☰  
× صفحۂ اول (current) عید اسپیشل آزادی اسپیشل فیشن خصوصی رپورٹ سنڈے سپیشل متفرق ادب
غلام مسلسل بکتے رہتے تھے

غلام مسلسل بکتے رہتے تھے

تحریر : الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان

08-11-2019

اسی سال ول نے برتھا کو پیانو سکھانے کے لیے ایک استاد رکھا جو ہر ہفتے میمفس سے آتا تھا۔ اس میں خدا داد صلاحیتیں تھیں اور بہت جلد وہ نیو ہوپ کلرڈ میتھوڈسٹ ایپی سکوپل چرچ کے کائر (Choir) میں پیانو بجانے لگی۔ ول گرجے کا متولی تھا اور سنتھیا عورتوں کے بورڈ کی تاحیات صدر تھی۔

جب جون 1909ء میں برتھا آٹھویں میں تھی تو یہ طے تھا کہ وہ دو سال کے لیے تیس میل دور جیکسن ٹنیسی کے مشرق میں واقع لین، انسٹی ٹیوٹ میں نویں جماعت میں داخلہ لینے جائے گی۔

 

’’میری بچی، تمہیں کبھی اس بات کا مطلب سمجھ نہیں آئے گا کہ تم اس خاندان کی پہلی لڑکی ہو جو کالج جا رہی ہے۔۔۔۔‘‘

’’امی ایک تو آپ اور ابو بولتے عجیب طریقے سے ہیں۔ دوسرے یہ بتائیں کہ کالج ہوتے کس لیے ہیں؟ لوگوں کے جانے کے لیے ناں؟‘‘

سنتھیا بعد میں ول سے بات کرتے ہوئے رو پڑی۔ ’’خداوند ہم پر مہربانی کرے، ول۔ ابھی اس بچی کو ذرا بھی سمجھ نہیں ہے۔‘‘

’’ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو۔‘‘ اس نے سنتھیا کو سمجھانے کی کوشش کی۔’’میں یہ چاہتا ہوں کہ کم ازکم میرے مرنے سے پہلے مجھے یہ تسلی ہو کہ اسے ہم سے بہتر مواقع ملے ہیں۔‘‘برتھا معلمہ بننا چاہتی تھی اور حسب توقع اس نے بہت اونچے درجے حاصل کیے۔ وہ سکول کے کائر میں بھی پیانو بجاتی اور گاتی تھی۔ وہ مہینے میں دو بار گھر آتی۔ وہ اپنے والد کو مجبور کرتی کہ ڈلیوری ٹرک کے دونوں دروازوں پر لکھوا لے۔’’ہنینگ121۔۔۔آپ کانمبر۔۔۔‘‘ چوں کہ ٹیلی فون ابھی حال ہی میں ہنینگ میں آیا تھا اس لیے برتھا کا یہ اشتہار بہت مقبول ہوا۔ایک بار وہ گھر آئی تو اس نے ایک لڑکے سائمن الیگزینڈر ہیلی کا ذکر کیا جو ٹنیسی کے قصبے سواناہ کا رہنے والا تھا۔ اس کے ساتھ کالج کے کائر میں برتھا کی ملاقات ہوئی تھی۔ وہ بہت غریب تھا اور تعلیم جاری رکھنے کے لیے چار مختلف نوکریاں کر رہا تھا۔ وہ زراعت کی تعلیم حاصل کر رہا تھا جب 1913ء میں برتھا کو اس کی باتیں کرتے پورا سال ہوگیا تو ول اور سنتھیا نے برتھا سے کہا کہ اسے ہنینگ میں بلوائے تاکہ وہ اسے جانچ پرکھ لیں۔برتھا کے کالج والے لڑکے کی آمد کی خبر پہنچی تو اتوار کے روز گرجے میں تل دھرنے کو جگہ نہ رہی۔ سائمن آیا تو نہ صرف ول اور سنتھیا بل کہ ساری سیاہ فام آبادی کی نظریں اس پر تھیں۔ لیکن وہ بہت بااعتماد لڑکا تھا۔ اس نے ’’باغ میں…‘‘ والا نغمہ تنہا گیا جس پر پیانو برتھا نے بجایا۔ بعد میں وہ ہر شخص سے ہنس ہنس کر باتیں کرتا رہا۔ مردوں سے مضبوط ہاتھ کے ساتھ مصافحہ کرتا اور خواتین سے ملتے ہوئے اپنے ہیٹ کا سرا بھی چھوتا۔ شام کو دونوں بس سے واپس کالج پہنچ گئے۔ ہر شخص سائمن کو پسند کرنے لگا تھا۔ صرف اس کے رنگ کے بارے میں ذرا ہچکچاہٹ تھی، جو کافی ہلکا تھا۔ سائمن نے برتھا کو بتا رکھا تھا کہ اس کے والدین غلام تھے اور دونوں کے والد سفید فام آئرش تھے۔ لیکن اس بات پر سب کا اتفاق تھا کہ وہ گاتا بہت اچھا تھا، تربیت اچھی تھی اور تعلیم کا غرور اس میں بالکل نہیں تھا۔

