار دیکھ کر ایک دوسرے کو کہنیوں سے ٹہو کے دیے۔ دو بچے اپنا کھیل چھوڑ کر انہیں دیکھنے لگے۔ ایک بوڑھا سیاہ فام تھوڑی دیر انہیں غور سے دیکھتا رہا پھر ہلکا سا مسکرایا۔ ایک بڑا سا کتا خود کو لکڑی کے بیرل سے رگڑ کر کھجا رہا تھا۔ اس نے ایک ٹانگ اٹھا رکھی تھی۔ کھجانا چھوڑ کر کُتے نے سر موڑ کر انہیں دیکھا اور پھر کھجانے میں مصروف ہوگیا۔

’’میں نے کہا نہیں تھا کہ یہ نئی آبادی ہے۔‘‘ چکن جارج نے جلدی سے کہا ’’ابھی یہاں صرف سو کے قریب سفید فام رہ رہے ہیں اور اب جب راستے میں رکنے والوں کو چھوڑ کر ہماری صرف پندرہ ویگنیں رہ گئی ہیں تو ہماری وجہ سے یہاں کی آبادی دگنی ہو گئی ہے۔ ہم ایک نئے شہر کی بنیاد بن رہے ہیں۔‘‘

’’یہ شہر پھلنے پھولنے کے علاوہ اور کیا کر سکتا ہے۔‘‘ لٹل جارج نے مسکرائے بغیر کہا۔

’’شاید ایک دلدل۔‘‘ ایش فورڈ بڑبڑایا۔ لیکن اتنی دھیمی آواز میں جو چکن جارج کو سنائی نہیں دی۔

دریائے ہاچی کے کنارے چھے میل شمال میں ہر خاندان کو تیس ایکڑ زمین الاٹ ہوگئی۔ زمین کیا تھی سونا تھی۔ زیادہ اچھی تو بہرحال سفید فاموں کے پاس تھی اور اکثر کی زمین اتنی زیادہ تھی کہ دوسروں کی کل اراضی مل کر بھی اس کے برابر نہیں آتی تھی۔ پھر بھی تیس ایکڑ کوئی کم زمین نہیں تھی اور انہوں نے کبھی اتنی جائیداد کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔ سب نے رہائش ویگنوں میں ہی رکھی اور زمین کو ہموار کرنے میں مصروف ہوگئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے قطعات تیار ہوگئے۔ زیادہ کپاس کاشت کی گئی۔ کچھ حصے میں مکئی، چند قطعات سبزیوں کے اور کچھ کیاریاں پھولوں کی بنائی گئیں۔ پھر سب درخت کاٹ کر اپنے اپنے کیبن بنانے لگے۔ چکن جارج گھوڑے پر کھیتوں میں پھرتا اور ہر ایک کو اپنے قیمتی مشورے مفت دیتا رہتا۔ حتیٰ کہ سفید فاموں کو بھی احساس دلانے سے نہ چوکتا کہ اس قصبے کی تعمیر اس کے لائے ہوئے لوگوں کے ہاتھوں ہو رہی ہے اور یہ کہ بہت جلد قصبے کی پہلی لوہار کی دکان اس کے منجھلے لڑکے ٹام کی ہوگی۔ایک روز تین سفید فام ٹام کے پلاٹ پر آئے چکن جارج اپنے بیٹوں کے ساتھ زیر تعمیر مکان کی دیواریں اٹھانے کے لیے مٹی میں جانوروں کے بال ملا رہا تھا۔

’’تم میں لوہار کون ہے؟‘‘ ایک نے گھوڑے پر بیٹھے بیٹھے پوچھا۔لگتا تھا دکان کھلنے سے پہلے ہی گاہک آنے لگے تھے۔ ٹام بڑے فخر سے اٹھ کر سامنے آیا۔’’سنا ہے تم یہاں قصبے میں لوہار کی دکان کھولنے لگے ہو؟‘‘ دوسرے نے کہا،

’’جی جناب میں اس کے لیے بہترین جگہ ڈھونڈ رہا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ آرا مشین کے پاس جو کھلی جگہ ہے وہاں کام شروع کروں اگر کسی اور کی نظر اس جگہ پر نہیں ہے۔‘‘

