☰  
× صفحۂ اول (current) عید اسپیشل آزادی اسپیشل فیشن خصوصی رپورٹ سنڈے سپیشل متفرق ادب
کتنا پیارا ہے پاکستان ۔۔۔۔ دس دلچسپ حقائق

کتنا پیارا ہے پاکستان ۔۔۔۔ دس دلچسپ حقائق

تحریر : محمد ندیم بھٹی

08-11-2019

14اگست کو ہم اپنا 73واںیوم آزادی منا رہے ہیں، کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کے نقشے پر ابھرنے والے اس ملک کی دنیا میں کنٹری بیوشن کیا ہے؟ پاکستان نے قائم ہونے کے بعدمختصر سے عرصے میں جتنی ترقی کی اس کی مثال نہیں ملتی۔ کچھ اللہ کی رحمت ہے جس نے قدرتی طور پر ہمیں خطے میںایساجغرافیائی مقا م عطا کیا ہے کہ ہم سے نظریں چرانے والے ممالک بھی آخر میں ہماری ہی مدد مانگتے ہیں۔

وہ اپنی ذمہ اریاں ہم پر ڈال کراپنا راستہ بدلنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔قیام کے بعد ہم نے کئی صنعتی اور زرعی شعبوں میں لازوال ترقی کی ،میدان سیاست میں بھی ایسے کام کئے جو دنیا کے لئے ایک مثال اور رہنما اصول ہیں۔جن کا ذکر عالمی ادارے بھی ضرور کرتے ہیں۔ آج ہم آپ کو اس پیارے ملک کی بہت سی خوبیوں میں سے دس سے روشناس کراتے ہیں ۔ایک غیر ملکی جریدے نے پاکستان کی دس خوبیوں پر ایک مضمون لکھا ہے اسی کومد نظر رکھتے ہوئے ہم دنیا میں مانی جانے والی دس باتوں کا ذکر کرتے ہیں۔

 

لفظ پاکستان کی خاصیت

جریدے ’’نیوز آف دی ورلڈ‘‘نے پاکستان کے لفظ کو خاص اہمیت دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میںکسی ملک کا نام دوزبانوں سے مل کر نہیں بنا ۔ لفظ’’ پاکستان ‘‘کا آدھا حصہ یعنی ’’پاک ‘‘فارسی زبان میں مقدس کے لئے مستعمل ہے جبکہ ’’استان‘‘ مقامی زبان میں استعمال ہونے والے لفظ ’’استھان ‘‘( رہنے کی جگہ )سے لیا گیا ہے۔ پاکستان مقدس لوگوں کا گھر کہلایا۔غیر ملکی جریدے نے اس اہمیت اور حیثیت کو قبول کیا ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے اس مقام کے مطابق کام کریں۔

