☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل عالمی امور متفرق سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا طب کھیل رپورٹ کیرئر پلاننگ روحانی مسائل ادب
کامیابی کی 6مختصرسبق آموز کہانیاں

کامیابی کی 6مختصرسبق آموز کہانیاں

تحریر : پرفیسر ضیا ء زرناب

07-21-2019

زمانہ قدیم سے ہی دنیا بھر میں کہانیاں سُننا اور سنانا پسندیدہ ترین شغل رہا ہے۔ کہانیوں سے ہم نہ صرف اخلاقی قدریں سیکھتے ہیں بلکہ ان سے سیکھی باتیں ہماری زندگیوں پر انمٹ اور دیرپا نقوش چھوڑتی ہیں۔ ذیل میں چھ کہانیاں بیان کی جارہی ہیں جو ہمارے ذہنوں کو تفکر پر آمادہ کرتی ہیں اور کامیابی کی بنیاد بنتی ہیں۔

پہلی کہانی:آلو ، انڈے اور کافی

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شیف اپنی بیٹی سے ملنے اُس کے سسرال گیا ۔خیر خیریت دریافت کی تو بیٹی نے سسرال کی شکایات کے انبار لگا دئیے اور کہنے لگی کہ میں لڑ جھگڑاور روزروز کی تُو تُو میں میں سے تنگ آچکی ہوں اور میرا یہاں گذارا مشکل ہے۔اس جہنم میں میں جی کر اُکتا چُکی ہوںاور تھک گئی ہوں ۔ بس اب بہت ہو گیا۔ یہاںایک مسئلہ ختم نہیں ہوتا ہے تو دوسرا جنم لے لیتا ہے۔ اُس کے والد جو ایک پیشہ ور شیف(کھانے پکانے کے ماہر)تھے نے یہ فیصلہ کیا کہ وُہ حکمت سے اپنی بیٹی کو زندگی کا اعلیٰ سبق سکھائیں گے۔ وُہ اُسے اپنے ساتھ کچن میں لے آئے اور تین برتنوں میں پانی ڈال کر آگ پر اُبلنے کے لئے رکھ دیا۔ جب پانی جوش مارنے لگا تو انہوں نے ایک برتن میں آلو، دوسرے میں انڈے اور تیسرے میں کافی ڈال دی۔ اس کے بعد بیٹی کے ساتھ گپ شپ لگانے لگے جو اُن پر بھی اب گرجنے برسنے لگی تھی کہ وُہ یہ کیا کررہے ہیں؟ مگر حیران تھی کہ آگے کیا ہونے جا رہا ہے۔جب بیس منٹ گذر گئے تو اُس کے والد نے تینوں برتنوں کے نیچے سے آگ بند کر دی۔ اُنہوں نے تینوں برتنوں سے چیزیں نکال لیں۔پھر اپنی بیٹی سے بڑے پیار سے پوچھا بیٹی!یہ کیا ہے؟ لڑکی حیرانی سے بولی بابا !یہ انڈہ، آلو اور کافی ہیں۔ وُہ بولے نہیں ایسا نہیں ہے۔ پھر انہوں اُس سے کہا کہ وُہ انڈے کو توڑے مگر وُہ پتھر کی طرح سخت ہو چُکا تھا۔ پھر آلو کو دیکھا وُہ بھی برتن میں ریزہ ریزہ ہو کر بکھرا پڑا تھا۔ مگر جب وُہ کافی کی طرف متوجہ ہوئے تو اِس کی بھینی بھینی خوشبو نے دونوں کے اس کا ذائقہ چکھنے پر مجبور کردیا۔ دونوں کافی پی کر بہت خوش ہوئے۔ پھر وُہ بولے تینوں چیزوں کے لئے حالات کی سختی یعنی آگ ایک ہی طرح کی تھی مگر تینوں کے ردِعمل میں فرق تھا جس نے اُن کی تقدیر کا فیصلہ کیا۔ انڈہ اندر سے بہت نرم تھا مگر حالات کی سختی نے اُسے اتنا سخت کر دیا کہ وُہ استعمال کے قابل نہ رہا۔ سخت آلو کو پانی نے توڑ کر ریزہ ریزہ کردیا۔ مگر کافی کا رویہ بہت مختلف تھا اُس نے پانی کی ساخت کو ہی بدل ڈالا اور اس کے ساتھ یک جان دو قالب ہو کر اپنے وجود کو امر کردیا۔ زندگی میں حالات کی سختیاں اور مشکلیں سب پر آتی ہیں اب یہ ہماری مرضی ہے کہ ہم اس کا کیا ردعمل دیں۔

