☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل عالمی امور کیرئر پلاننگ سنڈے سپیشل فیشن کھیل کچن کی دنیا شوبز خواتین دنیا کی رائے روحانی مسائل طنزومزاح ادب
کامیابی کے لئے کوچ کیسے چنا جائے ؟

کامیابی کے لئے کوچ کیسے چنا جائے ؟

تحریر : پرفیسر ضیا ء زرناب

07-07-2019

کامیابی چاہے دنیا کی ہو یا آخرت کی ،ہر دوجگہ فرد کی کامیابی کا انحصار سب سے زیادہ اس بات پرہوتا ہے کہ وُہ کن لوگوں کو اپنی راہنمائی کے قابل سمجھتا ہے ؟ان کے کردار کو اپنی زندگی میں کس قدر اہمیت دیتا ہے اور ان لوگوں کی ارادی یا غیر ارادی طور پر کتنی اتباع اور پیروی کرتا ہے۔

یعنی سادہ لفظوں میں کامیاب لوگوں کے راہنماء بھی کامیاب لوگ ہی ہوتے ہیں کہ جن کو فرد اپنا رول ماڈل یعنی اعلیٰ ترین قابلِ اتباع فرد تصور کرتا ہے اور اُن کے اعمال اور اقوال پر عمل پیرا ہوتا ہے ۔اس پیروی کی بدولت وُہ جلد کامیاب ہو جاتا ہے۔ کامیاب لوگوں کے اِن راہنمائوں کے کئی نام ہیں، کوئی ان کوپیر یا مُرشد کہتا ہے تو کوئی اپنا گرو یا شیخ مان کر ان کے پیچھے چلتا ہے ، کوئی انہیںکوچ یا لیڈرکا نام دیتا ہے تو کوئی انہیں مینٹور (Mentor)مان کر تکریم دیتا ہے ۔جب فرد اپنے راہنماء کا درست انتخاب کرنے میں کامیاب ہو جائے تو اُس کی کم وقت میں کامیابی کی نہ صرف ضمانت دی جا سکتی ہے بلکہ ذاتی،معاشی، اخلاقی، روحانی، جسمانی، علمی،پیشہ وارانہ اور سماجی نشوونما کی رفتار بھی بہت تیز ہو جاتی ہے۔مگر دوسری صورت میں اگر فرد سے اپنے راہنماء ، گرو،مرُشد، شیخ، مینٹور، کوچ، لیڈریا اُستاد کے انتخاب میں غلطی ہو جائے تو تو دُنیا کا کوئی شخص اسے کامیابی کی منزل پر نہیں پہنچا سکتا۔ اس غلطی سے دُنیا کو کوئی بھی شخص مندرجہ ذیل سات (7) سائنسی اصولوں پر عمل پیرا ہو کر بچ سکتا ہے۔

پہلا اصول: راہنماء قابل ہو۔

ر اہنماء میں پہلی خوبی جو درکار ہے وُہ یہ ہے کہ وُہ اس قابل ہو کہ آپ کی اپنے میدان ِعمل میں راہنمائی کر سکے اور آپ کو اپنا پیروکارماننے پر بھی آمادہ ہو۔ کسی بھی فرد کے ہاتھ میں اپنی ذات اور شخصیت سمیت ہمہ جہت اور ہمہ پہلو نشوونما اور ترقی کاسٹیرنگ دینے سے پہلے آزما لیں کہ وُہ فرد اس قابل بھی ہے کہ آپ کی کشتی کو پار لگا سکے۔ کسی کو اپنا راہنماء ماننے سے پہلے یہ ضرور دیکھیں کہ جو آپ مستقبل میں بننا یا کرنا چاہتے ہیں فرد نے اُس میدان ِعمل میں ا تنی ترقی کر لی ہے کہ اب وقت اور تجربات نے اُسے اس قابل بنا دیا ہے کہ وُہ آپ کی راہنمائی کا فریضہ بطریقِ احسن ادا کر سکے۔جس میدانِ عمل میں آپ اُس فرد سے راہنمائی کے طلبگار ہیں اُس میں اس فرد نے اپنی لیاقت، ذہانت ، قابلیت اور شخصیت سے ممتاز مقام اور الگ شناخت بنا لی ہے۔ اس نے درکار تجربہ، سرٹیفیکیٹس اور ڈگریاں حاصل کر کے اس بات کا ثبوت فراہم کر دیا ہے وُہ اپنے فیلڈ کا گرو ہے۔ ایسے لوگوں کے پاس آپ کو دینے کے لئے قیمتی ترین دولت اُن کا وقت ہوا کرتی ہے اور یہ آپ کی صلاحیت ہے کہ آپ اُن سے کتنا فائدہ حاصل کرتے ہیں؟

