☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل انٹرویوز عالمی امور سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا خصوصی رپورٹ کھیل کیرئر پلاننگ ادب
اساس

اساس

تحریر : الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان

08-04-2019

سوموار کی دوپہر کھیتوں سے فارغ ہو کر سب بچے گرجے میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے۔ پچھلے دو سال سے بہن کیری وہائٹ جولین کالج جیکسن کی گریجوئٹ تھی بچوں کوکھلے میں پڑھا رہی تھی۔ گرجے کا تعلیمی استعمال ان کے لیے بڑا اہم موقع تھا۔ لکھنے پڑھنے کا سارا سامان، پنسلیں، تختیاں وغیرہ چکن جارج، ٹام اور اس کے بھائیوں کی اعانت سے آیا تھا۔

چوں کہ سب بچے ایک ہی وقت میں پڑھتے تھے اس لیے بہن کیری کی جماعت میں پانچ سے لے کر پندرہ سال تک کے طلباء موجود تھے۔ جن میں ٹام کے پانچ بچے بھی تھے۔ ماریا جین بارہ برس کی تھی۔ ایلن، ونی، ننھی مٹلڈا اور الزبتھ، جو چھے سال کی تھی۔ ینگ ٹام اور سب سے چھوٹی سنتھیا بھی بعد میں ان سے آن ملے۔

 

1883ء میں جب سنتھیا نے گریجویشن کی تو ماریا جین تعلیم چھوڑ چکی تھی۔ اس کی شادی ہو چکی تھی اور اس کے ہاں پہلا بچہ ہو چکا تھا۔ الزبتھ، جو خاندان کی سب سے ذہین طالب علم تھی، نے نہ صرف ٹام کو اس کا نام لکھنا سکھا دیا بلکہ اس کی دکان کے کھاتے بھی سنبھال لیے۔ کیوں کہ اس کا گشتی دکان کا کاروبار اتنا کام یاب ہوا تھا کہ اس نے باقاعدہ مستقل دکان بھی بنا لی تھی اور کسی نے اعتراض بھی نہیں کیا تھا۔ اب وہ قصبے کے سب سے خوش حال آدمیوں میں سا تھا۔اسی دوران الزبتھ کو جان ٹو لینڈ نامی نوجوان سے محبت ہوگئی۔ جو ہیننگ میں نوارد تھا۔ دونوں کی ملاقات قصبے کے جنرل سٹور پر ہوئی اور الزبتھ اس کی اچھی شکل اور خوب صورتی سے ہی نہیں بلکہ اس کی شائستگی اور واضح ذہانت سے بھی متاثر ہوئی۔ اسے رسید پر دستخط کرتے دیکھ کر اسے اور خوشی ہوئی کہ وہ لکھ پڑھ بھی سکتا تھا۔ کئی دنوں تک وہ ہفتے میں ایک دو بار اس کے ہم راہ گھومنے جاتی رہی۔ وہ اچھی شہرت کا نوجوان تھا جو پیسے جوڑ کر خود بھی کاشت کاری شروع کرنا چاہتا تھا۔ اس کی طبیعت میں نرمی تھی۔ اب وہ شادی کے متعلق باتیں کرنے لگے تھے۔ ایک دن ٹام نے، جسے پہلے دن سے سارے معاملے کا علم تھا، الزبتھ کو منع کیا اور آئندہ اتوار جان ٹولینڈ کو گرجے سے گھر لانے کو کہا۔ الزبتھ نے ایسا ہی کیا۔ جان ٹو لینڈ تہذیب آمیز بے تکلفی سے ملا۔ ٹام نے اس سے چند ہی باتیں کیں اور اٹھ گیا۔ جب جان ٹو لینڈ چلا گیا تو ٹام نے الزبتھ کو بلوایا اور سختی سے کہا ’’تمہاری حرکتوں سے لگ رہا تھا کہ تم تو اس پر مسلط ہوئی ہو۔ تم دونوں کے ذہن میں کیا ہے؟‘‘

