☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل خصوصی رپورٹ عید اسپیشل غور و طلب فیشن صحت دین و دنیا کیرئر پلاننگ ادب
کامیابی سے متعلق7فکری مغالطے اور ان کا حل

کامیابی سے متعلق7فکری مغالطے اور ان کا حل

تحریر : پرفیسر ضیا ء زرناب

06-02-2019

کامیابی کیا ہے؟ اس سوال کا جواب دینا بہت مشکل ہے ۔کیونکہ ہر کسی کے لئے کامیابی کی تعریف الگ ہے اورکامیابی ایک موضوعی عنوان ہے کہ اِسے ہر فرد مختلف انداز اور تناظر میں دیکھتا ہے ۔کسی کے خیال میں دولت پا لینا کامیابی ہے تو کوئی آخرت میں بڑا مقام پالینے کو کامیابی تصور کرتا ہے۔کسی کیلئے اپنے خاندان کو کامیاب دیکھنا کامیابی ہے تو کسی کیلئے اعلیٰ تعلیم یا گریڈ پالینا ترقی اور کامیابی ٹھہرا۔

کوئی اپنی زندگی کے مقاصد کے حصول کو کامیابی مانتا ہے تو کوئی معاشرے میں کچھ اچھا اور مثبت کرنے کو کامیابی خیال کرتا ہے ۔ کامیابی کی جامع تعریف یوں کی جا سکتی ہے کہ کامیاب فرد کا زندگی میں کوئی ایساقابل قدر اور مثبت مقصد حاصل کر لینا کہ جس کیلئے کوشش اور جدو جہد میں حقیقی لطف محسوس ہوکیونکہ اِس مقصد کو حاصل کرنے سے نہ صرف فرد بلکہ معاشرے میں بھی مثبت اور شاندار تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں بلکہ ا س عمل میں فرد کو اپنی پوری استعداد، لیاقت، ذہانت اور قوت سے کام کرنے کا موقع ملتا ہے کہ سب اس پر رشک کرنے لگتے ہیں۔ کامیابی کے متعلق کہیں لوگوں میں کچھ خوش فہمیاں پائی جاتی ہیں تو کہیں کچھ غلط فہمیوںنے دلوں اور دماغوں میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں ۔ان خوش فہمیوں اور غلط فہمیوںکا جاننا اور ان کا ازالہ کیا جانا ضروری ہے ورنہ کامیابی کا حصول مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جاتا ہے۔انہیںمجموعی طور پر کامیابی کے فکری مغالطے کہا جا سکتا ہے۔ ذیل میں ان میں سے سات(7) بڑے فکری مغالطوں اور ان کے ازالوںکو بیان کیا جاتا ہے تاکہ ان مغالطوںسے بچاجا سکے اور فردبہ آسانی زندگی میں اعلیٰ کامیابی حاصل کر سکے۔

