☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل متفرق حقائق رپورٹ فیشن سنڈے سپیشل کچن کی دنیا انٹرویوز کھیل ادب
میرے اجداد کی کہانی

میرے اجداد کی کہانی

تحریر : الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان

08-25-2019

انہوں نے مجھے ایسی بات بتائی جو میرے سان گمان میں بھی نہیں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اندرون ملک کے قدیم دیہاتوں میں اب بھی ایسے بوڑھے ہوتے ہیں جو ’’میراثی‘‘ کہلاتے ہیں اور جو مقامی تاریخ کا چلتا پھرتا خزانہ ہیں۔ استاد میراثی ساٹھ سے ستر سال کی عمر کا ہوتا ہے۔ اس سے کم عمر چھوٹے میراثی ہوتے ہیں۔

ایک لڑکے کو میراثی بننے کے لیے چالیس پچاس سال تربیت لینا پڑتی ہے تب جا کر وہ استاد میراثی بنتا ہے جو خاص خاص موقعوں پر دیہاتوں، قبیلوں، خاندانوں اور عظیم لوگوں کی صدیوں پرانی تاریخ دہراتے ہیں۔ سارے افریقہ میں پرکھوں کی تاریخ کی نئی نسل کو زبانی منتقلی آباء واجداد کے وقتوں سے چلی آتی ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ ایسے ایسے بے مثال میراثی بھی ہوئے ہیں جو تین تین دن تک بنا کوئی بات دہرائے مسلسل تاریخ دہرا سکتے تھے۔

 

مجھے حیران پا کر ان لوگوں نے بتایا کہ ہر زندہ شخص کا سلسلہ خاندانی طور پر اس قدیم عہد سے جا ملتا ہے جب تحریر ایجاد نہیں ہوئی تھی۔ تب یادداشت، اور کان ہی معلومات محفوظ کرنے اور آگے بیان کرنے کا ذریعہ تھے۔ ان کے بقول ہم مغربی لوگ تحریر کے اتنے محتاج ہوگئے ہیں کہ تربیت یافتہ یادداشت کے کمال کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔

چوں کہ میرے جدامجد کا نام کِنتے تھا اور کِنتے قبیلہ گیمبیا میں ایک معروف اور قدیم قبیلہ تھا، اس لیے انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ ایسا میراثی ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے جو میری مدد کر سکے۔امریکہ لوٹ کر میں نے افریقی تاریخ کی کتب بڑی شدومد سے پڑھنا شروع کر دیں۔ میں دنیا کے دوسرے سب سے بڑے براعظم کے متعلق اپنی لاعلمی دور کرنے کے جنون میں مبتلا ہوگیا تھا۔ یہ بات تسلیم کرتے ہوئے بڑی شرم آتی ہے کہ تب تک میرا افریقہ سے متعلق مبلّغ علم ٹارزن قسم کی فلموں اور نیشنل جیوگرافک میں چھپی تصاویر کی حد تک تھا اور اب میں دن بھر مطالعے کے بعد رات کو نقشہ لیے مختلف ممالک کی جائے وقوع اور بڑے دریائوں کے نام یاد کرتا جہاں سے غلاموں کے جہاز لائے جاتے تھے۔

ایک بار ڈائجسٹ کی لان پارٹی میں شریک ڈائجسٹ کے بانی و بیگم ڈے وٹ والس نے میرے لکھے ایک مضمون کی تعریف کی جو یو ایس کوسٹ گارڈ میں چھپا تھا اور میرے باس کے متعلق تھا اور کہا کہ اگر کبھی مجھے ضرورت پیش آئے تو بیگم والس کو ضرور آگاہ کروں۔ لہٰذا میں نے ایک مختصر خط میں انہیں اپنی جاری مہم کے متعلق آگاہ کیا۔ انہوں نے میری گزارش کا جائزہ لینے کے لیے کچھ ایڈیٹرز کو میرے ساتھ لنچ پر اکٹھا کیا۔ میں تقریباً تین گھنٹے تک بلاتوقف بولتا رہا۔ کچھ ہی روز بعد ایک خط میں مجھے مطلع کیا گیا کہ ریڈرز ڈائجسٹ ایک سال تک ماہانہ تین سو ڈالر مجھے ادا کرے گا علاوہ سفری اخراجات کے، جن کی مجھے زیادہ ضرورت تھی۔میں دوبارہ کزن جارجیا سے ملا۔ وہ بہت بیمار تھیں۔ لیکن میری پیش رفت سے بہت خوش ہوئیں مجھے کام یابی کی دعا دی اور میں افریقہ روانہ ہوگیا۔میں جن لوگوں سے ملا تھا انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ایک ایسا میراثی ڈھونڈ نکالا ہے جو کِنتے قبیلے کے متعلق خاطر خواہ معلومات رکھتا تھا۔ اس کا نام ’’کیبا کانجی فوفانا‘‘ تھا۔ میں بہت خوش ہوا اور جوش سے پوچھا۔’’کہاں ہے وہ؟‘‘ انہوں نے حیرت سے مجھے دیکھا اور بولے۔ ’’اپنے گائوں میں۔‘‘

