☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن کیرئر پلاننگ دنیا اسپیشل خصوصی رپورٹ سنڈے سپیشل عالمی امور دین و دنیا کچن کی دنیا روحانی مسائل ادب کھیل رپورٹ خواتین
خود شکستگی سے بچنے کے سات سائنسی اصول

خود شکستگی سے بچنے کے سات سائنسی اصول

تحریر : پرفیسر ضیا ء زرناب

07-14-2019

کون ہے جو کامیاب نہیں ہونا چاہتا؟ آپ کے خیال میں کیا سب کامیاب ہونا چاہتے ہیں؟اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو جناب آپ کا جواب ماہرین نفسیات کے مطابق درست نہیں ہے کیونکہ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ جن کو اپنی ہی کامیابی اچھی نہیں لگتی۔ اوران کی اپنی سوچیں ہی اُن کی سب سے بڑی دشمن ہوتی ہیں۔

منفی سوچ اور قنوطیت پسندی ان کی شخصیت کا بنیادی وصف بن جاتی ہے۔ فرد دوسروں کی مدد قبول کرنے سے بھی انکار کر دیتا ہے، اُسے کامیابی سے ڈر لگتا ہے اور وُہ خود ہی اپنی کامیابی کی راہ میں روڑے اٹکاتا ہے۔وُہ ایسے حالات اور افراد کی طرف جان بوجھ کر بڑھتا ہے جو اُس کی زندگی میں ناکامی کے چانسز بڑھا دیتے ہیں۔ اُسے خوشی اچھی نہیں لگتی اور غصہ ناک پر دھرا رہتا ہے۔ صلاحیت اور اہلیت ہوتے ہوئے بھی اپنی کامیابی کیلئے لازم کاموں کو مکمل کرنے میں ناکام رہتا ہے۔دوسروں کو رد کر کے خود کو شرمندہ، شکستہ خوردہ اوراوازار محسوس کرتا ہے،وُہ دوسروں کیلئے ایسی قربانیاںدینے کا دعویٰ بھی کرتا ہے جن کی دوسروں نے طلب بھی نہیں کی ہوتی۔یعنی دوسروں پر بلاوجہ ایسی مہربانیاں کرتا ہے جن کی ضرورت نہیں ہوتی اور جب دوسرے اس پر اُس کی قدر نہیں کرتا تو پھر اپنے دکھی دل کی کہانیا ںسب کو سناتا پھرتا ہے۔ یہ ایک ذہنی عارضہ ہے جسے خو د شکستگی یعنی Self-Deafeat Disorderکہتے ہیں جس کے لئے باقاعدہ ذہنی علاج ضروری ہے مگر اس مضمون میں ذیل میں دئیے گئے سات (7) سائنسی اصولوں پر عمل کرنے سے فرد اپنے آپ کو اس ذہنی عارضے سے بچا سکتا ہے ۔

پہلا سائنسی اصول: اپنا تصورِ ذات مثبت رکھیں: Improve Your Self-Image

ہمارا عمل اور کردار ہمارے ذاتی ذہنی عکس کا پرتو ہوتا ہے۔ یہ ہمارے ذہنمیں اپنی وُہ تصویر ہوتی ہے جو عام طور پر نہیں بدلتی مگر اگر اس میں تبدیلی ہو جائے تو فرد کی شخصیت مکمل طور پر بدل جاتی ہے۔ اکثر جب ہم یہ کہتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے تو ہم دوسروں کی نظر سے اپنے آپ کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

تصورِذات Self-Imageسے مراد یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کوکیسا دیکھتے اور سمجھتے ہیں؟ ہم اپنی زندگی میں حالات و واقعات کی روشنی میں ہمارا ذہن تصور اور تصویریں بنا تاہے جو ہماری سوچوں،احساسات، جذبات،یادوں، عقائد ،نظریات، تجربات، واقعات اورزندگی میں پیش آنے والے حادثات کا مجموعہ ہوتی ہیں۔جسے تصورِذات بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں خوبیاں کیا ہیں اور کن خامیوں پراُسے قابو پانا ہے؟ اپنے متعلق ان ذہنی تصورات کی مدد سے ہی تو فرد اپنے متعلق خود کوئی رائے بناتا ہے جو اسے اپنی زندگی گذارنے میں مدد دیتی ہے۔