تینوں آدمیوں نے نگاہوں کا تبادلہ کیا ’’دیکھو لڑکے!‘‘ دوسرے آدمی نے کہا ’’ادھر ادھر کی باتوں میں وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ سیدھی بات یہ ہے کہ تم نے لوہار کا کام کرنا ہے، کر لو لیکن اگر اس قصبے میں کام کرنا ہے تو پہلے تمہیں کسی سفید فام دکان دار کے نیچے کام کرنا پڑے گا۔ اس پر بھی سوچا ہے تم نے؟‘‘ٹام کا خون اس بات پر یوں کھولا کہ ایک لمحے تک وہ کچھ بول بھی نہ سکا۔ پھر تحمل سے بولا’’نہیں جناب میں اور میرے گھر والے اب آزاد ہیں۔ ہم بھی دوسروں کی طرح اپنے اپنے کام سے اپنی روزی روٹی کمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ پھر اس نے مخاطب کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا’’اگر میں اپنے کام کا مالک نہیں ہو سکتا تو پھر یہاں رہنے کا کیا فائدہ ہے!‘‘

تیسرے آدمی نے جواب دیا۔’’اگر تم اس طرح سوچتے ہو تو پھر تو تمہیں اس ریاست میں بہت سفر کرنا پڑے گا۔‘‘

’’کوئی بات نہیں، سفر کی ہمیں عادت ہے۔ ہم جھگڑا نہیں کرنا چاہتے۔ ہم تو سب کے ساتھ مل کر سب کی طرح رہنا چاہتے ہیں۔‘‘

’’اچھی طرح سوچ لو۔‘‘ دوسرے سفید فام نے پھر کہا ’’تمہاری مرضی پر ہے۔‘‘

’’ایک بات اچھی طرح سمجھ لو، یہ آزادی، وزادی سے دماغ خراب کرنے کی ضرورت نہیں ہے سمجھے۔‘‘انہوں نے گھوڑے موڑے اور مزید بات کیے بغیرچلے گئے۔

یہ خبر دو سروں تک پہنچی تو سب کام چھوڑ کر ٹام کے پاس بھاگے آئے۔

’’بیٹے‘‘ چکن جارج بولا۔’’تمہیں تو ان گوروں کا زندگی بھر کا تجربہ ہے۔ کیا تم ان کی بات نہیں مان سکتے۔ جتنے اچھے تم لوہار ہو، بہت جلد اپنے گاہک بنا کر اپنا کام شروع کر سکو گے۔‘‘

’’اتنا لمبا سفر اور پھر سامان باندھ کر آگے چل پڑنا۔‘‘ مٹلڈا نے کہا ’’ایسا مت کرو ٹام! خدا کے لیے ٹام! میں بہت تھک گئی ہوں، بہت تھک گئی ہوں!‘‘

لیکن ٹام کا چہرہ سنجیدہ تھا ’’حالات تب تک بہتر نہیں ہوتے جب تک تم انہیں خود بہتر نہ کرو!‘‘ اس نے کہا۔ ’’میں ایسی کسی جگہ نہیں رکوں گا جہاں مجھے وہ کام نہ کرنے دیا جائے جو ایک آزاد آدمی کا حق ہے۔ میں کسی کو اپنے ساتھ چلنے کے لیے نہیں کہوں گا۔ صرف میرا خاندان صبح سامان باندھ کر روانہ ہو جائے گا۔‘‘