سائمن ہیلی اے اینڈ ٹی کالج۔ گرینز بورو، شمالی کیرولائنا میں چار سالہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے پیسہ پیسہ بچا رہا تھا۔ جنگ عظیم اول شروع ہوئی تو اس کی اوورسیئر کلاس کے تمام مردوں نے اجتماعی طور پر اپنا نام فوج میں لکھوا دیا۔ چند ہی روز میں اس کا فرانس سے برتھا کے نام خط آگیا۔ آرگن فورسٹ فرانس میں اسے زہریلی گیس کا سامنا کرنا پڑا۔ بیرون ملک کئی ماہ ہسپتال میں زیر علاج رہ کر وہ لوٹ آیا۔1918ء میں مزید ایک سال علاج کے بعد وہ مکمل صحت یاب ہوگیا۔ وہ دوبارہ ہنینگ آیا تو اس کی اور برتھا کی منگنی ہوگئی۔1920ء میں نیو ہوپ سی ایم ای میں ان کی شادی پہلا موقع تھا جس میں گورے اور کالے اکٹھے شریک ہوئے۔ اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ ول پامر شہر کی اہم شخصیات میں سے ایک تھا۔ دوسرے برتھا کی خوبیوں کی وجہ سے وہ شہر بھر کا فخر تھی۔ شادی کی تقریب ول پامر کے نئے گھر میں ہوئی۔ جس میں میوزک پارلر اور کتب خانہ بھی تھا۔ مہمانوں کو کھانا دیا گیا۔ عام شادیوں سے تین گنا زیادہ تحائف اکٹھے ہوئے۔ لین کالج کا مکمل کائر شادی میں شریک ہوا اور فن کا مظاہرہ کیا۔ جیکسن سے آنے والی پوری بس کا کرایہ ول پامر نے ادا کیا۔ اسی شام ہنینگ کا چھوٹا سا ریل روڈ ڈپو سائمن اور برتھا کو الوداع کہنے والوں سے بھر گیا کیوں کہ دونوں ایلی نائس سنٹرل ٹرین سے شکاگو جا رہے تھے۔ جہاں سے گاڑی بدل کر انہوں نے اتھاکا، نیویارک نامی جگہ جانا تھا۔ سائمن نے زراعت میں ماسٹرز ڈگری لینے کے لیے ’’کورنل یونیورسٹی‘‘ میں داخلہ لینا تھا۔ جب کہ برتھا نے اس کے قریب ہی ’’اتھا کا کنسرویٹری آف میوزک‘‘ میں داخل ہونا تھا۔

