☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا سنڈے سپیشل نواجوان نسل کچن کی دنیا خصوصی رپورٹ کھیل فیشن انٹرویوز خواتین شوبز کیرئر پلاننگ متفرق ادب
اساس

اساس

تحریر : الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان

08-18-2019

میں جارج اور جولیئس گرمیوں میں نانی جان کے پاس ہنینگ چلے جاتے۔ لیکن نانا اور ماما کی وفات نے انہیں اداس اور دکھی کر دیا تھا۔ وہ فرنٹ پورچ پر جھولا کرسی پر بیٹھی رہتیں۔ آتے جاتے لوگ ان سے پوچھتے۔’’بہن سنتھی کیسی ہو؟‘‘ اور وہ عام طورپر جواب دیتیں’’بس بیٹھی ہوں۔‘‘دو سال بعد ڈیڈ نے اپنی کولیگ پروفیسر زیونا ہیچر سے شادی کر لی۔ وہ کولمبس کی رہنے والی تھی اور اوہیو سٹیٹ یونیورسٹی سے ماسٹر کیے ہوئے تھی۔

وہ تیزی سے بڑھتے ہم تین لڑکوں کی تربیت میں مصروف ہوگئیں۔ پھر ہماری بہن لوئس ہوئی۔ میں سترہ سال کی عمر میں کالج کادوسرا سال مکمل کر چکا تھا اور یو ایس کوسٹ گارڈ میں بطور میس بوائے بھرتی تھا کہ دوسری جنگ عظیم شروع ہوگئی۔ اپنے کارگو امیونیشن شپ پر ’’سائوتھ ویسٹ پیسے فک‘‘ میں تھا کہ مجھے وہ طویل راہ ملی جو بالآخر مجھے یہ کتاب ’’اساس‘‘ (Roots) لکھنے کی طرف لے آئی۔

تین تین مہینے سمندر میں رہنے کے دوران ہماری جنگ دشمن کے بمبار طیاروں اور آبدوزوں سے نہیں بلکہ سخت بوریت اور بے زاری سے تھی۔ والد کے اصرار پر میں نے کالج میں ٹائپنگ سیکھ لی تھی اور جہاز پر میرا سب سے قیمتی خزانہ یہ ہی پورٹیبل ٹائپ رائٹر تھا۔ میں سارا وقت اپنے سب جاننے والوں کو خط لکھتا رہتا۔ جہاز کے کتب خانے میں موجود ہر کتاب میں نے پڑھ ڈالی۔ بلکہ اپنے ساتھیوں کے پاس موجود کتابیں بھی پڑھ ڈالیں۔ مجھے شروع ہی سے مطالعے کا، خصوصاً مہماتی کہانیاں پڑھنے کا، بہت شوق تھا۔ جب میں جہاز پر موجود ہر تحریر پڑھ چکا تو آخر گھبرا کر بے زاری دور کرنے کے لیے میں نے خود کہانیاں لکھنے کا فیصلہ کیا… ٹائپ رائٹر میں کاغذ لگا کر کچھ ایسا لکھنا جسے دوسرے پڑھیں میرے لیے بہت چیلنجنگ، پیچیدہ اور خوش کن خیال ٰتھا۔۔۔ اور آج تک ہے۔ پتہ نہیں میں کیسے ہر رات، ہفتے میں سات راتیں، اتنی جاں فشانی سے مسلسل لکھتا اور مختلف رسالوں کو بھیجتا رہا۔ جس کے نتیجے میں بلامبالغہ میرے پاس مسترد شدہ کہانیوں کی سینکڑوں رسیدیں جمع ہوگئی تھیں۔ میری پہلی کہانی چھپنے میں آٹھ سال لگے۔

