☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل دنیا اسپیشل عالمی امور صحت کیرئر پلاننگ خواتین کچن کی دنیا دین و دنیا فیشن انٹرویوز ادب
احساس ِذمہ داری : کامیابی کی پہلی شرط

احساس ِذمہ داری : کامیابی کی پہلی شرط

تحریر : پرفیسر ضیا ء زرناب

03-24-2019

دنیا میں کامیاب لوگوں کی زندگی کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو ہمیں یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ ان سب میں جو چند بڑی بڑی صفات مشترک ہیں ان میں ایک بڑی صفت احساسِ ذمہ داری ہے۔ دنیا میں جن لوگوں نے بھی کچھ بڑا کام یا کارنامہ سرانجام دیا ہے اُس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وُہ اپنے قول و فعل کی مکمل ذمہ داری لیتے ہیں۔

اوائل عمری میں ہی وُہ جان لیتے ہیں کہ اس دنیا میں اگر انہوں نے کچھ بڑا کرنا ہے تو انہیں خود ہی کچھ کرنا ہو گا۔ اس لئے وُہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے کسی بیرونی مدد کے منتظر نہیں رہتے بلکہ کسی بھی مشکل میں اپنے کام تو کرتے ہی ہیں مگر دوسروں کے بھی آگے بڑھ کر کام آتے ہیں۔

مگر دوسری جانب ناکام لوگوں کی ایک بڑی صفت یہ بھی ہوتی ہے کہ ان کے پاس اپنے ہر فعل اورعمل میں غلطی کے لئے کوئی نہ کوئی بہانہ یا دوسرا فرد موجود ہوتا ہے جسے وُہ اس ناکامی کا ذمہ دار تصور کرتے ہیں۔ وُہ دنیا میں ہر فرد کو بدلنے کی کوشش اور جستجو کرتے ہیں مگر مجال ہے کہ عالیٰ جناب ،اپنے آپ میں ذرا سا بدلائو لانے پر تیار ہو جائیں۔ انہیںکسی بھی غلطی یا ناکامی کی صورت میں اس کی تمام تر وجوہات اور کمزوریاں دوسروں میں نظر آتی ہیں۔ مگر ان کی اپنی ذاتِ بابرکات کسی بھی قسم کی کسی بھی ذمہ داری سے مبرا ہوتی ہے۔

ہر بار ناکام ہونے کی صورت میں وُہ اس کا الزام دوسروں پر دھر دیتے ہیں اور خوش رہتے ہیں ۔ اسی لئے تو انکی ذات اور شخصیت میں کبھی بہتری پیدا نہیں ہوتی۔اگر وُہ بے روزگار ہوئے تو اس کی وجہ حکومت یا اداروں کی پالیسیاں ہوتی ہیں، اگر وُہ امتحان میں ناکام ہو جائیں تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ پرچہ مشکل ہوتا ہے یا پھر ممتحن بہت سخت ہوتے ہیں، اگر زندگی میں دوسروں سے اچھے تعلقات نہیں بنا پائے تو قصور ہمیشہ دوسروں کا ہوتا ہے کہ وُہ ان کو سمجھ ہی نہیں پائے، زندگی میں کچھ بڑی کامیابی ان کا مقدر نہ بن پائی تو قصور سارا ماحول اور معاشرے کا جو سارے کا ساراہی خراب ہوتا ہے یا پھراُنکے والدین کا جو اُنکو بڑا مقام نہ دلا پائے، کوئی پراجیکٹ یا کام ناکام ہو جائے تو قصور سارا اُس ٹیم کا ہوتا ہے جسکے ساتھ مل کر وُہ کام کر رہے ہوتے ہیں،

ان کی صحت خراب ہو جائے تو اللہ کو یہی منظور ہوتا ہے اور وُہ یہ ماننے کے لئے ہی تیار نہیں ہوتے کہ انہوں نے اس بیش قیمت تحفے کی قدر ہی نہیں کی۔وُہ ہر اُس دلیل کو درست سمجھتے ہیں جو انہیں کسی بھی ناکامی کا قصور وار نہ گردانے۔ یعنی ناکام لوگ اکثر نہیں ہمیشہ اپنے آپ کوکسی بھی قسم کے احساس ِذمہ داری سے مبرا خیال کرتے ہیں اور اپنے کسی بھی قول یا فعل کی حقیقی معنوں میں ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔

ذمہ داری اُس حالت کا نام ہے کہ جس میں فرد اپنے فرائض کو نہ صرف بن کہے محسوس کرتا ہے بلکہ ان کی تکمیل کے لئے بھی پوری قوت اور شدت کے ساتھ کوشش کرتا ہے۔ وُہ کسی بھی کام کو جو اس کی ذات اور شخصیت سے وابستہ ہو سے اپنا تعلق محسوس کر کے اُس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہے اور اس عمل میں کامیابی اور ناکامی دونوں کو اپنی کوشش کا نتیجہ سمجھتا ہے اور ان دونوں صورتوں میں خود کو احتساب کے لئے پیش کرتا ہے تاکہ اُس کی شخصیت ، ذات ،اور عمل میں بہتری آسکے۔ وُہ صرف کامیابی کا کریڈٹ لینے کے لئے ہی آگے نہیں بڑھتا بلکہ جس ناکامی کی صورت میںبھی خود کو اس کا ذمہ دار سمجھ کر اسے کامیابی میں بدلنے کی سرتوڑ کوشش اور جستجو کرتا ہے۔

کامیاب لوگ نہ صرف ذمہ دار ہوتے ہیں بلکہ اپنے آپ کو خود احتسابی کے عمل سے بھی گذارتے ہیں تاکہ وُہ اپنی زندگی کے ہر عمل سے کچھ مثبت سیکھ کر اپنی ذات کو ترقی دے سکیں ۔ کامیاب لوگ اپنی شہرت، عزت، دولت ، صحت اور کامیابی کو بھی اُسی طرح اپنا تصور کرتے ہیںاور اسی طرح وُہ کسی بھی ناکامی کی وجوہات بھی اپنی ذات میں تلاش کرتے ہیں۔ کامیاب لوگوں کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ ناکامی اور کامیابی دراصل نتائج ہیں اور ان کی وجوہات ہوتی ہیں جنہیں دوسروں کی نہیں اپنی ذات میں کھوجا جائے تو اچھا ہے کیونکہ اس طرح اپنی ذات اورشخصیت میں بہتری لانا ممکن ہوتا ہے ورنہ جب کسی بھی کام میں غلطی ہی دوسروں میں تلاش کر لی جائے فرد اپنی ذات میں سدحار اورشخصیت میں بہتری کیسے لا سکتا ہے؟ اپنی ذات میںاحساسِ ذمہ داری لانے کیلئے مندرجہ ذیل10طریقوںاور تکنیکوں کی افادیت کو سائنسی طور پر مصدقہ مانا جاتا ہے

ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کو پڑھنے سے زیادہ جیا جائے اور عملی زندگی کا حصہ بنایا جائے:

اپنا احتساب خو دکر کے مثال بنیں:

اس کا سادہ ترین مطلب یہ ہے کہ آپ سے جب بھی کوئی غلطی ہو جائے تو اس کا الزام دوسروں کے سر ڈالنے کی بجائے صورتحال کا بے لاگ اور تنقیدی جائزہ لیں۔ اگر آپ کو اس پورے عمل میں کہیں اپنا قصور نظر آئے تو آپ میں اتنی اخلاقی جرات ہونی چاہیئے کہ آپ اس کو نہ صرف فوری طور پر قبول کر لیں بلکہ اس بات کو بھی مانیں کہ اب اس غلطی کو سدھارنا یا ٹھیک کرنا بھی آپ کی ذمہ داری ہے۔ یہ خود احتسابی ہی کامیابی کی طرف پہلا حقیقی اور مثبت قدم ہوتا ہے جو کامیابی کی ٹھوس بنیاد بنتا ہے۔

اپنی ہارکا میڈل بھی خود پہننا سیکھیں تاکہ کامیابی کا تمغہ بھی آپ کے گلے میں بھلا لگے۔ اس کے لئے آپ کو سچائی میں جینا اور اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اپنے آپ کا بے رحمی سے جائزہ لینا پڑتا ہے۔خود کو ہی کٹہرے میں لا کر بہتر بنانا پڑتا ہے۔اپنی ذات پر پہلے اپنی اور پھر دوسروں کی تنقید جھیلنا پڑتی ہے۔ تب جا کر کہیں کامیابی مقدر بنتی ہے۔

