☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل سنڈے سپیشل خصوصی رپورٹ کھیل فیشن دین و دنیا ادب کیرئر پلاننگ
مسائل کو حل کرنے کی سائنس!

مسائل کو حل کرنے کی سائنس!

تحریر : پرفیسر ضیا ء زرناب

04-14-2019

دنیا میں کون ہے جسے مسائل کا سامنا نہیںہے؟ کون ہے جسے زندگی کے مسائل کو روزانہ کی بنیاد پرحل نہیں کرنا پڑتا ؟اسی لئے Problem Solvingکی مہارت کو دنیا کی تمام مہارتوں کی ماں قرار دیا جا سکتا ہے۔ دنیا کے کسی بھی میدانِ عمل میں جو جتنا بڑا لیڈر ہے اس نے اپنی مہارت کے میدان میں اُتنا ہی بڑا مسئلہ خوش اسلوبی اور مہارت سے حل کیا ہوتا ہے۔

بڑی کامیابی کے لئے لازم ہے کہ آپ اس میدان میں فوری طور پر مسئلوں کا حل تجویز کرنے اور ان کو پوری شدومد سے لاگو کرنے کی صلاحیت سے مالامال ہوں۔ سب سے عمدہ بات یہ ہے کہ مسئلے حل کرنے کی صلاحیت کو سیکھا جاسکتا ہے ۔ مسائل کا حل نکالنے وقت کچھ باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ مثلاً مسائل کے حل تجویز کرتے ہوئے کسی بھی قسم کی حتمی اور فوری رائے دینے کو حرام سمجھیں ۔کیونکہ دنیا کے کسی مسئلے کا کوئی حل حتمی ہو نہیں سکتا۔ کچھ مدت بعد دنیا کا اعلیٰ ترین حل بھی دوبارہ توجہ کا متقاضی ہوتا ہے کہ اسے بہتر بنایا جائے۔ ان کی نوعیت میں ذرا سا بھی فرق ہو تو تجویز کردہ حل بے سود ہو کر رہ جاتا ہے۔ مسائل کے حل کرنے کے عمل میں جذباتی اور سطحی سوچ سے بچ کر رہیں اور خالص سائنسی اندازِ فکر کو اپنا لیں تاکہ غلطی کا امکان کم سے کم ہو جائے۔مسائل کا تجزیہ کرتے وقت آپ ہر قسم کے تعصب سے پاک ہوں یعنی یہ نہ دیکھیں کہ کون کہہ رہا ہے بلکہ اپنی پوری توجہ اس بات پر لگائیں کہ کیا کہہ رہا ہے؟ یعنی افراد پر نہیں بلکہ ان کے افکار پراپنی توجہ مرکوز رکھیں۔ مسائل کا حل سکھانے کے لئے اب تو بہت سے کورسز ، ڈپلومے اور ڈگریاں دستیاب ہیں جن سے اگر آپ کامیابی سے گذر جائیں تو اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیئے کہ آپ کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت میں بہت زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے۔

مسائل سے بچنے کا سب سے شاندارطریقہ ان کو فوری طور پر حل کردینا ہے۔ کامیا ب لوگوں کی زندگی کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ ان میں مسائل کو سمجھ کر فوری حل پیش کرنے کی صلاحیت بدرجہ اُتم موجو ہوتی ہے۔ مسائل پر گھنٹوں الجھنے اور بحث و مباحثہ کرنے کی بجائے وُہ اپنی پوری توجہ ان کے شاندار حل نکالنے پر لگا دیتے ہیں اور یہی صفت تو انہیں دوسروں سے ممتاز اور منفرد بناتی ہے ۔دنیا کی تما م مصنوعات اور خدمات یعنی Products and Servicesبنیادی طور پر کسی نہ کسی مسئلے کا حل پیش کرتی ہے۔