فرد کے اُن ذہنی تصورات اور تصویروں کو ہی فرد کا تشخص یا تصور ِ ذات کہا جاتاہے۔ یعنی فرد کا تصورِذات اُس کی ان ذہنی اور روحانی خیالات کا مجموعہ ہوتا ہے جو فرد کی حقیقی شخصیت اور کردار کی تشکیل کرتے ہیں۔ اپنے ذہنی عکس اور تصویروں کو مثبت رکھیں اور اپنے داغ کو اس بات پر مکمل یقین دلائیں کہ آپ ہر اعتبار سے خوبصورت ہیں یعنی آپ کی نہ صرف صور ت اعلیٰ اور پیاری ہے بلکہ آپ اچھی سیرت کے بھی مالک ہیں۔ تو آپ دیکھیں کہ واقعی آپ کی ذات ، صورت اور سیرت سب کو اچھی لگنے لگے گی۔

دوسرا سائنسی اصول: اپنا ذاتی وقوف اور علم بڑھائیں:

کامیاب لوگوں کونہ صرف اپنی شخصیت کا بخوبی علم ہوتا ہے بلکہ وُہ دوسروں کی نفسیات، جذبات اور شخصیت کا بھی فہم وشعور رکھتے ہیں۔ ان کا وقوف بھی دوسروں کی نسبت زیادہ بہتر اور فوری ہوتا ہے جو عموماً حیران کن حد تک درست ہوتا ہے۔ان کی یہ صلاحیت پیدائشی نہیں ہوتی بلکہ بارہا غلطیاں کر کر کے سیکھی گئی ہوتی ہے۔ وقوف کو بہتر بنانے کے لئے لازم ہے کہ فرد کامشاہدہ اچھا ہو ، مطالعہ شاندار ہو، اور مکالمہ جاندار ہو تاکہ وُہ علم ، عقل اور جذبات کو سمجھ کر ان کا بہترین استعمال بھی کر سکے۔

زندگی کے چیلنجز پر قابو پانے اور فتح و نصرت کا تاج اپنے سر پرسجانے کیلئے لازم ہے کہ فرد کو تھوڑی سی لچکدار شخصیت کا مالک بنائیں۔ لائو تازے جوچین کے عظیم فلاسفرہیں کہتے ہیں کہ آپ اپنے آپ کو جان لو زندگی کی کوئی جنگ نہیں ہارو گے۔ اپنی ذاتی خوبیوں اور خامیوں کو اچھے طریقے سے جانو تاکہ اپنی ذات کا تنقیدی جائزہ لے کر اس میں بہتری لا سکو۔

فرد کی شخصی خوبیوں میں اضافہ او ر خامیوں میں کمی صرف اسی صورت میں لائی جا سکتی ہے کہ فرد خود آگاہی کے عمل سے منضبط اور منظم طریقے سے گذرا ہو۔کامیابی پانے کے لئے اپنے آپ کو پہچانئے، اپنی صلاحیتوں کو جانئے، اپنی استعداد کو بڑھائیے،اپنی شخصیت میں ہر وقت اور ہمہ جہت اور ہمہ پہلو ترقی اور نشوونما کو یقینی بنائیے، آج دنیا میں کامیابی کا یہی کُھلا راز ہے جودنیا میں سب پرکُھلا ہے مگراِس علم پر عمل کر کے کامیاب ہونے والے لوگ کامیاب ہیں۔

تیسرا سائنسی اصول: اپنے آپ کو نظم و ضبط کا پابند بنائیں: Discipline Safegurad Your Self-

کامیابی کی اصل بنیاد اس بات میں پوشیدہ ہے کہ فرد اپنے آپ کو کامیابی کیلئے درکار نظم و ضبط یعنی ڈسپلن Self-Disciplineکا پابند بنائے۔ اگر کوئی اپنی ذات پر فتح نہیں پا سکتا تو وُہ دنیا کیسے فتح کر سکتا ہے؟ اگر آپ دُنیا کودکھاناچاہتے ہیں کہ آپ نے مستقبل میں ہر حال میں کامیاب ہو کر دکھانا ہے تو بس اپنے آپ کو ڈسپلن کا پابند کر کے دکھا دیں کامیابی آپ کے گھر کا پتہ پوچھتے آجائے گی اور دنیا آپکی کامیابی کاسورج چڑھتے ضرور دیکھے گی۔