پتہ یہ چلا کہ اس میراثی سے ملنے کے لیے مجھے ایک قسم کی سفاری کرنا پڑے گی اور یہ ایسا کام تھا جس کا میں نے خواب بھی نہیں دیکھا تھا۔ معاملات طے کرنے میں مجھے تین دن لگے۔ ایک لانچ دریائی سفر کے لیے کرائے پر لی گئی۔ اسباب بذریعہ خشکی پہنچانے کے لیے ایک کرائے کی لاری اور لینڈ روور لی گئیں۔ چودہ آدمی بھی کرائے پر لئے گئے جن میں تین مترجم اور چار سازندے تھے۔ کیوں کہ بتایا گیا تھا کہ بڈھا میراثی تب تک بات نہیں کرتا جب تک پس منظر میں موسیقی نہ بجتی ہو۔

 کیمبی بولونگو کے وسیع اور تھرتھراتے وجود پر سفر کرتے ہوئے میں خود کو اجنبی محسوس کر رہا تھا۔ آگے آ کر جزیرہ جیمز آیا۔ جس پر دوصدیاں پرانا قلعہ تھا۔ یہاں برطانیہ اور فرانس کے مابین کئی جھڑپیں ہوئی تھیں۔ کیوں کہ یہ غلاموں کی تجارت کے لیے نہایت مثالی مقام تھا۔ میں اجازت لے کر کچھ دیر کو جزیرے پر اترا اور شکستہ کھنڈروں میں گھومتا رہا۔ وہاں ایک پرانی توپ اب تک نصب تھی۔ جب اس علاقے میں ہونے والے مظالم کا تصور میرے ذہن میں آیا تو میرا جی چاہا کہ کلہاڑا لے کر افریقی تاریخ کے زمانہ قدیم میں چلا جائوں۔ میں نے کسی پرانی زنجیر کا ٹکڑا ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ دوبارہ روانہ ہونے سے پہلے میں نے اس دریا کو اوپر سے نیچے تک دوبارہ دیکھا جس کا نام میرے جدامجد نے بحراٹلانٹک کے پار اپنی بیٹی کو سپاٹ سلوینیا کائونٹی، ورجینیا میں سکھایا تھا۔ البریدا گائوں پہنچ کر ہم لانچ سے اترے۔ آگے سفر پیدل کرنا تھا۔ ہماری منزل ایک چھوٹا سا گائوں جفورے تھا۔ جہاں ان آدمیوں کے مطابق بوڑھا میراثی رہتا تھا۔وہ جو ایک تاثر ہوتا ہے ’’ انتہائی عجیب تجربہ‘‘ ،جسے شاید آپ جذباتی سطح پر زندگی بھر نہیں جان پاتے۔ یہ ہی تجربہ مجھے سیاہ فام مغربی افریقہ میں ہوا۔