 پہلے نو ماہ تو برتھا باقاعدگی سے خط لکھ کر بتاتی رہی کہ وہ دونوں کتنے خوش ہیں لیکن بھر1921ء کی گرمیوں میں اس کے خطوط کم ہونے لگے۔ آخر سنتھیا اور ول پریشان ہوگئے کہ ضرور کوئی مسئلہ ہے جو برتھا انہیں بتا نہیں رہی ہے۔ ول نے سنتھیا کو پانچ سو ڈالر دیے کہ برتھا کو بھیج دے۔ جنہیں وہ اپنی مرضی سے خرچ کرے سائمن کو بتائے بغیر۔ لیکن ان کی بیٹی کے خطوط اور بھی کم ہونے لگے۔ لہٰذا اگست کے آخر پر سنتھیا نے ول اور اپنے جاننے والوں کو بتایا کہ وہ نیویارک جا رہی ہے تاکہ مسئلہ جان سکے۔ سنتھیا کے جانے سے دو دن پہلے آدھی رات کو دروازے پر دستک ہوئی جس سے وہ گھبرا کر جاگے۔ دونوں تیزی سے بستر سے نکلے۔ دروازے کے شیشوں سے باہر پورچ میں انہیں چاندنی میں برتھا اور سائمن کے ہیولے نظر آئے۔ سنتھیا چلاّتی ہوئی دروازے کی طرف بھاگی۔برتھا نے سنجیدگی سے کہا ’’خط نہ لکھنے کی معذرت۔ ہم آپ کے لیے ایک غیر متوقع تحفہ لانا چاہتے تھے۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے کمبل میں لپٹا بنڈل سا سنتھیا کو تھما دیا۔ دھڑکتے دل کے ساتھ سنتھیا نے کمبل سرکایا تو ایک گول سا چہرہ اس کے سامنے آگیا…

وہ چھے ہفتے کا، ننھا لڑکا، میں تھا۔

بعد میں ڈیڈ نے کئی بار بتایا کہ ’’لگتا تھا میں نے تھوڑی دیر کے لیے اپنا بیٹا کھو دیا ہے۔ نانا ول پامر نے تمہیں نانی سے لے لیا اور بنا کچھ کہے تمہیں لے کر باہر گھر کے پچھواڑے کہیں لے گئے۔ وہ تقریباً آدھ گھنٹہ باہر رہے۔ مجھے، سنتھیا یا برتھا کو کچھ پوچھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ ایک تو اس لیے کہ وہ ول پامر تھے۔ دوسرے اس لیے کو مدتوں سے ان کے دل میں ایک بیٹے کی آرزو تھی اور جو شاید برتھا کے بیٹے کی شکل میں تم نے پوری کر دی تھی۔‘‘

 کوئی ہفتے بعد ڈیڈ مجھے اور ماما کو ہنینگ میں چھوڑ کر اکیلے اتھاکا چلے گئے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ ان کی تعلیم مکمل ہونے تک ہم نانا، نانی کے پاس ہی رہیں۔ جہاں میں ان کے بیٹے کے طور پر رہوں۔۔۔ خاص طور پر ناناکے۔نانی بتاتی تھیں کہ میرے چلنا سیکھنے سے پہلے ہی وہ مجھے گود میں لمبر کمپنی لے جاتے تھے۔ جہاں مجھے ننھے سے بستر میں لٹا کر کاروبار کی دیکھ بھال میں مصروف رہتے۔ چلنا سیکھنے کے بعد میں چل کر ان کے ساتھ جانے لگا۔ میرے تین قدم ان کے ایک قدم کے برابر ہوتے اور میں ننھی سی مٹھی میں ان کی بائیں شہادت کی انگلی مضبوطی سے پکڑے رہتا۔ وہ مجھ پر ایک لمبے اور گھنے درخت کی طرح سایہ کئے رہتے۔ راہ چلتے رک کر لوگوں سے باتیں کرتے جاتے۔ نانا نے مجھے سکھایا کہ ہمیشہ دوسروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھو، گفت گو صاف اور مہذب کرو۔ بعض اوقات لوگ میری تربیت کی اور اٹھان کی تعریف کرتے تو ناناکہتے۔’’امید ہے کہ یہ اچھا ہی ہوگا۔‘‘