دوسرا اصول:راہبر قابلِ بھروسہ اور مُستند ہو

کسی بھی سائنسی تحقیق کے دُرست ہونے کا پہلا معیار یہ ہے کہ وُہ ہر بار تقریباً ایک سے ہی نتائج لاتی ہے اور اُسی پہلو کو جانچتی ہے جس کے لئے اُسے بنایا گیا ہوتا ہے۔ بعین ہی اسی طرح آپ کے راہنماء کو بھی وقت اور اصولوں کی تمام آزمائشوں پر پورا اُترنا چاہئے ۔اس لئے اپنے راہنماء کو چُنتے ہوئے اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ وُہ قابلِ بھروسہ اور مستند ہو یعنی جتنی بار بھی انہیں آزمایا جائے نتائج تقریباً ایک جیسے ہی آئیں تاکہ آپ اپنے راہنماء کو Reliable اور Valid مان سکیں۔ اُسے اعلیٰ کردار اور صفات کا حامل ہونا چاہئے تاکہ وُہ آپ کی ذات میں بھی اِن اعلیٰ اصولوں ، جاندار صفات اور شاندار کردار کو پروان چڑھا سکے۔ایک عظیم قائد یا راہبر کی ذات ، صفات اور شخصیت میں اس قدر پختگی ہونی چاہئیے کہ اُس پر بھروسہ کرتے ہوئے اُس کے پیروکار کسی تذبذب اور تشویش کا شکار نہ ہوں۔۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اپنے راہنماء کی اچھی طرح چھان پھٹک کر لیںکہ وُہ آپ کی راہنمائی کے قابل بھی ہے یا نہیں؟سادہ لفظوں میں انگریزی کے محاورے کے مطابق Test Before Trust یعنی اعتماد سے پہلے آزما کر دیکھ لیں۔

تیسرا اصول: راہنماء کامیاب ترین افرادمیں سے ہو ۔

اب تو دنیا بھر میں اعلیٰ ترین کامیاب ہونے والے لوگ ہر شعبے میں اپنے لئے رہنماء یا کوچ رکھتے ہیں کیونکہ آج کل اعلیٰ ترین تخصیص یعنی Super Specialization کا دور ہے اور ہر فیلڈ میں کامیابی کی نئی داستانیں رقم ہو رہی ہیں۔ایک روحانی راہنماء آپ کی جسمانی یا معاشی مسائل کا مکمل ادراک اور حل کیسے تجویز کر سکتا ہے؟ اس لئے تو کامیاب لوگ ایک ہی وقت میں مُختلف شعبہ ہائے زندگی کے ماہرین اور گرئووں کی راہنمائی سے فیض یاب ہو رہے ہوتے ہیں۔ آپ بھی اپنی زندگی کے اُن پہلوئوں جہاں آپ خیال کرتے ہیں کہ آپ کو راہنمائی کی ضرورت ہے کیلئے مُختلف پیشوائوں سے مدد حاصل کریں اور اپنی زندگی کو بہتری کی سڑک پر دوڑائیںجہاں رفتار اور فاصلے کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ مگر ان سب کے لئے ایک لازمی شرط یہ ہے کہ جس میدان میں بھی آپ کسی سے راہنمائی حاصل کریں وُہ فرد اپنے فیلڈ کا جانا مانا فرد ہو جس کی پیشہ وارانہ صلاحیت ، قابلیت اور لیا قت کو سب مانتے ہوں اور اُس کا اپنے شعبے میں ایک بڑا مقام و مرتبہ ہو۔آج کل کسی بھی شعبے میں اپنا مقام بنانے اور منوانے میں 15سے20سال کا عرصہ لگ جاتا ہے اور فرد اُس فیلڈ کی تمام باریک جزئیات اور تفاصیل سے آگاہ ہو جاتا ہے ۔جسے وُہ دوسروں میں چند سالوں میں منتقل کر سکتا ہے۔ اسی لئے تو آج کے انسان کا علم بہت تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پچھلے دور کا انسان جتنا علم پانچ لاکھ سالوں میں حاصل کرتا تھا اب اُس سے کہیں زیادہ اضافہ پانچ سالوں میں ہو رہا ہے۔انسان کی سیکھنے اور سکھانے کی صلاحیت میں بھی بہت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ پہلے کسی بھی شعبے میں بنیادی تبدیلیاں آنے میں دہائیاں لگتی تھی مگر اب یہ کام مہینوں اور سالوں میں مکمل ہو جاتا ہے۔ اس لئے کسی بھی شعبے کے وُہ لوگ جنہیں ماہرین اور گرو کا درجہ حاصل ہے کو اپنا علم اور ہنر لگاتا ر Updateرکھنا پڑتا ہے ۔ایسے لوگوںپر مسلسل محنت اور مستقل مزاجی کی بدولت فطرت اپنے کچھ راز کھول دیتی ہے جن پر عمل کر کے زیادہ تیزی اور جلدی سے وُہ نتائج لائے جاسکتے ہیں جن کو لانے میں خود اِن لوگوں کو ایک لمبا عرصہ لگا تھا۔کسی بھی شعبے میں جلد ترقی اور کامیابی کے لئے آپ کے راہنماء کا شمار اس میدان کے Top 5% لوگوں میںہونا بہت ضروری ہے تاکہ وُہ آپ کو کامیابی کی منازل آسانی سے طے کرا سکے۔

