☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل خصوصی رپورٹ متفرق سنڈے سپیشل فیشن صحت شوبز ادب کچن کی دنیا غور و طلب افسانہ
’’میرے اندر ایک آہ سی ابھری اور ہونٹوں تک آگئی‘‘

’’میرے اندر ایک آہ سی ابھری اور ہونٹوں تک آگئی‘‘

تحریر : الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان

09-01-2019

یہ سب سوچ کر میرا دماغ گھومنے لگا۔ اتنے میں ہم ایک نسبتاً بڑے گائوں میں پہنچ گئے۔مجھے اندازہ ہوا کہ جو کچھ جفورے میں ہوا تھا اس کی خبر یہاں پہنچ چکی تھی۔ گائوں کے لوگ باہر سڑک پر جمع تھے۔

وہ اپنی زبان میں کچھ کہتے ہوئے ہاتھ ہلا رہے تھے۔ میں نے گاڑی میں اٹھ کر انہیں ہاتھ ہلایا اور انہوں نے گاڑی کو راستہ دے دیا۔ میں تیسرے گائوں کے قریب تھا کہ اچانک مجھے سمجھ آیا کہ وہ کیا کہہ رہے تھے۔ بوڑھے، جوان، عورتیں اور کالے بھجنگ ننگے بچے، وہ سب ہاتھ ہلا کر، بے حد خوشی اور جوش سے کہہ رہے تھے ’’می سٹر(مسٹر) کِنتے! می سٹر کِنتے!‘‘

 

میں بھی ایک انسان ہوں۔ میرے اندر ایک آہ سی ابھری اور ہونٹوں تک آگئی۔ اگلے ہی لمحے میں چہرہ ہاتھوں میں چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔ ’’می سٹر کِنتے!‘‘ میرا رونا اور ان غیر انسانی مظالم کے لیے تھا جو میرے لوگوں پر توڑے گئے۔ انسانی تاریخ کا بدنما ترین داغ۔ڈاکار سے گھر آتے ہوئے میں نے کتاب لکھنے کا فیصلہ کیا۔ میرے اجداد کی کہانی خود بخود تمام افریقیوں کا رزمیہ (Saga) بن جائے گی۔ وہ سب جو بلااستثناء افریقہ کی سرزمین پر جنم لینے والے کسی کَنتا کی اولاد تھے، جو جہاز میں بھر کر لائے گئے ۔ کسی زرعی رقبے پر غلام بن کر رہے اور آزادی کی جدوجہد کرتا رہے۔نیویارک پہنچ کر علم ہوا کہ ہماری تراسی سالہ کزن جارجیا، کینسس سٹی ہاسپٹل میں وفات پا گئی ہے۔ بعد میں میں نے حساب لگایا تو علم ہوا کہ وہ عین اس لمحے فوت ہوئی تھی جب میں جفورے گائوں میں داخل ہوا تھا۔ وہ نانی کے پورچ پر کہانی سنانے والی عورتوں میں سب سے آخری تھی۔ غالباً اس کی ذمہ داری تھی کہ مجھے افریقہ تک پہنچائے، پھر وہ بھی اوپر سے مجھے دیکھنے والوں سے جا ملی تھی۔ دراصل میرے بچپن میں بار بار سنائی گئی کہانی نے یہ کتاب لکھوائی ہے۔ دادی جان نے اسے میرے ذہن میں راسخ کیا اور پھر یو ایس کوسٹ گارڈ کی نوکری میں مجھے لکھنے کی مشق کرنے کا موقع ملا۔ چوں کہ مجھے سمندر سے محبت ہے اس لیے میری ابتدائی کہانیاں بھی یو ایس کوسٹ گارڈ کے آرکائیوز کے ریکارڈ سے اخذ شدہ تھیں۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میری ٹائم کی یہ تحقیق آگے چل کر میرے کام آنے والی ہے۔