ڈبلیو۔ ای۔ پامر لمبر کمپنی میں وہ مجھے کھیلنے کے لیے چھوڑ دیتے اور میں۔ شاہ بلوط، صنوبر، چیڑھ اور ہکری کے مختلف جسامت کے تختوں اور شہتیروں کے درمیان ان کی ملی جلی خوشبوئیں سونگھتا دنیا جہان کی مہمات سر کرنے والے کھیل کھیلتا۔ کبھی کبھی نانا دفتر میں مجھے اپنی گھومنے والی کرسی پر بٹھا دیتے اور میں اس پر اتنے چکر کھاتا کہ اس سے اترنے کے بعد بھی دماغ گھومتا رہتا۔ نانا کے ساتھ کہیں بھی جا کر مجھے بہت مزہ آتا۔ابھی میں پانچ سال کا ہی تھا کہ وہ فوت ہوگئے۔ میں نے اتنا ہنگامہ کیا کہ ڈاکٹر ڈرڈ کو مجھے کوئی دودھیا سی چیز پلا کر سلانا پڑا۔ سونے سے پہلے میں نے دھندلی نگاہ سے دیکھا کہ لاتعداد سیاہ و سفید فام لوگ ہمارے گھر اکٹھے ہو رہے ہیں۔ عورتوں نے سیاہ سکارفوں سے سر ڈھانپے ہوئے تھے اور آدمیوں نے اپنے سیاہ ہیٹ ہاتھوں میں پکڑے ہوئے تھے۔ اگلے کچھ دن مجھے یہ ہی محسوس ہوتا رہا کہ دنیا کا ہر شخص افسردہ اور ہر آنکھ اشک آلود ہے۔ ڈیڈ کا ماسٹرز تھیسس تقریباً مکمل ہونے کو تھا۔ انہوں نے کارنل سے آکر لمبرمل سنبھال لی اور ماما مقامی سکول میں پڑھانے لگیں۔ نانا سے گہری محبت اور نانی کی گہری اداسی نے ہم دونوں کو قریب کر دیا اور شاید ہی کوئی جگہ ہو جہاں وہ میرے بغیر جاتی ہوں۔

غالباً نانا کی کمی دور کرنے کے لیے نانی جان ہر گرمیوں میں خاندان کی تقریباً سب خواتین کو اپنے ہاں کچھ روز کے لیے مدعو کرنے لگیں۔ یہ خواتین نانی کی ہم عمر یعنی چالیس پچاس کے درمیان ہوتیں اور ڈائرس برگ، ٹنے سی، انکسٹر، مشی گن، سینٹ لوئیس اور کینسس سٹی، سے آتی تھیں۔ ان کے نام آنٹ پلس، آنت لز، آنٹ ٹل، آنٹ ونی اور کزن جارجیا وغیرہ ہوتے تھے۔ رات کا کھانا کھا کر وہ سب باہر پورچ پر جھولاکرسیوں پر بیٹھ جاتیں۔ میں بھی ان کے بیچ اپنی نانی کی کرسی کے پیچھے نیم پوشیدہ موجود رہتا۔ رات گہری ہونے لگتی اور بیلوں کے آس پاس جگنو چمکنے لگتے اور وہ سب اگر کوئی مقامی موضوع گفت گو نہ ہوتا تو وہ قصہ دہراتیں جو نسلوں سے ہم تک منتقل ہوتا آیا تھا۔

یہ ہی موضوع تھاجس کی وجہ سے کبھی کبھی ماما اور نانی کے درمیان اختلاف پیدا ہو جاتا تھا۔ بعض اوقات نانی جان رشتہ داروں کی غیر موجودی میں بھی اسے دہرانے لگتیں تو ماما جھنجھلا کر کہتیں۔ ’’اوہ امی جان، آپ اس پرانے غلامی کے قصے کی جان چھوڑ کیوں نہیں دیتیں؟ بڑی الجھن ہوتی ہے اس سے۔‘‘نانی بھی سختی سے جواب دیتیں۔ ’’اگر تمہیں اس سے دل چسپی نہیں ہے کہ تم کون ہو اور کہاں سے آئی ہو تو نہ سہی، مجھے تو ہے!‘‘ اور پھر وہ دن بھر یا کبھی زیادہ وقت ایک دوسرے سے بات نہ کرتیں۔مجھے یہ اندازہ تھا کہ نانی یا دوسری عورتوں کی باتوں کا تعلق، کہیں بہت پرانے ان کے بچپن سے تھا۔ ان میں سے کوئی اچانک میری طرف انگلی کرکے کہتی ’’میں اس بچے سے بڑی نہیں تھی تب۔‘‘ سفید بالوں اور جھریوں والی ان عورتوں کے متعلق سوچنا کہ کبھی یہ میرے جیسی تھیں، میری سمجھ سے باہر تھا۔ لیکن اسی سے مجھے احساس ہوا کہ جو قصہ یہ دہراتی ہیں اس کا تعلق بہت پرانے زمانے سے ہے۔