فٹ بال کا گھر

اگر آپ فٹ بال کے شوقین ہیں تو یہ بھی جانتے ہوں گے کہ فٹ بال دنیا میں سب سے زیادہ کھیلا جانے والا کھیل ہے۔دو سو ممالک میں ڈھائی کروڑ کھلاڑی فٹ بال کے میچوں میں حصہ لیتے ہیں۔ دنیامیں سب سے زیادہ کھیلاجانے والے اس کھیل کے لئے 40فیصد فٹ بالز پاکستانی شہر سیالکوٹ میں بنائے جاتے ہیں۔عالمی تجارت میںباقی کسی بھی ملک سے زیادہ حصہ ہمارے اس چھوٹے سے شہر کا ہے۔جہاں اب جدید ترین انداز میں بغیر سلائی کے گیندیں بنائی جا رہی ہیں ۔ جدید ٹیکنالوجی میں بھی یہی شہرہی قیادت کر رہا ہے۔عالمی محققین نے کئی مضامین میں سیالکوٹ میں بننے والے فٹ بالوں کی خوبیوں کو اجاگر کیا ہے۔بلکہ یونیورسٹی آف ویلز کی ایک ٹیم ہمارے فٹ بالز پر تحقیق بھی شائع کر چکی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ کی جانب سے یہ عالمی مقام حاصل کرنا بھی ایک معجزہ ہے۔ جس میں پاکستانیوں کی مہارت اور محنت دکھائی دیتی ہے۔ انگریز تو تھے ہی فٹ بال کے شوقین مگر انڈیا میں رہنے والے انگریزوں کے لئے فٹ بال برطانیہ سے بذریعہ سمندر ی جہازبھیجے جاتے تھے ۔جو کبھی کبھی لیٹ بھی ہو جاتے۔ تب انگریز فٹ بالز کے بغیر ایسامحسوس کرتے جیسے پانی کے بغیر مچھلی۔ یہ 1889ء کا واقعہ ہے،بحری جہاز لیٹ ہوگیا۔ بے صبرے گورے نے اپنا پھٹا ہوا گیند سیالکوٹی کو تھماتے ہوئے اسے پنکچر لگانے کو کہا۔گورے کو یہ جان کر حیرت کی انتہانہ رہی کہ مرمت اصل سے بہتر تھی۔چنانچہ اس نے وقت اور پیسہ بچانے کی خاطر سیالکوٹی کو ہی مزید گیندیں بنانے کا آرڈر دے دیا۔یہیں سے سیالکوٹیوں کا ہنر کھل کر سامنے آ گیا۔ بعدازاں فٹ بال لندن سے یہاں آنے کی بجائے یہاںسے لندن جانے لگے۔وہ وقت اور آج کا دن ، سیالکو ٹ نے سبقت نہیں چھوڑی ۔ اس کا کوئی مقابلہ نہیں۔1992میں ہمارے ہی فٹ بال ورلڈ کپ میچوں میں استعمال ہوئے تھے۔ سیالکوٹ میں ایک سوسے زائد اچھی فرمیں اعلیٰ قسم کی گیندیں بنا رہی تھیں ۔تاہم اب ہمیں عالمی منڈیوں میںچین اور جنوبی ایشیائی ممالک سے مسابقت کا سامنا ہے۔نئی ٹیکنالوجی آنے کے بعد پہلے مرحلے میںصرف 35کمپنیوں نے اس میعار کے مطابق کام کیاتھا ،بعدازاں حکومتوں کی مدد سے نئی ٹیکنالوجی میں سب ہی رواں ہو گئے۔جس سے ان کے منافع میں بھی اضافہ ہو گیا۔

دنیا کا سب سے بڑا نظام آبپاشی

اقوام متحدہ کے مطابق دنیا کا سب سے بڑا انسان کا تیار کردہ نظام آبپاشی پاکستان میں ہی قائم ہے اور یہ ہماری اپنی محنت کا نتیجہ ہے۔انڈس بیسن اری گیشن سسٹم تین بڑے ڈیمز،آٹھ چھوٹے ڈیمز 19 بیراجوں، بارہ انٹرلنک نہروں،اور 45کینال کمانڈز ایریاز پر مشتمل ہے۔ سات لاکھ ٹیوب ویلزاس کے علاوہ ہیں ۔اس نہری نظام کی مدد سے دریائے سندھ کے پانی میں سے104ایم اے ایف اپنی کا رخ موڑ دیا گیا ہے۔تاہم بار بار ترامیم کے بعد پنجاب کو مہیا ہونے والے پانی کی مقدار کافی کم ہو گئی ہے۔پنجاب کے تین دریا انڈیا کو دینے کے بعد نئے نظام آبپاشی کی ضرورت تھی ۔ انسان نے ذہنی اور تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانی کی فراہمی کا تین دریائوں کے متبادل نظام قائم کیا۔آج اس نظام کی قیمت 300ارب ڈالر ہوگی ۔