الزام اور دشنام کو خدا حافظ کہہ دیں:

خود کو خوش کرنے کے لئے بہانوں کے تراشنے اور الزاموں کے سریلے گانے گانا بند کریں ۔شکایت اور شکووں کی پٹاری کھول کر بھلا کوئی کیسے کامیاب ہو سکتا ہے؟ یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ ہر ناکامی میں اپنی ذات کو ذمہ دار سمجھنا بھی اتنی ہے بڑی غلطی ہے جتنا کسی بھی ناکامی میں اپنے سوا دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرا کر خود برالذمہ ہو جانا۔ اپنے اور دوسروں کے ساتھ مخلص جینا سیکھیں۔ جس میں اپنی غلطیوں کو ماننے اور انکی اصلاح کا حوصلہ بھی ہواور مستقل عزم بھی کہ سب سے پہلے خود آگے بڑھ کر اپنی خوبیوں اور خامیوں کو گلے لگانا ہے تاکہ کامیابیوں کا سفر شروع ہو سکے۔ جس کیلئے لازم ہے کہ فرد اپنے ہر فعل کی ذمہ داری خود قبول کرے۔

ذمہ دار لوگوں کی صحبت اختیار کریں:

اگر آپ کی صحبت یعنی اُٹھنا بیٹھنا ایسے لوگوں میں ہے جو اپنی غلطیوں کا مدعا دوسروں پر ڈالتے ہیں، اپنی کوتاہیوں کا ذمہ دار دوسروں کو گرادانتے ہیں، اپنی ہارمیں دوسروں کی خامیوں اور غلطیوں کی لمبی لسٹ بناتے ہیں تو جناب فوری طور پر ان لوگوں کی صحبت سے ایسے دور چلے جائیں جیسے تیر کمان سے نکل بھاگتا ہے۔ ورنہ ناکامیوں کے لئے تیار ہو جائیں کیونکہ ہمیں ہمارے ہر فیصلے کی قیمت تو بہرحال اداکرنا ہی ہوتی ہے۔ ذمہ دار لوگوں کے ساتھ تعلقات بنانا آپ کو بھی ذمہ دار بنا دیگا کیونکہ ذمہ دار لوگ مسائل کی وجوہات میں الجھنے اور بے فائدہ الزام تراشی میں اپنا وقت ضائع کرنے کی بجائے اپنی پوری توجہ ان کے حل پر مرکوز کرتے ہیں۔ اس لئے جلد یا بدیر کامیابی ان کا مقدر بنتی ہے کیونکہ وُہ مشکلوں ، مسئلوں اور الجھنوں کا حل نکالتے ہیں اور بے جا الزام تراشیوں سے مکمل پرہیز کرتے ہیں۔

اپنے نظام الاوقات پر کاربند رہیں:

دنیا کی سب سے قیمتی دولت وقت ہے۔ اس کو گذارنے کی منصوبہ بندی اپنی نوٹوں کی صورت میں کمائی خرچ کرنے سے زیادہ احتیاط سے کریں۔ اپنا ایک شیڈول ترتیب دیں اور اُس اس پر سختی سے کاربند رہیں۔کاموں کی بروقت تکمیل کیلئے انکی ترجیحات کا تعین کریں۔عام طور پردوسروں کو آپ کے وقت کی قدرو قیمت کا کوئی احساس نہیں ہوتا ۔اسی لئے اپنی مصروفیات میں سے دوسروں کو وقت ضرور دیں مگر ہر وقت دوسروں کے لئے دستیاب رہنے سے آپ اپنے اہم کام بھی مکمل نہیں کر پاتے۔اپنی وقت کے صحیح استعمال کی سو فیصد ذمہ داری قبو ل کرتے ہوئے اس کا اعلیٰ ترین استعمال کو یقینی بنائیں تاکہ کامیابی آپ کے قدم چُومے۔

تبدیلی کو خوش آمدید کہیں:

دنیا میں ہر جگہ ہر وقت بدلائو آرہا ہے۔ تبدیلی کی راہ میں روڑے اٹکانے کی بجائے آنکھیں بچھانا سیکھیں۔ حواس بحال رکھ کے اور حوصلوں کو مضبوط کر کے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اوراپنے آپ کو آنے والے وقت سے ہم آہنگ کریں ،پھر دیکھیں کامیابیاں کیسے آپ کا مقدر بنتی ہیں۔ تبدیلی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مسکرائیں کامیابیوں کا سلسلہ رکنے میں نہیں آئے گا ۔یقین نہیں آتا تو آزما کر دیکھ لیں۔