بچہ ہونے کی بناء پر مجھے ان کی اکثر باتیں سمجھ نہیں آتی تھیں کہ یہ ’’بوڑھے مالک‘‘ اور ’’بوڑھی مالکن‘‘ کون تھے؟’’رقبہ‘‘ کیا تھا؟ لیکن ہر سال یہ باتیں سن سن کر میں بار بار دہرائے جانے والے نام اور ان سے جڑے واقعات یاد رکھنے لگا۔ ان میں سب سے پرانے آدمی کو وہ ’’افریقی‘‘ کہتی تھیں اور بتاتی تھیں کہ اسے ایک جہاز پر اس ملک میں لایا گیا تھا۔ ’’ناپلس‘‘ کی بندرگاہ پر اسے مالک جان والر نے خریدا تھا۔ اس کا رقبہ سپاٹ سلوینیا کائونٹی، ورجینیا میں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ افریقی بھاگنے کی کوشش کرتا رہا لیکن چوتھی بار وہ غلام پکڑنے والے پیشہ ور گوروں کے ہتھے چڑھا تو انہوں نے اسے دوسروں کے لیے مثال بنانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے افریقی کے سامنے دو اختیار رکھے۔ آختہ ہونا یا پائوں سے معذور ہونا، اور شکر ہے حضرت یسوعؑ کا، ورنہ آج ہم یہاں نہ ہوتے، کہ اس نے پائوں کٹوانے کا فیصلہ کیا۔ مجھے سمجھ نہ آتاکہ سفید فام اتنا گرا ہوا اور گھٹیا کام کیسے کر سکتے تھے؟

ان عورتوں نے بتایا کہ اس افریقی کی زندگی مالک جان کے بھائی ڈاکٹر ولیم والر نے بچائی اور اس افریقی کو خرید لیا۔ لنگڑا ہونے کی وجہ سے وہ افریقی محدود حرکت کر سکتا تھا اس لیے اسے سبزیوں کی باغبانی سونپی گئی۔ اسی لیے یہ افریقی ایک رقبے پراتنا طویل عرصہ رہا ورنہ تو مرد غلام مسلسل بکتے اور خریدے جاتے تھے اور یہ کام اتنے تواتر سے ہوتا تھا کہ ان کے بچوں کو اپنے والدین کا علم ہی نہیں ہو پاتا تھا۔نانی نے بتایا کہ نئے غلاموں کو مالک نیا نام دیتے تھے۔ اس لیے افریقی کا نام’’ٹوبی‘‘ رکھا گیا۔ لیکن کوئی اور غلام اسے اس نام سے پکارتا تو وہ آگ بگولا ہو جاتا اور کہتا کہ اس کا نام ’’کِنتے‘‘ ہے۔وہیں باغبانی کرتے ہوئے اس کی شادی بڑے گھر کی باورچن ’’بیل‘‘ سے ہوئی۔ ان کے ہاں بیٹی ہوئی جس کا نام ’’کزی‘‘ تھا۔ وہ چار پانچ سال کی ہوئی تو وہ افریقی اسے باہر گھمانے لے جانے لگا اور اسے افریقی زبان میں چیزوں کے نام سکھانے لگا۔ مثلاً وہ گٹار کو ’’کو‘‘ کہتا اور رقبے کے پاس بہتے دریا کو، جس کا اصل نام دریائے مٹاپونی تھا، ’’کیمبی بولونگو‘‘کہہ کر بلاتا۔ کزی بڑی ہوئی اور افریقی کو انگریزی آگئی تو وہ اسے اپنے وطن اور اپنے لوگوں کی کہانیاں اور اپنے اغوا کی کہانیاں سنانے لگا کہ وہ اپنے گائوں کے پاس ڈھول کے لیے لکڑی کاٹ رہا تھا کہ چار آدمیوں نے اسے اغواء کر کے غلام بنا کر بیچ دیا۔ کزی سولہ برس کی ہوئی تو اسے شمالی کیرولائنا میں مالک ٹام لی کے ہاتھ فروخت کر دیا گیا۔ جہاں کزی کے ہاں ایک بیٹا ہوا۔ جو دراصل ٹام لی کا تھا۔ اسی نے اس کا نام جارج رکھا۔