جنگ کے بعد جب کہیں کہیں کوئی ایڈیٹر میری ایک آدھ کہانی چھاپنے لگا تو یو ایس کوسٹ گارڈ کے افسران نے میرے لیے ایک نئی درجہ بندی ایجاد کی’’صحافی‘‘ ۔ چوں کہ میں ہر وقت لکھتا تھا اس لیے زیادہ چھپنے لگا۔1959ء میں جب میری عمر سینتیس سال تھی اور مجھے نوکری کرتے بیس سال ہو چکے تھے، مجھے ریٹائرمنٹ کا مستحق قرار دے دیا گیا۔ اس کے بعد میں نے کل وقتی مصنف بننے کا فیصلہ کیا۔شروع میں مردوں کے مہماتی رسالوں کو میں نے کچھ مضامین بیچے، جو زیادہ تر بحری زندگی کے متعلق تھے، کیوں کہ مجھے سمندر سے محبت ہے۔ پھر ڈائجسٹ نے مجھے ایسے لوگوں کی سوانحی کہانیاں لکھنے کا کام سونپا جنہوں نے دل چسپ زندگیاں گزاری تھیں یا محیرالعقول تجربات سے گزرے تھے۔پھر 1962ء میں میں نے مشہور ٹرمپٹ پلیئر ملر ڈیوس سے گفت گو ریکارڈ کی جو پہلی بار ’’انٹرویوز‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی۔ میرے بعد کے انٹرویوز میں نیشن آف اسلام کے نمائندے میلکم ایکس کا انٹرویو تھا۔ انٹرویو پڑھ کر ایک پبلشر نے اس کی زندگی پر کتاب لکھنے کے لیے کہا۔ میلکم ایکس نے مجھے شریک مصنف کے طور پر کام کرنے کو کہا، جو میں نے کیا۔ ایک سال ان کے انٹرویو میں گزرا اور ایک سال اسے تحریر کرنے میں لگا۔ جو’’آٹوبائیو گرافی آف میلکم ایکس‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ (جو اس کی اپنی پیش گوئی کے مطابق اس کی زندگی میں شائع نہ ہو سکی۔ مسودہ مکمل ہونے کے دو ہفتے بعد وہ قتل ہوگئے)۔

پھر ایک میگزین نے مجھے اسائنمنٹ پر لندن بھیج دیا۔ ملاقاتوں کے علاوہ مجھے وہاں تاریخ کے خزانے نے متاثر کیا۔ ایک روز برٹش میوزیم میں یوں ہی ورق گردانی کرتے ہوئے میں نے ’’روسٹیا سٹون‘‘ کا حوالہ پڑھا! مجھے مبہم سی مانوسیت کااحساس ہوا۔ جانے کیوں میں اس کے سحر میں گرفتار ہوگیا۔ اس کے متعلق مزید جاننے کے لیے میں نے لائبریری سے ایک کتاب جاری کروالی۔نیل کے ڈیلٹا میں پتھر پر تین زبانوں میں کندہ ایک تحریر دریافت ہوئی۔ ایک تو معروف یونانی رسم الخط تھا۔ دوسرا اس دور تک نامعلوم رسم الخط تھا اور تیسری تحریر قدیم خط تمثیل میں تھی۔ جس کے متعلق تصور کیا جاتا تھا کہ کبھی کوئی ترجمہ نہیں کر سکے گا۔ لیکن ایک فرانسیسی عالم ژاں چیمپولیون نے حرف سے حرف ملا کر یونانی رسم الخط کی مدد سے دونوں اجنبی تحریروں کا ترجمہ کر لیا اور ایک تھیسس پیش کیا جس کی رو سے اقتباسات کا مضمون یکساں تھا۔ اہم بات یہ تھی کہ اس نے خط تمثیل کا راز کھول لیا تھا جس میں انسان کی ابتدائی تاریخ محفوظ تھی۔

