☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل سپیشل رپورٹ دنیا اسپیشل دین و دنیا کچن کی دنیا فیشن کھیل خواتین متفرق کیرئر پلاننگ ادب
کارکردگی بڑھانے کے 6 سائنسی طریقے

کارکردگی بڑھانے کے 6 سائنسی طریقے

تحریر : پرفیسر ضیا ء زرناب

05-12-2019

کسی بھی فرد کی ذاتی اور عملی زندگی میں کامیابی کی بنیاد اُس کی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت،مجموعی ذہانت، اعلیٰ فیصلہ کرنے کی طاقت اور کارکردگی پر ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں ادارے چاہے تعلیمی ہوں یا صنعتی ، اِن میں کامیابی اور ترقی میں سب سے اہم کردار فرد کی کارکردگی کا ہوتا ہے۔

کیونکہ فرد کی اعلیٰ پیداواریت اور کارکردگی پر ہی اداروں اور اقوام کی ترقی کا انحصار ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میںلوگوں کی انفرادی اور اجتماعی کارکردگی ترقی پذیر ملکوں کی نسبت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ وہاں لوگ کسی بھی بیرونی دبائو یا لالچ کی بجائے اپنی خوشی اور آزادی سے اپنے تعلیمی اور صنعتی اداروں میں اعلیٰ ترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں جس سے نہ صرف ان کی پیشہ وارانہ صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اس کا براہِ راست مثبت اثر ان کے اداروںکی مجموعی کارکردگی پر بھی ہوتا ہے۔ عام اوراوسط درجہ کے لوگ ہر جگہ صرف کام مکمل کرنے کو ہی بڑی کامیابی تصور کرتے ہیں جب کہ کسی بھی میدان میں ماہر اور پروفیشنل لوگ مقررہ کام مکمل کرنے کے بعد بھی نہ صرف مزید کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے ہیں بلکہ اپنی مہارت اور ہنر کو بھی دوسروں کو منتقل کرتے ہیں۔انہیں اپنے قابل اور اہل جانشین پیدا کرنے سے ڈر نہیں لگتا۔

اوسط درجہ کے لوگوں میں یہ خوف بہت زیادہ ہوتا ہے کہ اپنی مہارت کو دوسروں کے ساتھ باٹنے یا منتقل کرنے سے اُن کی ملازمت یا کاروبار کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ مگر دوسری جانب پروفیشنل لوگوں کو اپنی ذات اور حاصل کردہ علم و ہنر پر بھروسہ ہوتا ہے کہ مارکیٹ کے حالات میں خواہ کتنی بھی تبدیلی آجائے وُہ اپنے آپ کو بدلتے حالات سے ہم آہنگ کر کے ہر میدان میں اپنی کامیابی کو یقینی بنا لیں گے۔ ان کو خود پر یہ اعتماد ان کی اوسط لوگوں سے بہتر پر فارمنس اور کارکردگی کی بدولت عطا ہوتا ہے۔ یاد رکھیں اگر آپ اپنے کاموں سے کچھ زیادہ کرنے کے ہر وقت خواہشمند رہتے ہیں اور اس کے لئے درکار مہارتیں اور ہنر سیکھتے رہتے ہیں تو آپ کو اس بات پر سو فی صد یقین ہونا چاہیے کہ چاہے جاب یعنی ملازمتوں کی کتنی بھی کمی ہو اور بے روزگاری جتنی بھی بڑھ جائے آپ کی شاندار جاب اور اعلیٰ کیرئیر کو کبھی بھی کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔

مقاصد کو طے کرنے کے بعد اپنی حکمت ِ عملی اورصلاحیت سے ان کے حصول کو تیزی سے ممکن بنانے کو ہی تو کسی فرد کی کارکردگی گردانا جاتا ہے۔ اکثر لوگوں کا دن رات یہ رونا ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں ملازمتیں نہیں ملتیں مگر ملٹی نیشنلائز اور نیشنل کمپنیوں میںسینکڑوں کلائنٹس جو ہیومن ریسورس یعنی انسانی ذرائع کے شعبہ میں ماہر ہیں کا شکوہ یہ ہے کہ اُنہیں ایسے ماہر اور قابل لوگ نہیں ملتے جو اعلیٰ کارکردگی دکھانے کی ذمہ داری لے سکیں۔ موجودہ دور میں تو مقابلے کی دنیا میں ہر جگہ مار دینے والے مقابلے نے فرد پر کر دکھانے کا بوجھ بہت بڑ ھا دیا ہے۔