نانی اور دوسری عورتیں ہمیشہ کہتی تھیں کہ ایک جہاز اس افریقی کو ’’ناپلس‘‘ لایا تھا۔ مجھے علم تھا کہ وہ ’’اینا پولِس، میری لینڈ‘‘ کا ذکر کرتی تھیں۔ میں نے سوچا کہ کیا اس جہاز کو ڈھونڈا جا سکتا ہے جو انسانی کارگو لے کر، جس میں وہ افریقی بھی تھا جو کِنتے کہلوانے پر اصرار کرتا تھا، گیمبیا سے اینا پولِس لایا تھا۔اپنی تحقیق کے لیے مجھے مخصوص وقت کے تعین کی ضرورت تھی۔ کئی ماہ پہلے جفورے میں بوڑھے میراثی نے کہا تھا’’وہ وقت جب بادشاہ کے سپاہی آئے تھے۔‘‘

لندن پہنچ کر 1760ء کے دوران برطانوی ملٹری یونٹس کی آمدورفت کا ریکارڈ چھان کر علم ہوا کہ ’’بادشاہ کے سپاہی‘‘ سے مراد ’’کرنل اوھیئر کی فورسز‘‘ تھیں۔ اس یونٹ کو 1767 میں دریائے گیمبیا پر واقع جیمز سلیو فورٹ(James Slave Fort) کی حفاظت کے لیے لندن سے بھیجا گیا تھا۔ میراثی کی بات بالکل درست تھی اور میں محض اس کی پیروی کر رہا تھا۔میں لائڈز آف لندن میں مسٹر آر۔ سی۔ ای۔ لینڈرز کے دفتر پہنچا اور اپنا مدعا بیان کیا۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا اور بولا ’’نوجوان! لائڈز آف لندن تمہیں ہر وہ سہولت مہیا کرے گا جو ممکن ہوگی۔‘‘ یہ ایک طرح سے اللہ کی رحمت تھی کیوں کہ اسی کے توسط سے مجھے پرانے انگلش میری ٹائم ریکارڈ کو کھنگالنے کا موقع ملا۔اس سے زیادہ تھکا دینے والا، مایوس کن اور اذیت ناک تجربہ مجھے کبھی نہیں ہوا تھا کہ ایک نہ ختم ہونے والی کھوج سے غلاموں سے بھرے کسی خاص جہاز کے خاص سفر کا پتہ لگائوں۔ انگلینڈ، افریقہ اور امریکہ کی تکون کے درمیان سفر کرنے والے ہزاروں جہازوں کے ریکارڈ پر مبنی ڈبوں کے ڈبے، فائلوں کی فائلیں تھیں۔ میں جوں جوں ریکارڈ رکھنگالتا میرا خون کھولتا کہ کس طرح غلاموں کی تجارت کو اس دور میں محض ایک صنعت سمجھ لیا گیا جیسے آج کل مویشیوں کی خریدوفروخت کو سمجھا جاتا ہے۔ بعض فائلیں ایسی تھیں جنہیں دوبارہ کبھی نہیں کھولا گیا تھا۔

 مجھے گیمبیا سے اینا پولس جانے والے کسی جہاز کا سراغ نہیں ملا۔ ساتویں ہفتے، سہ پہر کے تقریباً اڑھائی بجے غلاموں کے جہاز کے ریکارڈ کی ایک ہزار تئیسویں شیٹ پڑھ رہا تھا۔ اس میں1766ء سے 1767ء کے دوران دریائے گیمبیا میں داخل اور خارج ہونے والے تیس جہازوں کا ریکارڈ تھا۔ میری نظر اٹھارہ نمبر اور اس سے متعلق معلومات پر گئی۔5 جولائی1767 ’’بادشاہ کے سپاہی آئے‘‘ والا سال۔ ایک ’’لارڈ لگونئیر‘‘ نامی جہاز، جس کا کپتان ٹامس ای ڈیویز تھا، دریائے گیمبیا سے اینا پولس روانہ ہوا تھا۔

جانے کیوں؟ لیکن ایک بار مجھے کچھ خاص احساس نہیں ہوا۔ میں نے آرام سے معلومات درج کیں، ریکارڈ لوٹایا اور باہر نکل آیا۔ موڑ پر ایک چھوٹا سا چائے خانہ تھا۔ میں نے چائے کا آرڈر دیا۔ چائے پیتے ہوئے اچانک مجھے خیال آیا کہ ممکن ہے یہ ہی جہاز کَنتا کِنتے کو لایا ہو!‘‘