کوئی فرد جتنے بڑے مسائل کا حل تجویز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اُس کا مشاہرہ اور معاوضہ اسی قدر زیادہ ہوتا ہے۔ دنیا میں مسائل کبھی ختم نہ ہوئے ہیں اور نہ ہی ہو سکتے ہیں ۔بس ان کی نوعیت اور نام بدل جایا کرتے ہیں۔عین ممکن ہے کہ فرد کے پاس اعلیٰ گریڈ اور ڈگریاں تو ہوں مگر مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت سرے سے موجود ہی نہ ہو۔ اس لئے بھی ضروری ہے کہ آپ مسائل حل کرنے کی صلاحیت کو نہ صرف سیکھیں بلکہ اس کی عملی طور پر اتنی مشق کریں کہ آپ کو مسائل کو حل کرتے ہوئے کسی بھی قسم کی بے چینی اور پریشانی نہ ہو۔ بنیادی طور پر مسائل کا حل نکالنا یعنی Problem Sloving دراصل اُس سوچ، طریقہ کار اور ذہنی اعمال کا نام ہے کہ جس کی مدد سے فردکو کسی خاص مسئلے کا حل نکالنا ہوتا ہے۔

فرد اپنی دماغی صلاحیتوں کے استعمال سے مسئلوں کو جانتا، ان کے حلوں کو جانچتا اور عمل کرتا ہے۔مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے میں بنیادی شرطیں صبر، حوصلہ، مستقل مزاجی ، استقامت، منطقی ، تجزیاتی اور تخلیقی طرزِ فکر ،اور سائنسی طریقہ کار کی پیروی ہے۔ اس سلسلے میںمندرجہ ذیل پانچ قدم مرحلہ واراُٹھائیں،

پہلامرحلہ یہ ہے کہ مسئلے کو گہرائی سے جانیں: ۔ یاد رکھیں کہ مسائل کو حل کرنے کی سائنسی طریقہ میں پہلا قدم یہ ہے کہ فرد مسئلے کو گہرائی تک جان لے۔ واضح اور غیر مبہم سوچ ہی فرد کو اس قابل بناتی ہے کہ فرد نہ صرف مسئلے کو جان لیتا ہے بلکہ اس مسئلے کی ممکنہ وجوہات اور اس کے اثرات کا بھی ادراک حاصل کرلیتا ہے۔ سوچنے کا عمل یعنی Thinkingہماری وُہ ذہنی کاوش ہوتی ہے جو ہمیںچیزوں اور معاملات کو سمجھنے، فیصلے کرنے، مسائل کا حل تجویز کرنے اور حقیقت کا واضح ادراک کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے۔ مسئلے کو صحیح اور درست انداز میں سمجھ لینا ہی ہمارا پہلا قدم ہوتا ہے۔ کوئی بھی مسئلہ ہو سب سے پہلے اس کی گہرائی کو جانیں۔

دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ واضح مقاصد کا تعین کرلیں: مسائل کے حل کیوں اور کیسے کرنا ہے اس کے لئے آپ کو غیر مبہم اور واضح سوچ کو اپنانا ہو گا۔ واضح مقاصد کا تعین کر لیں کہ آپ اس پورے عمل سے کیا ، کیوں اور کیسے گذرنا ہے یعنی اس پوی مشق سے آپ کیا حاصل کرنا چاہ رہے ہیں؟

تیسرے مرحلے میں برین سٹارمنگ( Brain Storming )کریں۔ یعنی اپنے اور وُہ لوگ جو آپ کے ساتھ مسئلے کا حل ڈھونڈ رہے ہیں اپنی سوچوں کو آزاد کر دیں ، مسئلے کے حل تجویز کریں چاہے وُہ کتنے ہی عجیب و غریب نہ ہوں۔ اپنے قلب و ذہن کو مکمل آزادی دیں کہ وُہ مسئلے کا کسی بھی قسم کا کوئی بھی حل دے سکے۔

چوتھے مرحلے میں زیادہ سے متبادل حل تجویز کریں اور سب سے شاندار حل کا انتخاب کریں: اس مرحلے میں آپ کی کوشش یہ ہونی چاہیئے کہ مسئلے کے زیادہ سے زیادہ حل نکلیں ۔جس قدر حل زیادہ ہوں گے اُتنا ہی آپ کو موقع ملے گا کہ آپ اس میں سے شاندار حل کو نکال سکیں۔اس عمل میں مختلف حکمتِ عملیاںبھی جانی جاتی ہیں تاکہ مسائل کو حل کی طرف لے جایا جا سکے۔ مسئلے کا جو حل آپ کو سب سے درست اور معقول لگے اس کو پوری دیانت داری سے اپلائی کردیں ۔