چوتھا اصول: راہنماء علمی اور عملی طور پر مضبوط فرد ہو ۔

کامیابی کی دنیا میں علم اور عمل ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ یہاں علم بغیر عمل اور عمل بغیر علم سے بچا جاتا ہے کیونکہ اس گرداب میں گھرے لوگوں کا مقدر صرف اور صرف ناکامی ہوا کرتی ہے ۔راہنمائی کیلئے علم بنیادی ضرورت ہے اور عمل تیز ترین ہتھیار ۔ کتابوں کی دنیا کے شہسوار اکثر عمل کی دنیا میں کامیاب نہیں ہوتے اسی لئے دنیا بھر میں کامیاب ترین پروفیسر اور سائنسدان کبھی کامیاب کاروباری فرد نہیں بن سکتے۔ضروری ہے کہ آپ جس فرد سے راہنمائی لے رہے ہیں اُسے نہ صرف اس میدان میں تھیوری کا پتہ ہو بلکہ وُہ پریکٹیکل یعنی عملی طور پر بھی ان نظریات کا اطلاق و انطباق کر کے کامیابی کی منزل پانے کا اہل ہو۔ صرف عملی طور پر کامیاب لوگوں جیسا کہ کامیاب کاروباری افراد کی زندگی بھی کسی حکمت و دانش سے خالی ہوتی ہے اسی لئے تو 90سے95فیصد کاروباری طور پر کامیاب لوگوں کے ساتھ آپ چند منٹ سے زیادہ نہیں بیٹھ سکتے کیونکہ انہوں نے پیسے تو کما لئے ہوتے ہیں مگر اپنی شخصیت کی علمی اور روحانی طور پر نشوونما نہیں کی ہوتی۔ مگر آپ ایک اُستاد یعنی پروفیسر کے پاس گھنٹوں بیٹھ کی اپنی علمی اور روحانی پیاس بجھا سکتے ہیں۔ آپ جب بھی اپنے لئے کسی بھی راہنماء کا انتخاب کریں تو اس بات کو لازمی طور پر ملحوظِ خاظر رکھیں کہ آپ کا مینٹور نہ صرف کتب بینی کا شوقین ہو بلکہ وُہ پڑھی ہوئی باتوں کو عملی جامہ بھی پہنا سکتا ہو ۔ علم کی گہرائیاں اور عمل کی تنگیاں فرد کی شخصیت اور کردار کو مضبوط اور ٹھوس بنیادوں پر اُستوار کرتی ہیںجو لازمی طور پر کامیابی کی طرف لے جاتی ہیں۔خالص علمی باتوں کو عملی طور پر ممکن کر کے دکھانے والے لوگ ہی توہیرو بنتے ہیں جن کی پیشوائی ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہوتی ہے اور ان کی پیروی کامیابی کی ضمانت ہوا کرتی ہے۔ یعنی آپ کا راہنماء نہ صرف پڑھا ہو بلکہ کڑھا ہو تا کہ آپ کی راہنمائی میں وُہ ہر طور اور ہر گام آپ کے ساتھ کھڑا ہو۔