’’میں بھی ساتھ چلوں گا۔‘‘ ایش فورڈ نے غصے سے کہا۔ اس رات ٹام اکیلا ٹہلنے نکلا۔ اس کے دل پر بوجھ تھا کہ اس کے گھرانے پر آنے والی مشکل اس کی وجہ سے ہے۔ وہ اس ہفتوں کے لمبے سفر کی صعوبتوں کے متعلق سوچتا رہا۔ پھر اسے مٹلڈا کی اکثر کہی ہوئی بات یاد آئی۔’’اگر کوئی دل لگا کر کوڑے کے ڈھیر میں بھی ڈھونڈے تو اچھی چیز نکل ہی آتی ہے۔‘‘یہ خیال آتے ہی اس کا ذہن جیسے جاگ اٹھا۔ وہ مزید ایک گھنٹہ ٹہلتا رہا اور اپنے منصوبے کے متعلق سوچتا رہا۔ پھر وہ اپنی ویگن میں واپس آیا جہاں سب سو رہے تھے اور خود بھی سوگیا۔اگلی صبح ٹام نے جیمز اور لوئس کو آئرین اور بچوں کے سونے کے لیے عارضی چھپر بنانے کو کہا کیوں کہ اسے ویگن کی ضرورت تھی۔ اس کا سارا خاندان اس کو حیرت سے دیکھ رہا تھا۔ غصے میں کھولتے ہوئے ایش فورڈ نے ورجل کی مدد سے بھاری اہرن اتار کے نیچے رکھا۔ دوپہر تک اس نے عارضی بھٹی بنالی۔ سب لوگ اسے تعجب سے گھور رہے تھے جو اس نے ویگن کی کینوس کی چھت اور پہلوئوں کے تختے اتار دیئے۔ جس سے ویگن کا کھلا فرشی تختہ باقی رہ گیا۔ جس پر وہ اپنے بھاری اوزاروں کے ساتھ مصروف ہوگیا۔ جس سے سب کو اس حیران کن منصوبے کا اندازہ ہوا جسے ٹام منصوبے کی شکل دے رہا تھا۔ہفتے کے آخر پر ٹام اپنی گشتی دکان کے ساتھ قصبے میں گھوم رہا تھا اور سب لوگ ویگن میں بنی بھٹی، اہرن، ٹھنڈا کرنے کا لگن اور سلیقے سے سجے اوزاروں کو دیکھ رہے تھے۔

ٹام ہر گورے کالے کو شائستگی سے سلام کرتا اور معقول معاوضے پر کام کے متعلق پوچھتا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کی طلب آس پاس کے رقبوں پر بھی پھیل گئی۔ بہت جلد ٹام کو احساس ہوا کہ وہ مستقل دکان کی نسبت گشتی دکان سے زیادہ آمدنی حاصل کر رہا ہے۔ اس کا وجود قصبے کے لیے اتنا اہم تھا کہ اگر کسی کی خواہش تھی بھی تو اس نے ٹام پر اعتراض کرنے کی جرأت نہیں کی۔ ٹام اپنے کام سے کام رکھنے والا آدمی تھا اس لیے سب اس کی عزت کرنے لگے۔ اولڈ جارج جانسن نے انہیں بتایا کہ کچھ گورے ٹام کے خاندان کے متعلق کہہ رہے تھے کہ ’’بڑے شریف اور اچھے عیسائی لوگ ہیں جو اپنے بل وقت پر ادا کرتے ہیں اور اپنی حد میں رہتے ہیں۔‘‘

اولڈ جارج کے ساتھ بھی ان ہی جیسا سلوک ہوتا تھا۔ معاشرتی طور پر لوگ اسے دور دور رکھتے۔ دکانوں میں اسے تب تک انتظار کروایا جاتا جب تک سب گورے گاہک نہ بھگت جاتے۔ ایک بار جارج نے ایک ہیٹ سر پر پہن کر دیکھا اور چھوٹا ہونے کی بناء پر واپس رکھنا چاہا تو دکان دار نے اسے بتایا کہ اب وہ یہ ہیٹ خریدنے کا پابند ہے۔ بعد میں اس نے وہ ہیٹ سر پراوڑھ کر دکھاتے ہوئے یہ واقعہ سنایا تو سب گھر والے خوب ہنسے۔’’بھئی یہ تو تمہیں بالکل پورا نہیں ہے۔‘‘ لٹل جارج نے ہنس کر کہا ’’تم بھی عجیب گھامڑ ہو۔ تم نے اسے پہن کر دیکھا ہی کیوں؟‘‘ ایش فورڈ نے غصے سے یہ ہیٹ واپس لے جانے اور دکان دار کے حلق میں ٹھونسنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ گورے ان سے کم سے کم تعلق رکھتے اور جواباً یہ بھی ایسا ہی کرتے۔ ٹام کو اور باقیوں کو احساس تھا کہ گوروں کو ان کی اتنی تیز ترقی ہضم نہیں ہو پائے گی۔ وہ اپنے کپڑے خود بُنتے تھے، خوراک اگاتے تھے اور اپنے کام خود کرتے تھے۔