 میں آج بھی چائے خانے کی مالکہ کا ممنون احسان ہوں۔ ٹیلی فون پر پین امیریکن سے میں نے اسی روز کی نیویارک کے نشست محفوظ کروائی۔ واپس ہوٹل جانے کا وقت نہیں تھا۔ میں نے ٹیکسی ڈرائیور سے ’’ہیتھرو ایئر پورٹ!‘‘ چلنے کو کہا۔ بے خوابی کے عالم میں اٹلانٹک عبور کرتے ہوئے میں واشنگٹن ڈی سی میں لائبریری آف کانگرس کی اس کتاب کا سوچ رہا تھا جسے میں نے دوبارہ پڑھنا تھا۔ اس کی ہلکی بھوری جلد تھی۔ جس پر گہرے بھورے الفاظ میں ’’شپنگ ان داپورٹ آف اینا پولس‘‘(Shipping in The Port of Anna polis) بائی۔ واہن ڈبلیو۔ برائون تحریر تھا۔نیویارک سے ایسٹرن ایئر لائن مجھے واشنگٹن لے گئی۔ ٹیکسی سے میں نے لائبریری پہنچ کر کتاب طلب کی اور لانے والے کے ہاتھ سے تقریباً جھپٹ کر ورق گردانی کرنے لگا… وہاں اس کا اندراج تھا۔ لارڈلگو نیئر کو اینا پولس کے کسٹم اہلکاران نے 29 ستمبر1767 کو کلیئر کیا تھا۔ کار کرائے پر لے کر میں اینا پولس پہنچا اور میری لینڈ ہال آف رکارڈز میں مسز فیب جیکب سن سے اکتوبر1767 کے پہلے ہفتے کے کسی اخبار کا ریکارڈ مانگا۔ اس نے میری لینڈ گیزٹ کا مائکرو فلم رول مجھے لا کر دیا۔ ابھی میں یکم اکتوبر کا اخبار ہی دیکھ رہا تھا کہ ایک عجیب اشتہار پر نظر پڑی۔ ’’تازہ تازہ درآمدہ! دریائے گیمبیا، افریقہ سے آئے کیپٹن ڈیویز کے جہاز لارڈلگونیئر میں برائے فروخت۔ اینا پولس میں، نقد رقم یا اچھے بل آف ایکسچینج کے ذریعے۔ اگلے بدھ7 ۔اکتوبر کے دن، منتخب صحت مند غلام۔ مذکورہ جہاز چھے سینٹ فی ٹن کے حساب سے تمباکو لندن لے کر جائے گا۔‘‘ اشتہار کے نیچے جان رڈ آئوٹ اور ڈینئیل کے دستخط تھے جو سینٹ تھوس۔ جینیفرکے رہنے والے تھے۔

29 ستمبر1967ء کو میں خود اینا پولس کے ساحل پر موجود تھا۔ لارڈ لگونیئر آج سے دو سو سال پہلے یہاں لنگر انداز ہوا تھا۔ سمندر کی بیکراں وسعتوں کو دیکھتے ہوئے، جن پر سفر کرتا میرا گریٹ، گریٹ، گریٹ، گریٹ، گریٹ نانا۔(اس کا ترجمہ ممکن نہیں تھا!مترجم) یہاں لایا گیا تھا میں ایک بار پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔1766-67ء میں قلعہ جیمز، دریائے گیمبیا میں جو دستاویزات مرتب کی گئیں ان کے مطابق لارڈلگونیئر پر ایک سو چالیس غلام تھے۔ ان میں سے کتنے زندہ بچے؟ میں دوبارہ میری لینڈ ہال آف رکارڈز پہنچا اور اینا پولس پہنچنے والے جہاز سے اترنے والے سامان کا ریکارڈ ڈھونڈنا شروع کیا۔ یہ پرانے رسم الخط میں لکھی ایک فہرست کی شکل میں ملا۔3265 ہاتھی دانت،3700 پائونڈ چھتوں کا موم،800 پائونڈ کپاس (پُھٹی)،32 اونس گیمبیا کا سونا اور 98 نیگرو۔‘‘ بیالیس یعنی ایک تہائی، افریقی غلاموں کا نقصان معمول کی بات تھی۔