کامیا بی راتوں رات مل جاتی ہے: راتوں رات کامیابی محاوروں میں تو ممکن ہوتی ہے مگر عملی زندگی میںایسا ہونا اگر ناممکن نہیں تو بے حد مشکل ضرور ہے۔ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کا اس بات پر یقین ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے بھی کوئی بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے وُہ راتوں رات ممکن کر دکھا یا ہے۔لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ۔دنیا میں کچھ بھی راتوں رات حاصل نہیں ہوتا ہے۔ دنوں،ہفتوں، مہینوں اور سالوں کی تیاری کے بعد کوئی موقع ایسا آتا ہے کہ جس میں کامیاب ہونے والے فرد کو اپنی کارکردگی دکھانا ہوتی ہے۔اور اِس سالہا سال کی انتھک محنت کی بدولت وُہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ اُس دن میلہ لوٹ لے، چیمپئن شپ جیت لے، یعنی وُہ کر دکھائے جو کسی نے سوچا تک نہ ہو۔ فٹ بال کی دنیا میں روش مثال ارجنٹائن کے معروف کھلاڑی لیونل میسیMessi نے جب ایک میچ میں اعلیٰ ترین کارکردگی دکھائی تو رپورٹرکہنے لگا آپ نے تو رات رات کامیابی کما لی۔جواب میں لیونل میسی نے شاندار بات کہی جو سونے کے حروف میں لکھنے کے قابل ہے کہ اِس راتوں رات کامیابی کیلئے مجھے صرف 17سال اور114دن مسلسل محنت کرنا پڑی ہے۔ ایک پراڈکٹ کو راتوں رات کامیاب بنانے میں ہزاروں لوگوں نے تین سال تک سٹیو جابزکے ساتھ مل کر کام کیا تھا تب جا کر یہ شاندار پراڈکٹ وجود میں آئی تھی۔ مشہور زمانہ ٹوئٹر Twitterکو بنانے والے بِز سٹون کو آٹھ سال دوسری مصنوعات بناتے گذر گئے تو انہیں یہ بنانے کا خیال آیا جس نے دنیا بھر میں رابطوں اور اندازِ حکمرانی کو ہی بدل ڈالا ہے۔ بچوں کی مشہور گیم اینگری برڈ کے خالق Rovioنے پچاس مُختلف گیمیں بنائی اور تقریباًقلاش ہی ہو گیا تھا کہ اِس گیم نے دنیا بھر میں فروخت کے ریکارڈ قائم کر ڈالے۔ مشہورِزمانہ انگلش بینڈ Beatlesکوپہلے گانے سے کامیاب ہونے میں دس سال کا عرصہ لگ گیا۔ اپنا وقت لانے میں وقت تو لگتا ہے،محنت تو ہوتی ہے، کام تو کرنا پڑتا ہے تب کہیں جا کر ہی کامیابی کا ہما فرد کے سر پر آکر بیٹھا کرتا ہے۔

کامیاب لوگ کبھی ناکام نہیں ہوتے؟: لوگ اکثر یہ خیال کرتے ہیں کہ کامیاب لوگ کبھی ناکام نہیں ہوتے۔وُہ جس کام میں بھی ہاتھ ڈال دیں وہاں مٹی سونا بن جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہار اور جیت ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیںمگر یاد رکھیں ہار جیت اسباب نہیں نتائج ہیں۔جو لوگ ہارنے کے ذائقے سے نہ آشنا ہیں وُہ جیت کا مزہ کبھی نہیں چکھ سکتے۔ جیت کیلئے پہلے ہارنا پڑتا ہے۔ اور کہا جائے کہ بار بار ہارنا پڑتا ہے تو بھی غلط نہ ہو گا۔ تھامس ایڈسن Thomas Edisonنے بلب ایجاد کرنے کیلئے دس ہزار مرتبہ ناکامی کا منہ دیکھا تب کہیں جا کر دنیا نے راتوں میں جگمگ کرتا بلب پایا۔ کسی نے اُن کا دل توڑنے کیلئے کہا کہ بس کرو تو اُن کا کہنا تھا کہ مُجھے نو ہزار ایسے طریقے پتہ ہیں کہ جب بلب نہیں بنتا۔ دنیا بھر میں بچوں کی مقبول ترین کتابوں کا سلسلہ ہیری پوٹر Harry Potterکی مصنفہ جے۔کے ۔رولنگ سٹون کو آٹھ ممتاز پبلشرز نے رد کر دیا تھایہاں تک کہ نویں پبلشر کی آٹھ سالہ بیٹی کو ناول کا مسودے کا پہلا باب مل گیا ۔بچی بہت بے تاب تھی کہ جلد از جلد پوری کتاب ختم کر لے اس لئے اُس نے اپنے والد سے ضد کی کہ اُسے باقی ناول بھی پڑھنے کو دیا جائے۔ بس اسی بات سے خوش ہوکر پبلشر نے کتاب چھاپ دی جس کی پہلے ہی سال پچاس لاکھ سے زائد کاپیاں فروخت ہو گئیں جس نے ہیری پوٹرکو سلسلے کو بچوں کی مقبول ترین کتاب بنا دیا۔ اسی طرح ولیم گولڈنگ کے مشہور ناول لارڈ آف دی فلائز Lord of the Fliesکے مسوددہ کے بیس بار رد کیا گیا مگر اب اِسے انگلش ادب کے شاندار ترین ناولوں میں سے ایک جانا جاتا ہے۔ معروف ٹرینر اور مصنف جیک کین فیلڈ کی شہرہ آفاق کتاب چکن سوپ فار دی سول Chicken Soup for the Soulکو 240سے زائد پبلشرز نے فضول ترین کتاب قرار دے کر شائع کرنے سے انکار کر دیا۔ اس سلسلے کی اب تک 5کروڑ سے زیادہ کتابیں فروخت ہو چُکی ہیں۔ بچوں کے معروف کارٹون بنانے والی کمپنی کو اپنا پہلا سپانسر تلاش کرنے میں 302لوگوں سے ’’نہ‘‘ سُننا پڑی تب جا کر پہلی کارٹون فلم بن سکی اور اب اِسے دنیا کی سب سے بڑی کمپنی مانا جاتا ہے۔برگر بنانے والی کمپنی کے مالک کرنل سینڈرز کو 1009لوگوں نے انکار کیا تب جا کر کہیں اُن کے چکن کی ترکیب کو خریدنے کیلئے حامی بھری گئی جس کی آج دنیا بھر میں ہزاروں برانچیں ہیں۔ سادہ لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ کامیابی کی پہلی سیڑھی ناکامی ہے ۔