پانچواں اور آخری مرحلہ یہ ہے کہ آپ تجزیہ کریںاور سب سے بہترین حل تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ یعنی ہر مسئلے کے موجودہ حل سے بہتر حل ممکن ہوتا ہے ضرورت بس اس امر کی ہوتی ہے کہ آپ اپنی قوتِ مشاہدہ اور مطالعہ سے بہتر سے بہتر حل کی تلاش میں لگے رہیں ۔ مگر یہ بات محلِ نظر رہے کہ یہ عمل بدستور جاری رہے تو قومیں اور فرد کی زندگی میں بہتری آنا لازم ہے۔ مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت میں اضافے کیلئے مندرجہ ذیل طریقوں اور تکنیکوں کی افادیت کو سائنسی اور علمی طور پر مصدقہ مانا جاتا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کو پڑھنے سے زیادہ جیا جائے یعنی اپنی روزمرہ زندگی کا اس طرح حصہ بنایا جائے کہ یہ آپ کی فطرتِ ثانیہ بن جائے اور آپ کو پھر مسائل نہیں ان کے حلوں پر سوچنا بھلا لگنے لگے:

سقراط کا مسئلے حل کرنے کا طریقہ آزمائیں:۔کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کے لئے نامور فلسفی سقراط نے بھی ایک طریقہ دیا ہے ۔ اس طریقے میں ایک فرد دوسرے کے ساتھ ایسی منضبط اور مدلل گفتگو کرتا ہے کہ مسائل کے حل نکلنا شرع ہو جاتے ہیں۔ وُہ صرف سوال کرتا ہے جو مسئلے کے نہ صرف وجوہات کو واضح کرتے ہیں بلکہ ان مسائل کے حل بھی تجویز ہو جاتے ہیں۔ اس طریقے میں چھ قسم کے سوال پوچھے جاتے ہیں۔

پہلی قسم کے سوالات کاتعلق وضاحت سے ہوتا ہے، دوسری قسم کے سوال دوسرے فرد کے مسئلے کے بارے میں بنیادی تخیلات اور تصورات کو جاننے کے لئے ہوتے ہیں، تیسری قسم کے سوالات کا تعلق تعقل اور تدبر سے ہوتاہے کہ فرد کا اس معاملے میں کیا ادراک و فہم ہے،چوتھی قسم کے سوالات کا تعلق فرد کے اس مسئلے کے بارے میں نکتہ نظر سے ہوتا ہے کہ اس کی اپنی رائے کیا ہے؟

پانچویں قسم کے سوالات اس لئے پوچھے جاتے ہیں کہ یہ جانا جا سکے کہ مسئلے کے حل کو لاگو کرنے کے کیا اثرات اور نتائج مرتب ہوں گے؟ جبکہ چھٹی اور آخری قسم کے سوالات کا تعلق سوال سے متعلق ہی ہوتا ہے کہ سوال کی کوالٹی اور خوبی کیا ہے۔ یہاں یہ بات بھی مدِنظر رہے کہ یہ سقراط کا طریقہ ہی ہے کہ جس نے دنیا بھر کو سائنسی طرزِ فکر سے روشناس کروایا اور آج علم ترقی کر کے یہاں تک پہنچا ہے۔اس لئے آپ بھی ہزاروں سال کے اس آزمودہ طریقے سے اپنی زندگی میں مسائل کو حل کر کے اسے بہتر بنا سکتے ہیں۔