ذاتی نظم و ضبط سے مُراد یہ ہے کہ آپ مقاصد کے حصول میں سرگرم ہوں اور اس کیلئے درکار محنت او ر کوشش کو دنیا کے کسی بھی کام سے مقدم رکھیں۔ دنیا کا ہر دوسرا کام آپکی ثانوی ترجیح بن جائے اور آپکی پوری توجہ اپنے مقاصد پر مرکوز ہو جائے۔چاہ کر بھی آپکو اپنے مقاصد کے علاوہ کچھ اور نہ سوجھے ۔تو جان لیں آپ کامیاب ہو کر رہیں گے۔

کوئی بھی لالچ، لوبھ یا دبائوآپ کی توجہ اور دھیان آپ کے مقاصد سے نہ ہٹا سکے۔لوگوں کے خیال کے برعکس کہ ڈسپلن ہماری آزادی چھین لیتا ہے یہ تو ہمیںپُرانی اور قبیح عادات اورغلط رویوں اور کردار سے آزادکراتا ہے۔ واضح مقاصد کا تعین لکھ کر کرنا،ان کو حاصل کرنے کی غیر مبہم منصوبہ بندی تیار کرنااور ایسی حکمت ِ عملیاں وضع کرنا جن سے ان مقاصد کو پایا جا سکے آپ کی کامیابی کو یقینی بناتی ہیں۔ کوئی بھی نئی عادت آپ کی ذات کا نفسیات دانوں کے مطابق21دنوں میں اور مذاہب عالم کی تعلیمات کے مطابق 40دنوں میں بنتی ہے۔

اسلئے کوشش کریں کہ نئے رویے،کردار اور عادتیں سیکھنے اور اپنی ذات میں داخل کرنے کے لئے کم از کم اتنی مدت مشق اور کوشش جاری رکھیں۔ ایک منصوبہ کی ناکامی کی صورت میں اس کا بیک اپ پلان بھی تیار رکھیں ۔ غلطیوں اور کوتاہیوں کی معافی اپنے آپ اور دوسروں کو دیتے ہوئے آگے بڑھتے جائیںاور اور اُس وقت تک لگاتار اور مسلسل جدوجہد جب تک کامیاب نہ ہو جائیں۔

چوتھاسائنسی اصول:خود اعتمادی کا بھرپور مظاہرہ کریں :Enhance Your Self - Confidence

خود اعتمادی Self Confidence فرد کی اُس ذہنی صلاحیت کا نام ہے کہ وُہ مشکل سے مشکل حالات میں بھی نہ صرف مناسب فیصلے کر سکے بلکہ درپیش چیلنجز کا بھر پور مقابلہ کر سکے اور ان کو حل کرنے میں کامیاب ٹھہرے یعنی حالات چاہے جیسے بھی ہوں فرد ذہنی طور پر اپنے آپ کو کامیاب تصور کرے اور اس میں اُس کا جسم اور روح بھی اُس کے ہم رکاب ہو تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ فرد میں خود اعتمادی بدرجہ اُتم موجود ہے۔خود اعتمادی آپ کی اُس سوچ اور عمل کانام کہ جس میں آپ کا دل و دماغ اور جسم و روح کا اس بات پر یقین ہوتا ہے کہ آپ زندگی کے درپیش چیلنجوں کابہ آسانی مقابلہ کر کے کامیابی سمیٹ سکتے ہیں۔ یعنی آپ درپیش حالات کے بارے میں نہیں آپ اپنی قابلیت اور صلاحیت کے متعلق سوچتے ہیں اور کامیابی حاصل کر لیتے ہیں۔

سادہ لفظوں میں آپ محسوس تو کرتے ہیں کہ درپیش مشکل حالات پر قابو پانا مشکل تو ہے لیکن آپ ایسا کر لیں گے اور عملی طور پر ایسا آپ کر بھی لیتے ہیں جو آپ کی شخصیت میں خود اعتمادی کا مظہر ہے۔ کامیابی کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ آپ اپنی شخصیت ،خودی اور ذات کی خود حفاظت کریں۔اپنی شخصیت میں اعتماد بڑھانے کیلئے شاندار لباس پہنیں چاہے سادہ ہو مگر صاف سُتھرا اور باوقار ہونا لازم ہے۔ خودی اور ذات کے اظہار میں مثبت رہیں اور منفی لوگوں اور سوچوں سے بچیں تاکہ آپکا کامیابی کا سفر بلا تعطل جاری رہ سکے۔