پانچواں اصول:راہنماء کی ذات، صفات اور شخصیت آپ سے ہم آہنگ ہو ۔

دنیا کا سب سے کامیاب ترین راہنماء بھی آپ کے لئے کچھ فائدہ مندنہیں اگر آپ کی ذات، صفات اور شخصیت اس سے مطابقت نہیں رکھتی۔ کسی بھی فرد کے اپنا مرشد یا گرو ماننے سے قبل ا‘س کے ساتھ کچھ وقت گذاریں تاکہ آپ اُسے اور وُہ فرد آپ کو اچھی طرح سمجھ سکے۔یاد رکھیں کہ کامیاب لوگ اپنے راہنماء یا کوچ کے ساتھ ذاتی حیثیت میں وقت ضرور گذارتے ہیں ۔ آپ بھی ازحد کوشش کریں کہ آپ کو اُن کے ساتھ پرائیویٹ اور پروفیشنل دونوںحیثیتوں میں ان سے اپنی مطابقت اور ہم آہنگی کا پتہ چل سکے۔ سادہ لفظوں میں وُہ آپ کے ساتھ چلنا پسند کرتا ہو اور آپ کے اُس کے پیچھے چلنے میں خوشی ہو۔ فرد کا تکنیکی یعنی ٹیکنیکل علم تو بہت بعد میں آتا ہے کیونکہ اگر فرد آپ سے ہم آہنگ ہیں نہیں تو وُہ آپ کو کچھ بھی نہیں سکھا سکے گا۔مگر اس وقت اندھی عقیدت اور وابستگی کی عینک اُتار کر خالص علمی اور عقلی بنیادوں پر اس کی ذات، صفات اور شخصیت کا تنقیدی مگر مثبت انداز میں جائزہ لیں اور یہ فیصلہ کرنے کی کوشش کریں کہ آپ اُس کے ساتھ چل بھی سکیں گے یا نہیں۔ یعنی آپ کی اُن کے ساتھ کیمسٹری بھی بن سکے گی یا نہیں؟اس فیصلے کو کرتے ہوئے یہ یاد رکھیں کہ دل کی بجائے دماغ کی زیادہ سُنیں تاکہ آپ کی فیصلے کی بنیاد میں عقلی اور علمی دلائل آپ کے جذبات پر حاوی ہوں۔ کیونکہ اکثر لوگ ایسے موقعوں پر عقل کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں اور بعد میںپچھتاتے ہیں۔