مجھے محسوس ہوا کہ نانی جان، آنٹ لز، آنٹ پلس اور کزن جارجیا بھی اپنے انداز کی میراثی تھیں۔ میری کاپی میں صدیوں پرانی کہانی درج تھی کہ ہمارا افریقی ’’مالک جان والر‘‘کو بیچا گیا تھا۔ جس نے اسے ’’ٹوبی‘‘ نام دیا تھا۔ فرار کی چوتھی کوشش میں اس نے گرفتار کرنے والے کو پتھر سے زخمی کر دیا تھا۔ جس پر اس کا پائوں کاٹ دیا گیا۔ مالک جان کے بھائی، ڈاکٹر ولیم والر نے اس کی جان بچائی اور بھائی کی حرکت سے نالاں ہو کر اسے خرید لیا۔ کاش اس کا بھی دستاویزی ریکارڈ ہوتا!میں رچمنڈ ورجینیا پہنچا اور سپاٹ سلوینیا میں ستمبر 1767 میں لکھی جانے والی قانونی دستاویزات کا ریکارڈ، ڈھونڈنے لگا جو مائکرو فلم کی شکل میں موجود تھا۔ آخر 5 ستمبر1768 کے اندراج میں ایک طویل دستاویز ملی جس کے مطابق جان والر اور اس کی بیوی این نے ولیم والر کو زمین اور اشیاء منتقل کی تھیں۔240 ایکڑ زرعی اراضی تھی… اور پھر دوسرے صفحے پر تحریر تھا کہ ’’اور ایک نیگر و مرد غلام بھی جس کا نام ٹوبی ہے۔‘‘

میرے خدایا!

بارہ سال کی جستجو میں میں نے کوئی آدھ ملین میل سفر کیا ہوگا۔ تلاش، چھان پھٹک، تصدیق، مزید تصدیق، مزید تلاش ان لوگوں کے متعلق جن کی زبانی بیان کردہ تاریخ نہ صرف صحیح نکلی بل کہ سمندر کے دونوں کناروں سے جڑی ہوئی بھی تھی۔ آخر میں نے تلاش کا کام روک کر خود کو یہ کتاب لکھنے پر آمادہ کیا۔ کَنتا کا لڑکپن اور نوجوانی لکھنے میں مجھے بہت وقت لگا۔ اس سے اچھی طرح مانوس ہو جانے پرمجھے اس کی گرفتاری کی اذیت سے گزرنا پڑا اور جب اس کی یا تمام غلام جہازوں کی بپتا لکھنے کا وقت آیا تو میں پھر افریقہ گیا تاکہ کسی ایسے کارگو جہاز پر سفر کی اجازت حاصل کر سکوں جو سیاہ افریقہ سے براہ راست امریکہ جاتا ہو۔ وہ جہاز فیرل لائنز کا افریقن سٹار تھا۔ سفر شروع کرنے کے بعد میں نے انہیں اپنا اصل مقصد بتایا کہ میں اپنے جدامجد کے سمندر پار جانے کی کہانی لکھنا چاہتا ہوں۔ ہر رات کھانے کے بعد آہنی سیڑھی کے ذریعے گہرے، بالکل اندھیرے اور ٹھنڈے گودام میں اتر جاتا۔ کسی تختے پر چت لیٹ جاتا۔ پوری دس راتیں میں نے ایسا ہی کیا۔ میں سوچتا کہ کَنتا کِنتے کیا دیکھتا، سنتا، محسوس کرتا، سونگھتا اور چکھتا ہوگا اور سب سے اہم یہ کہ وہ کیا سوچتا ہوگا؟

