☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل انٹرویوز عالمی امور سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا خصوصی رپورٹ کھیل کیرئر پلاننگ ادب
روحانی ترقی : کامیابی کاایک بڑا معیار

روحانی ترقی : کامیابی کاایک بڑا معیار

تحریر : پرفیسر ضیا ء زرناب

08-04-2019

لوگ صرف دولت کما لینے کو ہی ترقی تصور کرتے ہیں۔ مگر دنیا بھر کا دھن اکٹھا کر لینے اور مال وزر جمع کر لینے کے بعد اگر روح پُرسکون نہیں ہے اور اضطراب کا شکار ہے تو آپ نے زندگی سے کیا پایا؟سکون کی دولت پانے کے لئے لازم ہے کہ آپ کی روح پیاسی اور بے تاب نہ ہو۔ روح کی پاکیزگی کے لئے ضروری ہے کہ آپ رزائلِ اخلاق مثلاًجھوٹ، لالچ، حسد، منافقت،غصہ، چوری،نفرت وغیرہ سے اپنی ذات اور شخصیت کو آہستہ آہستہ پاک کریں ۔ جسم مادے سے بنا ہے اور ہمیں زمین کی طرف کھینچتا ہے جب کہ روح ایسا امرِربی ہے جو نور سے تشکیل پائی ہے وُہ ہمیں کائنات کی وسعتوں کی طرف لے جانے کی کوشش کرتی ہے۔

 

روحانی ترقی کے لئے ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی میں غیر حقیقی اصولوں، تصورات، خیالات، اوراعتقادات سے نجات حاصل کر لیںاوراپنے ظاہر و باطن کو ایک کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ اپنے باطن سے نہ صرف آگاہ ہوں بلکہ اسے ان اعلیٰ انسانی اور مذہبی اصولوں پر چلانے میں کامیاب ہو جائیں جن پر چل کر ہم دنیاوی اور اُخروی نجات حاصل کرسکیں۔ ہمارا اندر ہمیں نیکی کا راستہ اس لئے اختیار کرنے پر آمادہ نہ کرے کہ اس سے دوسرے لوگ خوش ہوں گے یا ہمیں نیک تصور کریں گے۔بلکہ ہم اس نیکی کی راہ کو اسلئے چنیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہو گا۔روحانی ترقی دراصل ہماری روح کے جاگ جانے کا نام ہے جس میں فرد نہ صرف آفاقی اصولوں اور قوانین کو جان لیتا ہے بلکہ اپنے آپ کو ان سے ہم آہنگ کر لیتا ہے جس کی وجہ سے وُہ فرد اپنے آپ ، دوسرے لوگوں اور کائنات کے ساتھ اعلیٰ ترین اور خوشگوار زندگی گزارتا ہے۔

 

روحانی ترقی فرد کی زندگی میں بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے ۔اس کی اہمیت و ضرورت کو سمجھنے کے لئے آپ کو ایک تاجر کا قصہ چہار ازدواج سناتے ہیں۔ ایک دفعہ کا ذکرہے ایک آدمی کامیاب تاجر بنا اور اُس کے پاس بہت سا مال و دولت اکٹھا ہو گیا۔ اُس نے یکے بعد دیگرے چار شادیاں کرلیں۔ اُس کی چوتھے نمبرکی بیوی بہت خوبصورت تھی وُہ اس کا دن رات خیال رکھتا، ہر طرح سے اُس کے آرام و سکون کو یقینی بناتا۔ اس کے لئے شاندار لباس تیار کرواتا ۔طرح طرح کے کھانوں اور لذیذپکوانوںسے اُس کی خدمت کرتا، اُس کی صحت کی فکر کرتا، اسے بہترین سے بھی اعلیٰ طور پر رکھتا اور اُسکی خدمت میں کوئی کمی نہ رکھتا۔ اُسے اپنی تیسرے نمبر بیوی سے بھی بہت محبت تھی ۔