چھٹا اصول:راہنماء کااندازِراہنمائی کا آپ کو علم ہو۔

راہنمائی کی بنیادی طور پر چار اقسام ہیں۔ پہلی قسم کے راہنماء کسی بھی پیروکار کی کوئی بات نہیں سنتے اور صرف احکامات جاری کرنے پر یقین رکھتے ہیں اس قسم کے راہنمائوں کو Autocraticیعنی آمرانہ یا حاکمانہ قسم کے راہنماء کہا جاتا ہے۔ عام طور پر ایسے لوگوں کے ساتھ چلنا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ یہ لوگ اپنی اصولوں میں سخت ہوتے ہیںاور سخت طبیعت کے مالک ہوتے ہیں اور تحکم پسندی ان کی ذات کا خاصہ ہوتی ہے مگر یہ اُن لوگوں کے لئے شاندار راہنماء یا گرو ثابت ہوتے ہیں جو کسی خاص ڈسپلن کے عادی نہیں ہوتے مگر اپنی ذات کو نظم و ضبط میں لانا چاہ رہے ہوتے ہیں۔ دوسرے قسم کے راہنماء جمہوری یا Democraticکہلاتے ہیں اس قسم کے راہنماء بھی باہم مشورے سے ہی چلنا پسند کرتے ہیںمگر یہ اپنے پیروکار کو کسی ضابطے ، اصول یا قانون کا پابند بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں لیتے اور فرد کے نجی اور پروفیشنل معاملات کو الگ الگ لے کر چلتے ہیں ۔ فرد کی آزادی اور عمل کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ ان کیساتھ چلنا بھی قدرے آسان ہوتا ہے۔ تیسری قسم کے راہنمائوں کو Systematicکہا جاتا ہے یہ لوگ اس پورے عمل کو منضبط اور سائنسی طور پر لے کر چلتے ہیں۔ ان کی ساری کوچنگ اور منیٹرنگ کی بنیاد عقلی اور نقلی اصولوں پر ہوتی ہے اور یہ سارے عمل کو مرحلہ وار طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔یہ زیادہ تر فرد کے مقاصد کی تکمیل کی کوشش کرتے ہیں اور فرد کی زندگی کے دوسرے معاملات میں نہیں اُلجھتے۔ ان کے ساتھ چلنا تھوڑا مشکل ضرور ہوتا ہے مگر ان کے ساتھ چل کر مقاصد حاصل کرنے کی خوشی ضرور ملتی ہے۔ چوتھی قسم کے راہنمائوں کو Collaborative یعنی باہمی افہام و تفہیم سے چلنے والے راہنماء کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ اعلیٰ اصولوں اور ضوابط پر خود بھی عمل کرتے ہیں اور اپنے پیروکاروں کو بھی چلاتے ہیں مگر ان میں کسی بھی قسم کی تحکم پسندی اور خود نمائی کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔

ساتواں اصول:راہنماء اخلاقی اصولوں پر کاربند ہو۔

راہنماء کے لئے لازم ہے کہ وُہ اعلیٰ اخلاقی اصولوں پر نہ صرف خود عمل کرے بلکہ اپنے زیرتربیت شاگردوں، کلائنٹس اور پیروکاروں کو اپنے عمل سے ان پر چلنے پر آمادہ کرسکے۔ وُہ اس پورے عمل میں خاص طور پر حاصل ہونے والے ہر قسم کی معلومات کو صیغہ راز میںرکھ سکے اور کسی بھی فرد پر کسی بھی صورت میں آشکار نہ کرے۔ اعتماد اور یقین ہی تو کسی بھی فرد کا اپنے راہنماء پر سرمایہ ہوتے ہیں۔ اس کا خیال رکھنا اور انہیں ہر حال میں سنبھال کر رکھنا ہی ایک اچھے راہنماء کی ذات اور شخصیت کی بنیادی خوبی اوروصف ہوتا ہے۔وُہ اپنے لوگوں سے اچھی اور مثبت توقعات رکھتا ہے اور ان کی ذات اور شخصیت میں بہتری کا واضح پلان اور منصوبہ بھی ترتیب دینے کی صلاحیت سے بہرمند ہوتا ہے۔ وُہ کامیابی کے مسافر کو اپنے ٹھوس مشوروں اور مستحکم احکامات سے کامیابی کی منزل سے ہمکنار کرنے پر قادر ہوتا ہے۔ یہی خوبیاں تو اُسے دوسروں سے ممتاز کرتی ہیں اور ایک عام جونیئر سے خاص سینئر بناتی ہیں۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

کون ہے جو کامیاب نہیں ہونا چاہتا؟ آپ کے خیال میں کیا سب کامیاب ہونا چاہتے ہیں؟اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو جناب آپ کا جواب ماہرین نفسیا ...

مزید پڑھیں

اس دنیا میں کامیابی دراصل انسان کی شعوری کاوشوں اور کوششوں کا نتیجہ ہوتی ہے جس میں فرد ایک واضح مقصد کے حصول کے لئے یکسو ہو کر جدو جہد کرت ...

مزید پڑھیں

کامیابی کو دنیا بھر میں دیکھنے اور سوچنے کا انداز مُختلف ہے۔ ماہر نفسیات سے پوچھیں گے تو وُہ اسے چندذہنی اعمال اور کرداری رویوں کا نام دی ...

مزید پڑھیں