ظاہر ہے میرا سفر تو کَنتا اور اس کے ہم سفروں کے مقابلے میں بے حد آرام دہ تھا، جو زنجیروں اور بیڑیوں میں بندھے، اپنی غلاظت اور فضلے میں لتھڑے اسّی سے نوے دن تک اس عذاب سے گزرے تھے اور جس کے اختتام پر ان کے لیے مزید ذہنی اور جسمانی تکلیفیں منتظر تھیں۔ بہرحال میں نے سمندری سفر والا حصہ بھی لکھ لیا۔ آخر میں اپنی ساتوں نسلوں کو باہم جوڑنے میں کامیاب ہوگیا جو کتابی شکل میں آپ کے ہاتھ میں ہے۔ دوران تحریر میں نے کئی بار سامعین کو ’’اساس‘‘ لکھنے کی وجہ بتائی ہے۔ پھر بھی کبھی نہ کبھی، کوئی نہ کوئی پوچھ ہی لیتا ہے کہ ’’اساس کتنی حقیقت اور کتنی افسانہ ہے؟‘‘ میرے علم اور میری محنت کے مطابق خاندانی پس منظر کے حوالے سے ہر بات میرے افریقی یا امریکی خاندان میں محفوظ زبانی تاریخ سے لی گئی ہے۔ جس میں سے زیادہ تر کی میں نے دستاویزات سے تصدیق کی ہے۔ رہن سہن، ثقافتی تاریخ اور وہ سب تفصیلات جو اساس کا گوشت پوست ہیں میری پچاس لائبریریوں، آرکائیوز اور دیگر ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کا نتیجہ ہیں جو تین براعظموں پر پھیلے ہوئے تھیں۔

چوں کہ واقعات وقوع پذیر ہوتے وقت میں وہاں موجود نہیں تھا لہٰذا زیادہ تر مکالمے اور جزوی واقعات میری معلومات اور تخیل کا حاصل ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ اوپر سے مجھے دیکھنے والوں میں نانی جان، کزن جارجیا اور دوسری خواتین ہی نہیں ہے بلکہ اب ان میں کَنتا اور بیل، کزی، چکن جارج اور مٹلڈا، ٹام اور آئرین، نانا ول پامر، برتھا، ماما اور اب حال ہی میں فوت ہونے والے ڈیڈ بھی شامل ہو چکے ہیں۔ان کی عمر تراسی برس تھی۔ ان کی وفات پر ان کے بچوں یعنی جارج، جولیئس، لوئس اور میں نے، باتیں کرتے ہوئے کہا کہ ڈیڈ ایک اچھی اور بھرپور زندگی گزار کر فوت ہوئے ہیں۔ وہ بغیر کوئی تکلیف اٹھائے ایک دم ہی چلے گئے۔ ہمیں پتہ تھا کہ وہ ہمارا رونا دھونا پسند نہیں کرتے تھے۔ اس لیے ہم نے اس سے مکمل گریز کیا۔

مختصر سی رسومات کے بعد ان کا پسندیدہ نغمہ گایا گیا۔ ان کے جنازے پر جارج نے بتایا کہ ڈیڈ جہاں بھی پڑھا رہے ہوتے، ہمارے گھر میں کوئی نہ کوئی ایسا نوجوان ضرور رہائش پذیر ہوتا جس کا دیہاتی باپ اس کی کالج کی تعلیم کا خرچ نہ اٹھا سکتا تھا۔ جارج نے بتایا کہ پورے جنوب میں لگ بھگ اٹھارہ زراعتی نمائندے، ہائی سکول پرنسپلز اور اساتذہ ایسے تھے جو فخر سے خود کو ’’پروفیسر ہیلی کا شاگرد‘‘ کہتے تھے۔جارج نے یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایک بار ایلاباما میں ناشتے پر ڈیڈ نے کہا ’’ لڑکو میرے ساتھ آئو۔ میں تمہیں ایک عظیم آدمی سے ملوانا چاہتا ہوں اور وہ ہمیں تین گھنٹے کی مسافت پر ٹس کیجی، ایلاباما لے گئے۔ جہاں ہم ایک پراسرار سی لیبارٹری میں چھوٹے قد اور کالے رنگ کے جنیئیس سائنس دان ڈاکٹر جارج واشنگٹن کارور سے ملے۔ انہوں نے ہمیں تعلیم میں محنت کرنے کی نصیحت کی اور ایک ایک پھول دیا۔ جارج نے بتایا کہ آخری عمر میں ڈیڈ کو اس بات کا رنج تھا کہ اب سالانہ خاندانی اکٹھ نہیں ہوتا۔ ان کی وفات نے یہ موقع مہیا کر دیا۔