کامیابی مقدر میں لکھی ہوتی ہے:۔آج کل جس سے بھی بات کی جائے وُہ سمجھتا ہے کہ انسان کی نصیب میں ہی سب کچھ لکھا ہے۔ اس لئے جو ہونا ہووہ ہوکر رہنا ہے اس لئے کیا اپنے آپ کو بدلنا اور کامیابی کیلئے کوشش کرنا۔ایسے لوگوں کے دل و دماغ اس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں سب کوششیں بے سو داور بے معنی ہیں کیونکہ ہونا تو پھر وُہی ہے جو مقدر میں لکھا ہے۔ ویسے بھی مقدر کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے؟ سارا الزام دو مقدر اور نصیب کو اور خود بری الذمہ ہو کر بیٹھ رہو۔ اللہ کی کتاب کہتی ہے کہ انسان کیلئے وہی کچھ ہے جس کی وُہ کوشش کرتا ہے۔ نصیب اور مقدر کی بحث میں الجھے بغیر صرف اتنا کریں کہ اپنے حصے کا کام کر جائیں کیونکہ شاید نہیں بلکہ یقینا ا للہ نے آپ کو اسی مقصد کے لئے دنیا میں بھیجا ہے۔ مقدر کو حتمی ماننے والے کوشش ہی نہیں کرتے اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ انسان کی فطرت نہیں بدل سکتی۔مگر انسان کے ہاتھوں کو محنت کیلئے آزاد رکھا گیا ہے ۔کوشش فرض کی گئی ہے اور کامیابی کو دکھ اورسخت محنت کی چادر اوڑھا کر چھپا دیا گیا ہے۔سخت محنت سے ہی کامیابی ممکن ہے مگر بعض لوگ اسے نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ کامیابی سمارٹ ورک یعنی دانشمندی سے کام کرنے سے ملتی ہے۔جناب! سخت محنت کرنے والوں پر ہی توSmart Work کرنے کے راز کھولے جاتے ہیں۔ ڈھونڈنے والوں کو نئی دنیا بھی عطا کر دی جاتی ہے مگر تلاش میں اپنا آپ نہ کھپانے والوں کو خود کی ڈور بھی نہیں ملتی اور اپنا دامن بھی ہاتھ نہیں آتا۔