وُہ اسے ہر جگہ ساتھ لئے پھرتا اور رشتوں داروں کے سامنے اُس کی خوب تعریفیں کرتا۔ سب اس کی قسمت پر فخر کرتے کیا کہ اُس نے کیا شاندار نصیب پایا ہے کہ اُسے اس کی رفاقت میسر ہے۔دنیا کا جب کبھی کوئی بھی مسئلہ ہوتا تو تیسری بیوی ہی اُس کے کام آتی اور سارے مسئلے اور مشکلیں حل کردیتی۔ اس کی دوسری نمبر والی بیوی بھی ٹھیک ہی تھی جب وُہ اس سے محبت کرتا توجواب میں اُسے بھی محبت مل جاتی۔ وُہ اس کا اتنا ہی ساتھ دیتی جتنا وُہ اُس کا ساتھ دیتا۔ مگر اُس کی پہلے نمبر والی بیوی شروع میں تو بہت ہی زیادہ خوبصورت اور پیاری تھی ۔ مگر اُس نے اِس کاکچھ خاص خیال نہیں رکھا جس کی وجہ سے وُہ کچھ زیادہ خوبصورت نہ رہی۔

لیکن اِس بیوی کی ایک بات بہت اچھی تھی کہ وُہ اُسے مایوس نہ ہونے دیتی اور جب بھی کوئی مشکل آتی تو اُس کا دھیان خدا کی طرف پلٹا دیتی تھی۔تاجر کا وقت بہت اچھا گذر رہا تھا کہ ایک دن وُہ سخت بیمار ہو گیا ۔مرض بڑھتا گیا جُوں جُوں دوا کی کے مصداق جب تاجر کو یہ یقین ہو گیا کہ اب وُہ نہیں بچے گا تو اُس نے اپنی چاروں بیویوں کو بلایا اور اگلے جہان ساتھ چلنے کو کہا۔سب سے پہلی چوتھی بیوی بولی! تم نے میرا بڑا خیال رکھا ہے میں تمھارے ساتھ جانا تو چاہتی ہوں مگر راستے میں ختم ہو جائوں گی اس لئے مُجھ معاف کرنا میں تمھارا تھوڑا ساتھ نبھا سکی۔تیسری بیوی بولی تم نے میرا بڑا ساتھ دیا مگر میں تمھارے ساتھ نہیں جا سکتی ۔تم مجھے بھول جانا اور میں تمھیں بھلا دوں گی ۔

کیوںکہ مجھے کسی اور کے پاس چلی جانا ہے اور یہی رسم ِ دنیا ہے اور زمانے کا دستور بھی ہے۔تاجر کا دل بہت دُکھی ہو گیا۔دوسری بیوی کی طرف دیکھا تو اُس نے بھی تمھارے ساتھ زندگی اچھی گذری ہے میں چند دن تمھیں دل سے یاد کروں گی پھر بھول جائوں گی۔کیا کروں میں مجبور ہوں۔ تاجرنے بہت ہی اداس ہو کر پہلی بیوی کی طرف دیکھا جس کا وُہ ذرا خیال نہیں رکھتا تھا مگر وہ یہ سُن کر حیران رہ گیا کہ اُس بیو ی نے بہت پیار سے اُس کی طرف دیکھا اور کہاں آپ جہاں بھی جائیں گے میں آپ کے ساتھ چلوں گی۔ اصل میں تاجرکی زندگی ہر انسان کی زندگی ہے اور ہر انسان کے ساتھ یہ چار’’ بیویاں‘‘ ہوتی ہیں۔ چوتھی’’ بیوی‘‘ یہاں ہمارا جسم ہے جس کا ہم بہت خیال رکھتے مگر اس کا ساتھ صرف قبر تک ہے، تیسری’’ بیوی‘‘ ہمارا مال و دولت ہے جو مرنے تک ہمارا ساتھ دیتا ہے مگر پھر کسی دوسرے کا ہو جاتا ہے۔دوسری’’ بیوی‘‘ ہمارے عزیز اور رشتہ دار ہیں جو کچھ عرصہ ہمیں یاد رکھتے ہیں اور پھر بھلا دیتے ہیں۔ ہماری پہلی اور بھولی ہوئی ’’بیوی‘‘ ہماری روح ہے جس کو ہم بھلا دیتے ہیں اور یہ ہمارا ہر جگہ ساتھ دیتی ہے۔ اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ زندگی میںبڑی کامیابی کے لئے روح کی نشوونما اورترقی پر بھی توجہ دیں۔ 