جارج کے بعد میں اٹھا اور حاضرین سے کہا کہ سب سے بڑا بیٹا ہونے کے ناطے مجھے اور بھی پرانی باتیں یاد ہیں۔ مثلاً اپنے بچپن میں محبت کا پہلا احساس مجھے تب ہوا جب میں نے گرجا میں اپنی ماما کو ڈیڈ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے پیانو بجاتے دیکھا جو گیت شروع ہونے کا انتظار کر رہے ہوتے تھے۔ ایک اور یاد یہ ہے کہ حالات کتنے بھی خراب ہوتے مجھے ڈیڈ سے ایک ’’نکل‘‘ بل کہ کبھی کبھی ایک ڈائم بھی ضرور ملتا تھا۔ مجھے کرنا صرف یہ ہوتا تھا کہ انہیں تنہا پاتے ہی ان کے سر ہو جاتا کہ صرف ایک بار اور وہ واقعہ سنا دیں جب ان کی اے ای ایف 92 ڈویژن،366 انفنٹری، میوس آرگون فارسٹ میں لڑی تھی۔ ’’ہم بڑے جوش میں تھے بیٹے‘‘ڈیڈ کہتے۔ ان کے مجھے ڈائم دینے تک یہ بات واضح ہو چکی ہوتی تھی کہ جب بھی صورت حال سنجیدہ ہوتی جنرل بلیک جیک پرشنگ فوراً ہر کارہ بھیج کر سواناہ ٹنے سی کے سارجنٹ سائمن اے ہیلی (نمبر2816106) کو بلواتا۔ ادھر جرمن جاسوس فوراً یہ خبر اپنی اعلیٰ ترین کمانڈ کو پہنچا دیتے جس سے بذات خود قیصر بھی کانپ اٹھتا۔

لیکن مجھے محسوس ہوتا ہے ، میں نے لوگوں سے کہا، کہ ماما سے ملاقات کے علاوہ ہم سب کے لیے ان کی اہم ملاقات تب ہوئی جب ڈیڈ اے اینڈ ٹی کالج، گرینز بورو ٹرانسفر ہوئے۔ انہیں کالج سے نکالا جانے والا تھا۔’’کیوں کہ میں اتنی نوکریاں کرتا تھا کہ پڑھنے کا وقت ہی نہیں ملتا تھا۔‘‘ڈیڈ نے ہمیں بتایا۔ کالج چھوڑنے سے پہلے انہیں گرمیوں کے موسم میں پورٹر کی نوکری ملی۔ ایک بار بفالو سے پٹس برگ رات کی ٹرین پر کام کرتے ہوئے۔ رات دو بجے گھنٹی بجی۔ دو بے خواب گورے میاں بیوی کو گرم دودھ کا گلاس چاہیے تھا۔ ڈیڈ نے انہیں دودھ پہنچایا۔ ’’میں واپس جانے کو تھا لیکن آدمی ذرا باتونی تھا اور اسے حیرت ہوئی کہ میں کام کرکے تعلیم حاصل کر رہا ہوں۔ اس نے بہت سوال پوچھے اور پٹس برگ میں اترتے ہوئے بھاری ٹپ بھی دی۔‘‘ ڈیڈ نے بتایا۔ جب ایک ایک پیسہ بچا کر 1916ء میں ڈیڈ کالج واپس پہنچے تو کالج کے پریسی ڈنٹ نے انہیں ٹرین میں ملنے والے آدمی کے خطوط دکھائے وہ کرٹس پبلشنگ کمپنی کا ریٹائرڈ ایگزیکٹو آر۔ ایس۔ ایم بوئس تھا۔ جس نے ایک سال کے تعلیمی اخراجات پوچھ کر ڈیڈ کے نام چیک بھیجا تھا۔ڈیڈ نے بتایا کہ ’’یہ چیک 503.15 ڈالر کا تھا۔ جس میں تعلیم، رہائش، کھانے اور کتابوں کے اخراجات شامل تھے۔‘‘ انہوں نے اتنے نمبر حاصل کیے کہ بعد میں گریجویٹ سٹڈی کے لیے انہیں وظیفہ ملا جو اسی سال کورنل یونیورسٹی سکول آف ایگری کلچر نے نیگرو لینڈ۔ گرانٹ کالجز میں بہترین ایگری کلچرل طالب علم کو دینا شروع کیا تھا۔