جب ہم جفورے کے نزدیک پہنچے تو بچوں کے اشارہ دینے پر لوگ اپنے جھونپڑوں سے باہر نکل آئے۔ یہ تقریباً ستر لوگوں کی آبادی کا گائوں تھا۔ جیسا کہ اکثر اندرون افریقہ کے گائوں ہوتے ہیں۔ یہ آج بھی ویسا ہی تھا جیسا دو سوسال پہلے تھا۔ مٹی کی گول دیواروں پر جھاڑ پھونس کی مخروطی چھتیں۔ اکٹھے ہونے والے لوگوں میں ایک پست قد آدمی بھی تھا۔ جس نے سفید چوغہ پہن رکھا تھا۔ سر پر ٹوپی تھی اور پتلے پتلے نین نقش کا مالک تھا۔ اس کے انداز میں ’’میں کچھ ہوں!‘‘ کا تاثر جھلکتا تھا۔ یہ ہی وہ آدمی تھا جس سے کہنے سننے میں اتنی دور آیا تھا۔میرے تینوں مترجم اس سے گفت گو کرنے آگے بڑھے تو باقی لوگوں نے مجھے گھیر لیا۔ وہ نیم دائرے میں تھے اور اتنا قریب تھے کہ میں ہاتھ بڑھا کر انہیں چھو سکتا تھا۔ ان کی آنکھیں مجھے گھور رہی تھیں اور تجسس کی زیادتی سے ان کے ماتھوں پر بل پڑے ہوئے تھے۔ میرے اندر بھی سنسنی کا طوفان آیا ہوا تھا۔ مجھے احساس ہوا کہ آج تک میں کئی مرتبہ لوگوں کی بھیڑ میں گھراتھا لیکن یہ پہلا موقع تھا کہ میرے گرد سب لوگ کالے سیاہ تھے۔ایک مترجم نے واپس آ کر میرے کان میں کہا ’’یہ اس لیے تمہیں گھور رہے ہیں کہ انہوں نے پہلی بار کوئی کالا امریکی دیکھا ہے۔‘‘ اس حقیقت نے مجھے اور حیران کر دیا۔ میں ایک فرد نہیں تھا بل کہ سمندر پار رہنے والے ان پچیس ملین سیاہ فاموں کی علامت تھا جنہیں ان لوگوں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

وہ سب لوگ بوڑھے کے گرد اکٹھے ہو کر بار بار میری جانب دیکھتے ہوئے مندنکا زبان میں سرگوشیاں کرنے لگے۔ آخر وہ بوڑھا مڑا۔ میرے تینوں مترجمین کو نظر انداز کرتا ہوا سیدھا میرے سامنے آ کھڑا ہوا۔ اس کی تیز نظریں میرے بدن میں کھبی جا رہی تھیں۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ میں مندنکا سمجھ سکتا ہوں یا نہیں۔ وہ ان سب کی طرف سے ان لاکھوں سیاہ فاموں کی خیریت پوچھ رہا تھا جنہیں غلاموں کے جہازوں میں بھر کر سمندر پار لے جایا گیا تھا۔ اب ترجمے کی ضرورت پیش آئی۔ ’’ہمارے بزرگوں نے بتایا ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ امریکہ نامی جگہ۔۔۔ اور دوسری بہت سی جگہوں پر۔ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔‘‘

بوڑھا میرے سامنے بیٹھ گیا اور باقی لوگ اس کے عقب میں جمع ہوگئے اور قبیلہ کِنتے کی تاریخ پڑھنے لگا جو صدیوں کا سفر کرتی نسلاً بعد نسلٍ اس تک پہنچی تھی۔ یہ محض گفت گو نہیں تھی بل کہ لگتا تھا جیسے اس کے سامنے کوئی طومار کھلا ہے جس سے پڑھ کر وہ سنا رہا تھا۔ ساکن اور خاموش دیہاتیوں کے لیے یہ ایک سنجیدہ تقریب تھی۔ میراثی ذرا آگے جھک کر بول رہا تھا۔ اس کا جسم سخت تھا گردن کی رگیں پھولی ہوئی تھیں۔ اس کے الفاظ ٹھوس محسوس ہو رہے تھے۔ ایک دو جملے بول کر وہ چپ ہو جاتا اور مترجم کا ترجمہ سننے لگتا۔ اس نے قبیلہ کِنتے کا شجرہ نصب کئی پشتوں تک سنایا جو کافی پیچیدہ تھا۔ کس کی شادی کس سے ہوئی، کس کے کتنے بچے ہوئے، پھر کس بچے کی شادی کس سے ہوئی اور پھر ان کی اولادیں۔ یہ سب بالکل ناقابل یقین تھا۔ میں نہ صرف تفصیلات سے بل کہ خطیبانہ انداز سے بھی متاثر ہوا۔ تاریخوں کا حساب رکھنے کے لیے وہ واقعات کی مدد لیتا تھا۔ مثلاً ’’بڑے پانیوں کے سال۔ یعنی سیلاب کے سال۔۔۔فلاں نے آبی بھینس ذبح کی۔‘‘ کیلنڈر کی تاریخ معلوم کرنے کے لیے آپ کو پتہ لگانا تھا کہ سیلاب کس سال آیا تھا۔