’’کیا مطلب پاپا؟‘‘ اس نے گڑبڑا کر کہا۔

’’شادی ! یہ ہی سوچا ہے تم نے؟ ہے ناں؟‘‘

وہ کوئی جواب نہ دے سکی۔

’’میرے دعائیں تمہارے ساتھ ہیں، تمہاری خوشی ہی میری خوشی ہے۔ وہ اچھا لڑکا دکھائی دیتا ہے۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ تم اس کے سرپر سوار نہ ہو۔‘‘ الزبتھ نے ناقابل فہم نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔’’وہ کافی زرد رنگ کا ہے۔ اتنا کہ اسے گورا نہیں کہا جا سکتا۔ تم سمجھیں میں کیا کہہ رہا ہوں؟ میرا مطلب ہے کہ وہ کالوں میں گورا ہے اور گوروں میں کالا ہے۔ ظاہر ہے اس میں اس کا کیا قصور ہے‘‘

’’لیکن پاپا، سب لوگ جان کو پسند کرتے ہیں۔ ہم اولڈ جارج جانسن کے ساتھ بھی تو گزارا کر ہی رہے ہیں۔ تو اس کے ساتھ کیوں نہیں کر سکتے؟‘‘

’’یہ ایک جیسی بات نہیں ہے۔‘‘

’’لیکن پاپا!‘‘ وہ پریشان ہو کر بولی۔’’آپ کہہ رہے ہیں کہ لوگ اسے قبول نہیں کریں گے، لیکن سب سے پہلے آپ خود اسے قبول نہیں کر رہے۔‘‘

’’بہت ہوگیا۔ جو تم کہنا چاہتی تھیں میں نے سن لیا۔ تم میں اتنی عقل نہیں ہے کہ اس قسم کی تکلیفوں سے بچ سکو اس لیے فیصلہ مجھ ہی کو کرنا پڑے گا۔میں نہیں چاہتا کہ تم اس سے آئندہ ملو۔‘‘

’’لیکن پاپا…‘‘ وہ سسکیاں لے رہی تھی۔

’’بس اب اس پر مزید بات نہیں ہوگی۔‘‘

’’اگر جان سے میری شادی نہ ہو سکی تو میں کبھی شادی نہیں کروں گی۔‘‘ الزبتھ نے چلا کر کہا۔ٹام غصے سے مڑا، دروازہ پٹاخ سے بند کرکے چلا گیا۔ اگلے کمرے میں وہ رکا۔

’’ٹام، یہ تم نے کیا…‘‘ آئرین نے،جو جھولا کرسی میں بیٹھی تھی، کہنا چاہا۔’’مجھے اور کچھ نہیں کہنا ہے!‘‘ اس نے سختی سے کہا اور دروازے سے باہر نکل گیا۔مٹلڈا کو پتہ چلا تو وہ اتنا ناراض ہوئی کہ آئرین کو اسے روکنا پڑا کہ کہیں وہ ٹام سے نہ الجھ پڑے۔وہ غصے سے چلائی۔ اچانک اس کا منہ بھنچ گیا اور اس نے سینے کو پکڑ لیا۔ اس نے میز کا سہارا لیا۔ وہ زمین پر گری تو آئرین نے دوڑ کر اسے سنبھالا۔

’’او میرے خدایا!‘‘ اس کے منہ سے کراہ نکلی۔ تکلیف سے اس کا چہرہ بگڑ گیا۔ پیاری یسوع ، ؑاس کی آنکھیں جھپکیں اور بند ہوگئیں۔