روحانی ترقی کے مندرجہ ذیل سات اصولوں جن کی بنیاد سائنسی تحقیق اور نتائج پر رکھی گئی ہے کو اپنی زندگی کا ضروری حصہ بنا لیں تاکہ آپ نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی اور روحانی طور پر بھی صحت مند اور توانا زندگی گذار سکیں۔

کثرت نہیں برکت پر یقین رکھیں: حقیقی خوشی چیزوں کی بہتات اور فراوانی سے نہیں مل سکتی۔ اس لئے کثرت نہیں برکت پر یقین رکھیں۔ زیادہ کی لالچ اور ہوس نے فرد اور قوموں کی زندگی سے سکون اور خوشی چھین لی ہے۔ کم مگر برکت والے رزق کی تو نبیوں اور ولیوں نے دعائیں مانگی ہیں۔ دھیان برکت پر ہوتو برکت دینے والے سے بھی رابطہ بحال رہتا ہے۔ کثرت ِ رزق کو اپنے زورِ بازو کا کرشمہ جانا جاتا ہے اور خدا کے امتحان سے الگ گذرنا پڑتا ہے۔ انسان کو کبھی دے کر آزمایا جاتا ہے تو کبھی واپس لے کر آزمائش کی جاتی ہے۔ سرخرو وہی رہتے ہیں جنہیں برکتوں سے مالامال کر دیا جاتا ہے۔ کثرت اور بہتات سے نوجوان نسلوں میں بے معنویت اور بے مقصدیت بڑھتی ہے۔ جو بالاخر جنون اور افسردگی کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے ۔بہت سارا اکٹھا کرنے کی خواہش میں اکثر اخلاقیات اور اعلیٰ اصولوں کو بھلا دیا جاتا ہے۔زبان تو شائد خدا کا نام لے لے مگر دل صرف اور صرف مال کے ترانے گاتا ہے۔کہنے کو عبادت خدا کی کی جاتی ہے مگر حقیقت میں دولت کی پوجا کی جارہی ہوتی ہے۔بہت زیادہ بھی کم لگتا ہے اور کثیرسے بھی گذارا نہیں ہوتا۔گنتی بہت زیادہ ہونے لگتی ہے مگر برکت اُٹھا لی جاتی ہے۔بھلا ایک کروڑ کی کمائی ہونے لگے اور دو کروڑ کی بیماری گھر میں آن ڈیرے ڈالے تو سودا بھلا کیسے نفع کا ہو سکتا ہے؟ اس لئے زندگی میں جب بھی دعا کرو تو کثرت کی بجائے برکت کو مانگو تاکہ سکون اور اطمینان سے زندگی کا سفر پورا ہو سکے۔  