دنیا کی سب سے اونچی سڑک

قراقرم ہائی وے دنیا کی سب سے اونچی سڑک ہے۔پہاڑوں کا سینہ چاک کر کے مختلف ممالک نے راستے تو بہت بنائے ہوں گے مگرساڑھے تیرہ ہزار فٹ کی بلندی پر (یہ سب سے زیادہ اونچائی ہے )13سو کلومیٹر لمبی سڑک بنانے کا اعزاز ہمارے سوا کسی کو حاصل نہیں ہوا۔ پاکستان ہی وہ ملک ہے جس نے جانوں کی قربانیاں دے اکر اتنی بلندی پر چین کو ملانے والی سب سے اونچی سڑک بنائی۔پاک چین دوستی کا ایک نادر نمونہ ہونے کے باعث اسے شاہراہ دوستی بھی کہتے ہیں ۔قراقرم ہائی وہے کا آغاز سرکاری طور پر راولپنڈی سے ہوتا ہے، جبکہ بلند ترین مقام گلگت میں واقع ہے۔وادی ہنزہ میںکئی مقامات پر دلوں کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔کہیں کہیں رکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے!پہاڑوں کے سینے پر، بیچوں بیچ بل کھاتی قراقرم ہائی وے کاسفربڑا ہی ناقابل فراموش اور دل کش ہوتا ہے۔برف میں ڈھکی ہوئی پہاڑی چوٹیاں علاقائی حسن کی رکھوالی ہیں۔گلگت سے دو تین گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد آپ کریم آبادکے جاذب نظر مقام پہنچ جائیں گے۔ یہاںلازوال اور دل کو موہ لینے والی خوبصورتی آپ کی منتظر ہو گی۔اس مقام پر دو چار گھنٹے بھی کم ہوں گے۔ یہاں سے آپ پوری وادی کا منظر دیکھ سکتے ہیں، گلگت شہر کا منظر دیکھ سکتے ہیں۔عطا آباد جھیل کبھی قدرت کا ایک انمول نمونہ ہے۔ 

دنیا کے بلند پہاڑ

دنیا کے بلند ترین پہاڑوں میں سے کچھ پاکستان میں بھی زمین پر سینہ تانے کھڑے ہیں۔دنیا کی دوسری سب سے اونچی چوٹی کے کئی نام ہیں۔مقامی باشندے اسے (Dapsang) یا(Chogori) بھی کہتے ہیں۔انگریزی زبان میں (Mount Godwin-Austen) اور چینی زبان میں اسے (Qogir Fengin) کہا جاتا ہے۔زیادہ تر لوگ اسے کے ٹو کہہ کر ہی کام چلا لیتے ہیں۔

چھ اہم عالمی ثقافتی ورثے

پاکستان چھ عالمی سطح کے ثقافتی ورثوں کا بھی امین ہے،ہم امانت دار ہیں اور اہم ان کی حفاظت کر رہے ہیں۔ان میںموہنجو داڑو،تخت بائی میں بدھ مت کی آثار،شہر بہلول،لاہور قلعہ اور شالیمار گارڈن،قلعہ روہتاس، مکلی اور ٹیکسلاکے آثار۔

وادی سندھ دنیا کی تین قدیم ترین تہذیبوں کا گھر ہے۔ یہ تہذیب کم و بیش تیسری صدی قبل از مسیح پرانی ہے۔آثار کی تحقیق سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ میٹر وپولس تہذیب کاآغاز لگ بھگ ڈیڑھ سو سے ڈھائی سو برس قبل از مسیح میں ہو گیا تھا۔کراچی 510 کلومیٹر شمال مشرق میںاور لاڑکانہ سے 28کلومیٹر کے فاصلے پر قدیم عالمی تہذیب کا سب سے اہم مرکز واقع ہے۔یہاں آثار کی دریافت 1922میں شروع ہوئی تھی۔جب ماہرین نے موہنجو داڑو میں رہائشی سہولتوں کے آثار دیکھ کر یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ مر کھپ جانے والی قوم فنون لطیفہ کی شوقین اور انتظامی صلاحیتوں کے مالک تھی۔انہوں نے ڈرینج سسٹم اور تعلیمی ڈھانچہ بھی بنایا۔پبلک کے لئے خصوصی باتھ رومز بھی بنائے۔آثار ان کے رہن سہن کے بارے میں اعلیٰ ذوق کی عکاسی کرتے ہیں۔اس ناپید تہذیب کے باشندے کئی ہزار برس قبل پکی اینٹ کا استعمال کر چکے تھے۔ جبکہ ہمارے متعدد دیہات میںآج بھی کچی مٹی سے گھر بنا رہے ہیں۔ 