’’دادی جان!!!۔‘‘ آئرین اس کے کندھے پکڑ کر چلائی۔ ’’دادی جان!‘‘ پھر اس نے کان اس کے سینے سے لگا کر سنا۔ ابھی دل دھڑک رہا تھا لیکن دو دن بعد دل دھڑکنا بند ہوگیا۔چکن جارج بالکل نہیں رویا۔ لیکن اس کی آنکھوں کی گہری اداسی میں دل شکن غم تھا۔ اس دن کے بعد کسی نے اسے کبھی مسکراتے نہیں دیکھا۔ نہ اس نے کسی سے دوبارہ سیدھے منہ بات کی۔ وہ اور مٹلڈا کبھی اتنے قریب محسوس نہیں ہوتے تھے لیکن اس کے مرنے سے چکن جارج میں جیسے زندگی کی حرارت ہی ختم ہوگئی۔ وہ رات بھر میں بوڑھا دکھائی دینے لگا۔ جسمانی اور ذہنی طور پر کم زور تو نہیں ہوا لیکن چڑچڑا اور غصیلا ہوگیا۔ مٹلڈا والے کیبن میں رہنے سے انکار کرکے وہ باری باری اپنے بچوں کے پاس رہنے لگا۔ جب اس کا گھر والوں سے جی بھر جاتا تو وہ دوسرے گھر اٹھ جاتا۔مزاج خراب نہ ہوتا تو وہ اپنی ہمیشہ ساتھ رہنے والی کرسی پر بیٹھا گھنٹوں کھیتوں کے پار گھورے جاتا۔

وہ تراسی برس کا ہوگیا تھا۔1890ء کی سردیوں کا موسم تھا۔ اس کی بڑی پوتی ماریہ جین نے اس کے لیے کیک بنایا تھا جو اس نے کھانے سے صاف انکار کر دیا۔ وہ اسے آرام سے بیٹھنے کا کہہ کر اپنے شوہر کو کھیتوں میں کھانا دینے چلی گئی۔ حسب توفیق جلدی لوٹی تو وہ فرش پر آتش دان کے قریب پڑا تھا۔ گرنے کے بعد وہ خود کو گھسیٹ کرآگ کے پاس لے گیا تھا۔ ماریہ کی چیخ سن کر اس کا شوہر بھاگا آیا۔ ڈربی ہیٹ، سکارف اور سویٹر سلگ رہے تھے اور چکن جارج کمر تک بری طرح جل چکا تھا۔

 رات گئے وہ مر گیا۔ ہیننگ کا تقریباً ہر سیاہ فام اس کے جنازے میں تھا۔ اس کے درجنوں بچے، پوتے پوتیاں اور پڑپوتے پڑپوتیاں بھی، ان میں شامل تھے۔ جب اسے مٹلڈا کے پہلو میں قبر میں اتارا جانے لگا تو لٹل جان نے ورجل کے کان میں کہا ’’پاپا اتنے سخت جان تھے کہ فطری موت مر ہی نہیں سکتے تھے۔‘‘

ورجل نے پلٹ کر اداسی سے بھائی کی طرف دیکھا اور کہا ’’مجھے ان سے بہت پیار تھا۔۔۔تمہیں بھی اور باقی سب کو بھی۔‘‘

’’ایسا ہی ہے۔‘‘ لٹل جارج نے کہا ’’کہاں تو کوئی اس کٹ کھنے بوڑھے کے ساتھ رہنے کو تیار نہیں تھا اور اب دیکھو سب اس کے جانے پر آنسو بہا رہے ہیں!‘‘

’’ماما!‘‘ سنتھیا نے پھولی ہوئی سانس کے ساتھ آئرین سے کہا’’وِل پامر نے کہا ہے کہ اگلے اتوار وہ مجھے گرجا سے گھر چھوڑنے آئے گا!‘‘

’’لگتا ہے وہ جلد باز نہیں ہے۔ پچھلے دو سال سے میں دیکھ رہی ہوں کہ وہ گرجے میں تمہیں گھورتا رہتا ہے۔‘‘ آئرین نے کہا۔