کامیابی صرف بڑا سوچنے سے مل جاتی ہے:لوگ خیال کرتے ہیں کہ بڑا یا مثبت سوچنے سے بڑی کامیابی مل جاتی ہے۔یہ ایک بالکل غلط العام خیال ہے کہ جس کی کوئی حقیقت نہیں ۔کامیابی بڑی سوچوں میں جینے کا نہیںبلکہ عمل کی دنیا اور بڑے کاموں میںاپنے آپ کو آزمانے کا دوسرا نام ہے۔ مشہور مصور پابلو پکاسو کہتا ہے کہ عمل ہی تمام کامیابیوں کی اصلی کنجی ہے۔کامیابیوں کے دروازے ہمیشہ عمل کی چابیوں سے کھولے جاتے ہیں اور ناکامی کی صورت میں چابیاں بدلنے سے دروازوں کا کھل جانایقینی ہے۔ میدان ِعمل میں ہی تو پتہ چلتا ہے کہ گفتار کا غازی کون ہے اور عمل کا شہنشاہ کون ہے ؟ عمل ہی سے تو عادتیں بنتی ہیں جو کسی کو کامیاب تو کسی کو ناکام بناتی ہیں۔ عادت بنانا آسان ہوتا ہے مگر اِس سے جان چھڑانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ کیونکہ نیوروسائنس ہمیں بتاتی ہے کہ عادتیں ہمارے دماغ میں ایک پیٹرن بنا لیتی ہیں جو خود کار طریقے سے ہمیں کسی بھی کام کو سرانجام دینے میں مدد دیتی ہیں۔ بار بار جب ان اعمال کو سرانجام دیا جاتا ہے تو فرد کو اس میں کوئی شعوری کاوش نہیں کرنا پڑی ہے۔ یعنی چاہے ہم کامیاب ہوں یا ناکام دراصل یہ ہمارے ہی کئے ہوئے ان اعمال کا نتیجہ ہوتی ہیں جنہیں ہم بار بار سرانجام دیتے ہیں اور ان کو عادت کہا جاتاہے۔ عمل میں ارادہ کو لا کر شعوری طور پر کرنے سے اس پیٹرن کو توڑا جا سکتا ہے اور نئی عادات کو دماغ میں ڈالا جا سکتا ہے۔ہمارے دماغ میں یہ صلاحیت ہے کہ ہم اس میں موجود کنکشنز اور خودکار سوچوں کا نہ صرف جائزہ لے سکتے ہیں بلکہ ان میں من چاہی تبدیلی بھی لا سکتے ہیں۔ اس عمل کو سائنس کی زبان میں Neuroplasticityکہا جاتا ہے۔ اسکی مدد سے تو دماغ میں اگر کوئی چوٹ وغیرہ لگ جائے تو وُہ اپنے مرمت خودکار طریقے سے کر لیتا ہے ۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ علم بہت بڑی طاقت ہے مگر یہ غلط ہے ۔ علم ایک ممکنہ بڑی قوت ہے جو اُس وقت تک قوت نہیں بنتی جب تک اُسے عمل میں نہ لایا جائے۔ اصل میں اگر کہا جائے کہ سوچو، عمل کرو اور کامیاب ہو جائو تو غلط نہ ہو گا کیونکہ درحقیقت عمل میں ہی کامیابی کا راز پوشیدہ ہے۔

کامیاب لوگ بڑے خوش قسمت ہوتے ہیں:لوگوں میں ایک اور بڑی غلط فہمی یہ بھی پائی جاتی ہے کہ کامیاب لوگ خوش قسمت ہوتے ہیں۔ قسمت کی دیوی اِن پر کچھ زیادہ ہی مہربان اور فیاض ہوتی ہے۔ ان کو دوسرے سے کچھ زیادہ ہی عطا کرتی ہے۔ مگر سچ اِس کے بالکل متضاد ہے۔ کامیاب لوگ زیادہ محنت کرتے ہیں، زیادہ حوصلہ مند ہوتے ہیں اور اپنے کاموں کو زیادہ تندہی اور مستقل مزاجی سے سرانجام دیتے ہیں۔وُہ جلد تھکتے نہیں اور ہار نہیں مانتے۔ایسے پیشوں میں جاتے ہیں جہاں ان کا دل اور دماغ دونوں یکسوئی سے مقاصد کے حصول میں خوشی سے کوشش کرتے ہیں۔ مقابلے کی دنیا میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ لگاتار اورمسلسل کوشش اور جدوجہد مقدر سے بازی لے جاتی ہے۔ سابق مشہور امریکی صدر ابراہم لنکن نے کیا شاندار اور خوبصورت بات کہی ہے کہ میں جتنی اپنی کوشش بڑھاتا چلا جاتا ہوں اُتنا ہی زیادہ خوش قسمت ہوتا چلا جاتا ہوں۔ آپ بھی اپنی خوش قسمتی کو بڑھانے کیلئے یہ فارمولہ استعمال کر سکتے ہیں یعنی اپنی کوشش بڑھا دیں نتائج آپ کو حیران کر دیں گے۔قسمت ہاتھوں کی لکیروں میں نہیں ہاتھوں کی محنت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔دنیا میں آپ جیسا بھی ایقان لے کر آتے ہیں آپ کو دنیا میں ویسا ہی سبب ملتا ہے یعنی اگر آپ اپنے آپ کو خوش قسمت تصور کرتے ہیں تو کائنات میں آپ کو خوش قسمت بنا دیا جائے گا۔ویسے بھی خوش قسمت تو وُہ ہے جو اپنی قسمت پر خوش ہے۔ اسے مان لیں اور مزید خوش قسمت بنانے کی ٹھان لیں خدا آپ کو کبھی مایوس نہیں کرے گا۔ بڑا سوچیں، بڑا کریں اور بڑے لوگوں سے ملیں ۔آپ کی قسمت میں بھی بڑے بڑے کامیابی کے مواقع آنے لگیں گے۔ مواقع قسمت والوں کو نہیں بلکہ اِن مواقعوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے تیار لوگوں کو ملتے ہیں۔ آپ کے ذمے بس محنت اورتیاری ہے ۔جوش و خروش اور ذوق و شوق سے جاری رکھیں جلد آپ کو بھی ان خوش قسمت اور کامیاب لوگوں کی فہرست میں شامل کر دیا جائے گا۔