1874ء آتے آتے ان سب نے اپنے گھر، باڑے، کھلیان اور باڑیں تعمیر کر لی تھیں۔ اس کے بعد مٹلڈا نے فلاح و بہبود کے کاموں پر توجہ دی۔ پہلے عارضی عبادت گاہ کی جگہ گرجا تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کام میں ایک سال اور ان کی بچتوں کا کثیر حصہ صرف ہوا۔ لیکن تکمیل کے بعد سب نے تسلیم کیا کہ ’’نیوہوپ کلرڈ میتھوڈسٹ ایپی سکوپل چرچ (New Hope Coloured Methodist Episcopal Church) ان کی محنت اور سرمائے کا صحیح بدل تھا۔پہلے اتوار کی سروس میں بیس میل کے علاقے میں موجود ہر سیاہ فام شریک ہوا۔ گرجا اندر باہر سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ لیکن ریورنڈ سائی لس ہیننگ کی اونچی آواز سب کو بخوبی سنائی دے رہی تھی۔ ہیننگ صاحب ریلی نائس سنٹرل ریل روڈ کے ایگزیکٹو ،ڈاکٹر ڈی سی ہیننگ کے سابق غلام تھے۔ خطبے کے دوران لٹل جارج نے ورجل سے سرگوشی میں کہا کہ ریورنڈ اپنے آپ کو ڈاکٹر ہیننگ سمجھ رہا ہے۔ لیکن یہ بات اردگرد کے کسی اور آدمی نے نہیں سنی ۔

’’دی اولڈ رگڈکراس‘‘(The old Rugged Cross) کی دوبارہ نغمہ سرائی کے بعد سروس ختم ہوئی۔ چکن جارج نے مٹلڈا کے چہرے پر ساری زندگی اتنی چمک نہیں دیکھی تھی۔ شرکاء کی آنکھیں جذبات کی شدت سے بھیگی ہوئی تھیں۔ سب نے مبلّغ سے ہاتھ ملائے اور اسے تھپکی دی۔ اس کے بعد سب نے باغیچے میں چادریں بچھائیں اور گھر سے لائے ہوئے انواع و اقسام کے کھانے کھانے میں مصروف ہوگئے۔اس موقع پر سب مرد اور لڑکے کوٹ اور ٹائی میں، عورتیں سفید کپڑوں میں اور بچیاں شوخ رنگ کے کپڑوں میں ملبوس تھیں۔ اپنے پوتوں پوتیوں کو پکنک پر کھیلتے دوڑتے دیکھ کر مٹلڈا کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے شوہر کے مرغوں کے پنجوں سے چھلے اور کھردرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہا۔’’میں یہ دن کبھی نہیں بھولوں گی۔ کتنا لمبا راستہ طے کیا ہے ہم نے۔ ہمارے بچوں کے بھی بچے ہوگئے ہیں اور خدا نے ہمیشہ ہمیں اکٹھا رکھا ہے۔ کاش تمہاری ماں کزی یہ دیکھنے کے لیے ہمارے ساتھ ہوتی۔‘‘

نم آنکھوں کے ساتھ چکن جارج نے کہا’’وہ ہمارے ساتھ ہی ہیں۔ ساتھ ہی ہیں!‘‘

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

میں جارج اور جولیئس گرمیوں میں نانی جان کے پاس ہنینگ چلے جاتے۔ لیکن نانا اور ماما کی وفات نے انہیں اداس اور دکھی کر دیا تھا۔ وہ فرنٹ پورچ ...

مزید پڑھیں

غزل کا ایک مفہوم اردو سے باتیں کرنا قرار دیا گیا ہے مردوں نے جی بھر کے غزلیں کہیں اور باتیں کیں لیکن جب خودنے اظہارکیا تو وہ کچھ اور کہانی ...

مزید پڑھیں

اسی سال ول نے برتھا کو پیانو سکھانے کے لیے ایک استاد رکھا جو ہر ہفتے میمفس سے آتا تھا۔ اس میں خدا داد صلاحیتیں تھیں اور بہت جلد وہ نیو ہوپ ...

مزید پڑھیں