’’کون؟‘‘ ٹام نے پوچھا۔

’’ول پامر!کوئی حرج تو نہیں اگر وہ اسے گھر چھوڑنے آئے؟‘‘

کچھ سوچ کر ٹام نے خشک لہجے میں کہا’’میں سوچوں گا اس بارے میں۔‘‘سنتھیا رنجیدہ نظروں سے ٹام کو دیکھتی ہوئی چلی گئی۔ آئرین بھی اپنے خاوند کے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھی۔’’تمہاری بیٹیوں کے لائق کیا کوئی لڑکا نہیں ہے، ٹام؟ سب جانتے ہیں کہ ول اس شرابی مسٹر جیمز کی لکڑی کی آڑھت چلاتا ہے۔ ہر شخص اسے لکڑی اترواتے، بیچتے، پہنچاتے، رسیدیں بناتے اور پیسے وصول کرتے دیکھتا ہے۔ پھر وہ پیسے بنک میں جمع بھی خود کروانے جاتا ہے۔ تھوڑا بہت برھئی پن بھی گاہکوں کے لیے کر لیتا ہے۔ اس کے باوجود وہ تھوڑے معاوضے پر مسٹر جیمز سے کبھی نہیں جھگڑا ہے۔‘‘

’’میں جانتا ہوں وہ اپنے کام سے کام رکھنے والا لڑکا ہے۔‘‘ ٹام مرے نے کہا ’’میں نے گرجے میں دیکھا ہے، آدھی لڑکیاں اس کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی ہوتی ہیں۔‘‘

’’ایسا ہی ہے!‘‘ آئرین نے جواب دیا۔‘‘ وہ ہیننگ میں سب کی پسند ہے۔ لیکن آج تک اس نے کسی کو گھر چھوڑنے کے لیے نہیں کہا۔‘‘

’’تو وہ جو لولاکارٹر کو اس نے پھول دیے تھے، وہ؟‘‘آئرین کو ٹام کی معلومات پر حیرت ہوئی۔’’وہ تو سال سے بھی پہلے کی بات ہے۔ تمہیں اتنا پتہ ہے تو یہ بھی پتہ ہوگا کہ وہ سائے کی طرح اس کے پیچھے لگی رہتی تھی۔ آخر تنگ آ کر ول نے اسے منہ لگانا ہی چھوڑ دیا۔‘‘

’’جو ایک بار یہ کر سکتا ہے، کیا دوسری بار نہیں کر سکتا؟‘‘

’’سنتھیا کے ساتھ نہیں۔ میری بچی اتنی پیاری اور تمیز والی ہے۔ اس نے مجھے تو بتایا ہے کہ وہ ول کو بہت پسند کرتی ہے لیکن وِل کو کبھی پتہ نہیں لگنے دیا۔ زیادہ سے زیادہ وہ اس کا حال پوچھ لیتی ہے یا جواباً مسکرا دیتی ہے۔ اسے پرواہ نہیں ہے کہ کتنی لڑکیاں اس کے گرد بھنبھناتی پھرتی ہیں۔‘‘

’’اس کا مطلب ہے تم نے ہر بات پر پہلے سے غور کر رکھا ہے۔‘‘ ٹام نے کہا۔آئرین نے منت کی۔’’ٹام، آجانے دو اسے گھر۔ انہیں ملنے تو دو، پھر اکٹھے رہیں، نہ رہیں۔ ان کی مرضی۔‘‘