تعلیمی میدان میں طلباء سے اعلیٰ نتائج کی توقع کی جاتی ہے۔صنعتی میدان میں ہر منیجر اور منتظم کی اعلیٰ کارکردگی کو ہی ترقی کی بنیاد بنایا جاتا ہے۔کھیل کے میدانوں میں نئے نئے ریکارڈ بنائے جا رہے ہیں۔ جو ہر انسان سے جو زندگی میں کچھ کر دکھانا چاہتا ہے کہ وُہ اپنی کارکردگی میں اضافی کرے، ایک معیار مقرر کررہے ہیں ۔یوں ہم پر یہ لازم ہو جاتا ہے کہ ہم موجودہ معیار اور مقدار کو اس سے اگلے درجے پر لے جائیں ۔اسی کا نام تو کارکردگی ہے۔ انسانی ترقی کی بنیاد میں بھی یہی جذبہ اور عمل پوشیدہ ہے۔

یعنی اگر آج فرد کو کسی بھی میدان ِ عمل میں کامیاب ہونا ہے تو اُس میںکا رکردگی دکھائے بناء کوئی گذارہ نہیں ہے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ تواتر کے ساتھ جاری رکھ پانا بھی محال ہے تو بے جا نہ ہو گا۔اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ اب انسان پر نفسیاتی دبائو بہت بڑھ گیا ہے کہ وُہ جلدی زیادہ کر کے دکھائے۔ پھر فرد تشویش ، ڈپریشن اور سٹریس کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ کارکردگی کی سائنس کو جانا جائے اور اپنی کارکردگی میں فوری بہتری لا کر اپنے آپ کو نہ صرف ان ذہنی بیماریوں سے بچایا جاسکتا ہے بلکہ دوسروں کو اپنی کارکردگی سے حیران کر کے اندرونی اطمینان و سکون بھی حاصل کر سکتا ہے۔

کارکردگی بڑھانے کیلئے مندرجہ ذیل چھ سائنسی تحقیق و طریقے پر مبنی اصولوںخیال رکھنا بہت ضروری ہے تاکہ فرد نہ صرف ذہنی طور پر بھی صحت مندزندگی گذار سکے بلکہ اِس کی کارکردگی میں بھی فوری مگر دیرپا اضافہ ہوتا ہے۔

کارکردگی کا پہلا اصول منظم ہونا ہے: وقت کی پابندی کرنا اوراپنے آپ کو دن بھر کی مصروفیات کو ایک خاص نظام الاوقات کا پابند بنالینا جہاں زندگی کو کچھ مشینی سا بنا دیتا ہے وہاں فرد کی کارکردگی اور پیداواریت میں بے پناہ اضافہ کر دیتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ فرد نہ صرف اپنے مقاصد کو طے کر چکا ہو بلکہ وُہ ان کے حصول کے لئے پوری قوت سے آمادہ بھی ہو۔اس سلسلے میں اُس نے اپنی مصروفیات میں ان مقاصد کو پہلی ترجیح دے رکھی ہو۔ منظم کوشش جس میں استقلال اور استقامت ہو فرد کو کامیاب بنانے میں پہلا قدم ثابت ہوتی ہے۔ کامیاب لوگوں کا وطیرہ ہے کہ وُہ اپنے کاموں ، مقاصد اور ترجیحات کو مقررہ وقت سے بہت پہلے ہی طے کر لیتے ہیں اورپھر سختی سے ان کے حصول کے لئے اپنے نظام الاوقات پر کاربند رہتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی کارکردگی اور پیداواریت دوسروں سے بہتر ہو جاتی ہے۔