کامیابی کا سبق: جومشکلیں آپ کو دوسروں کے سامنے اور دوسروں کیساتھ اپنی حقیقی ذات کے اظہار کا موقع دیتی ہیں کہ چاہے ہم نرم ہو جائیں، سخت ہو جائیں یا دوسروں کے ساتھ گھل مل کر امر ہو جائیں۔

دوسری کہانی: سوچ کا قیدی

بچپن میں ایک دفعہ چڑیا گھر جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملا کہ ایک ہاتھی ایک معمولی سی زنجیر کے ساتھ بندھا ہواتھا۔ اس کے مہاوت سے پوچھا کہ یہ اتنا بڑا اور طاقتور ہاتھی ہے کیا یہ کبھی اس زنجیر کو توڑسکتا ہے؟ تو مہاوت(ہاتھی کو پالنے والے اور دیکھ بھال کرنے والے ) نے مُسکراتے ہوئے کہا کہ یہ کبھی بھی اِ س زنجیر کو نہیں توڑ سکتا ۔ ہم نے حیرانی سے مہاوت سے ایک نیا سوال پوچھا کہ کیا اُس میں طاقت نہیں ہے؟ مہاوت کہنے لگا کہ اس جیسی دس زنجیروں کو یہ ایک قدم آگے بڑھا کر توڑ سکتا ہے ۔ان زنجیروں کی اہمیت اس کے لئے ایک دھاگے جیسی ہے کہ جسے ذرا سی قوت اور کوشش سے بہ آسانی توڑا جا سکتا ہے۔ مگر ہاتھی کبھی اس زنجیر کو نہیں توڑے گا کیونکہ ہم نے اس کی سوچ کو محدود اور قیدی بنا لیا ہے۔اُس کا طریقہ یہ ہے کہ جب ہاتھی بچپن میںچھوٹا ہوتا ہے تو ہم اُسے ایسی زنجیر باندھ دیتے ہیں۔ وُہ ننھا ہاتھی اس زنجیر کو توڑنے کی بہت کوشش کرتا ہے مگر یہ اُس سے نہیں ٹوٹتی۔ وُہ کوشش کرتے کرتے تھک جاتا ہے اور یہی لمحہ ہماری کامیابی کا ہوتا ہے کہ اُس وقت ہاتھی کے دماغ میں یہ بات نقش ہو جاتی ہے کہہ اب زنجیر نہیں ٹوٹے گی اور یوںہم اُسے ساری زندگی قابو میں رکھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔اصل میں ہاتھی ہمارا نہیں اپنی سوچوں کا قیدی ہوتا ہے۔اس کی آزادی چند قدم سامنے ہوتی ہے مگر قید ذہن کو نظر نہیں آتی۔بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ وُہ آزاد ہوتا ہے مگر غلام مر جاتا ہے تو بے جا نہ ہو گا۔اُس دن یہ سیکھاکہ دنیا آپ کو جتنی مرضی بڑی زنجیروں سے باندھ لے آپ اپنی سوچوں کو آزاد رکھ سکتے ہیں اور سوچوں کی غلامی سے بچ سکتے ہیں جو کسی بھی میدان ِ عمل میں کامیابی کاپہلا ٹھوس قدم ہے۔

سبق: لوگ اکثر اپنی سوچوں کے قیدی ہوتے مگر انہیں علم نہیں ہوتا۔اپنی آزادی اور کامیابی کیلئے اپنی سوچوں کو آزاد رکھیں۔