’’اور میری مرضی بھی!‘‘ ٹام نے سختی سے کہا وہ اپنی بیٹیوں اور بیوی کے سامنے کبھی نرمی ظاہر نہیں کرتا تھا۔ اس نے آئرین پر بھی ظاہر نہیں کیا کہ وہ ول پامر کو اچھی طرح پرکھ چکا ہے اور اسے پسند کرتا ہے۔ جب سے ول ہیننگ آیا تھا ٹام اسے دیکھ رہا تھا اور خواہش کرتا تھا کہ اس کے بیٹوں میں وِل کی آدھی خوبیاں ہی ہوتیں۔ اس کی سنجیدگی، حوصلہ مندی، محنت اور بلند سوچ دیکھ کر ٹام کو اپنی نوجوانی یاد آ جاتی تھی۔کسی کو یہ رشتہ اتنا جلد ہونے کی توقع نہیں تھی۔ دس ماہ بعد ٹام اور آئرین کے نئے گھر میں ول نے سنتھیا کا ہاتھ مانگا۔ جس نے سوال ختم ہونے سے پہلے ’’ہاں‘‘ کہہ دیا۔ تین اتوار بعد نیو ہوپ سی ایم ای چرچ میں شادی ہوئی۔ جس میں دو سو کے قریب مہمان شریک ہوئے۔ جن میں سے آدھے شمالی کیرولائنا سے ویگن ٹرین میں آئے تھے اور لاڈر ڈیل کائونٹی کے رہنے والے تھے۔ول نے اپنا گھر خود تعمیر کیا جہاں 1894ء میں ان کا پہلا بچہ، ایک بیٹا پیدا ہوا جو چند دن بعد مر گیا۔ ول ایک بھی چھٹی کیے بغیر ہفتہ بھر کام کرتا۔ مالک اب مشروب میں اتنا غرق ہو چکا تھا کہ ول ہی صحیح معنوں میں کمپنی چلا رہا تھا۔ ایک جمعے کی برفانی سہ پہر کھاتاجات دیکھتے ہوئے ول کو علم ہوا کہ پیپلز بنک کی کچھ رقم واجب الادا ہے۔ وہ گھوڑے پر آٹھ میل طے کرکے بنک کے صدر کے گھر پہنچا۔

’’مسٹر واہن۔‘‘ اس نے کہا ’’یہ رقم ادا کرنا مسٹر جیمز کو یاد نہیں رہی تھی اور میں جانتا ہوں وہ آپ کو سوموار تک انتظار کروانا پسند نہیں کریں گے۔‘‘

صدر نے اسے اندر بلانا چاہا تاکہ وہ ذرا سوکھ جائے۔ لیکن اس نے معذرت کرتے ہوئے کہا ’’سنتھیا پریشان ہوتی ہوگی کہ میں کہاں رہ گیا ہوں۔‘‘ اور برستی بارش میں واپس روانہ ہوگیا۔بنک کا صدر اس سے بہت متاثر ہوا اور یہ واقعہ سارے قصبے کو سنایا۔1893 ء کی سردیوں میں اسے بنک بلوایا گیا۔ وہ سارا راستہ اس بلاوے کے متعلق سوچتا گیا۔ بنک پہنچا تو وہاں ہیننگ کے دس بڑے بزنس مین اس کے منتظر تھے۔ ان کے چہروں پر سرخی اور گھبراہٹ تھی۔ صدر واہن نے اسے بتایا کہ مسٹر جیمز نے دیوالیہ ہونے کا اعلان کیا ہے اور اپنے خاندان کے ساتھ کہیں اور منتقل ہو رہا ہے۔

’’ہیننگ کو لکڑی کی ایک کمپنی کی ضرورت تو ہے۔‘‘ بنکر نے کہا ’’ہم سب، جنہیں تم دیکھ رہے ہو، ایک ہفتہ اس پر بات چیت کرتے رہے ہیں۔ لیکن اسے چلانے کے لیے ہمارے ذہن میں تم سے بہتر کسی کا نام نہیں آیا۔ ہم اس متفقہ نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کمپنی کا پچھلا قرض معاف کرکے بطور مالک کمپنی تمہیں سونپ دیں۔‘‘

آنکھوں سے بہتے آنسوئوں کے ساتھ ول نے سب سے ہاتھ ملایا۔ جلدی سے دستاویز پر دستخط کیے اور اس سے بھی زیادہ جلدی باہر نکل آیا۔ جب سب چلے گئے تو اس نے بنکر کا ہاتھ تھام کر کہا ’’مسٹرواہن! ایک مہربانی اور کیجئے۔ کیا آپ میری بچت کی آدھی رقم کا چیک مسٹر جیمز کے نام بنا دیں گے؟ میرا نام ان پر ظاہر کیے بغیر۔‘‘