خود اعتمادی کیلئے لازم ہیں کہ آپ اپنے کام میں ماہر ہوں جس کیلئے ہر دن مشق کریں اور ہر روز اپنے میدانِ عمل میں مہارت بڑھائیں۔ آپ کی زندگی کا وُہ دن اکارت جس میں آپ نے اپنی مہارت نہیں بڑھائی۔خود اعتمادی بڑھانے کا سب سے کارگر فارمولہ یہ ہے کہ آپ غلطیاں کرنے سے نہیں بلکہ ان سے سیکھنے سے گھبرائیں۔ نہ سننے اور رد کئے جانے کے بنیادی خوف پر قابو پائیںتاکہ آپ کسی بھی تشویش اور اضطراب سے بچ سکیں۔

پانچواںسائنسی اصول: اپنی ذاتی اثر پذیری کو بڑھائیں: elf-Efficacy Enrich Your S

ذاتی اثر پذیری یعنی Self Efficacyسے مُراد یہ ہے کہ آپ کسی بھی مسئلے کا حل نکالنے یا کسی بھی معاملے یا صورتحال میں اپنے کامیاب ہونے کے بارے میں کتنے پراعتماد ہیں اور ہمیں اپنی صلاحیتوں اور قابلیت پر کتنا یقین ہے؟۔جبکہ خود اعتمادی آپ کی مجموعی یا عمومی شخصیت میں کامیابی سے کسی بھی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت ہے۔خوداعتمادی دراصل فرد کی اس سوچ کا نام ہے کہ جس میں فرد یہ خیال کرتا ہے کہ وُہ کسی بھی کام کو کامیابی سے سرانجام دے سکتا ہے جبکہ ذاتی اثر پذیری فرد کی کسی خاص کام کو مکمل کرنے کے مثبت یا منفی اعتقادات کا دوسرا نام ہے۔مثال کے طور پر فرد کا یہ خیال کہ وُہ میتھ میں اچھاہے اُس کی خود اعتمادی کو ظاہر کرتا ہے جب کہ کسی خاص سوال کو حل کر سکنے یا نہ کر سکنے کی اہلیت کے بارے میں اعتقادات اُس کی ذاتی اثر پزیری کو ظاہر کرتے ہیں۔

یعنی یہ عین ممکن ہے کہ فرد کی کسی کام یا مسئلے کے حل نکالنے میں مجموعی خود اعتمادی کا درجہ تو بہت زیادہ ہو مگر ایک خاص کام کرتے ہوئے وُہ اپنے آپ کو ماہر تصور نہ کرتا ہو۔ سادہ لفظوں میں اثر پذیری دراصل خاص کام کیلئے خاص خود اعتمادی کا دوسرا نام ہے۔ سائنسی طور پر اب یہ ایک تسلیم شدہ حقیت ہے کہ وُہ طالب علم جو یہ سوچتے ہیں کہ وُہ کوئی چیز سمجھ لیں گے یا کسی مسئلے کا حل نکال لیں گے تواُن کے نتائج بھی ایسے ہی آتے ہیں۔ مگر اگر وُہ یہ خیال کریں کہ مسئلہ ان کی سمجھ سے بالاتر ہے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔یعنی ہماری کار کردگی ہماری سوچوں اور خصوصاًاپنے بارے میں اعتقادات کا مجموعہ ہے۔ ذاتی اثر پذیری بڑھانے کیلئے بتدریج آسان سے مشکل مسئلے کو حل کریں، مسائل اور مشکلات پر نہیں توجہ کو حل اور اسباب کے سدباب پر مرکوز رکھیں۔

چھٹا سائنسی اصول:اپنی تکریم ِذات کو یقینی بنائیں: Ensure Your Self-Esteem

تکریم ذات یعنی Self Esteem سے مُرا د یہ کہ فرد مجموعی طور پر اپنی ذات اور شخصیت کو کیسے دیکھتا ہے؟ اپنے متعلق کیسا محسوس کرتا ہے؟ اُس کے ذہن میں اُس کی قدرومنزلت کیاہے؟ فرد کے اپنے متعلق مجموعی اعتقادات اور یقین ہیں جس سے اُس کا ذاتی تشخص یعنی Self-Conceptتشکیل پاتا ہے۔ مگر تکریم ذات فرد کی اپنے متعلق مثبت یا منفی آراء ہیں کہ ہم اپنی ذات کے متعلق کیسا محسوس کرتے ہیں؟ اپنی اور دوسری کی تکریم ِ ذات میں اضافے کیلئے لازم ہے کہ اپنی ذات پر خود تنقید کم کر کے خود کو مثبت طور پر قبول کر لیں،