ماضی کے طلسمات کا دروازہ کھولنے والی اس چابی نے مجھے بہت مسحور کیا۔ مجھے اس کی خاص ذاتی اہمیت کا احساس ہوا۔ لیکن میں اسے سمجھنے سے قاصر تھا۔ امریکہ واپسی پر جہاز میں مجھے ایک خیال سوجھا۔ پتھر پر کندہ تاریخی نامعلوم کو اس نے ’’معلوم‘‘ کی مدد سے دریافت کر لیا تھا۔ تو وہ واقعات جو ہنینگ کے فرنٹ پورچ پر میں دادی جان، آنٹ لز، آنٹ پلس، کزن جارجیا اور دوسروں سے سنتا آیا تھا اور وہ عجیب الفاظ اور آوازیں جو افریقی سے نسلاً بعد نسلٍ مجھ تک پہنچی تھیں۔ کیا ان سے کسی نامعلوم کو معلوم کیا جا سکتا تھا؟ میں سوچنے لگا۔ ’’کِنتے‘‘، اس کے بقول یہ اس کا نام تھا۔’’کو‘‘ گٹار کو کہتا تھا۔’’کیمبی بولونگو‘‘ وہ ورجینیا کے دریا کو کہتا تھا۔ یہ سب ذرا تیکھی سی آوازیں تھیں جن میں ’’ک‘‘ کا حرف نمایاں تھا۔ ممکن تھا کہ یہ آوازیں نسلوں کے طویل سفر میں کچھ تبدیل ہوگئی ہوں لیکن بہرحال یہ میرے اس جدامجد سے منسوب تھیں جو دیومالائی حیثیت رکھتا تھا۔ میرا جہاز چکر لگاتا نیویارک کے ایئرپورٹ پر اتر رہا تھا۔ ’’یہ افریقہ کی کون سی زبان کے الفاظ تھے؟ کیا میں اس کا سراغ لگا سکتا تھا؟‘‘(یہ متاثر کن سوانح عمری بھی مترجم نے ترجمہ کی ہے جو ’’گہر ہونے تک‘‘ کے نام سے بُک ہوم شائع کر چکا ہے(مترجم)

اب تیس سال بعد ہنینگ کے فرنٹ پورچ پر قصّہ دہرانے والیوں میں صرف کزن جارجیا اینڈرسن زندہ تھی جو سب سے کم عمر تھی۔ دادی جان اور باقی سب فوت ہو چکی تھیں۔ کزن جارجیا کی عمر بھی اسّی سال تھی اور وہ،1200ا یوریٹ ایونیو، کینسس سٹی، کینسس میں اپنے بیٹے فلائڈ اینڈرسن اور بیٹی بی نیلی کے ساتھ رہتی تھی۔ میں اس سے کئی سال پہلے ملا تھا جب میں اپنے سیاسی مزاج کے بھائی جارج کی مدد کے لیے جاتا تھا۔ جارج ان دنوں شدومد سے ریاست کینسس کا سینیٹر بننے کی مہم چلا رہا تھا۔ اس کی کامیابی کی رات قہقہوں کے دوران تسلیم کیا گیا کہ اس کی فتح کی اصل وجہ کزن جارجیا ہی تھی۔ مہم کے انچارج فلائڈ نے بتایا کہ ہماری بوڑھی، سفید بالوں والی، کبڑی اور مقبول کزن جارجیا لاٹھی ٹیکتی راہ چلتے لوگوں سے ووٹ مانگتی اور چھڑی سے لوگوں کے دروازے کھٹکھٹا کر انہیں اپنے بھتیجے کی تصویر دکھا کر کہتی ’’یہ لڑکا تمہارے ووٹ کا زیادہ حق دار ہے!‘‘

میں اگلے جہاز سے کزن جارجیا کو ملنے کینسس سٹی روانہ ہوگیا۔خاندانی کہانی کا موضوع سننے پر اس کے ردعمل کو میں کبھی بیان نہیں کر پائوں گا۔ وہ بیماری اور بڑھاپے کے باوجود بستر میں اٹھ کر بیٹھ گئی۔’’ہاں، ہاں وہ افریقی کہتا تھا کہ اس کا نام کِنتے ہے… وہ گٹار کو ’کو‘ کہتا تھا اور دریا کو ’’کیمبی بولونگو‘‘ اور جب اسے پکڑا گیا وہ ڈھول بنانے کے لیے لکڑی کاٹ رہا تھا۔‘‘

وہ اتنے جوش میں بھر گئی کہ مجھے فلائڈ اور بی نیلی کو اسے پرسکون کرنا مشکل ہوگیا۔ میں نے وضاحت کی کہ میں سراغ لگانا چاہتا ہوں کہ ہمارا ’کِنتے‘ آیا کہاں سے تھا؟… اس سے ہمارے آبائی قبیلے کا بھی پتہ چل جائے گا۔’’ضرور پتہ لگائو!‘‘ کزن جارجیا نے کہا ’’تمہارے پیاری دادی اور سب بزرگ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں۔‘‘اس خیال نے میرے ذہن میں ’’اوہ میرے خدایا!‘‘ جیسی کیفیت پیدا کی۔