کامیابی صرف دولت(پیسے) کما لیناہے: کچھ لوگوں میں یہ بات بھی غلط طور پر مشہور ہے کہ کامیابی کا مطلب صرف اور صرف پیسے کمانا یا سادہ لفظوں میں دولت کا حصول ہے ۔چونکہ دولت تمام برائیوں کی جڑ ہے اس لئے کامیابی کے لئے کوشش کرنا کوئی اخلاقی طور پر غلط یا ناپسندیدہ کام ہے۔یاد رکھیں دولت یا پیسہ بذاتِ خود کوئی اچھی یا بُری چیز نہیں ہے صرف اِس کا استعمال اچھا یا بُرا ہو سکتا ہے۔ یہ بالکل آگ کی طرح ہے کہ جس سے کسی کے لئے کھانا بھی بنایا جا سکتا ہے اور کسی کو جلایا بھی جا سکتا ہے۔چُھری سے پھل کاٹنا ہے یا بندہ مرضی تو انسان کی ہوتی ہے ناں!یعنی اصل بات کسی چیز کا استعمال اور اس میں کی جانیوالی نیت ہے ۔حلال ذرائع سے دولت کمانے بلکہ بہت زیادہ دولت کمانے میں کوئی مذائقہ نہیں۔ اپنے اہل و عیال کیلئے معاشی سرگرمی سے دولت کمانے کو کوئی بھی مذہب بھلاکیسے غلط قرار دے سکتا ہے ؟ مگر کمائی کے عمل اور پھر اس کے استعمال کواچھا بنانا خیر کے سرچشموں میں سے ایک ہے۔ خیر اور بھلائی کے کاموں میں استعمال کی جانے والی دولت سے بڑھ کر انسان کے لئے اور کیا نیکی ہو سکتی ہے؟ مگر یاد رہے یہ کامیابی کا صرف ایک جزو ہے۔ مکمل کامیابی تو اپنے لئے ، اپنوں اور دوسروں کو خیر مہیا کرنے کا نام ہے۔ یہی حقیقی اور اصلی کامیابی ہے جو سب کیلئے خیر ہی خیر ہے۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

دنیامیں کوئی کروڑ پتی ہے تو کوئی چندروپوں کو ترس رہا ہے۔ کوئی خزانوں کا مالک ہے تو کسی کے گھر میں فاقوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ کوئی دنوں می ...

مزید پڑھیں

لوگ صرف دولت کما لینے کو ہی ترقی تصور کرتے ہیں۔ مگر دنیا بھر کا دھن اکٹھا کر لینے اور مال وزر جمع کر لینے کے بعد اگر روح پُرسکون نہیں ہے او ...

مزید پڑھیں

زمانہ قدیم سے ہی دنیا بھر میں کہانیاں سُننا اور سنانا پسندیدہ ترین شغل رہا ہے۔ کہانیوں سے ہم نہ صرف اخلاقی قدریں سیکھتے ہیں بلکہ ان سے سی ...

مزید پڑھیں