کسی بھی اچھے کام یا عادت کو اپنائیں تاکہ آپ کی اپنی نظروں میں عزت و وقار بڑھ سکے، اپنے آپ کو شاباش دینا سیکھیں اور چھوٹی چھوٹی کامیابیوں سے بھرپور لطف اندوز ہونا سیکھیں، ہر روز رات کو خود سے مثبت کلامی کریں اور کم از کم ایک ایسی بات اپنی ڈائری میں ضرور لکھیں جو آپ نے اچھی کی ہے، کاملیت پسندی چھوڑ کر کارکردگی بڑھائیں،تصویر کے مثبت رُخ پر بہت زیادہ توجہ دیں،

دوسروں سے موازنہ نہیں مطابقت قائم کرنا شروع کریں، اپنی شخصیت اور ذات پراحتساب اور نگرانی رکھیںتا کہ آپ مسلسل بہتری کی طرف گامزن ر ہیں، خود سے بہت بڑی بڑی توقعات اور گِلے کرنا چھوڑ دیں، شخصیت کو لچکدار بنائیں اور ہر جگہ اور ہر کسی کے ساتھ مطابقت بنانے کی کوشش کریں، دولت نہیں اقدار کو اپنا مقصد بنائیں، اپنی کامیابیوں پر خوش ہونا سیکھیں، اپنی ذات کے آرام و سکون کی حدوں سے باہر نکل کر کچھ نیا کریں، ماضی کے کچوکوں اور مستقبل کے خوفوں سے باہر آئیں اور حال میں جینا سیکھیں۔

ساتواں سائنسی اصول: اپنا عرفان ذات پانے کی کوشش کریں:-Actualization Self Sustain Your

اپنی ذات کی مکمل پہچان ، اپنی خودی کا جامع ادراک، اپنی صلاحیتوں اور قابلیتوں کی گہری آگاہی، اپنی ذات و صفات اور شخصیت کی خوشدلی سے قبولیت اور کائنات میں اپنے مقام اور مقصد کو جان کر اپنی پوری اور بھرپور کوشش کرنا اور اعلیٰ ترین انسانی سطح پر جینا ہی عرفان ذات Self-Actualizationکہلاتا ہے۔ جس میں فرد سکون و اطمینان کے ساتھ اپنوں اور دوسروں کو برداشت نہیں قبول کرتا ہے۔ وُہ اپنی ذات اور دوسروں سے خوش ہوتے ہیں اور اُنہیں جہاں ہے جیسے ہیں کی بنیاد پر خوشی سے قبول کرتا ہے ۔ایسے لوگوں کو قدرت بڑی فیاضی سے عارفانہ اور صوفیانہ احساسات اور تجربات سے گذارتی ہے تاکہ وُہ کائنات اور لوگوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔

اعلی اخلاقیات، شاندار تخلیقی صلاحیتیں، قابلِ فخر اقدار اور اپنی ذات کے خود مالک ہوناایسے لوگوں کی شخصیت کا طرہ امتیاز ہوتا ہے۔ وُہ اپنی حقیقی ذات کو تحیر اور حیرانی سے جان جاتے ہیں ، اپنے مقصدِ حیات کو پہچان جاتے ہیںاورا پنی زندگی کی گاڑی کوخود عقل دوانش کے پیمانوں پر پرکھ کر چلاتے ہیںکہ دائمی سکون و اطمینان اُن کے رویوں اور زندگی سے جھلکتا اور چھلکتا ہے۔ ہماری زندگی کی بنیادی ضرورتوں کی تسکین کے بعد ہر فرد کوشش کرتا ہے کہ وُہ عرفانِ ذات حاصل کر لے اور دنیا کو دکھا دے کہ وُہ پوری صلاحیت، اہلیت اور استعداد کے مطابق کام کر رہا ہے۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

دنیامیں کوئی کروڑ پتی ہے تو کوئی چندروپوں کو ترس رہا ہے۔ کوئی خزانوں کا مالک ہے تو کسی کے گھر میں فاقوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ کوئی دنوں می ...

مزید پڑھیں

لوگ صرف دولت کما لینے کو ہی ترقی تصور کرتے ہیں۔ مگر دنیا بھر کا دھن اکٹھا کر لینے اور مال وزر جمع کر لینے کے بعد اگر روح پُرسکون نہیں ہے او ...

مزید پڑھیں

زمانہ قدیم سے ہی دنیا بھر میں کہانیاں سُننا اور سنانا پسندیدہ ترین شغل رہا ہے۔ کہانیوں سے ہم نہ صرف اخلاقی قدریں سیکھتے ہیں بلکہ ان سے سی ...

مزید پڑھیں