کتاب پڑھنے خصوصاً الکتاب کو زندگی جینے کا طریقہ بنالیں: روحانیت میں دو کام بہت بڑے اور بنیادی تصور کئے جاتے ہیں جن میں اولین صحبت اختیار کرنا اور دوسرادوسرا علم حاصل کرنا۔ یعنی پہلے اس بات کی تربیت دی جاتی ہے کہ آپ نیک اور طیب لوگوں کے ساتھ رہیں اور کتاب سے علم حاصل کریں۔ روحانی ترقی کے لئے لازم ہے کہ آپ ایسے لوگوں سے ملیں جو روحانی طور پر ترقی یافتہ ہوں ، ان سے علم حاصل کریں اور متعلقہ کتابیں پڑھیں تاکہ آپ کی ذات اور شخصیت میں تبدیلی آئے جو ہر خیر اور برکت کا سرچشمہ ہے۔ اولیاء کرام اور صلحائے عظام ہمیشہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ علم بناء عمل کچھ نہیں۔ اگر آپ دنیا اور آخرت کی اعلیٰ ترین خیر اور بھلائی کے خواہشمند ہیں تو الکتاب کو روز صرف اتنا پڑھیں جتنا آپ عمل کر سکیں۔یعنی پڑھنے کے ساتھ کڑھنا بھی ضروری ہے۔ دنیا کے اعلیٰ ترین اصولوں کا روزمطالعہ کرنا آپ کے لئے ذرہ برابر بھی فائدہ مند نہیں ہے جب تک آپ ان پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔کسی بھی مظہر کی آگہی حاصل کرنا علم کا پہلا درجہ تو ہو سکتا ہے مگر علم کا مطلوب ہر گز نہیں۔کوئی بھی شخص ڈھیروں کتابیں پڑھ کر معلومات کا بڑا حافظ تو بن سکتا ہے مگر اگر اُس کے کردار میں کوئی تبدیلی نہیں آتی تو اس مواد کو یاداشت کا حصہ بنانے کا کوئی فائدہ نہیں،علم ِ نافع الفاظ میں نہیں کردار میں مثبت تبدیلی لاتا ہے۔کوشش کریں بھلے علم بے شک قطرہ قطرہ آپ کی ذات میں اُنڈیلا جائے یا داخل ہو مگر یہ آپ کی سوچ اور عمل کا حصہ بن جائے تو ہی آپ کامیاب و کامران زندگی گذار سکیں گے۔  

 کم سے کم پر راضی ہونا سیکھئے: روحانیت میں اس بات پر بہت زور دیا گیا ہے کہ آپ اپنی ضرورتوں اور خواہشوں کو کم سے کم رکھیں ۔ زندگی کے سفر میں سامان کم سے کم لیکن تجربے زیادہ سے زیادہ جمع کریں۔لوگوں سے بات چیت میں اشیاء اور چیزیں نہیں بلکہ تجربے اور احساسات کام آتے ہیں۔ صرف اپنی ضرورت کو مدِ نظر رکھیں۔زندگی میں مقدار نہیں معیار پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔ کتنا کافی ہو گا؟ اس کا فیصلہ صرف آپ کو کرنا ہے۔ 90دن میں اگر کچھ استعمال نہیں ہوا تو پھر آپ کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔ اسے خدا حافظ کہیںتاکہ خدا کی رحمت سے کچھ نیا اس کی جگہ لے سکے۔ زندگی اُس وقت ہی تو خوبصورت بنتی ہے کہ جب تھوڑا کافی لگنے اور ہونے لگے۔زائد سے نجات پالیں اور اشد ضرورت پر پوری توجہ مرکوز کر دیں زندگی بہت آسان ہو جائے گی۔اپنی چیزوں اور سوچوں کا وقتاًفوقتاًجائزہ لیتے رہیں اور جو کچھ بھی فضول لگے اُس سے فوری چھٹکارا پائیں۔مادی چیزوں سے نہیں اپنے اردگرد کے لوگوں سے پیار کریں کیونکہ آپ کی قیمتی ترین متاع یہی لوگ ہیں چیزیں نہیں۔ جمع کرنے پر نہیں بلکہ باٹنے پر یقین رکھیں۔ کم سے کم کے ساتھ جینا ایک شعوری طور پر اختیار کیا گیا اندازِ زندگی ہے جو انسان کو مادیت پرستی کی دنیا سے نکال کر روح کی پاکیزگیوں کی طرف مائل کرتاہے اورفرد کو چیزوں کی ملکیت اور غلامی سے نکال کر آزادی سے روشناس کراتا ہے۔ سکون اور حقیقی خوشی فرد کے رویوں اور کردار سے جھلکنے لگتی ہے۔ خوف مرنے لگتے ہیں اور فرد پراعتماد ہو کر زندگی کے ہر لمحے میں سے خوشی کشید کرنے لگتا ہے۔ 