کارکردگی کادوسرا اصول آہستہ مگر لگاتار کوشش کرناہے: اگر آپ اپنے جسم میں کثرت کر کے اسے خوبصورت ورزشی جسم میں ڈھالنا چاہتے ہیں تو پھر یہ یاد رکھیں کہ یہ مقصد ایک دن میں حاصل نہیں ہو سکتا ۔اس کے لئے بعض اوقات مہینوں اور اکثر اوقات سالوں تک اپنے آپ کو جم میں یا کسی کھیل کے میدان میں جا کر سخت ٹریننگ اور مشق کا عادی بنانا پڑتا ہے۔ اگر آپ جسم پر اپنے اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ ڈالیں گے تو یہ برداشت نہ کر پائے گا۔ آہستہ آہستہ وزن اٹھانے کی صلاحیت بڑھانے سے آپ کے جسم کے مسل یعنی پٹھے بننے لگیں گے۔ کام، آرام اور انعام کے اصول پر چلنے یعنی پہلے مشقت ، پھر تھوڑا سا سکون اور اپنے آپ کو تحریک دینے سے ہی بڑی منزلوں کا سفر آسان ہو جاتا ہے۔ذہنی طور پر مضبوط بننے کا عمل بھی بعین اسی طرح طے ہوتا ہے۔

ایک غلط العام خیال یہ ہے کہ آپ زیادہ وقت کام کریں گے تو کارکردگی میں خودبخود اضافہ ہو جائے گا۔ مگر ایسا ہرگز نہیں ہے۔ دفتروں میں گھنٹوںلیٹ اوقات میں بیٹھے رہنا آج کل کے دور میں محنتی نہیں بلکہ نا اہل ہونے کی دلیل سمجھا جاتا ہے۔ واضح مقاصد اور پھر اس کے لئے ترجیحا ت کا تعین کر کے فوری نتائج لانا ہی کامیابی کی بنیاد بنتا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ کو نہ صرف اپنے وقت کی قدر اور تنظیم کرنا آتی ہو بلکہ آپ اپنی توانائی کو بھی اچھے طریقے سے منظم کرنا جانتے ہوں ۔ عملی زندگی میں بھی یہی دیکھا گیا ہے کہ سُست رفتار مگر یکسو کچھوے منتشر سوچوں کے ما لک تیز رفتار خرگوشوں کو ہرا دیتے ہیں۔

کارکردگی کا تیسراا صول دخل اندازیوں سے بچناہے: یہ کوئی راز نہیں ہے کہ یکسوئی اور ارتکازِ توجہ کی بدولت کارکردگی میں فوری اور دیرپا اضافہ ممکن ہوتا ہے۔ علم ِ نفسیات میں سائنسی طور پر یہ ثابت شدہ بات ہے کہ جو لوگ کام کے وقت کسی بھی قسم کے لالچ اورکشش سے اپنی ذات کو اُوپراٹھانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے لئے کام پر کامل توجہ دینا چنداں مشکل نہیں رہتا۔اس سلسلے میں 1970کی دہائی میں کی گئی ٹافیوں پر کی گئی ایک تحقیق اہم ہے۔ جسے امریکہ کے مشہور سٹین فورڈ یونیورسٹی میں والٹر مشیل نے کیا تھا۔

اس میں انہوں نے 32بچوں کا اپنی ذات پر کنٹرول اور اپنی خواہشات کی تکمیل کرتے ہوئے فوری تسکین یا اسے روک لینے کا سائنسی مطالعہ کیا تھا۔اُنہوں نے بچوں کے سامنے ٹافیاں رکھ دیں اور انہیں بتایا کہ اگر وُہ اُسے فوراً کھا لیںگے تو انہیں کوئی انعام نہیں ملے گا مگر اگر وُہ 15منٹ تک اپنی اسے کھانے کی خواہش کو روک لیں گے تو انہیں ایک اور بسکٹ بطور انعام ملے گا ۔جن بچوں نے محقق کے جاتے ہی ٹافی کھا لی تھی ایسے بچے عملی زندگی میں کچھ بڑا نہ کر سکے کیونکہ وُہ اپنی پڑھائی اور کام پر بھی توجہ نہ دے سکے اور کسی بھی بیرونی دخل اندزی پر فوری طور پر اپنے کام چھوڑ کر فوری تسکین کی راہ پر چل پڑتے تھے۔ مگر جن بچوں نے ٹافی بھلا کر اپنی توجہ کام پر مرکوز کر لی اور بعد میں دیکھا گیا کہ ان کے امتحانات میں مارکس بھی زیادہ تھے اور وُہ عملی زندگی میں کامیاب بھی زیادہ ہوئے۔ اگر آپ کی خواہش ہے کہ آ پ کچھ بڑا کریں تو اس کے لئے جو کام فوراً لطف دینے والے ہیں جیسے فلم دیکھنا، کہیں سیر و تفریح کے لئے جانا، دوستوں کے ساتھ گپیں لگاناوغیرہ کو بڑے مقاصد کے لئے چھوڑنا ہو گا۔