تیسری کہانی:مشکلوں میں آسانیاں

پُرانے زمانے کی بات ہے کہ ایک بادشاہ نے یہ سوچا کہ وُہ جانے کہ اُس کی رعایا کس قدر ذمہ دار شہری اور عمل پر آمادہ ہیں؟ اس نے ملک کی سب سے بڑی شاہراہ کے عین بیچ میں ایک بھاری پتھر رکھوا دیا۔ اور چُھپ کر یہ دیکھنے لگا کہ اس پر لوگ کس قسم کے ردِ عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں؟پہلے تاجروں اور امیر لوگوں کا ایک گروہ وہاں سے گذا را تو سب بادشاہ کو بُرا بھلا کہنے لگے کہ اُس نے اس پتھر کو وہاں سے کیوں نہیں ہٹوایا؟ اور اس کے ساتھ سے گزر گئے۔ پھر کچھ عام لوگ گذرے تو بادشاہ کو برا بھلا کہنے کے بعد آگے بڑھ گئے مگر اپنے ایک ساتھی کو شہر کے داروغہ کے پاس بھجوادیا کہ وُہ صرف اس پتھر کے بارے میں اُسے آگاہ کر کے اُن سے آن ملے۔ تھوڑی دیر بعد ایک چرواہا وہاں سے گذرا جو اپنی بکریاں چرا رہا تھا۔ اُس نے اس پتھر کو دیکھا تو فوراً اس کے پاس آکر اسے ہٹانے کی کوشش کرنے لگا۔مگر پتھر اس قدر بھاری تھا کہ وُہ اسے ہٹا نہیں پا رہا تھا۔ اس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی اُس نے اس پتھر کے گرد ایک رسہ باندھا اور اسے اپنی چند بکریوں کے ساتھ باندھا اور دوبارہ سے کوشش کرنے لگا۔ تھوڑی مزید کوشش اور جدوجہدکے بعد وُہ اس پتھر کو سرکانے میں کامیاب ہو گیا تو کیا دیکھتا ہے کہ وہاں ایک سونے کے سکوں سے بھری پوٹلی پڑی ہے اور ساتھ بادشاہ کی طرف سے ایک رقعہ بھی ملا جس میں لکھا تھا کہ مشکلوں کے بعد ہی آسانیاں ہیں۔ مالکِ کائنات نے ہماری زندگی میں بھی مشکلوں کے نیچے مواقع چُھپا رکھے ہیں اور ہمارا کام اور زندگی کا بڑا مقصدمسلسل اور لگاتار محنت سے اور مُختلف طریقے آزما کر ان کو حاصل کرنا ہے۔

سبق: ناکام لوگ کہتے ہیں کہ مشکلیں مار دیتی ہیںلیکن کامیاب لوگ کہتے ہیں کہ مشکلیں سنوار دیتی ہیں۔

چوتھی کہانی: اندھے مت بنو

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی شہر میں ایک خوبصورت لڑکی رہتی تھی۔مگر اُسے اپنی خوبصورتی کا ذرا بھی احساس نہیں تھا کیونکہ وُہ اندھی تھی۔ ایک دن ایک لڑکے نے اُسے دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا اور دل و جان سے اس پر فدا ہو گیا۔ایک حسین شام کو اُس لڑکے نے اُس لڑکی سے کہا کہ وُہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے مگر لڑکی نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ وُہ اندھی ہے اس لئے کسی سے شادی نہیں کرے گی تاکہ کسی اور کی زندگی خراب نہ ہو۔ لڑکے نے دکھی دل سے پوچھا کہ جب وُہ دیکھنے کے قابل ہو جائے گی تو شادی کر لے گی لڑکی نے ہاں میں جواب دیا۔چند دن بعد کسی نے لڑکی کو آنکھوں کا عطیہ کردیا جس سے اُس کی بنیائی لوٹ آئی۔ وُہ بہت خوش ہوئی اور خوشی خوشی اپنے محبوب سے ملنے چلی گئی تاکہ وُہ اُس سے شادی کر سکے۔ مگر وہاں پہنچ کر اُس کی حیرت کی کوئی انتہاء نہ رہی جب اُس نے یہ دیکھا کہ لڑکا بھی اندھا ہے۔قدرت کی ستم ظریفی دیکھیں کہ اُس لڑکی نے ایک بار پھر اُس لڑکے سے شادی کرنے سے انکار کر دیا اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اُس سے ترکِ تعلق کر کے چلی آئی۔ چند دن بعد اُسے ایک خط ملا جس میں اُس لڑکے نے لکھا تھا کہ میں یہ شہرچھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جا رہا ہوں ۔اب تمھیں کبھی نہیں ملوں گا بس تم میری آنکھوں سے دنیا کو دیکھواور خوش رہو۔لڑکی کو تب یہ پتہ چلا کہ اس کی آنکھوں کی بینائی اُس کے محبوب کا عطیہ ہے تو وُہ اس کی تلاش میں جگہ جگہ ماری ماری پھرتی رہی مگر اُسے اس کا کہیں پتہ نہ چل سکا۔ وُہ لڑکی دنیا کی ساری نعمتیں ہونے کے باوجود اُداس اورغمگین رہ کر ہی آخر کار اِس دنیا سے چلی گئی۔ ہمارے حقیقی محسن نے بھی ہمیں بہت سے عطیات دے رکھے ہیں مگر ہم ان سے آگاہ نہیں اس لئے اداسیاں لئے پھرتے ہیں۔ خدا کے عطیات کو جانیں اور ان کا شکریہ ادا کریں اس سے پہلے کہ آپ کے پاس وقت کی دولت ختم ہو جائے۔