سادگی کو بطور انداز ِ زندگی اپنائیے :سادگی ہی خوبصورتی ہے اس لئے سادگی کو بطور اندازِ زندگی اپنا لیں۔خدا نے آپ کو مکمل اور منفرد پیدا کیا ہے اس لئے وُہی بنیں اور دکھائی دیں جو آپ ہیں۔ یعنی ویسے ہی لگیں اور دکھیں جیسے آپ ہیں یعنی سادہ کھائیں، سادہ پہنیں اور سادہ جیئںزندگی بہت آسان ہو جائے گی۔دوسروں کو متاثر کرنے کی خواہش پر قابو پانا سیکھیں جس کیلئے ضروری ہے کہ آپ اپنی ذات کو بہتر بنانے کے کام میں جٹے ہوئے ہوں۔ مصنوعی فرد بننے کی بجائے حقیقی اور اصلی بنیں تاکہ کسی بھی صورت ،حال اور معاملے میں آپ کو شرمندگی نہ اُٹھانی پڑے۔اپنی زندگی میں 40/30/20/10کا اصول اپنائیں۔ یعنی آمدنی کاچالیس فیصد آپ کی زندگی کے اخراجات پر صرف ہو، تیس فیصد رقم آپ اپنے اندازِ زندگی پر خرچ کریں جب کہ بقیہ بیس فیصد رقم کو بچت کے خانے میں ڈال دیں تاکہ مشکل وقت میں آپ کے کام آسکے اور بقیہ دس فیصد کو دوسروں کی مدد پر خرچ کر کے خدا کے ہاں جمع کر دیں۔ زندگی کی رفتار کو تھوڑا دھیما کر دیںکیونکہ زندگی کی رفتار بہت تیز ہو توسوچنے کی رفتار ختم ہو جاتی ہے اور فرد کے رویے میکانکی ہو جاتے ہیں۔ ہر کسی کی خوشی میں اپنی خوشی تلاش کرنا بند کر دیں۔اپنی خوشی کو سب کی خوشی بنانے پر زیادہ توجہ اور محنت کریں۔ باتوں کے بتنگڑبنانے اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر کڑھنے کی بجائے ان کو بھلانے کی کوشش کریں۔ خوشیوں کو کسی بھی صورت میں مشروط نہ کریں بلکہ چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے لطف اندوز ہونا سیکھیں۔ 

دو تاکہ تمھیں عطا کیا جائے: حقیقی طور پر کچھ پانے کے لئے پہلے بہت کچھ دینا پڑتا ہے۔ دوسروں کو عطا کرنا نہ صرف فرد کے دماغ میں مثبت تبدیلیاں لاتا ہے بلکہ روح کے سکون کا بھی باعث بنتا ہے۔ خدا کا اصول اور اسلوب بھی یہی ہے کہ آپ دوسرو ں کو وُہ دیں جو اُن کی ضرورت ہے تو آپ کو وُہ عطا کیاجائے گا جو آپ کی ضرورت ہے ۔مانگنے والوں کو بھی خالی ہاتھ نہیں لوٹایا جاتا تو پھر دینے والوں کو کیسے محروم رکھا جا سکتا ہے؟کہنے والے کہتے ہیں کہ آپ کی آمدن آپ کی دین کے راست متناسب ہوتی ہے۔یعنی جتناآپ کا دینا بڑھتا جاتا ہے اُتنا ہی آپ کا پانا بڑھتا چلا جاتا ہے۔ دینا عمر، برکت اور سکون بڑھا دیتا ہے۔ دیا خدا کے نام پر جائے تو کیسے ممکن ہے کہ آپ محروم رہ جائیں۔ فرق صرف سوچ کا ہے۔اپنے پاس جمع کرنا ہے یا خدا کے ہاںاپنے اکائونٹ میں رکھوانا ہے۔ پہلی صورت میں اُلجھنیں اور پریشانیاں ہیں اور دوسری صورت میں سکون و اطمینان ہے ۔انتخاب ہمیں کرنا ہے اور شائد یہی ہمارا امتحان ہے۔ لوگ دینے کو کھونا سمجھتے ہیں مگر اصل میں یہ پانا ہے۔ آپ کسی کو دولت نہیں دے سکتے مگر تھوڑا وقت اور خدمت تو دے ہی سکتے ہیں ،اور اگر وُہ بھی دینے سے آپ تہی دامن ہیں تو مسکراہٹ دینے میں تو کوئی وقت اور پیسے نہیں لگتے۔ آپ جتنا دوسروں کے لئے فائدہ مند اور دینے والے بنتے چلے جاتے ہیں آپ کی قدروقیمت میں اُتنا ہی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس لئے دیں تاکہ آپ کو بھی دیا جائے۔