اعلیٰ ترین سے کم پر راضی نہ ہوں:

صرف اچھے اور بہتر سے کم نہیں چلے گا۔ اپنے آپ اور دوسروں سے بہترین کی توقع رکھیں۔ مگر جدوجہد اعلیٰ ترین کے لئے کریں۔ کامیاب لوگ محنتی ہوتے ہیں۔ وُہ کامیابی کماتے اور حاصل کرتے ہیں۔ کامیابی کوئی اُن کو پلیٹ میں رکھ کر پیش نہیں کرتا۔ وُہ اس کے لئے لگاتار اور مسلسل کوشش کرتے ہیں۔ اس کے لئے انہوں نے اپنے لئے بڑی منزل طے کر رکھی ہوتی ہے۔ وُہ عام لوگوں سے بہت زیادہ محنت کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ عام لوگ جہاں تھکنے لگتے ہیں وہیں سے کامیاب لوگوں اپنے حوصلوں کو دوبارہ مجتمع کر کے اپنے سفر کا آغاز کرتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے انہیں خود سے بہت اُمیدیں ہوتی ہیں اور انہوں نے اپنے لئے سخت معیار قائم کررکھے ہوتے ہیں جو انہیںبڑی کامیابی ملنے تک چین سے نہیں بیٹھنے دیتی ۔مسلسل محنت انہیں ایک دن اپنی منزل پر پہنچا ہی دیتی ہے۔

خوش رہنا اور رکھنا سیکھیں:

دوسروں کے ساتھ مل جُل کر کام کرنے کی صلاحیت کو اَب کسی بھی ادارے میںملازمت کیلئے انتخاب کے لئے بنیادی شر ط نا جاتا ہے۔دوسروں سے موازنہ نہیں بلکہ مطابقت کرنا سیکھ لیں۔ سب لوگ اچھے ہیں۔لوگوںکے ساتھ مل کر جینے اور کام کرنے کی صلاحیت ہی دراصل کسی بھی فرد کی کامیابی کا تعین کرتی ہے اکیلے کچھ کر دکھانے کا دور گذر چکا ہے۔ اب بڑی کامیابیاں صرف ٹیموں اور مل جل کر کام کرنے والے گروپوں کا ہی مقدر بنتی ہیں۔ اس لئے لوگوں کے ساتھ مل کر خوش رہنے اور کام مکمل کرنے کی صلاحیت پیدا کریں۔ اُن میں اچھائیاں تلاش کریں۔ تعلق توڑنے کا نہیںجوڑنے کا جواز تلاش کریں۔ دوسروں کے ساتھ خوش ہو کر کام کرنے میں ہی کامیابی ملتی ہے۔

کاموں کو ٹالنے کی عادت ختم کریں :

اکثر اوقات غیر ذمہ دارلوگ یا تو کاموں کو بھلا دیتے ہیں یا پھر ٹالتے رہتے ہیں۔ کام کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ایک مرتبہ نہ کہہ دینا آپ کو بعد میں ہونے والی شرمندگی سے بچا سکتی ہے۔ جہاں نہ کہنا ضروری ہو وہاں بلا جھجک نہ کہنے میں بالکل عار محسوس نہ کریں۔ کام کو کرنا مجبوری نہیں بلکہ اکثر اوقات ہمارا شعوری انتخاب ہوتا ہے۔ اس لئے سوچ سمجھ کر کسی کام کی حامی بھریں۔مگر جب ایک بار حامی بھر لیں تو پھر اسے کسی بھی طرح التوا کا شکار ہونے سے بچانا آپ کی ذمہ داری ہے۔ آگے بڑھ کر اپنی ذمہ داری نبھائیں اور اپنے ذمے کاموں کو بلا تاخیر کرنے کی عادت ڈالیں۔ان کو انکی ڈیڈلائن سے قبل مکمل کرنے کی خوشی کو ایک بار محسوس کر کے تو دیکھیں جو آپ کی ذات میں نہ صرف اعتماد لاتی ہے بلکہ آپ کے سماجی وقار اور عزت میں بھی اضافہ کرتی ہے۔