مکلی کا شہر خموشاں 

مکلی کے شہر خموشاں کو بھی عالمی حیثیت حاصل ہے۔ٹھٹھہ شہر سے چھ کلومیٹر کے فاصلے پر دس مربع میل میںکم و پیش پانچ لاکھ قبریں ہوں گی۔جن میںصوفیوں،حکمرانوں اور امراء کی آخری آرام گاہیں بھی شامل ہیں۔’’مکلی ‘‘ کے نام کے بارے میں کئی روایات بیان کی جاتی ہیں۔ ایک روایت حضرت شیخ حماد جمالی سے منسوب ہے۔ صوفیوں کا مسکن ہونے کے ناطے شیخ حماد نے اسے مکلی یعنی ’’منی مکہ‘‘کا نام دے دیا تھا جو اب تک مستعمل ہے ۔اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے اسے1981میں عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا تھا۔ 

اسلامی ممالک میں پہلی خاتون وزیر اعظم

بے نظیر بھٹو کو عالمی طور پر یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ و ہ کسی بھی اسلامی ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں۔ کئی جمہوری ممالک بھی کسی خاتون کو سربراہ حکومت نہیں چن سکے جن میں امریکہ بھی شامل ہے۔ امریکہ میں صدارت کی دوڑ میںہیلری کلنٹن آخری وقت میں مرد کے سامنے ہارگئیں۔ ان کی شکست میں عورت ہونا بھی شامل تھا۔ ہمارے ہاں ایک عورت کو دو مرتبہ وزیر اعظم بننے کا موقع دیا گیا۔ یہ بہت سے جمہوری ممالک میں بھی ایک الگ ہی بات ہے۔ 