نیشنل آرکائیو۔ واشنگٹن ڈی سی میں میں نے ریڈنگ روم کے نگران سے کہا کہ میں المانسے کائونٹی، شمالی کیرولائنا کا خانہ جنگی کے بعد کا مردم شماری کا ریکارڈ دیکھنا چاہتا ہوں۔ مائکرو فلم کے طومار مجھے مہیا کر دیے گئے اور میں دھڑکتے دل کے ساتھ مائکرو فلم کا مشین کے ذریعے مطالعہ کرنے لگا۔ کئی فلموں کے رولز دیکھنے کے بعد میں تھک چکا تھا کہ اچانک میرے سامنے ’’ٹام مرے۔ سیاہ فام۔ لوہار…‘‘، ’’آئرین مرے، سیاہ فام، خاتون خانہ‘‘… آگئے۔ نیچے نانی کی بڑی بہنوں کے نام تھے جن کا میں نے ذکر ہی سنا تھا۔ ’’الزبتھ، عمر6 سال۔‘‘ یقینا میری بڑی آنٹ لز تھیں۔ مردم شماری کے وقت نانی جان ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں۔‘‘

بات یہ نہیں کہ مجھے اپنی نانی کی کہانیوں پر اعتبار نہیں تھا۔ لیکن پھر بھی یوایس گورمنٹ کے ریکارڈ میں ان کا اندراج میرے لیے عجیب و غریب تجربہ تھا۔اس کے بعد نیویارک میں رہتے ہوئے میں بارہا واشنگٹن جاتا رہا۔ میں نے نیشنل آرکائیوز، لائبریری آف کانگریس اور ڈاٹرز آف دا امیریکن ریولیوشن لائبریری کو کھنگال ڈالا۔ جب بھی بلیک لائبریری کے نگرانوں کو میری تحقیق کی نوعیت کا اندازہ ہوتا تو میری مطلوبہ دستاویزات پلک جھپکتے میں، میں جہاں بھی ہوتا،مجھ تک پہنچ جاتیں۔1966ء کے دوران میں مختلف ذرائع سے اپنے خاندان کی کہانی کی بنیادی معلومات حاصل کر چکا تھا۔ کاش میں کسی بھی قیمت پر یہ باتیں نانی کو بتا سکتا لیکن پھر مجھے کزن جارجیا کی بات یاد آئی کہ نانی اور باقی سب بھی آسمانوں سے مجھے دیکھ رہے ہیں۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ میں اپنے جدامجد سے منسوب الفاظ کو کہاں اور کیسے ڈھونڈوں۔ ظاہر ہے اس کے لیے مجھے حسب توفیق مختلف افریقیوں سے رابطہ کرنا پڑتا تھا۔ کیوں کہ افریقہ میں بے شمار قبائلی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اس کا میں نے نیویارک میں ایک منطقی حل نکلا۔ میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے اختتام پر پہنچنے لگا۔ ایلی ویٹر سے لاتعداد لوگ لابی میں آتے۔ ان میں افریقیوں کو پہچاننا کوئی مشکل نہیں تھا۔ میں ایک ایک کو روک کر اسے اپنے الفاظ بتاتا۔ دو ہفتوں میں میں نے کوئی دو درجن کے قریب افریقیوں کو روکا۔ ان میں سے ہرآدمی مجھ پر ایک نگاہ ڈالتا۔ میرے الفاظ سنتا اور آگے چل دیتا۔ اس میں ان کا قصور نہیں تھا۔ میں ہی افریقی آوازیں ٹنے سی لہجے میں ادا کر رہا تھا۔