سبق: آنکھیں رکھتے ہوئے بھی اندھے مت بنواور اپنے محسنوں کو پہچانو اور ان کی قدر کرو اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

پانچویں کہانی: محرومیوں کی برکتیں

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جنگل میں مینڈکوں کا ایک گروہ رہتا تھا۔ سب ہنسی خوشی رہ رہے تھے کہ ایک سال وہاں بار ش نہ ہوئی اور خشک سالی نے اُس علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سب نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ اب اس علاقے کو چھوڑ کر جنگل کے دوسرے حصے کی طرف چلا جائے جہاں پانی اور سبزہ وافر مقدار میں دستیاب ہے۔ سب چل پڑے تھوڑے آگے گئے تو ان میں سے دو مینڈک ایک گڑھے میں گر گئے۔ان دونوں مینڈکوںنے باہر نکلنے کی بہت کوشش کی مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ سارے مینڈک گڑھے کے کنارے کھڑے ہو کر نیچے دیکھنے لگے اور جب اُنہوں نے دیکھا کہ گڑھا بہت گہرا ہے اور اب ان دونوں کا بچ نکلنا تقریباًناممکن ہے تو انہوں نے گڑھے کے کنارے سے انہیں زور زور سے تقدیر کا فیصلہ قبول کرنے کو کہا اور باآوازِ بلند کہا کہ اب ان کا بچنا نا ممکن ہے۔ بہتر یہی ہے کہ وُہ کوشش چھوڑ دیں اور ہنسی خوشی موت کو گلے لگا لیں۔ ان میں سے ایک مینڈک نے بات کو سُن کر سمجھ لیا اور کوشش چھوڑ کر موت کا انتظار کرنے لگا مگر دوسرا مینڈک بدستور اور لگاتار کوشش کرتا رہا۔ وُہ اپنی ہر کوشش میں اور زیادہ قوت اور سرگرمی کا مظاہرہ کرتا مگر قسمت اُس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔یہاں تک کہ اُس کے جسم کا ہر عضو درد کرنے لگا۔ ہر کوشش کے ساتھ اُس کی تکلیف بڑھتی جا رہی تھی۔ مگر وُہ اپنی کوشش ترک کرنے پر آمادہ نہیں تھا۔ سارے مینڈکوں نے اُسے زور زور سے پکارکر کہا کہ تقدیر کا لکھا مان لو اور کوشش چھوڑ دو۔ مگر وُہ کوشش چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھا ۔ یک دم اُس نے پوری قوت لگا کر چھلانگ لگائی اور سب مینڈ ک یہ دیکھ کرحیران رہ گئے کہ وُہ گڑھے سے باہر آگرا۔ سب بھاگ کر اُس کے پاس پہنچے اور اُسے جان بچ جانے پر مبارکباد دینے لگے۔ اُن میں سے ایک دانا مینڈک نے کہا تم نے ہمارے کہنے کے باوجود کوشش جاری رکھی اور تقدیر کے فیصلے کے سامنے سر کیوں نہ جُھکایا؟جس مینڈک نے بہت محنت کر کے اپنی جان بچائی تھی اپنی سانسیں بحال کر کے کہنے لگا صاحبو! مجھے ٹھیک سے سنائی نہیں دیتا ہے اور آپ کی باتیں مجھے شور کی طرح محسوس ہو رہی تھیں۔ اور میں یہ خیال کر رہا تھا کہ آپ میری حوصلہ افزائی کر رہے ہیں اور مُجھے اپنی کوشش میں اور زیادہ اضافے کیلئے کہہ رہے ہیں ۔ بس! میںنے اپنی پوری توانائی یکجا کر کے کوشش کی اور اپنی جان بچانے میں کامیاب رہا۔دوسروں کی منفی باتوں سے بھی حوصلوں میں کمی نہ آنے دیں اور ان سے مثبت اثر لے کر اپنی کوشش جاری رکھیں گے تو کوئی مائی کا لعل آپ کو کامیاب ہونے سے نہیں روک سکتا۔