کاف کا اصول: ،دنیا بھر میں لوگ اور کمپنیاں مسائل کو حل کرنے کے لئے اس سائنسی اصول کا بھرپور استعمال کرتی ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ اردو کے لفظ کاف سے شروع ہونے والے چھ الفاظ کی مدد سے بار بار سوال کئے جائیں تاکہ مسئلے کی ماہیت، نوعیت، اثرات اور نتائج سے آگاہی حاصل ہو جائے اور مسئلہ کا حل نکل آئے ۔ یہ چھ الفاظ یہ ہیں۔کب ، کیوں ، کیسے،کہاں، کس طرح اور کس لئے؟ ان الفاط سے شروع ہونے والے سوالوں کی مدد سے مسئلے کا جامع اور دیرپا حل بہ آسانی نکل آتا ہے۔

بس ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ حل نکالنے اور پھر اسے اپنی زندگی پر لاگو کرنے میں سنجیدہ طرزِ فکر اور طرزِ عمل رکھتے ہوں ۔ دنیا کی ایک بڑی کار تیار کرنے والی کمپنی صرف ایک کاف یعنی کیوں سے شروع ہونے والے سوالوں کی مدد سے اپنی کاروں کی تیاری کے عمل اور ان کی مارکیٹینگ کے کام میں 80فی صد سے زیادہ بہتری لا چکی ہے۔ وہی کیوں کے لفظ کے سوال کو لگاتار اس وقت تک کرتے رہتے ہیں جب تک کام، حکمتِ عملی یا طریقہ کار میں بہتری نہ آجائے۔ یہ یاد رہے کہ انگریزی میں اے چھ ڈبلیوز کا اصول کہا جاتا ہے ۔ جس سے نہ صرف موجودہ چیزوں اور کاموں میں بہتری لائی جا سکتی ہے بلکہ نئے خیالات، تصورات اور مصنوعات کو بھی بنایا جا سکتا ہے۔

ریورس انجینئرنگ (Reverse Engineering دنیا بھر میں بہت سی کمپنیاں اور افراد کسی بھی چیز کو اُلٹ انداز میں جان اور جانچ کر مسئلے کا نہ صرف حل نکال لیتی ہیں بلکہ ان سے ملتی جُلتی مصنوعات بھی تیار کر لیتی ہیں۔دنیا بھر میں لاکھوں نئی مصنوعات کو بھی اسی طریقے سے ڈیزائن کیا جاتا ہے ۔ اس عمل سے مراد یہ ہے کہ بجائے مسئلے کو سیدھے انداز میں حل کرنے کے لوگ اور کمپنیاں ان کے پہلے سے دستیاب حلوں کو اُلٹ ترتیب میں جانچ پرکھ لیتی ہیں جس سے انہیں کسی بھی چیز یا مسئلے کی نہ صرف ماہیت کا پتہ چل جاتا ہے بلکہ ان کو اس میں بہتری لانے کے بھی کئی طریقے اور تکنیکیں سمجھ میںآجاتی ہیں۔ یعنی ہم عملی طور پر مسئلے کے موجودہ حل سے دوبارہ مسئلے کی طرف سفر کرتے ہیں جو فرد پر اس کے سارے رموز و اسرار کھول دیتا ہے۔

دماغ کی سائنس کو جانیں: بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ ہمارا دماغ ہمارے جسم کا صرف 2فیصد حصہ ہوتا ہے۔ اور عام طور پر لوگ اپنے دماغ کا صرف 6سے10فی صداستعمال کرتے ہیں۔ دماغ کے دو بڑے حصے ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ منسلک بھی ہیں لیکن اپنی الگ الگ شناخت اور حیثیت میں بھی اپنے افعال سرانجام دیتے ہیں۔ یہ دائیں اور بائیں دماغ کہلاتے ہیں۔بائیں دماغ کا کام یہ ہے کہ وُہ فرد کو مسئلے کا ایک حل اور جواب تلاش کرنے پر آمادہ کرتا ہے، الفاظ کو زیادہ سوچتا ہے، ایک وقت میں ایک مسئلے پر توجہ مرکوز کرتا ہے، کسی بھی چیز کے حصوں پر متوجہ ہوتا ہے، فیصلوں کی بنیاد منطق اور اصولوں پر رکھتا ہے، زیادہ منظم اور ترتیب شدہ ہوتا ہے، پہلے سے طے شدہ قوانین کی مدد سے مسائل کا حل نکالتا ہے۔