کارکردگی کا چوتھااصول آرام کرنا ہے: عام لوگوں کا خیال ہے کہ ہر وقت بہت زیادہ لگاتار محنت ہمیشہ اچھے نتائج لاتی ہے۔ مگر نفسیات میں ریسرچ سے اس بات کی نفی ہوئی ہے۔ گھنٹوں ایک ہی کام کرنے اور اسی پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کرنے کے نتائج بجائے اچھے کے اُلٹ آتے ہیں۔ یعنی کارکردگی میں اضافے کی بجائے کمی آتی ہے۔ایسا کرنے سے فرد ذہنی دبائو کا شکار ہو کر اس کا م کو ہی ہمیشہ کے لئے خداحافظ کہہ دیتا ہے۔

کھیلوں کے میدان میں چیمپئن خواہ وہ ریسلنگ میں ہو یا اتھلیٹکس میں، سکواش میں ہو یا ویٹ لفٹنگ میں، کرکٹ میں ہو یا ہاکی میں، ایسے چیمپئنز وقفوں وقفوں سے مشق (پریکٹس)کرتے ہیں۔ لگاتار کوشش اور استقامت جہاں فرد کا سٹیمنا(قوتِ برادشت) بڑھاتی ہے وہیں اس میں فرد اگر ایک حد سے زیادہ توانائی لگاتاہے تواس میں انجری یعنی مشق کے عمل میں خود کو ہی زخمی کر لینے کے چانسز بہت بڑھ جاتے ہیں۔

سائنسی طور پر ثابت شدہ بات ہے کہ کسی بھی کام میں 52منٹ کام کرنے کے بعد 15سے17منٹ تک اپنے آپ کو سکون دینا تاکہ جسم اور دماغ دوبارہ تروتازہ ہو جائیںبہت ضروری ہے۔ سائنیٹفک امریکن میں شائع شدہ تحقیق میں یہ بتا گیا ہے کہ ضرورت سے زیادہ لگاتار کام دماغ کو اپنے پوری استعداد پر کام سے روک دیتا ہے۔جس کی وجہ یہ ہے کہ دماغ کو خون اور آکسیجن کی رسد میں کمی آتی ہے اور فرد کسی بھی کام پر اپنی پوری توجہ مرکوز نہیں کر پاتا ۔سائنسی تحقیقا ت میں یہ دیکھا گیا ہے کہ جب ورکرز چند ہفتوں کی چھٹیاں گذار کر واپس آتے ہیں ان کی کارکردگی میں اضافہ ہو جاتا ہے اور وُہ اپنے کاموں پر توجہ بھی بھرپور دیتے ہیں۔

سپورٹس سائیکولوجی میں ہونے والی بہت سی سائنسی تحقیقات میں اس بات پر بے حد زور دیا گیا ہے اور اس کی بارہا تاکید کی گئی ہے کہ 45سے55منٹ تک کوئی بھی کام کرنے کے بعد 16سے21منٹ تک آرام کر کے جسم و دماغ کو تازہ دَم کیا جائے جس سے نہ صرف آپ کی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ آپ کے اطمینان اور خوشی کے درجے میں بھی بہتری آتی ہے۔ مزید برآں ان وقفوں میں میوزک سننے یا کوئی بھی موسیقی کاآلہ بجانے سے بھی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔

کارکردگی کا پانچواں اصول ماحول میں تبدیلی ہے: سائیکالوجی میں ڈیسک ٹائمز میں شائع شدہ تحقیق کے مطابق دفتری ماحول میں صر ف تیزروشنی میں کام کرنے یا مصنوعی روشنی کو مناسب کر دینے، ہوا کی آمدورفت کو بہتر بنا دینے، اپنی روجہ ایک ہی کام پر مرکوز کرنے اور کام پر اپنے آپ کو مشغول رکھنے سے نہ صرف فرد کی کارکردگی میں بیش بہا اضافی دیکھنے میں آیا بلکہ فرد کی زندگی سے مجموعی اطمینان و تسکین بھی بہت زیادہ بڑھ گئی۔