سبق: اکثرنعمتوں کا چھن جانا بھی برکتیں لاتا ہے مگر اگر ہم دوسروں کی پرواہ کئے بغیر اپنی کوشش اور جدوجہد جاری رکھیں۔

چھٹی کہانی: دینے سے پانا

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بڑے سیمینار ہال میں زندگی کی مہارتیں سکھانے کے موضوع پر ایک شاندار ٹریننگ چل رہی تھی جس میں پچاس ساٹھ شرکاء انتہائی گرمجوشی سے اپنے علم اور مہارت میں اضافہ کر رہے تھے کہ آناًفاناًٹرینر صاحب نے سب کو ایک جگہ ہال میں اکٹھا ہونے کے لئے کہا ۔ پھر ہر ایک فرد کو ایک غبارہ تھما دیا کہ وُہ اس میں ہوا بھر دیں اور اِ س پر اپنا نام لکھ دیں۔ سب سے غبارے لے کر دوسرے کمرے میں رکھ دئیے گئے ۔پھر تمام شرکاء کو اس کمرے میں لایا گیا اور کہا گیا کہ اگلے پانچ منٹ میں اپنے نام کے غبارے کو تلاش کریں اور ایک بڑا انعام حاصل کر لیں۔کمرے میں افراتفری اور بھگدڑ مچ گئی ۔ہر کسی کی خواہش تھی کہ وُہ جلد سے جلداپنے نام کا غبارہ ڈھونڈ کر انعام حاصل کرلے۔اس بھاگم دوڑ میں کوئی بھی اپنے نام کا غبارہ پانچ منٹ میں تلاش نہ کر سکا۔ پھر دوبارہ اسی سرگرمی کو کیا گیا مگر اس بار شرکاء سے کہا گیا کہ دوسرے کمرے میں جب بھی اُنہیں کوئی غبارہ ملے تو وُہ اُس پر لکھے نام کو باآوازِ بلند پکار کے اُس فرد کے حوالے کر دے۔ چند منٹوں میں ہی تمام شرکاء کے پاس اپنے اپنے نام کے غبارے موجود تھے۔ ٹرینر صاحب نے شرکاء سے کہا کہ ہماری زندگی میں بھی یہی ہو رہا ہے ہو کوئی پانے کے لئے دوسروں کو دینا نہیں چاہ رہا۔ پانے کے لئے سب پاگل پن کی حد تک ایکدوسرے کو دھکے دے کر اپنا کام سیدھا کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ سکون سے کچھ بھی پانا چاہتے ہیں تو پہلے آپ کو دوسروں کو یہ خوش دل سے عطا کرنا ہوگی ۔ چاہے یہ خوشی ہویا دولت، سکون ہو علم ہو پہلے دینا لازم ہے۔دنیا میں کوئی بھی کامیاب تعلق یک طرفہ ہو نہیں سکتا۔اب یہ تعلق چاہے کاروباری ہو یا معاشرتی آپ دوسروں سے جس چیز کے طلبگار ہیں پہلے اُنہیں عطا کریں تاکہ آپ پر بھی عطا کی بارش ہو سکے۔

سبق: جو بھی آپ دوسروں سے حاصل کرنا چاہتے ہیںپہلے اُنہیں وُہ دیں جو وُہ آپ سے لینا چاہتے ہیں یہی بڑی کامیابی کا کھلا راز ہے۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

دنیامیں کوئی کروڑ پتی ہے تو کوئی چندروپوں کو ترس رہا ہے۔ کوئی خزانوں کا مالک ہے تو کسی کے گھر میں فاقوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ کوئی دنوں می ...

مزید پڑھیں

لوگ صرف دولت کما لینے کو ہی ترقی تصور کرتے ہیں۔ مگر دنیا بھر کا دھن اکٹھا کر لینے اور مال وزر جمع کر لینے کے بعد اگر روح پُرسکون نہیں ہے او ...

مزید پڑھیں

زمانہ قدیم سے ہی دنیا بھر میں کہانیاں سُننا اور سنانا پسندیدہ ترین شغل رہا ہے۔ کہانیوں سے ہم نہ صرف اخلاقی قدریں سیکھتے ہیں بلکہ ان سے سی ...

مزید پڑھیں