اس طرح ہمارے والد نے، میں نے کورنل سے ماسٹر کی ڈگری لی اور پروفیسر بنے۔ اس طرح ہم، ان کے بچے اپنے اپنے مقام پر پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ جن میں میں مصنف ہوں، جارج یونائٹڈ سٹیٹس انفارمیشن ایجنسی میں اسٹنٹ ڈائریکٹر، جولیئس یو ایس نیوی ڈپارٹمنٹ میں آرکیٹکٹ اور لوئس موسیقی کا استاد ہے۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ آج اس طرح اپنے ڈیڈ کو الوداع کہہ رہے ہیں۔پھر ہم ڈیڈ کے جسد خاکی کو آرکنسس لے گئے جہاں دوسرا اجتماع ہوا جس میں ان کے پائنبلف کی اے ایم اینڈ این یونیورسٹی کے دوست اور دیگر لوگ شامل ہوئے یہاں بطور ڈین آف ایگری کلچر ڈیڈ نے معلمی کے چالیس سال مکمل کیے تھے۔ ہمیں اندازہ تھا کہ وہ اسے پسند کریں گے اس لیے ہم ان کے جسم کو گاڑی میں رکھ کر پورے کیمپس میں اور دوبار اس سڑک پر گھما کر لائے جس کا نام ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ’’ایس۔ اے۔ ہیلی ڈرائیو‘‘ رکھا گیا تھا۔

پائن بلف کے بعد ہم انہیں وہاں لے گئے جہاں وہ دفن ہونا چاہتے تھے۔ یعنی لٹل راک میں ویٹرنز قبرستان میں، جہاں سیکشن16 میں انہیں قبر نمبر1429 میں اتارا گیا۔ پھر ہم ان کی اولاد، کَنتا کِنتے کی ساتویں نسل ایک دوسرے سے چھپاتے ہوئے تیز قدموں سے پلٹ آئے کیوں کہ ہم نے عہد کیا تھا کہ ہم نہیں روئیں گے۔

 سو اب جب ڈیڈ بھی اوپر باقیوں سے جاملے ہیں، میں محسوس کرتا ہوں کہ وہ بھی ہمیں دیکھتے اور راہ نمائی کرتے ہوں گے اور یہ بھی محسوس کرتا ہوں کہ وہ اس خوش امیدی میں بھی میرے شریک ہوں گے کہ ہماری یہ کہانی اس تاثر کو کم کرنے میں معاون ہوگی کہ تاریخ ہمیشہ کام یاب و کامران لوگ لکھتے ہیں۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

انہوں نے مجھے ایسی بات بتائی جو میرے سان گمان میں بھی نہیں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اندرون ملک کے قدیم دیہاتوں میں اب بھی ایسے بوڑھے ہوتے ہی ...

مزید پڑھیں

میں جارج اور جولیئس گرمیوں میں نانی جان کے پاس ہنینگ چلے جاتے۔ لیکن نانا اور ماما کی وفات نے انہیں اداس اور دکھی کر دیا تھا۔ وہ فرنٹ پورچ ...

مزید پڑھیں

غزل کا ایک مفہوم اردو سے باتیں کرنا قرار دیا گیا ہے مردوں نے جی بھر کے غزلیں کہیں اور باتیں کیں لیکن جب خودنے اظہارکیا تو وہ کچھ اور کہانی ...

مزید پڑھیں