میں بات کو ذرا آسان کرتا ہوں۔ اس بوڑھے کے بقول قبیلہ کِنتے کا آغاز جس ملک سے ہوا اس کا نام پرانا مالی تھا۔ کِنتے مرد روایتاًلوہار تھے۔’’جنہوں نے آگ فتح کی تھی۔‘‘ جب کہ عورتیں بافندگی اور ظروف سازی میں ماہر تھیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ قبیلے کی ایک شاخ موریطانیہ ہجرت کر گئی۔ موریطانیہ سے اس قبیلے کا ایک بیٹا کیراباکنتا کِنتے جو مقدس شخصیت تھا اور مسلمان عقیدہ رکھتا تھا، سفر کرتا ہوا گیمبیا آگیا۔ پہلے وہ پکالی این دنگ نامی گائوں میں ٹھہرا، پھر جفارونگ گائوں گیا اور وہاں سے جفورے آگیا۔جفورے میں کیراباکنتا کِنتے نے ایک مندنکا لڑکی سے شادی کی جس کا نام سائی رنگ تھا۔ جس سے اس کے دو بیٹے جانح اور سلائوم ہوئے۔ پھر اس نے دوسری شادی یائی سا سے کی۔ جس سے اس کا بیٹا عمورو پیدا ہوا۔تینوں بیٹے جفورے میں ہی پیدا ہوئے اور وہیں بڑے ہوئے۔ پھر دونوں بڑے جانح اور سلائوم نے الگ گائوں کِنتے کنداہ جانح یا بسایا۔ چھوٹا عمورو تیس بارشوں/ سالوں، تک جفورے میں ہی رہا۔ پھر اس نے ایک مندنکا لڑکی بِنتا کیبا سے شادی کی لگ بھگ1750 تک ان کے چار بیٹے ہوئے جن کے نام بالترتیب، کنتا، لامین، سووادو اور مادی تھے۔بوڑھا میراثی تقریباً دو گھنٹے تک بولتا رہا۔ وہ ہر نام سے جڑی تفصیلات بھی بیان کر رہا تھا۔

جب بادشاہ کے سپاہی آئے… تو چاروں میں سے سب سے بڑا گائوں سے باہر لکڑیاں کاٹنے گیا ہوا تھا… وہ پھر کبھی دکھائی نہیں دیا…‘‘ اس کا بیان جاری رہا۔ میں پتھر کا بت بنا بیٹھا تھا۔ میری رگوں میں خون منجمد ہوگیا تھا۔ یہ بوڑھا جس کی ساری زندگی افریقہ کے اس پس ماندہ ملک میں گزری تھی یہ بات ہر گز نہیں جانتا تھا کہ اس کا سارا بیان اس کہانی کی بازگشت ہے جو میں سارا بچپن ہیننگ، ٹنے سی میں نانی جان کے پورچ پر سنتا آیا تھا۔میں نے اپنے تھیلے سے کاپی نکالی جس پر نانی جان کی بیان کردہ کہانی درج تھی اور مترجم کو دکھائی۔ اس نے چند سطریں پڑھیں تو حیرت زدہ رہ گیا اور فوراً میراثی کو دکھا کر جلدی جلدی کچھ کہنے لگا۔ وہ مضطرب ہوگیا اور کھڑا ہو کر میری کاپی دکھا کر لوگوں سے کچھ کہنے لگا جس پر وہ بھی مضطرب ہوگئے۔مجھے نہیں یاد کہ کسی نے انہیں حکم دیا تھا یا نہیں لیکن وہ ستر لوگ میرے گرد ایک بڑا سا انسانی دائرہ بنا کر گھڑی مخالف گردش کرنے لگے۔ وہ گھٹنے سینے تک اٹھا کر زور سے پائوں زمین پر مارتے جس سے سرخ مٹی کا غبار اڑتا۔