طبعی ماحول کا خوش گوار ہونا نہ صرف فرد کے موڈ کو بہتر بنا دیتا ہے بلکہ اس کی یاداشت، کام کرنے کی صلاحیت اور قوتِ ارتکاز کو بھی بہتر بنا دیتا ہے۔ نفسیات میں یہ بات بھی سائنسی طور پر ثابت شدہ حقیقت ہے کہ خوبصورت اور دل کش رنگ بھی ہماری کارکردگی میں اضافہ کرتے ہیں۔ کارنل یونیورسٹی میں بیٹھنے کے انداز پر تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ ہمارا بیٹھنے کا انداز بھی ہماری کارکردگی اور مزاج یعنی موڈ Mood پر اچھے یا بُرے اثرات مرتب کرتا ہے۔

جن لوگوں نے اپنے ڈیسک یعنی کام کرنے کی جگہ کو بہتر بنا لیا تو ان کی کارکردگی میں بھی خاطر خواہ بہتری دیکھنے میں آئی۔ جب بھی آپ بیٹھ کر کام کریں تو اپنی کمر کو 90کے زاویے پر سیدھا رکھیں گے تو کسی بھی کام میں آپ کی قوتِ ارتکاز اور کارکردگی میں فوری اضافہ ہو جائے گا۔کہا جاتا ہے کہ کرسی پر بیٹھنے سے ہونے والی اَموات دنیا میں کسی بھی مرض سے ہونے والی اَموات سے زیادہ ہیں۔ اس لئے اب کھڑے ہو کر کام کرنے کے کلچر کو دنیا کی بڑی کمپنیوں میں فروغ دیا جا رہا ہے تا کہ جس کی وجہ سے موٹاپے اور ہارٹ اٹیک، شوگر اور دیگر امراض جو بیٹھے رہنے کی وجہ سے ہوتے ہیں میں کمی لائی جا سکے۔

کارکردگی کاچھٹا اصول اپنے کام کے علاوہ باقی سب بھلادیناہے: بہتر اور شاندار کارکردگی دکھانے والے لوگ اکثر اوقات اپنے کام میں اپنے آپ کو اس قدر بھُلا دیتے ہیں کہ اُن کا اپنے کام سے عشق دوسروں کے لئے مثال بن جاتا ہے۔چند گھنٹوں میں وُہ دن بھر کا کام مکمل کر لیتے ہیںجس کے بعداِن کو اپنی ذات ، دوسروں اور اپنے کام پر غورو فکر کا موقع ملتا ہے جو ان کی ٹخلیقی صلاحیتوں میں اضافے کی بڑی وجہ بن جاتی ہے۔

وُہ اپنی زندگی کو بامقصد خیال کرتے ہوئے جب کام کرتے ہیں تو کام پر ہی توجہ دیتے ہین لیکن جب آرام یا تفریح میں مشغول ہوتے ہیں تو لگتا ہے کہ انہوں نے کبھی کوئی کام کیا ہی نہیں۔ اس لئے آپ بھی زندگی کو یہاں اور اِسی وقت یعنی Here and Now کے اُصول کے تحت گذارنا شروع کریں جس مطابق آپ جوکام کررہے ہو ں، اُس پراپنی پوری توجہ اور توانائی لگا دیں تو کیسے ممکن ہے کہ آپ کا نام بھی کامیاب لوگوں کی فہرست میں شامل نہ ہو۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

کون ہے جو کامیاب نہیں ہونا چاہتا؟ آپ کے خیال میں کیا سب کامیاب ہونا چاہتے ہیں؟اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو جناب آپ کا جواب ماہرین نفسیا ...

مزید پڑھیں

کامیابی چاہے دنیا کی ہو یا آخرت کی ،ہر دوجگہ فرد کی کامیابی کا انحصار سب سے زیادہ اس بات پرہوتا ہے کہ وُہ کن لوگوں کو اپنی راہنمائی کے قا ...

مزید پڑھیں

اس دنیا میں کامیابی دراصل انسان کی شعوری کاوشوں اور کوششوں کا نتیجہ ہوتی ہے جس میں فرد ایک واضح مقصد کے حصول کے لئے یکسو ہو کر جدو جہد کرت ...

مزید پڑھیں