مطمئن اور پرسکون رہیں:

آپ سے جو بھی غلطیاں ہوئی ہیں وُہ آپ کی زندگی کو بہتر اور شاندار بنانے کے لئے ضروری تھیں۔ ان سے سیکھ کر انہیں بھلا دیں اور آگے بڑھیں ۔ آج میں جینا شروع کریں۔غلطیاں کس سے نہیں ہوتیں؟ اپنے آپ کو معاف کردیں۔جن دوسروں سے غلطیوں کا ارتکاب ہوا ہے انہیں بھی معاف کردیں ۔اپنے ٓپ کو ہلکا پلکا کرلیں اور آگے بڑھ کر دوبارہ سے زندگی کو گلے لگا لیں اور ایک بار پھر اس اس کے ذائقے کومحسوس کرنا شروع کردیں۔ ماضی کی غلطیوں پر پچھتانے اور دل جلانے سے لاکھ درجے بہتر ہے کہ آپ اپنے آپکو پرسُکون کر کے مستقبل بہتر بنانے کی کوشش کریں ۔ جس کے لئے آپ کے پاس صرف اور صرف آج کا دن ہے۔ اس میں ہی آپ اپنی ذمہ داریوں کو جانئے اور پورا کرنے کی کوشش کریں۔ زندگی مرحلہ وار خوبخود بہتر ہونا شروع ہو جائے گی۔

نتائج کی مکمل ذمہ دارتی قبول کریں:

آج آپ اس بات کو پلے باندھ لیں کہ آپ کی زندگی میں آج جو بھی ہے وُہ ان تمام اعمال اور افعال کا نتیجہ ہے جو آپ نے سرانجام دئیے ہیں۔ ان کی صد فی صد ذمہ داری آپ کی ہے اور آپ اسے قبول کریں۔ برُے حالات چاہے فرد کی زندگی کے ہوں یا قوموں کی تاریخ میں سب کی وجہ کو جاننے کی کوشش کریں گے تو وہاں ان کی ہی کی ہوئی غلطیوں اور نادرست فیصلوں کا پتہ ملے گا۔ جن کا بیشترافراداور قومیں انکار کرتی ہیں۔ یہ بات اپنے دل و دماغ کے ہر کونے میں راسخ کر لیں کہ آپ ہی اپنی زندگی کے ذمہ دار ہیں۔اس کو مزید بہتر بنانا آپ ہی کی ذمہ داری ہے۔ کوئی دوسرا آپ کو بچانے اور بنانے نہیں آئے گا۔ آپ ہی آگے بڑھ کر اس میں مثبت تبدیلیاں لانا ہیں جو آپ کی کامیبابی کی مضبوط بنیاد بنیں گی۔ یہ ذمہ داری لینا ہے آپ کو کامیابی کی منزل کی طرف رواں دواں کر دیتا ہے۔ چلیں آج ہی سے اپنے ساتھ عہد کریں کہ آپ ذمہ دار بنیں گے اور اپنی زندگی کی گاڑی کے خود ڈرائیور بنیںگے ۔اللہ کریم سے دعا ہے کہ وُہ ہمیں اپنی ذمہ داریاں سمجھنے اور ان کودل سے قبول کر کے ان سے اچھے طور پر عہدہ برآ ہونے کی توفیق دے (آمین) ٭٭٭

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

دنیامیں کوئی کروڑ پتی ہے تو کوئی چندروپوں کو ترس رہا ہے۔ کوئی خزانوں کا مالک ہے تو کسی کے گھر میں فاقوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ کوئی دنوں می ...

مزید پڑھیں

لوگ صرف دولت کما لینے کو ہی ترقی تصور کرتے ہیں۔ مگر دنیا بھر کا دھن اکٹھا کر لینے اور مال وزر جمع کر لینے کے بعد اگر روح پُرسکون نہیں ہے او ...

مزید پڑھیں

زمانہ قدیم سے ہی دنیا بھر میں کہانیاں سُننا اور سنانا پسندیدہ ترین شغل رہا ہے۔ کہانیوں سے ہم نہ صرف اخلاقی قدریں سیکھتے ہیں بلکہ ان سے سی ...

مزید پڑھیں