جارج چار پانچ سال کا ہوا تو اس کی ماں نے اسے افریقی زبان سکھانی اور وہاں کی کہانیاں سنانا شروع کر دیں۔ جارج بارہ برس کا ہوا تو اسے کسی ’’انکل مِنگو‘‘ کا شاگرد بنا دیا گیا جس نے اسے مرغ بازی کی تربیت دی اور چودہ پندرہ سال کی عمر تک وہ اتنا مشہور ہوا کہ اس کا نام ہی ’’چکن جارج‘‘ پڑ گیا۔اٹھارہ سال کی عمر میں اس کی شادی ایک غلام لڑکی مٹلڈا سے ہوئی جس سے اس کے آٹھ بچے ہوئے۔ ہر بچے کی پیدائش پر وہ سب کو جمع کرکے انہیں ان کے افریقی پڑنانا کی کہانی اور افریقی زبان کے الفاظ بتاتا۔آٹھوں بچے اپنے گھر بار کے اور خود صاحبِ اولاد ہوئے۔ اس کا چوتھا بیٹا ٹام لوہار تھا جسے اس کے خاندان سمیت مالک مرے کے پاس بیچ دیا گیا۔ جو المانسے کائونٹی، شمالی کیرولائنا میں تمباکو کاشت کرتا تھا۔ وہاں ٹام کی ملاقات ایک نیم انڈین لڑکی آئرین سے ہوئی جو مالک ہولٹ کے رقبے پر غلام تھی جو کاٹن مل کا مالک تھا۔ آئرین کے بھی آٹھ بچے ہوئے۔ ہر بچے کی پیدائش پر ٹام نے اپنے باپ کی روایت کو برقرار رکھا اور خاندان کو اکٹھا کرکے انہیں ان کے نکڑ نانااور بعد میں آنے والوں کے متعلق بتاتا رہا۔

اس کے آٹھ بچوں میں سب سے چھوٹی سنتھیا تھی۔ اس کی عمر ابھی دو سال تھی کہ اس کا باپ ٹام اور دادا چکن جارج انہیں آزاد غلاموں کے قافلے کے ساتھ ہنینگ، ٹنے سی کے مغرب میں لے آیا۔ جہاں بائیس سال کی عمر میں اس کی شادی ول پامر سے ہوئی۔میں ان ماضی کے لوگوں اور پرانے قصوں میں ایسا مگن تھا کہ جب بات ’’سنتھیا‘‘ پر آئی تو میں بہت حیران ہوا۔ میں حیرت سے نانی جان کے ساتھ ساتھ آنٹ ونی، آنٹ مٹلڈا اور آنٹ لز کی طرف دیکھتا جو نانی کی رشتے میں بہنیں تھیں۔

 وہیں ہنینگ میں نانی جان کے گھر میرے دو بھائی پیدا ہوئے۔ جارج 1925ء میں اور جولیئس 1929ء میں ڈیڈ نے لمبر کمپنی بیچ دی اور زراعت کے پروفیسر کی حیثیت سے پڑھانے لگے۔ ہم تینوں بھائی اور والدہ ان کے ساتھ رہتے تھے۔ سب سے لمبا عرصہ ہم نارمل، ایلاباما میں اے اینڈ ایم کالج میں رہے۔ وہیں 1931ء میں میں جانے کس جماعت میں تھا کہ ایک صبح کوئی آدمی میرے لیے جلدی گھر پہنچنے کا پیغام لے کر آیا۔ میں فوراً گھر پہنچا تو ڈیڈ کی سسکیاں سنائی دیں۔ ماما جو ہنینگ چھوڑنے سے مسلسل بیمار چلی آتی تھیں، بستر میں آخری سانسیں لے رہی تھیں۔

 

 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

یہ سب سوچ کر میرا دماغ گھومنے لگا۔ اتنے میں ہم ایک نسبتاً بڑے گائوں میں پہنچ گئے۔مجھے اندازہ ہوا کہ جو کچھ جفورے میں ہوا تھا اس کی خبر یہا ...

مزید پڑھیں

انہوں نے مجھے ایسی بات بتائی جو میرے سان گمان میں بھی نہیں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اندرون ملک کے قدیم دیہاتوں میں اب بھی ایسے بوڑھے ہوتے ہی ...

مزید پڑھیں

میں جارج اور جولیئس گرمیوں میں نانی جان کے پاس ہنینگ چلے جاتے۔ لیکن نانا اور ماما کی وفات نے انہیں اداس اور دکھی کر دیا تھا۔ وہ فرنٹ پورچ ...

مزید پڑھیں