مایوسی بڑھنے لگی تو میں نے بہترین محقق اور بچپن کے دوست جارج سمز سے تفصیلی بات کی۔ کچھ دن بعد اس نے افریقی زبانوں کے درجن بھر ماہرین کی فہرست مجھے لا کر دی۔ ایک بیلجئین ڈاکٹر جان وینسیناکے پس منظر نے مجھے متوجہ کیا۔ یونیورسٹی آف لندنز سکول آف افریقن اینڈ اوری اینٹل سٹڈیز سے تعلیم حاصل کرکے اس نے اپنا ابتدائی کام افریقی دیہاتوں میں رہ کر کیا۔ اور ’’لاٹریڈیشن اوریل‘‘ (La-Tradition Orale) نامی کتاب لکھی۔ اب وہ وسکونسن یونیورسٹی میں پڑھا رہا تھا۔ میں نے اسے فون کیا اور اس نے ملاقات کا وقت دے دیا۔ بدھ کی صبح میں تجسس سے بھرا ہوا جہاز سے میڈیسن، وسکونسن پہنچا اور میرے خواب میں بھی نہیں تھا کہ کس کام کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔اس شام میں نے ڈاکٹروین سینا کے لوِنگ روم میں اسے وہ سب افریقی الفاظ بتائے جو مجھے یاد تھے اور خاندانی طور پر بچپن سے مسلسل سنتا آ رہا تھا۔ اس نے توجہ سے سننے کے بعد سوالات پوچھنے شروع کیے۔ زبان کا مؤرخ ہونے کے ناطے اسے بیان کے طویل نسلی تسلسل میں دل چسپی تھی۔

ہم اتنی دیر تک باتیں کرتے رہے کہ مجھے رات اسی کے گھر رکنا پڑا۔ اگلی صبح ڈاکٹر وین سینا نے ایک بار پھر حیرت کا اظہار کیا اور ایک اور افریقنسٹ ڈاکٹر فلپ کرٹن کو فون کیا۔ ان دونوں کو یقین تھا کہ جو آوازیں میں نے بتائی ہیں ان کا تعلق ’’مندنکا‘‘ زبان سے ہے۔ میں نے یہ لفظ پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ یہ زبان مندنگو لوگ بولتے ہیں۔ پھر اس نے اندازے سے کچھ آوازوں کا مطلب ترجمہ کیا۔ ایک کا مطلب شاید گائے یا مویشی تھا۔ دوسری آواز کا مطلب بائوباب درخت تھا، جو مغربی افریقہ میں عام ہوتا ہے۔ اس کے بقول ’کو‘ تاروں والا آلہ موسیقی ’کورا‘ تھا۔ جسے آدھے کدو کو سکھا کر اور بکرے کی کھال منڈھ کر بنایا جاتا تھا۔ اس پر اکیس تاریں کسی جاتی تھیں۔ غلام بنائے جانے والے مندنگو کو کسی ہم شکل بدیسی آلے کو یکھ کر کورا کا خیال آیا ہوگا۔سب سے عام اور مانوس آواز’’کیمبی بولونگو‘‘ تھی جو میرے جدامجد نے اپنی بیٹی کزی کو سپاٹ سلوینیا کائونٹی، ورجینیا کے دریائے مٹاپونی دکھاتے ہوئے نکالی تھی۔ ڈاکٹر وین سینا نے بتایا کہ مندنکا زبان میں بولونگو، بہتے پانی، یعنی دریا کو کہتے ہیں۔ کیمبی لگنے سے اس کا مطلب دریائے گیمبیا ہو سکتا تھا۔

 میرے لیے یہ سب کچھ انوکھا تھا۔مجھے احساس ہوا کہ واقعی اوپر آسمان سے کچھ لوگ مجھے دیکھ رہے تھے۔۔۔

مجھے نیویارک کے یوٹیکا کالج، یوٹیکا میں ایک سیمینار میں تقریر کے لیے بلایا گیا۔ میزبان پروفیسر کے ساتھ چلتے ہوئے میں نے اسے بتایا کہ میں سیدھا واشنگٹن سے آ رہا ہوں اور اسے جانے کی وجہ بتائی۔ ’’دی گیمبیا؟ اگر میں غلط نہیں ہوں تو مجھے کسی نے بتایا تھا کہ وہاں کا ایک ذہین طالب علم ہملٹن میں ہے۔‘‘ پروفیسر نے کہا۔