مراقبہ کو اپنا جزوزندگی بنا لیں:روحانیت میںاس بات پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے کہ آپ کو روزانہ کی بنیاد پر کم از کم 15منٹ مراقبہ کرنا ضروری ہے ۔شروع میں اتنا وقت باقاعدگی سے نکالنا بھی بہت ہوتا ہے ۔ پھر بتدریج اس میں اضافہ کر کے اسے ایک گھنٹے تک لے جائیں تو یہ آپ کو روحانی طور پر بہت مضبوط اور طاقتور بنا دیتا ہے۔مزید برآں مراقبہ آپ کو اس قابل بناتا ہے کہ آپ اپنی توجہ کو ایک جگہ مرکوز رکھ سکیں اورآپ کی ذات اور شخصیت میں یکسوئی اور متانت لاتا ہے۔یاد رکھیں کہ خود کے ساتھ گزارا ہوا ہر لمحہ فرد کی خود آگاہی میں بے پناہ اضافہ کرتا ہے۔ اس کا آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ آپ کوئی ایک میٹ یا جائے نماز لیں اور گھر کے کسی ایسے کونے میں چلے جائیں جہاں خلل اندازی کم سے کم ہو۔ وہاں پرسکون انداز میں آلتی پالتی مار کے آنکھیں بند کربیٹھ جائیں اور اپنی سوچوں پر قابو پانے کی کوشش کریں ۔ کرنے کا پہلا کام یہ ہے کہ اپنی سوچ کو کسی بھی سوچ سے خالی کریں ۔یعنی آپ کے ذہن میں کوئی بھی خیال نہ آنے پائے۔ کچھ عرصہ بعدخاموشی آپ سے باتیں کرنے لگے گی۔آپ کی ذات آپ پر کھلنے لگے گی۔ شروع میں ایک منٹ بھی کسی سوچ کے بناء گذارنا نا ممکن لگے گا مگر کچھ عرصے میں ہی آہستہ آہستہ آپ پر حقیقتیں منکشف ہونے لگیں گی اور راز کھلنے لگیں گے بس توجہ اور مشق لازم ہے۔اسی طرح اوسان پر قابو پانے کیلئے بھی مشقیں کی جاتیں ہیں جن کی مدد سے سانس کو اندر اور باہر لانے کی رفتار پر شعوری کاوش سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔آپ بھی آج سے ہی کوشش کریں۔کچھ عرصے بعد آپ نتائج کو دیکھ کر حیران رہ جائیں گے۔ 

 

 

 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

دنیامیں کوئی کروڑ پتی ہے تو کوئی چندروپوں کو ترس رہا ہے۔ کوئی خزانوں کا مالک ہے تو کسی کے گھر میں فاقوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ کوئی دنوں می ...

مزید پڑھیں

زمانہ قدیم سے ہی دنیا بھر میں کہانیاں سُننا اور سنانا پسندیدہ ترین شغل رہا ہے۔ کہانیوں سے ہم نہ صرف اخلاقی قدریں سیکھتے ہیں بلکہ ان سے سی ...

مزید پڑھیں

زمانہ قدیم سے ہی دنیا بھر میں کہانیاں سُننا اور سنانا پسندیدہ ترین شغل رہا ہے۔ کہانیوں سے ہم نہ صرف اخلاقی قدریں سیکھتے ہیں بلکہ ان سے سی ...

مزید پڑھیں