علوی برادرز:پاکستانی بل گیٹس

بل گیٹس کے پاس دولت بے شمار ہے جس کا کوئی حساب نہیں۔ لیکن کمپیوٹر میں مہارت کا دوسرا نام علوی برادرز ہے۔ کمپیوٹر اور بل گیٹس لازم اور ملزوم ہیں۔ دونوں کوایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا لیکن بہت کم لوگ ہی جانتے ہیں کہ بل گیٹس کو بل گیٹس بنانے میں پاکستانیوں کا بھی ہاتھ ہے۔ آپ کو 1990کی پوری دہائی میں ’’کریش ٹو کے‘‘کا چرچا تو سنا ہی ہوگا۔ دنیا خائف تھی کہ صدی کے بدلتے ہی دنیا کے سبھی کمپیوٹر کریش کر جائیں گے کیونکہ ان میں2000کا لفظ کہیں بھی موجود نہیں لہٰذا تمام ڈیٹا بینک ختم کا ہو جائیں گے۔ اس وقت پاکستانی ہی آگے آئے تھے جنہوں نے تمام ڈیٹاے کو اپ ڈیٹ کر کے کمپپوٹروں کو کریش ہونے سے بچا لیا تھا۔آپ سوچتے ہوں گے کہ اس میں بل گیٹس کا نام کہاں سے آ گیا۔آپ یہ تو جانتے ہی ہیں کہ کمپیوٹر کو سب سے زیادہ نقصان ذہنی پراپرٹی کے حقوق کی خلاف ورزی نے پہنچایا ۔ بڑے پیمانے پر ونڈوز چوری ہوئیں۔ دو نمبر ونڈوز سلیکون ویلی میں جاری بزنس کے لئے خطرہ بن گئیں۔اسی حوالے سے حال ہی میں امریکی جریدے ’’نیوز آف دی ورلڈ‘‘ نے اپنی تازہ اشاعت میں پاکستان کو یہ کریڈٹ دیا ہے کہ اس نے کمپیوٹر سسٹم کو بچانے والا دنیا کا پہلا وائرس’’برین‘‘ تیار کیاجسے ’’پاکستانی برین‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔نیوز آف دی ورلڈ کے مطابق یہ وائرس دو پاکستانی سگے بھائیوںباسط فاروق علوی اور امجد فاروق علوی نے تیار کیا تھا۔ وائرس کے کوڈ میں بھائیوں کا نام ، پتہ او ر فون نمبرز بھی شامل تھے۔اس وائرس نے 1986ء میں پی سی پلیٹ فارمز کا نشانہ بنا نا شروع کیا تھا۔علوی برادرز خود بھی لاہور میں ایک سٹور کے مالک تھے۔ پایئریسی نے ان کے بزنس کوبہت نقصان پہنچایا ۔ اس کا قلع قمع کرنا ضروری تھا۔چنانچہ ان کے تیار کردہ وائرس نے صرف چوری شدہ سسٹمز کو ناکارہ بنایا۔انہوں با لکل بھی توقع نہ تھی کہ انہیں پہلی فون کال امریکہ سے آئے گی!! مزید وضاحت ’’Welivesecurtity‘‘ نے کی ہے۔اس کی رپورٹ کے مطابق اس وائرس نے آئی بی ایم کے تیار کردہ چوری شدہ ونڈوز کو خراب کرنا شروع کر دیا تھا۔ بعد ازاں یہ ایم ایس ڈاٹ آپریٹنگ سسٹم میں بھی داخل ہو کر اسے ناکارہ بنانے لگا تھا۔ وائرس نے فلاپی کے ڈسک سسٹم کو بھی خراب کیا ۔ اسی لئے اسے ’’اچھا ‘‘وائرس کہا جاتا ہے۔ اس نے کمپیوٹروں کے دوو نمبر سسٹم کو خراب کر کے پراپرٹی رائٹس کا دفاع کیا تھا۔ 2011ء میں کمپیوٹر سکیورٹی کے ماہرمکوہائیپونن(Mikko Hypponen)نے ان بھائیوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ’’ان کا تیار کردہ وائرس صرف دو نمبر سسٹمز کے لئے نقصان دہ تھا‘‘۔بھائیوں کے مطابق وائرس نے کسی بھی سسٹم کے ڈیٹا کو کبھی کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔بلکہ اس کا مقصد یہ بھی تھا کہ اگر کمپیوٹر میں کوئی بھی وائرس داخل ہوچکا ہے تو’’ویکسی نیشن ‘‘ کے لئے وہ بھائیوں سے رجوع کر سکتے ہیں۔ 

دو نوبل انعام یافتہ سائنسدان

نیوز آف د ورلڈ کے مطابق پاکستان ایشیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں فزکس اور سماجی شعبے میں دو نوبل انعام یافتہ شخصیات موجود تھیں۔جنہوں نے مقامی تعلیمی اداروںمیں تربیت پائی۔1967ء میں تھیوروٹیکل فزکس کے ماہرڈاکٹر عبدالسلام نے الیکٹرویک یونی فیکیشن میں نوبل انعام حاصل کیا۔ملالہ یوسف زئی کو بچیوں کی تعلیم میں خدمات سرانجام دینے پر 2014ء میں نوبل انعام سے نوازہ گیا۔ یہ اعزاز بھی پاکستان کو ہی حاصل ہے کہ ملالہ یوسف زئی دنیا کی کم عمر ترین نوبل انعام یافتہ سماجی کارکن ہیں۔

دنیا کا سب سے اونچا اے ٹی ایم

نیشنل بینک آف پاکستان نے گلگت بلتستان کے علاقے خنجراب میں 15399فٹ کی بلندی پر اے ٹی ایم لگا کر جہاں سیاحوں کے لئے سہولت مہیا کی ہے وہیں ایک عالمی ریکارڈ بھی بنا دیا ہے۔دنیا کی کوئی طاقت اتنی بلندی پر یہ جدید نظام قائم نہیں کر سکی۔

 

 

مزید پڑھیں

29جولائی کواتر پردیش کے ضلع(Chandauli) میں 15سالہ لڑکا آگ میں جھلس رہا تھا،مدد، مددپکار رہا تھا، مٹی کے تیل سے اس کا جسم بری طرح جل چکا تھا،اسے ...

مزید پڑھیں