جبکہ دوسری جانب دائیں دماغ مسئلے کے مختلف حل نکالتا ہے، الفاظ سے زیادہ شکلوں اور نمبروں پر توجہ دیتا ہے، کئی مسائل کو بیک وقت سوچ سکتا ہے، فیصلوں کی بنیاد جذبات پر اُستوار کرتا ہے، پہلے سے طے شدہ مسائل اور ان کے حل کی بجائے نئے نئے حل تجویز کرتا ہے۔ آپ کا کام صرف اتنا ہے کہ مسئلہ کی نوعیت جان کر اپنے دماغ کے اُسے حصے سے کام لیں۔ بلکہ اب تو فرد کی شخصیت کو سائنسی طور پر اس طریقے سے جانچ کر بتا دیا جاتا ہے عملی طور پر اس کا دماغ کا کون سا حصہ زیادہ کام کرتا ہے جس کے بعد فرد کے لئے مسائل کا حل نکالنا بہت آسان ہو جاتاہے۔

تجزیاتی اور تنقیدی سوچ اپنائیں: کسی بھی معاملے اور مسئلے کو حل کرتے ہوئے تجزیاتی اور تنقیدی سوچ کاا ستعمال فردکی مسائل حل کرنے کی صلاحیت کو 70گنا تک بڑھا دیتا ہے۔ تجزیاتی سوچ یہ ہے کہ آپ مسئلے کو جان لیں اور پھر اس کا ایسا حل تجویز کریں ۔ پھر اس مسئلے کے حل کے لئے کوئی مفروضہ بیان کریں ۔اس مفروضے کی تصدیق یا تردید کے لئے جس قدر زیادہ سے زیادہ مدلل اور مستند معلومات ممکن ہو اکٹھی کریں ۔پھر اس کا سائنسی بنیادوں پر تجزیہ کریں اور سب سے موزوں ترین حل کو اپنا لیں۔

صحیح ترین حل تک اگر نہ رسائی ہو رہی ہو تو اس عمل کو دوبارہ دہرائیں کیونکہ یہ سائنسی طریقہ کار ہے جس میں غلطی کرنے کا موقع کم سے کم ہوتا ہے۔ تخلیقی سوچ کو پروان چڑھائیں:۔کسی بھی کا م کو کرنے یا نئی چیز بنانے کے عمل کے لئے لازم ہے کہ فرد تخلیقی صلاحیتوں کا مالک ہو۔ وہ نئے اور جدید انداز میں مسئلوں کا حل دے سکے۔ کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کی کوئی ایک ترکیب یا طریقہ نہیں ہے۔اس کا کوئی ایک طے شدہ فارمولہ نہیں ہے۔ ایک طریقہ، حکمت ِ عملی یا ترکیب کام نہ کرے یا درست نتائج نہ لائے تو دوسرے حل سوچو اور آزمائو۔ اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو کم از کم اندازِ فکر ضرور بدل لو۔ ایک ہی مسئلے کے کئی حل ممکن ہوتے ہیں۔ ذہن و فکر کو آزاد چھوڑ دو ۔ اللہ کریم سے دعا ہے کہ وُہ آپ کو مسائل کو سمجھ کر ان کے حل نکالنے پر قادر فرمائے ( آمین ثم آمین) ٭٭٭

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

کامیابی کو دنیا بھر میں دیکھنے اور سوچنے کا انداز مُختلف ہے۔ ماہر نفسیات سے پوچھیں گے تو وُہ اسے چندذہنی اعمال اور کرداری رویوں کا نام دی ...

مزید پڑھیں

اس دنیا میں کامیابی دراصل انسان کی اپنے دائرہ کار اور عمل میں رہتے ہوئے اُس کوشش اور کاوش کا نام ہے کہ جہاں اُسے زندگی گذارنا ایک میکانکی ...

مزید پڑھیں

کامیابی کیا ہے؟اس سوال کا جواب دینے کیلئے لوگوں کو بہت سوچ بچار کرنا پڑتی ہے کیونکہ اس سوال کا جواب دینا اس لئے مشکل ہے کہ ایک فرد کی کامی ...

مزید پڑھیں