درجن بھر عورتوں سے ایک بے حد سیاہ فام عورت الگ ہوگئی۔ ان سب نے اپنے بچے کپڑے کے ساتھ کمروں پر باندھے ہوئے تھے۔ وہ عورت تیزی سے میری طرف بڑھی اور اپنا بچہ کھول کر میری گود میں ڈال دیا۔ جیسے کہہ رہی ہو۔‘‘ اسے لو!’’میں نے بچہ لے لیا پھر اس نے بچہ واپس لے لیا۔ اس کے بعد دوسری عورت نے یہ ہی کیا، پھر تیسری نے، پھر چوتھی نے… میں نے کوئی درجن بھر بچے گود میں لیے۔ اس رسم کا مجھے سال بھر بعد ھارورڈیو نیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر جیروم برنر نے بتایا کہ ’’یہ دنیا کی قدیم ترین رسموں میں سے ایک ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ گوشت پوست جو ہمارا ہے، اس کی نسبت سے ہم تم ہیں اور تم ہم ہو۔‘‘پھر جفورے کے لوگ بانسوں اور گھاس سے بنی مسجد میں مجھے لے گئے اور عربی زبان میں دعا کی۔ میں گھٹنوں کے بل بیٹھا سوچ رہا تھا کہ ’’اب جب مجھے پتہ چل گیا ہے کہ میں کہاں سے آیا تھا تو میں ان کا ایک لفظ بھی نہیں سمجھ سکتا۔ پھر انہوں نے مجھے اس دعا کا مطلب بتایا کہ ’’الحمدللہ، مدتوں کا بچھڑا ہوا اللہ کی مہربانی سے واپس آگیا ہے۔‘‘

چوں کہ میں دریائی راستے سے آیا تھا اس لیے خشکی کے راستے لوٹنا چاہتا تھا۔ چناں چہ مندنگو ڈرائیور کے ساتھ بیٹھے، ہچکولے کھاتی اور دھول اڑاتی گاڑی میں مجھے خیال آیا کہ کیا کوئی اور امریکی سیاہ فام بھی اتنی اچھی قسمت والا ہو سکتا ہے کہ چند سراغوں کی مدد سے وہ اپنا نسلی ماضی ڈھونڈ نکالے اور کوئی دانش مند بوڑھا میراثی اس کے قبیلے کا شجرہ بیان کر دے اور پھر وہ اصل گائوں بھی مل جائے۔میرے ذہن میں ایک فلم سی چلنے لگی کہ کس طرح اجتماعی طور پر ہمارے لاکھوں بزرگ غلام بنائے گئے اور ہزاروں کو انفرادی طور پر اغوا کیا گیا۔ جس طرح میرے جدامجد کَنتا کو کیا گیا تھا۔ لاکھوں لوگ رات کو گائوں پر حملہ ہونے کی وجہ سے ہڑبڑا کر اٹھتے تھے اور ہر طرف گائوں کو نگلتیں آگ کی لپٹیں دیکھتے تھے۔ بچنے والے گرفتاروں کو گلوں میں بیڑیاں ڈال کر جلوس کی شکل میں لے جایا جاتا جسے کوفل کہتے تھے اور جس کی لمبائی میل میل بھر لمبی ہوتی تھی۔ بہت سے راہ میں مر جاتے تھے اور جو مظالم کی تاب نہ لا کر کم زور ہو جاتے اور چل نہ پاتے انہیں مرنے کے لیے راہ میں پھینک دیا جاتا۔ بچ جانے والوں کو ساحل پر لے جا کر صاف کیا جاتا اور اکثر ان کے جسموں پر ملکیت کے حوالے سے دہکتے لوہے سے مخصوص نشان داغے جاتے۔ انہیں تازیانوںسے مارتے اور گھسیٹتے ہوئے کشتیوں کی طرف لے جایا جاتا۔ قیدی چیختے، تڑپتے اور ناخن زمین میں گاڑ کر رکنے کی کوشش کرتے، بعض مٹھی بھر مٹی منہ میں بھر لیتے۔ وہ مٹی جو ان کے وطن، ان کے دیس، ان کے گھر افریقہ کی تھی۔ انہیں مار مار کر جہازوں کے بدبودار تہہ خانوں میں بھرا جاتا۔ ان کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی کہ وہ کروٹ بھی نہیں بدل سکتے تھے۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

یہ سب سوچ کر میرا دماغ گھومنے لگا۔ اتنے میں ہم ایک نسبتاً بڑے گائوں میں پہنچ گئے۔مجھے اندازہ ہوا کہ جو کچھ جفورے میں ہوا تھا اس کی خبر یہا ...

مزید پڑھیں

میں جارج اور جولیئس گرمیوں میں نانی جان کے پاس ہنینگ چلے جاتے۔ لیکن نانا اور ماما کی وفات نے انہیں اداس اور دکھی کر دیا تھا۔ وہ فرنٹ پورچ ...

مزید پڑھیں

غزل کا ایک مفہوم اردو سے باتیں کرنا قرار دیا گیا ہے مردوں نے جی بھر کے غزلیں کہیں اور باتیں کیں لیکن جب خودنے اظہارکیا تو وہ کچھ اور کہانی ...

مزید پڑھیں