ہملٹن کالج آدھ گھنٹے کی مسافت پر کلنٹن، نیویارک میں تھا۔ میرے سوال کے جواب میں پروفیسر چارلس ٹوڈ نے کہا ’’آپ ایبائومنگا کی بات کر رہے ہیں۔‘‘ اس نے پتا کرکے بتایا کہ میں اسے ایگری کلچرل اکنامکس کی کلاس میں مل سکتا ہوں۔ ایبائو منگا محتاط آنکھوں اور دھیمے مزاج والا کالا سیاہ نوجوان تھا۔ اس نے نہ صرف میری آوازوں کی تائید کی بلکہ میرے منہ سے سن کر ایک دم گھبرا گیا۔ کیا مندنکا اس کی مادری زبان تھی؟۔ ’’نہیں! اگرچہ میں اسے جانتا ہوں۔‘‘اس نے جواب دیا۔ وہ وولوف تھا۔ میں نے اس کے ڈار میٹوری کمرے میں اسے اپنی مہم کے متعلق بتایا۔ اگلے ہفتے کے آخر پر ہم دونوں گیمبیا کے لیے روانہ ہوگئے۔ڈاکار، سینی گال پہنچ کر ہم نے ایک ہلکا جہاز لیا اور ینڈم ائیرپورٹ، گیمبیا جا اترے۔ ایک وین میں دارالخلافہ بنجل پہنچے۔ ایبائو اور اس کا والد الحاجی منگا۔۔۔(گیمبئین اکثر مسلمان ہیں) اپنے چھوٹے سے ملک کی تاریخ سے آگاہ چند باعلم لوگوں کے ساتھ اٹلانٹک ہوٹل کے لائونج میں ملا۔ جو کچھ میں ڈاکٹر وین سینا کو وسکونسن میں بتا چکا تھا میں نے انہیں بھی بتا دیا۔ البتہ میں نے انہیں یہ کہانی نانی جان سے شروع کرکے اس افریقی تک، جو اپنا نام کِنتے بلائے جانے پر اصرار کرتا تھا۔ الٹی سنائی اور وہ الفاظ بتائے جو وہ دہراتا تھا اور اس کے اغواء کا واقعہ بتایا۔

میری کہانی ختم ہونے پر انہوں نے حیرت سے کہا کہ کیمبی بولونگو دراصل دریائے گیمبیا ہی ہے اور یہ ہر کوئی جانتا ہے۔ میں نے سختی سے جواب دیا کہ ہر گز نہیں، بہت سے لوگ یہ بالکل نہیں جانتے۔ انہوں نے اس بات میں بہت دل چسپی ظاہر کی کہ میرا1760 والا جدامجد اپنا نام کِنتے بلانے پر اصرار کرتا تھا۔’’ہمارے ملک کے قدیم دیہاتوں کے نام ان خاندانوں پر ہیں جو صدیوں پہلے وہاں آباد تھے۔‘‘ انہوں نے بتایا۔ پھر انہوں نے نقشہ منگوا کر نشان دہی کرتے ہوئے کہا۔ ’’یہ ایک گائوں ہے کِنتے کندھا اور اس سے ذرا دور’کِنتے کنداہ جانحیا ہے۔‘‘

 

 

 

 

مزید پڑھیں

غزل کا ایک مفہوم اردو سے باتیں کرنا قرار دیا گیا ہے مردوں نے جی بھر کے غزلیں کہیں اور باتیں کیں لیکن جب خودنے اظہارکیا تو وہ کچھ اور کہانی ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

یہ سب سوچ کر میرا دماغ گھومنے لگا۔ اتنے میں ہم ایک نسبتاً بڑے گائوں میں پہنچ گئے۔مجھے اندازہ ہوا کہ جو کچھ جفورے میں ہوا تھا اس کی خبر یہا ...

مزید پڑھیں

انہوں نے مجھے ایسی بات بتائی جو میرے سان گمان میں بھی نہیں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اندرون ملک کے قدیم دیہاتوں میں اب بھی ایسے بوڑھے ہوتے ہی ...

مزید پڑھیں

اسی سال ول نے برتھا کو پیانو سکھانے کے لیے ایک استاد رکھا جو ہر ہفتے میمفس سے آتا تھا۔ اس میں خدا داد صلاحیتیں تھیں اور بہت جلد وہ نیو ہوپ ...

مزید پڑھیں