ایک سال کے اندر اندر ول کی کمپنی کے اعلیٰ معیار اور مناسب قیمتوں کے باعث دور دور سے گاہک آنے لگے۔ ان میں اڑتالیس میل دور میمفس سے آنے والے سیاہ فام بھی تھے جو اپنی آنکھوں سے ایک کالے کو اپنا کاروبار کرتا دیکھنے آتے تھے۔ سنتھیا نے دفتر کی کھڑکیوں پر صاف پردے آویزاں کر دیے اور ول نے باہر ایک بورڈ پر ’’ڈبلیو ای پامر لمبر کمپنی‘‘ لکھ کر لگا دیا۔

1895ء میں سنتھیا اور ول کی دعا قبول ہوئی اور ان کے ہاں ایک بیٹی ہوئی جس کا نام برتھا جارج رکھا گیا۔ جارج دراصل ول کے باپ کا نام تھا۔ سنتھیا نے سارے خاندان کو اکٹھا کیا اور غوں غوں کرتی بچی کو اپنے خاندان کی کہانی سنائی۔ ول کو سنتھیا کے پرکھوں کا احترام تو تھا لیکن اسے یہ بات سن کر الجھن ہوتی تھی کہ اس شادی سے ول کی عزت میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی لیے اس نے ننھی برتھا کے چلنا سیکھنے سے پہلے ہی اسے اپنے ساتھ زیادہ مانوس کرنا شروع کر دیا۔ ہر صبح وہ کام پر جانے سے پہلے اسے گھمانے لے جاتا۔ شام کو اسے اپنے ہاتھ کے بنائے چھوٹے سے پلنگ پر لٹاتا۔برتھا پانچ سال کی ہوئی تو ہر شخص سنتھیا کی بات دہرانے لگا کہ ’’ول بچی کو بگاڑ رہا ہے۔‘‘ اس نے ہنینگ میں ٹافیاں بیچنے والی ہر دکان پر برتھا کا کھاتا کھلوا رکھا تھا جن کی ادائی وہ ہر ماہ کے آخر پر کر دیتا تھا۔ وہ برتھا سے بھی حساب رکھنے کو کہتا اور کبھی کبھی اسے سکھانے کے لیے حساب چیک بھی کر لیتا تھا۔ اس کی پندرھویں سالگرہ پر جب اس نے اس کے نام کا اکائونٹ کھلوایا تو ہر شخص حیران اور پریشان ہوگیا۔ ’’اس لڑکی کو کرنا صرف یہ ہوتا ہے کہ کیٹلاگ میں کوئی چیز پسند کرے اور لکھ بھیجے اور شکاگو میں واقع سئیرز، روبک والے وہ چیز اسے بھجوا دیتے ہیں، میں نے خود دیکھا ہے اپنی آنکھوں سے… اس کا ڈیڈی رقم ادا کر دیتا ہے… میں سچ کہہ رہی ہوں… جی جناب! جو برتھا چاہے۔‘‘

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

یہ سب سوچ کر میرا دماغ گھومنے لگا۔ اتنے میں ہم ایک نسبتاً بڑے گائوں میں پہنچ گئے۔مجھے اندازہ ہوا کہ جو کچھ جفورے میں ہوا تھا اس کی خبر یہا ...

مزید پڑھیں

انہوں نے مجھے ایسی بات بتائی جو میرے سان گمان میں بھی نہیں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اندرون ملک کے قدیم دیہاتوں میں اب بھی ایسے بوڑھے ہوتے ہی ...

مزید پڑھیں

میں جارج اور جولیئس گرمیوں میں نانی جان کے پاس ہنینگ چلے جاتے۔ لیکن نانا اور ماما کی وفات نے انہیں اداس اور دکھی کر دیا تھا۔ وہ فرنٹ پورچ ...

مزید پڑھیں